Deeni O Fiqahi Masail: Episode 94 (Urdu)




Deeni O Fiqahi Masail: Episode 94 (Urdu)

دینی و فقہی مسائل پروگرام ۹۴

Uploaded on 10-05-2016 p94

لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ اللہ محمد الرسول اللہ اللہ اللہ محمد الرسول اللہ اللہ من شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ دینی مسائل کے ساتھ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہے آج کے ہمارے اس پروگرام میں جو سوالات ہمیں آپ لوگوں نے ای میل کے ذریعے یا بعض دوستوں نے فون کرکے پوچھیں ان کو ہم انشاءاللہ شامل کریں گے آج کے پروگرام میں جن کے سوالات شامل ہوں گے ان میں صائم طاہر صاحب لاہور سے سلمہ اسماعیل صاحبہ گانہ سے اور طارق بخاری صاحب غالبا سے ان کی محفل سے اٹھ کر یاد نہیں آرہا دوستوں کے امید کرتے ہیں کہ آج کے پروگرام میں ہم یہ سوالات بھی وہ مکمل کرلیں گے سوالات کے جواب آپ سن سکیں گے ہمارے علماء کرام سے جو یہ اسٹوڈیو میں تشریف رکھتے ہیں مولانا ظہیر خان صاحب اور مکرم مولانا منظور احمد شاہ صاحب آپ کے سوالات کے ساتھ ہی ہے اور ان سے جوابات دیتے ہیں آج کل سوشل میڈیا کا یہ دورہ اس پر بہت سارے پیغام جو لوگ آپس میں شیئر کرتے ہیں باتیں ہوتی ہیں 17 طاہر صاحب نے لاہور سے یہ میں بھیجا ہے کہ ان کو ٹیکسٹ میسج نہیں یہ پیغام موصول ہوا کہ جس میں لکھا تھا کہ اکثر قدرتی یا خود انسان کی پیدا کردہ بات جو ہے 26 تاریخ کو واقع ہورہی ہے جو اس کی وہ کہتی کی کوئی خاص وجہ ہے یا محض اتفاق کی بات کریں اسم اللہ الرحمٰن الرحیم یہ جو قدرتی آفات ہو یا انسان کے اپنے پیدا کر دے ایسا حالات یا مشکلات ہیں وہ اس دور میں تو نہیں ہو رہی شروع سے جب سے دنیا بنی تب سے ہورہی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی پہلے انبیاء کے زمانے میں بھی ہوتی ہیں قرآن کریم میں مختلف واقعات مختلف نوعیت کی باتیں تاریخی باتیں ہمیں بتائیں میں کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں کہیں اس قسم کے اس قسم کی بات کا ذکر نہیں کیا گزرتی آفات وہی انسان کے پیدا درد ہم جو واقعات ہیں یا حالات ہیں ان کا کسی خاص تاریخ کے ساتھ تعلق ہے یا کسی خاص دن کے ساتھ تعلق ہے کہ فلاں قسم کے حادثات لعنتی خاندان کو ہوں گے اور اس قسم کے خلاف دینی تحریکوں ایسی کوئی بھی کہیں پر بھی موجود نہیں ہے یہ ساری باتیں تو دراصل اللہ تعالی کے علم سے تعلق رکھتی ہیں غیب کی باتیں ہیں وہ جب جس طرح دنیا کو چلانا چاہتا ہے اس طرح چلاتا ہے اور قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بات بیان فرمائی ہے کہ غیب کی تمام باتیں جانتا ہے آپ کی باتوں کو یا اپنے انبیاء اور اپنے فرصت خدا لوگوں کو جن کو وہ غیب کی باتوں سے خود قلم دیتا ہے وہ اس سے باخبر ہوتا ہے باقی اس قسم کی باتیں یہ کس قسم کے اندازے کے لوگوں کے اپنے لگائے ہوئے ہیں میں ابراہیم کے صحابہ نے اس بات کے ساتھ ملایا کہلاتا 26 تاریخ کو زلزلے آئے یا یہ واضح ہوا تو یہ کوئی خاص تاریخ ہے ایسی کوئی کہیں پہ میں نہیں ملتا السلام کی تحریرات سے یہ بات ثابت ہے کہ جس طرح انسان کے اپنی عادات اپنے رسم بنائے ہوئے ہیں اس طرح اس نے بعض کاموں کے لیے اس نے اپنے ایک پروگرام ہے اور بعض اوقات سامنے مثلا لیے ہوتے ہیں تو اسی قسم کے حادثات مختلف جگہوں پر ہے یا زلزلے آتے ہیں تو اسی انہی دنوں میں مختلف زمین کے دنیا کے علاقوں میں زلزلے کے اللہ تعالی کا اپنا ایک نظام ہے اپنا اس کی اپنی قدرت ہے اس کے اپنے طریق ہیں جو اس کے علم میں ہے اس سے ہمیں یہ نہیں کر سکتے کہ فلاں تاریخ کو ایسا ہوا تو یہ خاص تاریخ ہے آج جو بڑی ریسرچ کی دنیا بڑی چیزیں اویلیبل ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے گوگل پہ سرچ اگر ہم نے کوئی چیز تلاش کرنی ہے تو نہیں تو آپ کسی بھی تاریخ کو ڈال کر دیکھنا اس میں آپ سے نکل آئیں گے یہ تو دنیا میں اکٹھا کر دیا ہے یہ چیز ہے اس لیے کسی نے 26 تاریخ کو ڈال کے دیکھ لیا تو اس حدیث سے ہوتے اور کسی اور کے اٹھارویں صدی سترویں صدی جوجہ دنیا کو علم کے رکھنے والوں کو ملا جنھوں نے وہ پروگرام ہے انہوں نے نو مارچ کے حوالے سے بھی کی اینٹ کی واقعات کی حادثات وہ درج ہے تو اس سے اب یہ تو تو نہیں کیا جاسکتا کہ یہ اس تعریف کے ساتھ ہے وہ اسی طرح کا کوئی میسج لگتا ہے کہ اس قسم کے چلا ہے تو لوگوں نے سمجھا کہ شاید کہ اس تاریخ ہے اگر کسی حادثہ ہے بعض لوگوں کے لئے ہی ایسی چیزیں آتی ہے کیوں کے لئے جو ہے وہ اپنی بات میں تو کوئی ایسی چیز ہے اندر جو ہے وہ نہیں رکھتے زمانہ ہی وقت ہے جیسے خزاں دیس میں بھی ذکر ملتا ہے کہ آپ کو وقت کو گالیاں نہ دو زمانہ علی کے چلا رہا ہے تو اس لیے کوئی اتفاق سے ایسی بات ہو جاتی ہے تو اس کو یوں دفعہ پھیل جاتی ہے لوگ اس کو یا اگر اوپر تلے اتفاق سے دو تین چار ایسے واقعات ہو جائے تو اس سے لوگوں میں یہ ایک اہم پیدا ہو جاتا ہے کہ شاید اس دن میں کوئی ایسا مسئلہ ہے تو دل جواں ہے اللہ تعالی کے بنائے ہوئے ہیں اور خدا تعالی خود کیوں ایسی چیز پیدا کرے گا کہ جس کو اس نے کسی خرابی کے لئے معین کرکے پیدا کیا اللہ تعالی تو ساری چیزیں پیدا کرتا ہے نقصانات بھی اس کو پہنچتے ہیں جس کے لیے انسان کو اپنے لحاظ سے جو ہے وہ دعا کرنی چاہیے سارے جہاں چھ دن اس کی اللہ تعالی ان کو قائم رکھے آباد جو بھی اس نے پیدا کیا وہ کوئی بھی نقش باطل نہیں ہے اس میں کوئی نہ کوئی فائدہ ہے انسان کا فائدہ اس لئے کسی چیز کو ہم ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں تاریخ بھری ہے اور اس بیان کیا کہکوئی نتیجہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہفتے کے سات دن وسعت کے ساتھ ہی دن روزہ رکھنے والے ان کے صدیقی اگر ان کے لئے تو سارا ہی وقت ہے تو اس لیے یہ صرف اللہ تعالی کے وہ فعال ہیں اور یوں ضرورت ہے جسے مغرب نے بیان فرمایا اللہ تعالی کے نزدیک وہ ادوار ہوتے ہیں بعض چیزوں کے اور ایک لیا اکثر کل ہوتا ہے وہ مکمل ہوتا ہے وہ جب ایک دور مکمل ہوتا ہے اس میں وہ دوبارہ وہ چیزیں جو ہے پیار ہو جاتی ہیں تو اس سے انسان کو ہو سکتا ہے کہ یہ خیال گزرے کہ یہ کوئی معین جو ہے اس میں کوئی تاریخ یا دن رکھ دیا گیا یا اللہ تعالی کو کوئی ایسا دن جو ہے یا تاریخ کو پسند نہیں ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے قرآن حدیث میں ہمیں کوئی آس پاس ہے وہ نہیں ملتی آگے چلتے ہیں اگلا سوال سلمہ اسماعیل صاحب جنگ ان سے یہ پوچھا ہے بلکہ دو سوالات ہیں ان کے لیے جب کسی کو صدقہ دیا جائے تو کیا اس کو بتانا ضروری ہے کہ یہ صدقہ  پہصدقہ دیتے ہیں تو اس میں کوئی ایسی بات نہیں کہ بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے کب بتا دیں کہ یہ سب کچھ کر لیتے ہیں جو مانگنے والے جو ایسے مستحق ہیں لیکن ایک طبقہ وہ ہے جو سفید پوش جو لوگوں کے پیچھے پڑتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا کے پیچھے پڑھی مانگتے اور یہ دل مسکرایا تعریفوں میں سیما تو ان کو ان کے چہرے کی نشانیوں سے پہچانا جاتا ہے ہے تو ایسے لوگوں کے متعلق اگر کیونکہ وہ عزت نفس کی ہوتی ہے اپنی ایک وہ لوگوں میں نمایاں نہیں ہونے چاہیے ہونا چاہتے کہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہے ایسے لوگوں کو جب دینا ہو تو اس میں یہ بتانا قطعا ضروری نہیں ہے کہ ہم آپ کو صدقہ دے رہے ہیں کیونکہ اگر آپ یہ بتائیں گے تو یا دوسرے لفظوں میں اب یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہم تم نے سفید پوشی کا لبادہ توڑا ہے لیکن ہم تمہارے اس بندے کو بتانا چاہتے تھے ان کو خاموشی کے ساتھ دے دینا چاہیے اور صدق دل کے ساتھ نیکی وہی ہوتی ہے صدقہ فطر اہل سنت کے دل سے نکلا کسی کے دل سے کیا کہنے کی سب کے دل سے دیا گیا مال اور آنحضرت نے فرمایا کہ کہ وہ شخص اس دن قیامت قیامت والے دن اللہ تعالی کے سائے میں ہو گا جس دن اس کو کوئی اور سیاہ نصیب نہیں ہوگا کون سا شخص جو اس طرح صدقہ دیا کرتا تھا دائیں ہاتھ سے صدقہ دیتا تھا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر بھی نہیں ہوتی تھی کہ وہ صدقہ دے رہے ہیں خاموشی کے ساتھ انہیں لوگوں میں اعلان نہیں کیا کرتا تھا بالکل خاموشی سے امداد کی اور ہمت تو اس لیے اسے یہ نہیں پتہ لگتا ہے کہ اگر آپ خاموشی سے بغیر بتائے ان کو صدقہ دے دیا امداد کرنے سے زیادہ بہتر ہے یہاں ایک بات ضرور ہے کہ اگر کوئی دریافت کرلے تو پھر تو آپ نے جھوٹ نہیں بولنا اگر کوئی پوچھے کہ آپ یہ میں صدقہ دے رہے ہیں تو پھر تو آپ نے بتانا کہ جی یہ سنتے ہی رکھنا وہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن خود جا کے بتانا کہ میں آپ کو صدقہ دے رہا ہوں تو یہ مناسب نہیں امداد کے رنگ میں کر دیں کہ میں یہ امداد کرنے میں آپ کی مدد کرنا چاہتا صدقے لفظ کیوں کہ ہمارے معاشرے میں تھوڑا اساں غلط معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور وہ خاص طور پر غلط فہمی سے پیدا ہوتی ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صدقہ ایسا مال ہے کہ جو آدمی اپنے گلے سے بلا اتارنے کے لئے مصیبت اتارنے کے لئے دوسرے کے اوپر چڑھانے کے لئے صدقہ دیتا ہے تو جس کو صدقہ دیا جاتا ہے مصیبت لگی ہوئی ہے کہ جو وہ مال ملے گا اس کے اوپر آجائے گی اس نظریے کو حضرت علی نے فرمایا تو یہ نظریہ بالکل درست نہیں ہے آنحضرت صلی علیٰ نمایاں تھا کہ ہمیں اس بات کا نہیں دیتا میں اور میری دکان ہی رہے گی نہ جانا پسند نہیں کرتے تو اسی لئے جب کوئی آتا تھا کوئی آپ کے پاس کوئی چیز لے کر آتا تھا تو فائدہ کچھ تو اس نے پوچھا کرتے تھے کہ یہ اگر آپ فرمایا کرتے تھے یہ صدقہ ہے تو اگر صدقہ ہوتا ہے اگر صدقہ ہوتا تو نہیں لیتے مجھے اگر ہدیہ تحفہ ہوتا تو کر لیا کرتے تھے دیتے تھے وہ سارے کا سارا ادھر بھیج دیا کرتے تھے کے مال میں کسی قسم کا کوئی مصیبت اس کے ساتھ اٹیچ نہیں ہوتی کہ وہ بولے گا تو وہ نقصان اٹھائے گا حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ملتان بڑی بہو رہتے ہیں اور تھی لوگ صدقہ دے دیا کرتے تھے اور وہ استعمال بھی کرتی تھی صدقہ کی رقم کے طور پر ملتا تھا ایک مرتبہ کسی نے صدقے کا گوشت کیایہ بیٹھا ہوا کہ وہ تو صدقے کے متعلق آتا ہے کہ نثر کاطالب اللہ کا جو ہے وہ بلا کو مصیبت کو دور کرتا ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ گویا وہ دور تو کرتا ہے لیکن جس کو دیا جا رہا ہے شاید اس پر پڑ جاتی ہے کے میں اللہ تعالی انسان کو اس نیکی کے نتیجے میں بچا لیتا ہے بہت سی مصیبتوں سے یہ مراد ہے نہ کہ وہ کوئی کسی اور کے گلے جو ہے اللہ تعالی کو مجبور ہے کہ ضروری ہے اگر اس پر نہیں وہ مصیبت ڈالیں تو دوسرے پر ڈال دینی ہے وہ تو اس نیک نیت کو قبول کر کے اس کو بچا لیتا ہے اور جو مسکین آدمی بھی چلا جس کے لیے کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے اس کا ایک مدد کا وزیراعظم بن جاتا ہے اور اس لیے یہ سمجھنا کہ اس کے نتیجے میں کوئی ایسی مصیبت مال میں کوئی آ جاتی ہے یا اس چیز میں نے بیان فرمائے وہ تو کسی طور پر نہیں وہ ایک جیسے باقی چیزیں ہیں اسی طرح چیز ہے اس خیال سے ناراض نہیں کرنا چاہئے بڑا خوبصورت نظام اللہ کے فضل سے رائج ہے خلافت احمدیہ کے سائے میں کے صدقہ دینے والے کو یہ نہیں پتا کہ وہ صدقہ کس کو دیا جائے گا اور آنحضرت صلی وسلم کی وہ حدیث میں اس شخص کو سائے میں رکھے گا کہ دائیں ہاتھ جوڑ دیتا ہے بھائی ہاتھ کو نہیں پتہ ہوتا تو ہمارا جو اللہ تعالی کے فضل سے نظام ہے وہ ایسا ہے کہ آپ زیارت کرواتے ہیں صدقے کی امداد کی آپ کو نہیں پتہ کہ وہ آپ کی رقم کس شخص کو دی گئی تو یہ بھی ایک مخصوص نظام پردہ پوشی بھی ہو جاتی ہے کبھی نہیں ہوتی اور ثواب صدقہ دینے والے کو اس کی نیت کا ثواب بھی ملے حوالے سے کچھ زبان کے فرق ہونے کی وجہ سے عربی سے سے بھی فرق پڑتا ہے قرآن کریم نے تو یہ لفظ کھلے طور پر استعمال کیا نہ ہو مرنا تو للفقراء المھاجرین ob2 کے لئے صرف استعمال ہوگا یہ تو جو بھی کی جاتی ہے اس کے لئے بیان کئے گئے تو اس میں بھی وہ کئی کاموں پر لگتے ہیں اور ولینا لیے خاص طور پر کہ زکوٰۃ جمع کرتے ہیں ان کی تنخواہیں اس میں سے دی جاتی ہیں تو یہ تو کوئی حرج نہیں ہے وہ درست آدمی ہے ٹھیک ٹھاک ہے یا اس پر یہ نہیں سکتا تو ضرور اس کی وضاحت فرما دیں کتا بڑا خوبصورت ایک مضمون ہے کہ صدقہ کو لفظ صدقے کے لفظ کو صدقے دل سے کی گئی نیکی کے ساتھ منسلک کر دیا ہے فرمایا کہ کسی سے اگر تو اس وجہ سے ملو گے خوش اخلاقی کے ساتھ ملنا چاہ لاکھ کا اظہار کرنا ہی صدقہ ہے اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اس کو کھانا اس لئے اس نیت کے ساتھ دیتے ہو کہ خدا تعالی نے فرمایا ہے کہ عاشروھن بالمعروف کے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو خدا کا حکم ہے کہ نان و نفقہ مہیا کرنا مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نیت سے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ بھی ڈالتا ہے تو لقمہ بھی اس کے لے سکتا تو کتنی اس کو غلط ہے اس لیے وہ اس کو محدود کر لینا اور بکری مرغی لے کر دی اس کا کام کرےیہ صدقہ تو وہ جو اسے محسوس نہ کرنا مدارج ہیں اس پہ تو جس طرح وہ کالا بکرا یا کالی مرغی والا تو پھر تو کسی کو اچھی بات کہنا بھی تو سکتا ہے اس کی وجہ سے یہ بات تو ہم آپ کے پہلے ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے آگے دوسرا سوال جو ہے سلمہ اسماعیل صاحب نگانہ جو میں بھیجا ہے انہوں نے ہمارے گزشتہ پروگرام کا ذکر کیا حوالہ دیا ہم نے پروگرام میں بات کی تھی کہ نظر لگ جاتی ہے تو اس کے بارے میں بات ہوئی تھی کہاں سے ہو سکتا تو کیا پھر اس کو مدنظر رکھتے ہوئے بچے کو دودہ پلاتے ہوئے اس طرح کی چیزوں میں  میں اس خیال سے نظر لگنے کے خیال سے کپڑے سے ڈھانپ لیا جائے تو ایسا کرنا درست ہے بالکل درست ہے اور جس طرح اس پروگرام کا حوالہ دیا جس میں ہم نے بات کی تھی کہ احادیث میں بھی ملتا ہے کہ نظر لگ جاتی ہے اور حضرت علی نے حضرت مسلم رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے بھی بات کی تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کے بالکل قائل نہیں تھے لیکن بعض اوقات حضرت صاحب نے اس نظر کو سلمی اور پیراسائکالوجی اور یہ جو ہوتا ہے نظم وغیرہ اس کے ساتھ اس کو چھوڑا ہے کہ نظر کا بازو کا اثر پڑتا ہے تو میں بیان کیا مسلم عورت لانہ بیان کیا کرتے تھے وہ ایک بچی خاص طور پر اگر وہ حضرت گانا کھاریانوالہ دیکھے تو گر جاتا تھا والا حضرت علی ہے کسی کے ہاں اولاد نہیں ہوگی تو بچہ بیمار ہو گیا ہے تو اس کا علاج نہ کروایا جائے بلکہ وہ عجیب قسم کے جو ٹوٹکے کیے جائیں آج مرچی وار کے ہاتھ میں پھینکی یہ سارے غلط باتیں باقی بچوں کی نظر کا اثر پڑتا ہے اس کا لگ جاتی ہے اس لئے بچے کو دودھ پلاتے وقت دودھ کو ڈھانپ لینا کوئی حرج کی بات نہیں اور اختیار تو باہر جگہ ہونی چاہیے کوئی حرج کی بات نہیں اور ہم نے دیکھا بھی ہے اس معاشرے میں جب نوجوان بچیاں جو پیار کی آتی ہے بچے پیدا ہوتے ہیں تو بعض اوقات دودھ بچوں کو جلانے لگتی ہے تو بڑی بڑی عمر کی خواتین ہوتی ہیں وہ سمجھا بھی دیتے ہیں کہ ذرا ڈھنگ کلی اپنی ہی نظر بازوں کا مطلب جانتی ہے بعض اوقات اس سے چکر میں کچھ اچھا میرے بچے نے دودھ پی لیا ہے اس کا بھی ایک ایسا وہ نظر کا اثر ہے کہ وہ بعض اوقات تکلیف کا باعث بھی ہوتا دیکھا کہ ایسی صورت میں وہ بچوں کو بھی دیتے ہیں تو یہ باہر سے ڈھانپ لیا جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں کوئی ایسی اس میں کوئی مطلقا مکروہ کا حکم مانے تو کسی جگہ نہیں ملتی کہ کیا جاتا ہے جس کا نام ہے جب انسان کسی خاص چیز کی طرف توجہ کرتا ہے تو اس کے خیالات سے وہ متاثر ہو جاتا ہے تو اسی طرح اگر بچے کے اوپر جیسے خان صاحب نے مثال دی کم از کم اپنی توجہ ڈالیں تو وہ بچہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے اس کی وجہ سے کمزور ہوتا ہے ذہنی طور پر بھی کمزور ہوتا ہے جسمانی طور پر بھی کمزور ہوتا ہے اگر اس کا اثر ہو جائے تو اس سے پہلے کوئی بعید نہیں ہے تو یہ بالکل درست ہے  شکریہ آپ کا پروگرام کا اختتام کو پہنچتا ہے اور خیال تھا کہ تاریخ بخاری صاحب کا سوال جواب بھی شامل کرلیں گے لیکن میں آج کیوں نہیں آ سکا انشاءاللہ اگلے پروگرام میں شامل کرلیں گے اللہ محمد الرسول اللہ اللہ محمد الرسول اللہ

 37 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: