Deeni O Fiqahi Masail: Episode 93 (Urdu)




Deeni O Fiqahi Masail: Episode 93 (Urdu)

Uploaded on 10-05-2016

ان اللہ محمد الرسول اللہ اللہ محمد الرسول اللہ اللہ محمد الرسول اللہ الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ دینی و فقہی مسائل میں کیا گفتگو کریں کس بارے میں بات چیت ہو یہ آپ لوگ کرتے ہیں وہ اس طرح کہ جو سوالات آپ جو آتے ہیں جو ای میل کے ذریعے آپ ہم سے پوچھتے ہیں فون پر اس کے مطابق کام علماء کرام کی خدمت میں اس وقت پیش کرتے میں ہمارے پاس جو سوالات ہے ان میں ہمیں لاہور سے سے رابطہ با سوالات جو آئے ہیں ہیں جن میں سے ایک جو ہے وہ میں سوال موصول ہوا تو کوشش کریں گے کہ جتنے ہمارے اس پروگرام کے وقت کے اندر والا حصہ مل سکتے ہیں زیادہ مل کر بات کر سکیں آج کے اس پروگرام میں جن بزرگان کی حمایت حاصل ہے خان صاحب اور مکرم و محترم مولانا منظور احمد فیضی اس عمل کی طرف چلتے ہیں ان سے ہم بات کریں گے منصور صاحب یہ سوال ہمیں ای میل کے ذریعے صائمہ طاہر صہبا لاہور سے یہ جو آیا ہے یہی کہ اسلام میں چالیس دنوں کی کیا اہمیت ہے یا چالیس کا انتہائی کیوں چنا گیا ہے مختلف حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ جیسے چالیس سال کی عمر میں نبوت ملتی ہے ہے جو ہے پڑھیاں دعا کریں گے اللہ کرنا بچے کی پیدائش کے بعد عورت کی پاکیزگی کا جو وقت ہے وفات کے بعد عدت کا ہے یا احادیث یاد کرنے ہیں اس میں احادیث وغیرہ کا ذکر ملتا ہے تو بہت سے مواقع ہیں جس پر چالیس کے عدد پر کی جاتی ہے اور اس کی اہمیت ہے یہ بات بالکل درست ہے حدیث سے بھی پتہ لگتا ہے اور قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ چالیس کے ہندسے کو چالیس کے عدد کو عرب کے عرب میں بھی اور عرب کے محاورے میں بھی اور قرآنی محاورے میں بھی ہر طرح سے ایک اہمیت حاصل ہے اس میں کوئی شک نہیں اگر غور کیا جائے ان تمام احادیث پر قرآن کریم کی آیات پر تو ایک گواہی قرآن کریم کے اندر سے احادیث کے اندر سے مل جاتی ہے کہ یہ دراصل تکمیل کی طرف اور کسی چیز کے کامل ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسرا یہ کثرت کی طرف اشارہ کرتا ہے چنانچہ آنحضرت صلی وسلم کا آپ نے ذکر کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر میں نبوت ملی قرآن کریم نے بھی اس مضمون کو بیان فرمایا قرآن کریم نے فرمایا کہ صحابہ والا کا اشدہ وبلغ اربعین کے یہاں تک کہ جب وہ اپنی مضبوطی کی عمر کو پہنچے اور اس کے آگے مضبوطی کی عمر کی جو وضاحت فرمائی ہے وہ بالاربعین حسن کے الفاظ میں فرمائی یعنی چالیس سال کی عمر کو پہنچے تو قرآن کریم کے اندر سے یہ شہادت ملتی ہے کہ یہ دراصل چالیس کا جو نہیں ہے یہ ایک طویل کا ایک حصہ ہے جیسا کہ ایک انسان کی چالیس سال تک جسمانی بلوغت بھی ہو جاتی ہے اور ذہنی اور فکری بلوغت بھی انسان کی تکمیل کو پہنچ جاتی ہے پھر چالیس دن کیااسے اور زبان سے حکمت کے چشمے جاری ہو جاتا تو یہ بھی ایک بڑی اہم بات ہے اسی سنت کو پورا کرنے کے لئے مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں جب دیکھتے ہیں تو حضور نے بھی چالیس چالیس دن تک کھلا کیا اور پھر اس کے بعد آپ کو بڑی بشارت دی گئی پھر مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے ایک ماں اور بیٹے کی خوشخبری دی گئی اس کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ اسلام کو دنیا میں غالب کرے گا پھیلائے گا وہ اچھا نہیں کھیل کی علامت ہے دوسرا جو میں نے اس کے کثرت کی علامت ہے کہ چالیس دن تک جو شخص عبادت کر لیتا ہے وہ سمجھا جائے گا کہ یہ شخص اب دوام اختیار کرے گا اپنی بات پر یہ نہیں ہوگا کہ جو چالیس دن تک لے باقی پھر بالکل اس کو چھوڑ دے اور عبادت و دعا نہ کرے چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ جو شخص چالیس دن تک باجماعت نماز ادا کرے اور باجماعت نماز کی ہر نماز کی پہلی تکبیر میں شامل ہوجائے تو اللہ تعالی اس کو دو ہزار دیاں دے دے گا دونوں جاتے ہیں اس کے لئے لکھے گا پہلے نجات آگ سے نجات اور دوسری نجات مناسب سمجھا کہ وہ شخص سے چالیس دن تک یہ عمل کرے گا وہ منافق نہیں ہو سکتا تو یہ بڑی اشارہ ہے کہ چالیس دن تک کوئی دکھاوا نہیں کر سکتا میں آگے جو ہے اور اخلاص کا پیدا ہوجانا اور اس عادت کا پختہ ہو جانا ہے وہ چیزیں بھی اس کے اندر ان شامل ہوتی ہیں کہ جب کوئی چالیس دن کے لیے مسلسل کوئی عمل کرتا ہے تو پھر ایک خط گئی جیسے اس کی عمر کے لحاظ سے دنیا کے لحاظ سے اس عادت کے لحاذ سے بھی وہ عادت ہے وہ پختہ ہوجائے گی اور پھر وہ اس کو جاری رکھنے والا ہوگا  اسی طرح اگر ہم اس کی قانون قدرت کے ذریعے شہادت دیکھیں تو اس میں بھی اس کی شہادت ملتی ہیں مسلہ جیسے ذکر کیا تھا اپنے بچے کی پیدائش کے بعد عورت کو کی پاک عورت کی پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے 40 اہلکاروں نے برتن میں رکھیں مقرر کیے چالیس دن کے بعد عورت پاک ہو جاتی ہے تو اس میں بھی یہ پیغام ہے کہ جس طرح چالیس دن کے اندر انسان اپنی غلطیوں سے پاک ہو جاتا ہے جس طرح 40000 جسمانی طور پر حاصل ہوتی ہے اسی طرح بات نہیں میں بھی انسان کو چالیس دن کی عبادت سے طہارت اور پاکیزگی حاصل ہوجاتی ہے ایسے شخص تک متواتر عبادات میں مصروف ہے ہے تو یہ بات جو ہے وہ ریاست میں پھیلتے پھیلتے جو کسی ایسے شخص تک بھی پہنچی کہ جو عبادت کا اس طرح سے پابند نہیں تھا لیکن ویسے اس کے دل میں یہ شوق اور یہ لالچ تھا کہ بادشاہ کی بیٹی سے شادی ہو جائے تو اس سے زیادہ اچھا کیا حسن سبزیاں اس لحاظ سے بھی علی ہے اور مال و دولت رتبہ سارا کچھ بھی حاصل ہو جائے گا تو اس نے چالیس دن کے لیے وہ بڑے لحاظ سے خوشی و خضوع سے عبادات شروع کی تو حضور سے اور باقاعدگی سے نماز پڑھ رہا تھا اب تو آپ سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو کرتا ہے جیب میں بڑا معذرت چاہتا ہوں میں جو آپ کی شادی نہیں کر سکتے ہیں آپ کو اس میں کیا ہے کہ اس سے بڑھ کے کیا کیا چاہیے یہ ہے کہ میں نے دراصل یہ نمازیں شروع تو صرف اسی غرض کے لئے کی تھی لیکن اب جب میں نے چالیس دن وہ کر لی ہے تو اب مجھے حقیقی جو اس کی لذت ہے وہ جو ہے وہ مل گئی ہے تو اب میں ظاہر داری کے لیے اس کو نہیں میں استعمال کر سکتا مجھے تو اللہ تعالی کی جو خالص محبت ہے وہ عادت ہوگئی ہے اب تو میں اسی جو کہتا ہوں کہ مراد ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک ظاہری اثر انسان کی اپنی طبیعت میں بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ پھر اللہ تعالی کی رحمت کو بھی بیچنے کے قابل ہو جائیںجوہر صاحب نے اپنی پرانی تحریک خلافت میں رابطے کی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے روزوں کی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے ثانی رضی اللہ تعالی عنہ رضی اللہ عنہ تو پھر حضور نے فرمایا کہ اب 40 ہفتے مسلسل روزے رکھیں اور دعائیں کریں غیر معمولی میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی ایک خاص تحریک ہے خاص میں یقینا نشانہ بشرطیکہ اس کو جماعت جو ہے اسی طرح پورا کرے اور غیر معمولی ہے جس طرح چالیس آدمی اس کے ساتھ یہ ہوتی ہے کہ جن کے لیے وہ تحریک کی جاتی ہے بھرپور استعمال کریں اور بھرپور عمل کرنے کی کوشش کی اللہ تعالی ہمیں عبادت کر لیتا ہے مسلسل روزہ رکھ لیتا ہے مسلسل اس کو پھر ایک ایسی عادت پڑ جاتی ہے گویا اس کی فطرت ثانیہ بن گئی ہے اور پھر جو خدا تعالیٰ جلد سامنے یہ بات فرمائیں کہ اللہ تعالی سب سے زیادہ پسند ہو عمل ہے خوش ہوتا ہے اور اس کا اجر دیتا ہے اور جو لیلۃ القدر کا جو مفہوم یہ ہے کہ انسان کے اوپر ایک ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے تو اس کے بعد وہ گناہوں کی طرف اس کو ہمت نہیں رہتی اس کو لذت نہیں رہتی گناہوں کی طرف جیسے کہ آپ نے وہ واقعہ بھی بیان کیا تو دراصل چالیس کرنے کا چالیس کا عدد کر بیان کرنے کا ذکر اسی لئے کیا گیا ہے اس سے انسان کو ایک ٹارگٹ مل جاتا ہے کہ اس ٹارگٹ تو کم از کم یہ تو ابتدا کرنے کے لیے ابتدائی اسٹپ اٹھانے کے لئے نیکی کی طرف چالیس دن کا عدد کے لئے رکھا گیا ہے مقرر کی گئی ہے ہے ناخن کاٹنے ہیں ضروری بال کٹوانا ہے اس حدیث میں مقرر کی گئی ہے وہ جا رہا ہے تو اس سے یہ پتہ لگا کہ بات نہیں صفائی بھی اگر چالیس دن تک نہ کی جائے تو انسان ناپاک ہوجاتا اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ چالیس دن گزر جاتے ہیں اور چالیس دنوں میں خدا کے خوف سے ایک دفعہ بھی اس کی آنکھوں سے آنسو نہیں آتے خداکے ڈر سے ان کی نسبت اندیشہ ہے کہ وہ بیمار ہو کر فوت ہو جائے تو ایسے ہی 40 دن تو کیا چالیس سال بھی گزر جاتے ہیں تو وہ اس کی طرف توجہ عبادت کی طرف توجہ نہیں دیتے تو یہ ایک بار اللہ ہمارے لئے ہم سب کے لئے ایک فکر کا نام ہے کہ ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ ہم کریں 40 دن مقرر کر کے چالیس دن کسی کی زندگی میں کوئی اتنی اہمیت نہیں رکھتے بظاہر اگر ستر سالہ زندگی ہے 60 سالہ زندگی تو چالیس دن تو کوئی اس کی زندگی میں اہمیت نہیں خدا کرے تو اس کو قبول کرکے خود بخود اس کے دل میں وہ کیفیت پیدا کر دیتا ہے اسلام نے یہ فرمایا کہ حدیث میں جو آتا تھا جو چاہو کرو اس کے بعد وہ انسان جو پھر بے گناہ کرتا پھر فرمایا کہ اس کے دل میں ایسی نفرت میں پیدا ہوجاتی گناہوں کے متعلق کہ اس کے بعد وہ کر سکتا ہی نہیں ہے وہ اس کے شیطان ہمیں اس کی چاہت میں وہ بات ہی نہیں سکتی کہ وہ کوئی غلط کام کرے پھر اس کی چاہت ہے وہ ایسے رنگ میں بدل دی جاتی ہے کہ وہ اچھے کاموں کی طرف ہی جائے گا اس لئے بعض لوگ اس سے سمجھتے ہیں کہ وہ فرمائے اس کے بعد جو مرضی کرتے پھر تمہیں کوئی ڈر نہیں دور نے بہت ہی پیاری اور لطیف جو ہے اس کے انسان کی چاہت دوسری طرف جا ہی نہیں سکتی پھر کیا میں یہ پسند نہ کرو کہ میں اپنے اللہ تعالی کا جس نے بھی اتنا نوازا ہے کہ میری آئندہ آنے والی غلطیاں اور پچھلی غلطیوں کو معاف کر دیں تمہیں شکر گزار بندہ نہ بنوں اللہ تعالی اور اس کے وجہ سے مشکل نہ کرو تو مزید بڑھنے دراصل ہے یہ کہ پہلے سے بھی انسان جائے اور گناہوں کی طرف سے ایسی کوئی بات نہیں یہ بالکل ٹھیک ہے آگے چلتے ہیں ان کے نام ایک سوال جو ہے اس وقت وہ میرے سامنے جو ہے اس کا تعلق سوسائٹی میں مختلف تہوار ہوتے ہیں اس میں کئی رسم و رواج بھی ساتھ چلتے ہیں ان کے ہاں اس کے بچوں کے پر کیا اثرات پڑتے ہیں ان کو کس حد تک اختیار کرنا چاہیے اس تعلق میں ایک سوال ہے اس سوال کا تعلق کرسمس کے موقع ہے کہ کس نے پوچھا کہ اپنے بچوں کو خاص کر اس میں سے تعلق رکھنے والے کھلونے لے کر دینا یا کسی کی روایت لباس پہنانا یہ درست ہے کہ ہے جس کے شروع میں جو بڑی اچھی بات ہے بعض اوقات معاشرے کے مختلف رواج جو ہیں وہ اثر انداز ہوتے ہیں تو اس میں اصل میں قرآن کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام نے ایک بڑا خوبصورت گول عطا فرمائے فرمائے ان مل اعمال بنیات کی نیت کیا ہے انسان کس کو اختیار کرنے کے کھلونوں کا تعلق ہے یا کپڑوں کا تعلق ہے تو وہ صرف کھیل تماشے کے لیے یا فن کے طور پر بچے کو لے کے جائے اور اس کا اس بچے پر کوئی برا اثر نہ پڑے یا اس کے پیچھے کوئی ایسا پس منظر نہ ہوئی ایسی کہانی نہ ہو سکے پیچھے جس کا بس روح بچا لے تو پھر تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر اس سے کوئی شرکیہ عقائد پیدا ہوتے ہو یا اس کے نتیجے میں بچے کی شخصیت پر اس کا کوئی برا اثر پڑتا ہو تو پھر اس سے باہر الاسناد کرنا چاہیے مجھے یہاں پہ حضرت مسیح علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ اب بالوں کو کٹواتے وقت تھوڑے سے بال چھوڑ دینا تو جو ہندو مومن رکھتے تھے تو کیا یہ رکھی جا سکتی ہے کیونکہ یہ اس کا اس پس منظر یہ ہے کہ کسی بدھ کسی دیوتا اور مسلمانوں میں کسی پیر کے نام پر یہ آباد میں شروع ہوگی تو یہ چونکہ ایک شرکیہ عقائد ہے کہ گویا اس بچے کی جس کی جارہی ہے وہ اس سال رکھی جا رہی اس لئے رکھے جا رہے ہیں کہ وہ یہ سلامت رہے اس وجہ سے فلاں موت کی دعا کے نتیجے میں یہ تو اس کے لئے وہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جا رہا ہے اس لیے حضرت مسیح علیہ السلام  سے سختی سے منع کیا یہاں پر بھی ایسے وہ کرسمس کے کھلونے یا کوئی ایسے لباس ہیں جس سے جو اس آیت میں ایک برے عقائد آ گئے ہوئے ہیں مثلا حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا خدا بنانا اگر اس کا کوئی کون سے نکلتا ہے تو پھر بچوں کو ہے اور اسے اتنا ہے اس کا جو ایکٹر ہے اس کا لباس ہے اس سے ملتے جلتے کھلونے لینا اگر تو یہ کونسا ہے اور اس کا پس منظر عیسائیوں میں یا عیسائیت میں یہ ہے کہ ایک نیک آدمی تھا جو ان لوگوں کو جو اچھے کام کرتے تھے ان کو وہ انعامات دیا کرتے ہیں ان کو تحفہ دیا کرتا تھا تو بچوں کو یہ گویا وہ سبق دیتے ہیں کہ تم اگر سچ بولو گے اچھے کام کرو گے تو سیدھا نظر آئے گا اور کرسمس والے دناس لینا کہ نہیں لینا پھر اس بات کو صرف تیس تک ہو یہ تو سارے سال کے لیے بچوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جب بھی آپ کو ملتی ہے جب بھی آپ کو اچھا اختیار کرتے ہیں جب بھی آپ کی نیکی کریں گے جب بھی آپ کی راہ پر چلیں گے تو اللہ تعالی کی طرف سے انعامات کی رحمتیں ہوں وہ اللہ تعالی کی رحمتیں اور انعامات جو ہیں وہ اس دنیاوی ذرائع کے ذریعے بھی مل سکتی ہیں اور کئی اور طریقوں سے اللہ تعالیٰ کو نوازتا ہے تو اس لیے یہ بچوں کے کھلونے جس سے شرکیہ عقائد نہیں پیدا ہوتے دینے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ وضاحت کرنا ضروری بچے کو آخر میں یہ بات سے اقتدار جو ہے نہ تو اس کو یوں منع کریں کہ اس کی طرف نہیں دیکھنا اس کو ہاتھ نہیں لگانا کام سے کوئی تعلق نہیں ہے آپ مسلمان ہیں اور یہ عیسائیوں کا اور گویا کہ بالکل بھائی پلیز اور حرام چیز ہے اس طرح اس کے اندر سے نفرت کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی بچے کو بالکل آپ کے ماننے والے جس پر وہ منا رہے ہیں اسی طرح سے قیمتی بچہ بھی بنا رہا ہوں اس طرح بھی اس کو نہیں چھوڑنا چاہیے کھلانے کے طور پر اگر وہ بچہ مانگ رہا ہے اس کو لے کے دینے میں حرج نہیں کیونکہ وہ چیز اپنی ذات میں اس طرح کی برائی اپنے اندر نہیں رکھتی لیکن ساتھ ہی اس سے دیکھیں یہ ہم اس کو لے رہے ہیں لانے کے طور پر آپ اور جیسے اگر آپ نے ذکر فرمایا کہ سانتا کلاز اگر تو وہ جو کونسیپٹ ان کے ہاں گویا وہاں کے رات کو وہ بچوں کے کھلونے دے جاتا ہے اب یہ جھوٹ کی ایک بات ہے یہ بتانا چاہیے کہ ایسا کوئی وجود نہیں ہوتا جو ان کو ملتا ہے وہ بھی انہوں نے خود رکھا ہوتا ہے اس لیے اس کو نکالنا چاہیے تو وضاحت کرکے چیزوں کو اس لیے نہ تو انسان کو کسی صورت میں مولویوں نے ایم بی ہوتے ہوئے غیر بھی ہوتے ہوئے بھی بعض اوقات بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں بہرحال کچھ نسل ایک چیز میں دماغی سالگرہ کا تصور ہے کہ سالگرہ کا تصور کوئی ہے ہی نہیں وہ دراصل کیا ہے کہ ہماری زندگی جو اللہ تعالی اس میں سے ایک سال کم ہو گیا کس بات کی خوشی منائی جارہی ہے یا تو ہم نے پچھلے سال میں کوئی غیر معمولی کی غیر معمولی کام کیے ہیں تو ہم سوچتے اور وہ بھی گزر گیا ہے وہ وہ سالگرہ ایک سال پہلے وہ گیا تھا اس میں سے گر گیا ہے اس میں کون سی بات ہے شکر ہے جلدی بتاؤ نہیں یہ ایسا تصور جو کہ معاشرے میں ایک بہت بڑا ہوا تصور اختیار کرگیا اس لیے اس کے خلاف الفا کی طرف سے ہمارے موجودہ امام امیرالمومنین بچوں کو بعض اوقات بڑے چھوٹے سے سوال کرتے ہیں بچے لکھ دیتے ہیں کہ حضور وہ ہم سالگرہ مناتے اس دن کیا ہم تو فھر لے سکتے تو آگے پیچھے کیوں نہیں دیا جاتا تو جو ایک ایک وہ جن ہے نہ اس کو غسل میں ختم کرنے کی اصل یہ تو ہوتے نجدیوں وقت ہیں اللہ تعالی کے فضل سے ہمارے خلاف آج وہی اس لیے یہ ایک ایسی بات جو غلط راستہ ہو رہی ہےاگر اس کو ہم سمجھا کے تعلیم دیکھ نہیں بھیجیں گے تو وہ ان سے جو ہے وہ چپ کرکے یوز کرکے واپس آ جائے گا اور دوسری طرف سے ہم بھی اس کو دبا رہا ہوں گے کہ تم نے بات نہیں کرنی تو بچے کی تو شخصیت دونوں طرف سے جو ہے معاشرتی اور دینی دونوں نے اس کے بعد ایسے بچے جو ہیں وہ سب باہر بھی جواب دیتے اور کہتے ہیں کہ ہمارے یہ سالگرہ جس طرح اس کو ڈسکس کیا ہے کیا آخر کس بات پر ہم سالگرہ منائی اور اپنے گھروں میں بھی وہ میں نے دیکھا کہ بعض اوقات ہم اپنے قائد جناب آپ کے بھائی کا سالگرہ ہوتی اس کا دن ہوتا تو ان کو چھوڑ دیتے ہیں ہے کہ وہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ یہ حضرت آپ کی طرف سے اسلام نے اس کو کوئی ایسی تقریب نہیں قرار دیا اس لیے کوئی کوئی اسمیہ میں جانے کی ضرورت نہیں تیار کرنے کے لئے آگے چلیں گے منصور کے ملک سے کسی نے یہ سوال بھیجا ہے ہے کہ والدین کی وفات کے بعد اولاد کو حصہ ملتا ہے تو اگر ایک بیٹی جس کو حصہ ملتا تھا وہ فوت ہو جائے تو کیا وہ سہاگے اس کے بچوں کو ملے گا یا نہیں یہ ہے کہ والد کی وفات ہوگئی جو مجھے سمجھایا ان کے سوال سے والد کی وفات ہوگئی آگے انتظامی طور پر بھی ورثے کی تقسیم جو ہے وہ مکمل نہیں ہوئی جو ورثاء تھے ان کو منتقل نہیں ہوا اس دوران ایک بیٹی جو ہے اس کی وفات ہوگئی اس بیٹی کے بچے موجود ہے تو جو ورثہ اس کو ملنا تھا کیا آگے وہ ان بچوں کو ملے گا میں بھی ہے وہ اپنے والدین کی زندگی میں فوت نہیں ہوئی بلکہ والدین کی وفات کے بعد ہوتی ہے یا والد کے جن کا بھی تقسیم ہونا ہے تو ایسی صورت میں تو بیٹی حقدار ہے اس کو تو لازم حصہ جائے گا انتقال صرف اس صورت میں یہ مجھے لگ رہا ہے کہ وفات کے بعد وراثتی انتقال نہیں ہوا اور وراثتی انتقال ابھی ہونا باقی تھا باقی بہن بھائیوں میں حصہ تقسیم ہونا باقی تھا اس دوران ہی اس بیٹی کی وفات ہو جاتی ہے جن کے بچے بھی زندہ موجود ہیں اس صورت میں بیٹی کا حصہ ملے گا جتنا بھی غصہ آئیگا اگر ملنا تھا تو وہ آئے گا اگر بہن بھائیوں میں ایک اردو کی نسبت تقسیم ہونا تھا تو جتنا حصہ اس کو ملے گا وہ آگے اولاد میں اور خاوند میں اگر خاوند زندہ ہوں تو ان کو منتقل ہو جائے گا وہ اس بیٹی کا جو حصہ جو جو وفات پا گئی ہیں ان کو اپنے والدین کی طرف سے یا والدہ کی طرف سے ملا تھا اور پھر اسی نسبت سے تقسیم ہوگا جو قرآن کریم میں بیان کئے گئے خان زندہ ہے اور اولاد بھی موجود ہے تو اس صورت میں ایک بڑا چار ملے گا اور اگر اولاد نہیں ہے تو لیکن اس صورت میں یہ سوال کیا گیا اس سے پتہ لگتا ہے اولاد موجود ہے تو اس صورت میں 14 خاوند کو ملے گا اور باقی اولاد میں تقسیم ہوگا اگر بیٹا اور بیٹی بیٹے اور بیٹیاں ہیں تو صورت میں 21 نسبت سے ان کے ہر لڑکے کو دو حصّے ملیں گے اور ہر لڑکی کو ایک حصہ ملے گا اور اگر صرف بیٹیاں ہی تو وہ دو بٹا تین حصے میں برابر کی شریک ہوں گی اور اس طرح وہ حصہ ڈائریکٹ ان ڈائریکٹ ہیں جو ہے وہ بچوں کو مل جائے گا

 43 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: