Rahe Huda – Seerate Muhammad pbuh Par Aetraz K Jawab – Ghulamon Se Salook




Rahe Huda – Seerate Muhammad pbuh Par Aetraz K Jawab – Ghulamon Se Salook

Rah-e-Huda | 26th December 2020 – Qadian

 شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ناظرین کرام اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آج 26 دسمبر دوہزار بیس ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے ہیں اور ناظرین یہ وقت ہے پروگرام رہے خدا کا قادیانیوں سے پروگرام راہداری کی سیریز کے دوسرے کے سوٹ کے ساتھ اس وقت ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہے پروگرام بھی آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اور ہمارے ریلوے جانتے ہیں کہ پروگرام راہ خدا کی قسم پروگرام ہے جس میں ہم جماعت احمدیہ اور اسلام کے مختلف تعلیمات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں اور اپنی گفتگو کے ساتھ ساتھ ہم اپنے مجاہدین کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کرتے ہیں ہم اپنے مشاہدے کو ٹیلی فون کالز کے ذریعے ٹیکسٹ میسجز اور اس پروگرام میں شامل کرتے ہیں اور ہمارے موضوع سے تعلق سے ان کے جو استفسارات ہوتے ہیں جو سوالات ہوتے ہیں اس کو ہم سنتے ہیں اور ہمارے علماء کرام سے پہلے میں موجود ہوتے ہیں وہ ہمارے مجاہدین کے سوالات کے جوابات بھی اس پروگرام کے ذریعے پیش کرتے ہیں آپ ہمارے ساتھ آج کی صورت میں جاننا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطے کی تفصیل میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت آپ اپنی زندگی پر ملاحظہ فرما رہے ہوں گے ان سے جو سیریس لے کر ہم حاضر ہوئے ہیں ہمارے رویوں سے جانتے ہیں کہ اس سیریز میں ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو ہمارے ناظرین کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی سیرت کے حوالے سے بعض کم عقل اور کم فہم لوگوں کی طرف سے جو اعتراضات لگائے جاتے ہیں کبھی ہم نے ان کے حوالے سے اور ان کے ساتھ کے حوالے سے جو عظیم الشان کارہائے نمایاں سرانجام دی ہیں جسے آج کے پروگرام میں ہم اپنے ناظرین کی خدمت میں وقت کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ تفصیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے گے ہم موضوع پر گفتگو کے لیے جو علماء کرام اس وقت ہمارے ساتھ میں ان کا تعارف کروا دیتا ہوں مکرم و محترم مولانا محمد کاشف صاحب ہیں اور ان کے ساتھ شفقت ہی مکرم و محترم مولانا مجاہد ہمبستری دونوں حضرات پروگرام راہداری قادیانی سیریز کے پرانے اور اگر قیاس ہیں میں آپ دونوں حضرات کا پروگرام ہے میں خرم کرتا ہوں نام مذاہب کی تاریخ کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو بانیان مذاہب ہوتے ہیں اور جو اللہ تعالی کے مامور ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کے انبیاء ہوتے ہیں ان کے ذریعے دنیا میں مختلف اہم کام کے آغاز سے انجام پاتے ہیں ان میں سے اہم ہے ہے جسے معصوم لوگوں کو دلائی گئی ہو تو مذہب کے نام پر جو مذہب کے ٹھیکیداروں کی طرف سے جو توقع لوگوں کے اوپر لگا دیے جاتے ہیں اس میں جلائے جانے والی آزادی ہوں اگر ہم چلے جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ حقیقی آزادی جو ہے وہ اللہ کے انبیاء اور بانیان مذاہب اور اللہ تعالی کے جو مرد ہوتے ہیں ان کے ذریعہ سے لوگوں کو حاصل ہوتی ہے اور جب تک پھیلی ہوئی ہے اور دنیا کے دور دور تک پھیلی ہوئی ہے وہ دراصل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک کرتا ہے اور آپ کے اصول پر عمل کرنا شروع کر دیتا ہے تو وہ حقیقی معنوں میں اپنی زندگی میںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے غلاموں کو جو آزادی عطا ہوئی ہے وہ کس طرح عطا ہوئی ہے اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کے حوالے سے اور مختلف طبقہ ہائے انسانیت کے ساتھ حسن سلوک کے حوالے سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عظیم الشان واقعہ ہے یقینا قابل تقلید ہے اور اس کے مطابق اگر ایک انسان عمل کرتا ہے تو مختلف رنگ و نسل کے فرق آتا ہے جس کے نتیجے میں آج انسانیت کا حل اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے آپ کے اس سوال پر چلتے ہوئے جب ایک انسان اپنی زندگی کو سنوارتا ہے تو ہر قسم کی فرقہ وارانہ زندگی سے دور ہو جاتے ہیں تو ایسے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محاسن اور آپ کے حوالے سے ہم آج کے بعد میں بات کریں گے کہ کس طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ ونسل کے فرق کو دنیا سے مٹا دیا ہے خادموں کے ساتھ حسن سلوک کے حوالے سے ایک عظیم الشان نمونہ آپ نے فرمایا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے ہر طبقہ انسانیت کی آزادی حاصل ہو سکے اور ہر ایک اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کر سکے اور اس کی ایک مرتبہ پھر میں اپنے مشاہدے کو یاد دلانا چاہوں گا کہ آج کے پروگرام میں اماں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا پہلو غلاموں سے حسن سلوک کے حوالے سے بات کرنے والے ہیں اگر اس ضمن میں آپ کے ذہن میں سوالات ہیں یا سات ہیں تو ہمیں کل فون کریں ہمارے لائن سب کے لیے اس وقت سیکٹریٹ ہیں ہمیں بڑی خوشی ہوگی اگر آپ نے اس پروگرام میں پڑھی تو ہمیں بہت اس کی خوشی ہوتی ہے اس مختصر سی تمہید کے بعد اب میں پروگرام کی طرف جاتا ہوں اور سب سے پہلے میں آج کی ایپیسوٹ میں گفتگو کرنا چاہوں گا کہ میں نے تمہیں بھی یہ بات بتائی ہے مختلف قسم کے ہوتے ہیں میں ناصر ختم کیا بلکہ اپنے اس ویسے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ کس طرح انسان کو اپنی زندگی گزارنا چاہئے اور آپ نے فرمایا اس کے بارے میں قرآن مجید کا نزول شروع ہوا 20 اگست 10تک دس سال پہلے قرآن مجید کا نزول شروع ہوا اور سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ وسلم نے اپنی رسالت اور نبوت کا اعلان کیا لوگوں نے انسانوں نے انسانوں میں مختلف طبقات بنائے ہوئے تھے اور اس کے اوپر سونے پر سہاگہ والی بات یہ تھی کہ بعض مذاہب کے لوگ بعض قبائل کے لوگ باشعور اور وہ یہ دعوی کرتے تھے کہ اللہ تعالی صرف ان کا ہے مثال کے طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو شریعت موسوی کے ماننے والے تھے اور یہودی مذہب اور بنی اسرائیل تھے انہوں نے جو عہد نامہ قدیم ہے اس میں واضح طور پر لکھا ہوا تھا کہ خدایا اللہ وہ صرف بنی اسرائیل کا ہے اور اسی حوالے سے وہاں بات کی گئی ہے مثال کے طور پر خدمات بنی اسرائیل کا خدا سمائل خداوند اسرائیل کا خدا خداوند اسرائیل کا خدا اکیلا خدا زبور 72  سر یہ ساری وہ باتیں تھیں جو کہ بنی اسرائیل کے لوگ کہتے تھے کہ اللہ صرف ان کا ہے ان سے مخاطب کرتا ہے وہی سب سے اعلیٰ اور افضل ہیں انسانوں میں سے باقی سب دوسرے یا تیسرے درجے کے انسان ہے اس کے بعد ہم آتے ہیں کہ انہیں بنی اسرائیل کی ایک شاخ تھی جو عیسائی مذہب میں سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام ہے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آپ کو یہی کہا کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لیے ہوں اس کے علاوہ میں کسی اور کے لئے نہیں بلکہ انجیل متا میں یہاں تک لکھا ہوا ہے کہ ایک عورت آئی اس کی لڑکی بیمار تھی اس کے اوپر کوئی جنوں بھوتوں کا سایہ تھا جب وہ ایک دعا کردیں اس کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام میں واضح طور پر کہا میں بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے ہوگرو روٹی لڑکوں کی بچوں کی ہے وہ اٹھا کے کتوں کے سامنے یا دوسروں کے سامنے پیش کر دی جائے تھے یہ جو سلوک سے بنی اسرائیل کے استاد تھے پھر ہمارے ہندوستان میں سب سے بڑا مذہب ہندو مذہب ہے اس میں بھی تباہ ہوئے تھے جو کہ وہ پرامن تھا تھے درویش تھے فرسودہ تھے یہ جو نچلا طبقہ تھا یہ اس زمانے میں بعد میں بھی بہت حد تک دبا کو چلا ظلم کا شکار یہ طبقہ بھی رہا یہ سارے حالات میں اس وقت جب سیدنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لائے اور آپ نے آکر پھر دنیا کے سامنے اعلان کیا کہ وہ یہ یہ کلیاں یوحنا سوال رسول اللہ الیکم جمیعا اسرائیل نہیں ہو کہ نوری ہو تو نہیں بنا کر بھیجا ہے اور یاایوھناس کہ قرآن مجید کے مخاطب کیا اور یہ جو تجربات ہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا گیا یوحنا سو انا خلقناکم من ذکر وانثی نے تمہیں ایک نر و مادہ سے پیدا کیا ہے اور تمہیں مختلف قبائل میں پیدا کیا ہے ہے جو امتیاز والی چیز ہے نزدیک تمام بنی نوع انسان سے وہی وہی محترم و مکرم ہے جو کہ تقوی میں سب سے زیادہ پڑھا ہوا ہے جو کہ اللہ تعالی کے سب سے زیادہ قریب ہے تو یہاں پر جو پیار اللہ تعالی نے بنایا وہ تقویٰ ہے جو ایک اصول بیان کیا الخلق و عیال یہ ساری مخلوق یہ اللہ تعالی کے خاندان ہے اس کا پریوار ہے اس کی فیملی ہے اس کے ساتھ تمام بنی نوع انسان کو اللہ تعالی میں نے ایک عیال کے خاندان ایک آئل کے طور پر پیش کیا ہے اور یہ اسلام کا سب سے بڑا امتیاز اور نبی کریم صل وسلم کا سب سے بڑا امتحان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو مختلف خطبات ارشاد فرمائے اس کا خلاصہ پڑھ کر سنا دیتا ہوں بہرحال عربی عبارت ہے یا ایو ہل الذین امنو الصلوۃ ولا تنطق وی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں نہ ہی سخت کو کسی سطح پر کوئی فضیلت ہے نہ سیاہ کو سخت پر سوائے تقویٰ کے تم سب ابنائے آدم ہو اور آدم مٹی سے پیدا ہوا تھا یہ ہے اسلام کی سب سے بڑی خوبی کہ اسلام کسی رنگ نسل قوم علاقہ اس سفوف اس سے بالاتر ہو کر اسلامی ہوتا ہے کہ تمام بنی نوع انسان وہ انسان ہیں یہ سب اللہ کی اولاد ہیں اللہ کا خاندان ہے پھر فرمایا کہ تم سب کے سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا ہوا تھا یعنی اس کے خمیر میں رکھی گئی تھی گئی تھی اپنے اطاعت کے طور پر وہ ترقی کر سکتا تھا کہ یہ سب سے بنیادی بات تھی جو اسلام نے بھی ان کی ایک بات بتاتا ہوںرات کو پھر ختم کیا یا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نے ستمبر دو ہزار بیس میں ایک خطبہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا حضرت بلال کو ہاتھوں پی افریقہ کے کسی علاقے کے رہنے والے تھے اور رنگ کے لحاظ سے وہ کہہ رہے تھے کہ جس کو عربی میں اس وقت کہتے ہیں غم تھے ابتدا میں وہ اسلام قبول کیا بڑی تکلیف نہیں ہونے دیتے تھے بہت تکلیفیں اٹھائیں ورنہ کتابیں دیا مواخات کے درمیان قائم کروا دیں فتح مکہ تو یہ مکہ میں آئے اور مکہ میں آنے کے بعد اب وہاں بھی ان کے پاس تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جھنڈا تیار کروایا اور اس کا نام رکھا بلال کا جھنڈا العلم جھنڈا وہ جو ان کے بھائی تھے اور فرمایا کہ آپ ایک چوک میں کھڑے ہوجائیں اور یہ اعلان کرے کہ آج جو بھی بلال کے جھنڈے کے نیچے آئے گا وہ امن اور عمان میں جائے گا جن سڑکوں پر آپ کو گھسیٹا گیا حضرت بلال جو اس وقت کہلاتے تھے ان کا جھنڈا بلند ہوا سامان لینے کے لیے اس کے نیچے یہ وہ حرکت تھا جو رسول اکرم صل وسلم نے جو امتیاز غلام اور آزاد کالے اور گورے قریشی اور حواشی میں پیدا کیا جاتا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسری مثال آل سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے زمانے کے خلافت میں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایک کمرے میں تشریف فرما تھے کمرہ تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جس خاندان قریش سے تعلق رکھتے تھے ان کا کام تھا نسب معلوم کرنا انساب یعنی ہر قبیلے کا ہر انسان کا ان کو نفع ہوتا تھا شجرہ نسب ان کا کیا ہے ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ تشریف فرما تھے اور او صاحب کہ کے بعض لڑکے ان کے فرزندان حضرت عمر سے ملنے کے لیے اب ان کے دل میں ایک آس دیتی تھی اتفاق تھا کہ ہم قریش کے بڑے بڑے خاندانوں میں سے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہمارا بڑا احترام کریں گے خاندانیت کی وجہ سے ہمارے اعلی خاندان کی وجہ سے ہمارا فخر ہے ہمارا ایک مقام ہے یہاں یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے ان کو اپنے قریب بٹھایا اور ان سے کچھ باتیں کی غلام تشریف لایا جو نومسلم تھے حضرت عمر نے ان کو آگے آنے کے لیے کہا ان کو کہا پیچھے ہو جائے آئے پھر دوسرے ان کو کہا اور پیچھے ہو جائیں پھر تیسرے ان کو کہا اور پیچھے ہو جائے روایات میں آتا ہے سات غلام جو مکہ میں گھسیٹتے رہے وہ آتے گئے یہ پیچھے ہوتے گئے آتے گئے پیچھے ہوتے تھے اور اس کے بعد باہر نکلے اور ان کی آنکھیں نم تھیں تھی کہ ہم تو حال اور وہ لوگ ہیں ہیں اور یہ ذلت آج حضرت عمر کی مجلس میں ہمارے ساتھ ہوئی وی یا کہ اسلام سو آسیہ یکسانیت کے لیے آیا ہے اسلام میں رنگ نسل خاندان بڑا ہونا چھوٹا ہونا اس کی کوئی حیثیت نہیں اگر ہے اب تک کوئی جو ان لوگوں نے اختیار کیا اور تمہارے اموال اختیار کیا ان لوگوں نے اپنے تقوی کی حفاظت کے لیے دین کی حفاظت کے لیے اسلام کی حفاظت کے لیے بے شمار مظالم سے ہے جو ہمارے بڑوں نے اسے پھر یہ حضرت عمر کے پاس دوبارہ گئے کہ اس ندامت امت اس شرمندگی اس ذلت لعنت اس کا کوئی حل ہے حضرت عمر کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اس میں کوئی شک نہیں تو وہ ہو گا جو تمہاری ذلت آئی ہوئی وہ ایک مجبوری تھیاللہ تعالی نے اپنی زبان مبارک سے کچھ نہ کہہ سکے صرف شام کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں چلے جاؤ وہاں اس وقت جہاد ہو رہا ہے کہ صرف فوجیوں کے ساتھ اسلامی فوج لگی ہے وہاں چلے جاؤ اس کا کچھ مداوا ہو جائے جو تمہارے بزرگ ہیں ان کے اوپر اسلام پر اور ان مسلمانوں پر کیا ہے وہاں چلے جاؤ شاید کل ہو جائے آئیے تاریخی واقعات بتاتے ہیں وہ چلے گئے اور کوئی واپس نہیں ہے یہ ہے وہ اسلام کا امتیاز اسلام کا جو رسول آیا اس نے اعلان کیا کہ یا رسول اللہ میں کسی علاقے کے لئے نہیں میں کسی قوم کے لئے نہیں میں کسی قبیلے کے لیے نہیں میں کسی رنگ کے لیے نہیں میں کسی نسل کے لئے نہیں ہوں میں تمام بنی نوع انسان کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور رہتی دنیا تک بناتے گیا ہوں اور دوسری المومنین جو میری ہے وہ یہ کہ میرا وجود و رحمت ہے میرا وجود روف اور رحیم ہیں وہ کریم ہے اس دائرے میں رہ کے میں تمہاری طبیعت کروں گا جیسے ماں بچے کے ساتھ رحم کرتی ہے ہے وہ میرا عطامحمد ثلاثۃ ارحم الراحمین خدا کا ارحم الراحمین رسول تھا اور آج تک اس کی رحمت کا سلسلہ جاری ہے یہ ہے اسلام یہ ہے اسلام کا رسول یہ ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بھی یہی غزل خدا پاؤ گے آج اس دور میں حضرت محمد صلی وسلم کی بعثت ثانیہ کا مظہر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود وہ رسول کریم صل وسلم کی بیوی ثانیہ کا مظہر ہے ان تمام صفات کے ساتھ اللہ تعالی اس کو اس دنیا میں بھیجا ہے آج اگر رحمت کوئی دائرہ ہے تو وہ یہ جماعت احمدیہ اور آج کے دور میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جو حضور کے خلیفہ ہیں یعنی شیر ہیں اور انہیں کا یہ رحمت کا دائرہ ہے اگر اس کے نیچے کوئی آئے گا تو اطمینان اور سکون پائے گا اللہ تعالیٰ نے ٹیلی فون کالز کی طرف جائیں گے سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں انڈیا سے قریشی عبدالحکیم صاحب اس وقت ہمارے ساتھ ہونے پر موجود ہیں ان سے بات کرتے ہیں ان کا سوال سنتے ہیں یہ مان لیا جائے آئے اور اخروی زندگی سے تعلق رکھتا ہے تو اس میں اللہ اور سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے نتیجے میں چار انعامات کا ذکر ہے ہے وہ رسول اللہ مع الذین انعم اللہ علیہم من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین وحسن اولئک رفیقا صدیق شہید نبی تھیک ہے جیسے درجات بتا رہے ہیں ہم اپنی زندگی میں میں اس امت کا سال سال کے ساتھ ہوگا صدیق صدیق کے ساتھ کیا ہوگا شہید کے ساتھ ہوگا اور نبی کے ساتھ ہوگاتو وہاں کیسے میں بھی کے ساتھ بیٹھے گا جا کے اگر یہ ترجمہ کر لیا جائے آپ کا جیسے ہی ہے تو کیوں نہیں کر رہے  ہے تو بات یہ ہے کہ یہ جب بھی آپ ترجمہ کرتے ہیں کہ ادھر سے کریں ادھر سے کرے دور کی بات شان نزول کی اس چیز ہے قرآن شان نزول کی ثانوی حیثیت ہے جو رہتی دنیا تک اللہ کا کلام ہے وہ قرآن مجید ہے وہ رہتی دنیا تک وہ قائم و دائم رہے گا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے بتایا جو اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا اللہ تعالی اس کی اطاعت کے مطابق اسے سال صدیق شہید اور نبی بنائے گا لیکن اس امت میں سے بنائے گا اب یہاں پر انہیں کی بات آگے بڑھاتے ہوئے بات ختم کروں گا غیر احمدی پتہ نہیں کس منہ سے بات کرتے ہیں ان کے مولوی لگائی ہوتی ہیں اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام آسمان سے اترے گا وہ اس روئے زمین پر آخری نبی ہوگا کون سا فلسفہ بیان کرتے ہیں دیکھو کس کو منا رہے ہیں ایک طرف لا نبی یا بعدی لا نبی دوسری طرف کہتے ہیں اس زمین پر آخری نبی ہو گا اور وہ ایسا جس کے بارے میں قرآن مجید میں آیا ہے کہ ہم نے اس کو انجیل تھی اور یہ آیا ہے کہ وہ رسول اور نبی ہی دفعہ قرآن مجید میں اس رسول اور نبی کو جس کو قرآن میں رسول اور نبی کہا گیا اتے نہ ہونا انجیل قرآن میں کہا میں نہیں ہوتی ہے یہ انجیل والے کو اس روئے زمین پر آخری نبی بنانا چاہتے ہیں جو بات عیسائی کہتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں اور رقیہ لگائی ہوئی ہے کہ رسول اللہ خاتم النبیین لا نبی اللہ کے حضور حاضر ہوں خدا کے لئے خدا کا خوف کرو آج کا دنیا بڑا روشن دنیا ہے عقل کی دنیا ہے علم کی دنیا ہے خدا کے لئے کچھ خوف کرو خدا کا اور امت کو گمراہی میں آدھا کیلو جس کو اللہ تعالی نے عصر حاضر میں محمد یوسف حسین کی غلامی میں امتی نبی بنا کر بھیجا اس کے خلیفہ کے چرنوں میں آؤ اس کے قدموں میں او اسی میں نجات ہے اس کے علاوہ اور کوئی کو ٹیلی فون کر لو میں تمہارے ساتھ انڈیا سے ہی بشیر احمد سب وہ بھی اپنا سوال پیش کرنا چاہتے ہیں ان سے بات کرتے ہیں اسلام علیکم شکریہ محترم مولانا محمد کاشف بھائی قرآن مجید اس سے چودہ سو سال پہلے نازل ہوا اور قیامت تک یہ رہے گا  گا کچھ تعلیمات کا تعلق افریقہ کے جنگلات میں بسنے والوں کے لئے ہے جس کا تعلق آسٹریلیا والوں کے لیے ہے کچھ کا تعلق ہے مالائی کے لیے کیونکہ یہ کل عالم کے لئےمحتاج تو حاجت تھوڑی شکل تبدیل ہوگئی ہے اور کچھ بیزی مستقبل میں پھر یہ غلامی کا سلسلہ کسی نہ کسی طرح سے شروع ہوجائیں تو قرآن مجید کی تعلیم کسی خاص وقت کے لیے کسی خاص زمانے کے لیے نہیں ہوتی یہ تو عبادت کے لیے کچھ پیش گوئیاں ماضی میں پوری ہوئی جب قرآن مجید کی پیشگوئی حالات میں بہتری ہورہی ہے اور ان کی پیشگوئی اور تعلیمات مستقبل کے لئے ہے ہم یہ کوشش نہیں کر سکتے کہ ساری کی ساری حاجتیں پوری ہوجائے نہیں ایسا نہیں ہے قرآن کو آزمانہ بخت زمان نہیں ہے مکان نہیں ہے یہ تو اب تک ہے پوری طرح رضیہ کے لئے ہے یہ تو اس کو ہمیں ملحوظ رکھتے قرآن مجید کا پڑھنا چاہیے اگر آج غلام نہیں ہے اللہ نہ کرے کو جنگ ہونے والی ہے جو حالات بنتے چلے جا رہے ہیں پتہ نہیں کیا ہوگا اس لئے ہمیں چاہئے اور اللہ سے نجات مانگنی چاہیے اور موجودہ دور میں غلاموں سے پتھر جو دنیا کے بعض علاقوں میں لوگ ہیں ان کی مدد کرنی چاہئے اللہ ہمیں توفیق اللہ بنگلہ دیش کو زمان صاحب ہیں ان سے بات ہو گئی ہے ہے میں ضعیف بھی نہایت کا واقعیا کیا یہ گودی بیٹا تھا نہ غلام تھا اس وجہ فرمادیجئے کا سوال ہے میرا اہل بیت کس کو کہتے ہیں ان شاء اللہ آگے جو سوالات اٹھائے گا لیکن آپ نے سوال کیا ہے میں یہ بتا دیتا ہوں ارے ایک بار استعمال یہ کہتے تھے کہ میں آگئے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مطابق ان کے غلاموں میں سے بعض کے مطابق ان کو کسی نے ان کے سامنے کسی نے توڑ دیا جب آپ کی شادی ہوگئی اس وقت زید بھی ان غلاموں میں آئے جو کہ اس وقت تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار غلاموں کو آزاد کر دیا اس کو بھی چچا کا اب دونوں حضور صل وسلم کے پاس آئے آئے اور کہنے لگے کہ یہ ہمارا بچہ ہے ہمیں دے گئے حضور نے فرمایا میں تو اسے آزاد کر چکا ہوں لے جاؤ وہ کھیل نہیں جو مرضی کر لو میں نے نہیں جانا کیا عورت اور میں جا کے اعلان کر دیا کہ اس سے یہ میرا بیٹا ہے ہے اس کو منع کرتے تھے اور شروع میں نام بھی ہو گیا دے دیا اور اسی نام سے مشہور ہوئے تو یہ ہے ان کی کہانی کچھ ان کے بارے میں آگے کچھ سوالات کے جوابات میں نے دوسرا سوال کیا تھا اہل بیت اہل بیت حضرت فاطمہ کی اہلبیت کہلاتے ہیں ان کو عام طور پر اسلامی اصطلاح میں ہے ویسے اس کے معنی وہ اگر وسیع روحانی معنوں میں لیں گے وہ تمام جو سیدنا محمد صلوۃ روحانیت میں داخل ہیں وہ بھی اس کے اہل ہیں تو یہ ہے اس کا مختصر جواب جوابیہ سوال ہے کہ جب ہم غلاموں کی آزادی کے حوالے سے بات کرتے ہیں ان کی سیرت کے اس پہلو کے حوالے سے بات کرتے ہیں اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں کہ اسلام نے یکسر کیوں نہیں اعلان کر دیا کہ آج تمام غلام ہی واضح ہو جائیں گے جیسے کہ آپ نے شراب کی حرمت کے تعلق سے قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی تو ایک سر آپ نے شراب کو حرام قرار دیا اور اس کی فرما دیں تو اس میں کیا حکمت یہ تھی کہ غلاموں کی آزادی کے حوالے سے مختلف تعلیمات ہیں اور رفتہ رفتہ جو ہے ان کو آزاد کیا گیا اس بارے میں تفصیل جاننا چاہوں گا اس اعتراض کا مختصر سا جواب تو یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے حقیقی دوست تھے  مجھے آپ کا مقصد تھا غلاموں کی اصلاح کرنا معاشرے میں ان کو ایک مقام عطا کرنا آپ کو دیکھنا نہیں چاہتے تھے کوئی نمائش آپ کا مقصد نہیں تھا بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ ایسا کام کیا جائے جس کے نتیجے میں معاشرے میں استحکام ہوں مضبوط ہو اور ایک مثالی معاشرے کی تجویز اور اس میں بڑھوتری ہوتی چلی جائے ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے وہ کر سکتا ہے کہ اگر یہ بات جو معترضین اعتراض کرتے ہیں کہ غلاموں کو ایک ساتھ آزاد کر دیا جائے تو سب سے پہلا بنیادی سوال یہ ہوگا جو ہزاروں کی تعداد میں غلام تھے تھے وہ تو غربت سے مر جائیں گے ان کے کھانے پینے کا انتظام کہاں سے ہو گا حکومت تھی ہی نہیں یا اتنی مضبوط نہیں تھیں تو وہ اس کا انتظام کون کرے گا پھر ان غلاموں میں سے جو مضبوط ہوں گے جا طاقتور ہوں گے جب ان کی صحیح رنگ تربیت نہیں ہوگی تو پوری ہو جائے گی عام ہونے کی وجہ سے اخلاقی طور پر پریشانی آ جائیں گی باقی مسائل پیدا ہوں گے قوم تباہی کی طرف چلی جائے گی یہی وہ بنیادی وجہ جس کے نتیجے میں اسلام نے جو غلاموں کو آزاد کرنے کا طریقہ اختیار کیا وہ طریقہ دراصل یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یہ لعنت چلی آ رہی ہے یا نہیں ہے بلکہ بعض تو یونانی تہذیب میں سے بھی آپ نے سنا کہ ہندوستانی تہذیب میں بھی یہ ہے کہ انہوں نے تو غریبوں کے لئے الگ لباس اور ان کے رہنے کے لئے گاؤں سے باہر بنا دیے تھے اور یہاں تک تعلیم پائی جاتی تھی کہ اگر غلاموں میں سے نیچی ذات والوں میں سے کوئی چیز آپ کے سامنے سے گزرتا چلا جائے تو وہ گھنٹی بجاتا چلا جائے اور اعلان کرتا چلا جائے کہ میں نیچے جہاں تک ہوتی تو نہ جاؤ تو یہ وہ لعنت تھی جو دنیا کے مختلف حصوں میں پائی جاتی تھی عربوں میں بھی لعنت تھی اور اس لعنت کو دور کرنے والا اگر کوئی شخص ہے تاریخ عالم میں سب سے پہلے اگر کسی نے اس کے بارے میں آواز اٹھائی ہے تو میرے پیارے آقا خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلاموں کی آزادی کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا وہ یہ تھا کہ آپ نے وہ ظالمانہ طریقے بند کر دیے جس کے تحت ایک انسان دوسرے انسان کو غلام بنا دیتا تھا مسئلہ کوئی ایسا شخص نہیں جا رہے ہیں قافلے کی شکل میں جا رہے ہیں اس کے اوپر کچھ لوگوں نے حملہ کردیا ان کا سامان لوٹ لیا اور کافی والوں کو غلام بنا لیا بیڑیاں پہنا دی کی جانوروں والا سلوک سے کیا گیا ان کو بازاروں میں جیسے جانوروں کے ساتھ ان کی بولی لگائی ان کو بیچا گیا تو آپ نے اپنی تعلیم میں سختی سے اس بات کو منع کر دیا  کہ کسی بھی آزاد شخص کو دوسرے انسان کو غلام بنانے کا کوئی حق نھیں ھے دوسرا آپ نے یہ بتایا کہ جو غلام اس وقت بنے ہوئے تھے ان کے لیے کیا بہترین طریقے ہو سکتے ہیں ہیں کیا اس حالات کو دیکھتے ہوئے ان کو یکلخت آزاد کردینا بہتر تھا یا درجہ بدرجہ ان کی تربیت کرتے ہوئے ان کو اسلامی آداب اور اخلاق سکھاتے ہوئے معاشرے کے اندر شامل کرنا ہی بہتر تھا ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس کو وہ دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں کہ انسانی جسم میں کوئی تھوڑا ہوتا ہے ہے تو ڈاکٹر کیا کہتے ہیں بعض دفعہ اس انسان کو بچانے کے لیے اس کے جسم کا وہ حصہ کاٹ دیتے ہیںغلاموں میں سے ایسے لوگ پیدا ہوئے جو ہندوستان کے ہاتھوں ہوئے تاریخ میں بتاتے ہیں غلام خاندان نے ہندوستان پر تقریبا سو سال حکومت کی ہے قطب الدین ایبک سے شروع ہوتا ہے اور خود تو ملا دہلی میں اس نے تعمیر کی ہے بادشاہ بن گئے اسلام نے غلامی کو ختم کرکے بھائی بندی کو شروع کر دیا یعنی یہ تمہارے جو غلام ہیں یہ انسان ہے اس سے پہلے بھی آپ نے مفصلہ اسلام نے یہ واضح طور پر بتایا کہ جو واقعہ آئے گا وہی اس کو چاہیے غلام ہو جائے جو وہ پہنتا ہے وہیں وہ دوسروں کو بھی ہے اس سوال کے جواب کے لیے دوسرے پہلو کو بھی اختیار کرتے ہیں اور سوچتے ہیں مجھے اسلام سے پہلے جو دیگر اسلام کے مخالفین تھے قریش تھے ان کے ساتھ جنگ ہو رہی تھی تھی اب ان جنگوں میں یہ صورتحال ہو رہی تھی کہ جو مسلمان شہید ہوتے ہیں وہ جو شہید ہوئے تھے جو زندہ ہوتے ان کو تو مخالفین قریش کے لوگ فارغ مکان کو غلام بنا لیتے اگر یہ تعلیم ہوتی کہ اسلام نے ان کو جنگ میں بھی ان کو کہتی نہیں بنانا ہم نہیں بنانا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آہستہ آہستہ مسلمانوں کی طاقت کم ہوتی چلی جاتی ہے اس میں سے وہ لوگ جو قید ہوکر آتے یا تو احسان کے طور پر چھوڑ دیا جاتا یا ان کو پھر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں طریقوں میں سے جو یہ طریقہ کیا کہ فدیہ لے کر چھوڑنے کے نتیجے میں اس کو یہ بتا دیا کہ آپ اسلام کے مفید وجود بنانے کے لیے کوشش کی جائے جنگ بدر میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب غلام آئے ان غلاموں کے فدیہ کے طور پر ان کے سلسلہ میں بیان کی ہے مدینہ کے وہ لوگ جو تعلیمات نہیں جانتے تھے کیا غلام کیا غریب اگر وہ دس لوگوں کو تعلیم سکھا دیں گے تو ان کی آزادی ہو جاتی تھی اس طریقے سے معاشرے کے دھبے کتنے لوگ تھے ان کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ آہستہ آہستہ معاشرے کا مفید بن گئے آخر میں اپنے سوال کا جواب دیتا ہوں آج ہم یہ بات کر رہے ہیں کہ غلاموں کے لیے یہ طریقہ درست ہے یا نہیں تھا غلاموں کے حوالے سے آج ہم چودہ سال بعد یہ بات کر رہے جو غلام تھے جو اس زمانے میں موجود تھے وہ کیا سمجھتے تھے کہ ہمارے لیے کون سا طریقہ بہتر تھا کیا وہ نبی کریم صلی وسلم کے تھے یا دشمن سمجھتے تھے کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غلامی کو قائم رکھنے کے حامی تھے یا غلامی کو ختم کرنے کے حامی تھے مشہور واقعہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ وسلم کی بچی سال کی عمر میں جب شادی ہوئی تو حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنا سارا مال و دولت اور اولاد اور جو کچھ بھی آپ کی جگہ تھی نبی کریم صلی وسلم کے حضور پیش کر دی ہیں جو پہلا کام کیا وہ یہی تھا کہ غلاموں کو آزاد کر دیا تو یہ پتہ لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں کے دوست تھے پھر غلام کہ سمجھتے تھے غلام بھی آپ کو اپنا حامی سمجھتے تھے چنانچہ مسلسل واقعات تاریخ میں درج حضرت بلال بھی تکلیف برداشت کر رہے ہیں حضرت صہیب رومی تکلیفیں برداشت کر رہے تھے ان پر غور کر کے دیکھ لے سات سال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کی اس کے نتیجے میں تاریخ کے مختصر حالات مختلف کتابوں میں آتا ہے کہ چالیس سے پچاس لوگ مسلمان ہوئے ان میں سے پندرہ سے بیس ایسے تھے جو غلاموں میں سے تھے یعنی وہ سمجھ رہے تھے کہ اگر ہم نے آزادی حاصل کرنی ہے اگر ہمارے معاشرے میں بہتری کی کوئی صورت ہے تو یہ اسلام کو قبول کرنے کی شکل میں صورت ہے اور نہ صرف یہ کہ یہ غلام جو مسلمان ہوئے تھے بلکہ وہ غلام بھی مشرک تھے یا غیر مسلم تھے وہ بھی حاضر سلم کو اپنا نجات دہندہ مانتے تھے لہذا حمزہ کا مشہور واقعہ ہے کہ وہ باہر سے جب گھر آئے تو ان کو ایک اورلونڈی نے ان کی کیا کہ آج تین بجے سے واقع ہوا اس کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا غوروفکر کیا پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ ہیں سارے غلام نہیں کیے تو یہ جذباتی اتر کیفیات والی بات بنتی ہے اس کا حقیقت سے کوئی بھی دور دور تک کوئی تعلق نہیں مزہ پروگرام کو ہی آگے بڑھاتے ہیں اور مولانا محمد کا سب سے بڑا یہ سوال ہے کہ جیسے کہ ہم بات کر رہے ہیں کہ غلاموں سے الجھیں وسلم کا حسن سلوک کے واقعات بے شمار ہے اور اس کے مدنظر رکھتے ہوئے ہیں آپ جناب میں آپ کی اجازت سے جواب سے پہلے ایک بات کرنا چاہتا ہوں میرے بھائی نے ایک واقعہ کا حوالہ مانگا تھا تو اس کی تھوڑی سی اس واقعہ کی تصحیح اور اس کا معائنہ والا وحشت سے جلدی سے پڑھ دیتا ہوں ہو مالک بن ہشام معروف معارف اسلامی گزرے ہیں 213 ہیں میں ان کی وفات ہوئیاس سید کی کتاب میں وہ واقعہ کیسے درد ہے اس کی تصحیح اور وہ میں خلاصہ عربی میں ہے اس کا اردو خلاصہ پڑھ لیتا ہوں تا کہ بات واضح ہو جائے گی حضرت ابو طالب کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ بہت تیز ہو گیا یہاں تک کہ آپ کی ذات پر حملے ہونے لگے ایک بدبخت عربیہ سفیانی بخش نے آپ کے سر پر خاک ڈال دیں سارا سحر اس حالت میں گھر تشریف لائے سبزیوں میں سے ایک نے میں نے آپ کا سر مبارک ہونا شروع کیا اور ساتھ ساتھ روتی جاتی تھی نہیں نہیں تیرے باپ کا رکھوالا ہے ان کا کرنے والا ہے کوئی اور کا دفاع کرے گا یہ واقعہ سیرت ابن ہشام جلد نمبر 2 صفحہ 26 یا پیزا میں نے کہا تھا کہ اس دفعہ میں ہوا ہوگا اور تصویر بھی کردوں گا یہ ہے اب آپ کے سوال کا جواب ارے میرے بھائی ہمارا نور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم انسانی غلاموں کا رکھوالا آخری سانس نکل رہی ہے اور اور گھر کی حالت ہے ہے اور اس حالت میں جب کے انسان کو کچھ ہوش نہیں ہوتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہہ رہے ہیں الصلاۃ وما ملکت ایمانکم کہ میں دو باتوں کی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ادا کرنا na-122 مارے جن کے مالک ہوئے تمہارے داہنے ہاتھ ہاتھ ان کا خیال رکھنا اس سے زیادہ غلاموں کا خیال رکھو ہو سکتا تھا تھا کہ اگر کہانیوں میں سے بلند چوٹیوں پر تم نے چنا ہے ہے غلاموں کو آزاد کروائیں اب ہم سارے قرآن مجید کی آیات آپ پڑھ لے اگر کسی نے روزہ نہیں رکھا یا روزہ توڑا علامہ آزاد کرے کوئی اس سے کوئی گناہ سرزد ہوا غلطیاں سرزد ہوئی غلام آزاد کرے سلسلہ غلام آزاد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہوا اور یہ رسول کے اساتذہ کی تعلیم کا نتیجہ تھا پھر حضور صلی اللہ تعالی عنہ بدری صحابہ سے حضور نے بھی ذکر کیا کیا انہوں نے ایک دفعہ اپنے غلام کو مارا حضور کے پیچھے سے تشریف لائے آئے اور دیکھتے ہوئے کہنے لگے کہ جس طرح یہ غلام تیرے سامنے مجبور ہے ہے تو اللہ کے سامنے اس سے زیادہ مجبور ہے ہے اگر تو اس کا دل نہیں کرے گا اللہ تیرا موڈ چلتا ہے کہ جن میں اس نے اسی وقت تم نے جو سلوک زید بن حارثہ سے کیا اپنی پھوپھی زاد بیٹی پر اپنی پھوپھی زاد بہن بھائی کی تھی ان کی ایک بہت بڑی حکومت تھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں ہے کہ ایک صحابی کے کپڑے کی تجارت کرتے تھے ان کی دکان پر بھی قمیض سندھی مساوات تھی پھر میں آپ کو کچھ ایسے اعدادوشمار پیش کرتا ہوںایسے ہیں جن کا تو پتہ بھی نہیں چلا میں خفیہ طور پر کیا حضرت عائشہ نے ساٹھ سال ہمزاد کیا ہے حضرت عباس نے 70 غلام آزاد کیا کیا حضرت حکیم بن حزام نے ایک سو غلام آزاد کیا عبداللہ بن عمر نے ایک ہزار غلام آزاد کیا عبدالرحمن بن عوف نے 13 ہزار غلام آزاد کیا حضرت عثمان بن عفان نے بیس ہزار غلام آزاد کیا ایک اور صحابی حضرت حضور پاک صل وسلم کے ایک دن میں آٹھ ہزار غلام آزاد کیا مجموعی طور پر 30 ہزار تین سو بیس غلام بنتے ہیں یہ جن کو آزاد کیا بات کیوں نہیں کیا ہے ان کو ایک دفع آزاد کیا جاتا ہے یہ تو سارے کے سارے دہشت گرد بن جاتے ہیں یا خدانخواستہ کسی اور راستے پر چل پڑے تھے ایک آخری بات کہتے میں ختم کر دوں دیکھیں اسلام نے بہت سی باتیں ہیں کہ یہ لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے مجھے ایک اسلام نے قرآن مجید میں اس کا ذکر کیا مقاطبت غلام اگر اپنے مالک کو کہتا ہے کہ میری قیمت مثال کے طور پر ایک ہزار روپیہ ہے مجھے کرکے مزدوری کرکے تیرا 1000 واپس کردوں گا اور اس طرح تو مجھے آزاد کر دینا یہ ممالک کے اوپر ذمہ داری ہے اس کو مخاطب کے ذریعہ سے آزاد کریں اور پھر وہ مکمل طور پر آزاد بندوں کا اکاؤنٹ ہے میں اب آزاد ہو جاتا ہے تو اس کو ختم مولا مولا من دوست والی سے نکلے مولا وہ اس کی وراثت میں شریک ہو جاتا ہے کہ یہ نہ سمجھے کہ میں غلام ہوں اب میں کسی اور طرف اور یہ کسی اور کا اب یہ جو مولا تھے اگر تاریخ اسلام کا واقعات آپ دیکھیں میں تفصیل بیان نہیں کر سکتا اتنا وقت نہیں بڑے بڑے کے پاس صحابہ میں سے سالم تھے وہ مولا تھے وظیفہ کے کے حضور پاک صلی اللہ وسلم نے چار آدمیوں کو کہا ان سے قرآن مجید پڑھے اس سے ایک سال بھی تھے مجھے مشہور قرآن مجید کے عالم بہت بڑے مفسر بہت سے ان کی جو تفاسیر و روایات میں بعض جگہ پر ملتی ہے ہے تو یہ غلام غلام جو یہ کہتے ہیں حضور میں تو غلام کہیں سے بھی منع کردیا تھا حضور نے فرمایا یہ نہیں کہنا کہ آپ کی کہ میرا بھائی اس کے بارے میں کہا اور حضور نے منع کیا کہ کوئی غلام اپنے آقا پر بات نہیں کرے گا بالکل نہیں سید دی یعنی یہ کہنا ہے یہ وہ سارے حقوق تھے جو رسول پاک صل وسلم نے یہ غلاموں کو دیے اور اس وقت بتائیں انسانیت کے لیے یہ ہمارے لئے ایک دعا ہے کہ ایک نمونہ ہے جو قائم رہے گا اس کے اوپر آج بھی اگر انسان عمل کریں آپ میری بات نہیں ہوتی ہے انسانی حقوق کمیشن بنے ہوئے ہیں فلاں بنے ہوئے دنیا اس رہی ہے آج کون پرسان حال ہے ہمارا قصور ہے اگر کھانا نہیں ملا کسی صحابی نے کہا کہ حضور مجھے بھوک لگی ہے میں نے پتھر باندھے تھے آپ نے اٹھا کر کہا میں نے دو مردے  کیا سلمان منا اہل البیت یہ نہ سمجھنا تو ہمارے اہل بیت میں سے ہے یہ حضور پاک صلی اللہ ہوا غریبوں کے ساتھ جو آپ نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہمیں بھی اللّہ توفیق دیا کہ مظلوم انسانیت کے ساتھ جماعت احمدیہ جس طرح آج ہمارے خلیفہ کے ساتھ کر رہے ہیں آپ یعنی انسانیت کے لیے اگر کسی کو ٹھنڈا پانی پلانے کی توفیق مل رہی ہے وہ ہمارے خلیفہ ایکس اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ذریعے سے مروی ہے کہ حضور فرماتے جنرل کا چلتا ہے اور اس کے چہرے دیکھنے والے ہوتے ہیں یہ کتاب کے اس انسانیت کی خدمت اللہ تعالی کی طرف جائے گا اسی سے میرا سوال ہےاس کی کیا حالت تھی اس بارے میں زمانے کے امام بانی جماعت احمدیہ سے یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا آپ نے یہ ہے کہ صاف تحقیق و منکرات سے نکالتا ہوں کا صدیقہ کالونی کے ایک معزز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو گوبر کی حالت میں پایا اور ان کے اندر کیا تبدیلی پیدا کر دی یہ بتایا گیا کہ وہ عظیم الشان تغیر تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا کیا ابھی تفصیل سے اس پروگرام میں آپ نے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسوہ حسنہ دکھایا جو اعلی تعلیمات دکھائیں جو اعلی نمونہ غلاموں کے ساتھ پیش کیا یہ سوال جواب پوچھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ان غلاموں کے اندر وہ بغیر تبدیلی کہاں پیدا ہوۓ بے شمار واقعات درج ہے ابھی شروع میں حضرت زید کا واقعہ آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلامی کی حالت میں آئے اتنا بہترین سلوک نبی کریم صل وسلم نے کیا کہ ان کو اپنے بیٹے کے مقام عطا فرمایا اور انہوں نے محبت میں جب ان کے حقیقی والدین والد ہے وہاں پر لینے چاہیے تو انہوں نے انکار کر دیا کہ میں تجھے آزادی نہیں کی غلامی میرے لیے بہتر ہے کے واقعات آتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا فجر کے بعد کیا بلال مجھے یہ بتاؤ کہ تمہارا وہ کونسا کام ہے جس کو تم سمجھتے ہو کہ خدا کے نزدیک بہت پسندیدہ کام ہے کیوں میں یہ پوچھنا بھی وسلم اس کی وضاحت بیان کر دیں آپ قرآن فرماتے ہیں کہ میں نے بلال تمہارے جوتوں کی آواز جنت میں سنی ہے جو میرے آگے آگے چل رہی تھی تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں نے ایسا تو کوئی بھی عمل نہیں کیا ہاں جب بھی میں دن اور رات میں وضو کرتا ہوں اس کے بعد میں خدا کے حضور نماز پڑھتا نوافل ادا کرتا ہوں تو روحانیت کا وہ بلند مقام تھا جو غلاموں میں سے ملا وہ منظر سامنے لائے حضرت بلال کا جواب تھا جو ان کا سردار بنا ہوا تو امی سے ملنا تھا وہ پتھر رکھ کے ان کے سینے پر چڑھ بیٹھا اور جب الاحد کہہ رہے ہیں اور وہ مقامات شامل ہیں جبکہ اس لیے فرما رہے ہیں کہ بلال جنت میں تیرے قدموں کی چاپ میرے آگے میں سن رہا تھا تو عرش سے فرش تک مقام ان کے اندر پیدا ہوگا یہ تغیر تھا پھر ایک اور غلام مشہور حضرت صہیب بن سنان کا واقعہ ہے نبی غلام تھے انہوں نے مکہ میں رہ کے اپنا کاروبار کیا کچھوا کام کرتے تھے جب اسلام قبول کرلیا اور مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے تو راستے میں قریش نے روک لیا قریش نے کہا کہ ہم سے جانے نہیں دیں گے ہم نے کہا دیکھو تم جانتے ہو کہ میرے پاس پیر ہیں اور میتھ تم میرا مقابلہ نہیں کر سکتے اگر وہ ختم ہو جائیں گے میں تلوار سے تمہارا مقابلہ کروں گا تم مجھے بھی اس میں بھی نہیں ہرا سکتے لیکن اس کے باوجود اگر مال چاہیے تو میں تمہیں اپنے مالک کا پتہ بتا دیتا ہوں وہاں سے میرا سامان لے لو مجھے صحیح سلامتی کے ساتھ جانے دو اور اس کو سمجھا اور ان کا سارا مال لے لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس واقعہ کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کی کنیت ابو یحییٰ تھی بیان کے ابو آئے ہیں تمہاری تجارت بہت ہی اچھی تجارت رہی توبھیج درود اس محسن پر دو دن میں سو سو بار پاک محمد مصطفی صلی اللہ تعالی سے زیادہ ناظرین اس کے ساتھ آج کا ہمارے پاس ورڈ ختم ہو جاتا ہے آخر میں آپ کی خدمت میں بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کو تلاش کرنا ہے تو اس کے دل کے پاس تلاش کرو اسی لیے پیغمبروں نے مسکین کا جامہ پہن لیا تھا اسی طرح چاہیے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تم جو میرے پاس آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے بلکہ سوال یہ ہو گا کہ تمہارا عمل کیا ہے اسی طرح پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہے اپنی بیٹی سے کہا فاطمہ خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا اگر تم کوئی برا کام تو خدا تعالیٰ اس واسطے درگزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہوں آج کے پیسوں کے ساتھ ختم ہوتا ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلو ہم اپنی اس کے آئندہ کے دور میں بھی کریں گے اور جنوری 2020 کو ہفتے کے دن انڈین ٹیم کے مطابق رات کے ساڑھے نو بجے اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے قادیان دارالامان سے ہم آپ کی خدمت میں لائیو پیش کریں گے تب تک کے لئے اجازت دیجیے گا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہ یہ نور جہاں سدا آباد رہو گے تمہیں طارق تثلیث مکمل بتائیں آیا ہے کہ یہیں نور خدا پاؤ بعد آؤں گے تمہیں تار تسلی کمنٹ بتائیں آئی ہے تمہیں نام اور تخلص لیب کا بتایا ہے ہم تم نے

 79 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: