Rah-e-Huda – Muhammad pbuh Par Aiterazat K Jawab




Rah-e-Huda 19 December 2020

تیرے مسلمانوں کا بھی دل سے ہے خدائی میں ختم کر لیں شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ناظرین کرام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج 19 دسمبر دوہزار بیس ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے ہیں اور ناظرین یہ وقت ہے پروگرام رہے خدا کا قادیانیوں سے پروگرام خدا کی اس کے ساتھ اس کی خدمت میں حاضر ہے ہے جس میں ہم ساتھ ساتھ ہیں جو شاید ہمارے اس پروگرام کو دیکھ رہے ہیں ان کے سوالات بھی سنتے ہیں اور اس پروگرام کے ذریعے ان کے سوالات کے جوابات بھی ہم ان کے سامنے پیش کرتے ہیں تو ایک ایک موضوع پر ہم بات کریں گے اور ہمارے میڈیا کی گفتگو کے ساتھ ساتھ ہمارے مشاہدے کو بھی اپنے ساتھ اس پروگرام میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے اگر ہمارے مسائل بھی ہمارے ساتھ اس پروگرام میں جاننا چاہتے ہیں تو ٹیکسٹ میسج کا انتظام ہے فیصلہ جس کا انتظام ہے اس کے علاوہ ٹیلیفون لائن کے ذریعے آپ براہ راست سٹوڈیو میں کرکٹ ہو سکتے ہیں اور اپنے سوالات ہمارے علماء کرام کے بارے میں پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کر سکتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم اس پر مشتمل ہے اس میں ہم کوشش کریں گے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مختلف اعتراضات اور مستشرقین کی طرف سے اور معاندین اسلام کی طرف سے کئے جاتے ہیں ان حضرات کا ان کے جوابات ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں تاکہ جو سادہ لوح انسان ہوتے ہیں وہ بھی مختلف فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں تو ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ہم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو آپ کے سامنے بیان کرنے کے حوالے سے ہماری سیریز کے ذریعے کوشش کریں گے آج ہم بات کریں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مختلف ایجنگ اللہ تعالیٰ کے اذن سے لڑی ہیں ان جنگوں کی کیا حکمت ہے اور اس کا کیا ہے دیگی اور جھینگوں کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ہوا تھا آپ نے ہمیشہ صلح کو مقدم رکھا ہے ان تمام امور کے حوالے سے ہم آپ کی خدمت میں آج کے پیش کرنے کی کوشش کریں گے گے جو علمائے کرام ہمارے ساتھ شامل ہوں گے جو اس وقت ہمارے ساتھیوں سمیت شفقت ہیں ان کا تعارف کروا دیتا ہوں مکرم و محترم مولانا محمد کاشف صاحب ہیں اور ان کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں وہ محترم مولانا عطاالمومن صاحب 2017 کی قادیان سیریز کھیلے ہیں میں آپ کا پروگرام میں فون کرتا ہوں ناظرین ہم دیکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سیرت پر وقتن فوقتن مستشرقین کی طرف سے بھی اور جو معنی دین اسلام ہی ان کی طرف سے اعتراضات ہوتے رہتے ہیں جیسا کہ پیدا ہوا تھا اور چند ماہ قبل فرانس میں بھی اس حوالے سے بعض جو امن کو معاشرے کے امن کو تحریر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے حوالے سے بعض دنیا کی گئی جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں بھی پوری دنیا میں ہی فتنہ و فساد کا علم برپا ہوگیا تھا اور ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی طرف سے بھی احتجاج ہوا اور مختلف قومی نقصان ہوا لوگوں کی املاک کا نقصان ہوا جانی نقصان بھی ہوئے لیکن جماعت احمدیہ کا ایسے موقع پر کیا رد عمل ہونا چاہیے اس بارے میں جماعت احمدیہ کے روحانی خلیفہ ہمارے پیارے آقا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہآپ آئے تو اللہ تعالی بینظیز نے فرمایا کہ جب بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے توہین آمیز باتیں سننے کو ملتی ہیں تو سب سے بڑا ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اس نمبر پر درود و سلام بھیجیں کی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ طور پر اپنی حرکتوں کے ذریعہ سے اعمال کے ذریعہ سے اپنے دوسروں کے ساتھ جو معاملات ہیں اس کے ذریعہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو حسین نمونہ ہے اس کو دنیا کے سامنے پیش کریں پھر آپ یہ تو اللہ تعالی پیر نصیر الدین ہمیں یہ بھی نصیب فرمائی ہے کہ حضور صل وسلم کی سیرت کو بیان کیا کریں خاص طور پر جو لوگ حضور صل وسلم کی سیرت سے واقف نہیں ہیں اور اس سے متعلق نہیں ہیں ان کو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے تعلق سے بتائیں ان کی پاک سیرت کے حوالے سے بتائیں اور ان کے ذہنوں میں جو مختلف غلط فہمیاں مستشرقین کی طرف سے پیدا کی جاتی ہیں ان غلط فہمی نیو کو دور کرنے کے حوالے سے کوشش کریں تو جماعت احمدیہ کا ردعمل ہوتا ہے اور حضور صل وسلم کی سیرت کو ہم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اپنے اقوال کے ذریعہ سے بھی اور اپنے اعمال کے ذریعہ سے بھی ہم کوشش کرتے ہیں کہ حضور کی سیرت کو دنیا کے سامنے پیش کی جائے تو گمراہ دعا کی یہ صفت بھی مقصد دراصل یہی ہے کہ سیرت کو ہم دنیا کے سامنے پیش کریں اور جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مختلف ہم یا اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور جو بے بنیاد الزامات اور اعتراضات ماہرین کی طرف سے عالم اسلام پر لگائے جاتے ہیں اس کو حقیقت مانتا ہے اس سے ناواقف ہیں ان کے لئے ہم یہ سوال پیش کر رہے ہیں جس میں ہم کوشش کریں گے کہ عام طور پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں اور غلط فہمیاں لوگوں کے دلوں میں پائی جاتی ہیں اس کو دور کرنے کے حوالے سے اہم تاریخی حقائق بھی آپ کے سامنے پیش کریں  اور جو مختلف رہتے ہیں اور جو باتیں ہوئی ہیں جن کو عام طور پر جو انسان کے سامنے پیش نہیں کی جاتی ہیں ان کے حوالے سے ہم تفسیر پیش کرتے ہوئے ہیں جو خوبصورت ہے اور آپ کا ہے اس پروگرام کی موجودہ سیاست سے پہلے میں آپ کو یاد دلانا چاہوں گا یہی کیا حکمت ہے اس کا کیا پسند ہے اور ان جنگوں کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا اس حوالے سے آج میں آپ کے ذہن میں سوالات ہیں تو ہمارے الف عین صاحب کے لیے ایکٹیویٹ رہی ہیں جس سے تمہید کے بعد پروگرام کا آغاز میں مولانا محمد میاں صاحب سے کرنا چاہوں گا کہ عام طور پر جب اندر وسلم کے تعلق سے کوئی اعتراض کیا ہے آتا ہے تو بنیادی طور پر نعوذ باللہ آپ ایک جو انسان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن جب ہم آپ صلی وسلم کی سیرت کا جائزہ لیتے ہیں تو جب آپ دعوی نبوت فرماتے ہیں تو اس کے بعد 13 سال زندگی آپ نے مکہ میں گزاری ہے جس میں مختلف اذیتوں کو برداشت کرنی پڑی اور انتہائی صبرو تحمل دکھاتے ہوئے آپ نے وہاں پر زندگی گزاری ہے تو یہ اس کا پس منظر ہمارے ناظرین کو بتائیں تاکہ صورتحال واضح ہو سکے کے قرآن مجید میں ایک بنیادی بات بتائی ہے مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ کیا ہے یہ کہ وہ اللہ تعالی کی عبادت کرے کرے چوبیس ہزار انبیاء کے ذریعے تاریخ بتائیں گی کہ جب بھی اللہ تعالی کی طرف سے کوئی مسلم امور نبی آیا اور اس نے کہا کہ اے لوگو ایک اللہ کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت کے لیے تمہاری تخلیق ہوئی ہے تمہاری پیدائش اسی کے لئے ہوئی ہے ہے تو بہت کم لوگ تھے ابتدا میں جو اس کے اوپر ایمان لائے اکثر نے اس کی مخالفت کی ان انبیاء میں سے سب سے بڑھ کر جو مخالفت ہوئی وہ ہمارے سید و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اب ہم آپ دیکھتے ہیں کہ آپ پر 20 اگست سے سو دس ایک اندازے کے مطابق جو وحی کا آغاز ہے وہ چوبیس لاکھ تک یعنی رمضان کا مہینہ تھا اور وحی کا نزول شروع ہوا 610اب یہ تیرا سالہ وحشت دا ہے جس کے اندر اسلام مکہ میں شروع ہوا پہنچا اور لوگوں کے سامنے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر والوں سے کیا کہا یا لوگوں کو عام خاطر پوری دنیا تھی آپ کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور رسول بھی کہ ساواں ارسلناکا الا رحمت اللعالمین کے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ پر رحمت بنا کر بھیجا ہے کل عالم کے لئے کل عالمین کے لئے ہم نے آپ کو رحمت بنا کر بھیجا ہے اور آنکھوں نے اعلان کیا کہ وہ یہ کہ کل ہو اللہ ہو احد کے اللہ ایک ہے تم اس کی عبادت کرو کرو یہی وہ اعلان تھا جس نے مکہ والوں کو ایک چند ابتدائی لوگ تھے جو مکہ والے حضرت رسول اکرم صلی وسلم پر ایمان لائے اکثریت نے اس انکار کیا اب بڑے تعجب کی بات ہے کہ اس تاریخ سے پہلے اس نزول وحی سے پہلے جو کہ میں نے ابھی آپ سے پہلے سارے مکہ والے بھائی کچھ زبان کہتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہیں نیک ہیں یہ ہمارے لیے نمونہ ہے ہمارے لئے فخر ہے لیکن وحی آنے کے بعد اور اس اعلان کے بعد کے اللہ ایک ہے کل ھو اللہ احد اس کے بعد کیا انقلاب آیا کہ ایک دم سے یہ لوگ مخالف ہوگئے 90 فیصد تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ الف ہوگئے اور آپ کی مخالفت کرنے لگ پڑے لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بالمقابل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا نام تھا تھے آپ نے اپنی تبلیغ کا سلسلہ رحمت کے بارے میں شروع کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے آپ کی ایک اور صفاتی نام قرآن مجید میں بیان پی کہ ہم نے زمین اور پہاڑوں کے سامنے ہم نے یہ امانت پیش کی سب نے اس کو اٹھانے سے انکار کر دیا جس نے اٹھایا حمل انسانوں ایک انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھایا اور ان کی جو صفات بیان کی گئی انہوں کہا نہ سنو منجولا کہ وہ اپنے نفس پر بہت زیادہ ظلم کرنے والا برداشت کرنے والا اور چاول اور ظلم کو وہ بھول جانے والا فراموش کرنے والا ہے کہ اس روایت کی ہیں لیکن مختصر یہ کہ رسول کے انسان نے مکہ میں تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا وہ رحمت کے بارے میں وہ اپنے نفس کے اوپر ظلم کرتے ہوئے اور پھر ان کو بھول جانا یہ حضور کا سایہ تھا جو ہمارے آج کل کے اعتراضات کرنے والے ہیں ان کو خاص طور پر مت کی دعوت پر غور کرنا چاہیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی مصیبت نہیں اٹھایا ہوا ہے لیکن آپ نے اس سوال کا مقابلہ کوئی ایک ایسا قدم نہیں اٹھایا کہ جو ان لوگوں کی مثال میں پیش کرتا ہوں ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں پیدا تبلیغ کرتے رہے پھر تشریف لے گئے وہاں تبلیغ کرنے کے لیے وہاں پر عابد یاد کر رہا تھا اس لیے آواز لگانے کے بعد انہوں نے اتنا برا ہوں کیا آپ کا سارا جسم لہولہان ہو گیا اور لوہان ہوتے ہوتے روایات میں آتا ہے کہ اتنا خون بہا کے نیچے پاؤں تک وہ فون آگیا اور اس کے بعد آپ تھک ٹوٹکے آکے ایک جگہ پر آرام کرنے کے لئے بیٹھ گئےلفظ سنیں آپ نے فرمایا لا لا ایسا کبھی نہیں کرنا مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالی ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا کرے گا جو کہ اللہ تعالیٰ نام لینے والے ہوں گے یہ خدا کی عبادت کرنے والے ہوں گے ایک اللہ کی عبادت کرنے والے ہوں گے اللہ کے مقرب بندے گے وہاں رہتا تھا بعد میں یہ لوگ بہت سے ان میں سے مسلمان ہوئے لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر اعتراض کرتے ہیں ان کو یہ دیکھنا چاہیے اگر آپ ظالم ہوتے اگر آپ پر ہوتے اگر آپ انتقام کے جذبے کے ساتھ ہوتے تو آپ کبھی اس وقت یہ نہ کہتے کہ نہیں ان کو پیسوں نہیں بلکہ آپ نے ہمیشہ رحم کی دعا کی ابو طالب کے ساتھ مختلف باتیں ہوتی ہیں ہوتی رہی نہیں ایک بات اگر انہوں نے کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کے سامنے کچھ پیش رکھتے ہیں ہیں ایک تو یہ کہ اگر آپ کو مال چاہیے ہم اتنا مال آپ کو جمع کر دیتے ہیں کہ آپ دنیا میں سب سے زیادہ اگر آپ کو شادی کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ہم کروا دیتے ہیں ہم آپ کو حکومت نے حکومت کر کے سگنل نہیں کرنا چاہتے اور جبر و استبداد ہی ہوتا ہے بڑی خوشی سے غفلت پہ وجہ بن سکتے تھے تھے مگر نہیں آپ ایک مقصد کے لیے آئے تھے اور وہ یہ کہ دنیا کو اللہ تعالی کی عبادت کی طرف بلانا سچے ایک خدا پر ایمان لانے کی طرف بلانا کی پوجا چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کریں ایک اللہ کی طرف آئیں گے اور اور گناہ میں پائے جاتے ہیں اس پے آپ کی یہ ساری تبلیغ آپ کی تفسیر یہ رحمت کے دائرے میں تھی یہ ظلوما جہولا کے دائرے میں تھی یہ آپ کے کرم اور شفقت کے بارے میں تھی اس سے آپ کبھی باہر نہیں نکلے آپ نے خود پرس ہاں آپ نے برداشت کیا لیکن اس کے بالمقابل کسی کے اوپر حملہ نہیں کیا اس کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑی بات ہے میں وہ یہ کہ رسول اللہ نے جو وہاں پر 13 سال مکہ میں رہے تھے تو آپ نے برداشت کیا ہیں کیا لیکن جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے بھی اتنا ظلم برداشت کیا برداشت کرتے کرتے سامنے نہیں کیا مثال کے طور پر حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالی علی حضرت حضرت بلال ہی خواب ہیں ہیں اور نہ ہی یہ وہ لوگ تھے جو غلام تھے یہ پسماندہ طبقہ مارا جاتا تھا ان لوگوں کے اوپر کونسی تلوار اور پاؤں سے طاقت حاصل کیا ان کے جو مالک تھے ان پر ظلم کرتے تھے ان کو گھسیٹتے تھے جو ظلم کی اس وقت آخری حدود ہو سکتی تھی جو طریقہ اور وسائل سے وہ سب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اللہ سے کھا لیا وہ عہد عہد اور اللہ سے نکلتا اور یہی وہ پیغام تھا جو اس وقت والوں کو دے رہے تھے تو خلاصہ کلام یہ کہ پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جو تبلیغ کا تفسیر کا پیغام پہنچانے کا جو طریقہ تھا اور جو مقصد حیات انسان کا ہےکھایا اور کبھی کے بعد ظلم سے طاقت سے ہو نہیں سکتی یہ پیار اور محبت اور رحمت کے دائرے سے ہو سکتی ہے اس کے بالمقابل رسول اکرم صلی وسلم اور آپ کے صحابہ پر جتنے بھی ظلم ہوئے جتنے بھی سختی ہوئی کیا ہوا ابی طالب میں آپ کو تین سال تک محصور کر دیا گیا مگر آپ نے اہل نہیں تھی آپ نے ظلم سہے جو آپ کے ساتھی تھے انہوں نے کسی کو کبھی پتھر بھی نہیں مارا اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ ایک دفعہ پھر سے گزرا کرتے تھے مجھے ایک تھی وہ خاک وغیرہ ڈالتی تھی جو بھی کرتی تھی تھی اس کو دیکھ رہی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضور کے گھر گئے اور ان سے میں نے آپ کو دیکھا نہیں آپ کہاں ہیں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے اب آپ یہ دیکھیں کہ جو آدمی آپ کے اوپر خاک ڈالنے والے آپ کا برا چاہنے والے ہیں آپ ان کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں ہیں اس سے انتقام کا محمد صل وسلم کا نمونہ یہاں سوا ہاں ایسے ہی جس کو ہمارے اردو کی زبان میں کہتے ہیں کہ وہ سورج پر تھوپتے ہیں چار پھرتے ہیں اور تو واپس آکر خود ان پر پڑتا ہے یہ جو ہم پروگرام پیش کرتے ہیں خاص طور پر ہمارے علاقے میں بھی جب اسلام کی باتیں کی جاتی ہیں درست ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی اکثریت وہ نمونہ نہیں پیش کر رہی ہیں جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا تھا اور یہ اسلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوبدنام کرنے کے لئے ان کے ساتھ ہیں کہ وہ رسول حکیم صاحب کے اس دعویٰ کا مطالعہ کریں جو کہ آپ مکی دور تھا ظلم سہہ کر بھی آپ سب کو محبت کا پیغام دیا ہمدردی کا پیغام دیا اور دنیا کو اپنے مقصد کی طرف بلایا میں اپنے مقصد حیات کو واپس آؤ گناہوں کو چھوڑو بندیوں کو چھوڑو اب دونوں اسی میں تمہاری خیر ہے یہ تھا رسول کا پیغام جو آپ نے ابتدائی 13 سال میں مکہ میں مکہ والوں کو دیا باہر تو وہ والوں کے لیے تھا لیکن وہ کل عالم کے لئے پیغام تھا جو آج تک پہنچایا جاتا ہے  ہے یہ تھا اختصار کے ساتھ اس کے بعد ازاں اب ہم اپنے مشاہدے کی طرف بھی جاتے ہیں اور ٹیلی فون کالز کو بھی موقع دیتے ہیں ان کو بھی اپنے ساتھ اس پروگرام میں شامل کرتے ہیں سب سے پہلے ہم بات کریں گے یوکے سے عبدالرشید صاحب اس وقت ہمارے ساتھی فون لائن پر موجود ہیں ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ صاحب شکریہ محترم جیسا آپ لوگوں سے درخواست ہے جو آپ کے تعلق کے تعلق سے سوال پوچھا ہے ہے تو سورۃ کوثر کی ہے اس میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے اس میں الرحیمان الکوثر مسلم اس سورہ کوثر کا پس منظر جو ہے شان نزول جو ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نرینہ اولاد کے باپ نہیں تھے کفار مکہ تھے جو مخالفین تھے وہ آپ پر نعوذ باللہ من کرتے تھے تھا جس کا نہ ہو کوئی نہ اولاد نہ ہو تو اس صورت میں اللہ تعالی نے کرتے ہوئے فرمایاشازیہ ہیں اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے سورہ حجرات کی آیت ہے ہے کہ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین اس آیت میں اللہ تعالی نے اس بات کا ذکر فرمایا بات کا اعتراف فرمایا کہ ما کانا محمد ابا احد من رجالکم کے نہیں ہیں محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ اللہ کے رسول ہیں تو ایک طرف اللہ تعالی نے اس بات کا ذکر کیا اس آیت کریمہ میں یہ بات درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہے لیکن اس کی وجہ سے نعوذ باللہ اب تک نہیں ہے کیونکہ آپ کو اللہ تعالی نے کوثر یعنی خیر کثیر عطا کیا اور وہ خیر کیا ہے وہ سیرت قرآن مجید کی جو اس آیت خاتم النبیین ہے اس میں اللہ تعالی نے اس کا مختصر ذکر فرمایا کہ اللہ تعالی نے وہ اس طرح آپ ابھی سے پہلے نبی مبعوث ہوئے دنیا نیوز کی اللہ تعالی نے ان تمام نبیوں کا آپ کو ان سب سے اولیٰ و افضل قرار دیا گویا کہ تمام خیر جو انبیاء کے ذریعے دنیا کو ملتا رہا وہ تمام خیریت جائز صورت میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دنیا کو عطا کیا گیا اور یہ وہ خیر کثیر ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے سورہ کوثر میں بیان کیا تھا گویا جو دوسروں کا یہ اعتراض دشمنوں کا الزام ہے اس کا جواب اس آیت کا خاتم النبیین میں اللہ تعالی نے بیان فرمایا کہ بے شک آپ نبیوں کے کسی مرد کے باپ نہیں ہے نہ کر روحانی طور پر اللہ تعالی نے آپ کو تمام نبیوں کا باپ بنا دیا جتنے بھی نبی ہیں وہ سب آپ کے بیٹوں کی حیثیت رکھتے ہیں روحانی لحاظ سے ان کے آپ کا کام سب سے اعلی سب سے افضل اور سب سے اوپر ہے اس لحاظ سے کہ آپ کو اللہ تعالی نے خیرت ہے پروگرام میں شامل کرتے ہوئے ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ میں گرمی سے اتحاد کر لیا کلیم حملہ تھا شکریہ بات بنتی ہے مگر اس سے پہلے یہ لوگ بیان کرتے ہیں یا ان کو ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے ہجرت کرکے مدینہ پہنچ گئے ان کو اس کے پر بہت غصہ آیا یا جو کفار قریش تھے ان کو بہت غصہ آیا انہوں نے اس کے لئے ایک منصوبہ بندی کی پھیلانے کی کہ ہم ایک خطرناک جنگ کریں گے اور مدینہ کے اوپر جا کے حملہ کریں گے اور مسلمانوں کو تباہ و برباد کرے اور اس کے لیے انہوں نے ایک تجارتی قافلہ تیار کیا ابو سفیان کی سرکردگی میں کہ یہ شام کی طرف جائے گا مکہ سے مال لے کے اور وہاں سے تجارت کر کے آئے گا اور جتنا بھی تجارت کا منافع ہوگا اور جو بھی تجارت میں سے حاصل ہوگا وہ سارے کا سارا جن کے اوپر خرچ ہوگا وہاں سے مکہ سے چل کے ہاں اس بیچ میں ابو سفیان نے یہ لعنت بھیجی ہے ہیں کہ ہمارے قافلے کو روک کے ہم پر حملہ کرے کرے لیکن جب ان کو اطلاع ملی تو وہ اسے وہ ابو جہل ایک بہت بڑا لشکر لے کر 1000 وہ یہاں تک پہنچا خیریت مقدس روانہ ہو گیا اب وہ خطرے سے باہر ہے چاہیے تاکہ واپس چلے جاتے مگر انہوں نے کیا کیا اور وہاں مسلمانوں کا مقابلہ کریں گے اب دیکھنے والی بات ہے انصاف بھی دنیا میں کوئی چیز ہوتی ہے کہ رسول کریم صلی وسلم نے مکہ کو خیرباد کہا ان کی مخالفت کی وجہ سے کہ جاؤ تمہیں خوش رہو میں چھوڑ کے جا رہا ہوں اور بڑی درد بھری نگاہوں سے مکہ کی طرف دیکھا جب مکہ سے آپ مدینہ آ گئے وہاں آپ نے رہائش اختیار کر لی جائے تو کیا صورت بھی مسلمانوں پے حملہ کر دیں یاری کر رہے تھے اس وقت اللہ تعالی نے وہ سورہ حج میں اجازت دیں تو نہیں کہ ہم اجازت دیتے ہیں ان لوگوں کو جو اپنے گھروں سے ناحق اور پر نکالے گئے اب ہم ان کو قتال کی اجازت دیتے ہیں اس عورت کی اجازت نہیں تھی تو اس وقت خلق الانسان فی بدر کے میدان میں ان کا مقابلہ ہوا اس کی تفصیل میں نہ جاتے ہوئے لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ 313 ہے اور ایک ہزار کا بھی مقابلہ ہوا ہے جن کے پاس ڈنڈے بھی پورے نہیں تلواریں تو ہر ایک کے پاس تھی سواری بھی پوری نہیں تھی لیکن اللہ تعالی کی طرف سے ایک مدت ہوئی تھی اللہ تعالی نے کہا کہ محمد کروں گا جس کی طرف سے مدد مرغیوں اس کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تو خلاصہ کلام یہ کہ یہ ایک دھوکہ ہے جو یہ کہا جاتا ہے کہ تجارتی قافلوں کو روکنا یہ حملہ تھا یہ نہیں تھا بلکہ مقصد اس کا مدینہ میں اپنا کام کرنے کے لیے حضور سب اس مقابلے کو روکنا چاہتے تھے لیکن وہ نکل گیا اللہ کی تقدیر نے براہ راست ان کا مقابلہ کرواتے حق کو دنیا کے اوپر صاحب کرتے ہیں لہٰذا اسی بات کو پھر آگے بڑھاتے ہوئے محترم طالب سب لوگوں سے میرا یہ سوال ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو دفاعی جنگ کرنے کی اجازت دی گئی خاص طور پر جب کفار مکہ نے دیکھا کہ ایک دوسرے مسلم جن کو قتل کرنے کا منصوبہ کیا جا رہا تھا وہ اللہ تعالی کی مشیت کے تحت مکہ سے بچ کر مدینہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو مدینہ میں بھی مسلمانوں کو تعاقب کرتے ہوئے اس کے ساتھ پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اس لئے میں آپ سے مزید تفصیل جاننا چاہوں گا جیسا کہ ابھی محترم مولانا محمد کاشف صاحب نے شروع کے 13 سال کا مختصر خاکہ نظریے کے سامنے کیے جا سکتے ہیں کہ منصوبے بنائے گئے جس کی وجہ سے ناکامی ہوئی اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور مدینہ پہنچے تو اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مکہ میں کفار کے سامنے آیا تھا جب مرتد ہوگئے تھے تو اب ہوناٹیچنگ واقعات میں ذکر کرنا سوال کی مناسبت سے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے مدینہ ہجرت کی تو تب ہی اس پر کچھ عرصہ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ مشرکین مکہ نے ایک خط بھیجا جس میں لکھا ہوا تھا لیکن منافقین کا سردار تھا لیکن ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا ابھی مشرکین نہیں تھا اس کو مخاطب کرتے ہوئے خط لکھا اس کے الفاظ میں پیش کرتا ہوں ناظرین کی خدمت میں کفار مکہ نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ انا کماویں تم صاحب نا ہو اور میرا علی خطرناک قسم کی دھمکی دی مشرکین مکہ کو انہوں نے اس خط میں کہ تم نے ہمارے آدمی کو پناہ دے رکھی ہوئی ہے اور ہم اللہ کی قسم کھا کے کہتے ہیں کہ تم یا تو اس کا اس کے ساتھ جنگ کرو اور اس کو قتل کرو یا پھر اس کو مدینہ سے نکال دو پر اگر تو ایسا نہیں کرو گے تو نصیر نہ علیکم ہیں نہ ہم اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ تو ہے پر حملہ کریں گے اور تمہیں قتل کر دیں گے تمہارے مردوں کو اور تمہاری بیویوں کو اپنے لیے جائے تو یہ وہ اس خط میں ہمیں پتہ لگتا ہے کہ کس قسم کے ارادے اور کس قسم کے عزائم ابھی بھی تھے  تاریخ میں آتا ہے یہ مشرکین عرب مدینہ کوئی خط ملا تو بہانوں سے جنگ کرنے کے لئے لیکن ان کو سمجھایا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کے باپ بیٹوں کو قتل کرو گے اور اس سے غریب ہیں جن کے باعث بھی ان کے بارے میں ہوئی تھی اور مجھے بہت دکھ ہوا تھا ہوئی تھی ان کو ان کے پاس نہیں پھر اسی دوران ایک اور واقعہ یوں ہوا کہ سعد بن معاذ جو مدینہ کے دو قبائل اوس اور خزرج میں سے تھے تم کہاں چلے گئے اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ مکہ جا کے کھانے کعبہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے واپس آئے ان کے ساتھ تھی امیہ بن خلف سے پوچھا یہ کون ہے انہوں نے تعارف کرایا تو سعد بن معاذ کو مخاطب کرتے ہوئے ابو جہل نے دھمکی دی تو کیا تم لوگ خیال کرتے ہو کہ تم اس صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو بھلا دو گے اور محفوظ رہو گے اور بڑی حفاظت سے خانہ کعبہ کا طواف کر اس کی حفاظت کا حق رکھتے ہو تو اس طرح اور یہ بھی کہا جاتا ہے وہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے ابھی بھی ان کے دلوں میں تھا ایک واقعہ ہوا ولید بن مغیرہ جو ایک شہر تھا قریش کا اس کے موت کا وقت قریب آیا تو وہ نہیں لگا اسے جب پوچھا گیا کہ کیا تم موت سے ڈرتے ہو تو اس نے کہا نہیں میں موت سے نہیں ڈرتا بلکہ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین کہیں مکہ میں بھی نہ تھی اس کے بعد پھر اس نے ابو سفیان بھی تھے تو ابوسفیان نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا ہم اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ ہم ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو کبھی بھی پنپنے نہیں دیں گے اور کبھی بھی اس کی نشوونما ہونے نہیں دیں گے اور اس کو مٹا کے رکھیں پھر انہوں نے اس کے لیےقبائل تھے ان سب قبائل کو قریش مکہ نے کو ہمارے مکہ نے ایکٹ کردیا مسلمانوں کے خلاف اور وہ سارے کے سارے یک جان ہوکر مسلمانوں کے خلاف کھڑے ہوئے اور ایسے حالات تھے ان دنوں میں مدینہ کے جیسا کہ اس روایت میں آتا ہے کہ ایک بھی تو اللہ کی وہ رات بھی گزار تھے تو ہتھیار اپنے ساتھ رکھتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے مدینہ کے ابتدائی دنوں کے تعلق سے آتا ہے کہ وہ ابتدا میں جب وہاں گئے تھے کہ رات کو بیداری میں گزارا کرتے تھے اور خوف طاری رہتا تھا کہ کہیں مکہ کے لوگ حملہ کرکے نہ آئے اور اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو مسلمانوں کو بھی ہوشیار اور چوکنا رہنے کے لیے کہا کرتے تھے ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر رات تک بیدار ہے تو پھر آواز دی کہ کوئی پہرا دینے والا کوئی ہے یہاں اس وقت پہلے اور میں تھوڑا آرام کر لو رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ہتھیار لے کر آئے انہوں نے آواز بھی میں حاضر ہو گیا ہو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد آرام آرام فرمانے لگے تو یہ حالات جو تھے اس وقت مدینہ کے اس کے تعلق سے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بھی ذکر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور وہاں عقلی لونہ تھوڑے تھے اور کمزور تھے اور اس بات سے ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک نے لے جانیاں کار تمہارے اوپر حملہ نہ کر دے ذکر کیا ہے یہ وہ شخص ہے جس نے مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی ہے جسے اللہ تعالی نے اس کی اجازت تلوار سے جنگ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مسلمانوں کے لیے یہ آیت نازل فرمائی کہ زین للذین یقاتلون ان الذین اخرجوا من دیارہم بغیر حق لا الہ الا اللہ ولا مساجد جزاک اللہ خیر اللہ اللہ ہے لگنے کی مسلمانوں کو جن کے خلاف کفار نے تلوار اٹھائی ہے کیونکہ وہ یعنی مسلمان مظلوم ہے اور ضرور اللہ تعالی انکی ہے وہ ظلم کے ساتھ اپنے گھروں سے نکالے گئے صرف اس بنا پر انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ نہ روکے جانے کی اجازت دے کر نہ لوں کے ایک قوم کو دوسری قوم کے خلاف تو یقین راہنماؤں کے سو میں اور عیسائیوں کے گرجے اور یہود کے مطابق اور مسلمانوں کی مسجد میں کثرت کے ساتھ خدا کا نام لیا جاتا ہے ایک دوسرے کے ہاتھوں تباہ و برباد کر دے اور اللہ تعالی ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے اور بے شک اللہ تعالی کوئی اور غالب خدا ہے یہ آیت ہے جو ابتدائی طور پر جنگوں کی اجازت کے لیے اس پس منظر میں جو میں نے خلاصتان بھی ذکر کیا نازل ہوئی اور مسلمانوں کو اس کی اجازت دی گئی اس وجہ سے ان پر ظلم کیا جا رہا تھا کہ میں بھی ظلم کیا گیا اور مدینہ میں بھی انھوں نے کوشش کی تو اس کو جنگ کرنے کی اجازت دی تلوار سے جنگ کرنے کی اجازت دی اور اس اجازت کے بعد پھر وہ جنگ رونما ہوئی جو تاریخ ہے جزاک اللہ تعالیٰ کی طرف جاتے ہیں ان کو بھی موقع دیتے ہوئے ان کا سوال سنتے ہیں پاکستان سے اٹلی نکال رہی خادم احمد سعید صاحب ان کا سوال سنتے ہیں ان سے بات کرتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ محمد سعید صاحب احبابٹھیک ٹھاک اللہ آپ کا سوال ہمیں مل گیا ہے محترم مولانا محمد امیر کو سب سے درخواست ہے کہ اس سوال کا جواب ہم پچھلی دفعہ بھی دیکھ چکے تھے لیکن پھر میں بات کرتا ہوں رسول حکیم صاحب کی وفات کے تعلق سے مختلف روایات تھے حالات کے تعلق سے بھی مختلف قسم کی روایات ہے یہ جو سوال کر رہے ہیں کہ جن صاحب نے ایسا لکھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیغام ہے لیکن یہ روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ کی وفات ہوئی تھی بہرحال یہ روایات مختلف قسم کی آتی ہیں اور حضرت انسان نے اس حوالے سے بات کی ہے وہ بالکل اپنی جگہ پر درست ہے  یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ واقعہ درست نہیں ہے وہ کیسے صحابہ کی توہین کرنے تھے تو یہ میں نے پوچھا کہ کیا یہ واقعی ممکن ہے اور کہاں سے مل سکتا ہے ایسی حدیث ہے بڑی مہربانی شکریہ ہوا تو میں نے ایک بیان کیا حوالہ اگلے کسی پروگرام میں یہ نمائندے دیا جائے گا جو آپ بات کہہ رہے ہیں میں خاص طور پر اس کو اسی نہیں بیان کیا تھا اب میں تھوڑا سا تفصیل بتاتا ہوں بخاری میں ایک روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی وسلم مکہ میں نماز پڑھتے تھے خانہ کعبہ کے پاس اور آپ سجدے کی حالت میں تھے اور آپ پر بعض کہتے ہو جائیں بعض کہتے ہیں بچہ دانی اونٹ کی وہ کسی نے لا کر رکھ دی تھیں آپ سجدے سے سر نہیں اٹھا سکتے تھے کسی نے جا کے حضرت فاطمہ کو خبر دی اور وہ تشریف لائیں اور وہ ہٹایا اور اس طرح سے وہاں پہ سجدے سے اٹھے اور یہ سارا واقعہ بخاری میں موجود ہوئے کس قسم کے مولانا کی بات کر رہے ہیں 13 سال میں رسول اکرم صلی وسلم کے نہ آپ نے نہ آپ کے کسی صحابہ نے ایک پتھر بھی کسی دوسرے کو نہیں مارا ہاں ایک پتھر بھی نہیں ہے تو آپ یہ جو آج کل کے مولانا سوائے قتل کے اور کوئی جانتا ہی نہیں میں نے ابھی آپ کو بتایا جائے گا ہوگئے کہا صحابہ گئے وہاں قتل کرنے کے لئے آپ کے پاس دو فرشتے آئے ہوئے تھے ان کو تباہ و برباد کر دو مگر رسول اللہ نے فرمایا نہیں کرنا ایسا نہیں کرنا کو اللہ تعالی سے زیادہ غیرت ہے تو وہ ساری میں موجود ہے کیا صحابہ کو قتل نہیں کر سکتے تھے بدل کیا انہوں نے کبھی نہیں کیا یہ غلط باتیں ہیں یہ باتیں اسلام کوبدنام کرنے والی ہیں یہ جتنے علماء ہے یاد رکھیںجب تم کہاں ہوئی ہے یہ سارے کے سارے کھڑے ہوئے تو اور یہ انتظار کر رہے تھے کبھی حضور ہم کو ختم کروائیں گے کیوں نہیں کل کروایا اور حضور نے فرمایا کیا ان سے کہو مجھ سے کیا توقع رکھتے ہو مکہ والے تیرہ سال مجھے اور میرے ساتھیوں پر تم لوگوں نے ظلم کئے اب کیا توقع رکھتے ہو ہو اور آپ نے کیا کہا تھا ان تقریبا تیرے کرم کا واسطہ ہے تیری کرم پر ہمیں توقع ہے تو ہمیں کچھ نہیں کہے گا حضور کا جواب دیا تھا اصحاب و انتم تعلقات جاؤ میں تم کو آزاد کرتا ہوں یہ تھا میرا اتا رحمت کی گردنیں اتار دی تھی میرے آقا کی خدمت کو دنیا کے سامنے پیش کرے رسول کے مقاصد باغ بیچتے ہیں جو ساری دنیا اپنا کردار ادا کریں اور یہی آج مسلمانوں کی تباہی کر دی جائے یہ پروگرام جو آج پیش کیا جاتا ہے یہ وہ اکثر پروگرام ہے جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود علیہ السلام نے آکے ہم کے رسول کے ساتھ کام سے کہا ہے کہ صحیح مقام کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک بات اور میں اضافہ کردوں آج رات کہہ دیا دنیا کے بہت سے ممالک میں جا سکے میرے آقا کا ذکر کیا تھا کہ ظلم کیا جا رہا ہے ہم تو وہ لوگ ہیں جو کہ کرنے والے نہیں ہم وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ نے انسان کی حرمت کو دنیا میں ظاہر کر رہی ہے میرے مخاطب ہیں کہ جو مخالفین نہیں کیا انہوں نے مخالفین مکہ جیسے بننا ہے یا ان کے ہاتھ میں ہے یہ فیصلے سب اللہ تعالی کے حضور ہوں گے آج تو دنیا کا تماشا دیکھ رہی ہے میرے بھائی جس نے بھی یہ سوال کیا ہے اور جو میری بات سن رہے ہیں میرے آقا محمد صلی علیہ الرحمۃ دے ان کو اللہ نے سارے قرآن میں بار بار کہا وما ارسلناکا الا رحمت اللعالمین آپ بتا دیں کہ قاتل کہا گیا ہوں جابر کہا گیا ہو کہ یہ نہیں کہا گیا تو وہ بات کرتے ہیں ہیں جو اللہ تعالی نے کی اور پھر آپ میں یہ مخالفین اسلام جو باتیں کرتے ہیں لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں ان کو بھی جہنم کی طرف لے کے جا رہے ہیں اللہ تعالی کو چھوڑتا نہیں ہے رسول کے رسول کی اہمیت دنیا میں اور دنیا کو بتائیں کیا آج گے ورنہ تم پانچ نہیں سکتے مولانا محمد کوثر صاحب سے یہ سوال ہے کہ عام طور پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ کے پاس تاریخ دیکھتے ہیں حضرت حمزہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے حضرت عمر داخل ہوچکے تھے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور بڑے بڑے صحابہ داخل ہوچکے اور ایک سوال پیدا ہوا تھا رسول اللہ صلی اللہ وسلم ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے یہی سوال کیا تھا ہماری تلوار میں وہی دم ہے جو اسلام قبول کرنے سے پہلے تھا تھا جس چیز نے ہم کو روکا کا وہ آپ کے حکمرانوں کا آپ ہمیں اجازت دیجئے تو مقتل میں بھی تھی اور طاقت جو یہ طاقتوں کی بات کرتے ہیں طاقتوں کے آسمان سے آتے ہیں قرآن مجید میں لکھا ہے کہ بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں بے اذن عذا اللہ کے حکم سے بڑی ہے وہ تو اللہ کا ذکر ہوتا تو وہاں ہی اللہ دے سکتا تھا مگر اللہ تعالی نے رکھا ہوا تھا پھر اتنا ہی نہیں اللہ تعالی کے غضب ابھی کچھ دن پہلے ہیں جو یہ واقعہ حضور صل وسلم کی بعثت سے پہلے اصحاب فیل کا واقعہ ہو چکا ہوتا تھا اب رہ بن الاشرف ہاشم بن خلف کو کس نے تباہ کیا کہ ایک جھنڈا یا اسے چپ کے جراثیم پی کے سارے رشتے تباہ و برباد ہو گیا وہ بھی اللہ تعالیٰ کر سکتا تھا مگر اس سے کیا ہوا ہے اللہ تعالی کی رحمت اللہ تعالی دکھانا چاہتا تھا کہ مسلمان اللہ تعالی کے فضل سے صابر ہیں اگر ہی صبر کرنے والے ہیں اس لئے حضور اجازت نہیں دی مدینہ میں آ کر لینے کی اجازت دی تھی یہ سوال ہے جس کا جواب دینے کی درخواست ہے کہ دفاعی جنگوں کے لیے بھی حضور صل وسلم نے کچھ اصول بیان فرمائے ہیں آپ نے جانا چاہوں گا صبر کرو ابھی جو میں نے اس کو آج کی آیت جس میں جنگوں کی اجازت کا ذکر ہے اسی نے دراصل اللہ تعالی نے ہر آیت کا دو جنگوں کے بیان کئے ہیں بنیادی بات اس نے اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ قاتلانہ کو جنگی جہاز بنا پر ہوتی ہے کیونکہ ان کے ساتھ لڑائی کی جاتی ہے کیا گیا اور یہاں تک آن پہنچی ظلم کی ان کو اپنے گھروں سے نکال دیا گیا اور تیسری بات اللہ تعالی نے اس کی اجازت جو ہے اس کا مقصد ہے تین چیزیں بیان فرمائی جن سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ جنگوں کے اصول اور ضوابط کیا ہیں ایک بات یہ کہ اگر لڑا جائے تمہارے ساتھ تو لڑنا ہے دوسری بات یہ کہ لڑائی کی اجازت صرف اس لئے دی جارہی ہے کیونکہ ظلم کیا گیا اور تیسری بات یہ کہ لڑائی کا مقصد یہ ہے کہ جو مذہبی آزادی جوہی چاولہ دفع اللہ الناس بعضہم ببعض کے الفاظ میں اللہ تعالی نے فرمایا مذہبی آزادی کا قیام کا مقصد ہے بنیادی تین سر اللہ تعالی نے اس نے بیان فرمایا اور دوسری بات جو بھی اپنے سماج میں بھی ہمیشہ اللہ تعالی نے فرمایا اگر وہ صلح کی طرف امن کی طرف آنا چاہتے ہیں تو بھی امن کی طرف مائل ہوں اور واقع ہے باوجود اس کے کی شرائط عائد کی گئی لیکن صلح کی طرف مائل ہوئے اور پھر اہم ہدایات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عورتوں کو نہیں تو ایسی شرائط نہیں ہے ساری چیزیں بیان کرنے کا خلاصہ یہ بیان کرتا ہوں کہ ایسی ایسی شرائط ہیں جو واضح طور پر ہرگز نہیں تھی صرف اور صرف قیام امن کے لیے پر مذہبی آزادی کے قیام کی غرض سے اسلام کی خدمت میں پیش کر کرتا ہوں فرماتے ہیں اور تکالیف صحابہ کو ایک اسلامی اٹھانی پڑی ان کی نظیر بھی کسی اور کو میں نہیں ملتی اس بہادر قوم نوح کے بتوں کو برداشت کرنا گوارا کیا لیکن اسلام کو نہیں چھوڑا اور مصیبتوں کی انتہا آخر اس پر ہوئی کہ ان کو وطن چھوڑنا پڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کرنی پڑی اور جب خدا تعالی کی نظر میں کفار کی شرارتیں حد سے تجاوز کرگئی اور وہ ٹھہر گئی تو خدا تعالیٰ نے انہیں تو خدا تعالیٰ نے انہیں صحابہ کو مامور کیا کہ اس سرکش قوم کو سزا دی چنانچہ اس قوم کو جو مسجدوں میں دن رات اپنے خدا کی عبادت کرتی تھی اور جس کی تعداد بہت ہی تھوڑی تھی جس کے پاس کوئی سامان جنگ نہ تھا مخالفوں کے حملوں کے روکنے کے واسطے میدان جنگ میں آنا پڑا اسلامی جنگیں دفاعی جنگ تھی کے حوالے سے ہم اپنی سہیلی سے آئندہ ایپیسوڈ میں بھی آپ کی خدمت میں پیش کریں گےآگے ہماری سیریز کا اگلا ایپیسوڈ مورخہ 26 دسمبر دوہزار بیس ہفتے کے دن انڈین ٹائم کے مطابق رات کے ساڑھے نو بجے اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے قادیان دارالامان سے ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے تب تک کے لئے اجازت دیجیے گا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ تسلی بتایا ہے نور خدا پاؤ گے تمہیں

 178 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: