Rah-e-Huda – Sadaqate Maseehe Maood pbuh




Rah-e-Huda – Sadaqate Maseehe Maood pbuh

راہ ھدیٰ ۔ مذہبی رواداری

Rah-e-Huda | 16th January 2021

خدا یہی ہے اس نے بالوں جانا ہم یہ نہیں میرا نام اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک بار پھر ہم انٹرنیٹ اسٹوڈیو سے پروگرام راشدہ کتنی سب کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں آج 16 جنوری ہے ہم ٹی وی کے مطابق شام چار بجے ہیں اور ہمارا پروگرام آج بھی لائف اور انٹریکٹ ہے اس پروگرام کے ہم سے رابطہ کریں پیش کریں پیش کرنے کے لیے یہاں سرائیکی فون کالز بھی کر سکتے ہیں ہم کیا کریں گے کہ آپ کو کال بیک کریں اور آپ کے عمل کریں اور اسی طرح واٹس ایپ کے ذریعے سے بھی آپ چاہیں تو کی صورت میں یا پھر میسج کے ذریعے سے بھی اپنے سوال یہاں لکھ سکتے ہیں جو تفصیل ہے وہ آپ کو پروگرام کے دوران سارا وقت انشاءاللہ اسکرین پر دکھائی جاتی رہے گی میں ہمارے ساتھ شریک گفتگو ہوں گے آپ کے سوالات کے جواب دیں گے مکرمہ فیض اللہ صاحب اور اسی طرح مکرم رحمت اللہ بنگش صاحب جو موجودہ حالات ہیں جو بھائی حال ہے دنیا میں اس وقت سب جگہ دیکھنے کو مل رہے ہیں اس کے باعث یہ اسٹوڈیو میں ہے اور ہماری یہ لڑکا ہمارے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے سے ان شاء اللہ یہاں شامل ہوں گے اور آپ خالص تحقیق کی نیت سے ستائیں جانا چاہتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں جو بھی سوال ہو اسلام کے متعلق بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں آپ کی تعلیمات کے بارے میں تو جو پیسے آپ کے ذہن میں سوال ہو تو علما سے رابطہ کر سکتے ہیں تو انشاءاللہ کوشش کریں گے کہ آپ کے سوالات کے یہاں پر ہم جو گزشتہ صدی جو گزری ہے جو دنیا کی تاریخ ہے اس میں وہ بہت ہی اہمیت کی حامل ہیں بلکہ گزشتہ دو صدیوں سے گزری ہے اس میں جو غیر معمولی انقلاب آیا ہے جو دنیا نے ترقی دیکھی ہے اور پھر جو اس کے نتیجے میں جس رفتار کے ساتھ دوستی کے ساتھ ہر جگہ پر ہم نے دیکھا ہے کہ تبدیلی آئی ہیں اس سے پہلے گذشتہ صدیوں میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملا اور اسی صدی میں جہاں دنیاوی طور پر اتنا انقلابات دیکھے انقلاب دیکھنے کو ملا وہاں روحانی دنیا میں بھی خدا تعالی کی طرف سے ایک بہت بڑا انقلاب جو ہے وہ بھی واقع ہوا جس سے بھی کرتے رہے اور دراصل یہ جو انقلاب ہے یہ وہ انقلاب تھا جو اس وقت کے موت کے آنے میں ہونا تھا اور وہ معبود جس کے متعلق ہر مذہب میں خبر ملتی ہے کہ ایک زمانہ آئے گا اگر ہوتا ہے تو اس موت کے متعلق جو روحانی مسئلہ ہوگا نہیں ہوگا باز آ باز آ ہر مصیبت بھی کہتے ہیں یہ ہوگا مسلمان بھی نہیں سمجھتے ہیں سمجھتے ہیں ایسا ایک معبوداگر تو ہر مذہب میں جس سے پیش ہوئے موجود ہے وہ مصلے آجائے ہنوزم میشہ جیت السلام کا انتظار ہے یہودی اپنے مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں اسی طرح سے انتظار کر رہے ہیں اور دوسرے مذاہب میں بھی ایک تصور ہے کہ اس زمانے میں وہ آئے گا تو ہمارا نظریہ ہے کہ یہ تصورات یہ جو پیشن گوئی ہیں یہ قائد بن سکتے ہیں بالکل درست جگہ پر لیکن مختلف مذاہب میں ایک معاہدے کے پیچھے پیشن گوئی کی گئی ہے وہ ایک علیحدہ علیحدہ وجود نہیں ہوگا بلکہ ایک ہی شخص ہوگا جس کے وجود میں وہ تمام پریشانیاں پوری ہوگئی تو اس حوالے سے خاکسار سب سے پہلے ہمارے جو دوست مقرر فضل آغا صاحب ہیں ان سے درخواست کریں گا کہ ہمارے بھی اس کے سامنے یہ بات وضاحت سے آپ برائے کرم فرمائے ہے ہے رحمان رحیم شکریہ طارق صاحب جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے ہر مذہب کے ماننے والے ایک موج کے انتظار میں ہیں تمام دنیا اس وقت ہے امن کی کوششیں کر رہی ہیں لیکن دنیا کو اس بات کا علم نہیں ہو رہا ہے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ جو امن ہے وہ کس طرح قائم ہوگا ہر مذہب کے ماننے والوں کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ جو آنے والا موجود ہے وہ ان کے مذہب سے آئے گا اور دنیا میں امن قائم کرے گا اگر ایک ایک منٹ کے لئے اس بات کو تسلیم کرلیں کہ ہر مذہب سے ایک ماہ بعد ایک اور دنیا میں امن قائم کرے گا تو حقیقت میں یہ تو دنیا میں امن کیسے قائم ہو گا بلکہ دنیا میں شدید تباہی پھیلے گی گی اس وقت زوال پذیر ہے دوبارہ اس کو شامل کر سکتا ہوں گی اگر ہم انصاف کی نظر سے دیکھے تمام مذاہب کا مطالعہ کریں تو ہمیں سوائے اسلام کے کسی ایک مذہب میں بھی یہ بات نظر نہیں آتی کہ ان کا دعوی جو ہے وہ عالمی ہے یا ان کا مقصد ہے وہ عالم بن کر آئے گا تمام دنیا کے لیے آئے گا مثلا حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام کو دیکھتے ہیں جو یہودی مذہب کے بانی تھے کہیں بھی انھوں نے یہ دعوی کیا کہ وہ تمام دنیا کے لیے موجود ہیں اسی طرح عیسائیوں کے بانی حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھتے ہی انہوں نے بھی کہیں اپنی تعلیم میں ذکر نہیں کیا کہ یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ تمام دنیا کے لیے موجود ہیں آپ کی تعلیم نہیں ہے ملتا ہے بلکہ اس کے بعد تو کہتے ہیں کہ میں بنی اسرائیل کے لئے بھیجا گیا ہوں یہی حال دوسری جو قوم ہیں دوسرے مذاہب ہیں ان میں بھی ہمیں نظر آتا ہے لیکن جب ہم اسلام پر مطالعہ کرتے ہیں اور بانی اسلام کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو یہ چیز ہمیں بالکل واضح نظر آتی ہے کہ ایک اسلام کے جو بانی ہیں انہوں نے یہ دعوی کیا کہ وہ تمام دنیا کے لیے ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کل یاعیوھل نسوانی رسول اللہ الیکم جمیعا اب یہ دعوی اللہ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کروایا ہے کسی جتنے بھی یہ کسی نبی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی تمام دنیا کے لیے ہے یہ سب کے سب لوگ کیا عرب کیا عجم کیا مشرق یا مغرب کے لئے وہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے پھر ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے وہ ماںوآلہ وسلم کو بطور رحمت کے بنا کے اللہ تعالی نے بھیجا ہے اس کے لئے عربوں کے لئے نہیں بلکہ تمام عالمین کے لئے جس میں کوئی قوم اور کوئی مذہب اس سے باہر نہیں بچتا ایک اور جگہ پر اللہ تعالی عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتا ہے وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا کہ روئے زمین پر جتنی بھی دنیا بستی ہے اپنے دلوں میں بستے ہیں ہم نے تجھے نیند اور بچی بنا کر ان سب کے لیے بھیجا ہے تو اسلام کے بانی کا اگر یہ دعویٰ ہے اور اللہ تعالی نے آپ سے یہ دعویٰ کروایا ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لیے تمام دنیا کے لیے تمام لوگوں کے لئے تمام عالمین کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں تو اگر آپ کی زبان مبارک سے بعد میں آنے والے حالات کے پیش نظر یا بعد میں کسی دنیا کی اصلاح کے لیے اگر کسی نے آنا تھا تو پھر آپ کی بات مانی جائے گی یہی بات ہم اسلام کی تعلیم کے متعلق ہی دیکھتے ہیں اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے اور رمضان الذی انزل فیہ القرآن ہدی للناس وبینات من الہدی والفرقان فرمایا جو تعلیم حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اصلی ہے یہ تمام دنیا کے لیے تمام لوگوں کے لئے ہدایت کا باعث ہے صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم دی علمی ہے اسلام کا نبی بھی علم نہیں ہے اب ایک اور بات دیتی ہے کہ جو اسلام کی جو توحید کا مرکز ہے اسلام میں وہ کھانا کعبہ ہے اللہ تعالی عنہ کعبہ کے متعلق فرماتا ہے مثابۃ للناس وامنا کہ یہ جو توحید کا مرکز بنایا گیا اسلام میں یہ تمام کی تمام لوگوں کے لئے ہے ٹھنڈا ہونے کے لئے اور یہی امن کا موجب ہے تو نتیجہ کیا نکلا کالا کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ہے والے نبی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے آئے ہیں ہیں جو اسلام کا بنیادی توحید کا جو مرکز ہے وہ تمام دنیا کے لئے ہے تو پھر یقینا دوبارہ دنیا میں اگر بگاڑا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تو پھر وہ بھی اسلام سے ہی آنا تھا اسلام سے باہر آ نہیں سکتا یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جو اسلام کا مسئلہ ہوگا وہی عالمی مسئلہ ہوگا اسلام سے باہر ہمیں نہ کوئی تعلیم نظر آتی ہے نہ کسی نئے مذہب کا کوئی دعویٰ نظر آتا ہے نہ کوئی آپ کی کتاب میں کوئی اس طرح کے علاوہ نظر آتا ہے کہ ان کا مذہب اور عالمی ہے یا وہ نبی علم میں ہے کہ یہ حقیقت میں جس نے آنا تھا وہ اسلام سے ہی آنا تھا یہ مسلم شدہ بات ہے اسلام سے باہر آج دنیا کی اصلاح اور دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے اور کوئی نہیں آسکتا اسلام سے آنا تھا اور اسلام سے ہی وہ آیا اگر ان سے منسوب ہے کہ ہمارا مذہب وی عالمی ہے لیکن اپنے مذاہب کی تعلیم ہے جو ان کے ماخذ ہیں ان کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ تمام مذاہب اپنے قوم اور محدود زمانہ مقید وقت تنقید زمانہ ہوتے ہیں تو یہ چیز بہرحال بہت ضروری ہے کہ وہ خود آتا ہے وہ تمام دنیا کے لیے آتا ہے اگر نظریے کو ہم پر جس طرح سے ہم دیکھتے ہیں تو اس کا مزہ بھی تو جو سونی کدھر ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ اللہ و برکاتہ تمام دنیا کے لیے زیادہ فیصل بہت بہت شکریہ تو ہم آگے چلتے ہیں کروں گا ابھی جس کے فرمایا فیض صاحب کی باتوں سے بہت خوبصورت طریقے سے واضح ہوگیا کہ جو آخری زمانے میں جمع ہوتے ہیں جنہوں نے آنا ہے وہ اسلام سے ہیں ان کا نام بنتا ھے کیونکہ اسلامی مذہب ہے جو عالم گیر ہے تمام دنیا کے لیے ہے اور اس کی تعلیم بھی اس طرح سےکیا بات ہے یہ کہ وجود کے لیے ہیں تو اس کے بارے میں بتائیں کا معنی بتائیں طارق صاحب اللہ الرحمن الرحیم کیا کے ایک وقت میں ایک سے زائد لوگ آجائیں اور سب کے ساتھ اپنا دعویٰ پیش کردے تو کس قسم کے مسائل پیش آسکتے ہیں تو وہی حساب یہاں بھی ہوگا حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے جو انبیاء کا کام ہے اس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اس قسم کے نظریات کو اپنایا ہے اللہ تعالی نے وعدہ کیا ہے کہ امت محمدیہ میں خدمت اسلام کے لئے ایک مسیح نبی آئے گا اور یہ ہم نے کہہ رہے تھے کہ اللہ کا رسول بھی کہہ رہا ہے صحیح مسلم کی حدیث میں بلکہ چار دفعہ اللہ کے رسول نے کہا کہ نصیب اللہ ہم تو جب آنے والا مسئلہ ہے اس نے خود بھی امام مہدی ہونا تھا خود آئے گا تو پھر دنیا کو ہدایت دے گا اور آنے والے امام مہدی کے بارے میں مسیح موعود کے بارے میں صرف حدیث میں ہی نہیں لکھا فرقے ہیں وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ آنے والا ماحول نبی اللہ ہی مسلمان قرآن میں مفتی صاحب نے لکھا ہے کہ نبوت کا وقت آنے والے مسیح سے غائب نہیں ہوگا اسی طرح دیوبندی عالم ہے اشرف علی تھانوی صاحب نے بھی لکھا ہے نشرطیب میں کہ نبی وہاں کے مطابق حدیث میں لکھا تھا کہ آنے والا امت محمدیہ کا کوئی فرد ایک نبی ہوگا اسی طرح اور شیعہ علماء کا بھی یہی نظریہ ہے تو اب دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں کیا کروں گا اگر ہم بھی دیکھیں گے تو پھر آنے والا مہدی بھی ہو سکتا ہے اس کی نظیر احمد شریف بھی اور تفصیل بھی احادیث دیکھ لیں گے مثال کے طور پر سورہ انبیاء میں اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام نوح علیہ السلام علیہ السلام اسی طرح حضرت یعقوب وغیرہ بھی ان کا ذکر کیا کیا اور ساتھ فرمایا جعلنا منہم ائمہ یہدون بامرنا کہ ہم نے ان سب کو مہدی پہلے بنایا ہے دی ہے اب ہمارے دل سے مہدی بننے کے بعد خود ہدایت حاصل کرنے کے بعد دنیا کو ہدایت دے رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ جب جس کو اللہ کی طرف سے ہدایت ملی کوئی مہدی ہے اسی طرح خاص طور پر دیکھا عیسی علیہ السلام زندہ ہے مووی کے فرد ہیں اور موسی علیہ السلام کا خاص ذکر کرکے سورۃ سجدہ میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ جعلنا منہم ائمہ یہدون بامرنا کے سلسلہ میں سے بھی ہم نے لوگ ایسے ہیں جو امام ہیں اور ہمارے ماموں نے کے بعد ہماری وجہ سے ہماری طرف سے ہدایت پانے کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت دیتے ہیں پہلے خود مہدی بنتے ہیں پھر شادی بنتے ہیں اور احادیث میں جب ہمارے خلاف غیر مذہبی علوم حدیث پیش کرتے ہیں نبی آبادی والی ان میں سے ایک حدیث بھی پیش کیا کرتے ہیں  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء ہلکان بی جوہر ٹاؤن بیکن کہ بنی اسرائیل میں جو الفاظ تھے وہ انبیاء کی شکل میں تھے اللہ ان کے بارے میں قرآن کو ہم نے امام مہدی بنایا ہی بنایا ہے تو صرف ہم قرآن کریم سے استعمال نہیں کرتے بلکہ واضح طور پر حدیث میں معین طور پر لکھا ہے آنے والا مسیح اور مہدی ایک ہی وجود ہوگا جہاں کتاب ابن ماجہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے زمانے کے بارے میں پیشگوئی فرمائی اور فرمایا کہ لوگوں ہنس پڈے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ لا الہ الا اللہ لفسدتا کے معاملات جو ہے وہ شدت اختیار کرتے چلے جائیں گے خراب ہوتے جائیں گے میاں شدن بلاول دنیا اللہ البالغہ دنیا کے لوگ ہیں وہ خلاقی پرزندہ رہے ہو پائے گا یل باعث بن مریم کی سے ایمان لائے کہ امام مہدی ہونے کی حالت میں جانے والا مسیح ابن مریم کو اللہ کا رسول کہتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کو امام مہدی کے بارے میں پائیں گے اسی طرح اس کے علاوہ اور کتاب الفتن از نعیم نے بھی اس کو نوٹ کیا ہے امام جلال الدین سیوطی نے اس کو بیان کیا ہے کہ ہمارے پاکستان میں چاچڑاں شریف کے جو بزرگ گزرے ہیں خواجہ غلام فرید صابری انہوں نے شاہد آفریدی میں اس حدیث کو نوٹ کر کے کہا ہے کہ آنے والا امام مہدی اور مسیح ہوں گے جس کے بعد وہ یہ ہے کہ اختلاف ہوا جب ہر ایک نے اپنے اپنے مطلب کا حصہ نکالنا شروع کیا اصل میں تھا یہ جو بھی نبی آئے گا وہ ہدایت یافتہ ہو گا جو ہدایت یافتہ ہے وہی تربیت دنیا کی جا سکتا ہے خود شادی پھر شادی بنے گا بلکہ اس سے بڑھ کر حدیث میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو نصیحت تاکید فرمائی کہ ہم آپ کے بنا دیجئے نہ ہونگے تو صرف تمہارے اوپر لازم ہے کہ تم میری پہلی کرو اور جو راشدین کی ہدایت یافتہ خلفاء الراشدین کے لفظ استعمال کیا ہے تو گویا ہر وہ بندہ جو اللہ سے ہدایت پا کے دنیا کے لیے ہدایت کا سامان کرتا ہے وہ مہدی ہے اور انبیاء سب سے بڑھ کر مہدی ہیں وہ آنے والے دور میں جہاں دیگر انبیاء صلی اللہ وسلم نے مجددین امت کا تذکرہ فرمایا تھا وہ خاص ہدایت یافتہ عیسی بن مریم کے بارے میں کہنا تھا کہ نازل ہوگا اس کا تذکرہ کیا اسی کا لفظ ایک مہدی ہے یہ بات ہے یہ بندہ ہے اس کو مختلف اطراف سے دیکھا جائے کبھی وہ والد ہے کسی جگہ وہ بیٹا ہوگا کبھی وہ بہنوئی ہو گا کسی جگہ وہ بھائی ہوگا تو شخص ایک رہے گا کوئی نہیں اس کتاب میں ایک ہی بندے چارپائی نام آپ نے کیسے لی دی تھی وہ آدرش آدمی ہیں مسلمانوں کے لیے ہدایت کا تذکرہ کیا جاتا ہے ہے کتاب کے لیے ہدایت کا موجود ہونا تھا تو اس کے ساتھ ساتھ اپنے مریم کا نام دے دیا جاتا ہے وہ یاد ہندوؤں اور دیگر لوگوں کے لئے ترکش نہ بن گیا تو ایک ہی شخص کے مختلف وجوہات مختلف اس کی ڈیوٹیوں کے لحاظ سے نام دیے گئے ہیں ہیں جب ہم ہدایت کا ذکر کرتے ہیں تو ایک بہت بڑی خصوصیت اس کی حفاظت کے لیے ہوئی کہ وہ ہدایت یافتہ ہے یا نہیں کی طرف سے براہ راست ہدایت ملتی ہے یہ بھی ایک بہت اہم اور ضروری پہلو ہے ویسے تو بہت سے لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں جو کوئی اصلاحی کام کرتے ہیں کوئی کوشش کرتے ہیں اچھی بھی کرتے ہیں لیکن ان کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ جو افراد ہیں خدا تعالی کی طرف سے براہ راست ہدایت ملی ہے تو اس کے لیے یہ بھی ایک پیغام ہمارے لئے خدا نے فرمایا کہ دنیا میں بھی ایسے حالات ہوں گے کہ اس کو وہ کوئی عام عالم کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا ایک شیخ نہیں ہوگا بلکہ وہ ہر اللہ تعالی کی طرف سے ہدایت پانے والا ہوگا تو یہی حفیظ صاحب اگر آپ سے درخواست کرے گا کہ یہ جو امام مہدی اور مسیح موعود علیہ سلام ہے ان کے مقام کے بارے میں ہمیں آپ بتائیں کہ ان کا کیا مقام ہوگا ایک بعض لوگوں کے نزدیک ویسا ہی ہو گا بعد میں وہ زیادہ بھی نہیں ہے تو اسلام اور رسول میں کیا فرماتے ہیں امام مہدی یا مسیح موعود جو مسلمانوں میں تشریف لائیں گے ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیا ملتی ہیں  ہیں اور جو ان کی علامات بتائی گئی ہیں آپ سلم کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کو بہت بڑا مقام ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا جو نبی ہے کہ کوئی کم درجہ کا نبی نہیں ہوسکتا بلکہ یہ تو وہ مرتبہ ہے کہ گزشتہ قوموں کی شرعی نبیوں نے بھی اس کو حاصل کرنے کی تمنا کی حضرت موسی کا یہ فرمانا کہ النبویہ الکلمہ اللہ تعالی مجھے اس امت کا نبی بنا دینا اللہ تعالی نے فرمایا نبی وہ امین ہوں کہ اس قوم کا نبی اسی حکومت میں سے ہوگا پھر آپ نے یہ تمنا کی اجعلنی من امت النبی ہے کہ اگر نبی نہیں بن سکتا تو اس نبی کی امت میں سے مجھے بتا دیجئے گا تو اللہ تعالی نے پھر جواب دیا اس تک متوسطہ کرو یا ملتا کہ اے موسی تو پہلے گزر چکا ہوں امت بعد میں آنے والی ہے امامت کی حقیقتعلم کو اتنی فضیلت عطا فرمائی ہے تو اس میں آنے والے موعود کا کیا مقام ہوگا بہت بڑا مقام ہوگا پھر ہم امت مسلمہ کی جو لٹریچر ہے اس میں کثرت سے ہمیں ایسی تحریریں ملتی ہیں کہ ان جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ثباتی دنیا کا ذکر ہے اور آنے والے موت کو اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل اور بروز قرار دیا ہے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہو تو اس کا مقام کسی لحاظ سے کم نہیں ہے بہت بڑا مقام ہے پھر آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر اس موت کا مقام واضح فرمایا ہے ایک جگہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں من ادرک الرکوع مع الیوتیوب من سلامہ تھے جو اس ابن مریم کا زمانہ پایا اسے ملے اس کو میرا سلام کہنا اب ثمود کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھیج رہے ہیں اس کی اہمیت اس کی امت میں کس قدر ہوگی وہ کتنا خوش نصیب ہوگا وہ ایک عام عالمی یوم قدس کی طرح نہیں ہوگا اس کا عظیم مقام اللہ تعالی کے نزدیک اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ہے پھر اللہ و علیہ وسلم نے اور جگہ فرماتے ہیں کہ نہیں ابھی اللہ امتا اولہا وآخرہا بن مریم نے کہا کہ وہ حکومت اللہ تعالی کی طرف سے یا دنیا میں رسوا کیسے ہو سکتی ہے جس کا آغاز تو میں ہوں جس کا جس کے اعزاز میں میں ہوں اور جس کے اختتام پر ابن مریم ہی اب ان صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موت کو اپنے ساتھ لازم ملزوم کر دیا کہ جس طرح عظمت کا ہوا اور خیر امۃ کہلائی طرح جب وہ مان جائے گا کسی لحاظ سے وہ متاثر نہیں ہوگی بلکہ وہ اللہ تعالی کی حقیقی تعلیم پر قائم ہوگی وہ ماحول دوبارہ اسلام اور اس امت کے اندر شریعت کو نئے سرے سے قائم کرے گا اور اذان کے درمیان میں زمانہ ہے اس کے والد نے کہا اور اس کے بارے میں بہت تعریف بہت ساری احادیث میں اس کے بگاڑ کی جب موت کے وقت کا ذکر فرمایا اس میں فرمایا کہ وہ وقت کہتا ہو گا اس میں وہ امت کبھی رسوا نہیں ہوگی کبھی ذلیل نہیں ہوگی کبھی وہ ناکام و نامراد نہیں ہوگی بلکہ اس کے آنے کی وجہ سے اس امت کی دوبارہ اسی طرح بلند ہوگی جس طرح میرے دور میں ہوگی اگر وہ ایسا ماؤس جو امت محمدیہ کو دوبارہ وہ مقام عطا کرے گا جس کی وہ مستحق کی وہ مقام عطا کرے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا تو یقینا اللہ تعالی کے نزدیک تو وہ بہت مقرب اور اللہ تعالی کے نزدیک مقبول ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موت کی بات کو لازم قرار دیا اور فرمایا کہ خلیفۃ اللہ المہدی کہ جب اے مسلمانو جب اس موت کا زمانہ پاؤں کی بیعت کرنا خاتون برف کے پہاڑ سے گزر کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ تعالی کا مہدی خلیفہ ہوگا اب جس کی بیعت کے بارے میں اتنا تاکیدی حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا ہے یا امام مہدی اور مسیح ابن مریم ہے جس کی بیعت کے بارے میں آزمایا ہوا ہے وہ تم پر فرض ہے اس دنیا کی جتنی بھی مشکلات آپ کی راہ میں آئے اور مشکلات کی پروا نہ کران کی بعض ایسی تحریرات ہی اقتباسات ہے جو انہوں نے بعد میں دن رات بھی کیا صبر کے بارے میں اس حوالے سے آپ ہمیں کچھ چند حوالے سے ہمارے ناظرین کے سامنے پیش کر دیں کہ جو امت میں بزرگان ہیں ان کا کیا عقیدہ تھا اور کیا ان کے نزدیک کیا مقام تھا آنے والے مسیح اور مہدی کا جزاک اللہ دراصل جو مختلف وقتوں میں علماء اور صالحین اور محدثین آتی ہیں انہوں نے امام مہدی کے مقام کے متعلق بہت کچھ فرمایا ہے جس کی وجہ سے میں اس وقت دو سے تین حوالے پیش کرتا ہوں شرح فصوص الحکم جو علامہ عبدالرزاق کاشانی رحمہ اللہ کی ہے آپ فرماتے ہیں آنے والے موت کے مقام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ شرعیہ عربی عبارت ہے اس کا ترجمہ پڑھ دیتا ہوں عرفان کی سہولت کے لیے وہ شرعی احکام میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوگا لیکن معارف علوم اور حقیقت کے لحاظ سے آپ کے سوا تمام انبیاء اور اولیاء اس سے ثابت ہوں گے لے آنا بات نہ کوئی بات نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیونکہ اس کا باطن درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا باطل ہوگا یہ بہت بڑا مقام انہوں نے نے آنے والے موت کو دیا ہے اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی پڑے گا ایک ما ہ ہی گزرا ہے میرے غیر پاکستان میں ان کا بڑا سبب ہے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں یہ فرماتے ہیں آنے والے موعود کے متعلق یہ بھی عربی زبان میں اس کا ترجمہ کر دیتا ہوں کہ عام لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جب وہ دنیا میں آئے گا تو وہ محض ایک امتی ہوگا ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اسم جامع محمدی کی پوری تشریح ہوگا اور اس کا دوسرا حصہ ہوگا بس اس نے اور ایک عام امتی کے درمیان بہت بڑا فرق ہوگا اور ایک اور آخر میں حوالہ میں پیش کرکے اپنے گذاشتم کرتا ہوں امام باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بحار الانوار کا حوالہ ہے ہے کہ یہ ایک لمبی حدیث ہے اس کا مختصر بتا دیتا ہوں کہ جب وہ یعنی امام مہدی آئے گا تو کہے گا کہ اے لوگو تم میں سے کوئی براہیم اور اسماعیل کو دیکھنا چاہتا ہے تو مجھے دیکھے کوئی موسٰی و سیاسی اور غیر کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ مجھے دیکھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ امیرالمومنین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے امیرالمومنین حضرت علی کو دیکھنا چاہتا ہے تو میں ہوں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور علی مجھے وہ دیکھے یہ تمثیلی کلام ہے تو یہ ہے وہ رتبہ آنے والے موعود کا جو مختلف بزرگوں نے بناتے گئے اور یہ بے شمار حوالے اس میں کی مناسبت سے دو تین اقسام ہیں پیش کیے ہیں ورنہ بہت سارے حوالے ہوں گے جو ہم پیش کیا کر سکتے ہیں بلکل درست ہے کہ ملا ہیں صاحب بہت شکریہ کہ آپ نے جو احادیث کے حوالے سے جو خصوصیات بھی آنے والے مسیح کے متعلق آپ نے بیان فرمائی ہے میں جس میں خاص طور پر یہ کہ مسلمانوں نے بڑے زور دار الفاظ کے ساتھ فرمایا کہ تم لوگوں کے پاس جانا کے بارے میں برف کے پہاڑوں پر سے گزرتے ہوئے تو اس کے بھائی جان آپ سب بھائیوں اس کی بیعت کرنا تو ناظرین جس شخص کو کی بات کی جاتی ہے جس پر ایمان لایا جاتا ہے تو پھر تم کو دیکھ لیا سوائے انبیاء کے بارے میں کسی کے لیے اللہ تعالی نے یہ تقاضہ نہیں کیا ایمان لائے جو ایمانیات ہے اس کو سب جانتے ہیں کہ کن کن چیزوں پر ایمان لانا ہے اللہ پاک مغفرت فرمائے اور ان کتابوں پر پھر رسولوں پر کسی جگہ نہیں لکھا کہ تم کسی عالم یا کسی مثلا کیسے مدد کا ایمان لانا تو یہ بھی باتیں بار تو بتاتی ہیں حدیث کا حوالہ پیش کیا تھا ہمارے ایک دوست ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ آپ کس طرح سے نبی ہو سکتے ہیں جب یہ سوال بجا ہےہم نہ تو نبی کو اپنے زور بازو سے لاسکتے ہیں نہ روک سکتے ہیں اگر اللہ کے نبی کے کہ میرے بعد نبی نہیں آنا تو ہم تو زبردستی نبی کی پیش گوئی کر نہیں دے گا اللہ کے نبی کے نبی میری بات آسکتا ہے تو اس کو روک نہیں سکتا جہاں ایک طرف رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لانبی آبادی خود میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا تو وہاں حضور صلی وسلم نے خود بیان کیا ہے کہ میرے بعد ایک مسیحی اللہ آئے گا جس نے چار دفعہ نبی اللہ کا ہی سے پہلے یہ بتا رہے ہیں کہ بعد میں کل کوئی اس قسم کا مسئلہ نہ ہوتا تو بغداد ایمن عیسی علیہ السلام کی زبان سے یہ الفاظ ہمارے لئے محفوظ رکھے کہ بجا النبیین چائنہ مجھے نبی بنایا ہے لیکن ہم نے آنا ہے یہ سب نے آنا ہے تو بہرحال ہوگا اسی طرح سورہ مائدہ میں بھی علیہ السلام کے بارے میں خود قرآن کریم نے قبول کیا ہے کہ مسیح ابن مریم الا رسول کے مدنی پھول ہیں تو انبیاء سابقہ جا ایکسپریس والا نہیں ہوتا جو نبی ہے وہ میرا نبی ہی رہتا ہے جو حدیث میں نے بھیجی تھی وہ صحیح مسلم کی ہے کتاب الفتن باب ذکر الدجال میں و حدیث موجود ہے جس میں چار دفعہ نبی اللہ کا ذکر ہے کہ تو میں کہتا ہوں کہ جب چل رہے ہوں گے تو یہ احسان بھی اللہ اور صحابہ کے اس وقت عیسی علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کا گھیراؤ کرلیا جائیگا جائیگا عباس ابن علی صحیح مسلم کی کتاب الفتن باب العلم حدیث موجود ہے جو ابو داؤد میں بھی یہ حدیث موجود ہے کہ مسلسل ایسا بھی نہیں کہ میرے آنے والے مسیح ابن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے تو آنے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو داؤد میں آنے والے مسیح موعود کون بندہ کر دیا ہم نے بیان کر دیا کہ بعض حالات میں رہتے ہیں تو نام بھی دے دیتا ہوں جو آنے والے مسیح اللہ ہی مانتے ہیں کوئی اور نہیں تو میں نے پہلے بھی بتایا القرآن مفتی شفیع صاحب نے لکھا ہے کہ آنے والا مسئلہ ہوگا اسی طرح دیوبندیوں کے مشہور بزرگ اشرف علی تھانوی صاحب نےاپنی کتاب نشر الطیب نبی وابنہا کی روایت سرگودھا کینٹکی ہے اسی طرح ابن عربی رحمہ اللہ کا قول ہے بلاشک و شبہ آنے والا مسئلہ ہوگا اسی طرح علامہ سفیان آسی قادیانی نے بھی اس کو نوٹ کیا ہے اسی طرح سے آنے والا مسئلہ ہوگا اہل حدیث مشہور صاحب نے اس راہ میں آنے والی مصیبتوں میں مبتلا کردیا تو سارے جتنے بھی مانتے ہیں وہ سارے مسیحی اللہ کو مانتے ہیں تو جو نصیحت خود ہی کہتے ہیں کہ آسمان پر گیا ہے اور آسمان پر نبی اللہ کی حیثیت سے 11000 حسین رضی اللہ کی حیثیت سے واپس آنا ہے اگر اس کا مرتبہ پہلے سے کام ہو جائے تو مرتبہ کب ہوتا ہے جب کسی نقص واقع ہوجائے انبیاء سے اس قسم کے نقائص واقعہ نہیں ہوتے صاحب بہت شکریہ جزاکم اللہ احسن الجزاء آپ نے بڑی تفصیل سے اس کا جواب دے دیا ہے ہمارے پاس سے یہاں بھی آگے چلاتے ہیں لیکن معروضی سوالات بھی آرہے ہیں وہ بھی خاص درخواست کرے گا آیت کے ہیںحقیقت ہے جس حسن فرمائی ہے اس کے بارے میں آپ کو کس نے بتایا پھر ہم آگے چلتے ہیں بات یہ ہے کہ اللہ تعالی کا جو ایک نظام ہے وہ اس وہ بدل نہیں سکتا لیکن سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے مغرب میں غروب ہوتا ہے یہ باغیرت جمع کیا سمجھتے ہیں کہ جب مسیح آئیں گے تو اس وقت ہے سورج جو ہے وہ مغرب سے طلوع ہوگا یہ یہ بات ظاہری طور پر درست نہیں ہے اصل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے موسم کی پیشگوئی فرمائی تھی کہ اسلام کا جو تجربہ ہے یا اسلام جو ہے وہ مغرب سے اس کی شان و شوکت پر ہوگی اس کا جو ہے شوکت کے لیے بھی استعمال کرتے ہے استعمال ہوتا ہے کہ اسلام کی بیوی شوہر شان ہے وہ دوبارہ اس کو واپس لائیگا اور مغرب سے اس اس شان سے ہم اسلام کی دوبارہ دیکھنے کو ملے گی تو آج دیکھتے ہیں کہ ہم ان کی جماعت احمدیہ کا مغرب میں بیٹھ کے مشرق میں بیٹھ کے اور کتنا ان ممالک میں بیٹھ کر اس وقت اسلام کی خدمت کر رہی ہے اسلام کی صداقت دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے کہ وہ ٹی وی کے ذریعے وہ کھاؤ اخبارات کے ذریعے ہوتا وہ کتاب کی صورت میں جس طرح جماعت احمدیہ آج اسلام کی خدمت مغرب میں بیٹھ کر رہی ہے وہ اس طرح کہیں بھی اور اس کی مثال نہیں ملتی تھی آگے آئیں گے تو مغرب سے طلوع ہونے سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی جو شوکت ہے مغرب میں روز روشن کی طرح چمکے گی اور اسلام کا جو لکھا ہوا ہے وہ مغرب سے بھی ہوگا مشرق سے بھی ہوگا لیکن مغرب سے سب سے زیادہ وہ نظر آئے گا اور آج ہم اس چیز کو اپنی آنکھوں سے خود مشاہدہ فرمارہے ہیں جی ٹھیک ہے جزاک اللہ بہت شکریہ افضل صاحب یہاں میں ایک بات اور چلو یار  میں دیکھ رہا ہوں کے میں ہمارے ناظرین پر کال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آج برائے کرم آپ صرف میسج کریں کال کا الزام ہے اس پروگرام میں کر سکیں گے یا آگے چلتے ہیں میں نازل ہوگا تو یہ جو لفظ وسلم آنے والے مسیح ابن مریم کے بارے میں استعمال کر رہے ہیں اس سے ہی وہی ہے جو عقیدہ تھا کہ عیسی علیہ السلام آسمان پر ہیں تو دوبارہ مسلمانوں میں بھی یہ تصور ایس ایس آر آئیز ہوتا گیا آپ کی گویا آسمان پر ہیں تو وہ مصیبت نازل ہوں گے جیسے آسمان سے نازل ہوتی ہے وہ انتظار کر رہے ہیں کہ مسیح آسمان سے نازل ہو جب ہم کہتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے کوئی آسمان سے اترتا تو یہاں پر نزول کا نام کے معنی ہیں وہ ایک دوسری حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کے مطابق درست ہے کہ بعض اوقات نزول کا لفظ اوپر سے نیچے کی طرف آنے والی اشیاء کے لئے استعمال ہو جاتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس علیہ السلام کو زمین سے آسمان تک لے جایا جائے وہ زمین سے جسد عنصری کے ساتھ آسمان پہ گئے ہیں پھر تو وہاں سے آ سکتے ہیں کہ تو اس بارے میں بھی ہو سکتی ہے کہ وہ آسمان سے آیا کہاں سے آئیں گے لیکن اگر حضرت یوسف علیہ السلام کی حیاتوفات وحیاتِ مسیح کے بارے میں ہے اگر رفعت ثابت ہو جائے تو پھر حضور عام معنوں میں دیگر معنوں میں استعمال ہوتا ہے وہ ہمارے لیے جائیں گے اور فاطمہ صاحب نہ ہو بلکہ علیہ السلام کا اپنے زندہ جسم سمیت آسمان پر جانا ثابت ہو جائے تو پھر دیگر مہمانوں کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے قرآن کریم نے جو لکھا ہے کہ جو فوت ہو جائے اور جہنم اور جنت میں جا کر داخل ہو جائے تو وہ جنگ سے واپس نہیں نکلتے بلکہ ماہ میں نہ بے وفا جان کو جنت میں ایک دفعہ انسان داخل ہوجاتا ہے تو جنتی جنت سے واپس نہیں آیا کرتے تو جاب جنتی جنت سے واپس نہیں آتی ہے تو کسی کے بارے میں کہا جائے وہ نازل ہوگا جس کے کیا معنی ہیں اس کے لیے جانے کے لیے مختلف معنوں میں نزول کا لفظ استعمال کیا ہے مسلن جو حدید ہے اس کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ زمین میں قانون سے نکلتا ہے قرآن کریم نے خود کہتا ہے چل رہا ہے کہ ہم نے جو حدید ہے لوہا ہے وہ نازل کیا ہے تو کبھی نہیں دیکھا کہ آسمان سے لوہے کے ٹکڑے گرے ہوگا جو سارا کا سارا وہ ہے جسے ساری دنیا کے سرکاری چلے گی زمین سے نکلتا ہے یا بنی آدم کے بیٹوں میں نہ علیکم ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے تو یہ دنیا نے دیکھا کہ دان بن کر جو فیکٹری آسمان پر وہاں سے دھاگا بنایا جارہا ہے اسے کپڑا بننا ہے زمین پر گرنے کا کلب اس مہیا کیا جائے بلکہ زمین سعید اشیاء پیدا ہوتی ہیں ان اشیاء کو کرکے کرکے رکھ دیا جاتا ہے اس سے ہی جاندار اور جانور ہیں ان کے بارے میں پانچ سال حکومت نے اعلان کیا کہ اللہ تعالی تمہارے لیے لیے چپ ہوں میں سے نازل کیے ہیں تو کیا جانور جو ہیں اوپر سے نیچے اترتے ہیں الفاظ کے لیے استعمال کیے ہیں منزل کے رسول اللہ سلم نے وہی الفاظ آنے والے مسیح موعود کے بارے میں نازل کے استعمال کیے اگر تو حضور صلی علیہ وسلم کے نزول سے مراد یہ ہے کہ آپ آسمان سے زندہ پیدا ہو کر گئے تھے آئے تھے تو پھر ایسا کے بارے میں محسوس کرتے ہیں اگر رسول اللہ صل وسلم کے بارے میں الفاظ حضور کے استعمال ہو اور وہ حوصلہ پیدا ہو دنیا میں پھر بھی صحت کے لیے استعمال ہو رہی ہیں ماں نے ہمیں علیہ السلام کے لیے بھی کرنے پڑیں گے نصرت اللہ تعالی فرماتا ہے کہ قد انزل اللہ الیکم ذکرا رسولا کے لوگوں اللہ نے تمہاری طرف ایک ذکر کرنے والا رسول نازل کیا ہے کیا کرتا ہے یا تحول و علیکم آیات اللہ تم پر اللہ تعالی کی آیات پڑھ کر سناتا ہے تو کیا حضور صلی اللہ وسلم وسلم پیدا ہوئے تھے یا آسمان سے نازل ہوئے تھے روحانی طور پر تو آپ آسمان سے نازل ہوئے تھے ایک ظاہری طور پر آمنہ کے گھر پیدا ہوئے پھر آپ نے دنیا میں رہتے ہوئے نبوت کا دعوی کیا ہے اور اس آیت میں تو خاص طور پر اہل زمین کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے زمین پر بسنے والو تمہاری طرف اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نازل کیا ہے بلکہ طارق صاحبہ کہتے ہیں تو مزید بڑھ جاتی ہے اللہ تعالی تو کہتا ہے کہ ہر چیز ہے وہ آسمان سے نازل ہوتی ہے مسلح افواج میں فرماتا ہے کہ ان میں سے اللہ عنہ فضائل ومناقب قادر معلوم کہ جو بھی چیزیں ہیں وہ اللہ تعالی آسمان سے نازل کرتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے ہم کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ زمین سے نکل رہی ہیں کچھ زمین کے اندر سے نکل رہی ہیں کچھ پہاڑوں سے نکل رہے ہیں کچھ سمندر کی گہرائی سےدو سوالات ہیں ان کو بھی ساتھ شامل کرتے ہیں یہ ہے بنگلہ دیش سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اب میں آپ سے درخواست کروں گا وہ پوچھتے ہیں کہ نجد سے غرض ہے تو صرف دل کے اندر ہوگا تو اس کی تفصیل ہے اس کے بارے میں بتائیں کا نام بتا دیں اصلاۃ والسلام نے اس کا ذکر فرمایا ہے اور ہمارا اس پر کامل یقین ہے کہ انشاءاللہ کہ یہ جماعت خدا تعالی نے قائم کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے منتخب کیا تھا اس دنیا اس زمانے کے لیے بطور معاون کے اور آپ کی زبان مبارک سے یہ جو الفاظ نکلے کہ تین سو سال میں جماعت انشاءاللہ اس کے آثار تو ہم اپنی زندگیوں میں دیکھ رہے ہیں حضرت موسی علیہ السلام کے دعویٰ سے لے کر آج تک اللہ تعالی کے فضل سے جماعت ہر آنے والا دن جو ہے اور ترقیات دیکھتی جا رہی ہے اب اس 130 کے 32 سالہ دور میں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جماعت کہاں سے آغاز ہوا تھا اور آج اللہ تعالی کے فضل سے تمام دنیا میں جماعتی پہچانی جاتی ہے اور اس کی جس طرح خدمت جماعت احمدیہ منظم انداز میں کر رہی ہے دنیا میں آپ کو کوئی ایسا فرقہ مسلمانوں کا یا غیر مسلموں کا کوئی آثار نظر نہیں آئے گا جس طرح احمد یا ہم بھی اپنے آپ کو وقت کیا ہے اور خدمت کر رہے ہیں اور ایک خلافت کے سائے میں ہر آنے والا دن جیسے کہ میں نے بتایا جماعت کے لیے ترقیات تو تین سو سال تو بہت دور کی بات ہے ہم تو جماعت احمدیہ کے غلبے کو اپنی نظروں سے دیکھ رہے ہیں ہر آنے والے دن جب جو دشمن ہیں انکی طرف سے جو مختلف تدابیر سامنے آتی ہے اس کے انعامات سے نوازا جارہا ہے اور یہ ہم تمام حرام بھی اس بات کا شاہد ہے ہے اس لیے ابھی تو تین سو سال کو تو بہت وقت ہے لیکن یہ حقیقی بات ہے کہ جماعت احمدیہ ہر آنے والے دن میں اس کا قدم بیٹے کی طرف اور ترقی کی طرف اور اسلام کی خدمت میں پہلے سے بڑھ کر آگے ہی بڑھتا جارہا ہے جس میں ایک جماعت احمدیہ ہے جس نے اپنے آپ کو وقت کیا ہوا ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کی روشنی تمام دنیا میں پھیلائے اور اس کے لیے ہزاروں رضاکار تو ہے انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کئے ہیں اور یہی کام دن رات کر رہے ہیں اور اللہ تعالی کے فضل سے جماعت کو جو خدا تعالیٰ ترقی عطا فرما رہا ہے کہ یہ آپ کو اس کی نظر میں کال بھی نہیں ملے گی ٹھیک ہے ایسا بہت بہت شکریہ جزاک اللہ خیرا میں جو ہمارے دوست ہیں آپ صاحبان کا خیال کے حوالے سے اس طرح بھی تھا جو تم سے محفوظ فرما یا ہے ہے تو احمدیت دنیا میں اکثریت ہوگئی اور وہ یہی نظریہ یدین کو اپنانے والے ہوں گے اسلام میں داخل ہونے والی ہوگی تو ہم ایک چیز سے پیدا کر رہا ہے اور آنے والے وقت میں کتنی ترقی دے رہا ہے یا نہیں علی کی شہادت پر مستقل جو ہمارے ساتھ شامل ہے اور حقیقت آج جو دنیا میں یہ لوگ بھی اس کو ماننے والے ہیں پہلے بھی اس کا ایک حوالہ اس کا ذکر کیا تھا اس ہی دنیا ہے بڑے غور سے جائزہ لیتی ہے کہ آج کل دنیا میں کیا ہو رہا ہے تو اسلام میں جو مذہبی سیاست کے حوالے سے جو ہوئی جماعت کے حوالے سے بحث عالمگیر جس تیزی سے جو آج تک کرنے والی ہے وہاں پر جماعت احمدیہ ہی ابھری ہے ان کے سامنے آ رہی ہےسنگر سوال کیا ہے اور وہ پوچھتے ہیں کہ قرآن مجید میں کہاں ذکر ہے تو کہ ہم اسلام کے بعد خلافت کا سلسلہ چلے گا اور اگر اس بارے میں حدیث ہے کیونکہ مختصر ہے دوبارہ آپ سے درخواست ہے کہ اس کے بارے میں بات کریں کلک لئے میں ذکر ہے احادیث نبویہ میں بھی ذکر ہے اللہ تعالی فرماتا ہے وعداللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم تو ہے ہے جو پہلے وہ کون تھے وہ بنی اسرائیل میں حضرت موسی علیہ السلام تشریف لے کر آئے کیونکہ اس سلسلے کو ان سلم کے سلسلے کو مستحب یہ ہے کہ حضرت موسی جس طرح شریعت لے کر آئے تھے اور اس کے بعد ایک ان کے اندر انبیاء کا سلسلہ جاری ہوا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اختتام پذیر ہوا سال کے بعد حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام حضرت عیسیٰ علیہ سلام فیصلہ کیا کر پائے یہی مقدر تھا امت محمدیہ میں بھی آ جاؤں صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سال کے بعد ایک موت کی پیشگوئی فرمائی اور اس کے بعد پی لیں اسی طرح خلافت کا سلسلہ جاری ہونا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پیشگوئی فرمائی یہ بھی آپ نے فرمایا کہ تمام نبوت ان کتوں اللہ کا علاقہ کوئی بھی ایسی نبوت نہیں جس کے ساتھ علاقے میں جڑی ہوئی ہو تو نبی تو اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان ہوتا ہے تو وہ پودا ہوتا ہے وہ خلافت کے زیر سایہ ہوتا ہے اللہ پاک اس کو پروان چڑھاتی ہے اور ایک اور حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے اپنے مختلف ادوار کا ذکر کیا جس نے اسلام اور مسلمانوں کے انحطاط اور زوال کا ذکر ہے پھر آخر میں آپ نے فرمایا مایا المتقون خلافت علی منہاج النبوہ عامر کا کہنا تھا کہ پھر ایک ایسا وقت آئے گا جب موت آئے گا جو میرا دل ہو کر آئے گا تو میر آبرو ہو کر آئے گا تو دوبارہ دنیا میں اسلام کو قائم کرے گا تو اس کے بعد پھر یہ خلافت کا سلسلہ قائم ہوگا تم ایسا کرنا تھا کہ یہ خلافت کا سلسلہ جاری رہے گا اور آج اسی اصول کے تحت فرماتے انڈیا میں اس وقت خلافت کا نظام اللہ تعالی کے فضل سے موجود ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں جی بالکل ٹھیک ہے سب جزاکم اللہ احسن الجزاء یا اکثر ہمارے شرکاء کا بھی بہت شکریہ ادا کرے گا جنہوں نے بہت آسان طریقہ سے ان کے سوالات کے جوابات دیئے اس طرح جو ہمارا آج پاکستان ہم نے آج شام میں جو اس ریس ہوگی ان شاء اللہ اگلے تین پروگرام ہوئی مضمون کو مزید آگے ڈیلیٹ کریں گے اس بارے میں گفتگو کریں گے آج ہم نے جو ایک آخری زمانے میں جو قصور تھا ایک موت کا ایک مسئلہ کا اس کے بارے میں بات کی ہے اسلام میں مسیح موعود امام مہدی کے بارے میں کیا تصور ہے تو ان کی آمد اللہ تعالی کے فضل سے ہو چکی ہے اس تحریک میں چوہدری کے آخر پر چودھویں صدی کے سر پر گزشتہ صدی گزر چکی ہے وہ صدی میں آپ کو کوئی نسخہ نظر نہیں آئے گا جو کھڑا ہوا ہوں جس نے یہ دعوی کیا ہے کہ خدا تعالی نے اس کو بھیجا ہے وہ ہیں جو انہوں نے چوتھی صدی کے سر پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ خدا تعالی نے آپ کو اس کی حیثیت سے امام مہدی کے صحت مسیح موعود بلکہ اس سے بڑھ کر جو تمام انبیاء میں جو آخری وقت میں موت کے متعلق خبر دی گئی تھی خدا تعالی نے آپ کو ان پیش گوئیوں کا مصداق بنا کر حضور صلی وسلم کے تابع آپ کے دین کی خدمت کے لیے انوار کے ساتھ جواب عملۃ باکستان  چلی گئی ہے اور اس کے نتیجے میں ہوئی ہے ان سے نجات پائیں اور خدا تعالیٰ کی یہ رسی ہے اسے پھر سے وابستہ ہو اس مضمون کو ہم آگے چلیں گے ان شاء اللہ اگلے پروگرام میں ہم جو وقت تھا جو زمانہ تھا آنے والے مسیح موعود کے بارے میں امام مہدی کے بارے میں ڈسکس کریں گے کہ یہ سلسلہ آگے علامات کے حوالے سے بھی آگے چلے گا تو ضرور ہمارے ساتھ رہیں اس کے سوالات ہوں آپ ابھی بھی نہیں دے سکتے ہیں تو انشاءاللہ کوشش کریں گے تب تک کے لئے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 142 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: