Rahe Huda – Sadaqat Maseehe Maood PBUH K Dalail




Rahe Huda – Sadaqat Maseehe Maood PBUH K Dalail

Rahe Huda 22nd June 2019 – Rahe Huda – Sadaqat Maseehe Maood PBUH K Dalail – Qadiani India

ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دے دل سے ہے خدا میں علی سے ہے خود ہی میں ختم الرسل الرحمن الرحیم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج 2019 تے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے ہیں اور ناظرین یہ وقت ہے پروگرام رہے خدا کا قادیانی اور زبان سے پروگرام رہے ہو خدا کی جو سیریز ہے اس کا آج تیسرا دن ہے جو اس وقت ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ماموں آج کا پروگرام بھی پیش کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس وقت ڈیوٹی پر موجود ہیں ان کے جوابات حاصل کر سکتے ہیں ٹیلی فون لائنز کے علاوہ ٹیکس میں 25 فیصد اور ای میلز کی بھی حسب معمول سہولیات موجود ہیں جن کے ذریعے ہمارے مجاہدین ہم تک اپنے سوالات چاہتے ہیں پر ہم سے رابطے کی تفصیلات کو ملاحظہ فرما رہے ہوں گے ناظرین کرام قادیان دارالامان سے جو سیریز ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جیسا کہ ہمارے رویوں سے جانتے ہیں جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی علیہ السلام کی تصانیف میں سے کسی ایک تصنیف کو منتخب کرتے ہیں اور اس میں جو حقائق و معارف کی باتیں آپ علیہ السلام نے بیان فرمائی ہیں اس پروگرام کے ذریعے ہمارے ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں تاکہ جو علم معرفت کا خزانہ بانی جماعت احمدیہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ہے مشاہدہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ اس میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی تصنیف لطیف ایام مسلہ کے حوالے سے ہم بات کر رہے ہیں گزشتہ دو ایپیسوڈ میں ہم نے تفاصیل پیش کی ہیں مختلف موضوعات کے تعلق سے ہم نے باتیں کی ہیں ہم میں سے آپ میں سے اکثر نے اس پروگرام سے بھی استفادہ کیا ہوگا آج بھی اسی تسلسل کو جاری رکھیں گے اور ہم آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے آج کے اس پروگرام کے ذریعے سے آج کے سوٹ میں جو گفتگو میں ہمارے ساتھ شامل ہوں گے علماء کرام کا تعارف کروا دیتا ہوں صاحب مولانا مجاہد عباس عطاری 2003 پروگرام کے دوران پہلے سے ہی عبدالحنان کا پروگرام ہے تو خیر مقدم کرتا ہوں ہو از نمک حرام جس دور کا اس وقت ہم ذکر کرنے جا رہے ہیں یہ ایک ایسا دور تھا جب اسلام پر چوطرفہ حملہ ہو رہا تھا ایک طرف عیسائی طاقت تھی جو اسلام کو نیست و نابود کرنے کے عزم کے ساتھ مذہبی تثلیث کی تبلیغ میں ہندوستان میں مصروف تھا دوسری طرف ہندو صاحبان تھے جو اسلام پر اور بانی اسلام پر طرح طرح کے اعتراضات کرنے میں مصروف تھے اور مسلمانوں کی اپنی ایسی قسم پرسی کی حالت تھی کہ وہ اسلام کے دفاع کرنے سے اور بانی اسلام کی شان سے دنیا کو روشناس کرانے سے محروم تھے اور نہ صرف محروم تھے بلکہ جو نیچریت سے متاثر ہو کر مذہبی جو تہذیب مغربی تہذیب سے متاثر ہوکر خدا تعالی کی بات صفحات اور اسلامی جو اساسی تعلیمات سے تعلیمات ہیں ان سے وہ مسلمان نہیں ہوں گےزمانے میں اللہ تعالی نے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا آپ کی حالت کو دیکھا تو دو قسم کے ردعمل علیہ الصلوۃ والسلام سے ظاہر ہو گئے سب سے پہلے تو یہ کہ آپ علیہ الصلاۃ وسلام اللہ تعالی کی طرف جھک گئے اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگنے لگے کہ اسلام کو خدا تعالیٰ خود اپنی طرف سے غلبہ عطا کر سکتا ہے اور اس کے لئے آپ کی طرف آپ نے محنت شروع کی مختلف کتب کا مطالعہ شروع کیا مختلف مذاہب کی کتب مقدس ہیں ان کا مطالعہ شروع کیا اور اسلام اور بانی اسلام کے حوالے سے شروع سے پیش کرنا شروع کیا اور تصنیف و تالیف کا آپ نے سلسلہ کا آغاز فرمایا پھر آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی اس نے 1989 میں اس نے فرمایا مہدی ہونے کا دعویٰ فرمایا اور دنیا کے سامنے پیش کیا جائے مسلح طالبان نے ایک سو اٹھانوے میں تصنیف فرمائی اس کی اہمیت ہے کیونکہ آپ علیہ السلام نے خود اس کتاب کے حوالے سے بیان فرمایا ہے کہ خدا تعالی نے جو پیغام مجھے دیا ہے میں نے اس کتاب کے ذریعہ سے وہ پیغام دنیا تک پہنچا دیا ہے نیز آپ علیہ السلام نے اس کتاب میں اس بات کا بھی ذکر فرمایا ہے اور جماعت احمدیہ کی صداقت کے لیے جو دلائل ہیں وہ بھی آپ علیہ السلام نے کسی اس کتاب کے ذریعے سے دنیا کے سامنے پیش کیے ہیں ہیں تو اس کتاب ایام صلح کی بڑی اہمیت ہے ہماری ویب سائٹ ہے اور یہ کتاب پی ڈی ایف کی شکل میں موجود ہے اردو زبان میں اس کو پڑھ سکتے ہیں جو اردو زبان پڑھنے پڑھ نہیں سکتے ہیں وہ اس کتاب کو با آواز بھی سن سکتے ہیں اس کتاب کی جو آڈیو ریکارڈنگ ہے وہ بھی موجود ہے تو میں اپنے اسی طرح جو ہمارے دوسرے دوست اس پروگرام کو اس وقت مشاہدہ کر رہے ہیں کہ کتاب ایام صلح کا ضرور مطالعہ کریں تب آپ کے علم میں اضافہ ہوگا اور آپ جان سکیں گے کہ اسلام کیسا خوبصورت مذہب ہے جو ایک زندہ خدا کا تصور پیش کرتا ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے اس میں اللہ تعالی کا وجود بڑی وضاحت کے ساتھ اس کی تمام صفات کو آپ نے دنیا کے سامنے بڑی وضاحت کے ساتھ پیش کروایا ہے دلائل کے ساتھ آپ نے اس  دیگر ادیان و سلم نے بیان کی ہیں جو اسلام کو تقویت دینے والی باتیں ہیں جو اس لئے میں ایک بار پھر ہمارے نزدیک سے درخواست کروں گا کہ کتاب ایام صلح کا ضرور مطالعہ کریں اور ہمارے ایپیسوڈ کبھی دیکھیں جس سے آپ کو خلاصی کی شکل میں کتابیں امثلہ میں جن باتوں کا ذکر فرمایا ہے اس خاک میں مل جائے گا جس کے نتیجے میں آپ کے اندر اس کے حوالے سے مزید دلچسپی پیدا ہو گی اس مختصر سی تمہید کے بعد ایک مرتبہ پھر میں ناظرین کو یاد دلاتا رہوں گا یا دلانا چاہوں گا کہ اس وقت سے آپ کے لئے ایکٹیویٹ ہیں آپ فون کر سکتے ہیں جس موضوع پر گفتگو کرنے جا رہے ہیں اس حوالے سے سوالات ہیں تو فون کر سکتے ہیں آپ ہمیں بڑی خوشی ہو گی کہ آپ کے پاس میٹنگ کریں آپ کو اپنے سوالات اور ان کے جوابات آپ کی خدمت میں پیش کریں مولانا محمد کو سب سے کرنا چاہ رہا ہوں کہ جس طرح کے بتایا جاتا ہے کہ اسلام کی آمد کے زمانے میں ہوئی ہے تو حالات بھی کر رہا تھا جس نے کیا ہے یہ بھی صداقت کی دلیل ہے تو میں اس حوالے سے مزید تفصیلات جاننا چاہوں گا اگر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایااب بس کر اس میں غلط استعمال ہوا ہے بدرن کے بدن میں اب اس کا جو ترجمہ کیا جاتا ہے عام طور پر اللہ تعالی برکت میں تمہاری نصرت کر چکا ہے یہ تم اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن نہ سارا بدن و نصارہ یہ دو الگ معنی دیتا ہے مثال کے طور پر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا لا تناصرون کو ملا ہوں فی مواطن کثیرہ یہاں پر ناصر الخرافی کا لفظ ہے اور جگہوں پر اولین میں ہم نے تمہاری مدد کی کی اگر بالکل محدود ہوجاتے کہ بدر کے میدان میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کی تائید و نصرت فرمائے اور دوسرے طرف کے معنی ہیں قوم کا سردار دار النور اسلام آباد رو اور تیسرے ماں نے اس کے یہ ہوتے ہیں کہ ایک چشمہ جو بدر کے مقام پر ہے اور میدان اب یہ تینوں مان اگر ہم لیتے ہیں تو ایک تو اللہ تعالی نے مسلمانوں کی بدر کے میدان میں غیر معمولی تائید و نصرت فرمائی سندھ 74600 24 کوئی جنگ ہوئی تھی اور کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اور مسلمانوں کی 313 اور اللہ تعالی نے غیر معمولی طور پر مسلمانوں کو فتح نصیب کی لیکن یہ پیش گوئی آئندہ کے لئے بھی تھی کہ ایک زمانہ آئے گا کہ مسلمان پھر اللہ کی حالت میں پہنچ جائیں گے انتہائی کمزور ریت کی حالت میں پہنچائیں میں پہنچ جائیں گے اس وقت اللہ تعالی بدر رضی اللہ تعالی چودھویں کی چاند کی طرح ایک قوم کے سردار یعنی امام امام مہدی مسیح موعود کو بھیجے گا اس بندے بندے سے مشابہت دی گئی ہے جیسے چاند کی اپنی ذاتی روشنی نہیں ہوتی بلکہ یہ صورت سے اونچی آواز کرتا ہے اور اس کو منعکس کرتا ہے چودہویں چودھویں صدی ہجری میں امام مھدی علیہ السلام وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور دنیا پر لائیں گے اور نیک عمل کریں گے آپ کا ذہن چودھویں صدی کے شروع میں ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں بدر پر ایسے عظیم الشان نشان کے اظہار میں آئندہ کی بھی خبر رکھی گئی تھی وہ یہ کہ بندر چودہویں کے چاند کو بھی کہتے ہیں یہ سوچو کبھی صدی میں اللہ تعالی کی نصرت کے اظہار کی طرف ایمان تھا اور چودھویں صدی میں اللہ تعالی کی منشا کے مطابق احمد کا بھروسہ ہوا اور وہ میں ہوں معلوم ہوا جلد اول صفحہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مراد یہ لے رہے ہیں کے رسول کے متعلق موضوع روایات عمل اور وہ ہے اب اس کی ہیں کہ جس میں حضرت انسان کے چودھویں صدی کی بات ہے اس زمانے میں ایک اور بات ہے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی کہ کیا کیفیت ہوگی جب مسیح ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور وہ تمہیں میں تمہارے امام ہوں گے اب اس میں ایک تسبیح بیان کی گئی تھی کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودہ صدیاں گزر گئیں تو حضرت عیسی علیہ السلام کا ظہور ہوا انسائیکلوکیا بارش ہوگی اسی طرح ہیں جب یہ مسلمان انتہائی پستی میں چلے گئے تو انہوں نے محسوس کیا کہ آپ کو چودنے کی جو بات کہی گئی ہے اب وہ پوری ہوگی اور مسیح موعود اور امام مہدی علیہ السلام آئیں گے اور اہل بصیرت نے اس کو سمجھا اور پھر اعلان کیا اس کا یہ دیکھو آپ کو چھوڑنے والا ہے اللہ تعالی کی طرف سے کوئی آنے والا ہے ہندوستان کے عہد کے مشہور جو اہل حدیث بیٹے تھے نواب صدیق حسن خان صاحب نے کہا ہے کہ ان کا امام مہدی کا خروج بارہویں صدی ہجری کے بعد اور تیرہویں صدی ہجری سے تجاوز نہیں کرے گا اب یہ زمانے کے حالات دیکھ رہے تھے اور امام مہدی کا زمانہ شروع ہونے والا ہے اور اس کے بیٹے اور تھے وہ یہ کہہ رہے ہیں اب چودھویں صدی ہمارے سر پر ہے اس صدی سے اس کتاب کے لکھنے تک کے مہینے گزر گئے ہیں شاید اللہ تعالی اپنے فضل اور عدل رحم و کرم فرمائے اور 46 برس کے اندر مہدی ظاہر ہو جائیں یا دوسری بات تیسری ایک مولوی شکیل احمد صاحب کے زمانے میں ٹاؤن میں مسلمانوں اور اسلام کا نقشہ کھینچتے ہوئے اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں دین احمد کا زمانے سے مٹا جاتا ہے نام کہہ رہے ہیں مہدی برحق نہیں ہوتے دیر سے اترنے میں خدایا کیا ہے یہ خود اس بات کا اعلان کر رہے تھے کہ گردی نہیں مٹتا چلا جا رہا ہے مسلمان ہی ختم ہوتے چلے جا رہے ہیں یہاں کچھ رہا ہی نہیں اب راہ دین باقی نہ اسلام باقی ایک اسلام کا رہ گیا نام باقی تو یہ حالت ہوگئی ہے اور ایسی حالت میں امام مہدی کا ظہور ہونا چاہیے مگر بدقسمتی سے یہی کہہ رہا ہوں لگتا ہے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تورات میں پیش ہوئیں تھیں اور یہود کے اہل بصیرت نے اس کو سمجھا تھا اسی وجہ سے انہوں نے یہ سفر بیانی مدینہ منورہ میں بودوباش اختیار کیا کہ جب وہ مسئلہ موسی تو ہم سب سے پہلے اس پر ایمان لانے والے ہوں گے اور ظاہر ہے کہ وہ صحت کے آئے گا لیکن یہ کیا کر رہے ہیں یہ بدقسمتی سے اس کو کی کہ ان کو توفیق نہیں ملی حضرت موسی علیہ السلام کا مسئلہ یا اکثر نے انکار کیا اسی طرح یہ اکابر جو اس وقت احساس کر رہے تھے کہ بھی رہے تھے ان میں سے بعض کو توفیق ملی اور اکثر کو توفیق نہیں ملی اب اگلی بار ہم کرتے ہیں کہ بعض صوفیاء ایسے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نشاندہی کر رہے تھے حالانکہ اس وقت تھم سا نہ کوئی دعوی تھا نہ آپ کا اعلان کیا تھا  بہت بڑے صوفی تھے یار تیرا بنانے کے بعد جگہ اور سبق لئے اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب نہیں پڑھی اور اس کے بعد رند ہیں یہاں سب مریضوں کی ہے تمہیں پہ نگاہ تم مسیحا نہیں خدا کے لئے کہ ایسا غلام احمد صاحب جتنی ہم روحانی طور پر مریض ہے سب ٹھیک ہے آپ سو جائیں لیکن آپ ہمیشہ انکار کرتے رہے کہ مجھے اللہ تعالی کی طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں ہے اس لیے میں نہ کوئی بات کر سکتا ہوں نہ کسی جماعت کی بنیاد رکھتا کیا دیکھوں میری ضرورت نہیں ہوئے لودھیانہ میں ہیں ان کی خبر ہے غریباں ایک قبرستان ہے اس میں ان کی تدفین ہوئی تو ان کے چار سال کے بعد پھر جماعت کی بنیاد رکھی گئی اب دیکھیں اتنے بڑے صوفی تھے کہ انھوں نے واضح طور پر بتادیا کہ اگر کوئی مسیحا بنے گا اور مریضوں کا علاج کرے گا وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشگوئی جس کا انسان نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا وہ گلاب شاہ صاحب کی پیش گوئی ہے ان کے ایک شاگرد تھے میاں کریم بخش کا ان کو ایک دفعہ کہااچھا کیا قرآن میں بھی غلطی ہیں قرآن تو اللہ کا کلام ہے تو انہوں نے جواب دیا تفسیر و پر تفسیر ہوگی شاعری پھیل گئی جب وہ آئے گا تو فیصلہ قرآن کرے گا پھر اس کو یہ فیصلہ قرآن کرے گا اور مولوی انکار کر جائیں گے پھر یہ بھی کہا انکار کریں گے پھر میں نے پوچھا ایسا اب کہاں ہے تو نے جواب دیا بیج قادیان کے پھر رہیں موسیٰ نے پوچھا عیسی علیہ السلام نبی اللہ آسمان پر اٹھائے گئے اور کعبہ پر اتریں گے تب انہوں نے جواب دیا عیسی ابن مریم مر گیا اب دیکھیں گے اس میں وہ واضح طور پر کہہ رہے ہیں مسلسل کا کوئی دعویٰ نہیں تھا 1960 میں عمر 33 سال تھی کی پیدائش ہوئی تھی قادیان کے امام مہدی مسیح موعود پیدا ہو چکا ہے اور اور مولوی اس کی مخالفت کریں گے اور قرآن کی تفاسیر میں جو غلطی ہیں وہ اس کو درست کریں گے لیکن اس میں سے بعض نے ان کے عقیدت مند یا کریم بخش صاحب ملتان حقیقی جمعہ میں شامل ہوئے لیکن بہت سے ایسے ہی ایک اور بات کرکے بات ختم کرتا ہوں مولانا عبداللہ غزنوی صاحب بہت معروف صوفی بزرگ تھے حضرت سلطان کے پاس جایا کرتے تھے ان کی وفات اٹھارہ سے ہوئے عمر واضح سلطان تھا ہے ابھی بھی ہے لیکن ان کی قبر کا پتہ نہیں چلتا ہے لیکن وہاں ان کی تدفین ہوئی تھی انہوں نے ایک دفعہ یہ پیش گوئی کی آپ نے ایک منشی محمد یعقوب صاحب کو اللہ تعالیٰ کے اذن سے انہوں نے بتایا کہ ان کی قادیان کی ہوا مگر افسوس میں واضح طور پر سیاسی میں فوت ہوچکے ہیں کہ ان کا کوئی علم نہیں تھا ابھی تو مسلمانوں کی حالت دیکھتے ہوئے اور جو میں نے قرآن اور حدیث کی پیش گوئیوں کا ذکر کیا اس سے نتیجہ نکالتے ہوئے ہے اور یہ کہا کہ افسوس میری اولاد اس پر ایمان نہیں لائے گی نہیں ہوا کہ غزنوی صاحب کے کتنے بیٹے تھے معذرت سے شدید طور پر مخالفت کی اور یہ پیشگوئی انہوں نے کی تھی باہر ایسا کے اجتہادات اور اس کے ماخذ کے کمال اور دقیق اور پیچیدہ ہونے کے باعث انکار کردیں اور اس کو کتاب و سنت کے مخالف سمجھے دیا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام آئیں گے وہ امت محمدیہ میں آئیں گے اور یہ مولوی کا انکار کریں گے آپ کا ایک حوالہ ہے امام مہدی علیہ السلام کیوں کہ سراپا کلام اللہ کے معاف ہوں گے اس لیے کروڑوں لوگ مہدی ماؤس روح گردانی کریں گے افسوس آج دیوبند کا ادارہ اپنے معنی محمد قاسم نانوتوی کی بات کی بھی پروا نہیں کرتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کر رہا ہے جبکہ ان کے بانی نے یہ کہا تھا کہ امام مہدی صرف قرآن کی تفسیر کریں گے اور ان کے مطابق بات کریں گے اور یہ لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں تو یہ تھا زمانے کے حالات لوگ اور گرمی سے اور جو سخت سرد تھی اور مسلمان ازلہ کی حالت میں تھے صوفیاء کرام میں اندازہ لگا رہے تھے کہ اس زمانے میں امام مہدی اور مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور بھی نہیں ہوا تھا تم لوگوں نے بدقسمتی تھی اور دوسروں کو بھی مخالفت پر غصہ آیا ان کا حساب اللہ کے سامنے اب ہمارے ناظرین کی طرف چلتے ہیں اور کچھ سے ٹیلی فون کالز کے سوالات سنتے ہیں سب سے پہلے ہم بات کرنا چاہیں گے بنگلہ دیش سے مکر مارک زمان صاحب سے جو کہ اس وقت ہمارے ساتھ موجود ہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ خان صاحب کیا پتا تھا وہاں آپ جو سوالات کر رہے ہو کافی لمبی تفصیل ہے اس کی جس طرح مرزا احمد بیگ تعلق سے پوچھا اس کی لمبی تفصیل ہے تاہم محترم مولانا شیخ مجاہد حساسیت درخواست کروں گا کہ آپ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اس عظیم الشان کتاب ایام صلح میں ہے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالی جب کسی کو معمول بنا کر بھیجتا ہے تو اس کی تائید میں نشانات دکھاتا ہے وہ چار قسم کے نشانات ہیں کہ تفصیل سے بیان فرمائی ہے اس تفصیل کی میں جوش ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ فرمان بھی اس نے اپنی اس کتاب میں پانچ ایسے واقعات کا ذکر فرمائے ہیں کہ اللہ تعالی نے خصوصیت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی جماعت احمدیہ کی تائید و نصرت بیان فرمائی پہلا واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبداللہ آتھم کا بیان فرمایا کہ کس طرح عبد اللہ میری بہن کو ایسے لاحق ہوا اور یہ پوری رویدا جنگ مقدس اندر موجود ہے کیسے اسلام نے بیان فرمایا جس نے وضو کیا پھر وہ بچا کے حوالے سے فرمایا ہے کہ کس طرح وہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر آیا اور آخر صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذباللہ گالیاں دے کر اسلام کو بلاک کرتا رہا اور پھر حضور مسیح موعود علیہ السلام کی پیشنگوئی کے نتیجے میں غزہ کے گہرے نشان کا ایک نشان بنا پھر آپ نے جلسہ محتسب کا آئین اسلامی اصول کی فلاسفی کا نشان کر خدا تعالیٰ کی تائید کے طور پر بیان کیا ہے جان آپ نے اپنی اس کتاب میں ڈاکٹر کلینک صاحب کے حوالے سے بیان کی حقیقت میں ہے قرآن سے ہوا اور اس میں اللہ تعالی نے کیسے مدد کی نشانیوں کے بارے میں انہوں نے تفصیل سے پوچھا ہے مرزا احمد بیگ صاحب کی پیش گوئی کی ہے اور یہ پیشگوئی محمدی بیگم کی پیشگوئی کے نام سے مشہور ہے دراصل اس میں دو بڑے اہم ہیں جو سمجھنے والی ہے پہلی بات تو یہ کہ پیش گوئیوں کے اصولوں میں یہ بات داخل ہے کہ جب بھی جس کے بارے میں پیشگوئی کی جاتی ہے اگر وہ رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے تو پیج کو اس کے بارے میں بدل جاتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1988 میں یہ تفصیل میں بیان فرمایا کہ ان کے رشتے داروں میں محمدی بیگم سے نہا لیں طرف سے اور اس طرف سے ان کے رشتہ داروں کی اخلاقی حالت یہ تھی کہ وہ اسلام سے دور ہو چکے تھے اور اسلام کا کرتے تھے اس حالات میں محمدی بیگم کے والد جوتے مرزا احمد بیگ تھے انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام سے نشان طلب کیا کہ آپ اپنے سچے ہونے کا نشان بیان کرتے ہیں تو حضور نے جو دعا کی اس کے نتیجے میں آئینہ کمالات اسلام میں حضرت موسی علیہ السلام نے اس کو بیان فرمایا کہ اللہ تعالی نے بیان کیا کہ نشان کے طور پر کہ اس شخص کی بڑی لڑکی کے رشتے کے لئے تحریک کر اور اس سے کہہ کے وہ تجھ سے پہلے دامادی کا تعلق قائم کرے اور اس کے بعد تمھارے نور سے روشنی حاصل کرے تو یہ پیش گوئی اس کے لیے کی گئی کہ اگر تم اسلام کی صداقت کے نشان کو دیکھنا چاہتےہو سچائی کو سمجھنا چاہتے ھو تو تمھارے لیے اللہ تعالی نے یہ پیش گوئی کا نشان ظاہر کیا ہے کہ تم اپنی بیٹی کے ساتھ اس کے اندر یہ بات بھی داخل تھی کہ اگر وہ رجوع کریں گے پھر اس کی بڑی تفصیل ہے جیسے اسلامیہ اشاعت القرآن میں بھی بیان فرمائی ہے اور دوسری جگہ میں بھی اگر یہ تو ایک راستہ نہیں کرتے کہیں اور اس طرح کریں گے تو تین سال کے اندر ان کا خاوند فوت ہو جائے گا والد فوت ہوگئے اور محمدی بیگم کے والد صاحب مرزا احمد بیگ صاحب تھے انہوں نے اس بات کو نہیں مانا بلکہ اپنی بیٹی کا رشتہ کسی اور کے ساتھ کر دیا جس کا نام آتا ہے سلطان ہے سر سلطان محمد شاہ بہادر شتہ ہونے کے بعد چھ مہینے بعد بیوی کی وفات ہوگئی تو ایسا تو پورا ہوچکا ہے جب وہ پورا ہوا تو اس کے بعد ان کے خاوند نے اور دوسرے لوگوں نے ان کے خاندان والوں نے رجوع کیا کہ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں اور تاریخ میں یہ بات درج ہیں کہ انہوں نے حلفیہ شہادت دی کہ مرزا صاحب کی بزرگی کے قائل ہیں اور ان کے اپنے خاندان کے کئی لوگ تھے جنہوں نے مسلم کی بیعت کی مسیحی محمدی بیگمسے کیا آپ کو شادی کے پاس تھی یا دوسرے بنیادی سوال سب سے ضروری ہے کہ حضرت مسیح علیہ اسلام نے جس وقت کی پیش گوئی کی تھی کہ آپ عمر کے نشان اللہ تعالی نے دیا وہ ان کے سامنے والی لائن پیش کردیا دوسرے حصہ کالونی کے حوالے سے پوچھا ہے وہ بھی مختص کر کے لکھ رہا ہوں بات ہے اسلام کی پیش گوئی کے مطابق ہوئی اور اس کا ایک شخص نے قتل کر دیا اس کے بعد یہ تاثر ہوا کنواریوں کی طرف سے اعتراض اٹھایا کہ شاید نام کا اسم اعظم ہے اور انہوں نے اس کی تفتیش بھی کی اور اس کے طور پر یہ کوشش کی کہ اس وقت پولیس نے قادیان میں بھی تحقیق کی لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ظاہر ہوا بلکہ اس نشان میں نے جہاں آر یو پر اتمام حجت کر دیں وہاں جو نیک اور سید لوگ تھے وہ اس نشان کے ذریعے اپنی پسند کے ساتھ اسلام میں داخل ہوئے یہ دونوں ہیں ہیلو اس کے ہیں جن کے دل میں بجی تھی کہ اپنی تھا وہ تو اور دور ہو گئے اور اس میں بڑھ گئے اور جن کے دل میں اللہ تعالی نے کی تعبیر رکھا ہوا تھا وہ الہام کے نتیجے میں اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے نتیجے میں وہ احمدیت میں داخلے اور ایسے بہت سارے لوگوں کی فہرست ہے جو پیش کی جاسکتی ہے شیخ وسیم احمد صاحب ان سے بھی بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسلام علیکم موجودہ مطلق العنان پر پر وسیم صاحب سے ہم نے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے اسی درمیان ہم پروگرام کو آگے بڑھاتے ہیں مولانا شیخ مجاہد ہم سب سیاسی سے ہمارا یہ سوال ہے کہ جس طرح بھی ہم زمانے کے تعلق سے بات کر رہے ہیں کہ اسلام کے سب سے پہلے آپ کی پیدائش کے وقت سے ہی جو گزر گئے تھے امت کے انہوں نے آپ کے تعلق سے ہوئی ہیں شروع کر دی تھی لیکن ہم سے حضرت نبی کریم صل وسلم کی پیشگوئیوں کو دیکھتے ہیں تو ایک بڑی اہم پیش کی گئی ہے جس میں آپ نے فرمایا امام مہدی کا ظہور ہو گا اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت ہو گئی کہ وہ یہودی مشابہ ہو جائیں گے تو یہود کے وہ کون سے عقائد ہیں جو ہر مسلمان کے زمانے کے مسلمانوں کے اندر بھی پائے گئے تھے اور عقائد کے حوالے سے جو میں بیان کی گئی ہے اس سے سمجھا اللہ تعالی نے قرآن مجید کی شروعات میں سورہ فاتحہ رکھا ہے اور احادیث کا جذبہ مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ سورج جو ہے عمل قرآن ہے یعنی تمام قرآن مجید کے مضامین کا اس کے اندر خلاصہ موجود ہے ہے اس سورت کے اندر اللہ تعالی نے مسلمانوں کو دوائی کھائی ہے اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب اور اس صورت کو اتنی شدت کے ساتھ لازم قرار دیا گیا ہے مسلمانوں کے لیے کہ ایک مسلمان فرض نمازوں میں دن میں ستر ہزار کم سے کم اس کے لیے ضروری ہے کہ اس دعا کو پڑھے اور اس کے بعد نماز مکمل نہیں ہو گی نصرت فتح اس کو پڑھنی پڑے گی تب بھی اسکی نماز ہوگی جو استخارہ تو میں اس کو پڑھنا ہے اس نے یہ بتایا ہے کہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے آپ کی امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو اللہ تعالی کے احکامات کی پیروی کرنے کے نتیجے میں مالی لوگوں میں سے ہوجائیں گے اور وہ لوگ ہونگے صراط الذین انعمت علیہم ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے وقت بھی اس امت میں سے پیدا ہوں گے جو اللہ تعالی کے احکام کی مخالفت کے نتیجے میں یا عدم تعمیل کی وجہ سے وہ مغضوب اور ظالم جائیں گے اور اس کے بارے میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے پوچھا کہ یہ کون ہے کیا ہے یہودی اور عیسائی ہے تو آپ کی حدیث واضح نہیں تو اور کون ہے یہی وہ لوگ ہے تھوڑا سا نکل میں بتا دو دو اسرائیلیات کے بارے میں یا تاریخ بنی اسرائیل کے حوالے سے بات کر لو اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے دو بیٹے ہوئے ان میں سے ایک بیٹا یعقوب علیہ السلام نے جو نبوت کے درجے پر فائز ہوئے پھر ان کے بارہ بیٹے ہوئے یہ بارہ بیٹے جو بنی اسرائیل آتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں یہودی بھی کھلاتے قرآن مجید میں اللہ تعالی نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان کے عقائد کے بارے میں ان کی خصوصیات کے بارے میں ان کے اندر اچھائی پائی جاتی تھی اس کے بارے میں بیان کیا اور پھر ان کی بعض برائیوں کو خاص طور پر پیش کیا اور امت مسلمہ کو یہ بتایا کہ دیکھو یہ تمہارے سامنے اس لئے بار بار بیان کیا جا رہا ہے کہ تم بھی ان کے جیسے نہ بن جانا بلکہ ان کے حالات کو دیکھتے ہوئے ان سے عبرت حاصل کرنا یہود میں سے ہیں جو ایک عظیم الشان بیگ سے حضرت موسی علیہ السلامچنانچہ سورہ مزمل کے مشہور آئے تھے جو بار بار ہمارے غم میں بھی پیش کی گئی آیت نمبر 16 میں اللہ تعالی نے بیان فرمایا انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم اللہ کے ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جو تم پر گواہ ہے اور یہ کما اس طرح ہے جس طرح کے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا کہ حضرت موسی علیہ السلام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت کو بار بار بتایا کہ دیکھو تم بھی یہود کی طرح نہ ہو جانا بلکہ کہا کہ تم میں نمکین ہے ویسے ہی ہوں گے جن کے مشہور حدیث ہے تیری میری کتاب الامام میں درج ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علامتیں کے ضروری مسائل کے ساتھ کا حکم ضرور میری امت پر ایسا وقت آئے گا ما عطا اللہ بنی اسرائیل جیسا کہ بنی اسرائیل پائے حضور نال نال کہ جیسے ایک جو دوسرے جوتی کے برابر ہوتی ہیں ویسے ہی ان کی بھی حالت ہوجائے گی حتی کہ یہاں تک کہ ان کا نام بن جاتا مولانا بیان کی کہ اگر بنی اسرائیل میں سے یہود میں سے کسی نے اپنی والدہ کے ساتھ زنا کیا تو میری امت میں سے بعض کو وہاں سے نکل آئیں گے پھر آپ نے بتایا کہ جیسے بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئی تھی میری ماں بھی بڑھے گی اور طرف لے جائیں گے ہمارے سامنے خدا تعالی کی عظیم الشان کتاب ہے اس کے اندر اللہ تعالی نے یہود کے علامات بیان کر دی ہے جو اس غرض سے خاص طور پر بیان کی کہ امت محمدیہ کے لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں عبرت حاصل کریں واقعے سے یہود کے چند عقائد قرآن مجید میں اللہ تعالی نے قیامت تک کے لئے بیان کرتی ہیں وہ پیش کرتا ہوں سورہ البقرہ آیت نمبر 112 کے اندر اللہ تعالی نے بیان فرمایا آئے وہ یاں خدا کے پیارے ہیں اور ہمیں جنت میں ہے آج آپ دیکھیں کہ بد قسمتی سے مسلمانوں کا ہر فرقہ اسی بات کا اعلان کرتا ہے کہ ہمیں جنت میں باقی کافر ہے جو حالت یہود کی ہو گئی تھی بہتر فرقوں میں بٹ گئے مسلمان طرح تو ان کا اثر کو میں بٹ گیا پس یہ دعویٰ کہ یہود نے جیسے کہ ہم جنت میں داخل ہوں گے تو اسے نہیں ہوں گے آج مسلمانوں کے فرقوں میں پایا جاتا ہے پھر یہود کی ایک علامت اللہ تعالی نے قرآن مجید سورہ البقرہ آیت میں بیان فرمائیں آمین یا رب العالمین اللہ من الکتاب و شتر و نہی عن المنکر یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی طرف سے جو نازل کیا گیا اس کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے میں معمولی قیمت لے لیتے ہیں پھر سورۃ النساء 46 اس میں بیان فرمایا میں نے اللہ حافظ ہو جوہر نے فون مکالمہ ہیں یعنی یہود میں ایسے بھی ہیں جو کلمات کو اس کے اصل گاؤں سے ہٹاتے ہیں آپ کی طرح اور دوسری بات کے اندر تحریف کر دینا بدقسمتی سے آج مسلمان علماء کا یہ حال ہے کہ وہ سچی بات کو چھپاتے ہیں جب مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو سچائی کو وہ پردہ لوگوں کی مجلس سے باہر تو بیان کرتے ہیں کہ ہم مانتے ہیں درست ہے لیکن لوگوں کے سامنے نہیں آتے پھر آپ دیکھ لیجئے یہاں بیان کیا گیا کہ وہ سچائی کو چھپا کے سامنے نکل لیتے ہیں واضح رہے کہ مسلمانوں کے کسی بھی مسلک میں چلے جائیں آپ کو تو حاصل کرنے کا فتویٰ لے لیجئے بازاروں میں موجود ہے ہر جگہ آپ دیکھ سکتے ہیں پھر آپ غور کرکے دیکھئے السلام نے بار بار نصیحت کی اپنی امت کو یہاں تاریخ میں درج ہے کہ آپ نے اپنی وفات سے پہلے بار بار موجود لوگوں کو کہا کہ لعن اللہ یہود و نصاریٰ اللہ تعالی نے یہود اور نصاریٰ پر لعنت کی ہے کیوں کو جو انبیاء کی قبریں تھیں ان کو مسجد بنا لیا آج دیکھئے بدقسمتی سے افسوس کے مسلمانوں میں یہ چیزیں پائی جا رہی ہیں کہ وہ خود مسلمانوں میں سے جو بڑے بڑے مدبر ہوئے ہیں علماء ہوئے ہیں انہوں نے اس کو بتایا اور یہ علامہ اقبال نے جو بات بیان کی ہے کہ وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود آخری بات بیان کر کے آپ نے اس بات کو ختم کر دوں گا وہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے بتایا کہ یہود پر خدا تعالی صبر کا اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے اپنے معبود آنے والے مسیح کا انکار کیا نہ صرف انکار کیا بلکہ اس کو اذیت دی ہاں تو اس کو مارنے کے لیے صلیب پر لٹکایا اور اس کے نتیجے میں حضور علیہ الصلوۃ امت محمدیہ سے نہ دس مسیح موعود علیہ السلام کی شکل میں ظاہر ہوا آج مسلمانوں کی اکثریت اس سوا سو سال سے اس کا انکار کر رہی ہے نہ صرف انکار کر رہی ہے بلکہ بار بار کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح تکلیف پہنچانے میں وہ شعر ہو ویزہ نقصان پہنچانے میں ہر جگہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال پر کس بات کو ہضم کرتا ہوں حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں سورہ فاتحہ میں ایک مخفی پیشگوئی موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ جس طرح یہودی لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو کافر دجال کہہ کر وضو علیہ بن گئے بعض مسلمان بھی ایسے بنیں گے اس لئے نیک لوگوں کو یہ دعا سکھائی گئی کہ وہ مالی ہم میں سے حصہ لیں اور مغضوب علیہم نے سورہ فاتحہ کا المقصود مسیح موعود اور اس کی جماعت اور اسلامی یہودی اور ان کی جماعت اور ضالین یعنی عیسائیوں کے زمانہ ترقی کے خبر ہے جو کسی قدر خوشی کی بات ہے کہ وہ خبریں آج پوری ہو رہی ہیں المشی ستیس رومنسیہ اسلام اپنے شعر میں بھی فرماتے ہیں پھر دوبارہ آگئی اخبار میں رسم یہود پر مسیحی وقت کے دشمن ہوئے یہ جو بازار گرم کر پھر دے لوگوں کو خدا کی طرف نیزدی توفیق عطا وہ کچھ کرے اللہ تعالی امت کو یہ توفیق دے کہ وہ اپنی موت کو پہچاننے کی کوشش کریں اور اسے دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کر کے اس کو لہجہ شیخ وسیم صاحب سے بات کرنے سے پہلے کوشش کر رہے تھے کہ ان سے دوبارہ ہمارا رابطہ ہوا ہے ایک مرتبہ پھر کوشش کرتے ہیں ان سے بات کرنے کی اسلام علیکم رحمت اللہ شیخ السلام علیکم ورحمۃ اللہ اللہ وسیم صاحب نے اپنا سوال کیا ہے محترم مولانا محمد کاشف سے پوچھنا چاہوں گا وسیم صاحب نے لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کا اعظم کے تعلق سے عقیدہ ہے کہ ان سے پہلے دنیا میں انسان تھے اس کا مدلل جواب دیں جو کبھی کبھی آدم علیہ السلام کی مثال میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے ہے دوسرا گروہ وہ ہے جس سے یہ موجودہ دور جو سات ہزار سال کا دور ہے آدم نبی وہ شروع ہوتا ہے اس کو بھی آدم کہتے ہیں اگر ہم اس دنیا میں بہت آئے ہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے تفسیر کبیر میں حضرت مجدد دین ابن عربی رحمہ اللہ کے ایک شخص کا ذکر کیا ہے دو تین جگہ اس کا ذکر ہے حضرت فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں کھانا کھاتا طواف کرنے کے لیے کھڑا ہو سکتا ہوں کے لمبے قد کے کچھ لوگ ہیں جو کھانا کعبہ کا طواف کر رہے ہیں ہیں اور میں ان کو بڑا عجیب سا محسوس کرتا ہوں یہ کون ہے تو میں نے ان سے پوچھا ایک سے کہ تم کون لوگ ہو تو نے کہا ہم مختلف آدم ہیں جن سے یہ دنیا شروع ہوئی ہے تو انہوں نے پوچھا کہ وہ آدم کہاں ہیں جس سے ہماری دنیا شروع ہوئی ہے تو اس کی طرف اشارہ کیا گیا تو بعد میں اس نے بتایا کہ ہم تو چالیس ہزار سال پہلے سے اور ہم خانہ کعبہ کو اسی طرح تباہ کرتے ہیں اور ہر شروع ہوئی اس کا نام دیا گیا یا پھر جماعت احمدیہ کا اس سے کیا تعلق ہے بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اس کو اس کا ذکر فرمایا کہ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ زمین و آسمان کو لاکھوں سالوں سے لیکن جو آدمی جس کی بات ہم کر رہے ہیں وہ آدم نبی ہے اگر نبی سے ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جو سات ہزار سال پر مشتمل ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت سے کیا تعلق ہے حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ پہلا قدم پہلے ہزار سال میں ہوامارا کہ وہ مشابہت میرے سے ہے میں آدم کا مسئلہ بھی ہو آدم جیسے جمعہ کے دن پیدا ہوا میں بھی اس دن پیدا ہوا اور بہت سی مشکلات آتی ہیں جو حضور نے بیان فرمائی ہے اور اسی طرح ایک میں ہی نہیں بلکہ آخر ہوں میں امامت زما ہو تو یہ مشابہت حضرت موسیٰ نے اپنی کتاب حقیقت علوی اور بعض اور کتب فرمائیے کہ جس طرح اس وقت توحید عصر نو دنیا میں قائم ہوئی اور اسی طرح میرے اس زمانے میں تقریبا تقریبا اللہ سے لوگوں کا تعلق ختم ہوگیا تھا میرے ذریعہ سر نو وہ قائم ہوا تو یہ حضور نے تشریح بیان کی ہے اور یہ تعلق آدم کا جماعت احمدیہ کے ساتھ درخواست کرنا چاہوں گا کہ ہم کتاب سے بات کر رہے ہیں اور جس موضوع کے تعلق سے بھی ہماری گفتگو ہو رہی ہے ہے اس حوالے سے آپ کے ذہن میں سوالات ہیں تو ہمیں ضرور ٹیلی فون کریں ہمارا فون نہیں سکتا آپ کے لئے اور مولانا محمد کو چاہوں گا کہ جس طرح اس کتاب کی اہمیت بتاتے ہوئے بھی مسلہ میں فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے جو پیغام دیا ہے وہ میں پہنچا چکا ہوں پھر آپ نے یہ بھی بتایا کہ میں نے پوری کر دی ہے جماعت احمدیہ کے عقائد بیان فرمائی اس کتاب میں فیصل کے چودہ سو سال پہلے مکہ اور مدینہ میں دنیا کے سامنے پیش کیا دنیا کے سامنے پیش کیا یہ ہے کہ جو مسلمانوں کے باقی بہتر فرقے ہیں وہ اس قسم کے ہیں کہ ان کے پاس وہ حقیقت پر قائم نہیں رہے وہ کچھ ہونے بنا دیا اور یہ ایک بات ہے ہمارے یہاں قریب سید ریاض ہے کہ آپ ہماچل میں جا کے دیکھیں گے تو اس کا پانی صاف نظر آتا ہے لیکن جیسے جیسے گزرتا ہوا ہریکے پتن میں جاتا ہے وہاں یہ بالکل بند ہو جاتا ہے مرور زمانہ نے اس کو گندا کر دیا اس کے اندر دوسری چیزیں پیدا ہوگی اسی طرح اسلام کا صاف اور شفاف پانی جو مکہ اور مدینہ کے چشموں سے آیا تھا مسلمانوں نے اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان بہتر فرقوں میں اسلام اسلام کیا ہے اور دوسرا نام کیا ہے اور اس کی ہے کہ اسلام تو ایک ہے اللہ ایک رسول ایک قرآن مجید لیکن وہ بہتر میں کیسے بڑھ جائے گا اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ بات کر کے بھاگتا جو اسلام پیش کر رہے ہیں وہ حقیقی نہیں ہیں وہ کچھ کا کچھ بنا دیا ابھی دیکھی کہ ہمارے ہندوستان میں اضافہ فرمائے اور طلاق طلاق طلاق اتنی سی بات ہے مسلمانوں کے لیے کہ دیکھو جو باتیں مسلمانوں کو خود قرآن کی روشنی میں حل کرنی چاہیے تھی اور اللہ تعالی نے جس حکم اور عدل کو مرزا غلام احمد صاحب کو جاتا ہے اس سے ایک سو سال پہلے بتا دیا تھا کہ یہ کبھی رسم ہے اس کو ختم اور جماعت احمدیہ میں تو یہ کوئی رابطہ ہی نہیں یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں لیکن آج دیکھیں یہاں پر کیا مسلمانوں کی اس کی وجہ سے اللہ کے جو پرانے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان کے اوپر صادق شکر ہے بہرحال یہ مسلمانوں کی ساری حضرت ہے آپ رہا جمعہ میں کیا جماعت احمدیہ کی سب سے پہلی بات یہ ہے بولنگ السلام وعلیکم اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے اللہ اللہ محمد الرسول اللہ علیہ الصلاۃ وآتوا الزکاۃ وما ہر جگہ دے کہ پانچ ارکان اسلام ہی سب سے پہلے یہ گواہی دینا لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ 5 وقت اللہ تعالی کے حکم کے مطابق اور رسول کے مطابق سنت کے مطابق نماز ادا کرنا فرض ادا کرنا روزے رکھنا اور پانچواں حل کرنا منصب کا اہل ہے جس راستے کی طاقت ہوئے یہ ان پانچ ارکان اسلام پر جماعت احمدیہ پختہ ایمان اور عمل ہےکہ اللہ پر ایمان لانا فرشتوں پر ایمان لانا کتابوں پر ایمان لانا اور بعض اوقات درجوں خیر اور شر کی ہے اس پر ایمان لانا جماعت احمدیہ پر دل کی گہرائیوں سے ایمان لاتی ہے اور اس کے مطابق عمل کرتی ہے اور رکھتی ہے اگر کوئی جماعت کو یہ کہتا ہے کہ یہ تفسیر ہے جس کے بعد شائع ہوتے رہتے ہیں کہ یہ کافر ہیں یہ فنا ہیں ان کو میں ایک بات رسول کی مسلم کی حدیث کے مطابق بتانا چاہتا ہوں فرمایا یوماہ فہو مسلم حمل جس کسی نے مسلمان کو کافر کہا ہاں اگر تو وہ کافر نکل گیا خود بخود انکار کیا بات ہے ورنہ کفر اس کے اوپر نہیں پڑے گا یہ جتنے جماعت احمدیہ کو طرف تکفیر کرتے ہیں باوجود اس کے وہ خود اپنے آپ کو قبر میں داخل کرتے ہیں اور اپنے آپ کو دائرہ اسلام سے خارج کر لیتے ہیں ایک اور بات جو آج کل عام طور پر یہ فرماتے ہیں کہ یہ ختم نبوت پر ایمان نہیں لاتے تو ختم نبوت کا یہی مطلب ہے کہ آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں تو سب سے پہلے ختم نبوت کے مسلمان توڑتے ہیں یہ کہتے ہیں عیسی علیہ السلام آسمان سے زمین پر اتریں گے جو صاحبان جیل سے نبی تھے رسول تھے سے سات دفعہ کو قرآن میں نبی کو کہا گیا ہے وہ آئیں گے تو پھر ان کی پھر یہ آخری کے معنی شریعت والے نبی ہیں اب آپ ہی قیامت تک کوئی شریعت والا نبی اس روئے زمین پر نہیں آ سکتا آپ کی شریعت آخری شریعت ہے قرآن مجید آخری الہامی کتاب ہے اس کے بعد کوئی کتاب نہیں آئے گی یہ جماعت اپنے قبضے آتی ہے لیکن یہ لوگ جو صبح شام ختم نبوت رہتے رہتے ہیں یہ خود عیسی علیہ السلام صاحب ہیں جن کو اتارتے ہیں اور پھر بھی ان کی ختم نبوت باقی رہتی ہے سمجھ نہیں آتی کس طرح کی باتیں کرتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اس کتاب آیا وسلم نے فرمایا وہ ایک لباس میں پڑھتا رہتا ہوں جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنا رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے اور جس خدا کے کلام یعنی قرآن مجید کو پنجاب مارنا یعنی خدا کے کلام یعنی قرآن مجید کو پنجہ مارنا زنا کا حکم ہے ہم اس کو پنجاب مار رہے ہیں اور فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح ہماری زبان پر حق بو نہ کہ کتاب اللہ ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے وقت جب حدیث اور قرآن میں پیدا ہو سکتے ہیں بالخصوص قسطوں میں جو بالاتفاق ناسخ کے لائق بھی نہیں ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ لائق حشرات حق روز حساب حق جنت حق ہے جہنم حق ہے ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اللہ جل شانہٗ نہیں قرآن مجید میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص شریعت اسلام میں حاکم کرے یا ایک سے زیادہ کرے یا ترک فرائض اور آباد کی بنیاد ڈالے وہ بھی ماہر اور اسلام سے برگشتہ ہے ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھے لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ اور اسی پر مارے اور تمام انبیاء تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے ان سب پر ایمان لاوے اور صوم و صلوۃ زکوۃ اور حج اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ تمامجماعت کی طرف منسوب کرتا ہے وہ خود رسول کے انسان کے حکم کے مطابق اپنے آپ کو دائرہ اسلام سے باہر کرتا ہے کیونکہ مسلمان کو پکے مسلمان کو کافر کہنا دائرہ اسلام سے باہر کرنا خود اپنے آپ کو باہر کرنا ہیں اس لیے ان کو چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان کتابوں کو بڑے غور سے پڑھیں اور وہ بھاگ جماعت کی طرف منسوب نہ کرے جس کا اللہ تعالی اور اس کے رسول اس بات کو کرنے سے منع کیا ہے کہ کسی مسلمان کو بلاوجہ اوہ بات کریں جو وہ ہی نہیں جب میں اپنے آپ کو مسلمان کہہ رہا ہوں جب میں کہہ رہا ہوں کہ میں ارکان ایمان اور ارکان اسلام پر عمل کرتا ہوں تو کسی کا حق نہیں وہ مجھے یہ کہے کہ تو مسلمان نہیں لکھتا مومن الحق دی ہیں ان کی طرف سے سوال اللہ میاں فلم و سلویٰ ہے میں مولانا مجاہد مسافر سے یہ سوال پوچھنا چاہوں گا وہ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے لیے قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں کیا کوئی معیاد مقرر ثابت ہوئی ہے یہ ان کا سوال ہے کہ اسلام کی جو آمد کے تعلق سے جو یہ ہیں کیا اس میں زمانے کے تعلق سے بھی کوئی ٹائم ملتا ہے قرآن کریم اور احادیث میں اس بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں سنجیدہ ابھی جیسا کہ اس سے پہلے میں نے اپنے سوال کا جواب میں بیان فرمائی کہ سورۃ مزمل کے اندر اللہ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قرار دیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ عنہ ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم ہونا رسول اللہ کا لفظ ہے یہ عمل مشابہت کو چاہتا ہے ہے اور اس پر غور و تدبر کریں تو اس سوال کا جواب مل جاتا ہے حضرت موسی علیہ السلام کے بعد یہودی امت کا بنی اسرائیل کے لئے موعود مسیح ظاہر ہوا ویسا ہی معاملہ حکومت کے ساتھ بھی ہوگا تب بھی کامل نظام اس لئے ثابت ہوگی کامل مشابہت عمل ثابت ہوگی حضرت موسی علیہ السلام کے بعد تقریبا چودہ سو صدیاں گزرنے کے بعد اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جمالی نبی کے طور پر تھے آپ نے دعا کے ذریعہ اس امت کی اصلاح کی کوشش کی یہی حال یہاں پر بھی عنصر صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ اس امت پر بھی جو شروعات میں جیسا کہ موسی لازم تھا کہ آپ کے اختتام میں بھی کامل مساوات کے لئے ضروری تھا کہ ایک محمود مسیح کا ظہور ہوتا اور موج مستی چودہ صدیوں کے بعد ظاہر ہوگا جیسا کہ ابھی اس طرح سے پہلے مولانا صاحب گھر کے لحاظ سے بھی بیان فرمایا آیا کہ جس میں چودھویں کا چاند بھی ہے جو پتھر کہلاتا ہے وہ موجوں سے ظاہر ہونا تھا اس نے مسیحیت کی صفات کے ساتھ ظہور پذیر ہوتا تھا اسی لئے اس کے نام کو بھی مسیح موعود کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے وہ آنے والا مسئلہ ہوگا بدقسمتی سے مسلمانوں نے اس کو مغالطے سے یہ سمجھا کہ شاید نعوذباللہ پہلا مسیحی جو اس قوم کی طرف آیا تھا وہ آسمان میں زندہ موجود ہے اور دوبارہ واپس آئے گا پس قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان کر رہی ہیں وضاحت کے ساتھ بیان کریے کہ جس طرح اس امت میں چودہ صدیوں کے بعد بھی ہے کا ظہور ہوا اور وہ صلہ کاری کے ذریعے اس نے ہم سب کو پھیلایا دعاؤں کے ذریعے علم کے ذریعے اپنے مذہب کو پھیلا ہے اسی طرح اس امت میں بھیجو مسئلے مسیح ہے جو مسئلہ اس وقت کے مطابق بن رہی ہے اللہ تعالی ایسے مسائل کو بھیجے گا جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہر کرے گا اور ہمارا ایمان ہے قرآن مجید اور احادیث کی روشنی روشنی میں وہ محمود مسیح بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہے آپ کی اور بھی بے شمار علامات بیان کی گئی ہیں جس میں ایک یہ بھی علامت ہے جو احادیث صحیح مسلم کے اندر جو بیان کی گئی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جناب عطااللہ عیسی بن مریم نے کہا آپ نے بتا دیا کہ وہ ظاہر ہوگا وہ دمشق سے مشرق کی جانب ہوگا اور قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کا جائے پیدائش کی جگہ ہے اس کو اگر ہم دیکھیں نقشے میں بالکل مشرق کی جانب ہے پھر مسیح موعود اسلام نے ایک اور جگہ بیان فرمایا کہ اس کی جگہ کے حوالے سے ملفوظات جلد اول صفحہ 331 کے اندر بیان فرماتے ہیں یاد رہے کہ دجال کا خروج مشرق میں بتایا گیا ہے جس سے ہمارا ملک مراد ہے چنانچہ صاحب حضرت علامہ نے کا ظہور ہندوستان میں بتایا ہے اور یہ ظاہر ہے کہبزرگان کے اقوال میں اس آنے والے کے زمانے کا تعین موجود ہے اور زمانہ خود گواہی دے رہا ہے بار بار کہ وہ آنے والا ظاہر ہوچکا ہے جو علامات مسلمانوں کی گردنیں کے بارے میں بیان کی گئی تھی وہ ساری پوری ہو چکی ہے اسی طرح جو علامات ٹاؤن کی رنگ میں ظاہر ہونے والی تھی وہ بھی ظاہر ہو گئی چاند سورج گرہن کا بھی پس جو صدق دل سے اللہ تعالی کے اس آنے والے کی تلاش و جستجو کرتا ہے اور اطلاع ضرور کو خوابوں کے ذریعہ سچائی کو ظاہر کر دیتا ہے اور دوسرے دیگر کہیں اور شاید ہی کوئی سچائی کو سمجھ جاتا ہے مزہ ایک اور آف لائن ہیں ہمارے پاس ایک اور سوال موصول ہوا ہے یہ سوال مولانا محمد کا تعلق سے فرمایا ہے یہ سوال ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے تعاون کو اپنی صداقت کی نشانی کے طور پر بیان فرمایا ہے تو کیا قرآن مجید سید نے بھی تعاون کے حوالے سے کوئی پیش گوئی ملتی ہے قرآن مجید میں واضح طور پر یہ پیشگوئی ملتی ہے جن میں سے ایک کام تھا پتا لگتا ہے اب یہاں پر جو بات کی گئی ہے اب نکالو جب ان کی اک کے لیے یہ پیش گوئی فرمائی تھی نہ منزل اولیں دافع اہل رفض ان کا فیشن سینس کے رمضان کے مہینے میں میں پہلے چاند کو گرہن لگے گا اور لے آؤں لیلۃ کے شروع میں لگے گا اور گرہن لگنے کی راتوں میں سے پہلی رات اور سورج کو گرہن لگے گا وہ تو میں سے درمیانی حصے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اٹھارہ سو نوے میں اپنے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا اعلان فرمایا اب اس کے بعد سے لوگوں کا یہ مطالبہ تھا کہ قرآن اور حدیث میں تو یہ پیش گوئی موجود ہے کہ جب امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا اس چاند اور سورج کو گرہن لگے گا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بات کو سنتے رہے اور آخر اٹھارہ سو چورانوے میں پہلے چاند کو رمضان کے مہینے میں قرآن لگا اور پھر سورج کو رمضان ہے تیرا 14 اور 15 تاریخ کو گرہن لگا اور رات کے شروع سے میں لگا اور سارے ہندوستان میں یہ بات مشہور ہوگئی اور بہت سے حصوں میں یہ دیکھا گیا یا دوسرا اس کا حصہ یہ تھا کہ سورج گرہن وہ 28 رمضان 311 کو لگا اور چھ اپریل 1994 تھی پہلے 21 مارچ کی تاریخ یہ پیشگوئی پوری ہوگی اور بہت کم ایسے لوگ تھے جنہوں نے اس پیشگوئی سے فائدہ اٹھایا اور وہ جماعت ہے میں شامل ہوئے اور ان کی جماعت کا اقرار کیا کہ ان ملبوسات میں ایک مولوی غلام مرتضیٰ کا ذکر کی ہے کہ جب چاند اور سورج کی پیشگوئی پوری ہوگئی تو وہ چھت پر چڑھ کر حصہ ہائے آپ لوگ گمراہ ہوجائیں گے کیونکہ پیشگوئی پوری صاف نظر آرہی تھی اور وہ مسلمان کے ایمان کو گمراہی سے بات کر رہا تھا یہ تو اس کا بانی ابن تھا بہرحال یہ لوگ جو ہیں انہوں نے اس کو یہ تو سمجھا اور جماعت ہے لیکن جس تیزی سے شامل ہونا چاہیے تھا اب نہیں تھا تو اس وقت حضرت موسیٰ نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ کوئی ایسا کہ نشان ہونا چاہئے جو لوگوں کی آنکھیں کھولے اس وقت یہ بات واضع تعلق والی یعنی والی بات پوری ہوگی تو ہم نے پھر وہ تا بہ او تعویز اس زمانے میں لاکھوں لاکھ انسان جو ہے وہ اس تعاون سے بھرے اور ہلاک ہوئے اور اس زمانے میں ہی بہت بڑی تعداد وہ جمعہ میں شامل ہوئی کیوں کہ اللہ تعالی نے مسلمان کو عام فرمایا تھا نیو حافظ غلام اللہ خضدار کہ جو کوئی تیرے گھر میں داخل ہو رہے گا میں اسکو طاعون سے محفوظ رہوں گا اور حضور نے فرمایا اس سے مراد صرف میرا یہ اور پتھروں کا بیان والا گھر نہیں بلکہ ہر احمد کا گھر ہے جو ایمان سے معمور ہے وہ بھی تعاون سے بچایا جائے گا اور ویسے انسان اعلان کیا کہ کوئی تعاون کا ٹیکا نہ لگائے اللہ تعالی اس کو محفوظ رکھے گا اور اس طرح ہزاروں آدمی اس زمانے میں جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے تو حضرت مسیح موعود را ان لوگوں کو کہا کرتے تھے تعاون ہی تعاون کا نشان دیکھنے کے بعد جماعت میں شامل ہوئے تو یہ تھا قرآن اور حدیث میں جہاں دس سال امتحان کی زبانی بیان کی گئی ہے اور محترم مولانا شیخ مجاہد حسن بصری سے میرا یہ سوال ہے کہ جس طرح موسی علیہ السلام کے زمانے میں دیکھتے ہیں تو مسلمانوں کی قسم پرسی کی حالت تھی اور ان کی بے بسی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حیات مسیح کےعقیدہ میں مسلمان عیسائیوں کے ساتھ مشترک ہو گئے تھے اور ان میں بھی یہ عقیدہ ہے جس کی وجہ سے اسلام کو بہت نقصان پہنچا ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ قرآن مجید اور اسی طرح طرح کے حوالہ جات کے ساتھ حضرت عیسی علیہ السلام جس مشن کو لے کر آئے تھے ہم حقیقت کہہ سکتے ہیں ہیں اس سے اسلام اور عیسائیت کا کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ ہم اس بات کو مانتے ہیں ہیں حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی تھے جو ان کی طرف متوجہ نبی آئے اور آپ نے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیشگوئی بیان فرمائیں کہ آپ جو ہیں وہ آنے والے ہیں مودی ان کی صورت میں اور آپ پر ایمان لانا ضروری ہے چنانچہ باکس میں پیسے بھی موجود ہے ہے اس کی حیثیت سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے اس طرح بھی محترم علامہ صاحب نے فرمایا کہ جب مولا زمانہ ہوتا ہے ہے دین آگے بڑھنا شروع ہوجاتا ہے زمانہ اس پر گزر جاتا ہے تو اپنی اصل شکل سے ہٹ جاتا ہے ہے جس کو قرآن مجید کا نزول ہو رہا تھا الیاس علیہ السلام کا زمانہ تھا اس وقت جو عیسائیت کی شکل تھی وہ شکل نہیں تھی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے حضرت عیسی علیہ السلام کا بطور نبی عزت کو قائم کیا اور آپ کی طرف جو غلط بات منسوب ہو گئی تھی اس کی تردید کی  کی اور جب یہ قرآن مجید نے تردید کی تو اس زمانے سے لے کر آج تک کا زمانہ ہے خوشیوں کے دل میں اسلام آباد میں اسلام خاتم النبیین حضرت محمد اسلم اور قرآن مجید کے بارے میں ہر جگہ موجود ہے کہ السلام کی جو باتیں ہیں ان کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اس سے ہم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت ثابت کر دیں اور آپ کو دو زبانوں سے بھی افضل ثابت کردے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ تھا جس نے بتایا کہ اسلام ہر طرف سے حملے ہو رہے تھے ان میں سے ایک بڑا حملہ جو بیرونی حملہ عیسائیوں کی طرف سے ہو رہا تھا وہ یہ تھا اک عقیدہ حیات مسیح کااللہ تعالی کی ذات میں اس کی صفات میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا حضرت عیسی علیہ السلام دو سو ہزار سال سے تقریبا آسمان میں زندہ موجود ہے بنا کھائے پئے اور ویسے ہی موجود ہیں ان کی کوئی جسمانی حوائج ضروری اس کے اوپر تقریر واقعہ نہیں ہو رہا یہاں تک کہ آج مسلمان اس عقیدے کو عیسائیوں نے ہی آگے پھل ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ اور آپ کے ذریعہ سے یہ بتایا کہ جو آنے والا ہوں جس کا انتظار چل رہا ہے اس کے رنگ میں ہو کر تم اب وہیں یہ لاوا مندر اور فرمائے بنیادی نقطہ تھا جس نے اس آیت کی صفائی کر کے رکھ دیں گے مسیحی عقیدے کے ماننے کے نتیجے میں جہاں خدا تعالی پر حق واضح صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور آپ کے مرتبہ کو بھی کم کیا جا رہا تھا مسلمان یہ مان رہے تھے کہ اب امت کی اصلاح کے لئے اس امت میں سے کوئی پیدا نہیں ہوسکتا بلکہ بیرون ممالک کے لئے ایس آئی یو نے مسلمانوں کے سامنے پیش کرنا شروع کیا انہوں نے مباحثہ شروع کر دی جو کہ حکومت بھی ان کی تھی اور وہ پوری طاقت کے ساتھ لٹریچر انشائیے کی ہزاروں کی تعداد میں کتابیں شائع کیں اور پادریوں نے جگہ جگہ مناظرے کئے اور لوگوں کو کہا کہ دیکھوں تو آنکھ میں موجود ہیں دوبارہ وہی واپس آئیں گے انہوں نے اسلام کو پھر اصلاح کرنی ہے تو پھر ان پر ایمان لاؤ اور ایمان نہیں لاتے تو تم یہ بتاؤ ہمارے عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور انہوں نے اللہ کے نبی حضرت محمد مصطفی صل مدینہ وفات پا چکے اس عقیدے نے مسلمانوں کے علماء کو جواب دینے سے قاصر کر دیا بڑے بڑے علماء بعض بڑی مساجد کے امام ہو گئے اللہ جسے مسلمان اسلام سے مقابلہ کیا ان کے بارے میں بھی آتا ہے وہ بھی مسلمانوں میں سے پہلے اسی طرح اور بھی لوگ ہیں تمام والدین کے بارے میں بھی بیان کیا جاتا ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح کی جو علامات بیان کی تھی ان علامات میں ایک علامت یہ تھی کہ اکثر اصلیت وہ صلیب کو توڑ دے گا مسلمان ظاہر پر اس کو لیتے ہیں وہ سوچتے ہیں کہ شریف پڑھنا درست نہیں ہے آنے والا ہوتا ہے یہ جو ہے صلیبی عقائد اور دلائل کو توڑے گا اور ان کے دلائل عقائد میں بنیادی عقیدہ یہی تھا کہ اسی کے اوپر عیسائیت کی بنیاد کھڑی تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے بدلے میں وفات مسیح کا نظریہ پیش کیا اور کہا کہ قرآن مجید نے اس بات کو دلیل کے ساتھ بیان کر رہا ہے کہ ایک ایک نہیں دو آیتیں مسلسل کی آیات کے ساتھ اس بات کو بتا رہا ہے ثابت ہوچکی ہے پھر حضرت مسیح علیہ السلام نے کی جگہ بیان فرمایا اپنی کتب میں کہ اسی ایک عقیدہ کو اگر مسلمان بنیادی طور پر پکڑ لیں گے تو پھر کامیابی ان کو حاصل ہوا ہے صرف ایک والا پڑھوں گا حضرت موسی علیہ السلام بیان فرماتے ہیں اللہ تعالی نے سورہ فاتحہ میں عیسائیوں کو اسی ظالم کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے تاکہ وہ اس طرف اشارہ کرے کہ حیات مسیح کا عقیدہ ان کی تمام گمراہیوں کی جڑ ہے اگر وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو جس دا نصاری کے ساتھ آسمان پر نہ چڑھ جاتے تو وہ اسے معبود بھی نہیں رہ سکتے اور ان کے لیے ممکن نہیں کہ اس عقیدہ سے رجوع کئے بغیر توحید کی طرف لوٹ سکیں بس اللہ تعالی نے اس امت پر رحم کرتے ہوئے اس عقیدہ کو کھول دیا کیا اور واضح ثبوت کے ساتھ فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر قتل نہیں کیا گیا تھا ورنہ انہیں آسمان کی طرف اٹھایا گیا یہ حقیقت الوحی صفحہ22 کا حوالہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب اس حربہ کو عیسائیوں کے سامنے پیش کیا اور قرآن احادیث اور انجیل سے وفات مسیح ثابت کی تو اس کا نتیجہ کیا نکلا خود ان کے بزرگان جو دیوبندی علماء ہیں ابھی تک آپ نے اس بات کا اقرار کیا اور کہا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس حربے کے ذریعہ سایت کلمہ کیا ایک والا پڑھتا ہوں مشہور عالمی مولوی نور محمد چشتی صاحب جو دیباچہ ترجمہ قرآن مولانا اشرف علی تھانوی کا اس کے شروع میں وہ لکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں پادری نصرانیوں کی ایک بڑی جماعت لیکر حلف اٹھا کر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصے میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنا لوں گا ولایت کے انگریزوں نے روپے کی بہت مدد کی اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار کر لے کر ہندوستان میں داخلہآملہ عوام کے لئے اس کے خیال میں کارگر ثابت ہوا تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہوگئے اور پادری اور اس کی جماعت سے کہا کہ ایسا جس کا تم نام لیتے ہو وہ دوسرے انسانوں کی طرح فوت ہوچکے ہیں اور جس ایسا کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھے قبول کرو اس ترکیب سے اس نے نصرانی کو اس قدر تنگ کیا کہ اس کا پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت کے پادریوں کو شکست دی یہ تھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا عظیم الشان کارنامہ جس پر غیروں کی گواہی موجود ہیں اور حضرت موسی علیہ السلام خود جب آپ کی وفات ہوئی اس زمانے کے علماء نے آپ کو فتح نصیب جرنیل کے الفاظ سے بیان کیا یاد کیا کہ آپ نے جو عظیم الشان لٹریچر چھوڑا ہے وہ آئندہ نسلوں کے لیے اس آیت کے لئے قاری حق ہے اس سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں ابن مریم مریم مر گیا حق کی قسم داخل جنت ہوں محترم مارتا ہے اس کو فرقہ سروس سر اس کے مر جانے کی دیتا ہے خبر وہ نہیں جسے ہوگیا ثابت سے زیادہ سے زیادہ ایک اور آف لائن سوال ہمارے پاس آیا ہے محترم مولانا محمد کاشف صاحب چاہوں گا سونگ السلام نے کتاب آیا مسلم میں فرمایا ہے کہ آنے والے مہدی رکھا گیا ہے اشارہ ہے کہ وہ خدا سے دین سیکھے گا جب کہ اسی اسلام نے بعض بزرگان سے تعلیم حاصل کی تھی تو اس کی وضاحت فرما دیں  خود ہی کہہ رہی ہیں کہ ابتدائی تعلیم نبی اپنے ماں باپ سے بولنا نہیں سکتا کتا اپنے ماں باپ سے ماں باپ یا چیزوں کے اشعار نہیں سکتا اپنے ماحول سے نہیں سکتا سید محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو کو دودھ پلانے کے لیے بھیجا گیا حلیمہ رضی اللہ عنہ کہہ سکتے ہیں بھیجا گیا تھا اور اس کی زبان بھی بڑی ہی شائستہ اور بہت ہی پیاری تھی تاکہ وہ آ سکے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جو قبیلہ آباد ہوئے ان سے وہ تعلیم حاصل کی حضرت عیسی علیہ السلام نے بڑے بڑے اخبار سے وہ تورات کی تعلیم سیکھیں موسی علیہ السلام فرعون کے زمانے کی اعلی ترین درس گاہیں تھیں موسیٰ علیہ السلام نے وہاں سے تعلیم حاصل کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کے گہرے معارف تھے تھے وہ امام مہدی علیہ السلام کسی سے نہیں سیکھیں گے ماہ جبیں کے معنی ہیں جو اللہ کی طرف سے ہٹا دیا جاتا ہے اور اللہ تعالی اس کو سکھاتا ہے لوگ اس کو نہیں سکھاتے ہیں تین اساتذہ کا بھی واسطہ نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قلم اور زبان مبارک سے معرض وجود میں آئے تو مہدی کے معنی ہیں جس کو اللہ تعالی سے کھاتا ہے اور واقعی ہی یہ سارے معارف اللہ تعالی کی طرف سے کیے گئے تھے اور اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں جو بالکل ابتدائی تعلیم تھی اس طرف اشارہ کرنا یہ جو ہمارے مخالفین کرتے رہتے ہیں ان کا یہ موقف درست نہیں وہ بھی آپ سے یہ کہنا چاہوں گا کہ اسی اسلام نے کتاب آیا مسئلہ میں ان ساری باتوں کے بیان کرنے کے بعد جو مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے وہ میں آپ سے جانا چاہوں گا عرض یہ ہےتمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس پر ایمان لے آؤ اور ضرور اس کی مدد کرو یہ بھی ساتھ نبیوں سے لیا گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا گیا ہے ان کا عہد لیا عورت سے بھی یہ عہد کیا تھا یہ عہد اس بات کا تھا کہ نبی کا سے عہد لینے کا مطلب اس کی امت سے عہد لینا اس کی امت سے وعدہ لینا کہ جب آئندہ کوئی نبی ایسا تو نہیں کی جا سکی لائی حساس لگا ہوا ہے اس پر ضرور ایمان لانا ہے اور نہ ہو اور اس کی مدد کرتی ہے ہے اب یہاں پر فرماتے ہیں کہ قرآن کا یہ ماننا ہے کہ ایک عید پہلوؤں پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ تمام صحیح ہوتے ہیں اس کو صرف ایک تفصیل کر دینا یہ درست نہیں ہوگا یہ آپ تھوڑی سی وضاحت کرتا ہوں جب اللہ نے نبیوں سے وعدہ لیا بھی ساتھ لیا اور حکمت دے چکا ہوں کہ کتاب اور حکمت سے مراد قرآن مجید ہے شریعت اسلامیہ ہے وہ میں تم کو دے چکا ہوں ٹھیک ہے پھر اگر کوئی ایسا رسول تمہارے پاس آئے جو اس بات کی تصدیق کرنے والا حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو مت دیکھیں کہ جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والے اور بہنیں ہیں ان پیش گوئیوں کے مطابق ہیں جو قرآن اور حدیث میں آپ کی فیس بک کے تعلق سے درج ہے اب مسلمانوں کا فرض کیا تھا قرآن مجید کے الفاظ کے مطابق ملا تو منا ہی والدہ حضرت علی کا حکم تھا قرآن مجید سے کہہ رہا ہے کیونکہ وہ خود ہی قرآن اور حدیث کے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ چکا ہے اسی کو پانی دو آیات کے پیش نظر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شخص کو جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھتا تھا اور رکھتا ہے اور رکھے گا یہ حکم دیا آزار آئے تو وہ واہ بھائی واہ واہ بنا پر بیعت کرنا خاتون گھٹنوں کے بل پر میں سے گزر گیا نا تب بھی جا کے اس کا اتنا سختی سے حکم تھا کہ جب امام مہدی آئے جو مقصد پیٹ ہوگا پیاری باتوں کا تم جاکے اس کو پر ایمان لانا اور واقعی علم سے انسان کیلئے جب اعلان فرمایا کشمیر سے بہت سے لوگ دس دس دن پہاڑی سفر بڑوں کو طے کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہنچے اور آپ کے اوپر ایماندار ہے اب اگر مسلمان یہ سمجھتے ہیں یا ان کا یہ خیال ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانا ضروری نہیں ہم مسلمان ہیں تو وہ غلطی پر ہے وہ قرآن مجید کی نافرمانی کا ارتکاب کر رہے ہیں وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر ہے کہ آپ کے مسلمانوں کو کس پس منظر آتے ہیں اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو مسلمانوں کو فرما رہے ہیں اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو یہ مت کہو کہ ہم مسلمان ہیں ہمیں کسی مسیحا وغیرہ کے قبول کرنے کی کیا ضرورت ہے اور میں تمہیں سچ کہتا ہوں جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اسے قبول کرتا ہے جس نے میرے لئے اس سے تیرہ سو برس پہلے لکھا تھا اور میرے وقت اور زمانہ اور میرے کام کے نشان بدل آئے تھے جو مجھے رد کرتا ہے وہ اسے رد کرتا ہے جس نے حکم دیا تھا کہ اسے مانو خواب آیا وہ تو نہیں آ سکا عجیب بات کرتے ہیں یہ لوگ ہر مسلمان اس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں سچائی کی روح ان کے اندر یہ پکارتی تھی کہ وہ چوک میں صدیق کے سر پہ آئے گا لیکن جب وہ آیا تو تم نے خطاب کیا اور ضروری تھا کہ ایسا ہی ہوتا کیونکہ اس عمر میں یہ بھی لکھا ہے کہ اسے کافر اور جائے گا اگر میں نہ آیا ہوتا تو تم پر کوئی حجت نہ تھی لیکن میرے آنے سے خدا تعالی نے تم پر رحمت گمان کرو کہ تمہارے نہ قبول کرنے سے آپ بہت سلو ہے جو خدا نے اپنے ہاتھ سے برپا کیا ہے ظاہر ہو جائے گا اور پھر اس کو برکت دے گا یہاں تک کہ ایک دن اسلام عزیز گروہ وہیگرو ہوگا مگر جو کچھ تم نے کیا یا جو آئندہ خدا کرے کرے گا وہ سب اس الہام کے موافق ہے جو پہلے براہ میں ہو چکا وہ یہ ہے دنیا میں ایک نظر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور اور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا حضرت موسی علیہ السلام فرماتے ہیں یہ اگر انسان کا ہوتا کاروبار کے لئے پروردگار کچھ نہ تھی حاجت تمہاری نظر تمہارے مقدر کی خود مجھے دعوت کرتا وہ جہاں کا شہر یار اگر میں جھوٹا ہوتا اگر میں اللہ کی طرف سے نہ ہوتا وہ اللہ تعالی شہر یار مجھے خود تباہ کر دیتا نہ تمہارے کسی مگر کی ضرورت ہی نہ تمہارے کیسی طبیعت ہے فتوی کی ضرورت تھی نہ تمہارے پارلیمنٹ میں بحث کی ضرورت ہے وہ اللہ جو اہتمام الحاکمین وہ خود میں اضافہ کر دیتا لیکن اس وقت پر کر چلے جانا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جماعت ہے اس کی عصر حاضر میں جو قیادت حاصل ہے اگر یہ اللہ کی طرف سے خلافت اور یہ نظام نہ ہوتا یہ جیسے یہ عظمت فرما رہے ہیں سب کے لیے کافی عرصہ پروردگار ان کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن اللہ تعالی برکت دیتا ہے وہ دلیل ہے اس سلسلے کے سخت کی ناظرین کرام اس کے ساتھ آج اسی طرح جو ہمارے ٹیلی فون کالز ہے جنہوں نے ہمارے اس پروگرام کو لاہور کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں آخر میں بانی جماعت احمدیہ سے کتنا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس فرماتے ہیں میں نے اس زمانے کو تاریخ پڑھ کر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں فرق دیکھ کر اور ایمان اور صدق اور تقوی اور راستبازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کرکے مجھے بھیجا ہے وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور اسلام کو ان لوگوں کے حملے سے بچائے جو فلسفیۃ اور نیچریت اور عبادت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الہی با کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں کیا مسلہ کے تعلق سے ہم اپنے میں بات کریں گے اور 29 جون2019 ہفتے کا دن انڈین ٹائم کے مطابق رات کے ساڑھے نو بجے اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے قادیان دارالامان سے ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے تب تک کے لئے اجازت دیجئے گاقوالی بتایا ہم نے نے  ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں مجھے دل سے ہے خدا میں تم سے لے لیں سے ہے خدا میں ختم المرسلیں منت

 23 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: