Rahe Huda – Maseehe Maood pbuh Ki Amad Ka Maqsad Kesy Poora Hua




Rahe Huda – Maseehe Maood pbuh Ki Amad Ka Maqsad Kesy Poora Hua

Rah-e-Huda – 21st March 2020 – London UK

اس کو اس کی پرستش کی گئی صلیب کو توڑ دے گا اور عیسائی فتنے کا تثلیث کی خرابیوں کا استحصال کرے گا ٹرانسفر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اب بولو زیرہ وہ بدیوں اور برائیوں اور دروغ گوئی کی جو صفات ہیں ان کو قلع قمع کرے گا پھر آپ نے فرمایا کہ کمر ہوگا یہ سارے اس کے کام اور حفاظت کی غرض سے اللہ علیہ وسلم نے ایک اور پہلو سے اس کا پنجابی معاشرہ یا پر چلا جائے گا عجمیوں میں سے ایک شخص مسلمان فارسی حضرت سلمان فارسی کے شانہ مبارک پر ہاتھ رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان میں سے ایک شخص ہوگا یا کچھ لوگ ہوں گے تو ہم ان کو سرے سے واپس لائیں گے یہ سارے مسیح موت کے بستر بھی بتاتے ہیں مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب امام مہدی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ فرمایا تو ضروری تھا کہ آپ ان چیزوں کا ذکر کرتے ہیں اس کا حوالہ دیتے ابھی یہ بتاتے کہ میں یہ میرے کام ہی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بہت سے اعتراضات ہیں آپ نے اپنی کتب میں محفوظات میں خطوط میں مکتوبات میں ان باتوں کا ذکر فرمایا کہ میں کس لئے آیا ہوں اور کیا میرے کام ہیں اور وہ تحریر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں اور ہم جو آپ کے سلسلے میں شامل ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں ہمیں وہ یاد دہانی بھی ہے کہ ہم نے کیا کیا کام کرنے ہیں عورت کے ساتھ وابستہ ہو کر ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں میں چند چند اقتباسات سے انسان جملے عرض کرتا ہوں کہ وقت بہت محدود ہے لیکن میں یہ کروں گا بھائیوں سے بھی اور دوسرے ہیں جماعت افراد سے بھی مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کی غرض کو خدا کے اپنے الفاظ میں وہ پڑھیں اور پھر وہ دیکھیں کہ کیا وہ کس طرح پرورش ان سے بہت باتیں پوری ہوئی ہے میں وقت کی مناسبت سے ایک پہلو سے چند باتیں سرفراز کروں گا اس حوالے سے بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کے ساتھ ایمانوں کو کبھی کرو خدا تعالی کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھاؤ کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالت نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جہاں مراتب رکھتا ہے اور جیسا کہ اس کو بھروسہ دنیاوی اسباب پر ہے یہ یقین اور بھروسہ کس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت عالم آخرت پر نہیں کریں اللہ تعالی نے اس زمانے کو تاریخ پڑھ کر میاں کو غفلت اور کفر اور شرک میں فرق دیکھ کر اور ایمان اور تقوی اور راستبازی کو ظاہر ہوتے ہوئے مشاہدہ کرکے مجھے بھیجا ہے تاکہ وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمان سچائی کو قائم کرے اور تااسلام کے حملوں سے بچائے جو فلسفیۃ اور نیت اور اباحت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الحیوان کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں پھر آپ نے فرمایا وہ کام دنیا کے خدا میں اور اس کی مخلوق قد واقع ہوگئی ہیں اس کو دور کرکے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کرو اور اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کرکے سندھ والوں فرمایا اور خدا کی طاقت ہیں جو انسان کے اندر داخل ہو کر توجہ یا دعا کے ذریعے نمودار ہوتی ہیں ہال کے ذریعے سے نام ہسپتال سے ان کی کیفیت بیان کرو اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی توحید جو ہر قسم کے شرک کی آمیزش سے خالی ہے جو آپ نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگا دو اور یہ سب کچھ میری قوت سے نہیں ہوگا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہوگا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے بہت سارے اور مشاہدات ہیں اب یہ کہ کیا تبدیلی کی ہے آپ نے کروانا تھا جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور جب جیسا کہ ذکر کیا گیا ایمان دنیا سے اٹھ زبان سے کہتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ لا الہ اللہ کی حقیقت کیا ہے آپ اسی طرح مبتلا ہیں جس کو فون دور ہے بدیوں اور برائیوں میں پڑے ہوئے ہیں اور کوئی بھی خدائی کی بات ان میں نظر نہیں آتی جو کچھ ہے ماضی کے قصے ہیں ہمارے پر کئے تھے ہمارے بزرگ تھے بتا زندہ خدا کے نشانات معدوم تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالی سے تائید پاکر بتا نشانوں سے لوگوں کے دلوں میں ایمان قائم کیا پے موسم کا مدار ہے وہ مردہ مذہب ہے کہ زندہ خدا آج بھی اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور اے خدا مجھ سے کلام کرتے ہیں ہزاروں اپنے غیب کی پیشگوئیاں اللہ سے علم پاکر کی اور بڑی شان سے پوری آپ کی روحانی توجہ اور دعا کے نتیجے میں لوگوں کے مسائل و مشکلات اور مصائب کا انتقال ہوا اور ان کو خدا پر ایک زندہ خدا پر یقین نصیب ہوا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جو کام کیا ان کی تفصیل تو بہت بڑی ہے میں خود حضور علیہ السلام کے الفاظ میں ایک ذکر کرتا ہوں کہ آپ نے ایک ایسی جماعت کا اعلان کردیں اور اعمال صالحہ بجالانے والے تھی اور یہ صرف دعویٰ نہیں ہے جماعت جماعت کے حق میں جو مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے سے قائم ہوئی اور جس طرح آپ نے ایمان کو قائم کیا اس جماعت کے حق میں خدا کے وہ تمام وعدے پورے ہوئے اور ہو رہے ہیں جو اس نے مومنین کے ساتھ کئے ہوئے کا ایک حصہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ میں ادھر سے قرآنی آیات پڑھی اس کی بنیاد ہے آپ فرماتے ہیں اس زمانے میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کیوں جو سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے داتا نشانات کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا کے نشانوں اور تازہ تازہ تائیدات سے نورالیقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا اور اسلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے ساتھ بند نہیں ہوا اس کی تفصیل آگے بیان کرتا ہوں آج بھی یہ چیزیں اسی طرح چل رہی ہیں میں وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے آٹھوے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دل آزاری اور کتے رحم وغیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اٹھایا وہ خدا کے کھلے نشانوں اور آسمانی مدد اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کی ہیں تیرے ان میں سے ہیں کہ نمازوں میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے تھے جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہ رہتے تھے بہت سے ایسے ہیں جن کو سچی خواب آتی ہیں اور الہام الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے بہتیرے ایسے ہیں کہ آپ نے محنت سے کمائے ہوئے مالوکو محاسبہ داتا علی کی مرمت کے لیے ہمارے سلسلے میں خرچ کرتے ہیں جیسے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ کرتے تھے ان میں ایسے لوگ کی پاؤگے کہ جو موت کو یاد رکھتے اور جنوں کے نرم اور سچی تقوی پر قدم مار رہے ہیں جیسے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن ان کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور ان کے سینوں کو ایمان کی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور آسمانی نشانوں سے ان کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے جیسے کہ صحابہ کو کھینچتا تھا اس جماعت میں جو آخری نام کے لفظی مفہوم ہو رہی ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمان ہے ایک دن پورا ہوتا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ دعویٰ ہے اس دعویٰ کی عملی شکل کیا ہے میں اس پوائنٹ کو بیان کرکے پر اپنے جذبات کا اظہار دیتا ہوں کریم میں اللہ تعالی نے ایمان لانے والے بھولنے والے لوگوں سے وعدہ فرمایا اور وہ وعدہ سورہ نور میں موجود ہے الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من خلافت کا وعدہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا جب موسی موت کی بیعت کا ذکر فرمایا تو فرمایا جو خلافت علیٰ منہاج النبوۃ ساری دنیا پر نظر دوڑا کر دیکھ لیے یہ وعدہ کال ہی وعدہ تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خبر تھی کہ خبر دی تھی وہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بنائی ہوئی جماعت کے حق میں پورا ہو رہا ہے اس لیے بلا شبہ ایک مومنین کی جماعت ہے اور وہ اس خلافت سے جوابات دیے تھے قرآن کریم میں بیان کئے گئے کہ اس کے جسم کتنے دن ہو گا اس کے خوف کو امن میں بدلا جائے گا اس میں سچی سچی اور حقیقی عبادت کا قیام دنیا میں ہوگا توحید کا کیا ہوگا وہ سارے کام ہو رہے ہیں جیسا کہ آپ نے بتایا 213 ممالک میں وہ ایک آواز پہنچ چکی ہے اور سارے عالم میں پھیل رہی ہے لیکن وہ باقاعدہ نظام قائم ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ بڑھتا چلا جائے وہ تبدیلی ہے جو کی ہے آج بھی ہیں ہزاروں افراد ہیں بچے بھی عورتیں مرد بوڑھے بھی جوانی اللہ تعالی سچی رویا رخ سے نوازتے ہیں اور وہ خدا کے حضور روتے ہیں اور سجدہ گاہوں کو اپنے ہاتھوں سے کرسکتے ہیں اور اپنے عوام کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے ظاہر ہوئی اور خلافت کے زیر سایہ اس کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے ہمارے جو وہ بھائی جو خلافت سے وابستہ نہیں ہے ان کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ خدا کے سوا دے خود پورا ہوتا ہے آپ دیکھتے ہیں تو آئیں اور اس کے فیوض و برکات حاصل کرنے کی کوشش کریں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں بازو کے مصداق بنتے ہوئے اس کے فیض کو حاصل کرنے والے صورت انداز میں بیان کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد اور اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق خلافت کا جو تاقیامت ایک سلسلہ جاری ہو گیا ہے وہ جماعت یا میں قائم ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے چشمہ جاری ہے خلافت ندائے حق ہے ندائے خلافت اس کے جا رہے ہیں ابھی محترم نصیر قمر صاحب نے جو حوالے یہ کتاب الاسلام ڈاٹ موجود ہیں بار بار آپ کو اس طرف توجہ دلائیں گے کہ آپ ضرور اس ویب سائٹ کو وزٹ کریں اردو زبان میں بھی انگریزی زبان میں بھی اور دیگر زبانوں میں بھی جماعت احمدیہ کے بارے میں معلومات آپ کو یہاں مل جائے گی آپ خود جا کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوی کو پڑھیں اور آپ کی کتب کو پڑھیں حضرت بل میں کتوں کے ایک سلسلے کا آغاز کردیا نصیر قمر صاحب نے میں چاہوں گا اسی کو آگے بڑھاتے ہیں موت کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہ روحانی انقلاب برپا کریں گے کچھ ذکر نصیر قمر صاحب نے کر دیا ہے مزید مثالیں بتائیں کہ وہ کیا روحانی انقلاب ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور پھر بعد میں خلافت کے سائے تلے اس دنیا میں برپا ہوا شکریہ اصل میں اس سے اس بات کا اصل تعلق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کے ذریعے جماعت کا قیام ہے وہ اس کے اندر کیا پاکیزہ تبدیلی دنیا میں پیدا ہوئی میں سوچ رہا تھا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک صحابی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ مجھے کیسے پتا چلے کہ میں اچھا ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بتایا کہ اگر تمہارے ساتھ اردگرد لوگ تو یہ کہے کہ تم اچھے ہو اور تمہارے ساتھ اس نے سنا ہے تم سب لوگ تو اچھے ہو آج کے زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے لے کر آج تک 125 130 تقریبا ہو چلی نعت یا دوسروں ملکوں میں قائم ہے کسی بھی ایک ملک میں جا کر یہ پوچھا جائے ہدیہ کے بارے میں عوام الناس کا کیا خیال ہے تو اکثر بلکہ شاید اس میں آپ کو کوئی ایسا نظر نہ آئے بولو کافر بھی کر رہے ہوں گے وہ لوگ کے خلاف بہت ساری باتیں بتائیں گے لیکن عملی طور پر وہ بتائیں گے کہ جو احمدی ہیں یا وہ لوگ قادیانی اس کو کہتے ہیں یا مذی کہتے ہیں یہ لوگ دین دار ہوتے ہیں سچے ہوتے ہیں ان کا لوگوں کے ساتھ لین دین اچھا ہے بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات کسی احمدی کے اندر وہ لکھیں یہ دیکھیں یہ محمد ہونے کے باوجود دیکھی وہ بول رہا ہے سر ہے جو خدا کے فضل سے اس کو قومی دہ نظر آتا ہے اور پھر یہ ہے مخالفت کے نتیجے میں کوئی آسان کام نہیں ہے مدیحہ کا کس جگہ رہتے ہو نا کال تو آتی ہے لیکن جہاں جہاں پر جماعت درخواست کرتی ہے جن ملکوں میں بھی جاتی ہے وہاں کے لوگ جب تحقیق کرتے ہیں اس کے بعد ان کو ہمیشہ خوش رکھے اور کوئی موقع مل جاتا ہے وہ بغیر کبھی کیا آپ کے راستے کھل جاتے ہیں جو انقلاب ہے وہ اس کو وہ ایک اور نظر سے دیکھیں تو حضور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا مجھے تو اس بات کو کوئی مسئلہ ہے وہ اسلام کی ذات بھی پورا کر رہی ہے اور مسیح موعود ایسا آسان کہ ان کی جماعت ہے اس کے اندر بھی وہی صفات ہے امام نبیوں والی جماعتوں کے اندر ہوتے ہیں اور خاص طور پر اس لیے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مسلمان فرقہ فرقہ ہو جائیں گے تو صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ کو اس کی علامات بتائیں کہ بچے کی علامت ہوگی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی علامتیں ہوگی ما انا علیہ واصحابی کہ وہ فرقہ ہوگا جو میرے اور میرے صحابہ کے نقشے قدم پر ہوگا آج ساری دنیا میں دیکھ لی لا الہ الا اللہ پڑھنے کے نتیجے میں اس کو قربانی دینے کی توفیق ملتی ہے قرآن پڑھنے کے نتیجے میں کس کو قربانی کرنے کی توفیق ملتی ہے کون ہے جو نماز پڑھنے کی وجہ سے تکلیف اٹھاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ کیسا ہے دوسرے ملکوں میں جماعت احمدیہ قائم ہے کسی بھی جگہ چلے جائیں کوئی جماعت کا ایک حصہ بن کر لیں کو جماعت احمدیہ کے افراد کے بارے میں پوری طرح نکل کے سامنے آ جائے گا یہ کیسے لوگ ہوتے ہیں پہلے یہ ایک سو پچیس سال پہلے ایک شخص نے کا بیان وہ تشریف لے گئے اور وہاں پر انہوں نے اس کے جلسے میں تعداد پوری ہوتی تھی تین سو کے قریب تھے کیا جائے گا وہ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے افراد کا ایک ایسا نقشہ کھینچتا ہے جو دنیا میں کسی بھی جماعت کا اصل میں اچھا نہیں کیا جا سکتا جلسہ پر 300 سے زیادہ شریف اور نیک لوگ جمع تھے کیوں سے مسلمانی نوٹ کر امیر غریب نواب انجینئر تھانہ دار تحصیلدار زمیندار سوداگر حکیم غرض ہر قسم کے لوگ تھے مگر مسکین مولوی ورائٹی جس جس جگہ پر ہر طبقہ سے لوگوں نے آکر جماعت احمدیہ نے اپنی زندگی میں پیدا کیا پھر وہ کہتے ہیں لکھتے ہیں کہ مجھے کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت عنقریب ہے کہ جناب مرزا صاحب کی خاک پا کو اہل بصیرت آنکھوں میں جگہ دیں گے اور کسی سے بہتر سمجھیں اور تو خیال کریں مرزا صاحب کے سینکڑوں ایسے صادق دوست ہیں جو مرزا صاحب پر دل و جان سے قربان ہیں ہر وقت تک نہیں کرتے سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے اب یہ تو دلی ظاہری کوششوں سے پیدا نہیں ہوسکتی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو خود دیکھ 21 فرمایا اب میرے ساتھ بہت ہی وہ جماعت ہے جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدمہ کر کے جیتیں درویش بنا دیا ہے اور اپنے وطن سے ہجرت کرکے اور اپنے دوستوں اور عورت سے پیدا ہو کر ہمیشہ کے لئے میری ہمسائیگی میں آ کر آباد ہوئے اور اس طرح کے واقعات جماعت احمدیہ میں شائع ہوتے رہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی اور آج بھی خلافت کے ساتھ فرماتے ہیں تو لوگ بڑے اپنے کاروبار چھوڑ کر جہاں سے الفت ہے جیسے شہد کی مکھیاں جو ہے وہ اپنی ملکہ کے ایک اچھی ہوتی یہ نظارہ آپ کے انبیاء پر نازل اسی طرح جس طرح پروان اپنی شمع کے گرد کرتے ہوتے جو نقشہ کھینچا ایک سو پچیس سال پہلے کی جلد سلانے کا دنیا کے کسی ملک میں ہو اسی کی منظر کشی کرتا ہے آپ نے تو چند پروفیشنل کا ذکر کیا ہے آج کل کے جیسا سلانہ دیکھنے خاص طور پر یوکے کے جیسا سلانہ میں کہیں آپ کو ڈاکٹر نظر آئیں گے انجیر نظر آئیں گے اور وہ کام کیا کر رہے ہو کہ وہ اٹھا رہے ہوں گے وہ صفائی کر رہے ہونگے اور بڑی خوشی کے ساتھ بڑے ہم آپ کے ساتھ اور بڑی بشاشت کے ساتھ یہ خدمت سر انجام دے رہے ہوں گے یہ وہ روحانی انقلاب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس دنیا میں لے کے آئے اور خلافت کے سائے تلے یہ انقلاب جاری ہے نصیر صاحب وقت کی کمی کی وجہ شہرت بیان میں کیا انہوں نے بہت سارے غیر تم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں مجھ سے کہتے رہے ہمارے ڈاکٹر ہونے کا بتایا اور اس کے مکین شب یانوی ہے حضور نے بھی اس کا ذکر فرمایا تھا کہ ایک کوئی غیر جمع تھے بڑے کوئی ان کے مذہبی لیڈر وہ کسی علاج کے سلسلے میں ان کے پاس آئے اور ان کا علاج کیا اور اس کی وجہ سے حرام دیش سے تعلق رکھتی ہے اور اس غیر معمولی طور پر ایک نمونہ ہے اپنے عجز اور انکسار تھا اور اس نے خلائی مخلوق کا تو وہ بہت متاثر بھی ہوا تو آخر ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب پھر لیکن خدا کی پہیلیاں رصدگاہ میں اور کچھ چلے جب خدا کا سلوک اس کو جن کو یہ لوگ بہت بڑا مقام دیتے ہیں ان کی ذاتی زندگی میں کیا حال احوال تھے اسلامی سیرت کا ٹھکانہ تو ہے تو جماعت احمدیہ ہے ابھی جماعت احمدیہ آئی تھی اس نے کہا تھا مجھے خدا نے بھیجا ہے اگر وہ جھوٹا ہوتا کیا کبھی جھوٹا بھی ایسی جماعت بنا سکتا یہ ہے اس سوال کے سوچنے کے لئے لوگوں کے لئے کہ کوئی جھوٹا ایسی ٹو یار جماعت پیدا نہیں کر سکتے ایک لمبا سفر ہے تقویٰ کا لیکن بحیثیت جماعت ایک امام سے وابستگی کے نتیجے میں جو اجتماعیت کی برکت ہے خدا کے سارے وعدے استعمال کے حق میں پورے ہو رہے ہیں اور ہم اللہ کی رحمت سے تعلق رکھتے ہیں انفرادی کمزوریوں کے اس وابستگی جو حملہ کے ساتھ وابستگی ہے اس کے نتیجے میں ان شاء اللہ ہم پر رحم کرے گا تو یہ ضرورت ہے کہ لوگ اس طرف توجہ کریں اور حملہ کو پکڑنے کی کوشش کریں بالکل ٹھیک ہے تو موضوع ہی ایسا ہے کہ جماعت احمدیہ کا ہر بچہ ہر جوان ہر بوڑھا ہر مردوزن اس کے بارے میں عملی نمونہ بھی آپ کے سامنے پیش کرتا ہوا نظر آئے گا اور ہماری تاریخ بھی اس پر گواہی اب ہم چلتے ہیں اور ساجد محمود بھٹی صاحب سے بات کرتے ہیں ساجد صاحب السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ورحمۃ اللہ حاجی صاحب بے شک سٹوڈیو میں بات کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہم آپ کو بولتے نہیں ہیں ہماری بہن ہیں سمرا ملک صاحبہ یو ایس اے انہوں نے سوال کیا ہے میں وہ سوال آپ کے سامنے پڑھ کر سنا دیتا ہوں اور میں چاہوں گا کہ آپ اس پر روشنی ڈالیں وہ کہتی ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب میں بار بار بار فرمایا ہے کہ اللہ اور نبیوں کے انکار کی وجہ سے عذاب نہیں آتا ان کے الفاظ میں اسی طرح پڑھو مجھے امید ہے آپ اس کی وضاحت کر دیں گے اور آگے لکھی ہے بلکہ لوگوں کی شوخی اور شرارت کی وجہ سے آتا ہے جبکہ کی آیت نمبر 9 اس کے برعکس برائے مہربانی اس کی وضاحت کر دیں مولانا برہان شاہ سوال کیا ہے عورت کا قرآن کے حوالے سے کہ حضور نے جو فرمایا ہوا ہے کہ نبی کے انکار کی وجہ سے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بات کو کی جگہ پر تفصیل سے بیان کیا ہے کی طرف سے ایک بچہ نبی آتا ہے شعر کی وجہ سے ایک انسان اگر اس کی مخالفت نہیں کرتا شرارت نہیں کرتا اس کو تکلیف نہیں چاہتا اور جو ہے وہ عذاب نہیں آئے گا لیکن اگر ایک طبقہ جو ہے وہ اس کا صرف انکار نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہے اور بڑھتا جاتا ہے مخالفت میں بڑھتا چلا جاتا ہے اور غیر معمولی تکالیف کیا ہے اس کو مارنے سے منع کرتا ہے تو یہ پھر شوق یہی وہ خدا تعالیٰ کے عذاب وہ نبی کے انکار کی سزا جو ہے وہ تو قیامت والے دینی ہے اس دنیا کے بعد ہیں کار سادہ جس کے نتیجے میں شوخیاں نہ ہو دنیا میں عذاب کس طرح کی کیفیت نہیں ہے ہاں جہاں تک ہماری بہنیں تو آتے کیا ہے سوال کی صورت نمبر نو کال بیان کی ہے کہ اس میں تو کوئی اور مضمون بیان ہوا ہے تو یہ میں نے قرآن کریم سے وہ یا اس میں بھی اللہ تعالی نے جو ہے وہ ایک مجموعی ہی بیان کیا ہے کہ بہت ساری باتیں تھیں بستیاں ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اس کو ہم نے ان سے ایک بہت سخت حساب لیا اور انہیں بہت تکلیف دے اس میں دنیا کا طاقتور ترین ملک نہیں لگتے ان کو دنیا میں ہم نے جو ہے وہ لازمی آزادی ہے انکار کیا ہے ایک آیت چھوڑ کے اللہ تعالی فرما رہے کہ آج نہ ہو لہذا بند شدہ میں ان کو ان کے لیے خطرہ نہیں اپنا تیار کر رکھا ہے تو یہ الفاظ ادا لاہور کے اللہ تعالی نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے یہ بھی اس امر کی طرف کرتے ہیں کہ دنیا میں مہران کار وہ خدا تعالیٰ کے عذاب اللہ خان شوقیہ شرابی دھوکہ بھی لوگوں کو خدا تعالیٰ کے راستے سے روکنا داخلہ کے نشانات کو ختم دلانا یہاں داخلہ کی بہت بہت شکریہ اعجاز صاحب آپ نے میری بہن کا جو سوال ہے اس کو بڑے مناسب الفاظ میں اس کی وضاحت کرنی ہے نصیر صاحب کئی لوگ ہیں وہاں سے ریلیٹڈ سوال کرتے ہیں سوال آپ کے سامنے پیش کر دو ہمارے بھائی ہیں عارف زمان صاحب بنگلہ دیش سے وہ یہ کہہ رہے ہیں کیا کرونا وائرس ایک قسم کا تعاون ہے پھر انہوں نے سوال میں جو الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں میں جاؤں گا آپ اس کی وہ کہتے ہیں جو پیشگوئی ہے کہ اور ایک ایشیا تو بھی محفوظ نہیں تو اس کی تفصیل جا رہے ہیں مجھے لگ رہا ہے کہ ویسی بات ہے ایک دنیا کے خیالات ہیں ایک واقعات ہیں جو چل رہے ہیں تو لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور لوگ اس کا سوال کا جواب چاہتے ہیں تو اس کی وضاحت چاہتے ہیں اس کا کیا تعلق ہے کیا ہے قرآن کریم نے بڑی وضاحت یہ فرمایا ہے کے عذاب کیوں آتے ہیں وہ خدا کے نبی کی بعثت کے بعد اور جب اس کی تقسیم بڑھ جاتی ہے تو پھر وہ کیا کرتے ہیں اگرچہ یہ مخلوق باؤ کا آنا ضروری تھا اور وفات قدرت یعنی جو ہے لیکن چل پروسس ہیں محمد علیہ الصلاۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے کہ جب مامور من اللہ کی طرف سے پہلے سے اس کی خبر دے دی جائے پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے اور اس میں پھر اللہ تعالی آ کر جاؤ ہم امور سے بچنے والوں کے لیے قرآن بیان کرتا ہے اور پھر جو اس راہ پر چلتے ہیں وہ سے غیر معمولی طور پر بچھائے جاتے ہیں تو اس طور پر وہ نبی کی صداقت کا نشان بھی بنتے ہیں مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالی سے علم پاکر بہت سی پیشگوئی فرمائی ہیں اور آپ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ جیسے کہ آپ نے پڑھا حوالہ کے طور پر بھی کام نہیں ہورہا جزائر کے رہنے والو تو کوئی مشکل خدا تمہیں نہیں بچا سک اشرف جو رویوں میں عصر اور فجر دونوں کے حوالے سے بہت ملتی ہے فجر کو اس مناسبت سے لوگوں نے کہا کہ 4 سال قبل کا وقت ہوگا مراد ہے یہ ہے کہ گویا نئے سرے سے اسلام کی روشنی دنیا میں ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح ان کے ساتھ وہ ایک وجہ سے مشابہ وقت ہوگیا گویا دوبارہ دنیا میں اسلام کا نور چمکے گا دوسرے نے فرمایا کہ عصر کی نماز عصر کے وقت سے مراد دراصل یہ ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کی خبر دیتا ہوں کہ اللہ ہی کتابوں میں اس سے کیا مراد لی جاتی ہے فرماتے ہیں کہ اور ظاہر ہے کہ آدم کے ظہور کا وقت اور روزہ ششم قریب اثر ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ اور توریت سے بھی ثابت ہوتا ہے تمہاری ایک منصف کو ماننا پڑے گا کہ وہ آدم اور ابن مریم یہی آج ہے کیونکہ اول تو ایسا دعوی ساجد سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا اور اس عاجز کا یہ دعوی دس برس سے شائع ہو رہا ہے اور براہین احمدیہ میں مدت سے یہ الہام چکا ہے کہ خدائے تعالی نے اس عاجز کی نسبت فرمایا ہے کہ یہ آدم ہے اور یہ خدا تعالی کی ایک باریک اور کامل حکمت ہے کہ اس دفع نزع کے وقت سے دس برس پہلے ہی اس نے اس عاجز کا نام آدم اور ایسا رکھ دیا تھا غور کرنے والوں کے لئے نشان ہوں عورت اس کا خیال ہو جاوے اس حکیم مطلق نے مساجد کا نام آدم اور خلیفہ اللہ رکھ کر اور ان جعل الارض خلیفہ کی کلی طور پر برائی میں بشارت دے کر لوگوں کو توجہ دلائی کہ اس خلیفہ اللہ آدم کی اطاعت کریں اور اطاعت کرنے والی جماعت سے باہر ہے اور ابلیس کی طرح کھانا کھانے اور من شذا شذا فی النار کی تحدید سے بچیں اور اپنے اماموں کی حقیقت کو سمجھیں لیکن انہوں نے قرآن اللہ کی لکیر کا نام جماعت رکھا اور حقیقی جماعت جو بے نظیر جو بظاہر دینا ایک قلیل اور قلیل ما ہو میں داخل ہے اس سے منہ پھیر لیا اور اس اجازت کو خدا تعالی نےآدم مقرر کرکے بھیجا اس کا یہ نشان رکھا کہ الفشل میں جو قائم مقام روز روشن ہے یہ دراصل وہ بات ہے جو رات سے بھی ثابت ہوتی ہے گویا یہ جو دور ہے جو وہ عدم ہے جلد اس کا ہمارے ساتھ تاریخ کے ساتھ الخیر جو ایسے سمجھے کہ 4 سال پہلے تھے اور ابھی مسیح علیہ اسلام کی کا جو زمانہ تھا اس کے بعد تقریبا ایک ہزار سال کا وہ حصہ اگر کل سات ہزار سال بنا تھا وہ الفاظ جو الٹا ہزار سال تھا اس کے آخر میں ہوئی ہے یا نہیں یہ کونسا اسلام آخری دس سال فرما رہے ہیں اہم جو آخری چار سال ہے وہ مسیح موعود اسلام کی گویا دعوے کے بعد شروع ہوا آرائیں ہاں دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ تورات میں بھی دیکھ لیا جائے اور قرآن کریم اور احادیث میں بھی گویا اس دنیا کے کوئی مجموعی طور پر سات ہزار سال کو سات دنوں کے ساتھ ایک مشابہ دی گئی ہے اور عصر کی نماز عصر کا وقت ہے وہ دراصل چھٹا ہزار سال جو ہے چھپا اس کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح جو ہے آنے والا وہ چھ ہزار کے آخر میں ظاہر ہو جائے گا جیسے عصر کا مطلب تو اس طرف اشارہ ہے یہ بات ہے نصیب انسان کی کتابوں میں پڑھے اور احادیث دیکھ لیں تو دیکھ لیں یہ بات کھل کے سامنے آجائے کی زبانی اس چیز کو اتنا واضح نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن تحقیق میں جائیں گے آپ نے جو بات کی ہے اس سے واضح طور پر ہمارے ناظم کے بعد سمجھنی چاہیے کہ احادیث میں مختلف اشارے مل رہے ہیں یہ اشارے ہیں جن کو سمجھنا ضروری ہے اگر دہشت کے مارے کا ذکر ہے اس میں بھی اشارہ ہے اگر دو زرد چادروں کا ذکر ہے تو اس میں بھی اشارہ ہے اور اگر لدھیوالہ ایسی فرمایا تو اس طرح ہے تو ان شعروں پر غور کرنا چاہیے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وضاحت فرمائی ہے اور اپنے اوپر ان کو چشمہ کیا چسپاں کیا ہے ہمیں ان کو پڑھنا چاہیے اور ان پر غور کرنا چاہئے لیکن یہ بہت ضروری امر ہے اور ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے ناظرین اور ہمارے سامنے نہ صرف یہ کہ وہ جو جماعت احمدیہ کے بارے میں تحقیق کریں بلکہ خود ہمارے آمدید بھائی اور ہماری آمدنی بہنیں اس بارے میں جاننا چاہتی ہیں اور تحقیق کرنا چاہتی ہیں تو ان کے لیے باہر گئے دروازہ کھلا ہے میں ملیں یہ حبشی ہے بہت آسان کی کتابیں جو حدیثوں میں شائع ہوئی ہے اس میں تیسری جلد میں وہ ہم جلدوں میں یہ ہے اس کا نمبر 476 ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی وضاحت فرمائی ہے اس سے بھی بڑھ کرے گا ایشیا میں نہیں تو کوئی جس میں حضور نے چونکہ آپ اندر صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے تو آپ کی پیشگوئیوں میں ساری دنیا کو مخاطب کیا گیا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے بعد دنیا میں ذروں اور افراد کا ایک غیر معمولی اضافہ نظر آتا ہے حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ تعالی نے اپنے باس کو تو بات میں اس پہلو سے بڑی تفصیل سے بھی ذکر فرمایا ہوا ہے یہ جو وائرس کرونا وائرس کے حوالے سے آپ کہہ رہے ہیں یہ بھی ایک عالمی آف پنچو کیوبا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں طاعون کا نشان ظاہر ہوا تھا اور رضوان نے پہلے سے اللہ تعالی سے علم پاکر اپنی کرو یا کے حوالے سے اس کا تفصیل سے بتا بھی دیا تھا خبردار بھی کر دیا تھا اس سے بچنے کی راہیں بھی بتائی تھی اور آپ نے فرمایا تھا کہ الذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم ن وہ ایمان لائے ہیں اور ایمان کے ساتھ کسی قسم کے ظلم کی ملونی نہیں کی وہی لوگ ہیں جو حقیقت میں سے محفوظ رہیں گے اور ایک اور علم کی روشنی میں بتایا کہ جو میرے کردار کی میں آئے گا وہ اس رہے گا تو وہ ایک لمبا مضمون ہے جہاں تک اس کا تعلق ہے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نغمات میں ہمیں یہ بھی ایک خبر ملتی ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو یہ بتایا کہ یورپ اور دوسرے عیسائی ملکوں میں ایک قسم کی تعاون کرے گی ہو سکتا ہے یہ بھی اسی قسم کی ایک باہوں اور بھی ایسی باتیں ہو سکتی ہیں جیسے کہ امیرالمومنین یہ داخلہ نے گذشتہ ہفتے بھی ذکر فرمایا کہ ہم اور کہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ کتنا عرصہ چلے گی اور کیا کیا شکلیں ہونے والی ہیں جو عالمی طور پر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی ہے اسی لیے حضور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالے سے بھی دنیا کو یہ بتایا اور بڑا کرنے والے کی طرف لوٹے اس وہی ہے جو السلام ہے یہ جو فارم آسکتا ہے آنکھ کے پانی سے یارو کچھ کرو اس کا علاج تعلق اور کمپلیس مشن مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سارے ارشادات ہیں اس وقت تم کو پڑھ کر پیش کرنے کا وقت بھی نہیں ہے لیکن وہ پڑھنے چاہیے حضور نے فرمایا ہر نبی نے اپنی جگہ اصل تصویر جو ہے وہ زندہ خدا سے تعلق ہے جس کے حکم کے نیچے یہ ساری ہے جسے چاہے کام کرتی ہیں اور اس کی زبان میں اس کیفیت میں ہوں گے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کو مانا جائے جس کو خدا نے اس زمانے میں امن اور عافیت کا حصار بنا کے بھیج دو کیا ہے ہم جماعت احمدیہ کرتے ہیں جنہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق اس کے بعد خلافت کے سلسلے میں جڑے ہوئے ہیں ہمارے لئے تو کوئی مشکل امر نہیں ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ابھی کل ہی خطبہ جمعہ میں ہمارے لئے رہنمائی فرمائیں اسے گزشتہ خطبات جمعہ میں بھی آپ ہماری رہنمائی فرماتے ہیں اور ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ یہ دنیا ایک تکلیف میں مبتلا ہے حضور کی بھرپور کوشش ہے کہ اس تک پہنچے اور اس سے محفوظ رہے دعاؤں کی طرف توجہ دلارہے ہیں اور دعا کی طرف بھی توجہ دے رہی ہیں اللہ تعالی دنیا کو اس بات سے محفوظ رکھے مولانا فضل صاحب ہمارا اگلا سوال ہے وہ ہمارے بھائی عبداللہ منصور خان صاحب ویسے کر رہے ہیں انہوں نے خاص طور پر جو کتاب حجج الکرامہ اس کے حوالے سے سوال کیا ہے کہ اس میں اب 93 سے روایت ہے کہ کی ہے کہ مسیح عصر کے وقت آسمان پر سے نازل ہو گا مہربانی فرما کر اس کی وضاحت کر دیں گے وہی روایات میں سے جس طرح کی بہت ساری روایات مسیح کی آمد کے بارے میں امام مہدی کی آمد کے بارے میں ان کے بارے میں پہلے بھی گفتگو کر چکے ہیں لیکن ہمارے بھائی نے کیوں کہ سوال پوچھا ہے تو میں جاؤں گا کہ آپ اس کی وضاحت کرتے ہیں صباح الرحیم بات یہ ہے کہ رویوں کی زبان ہوتی ہے اس کو سمجھنے کے لئے کتابوں اور انبیاء نے جو زبانیں تقاریر عورت کو سمجھنا بہت ضروری ہے اس وقت میرے سامنے بعض ایسی احادیث بھی ہیں اور آنے والے مسیح کے بارے میں ہے مثلا یہ ایک کتاب نہایا کی کہ بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اثر مراد نہیں تھی کی نماز کا وقت مرا تھا لوگوں نے اس کو کہا کہ یہ فجر بھی ہو قریب بھی ہو سکتا ہے وقت بھی ہو سکتا ہے اور اس کے پیچھے یہ ذکر کر رہے ہیں کہ جب مسیح نازل ہوگا تو وہ دمشق کے مشرق میں ایک سفید میں زیادہ ہوگا اس پر اس کا نزول ہوگا اور چادر میں لپٹا ہوا ہو گا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الہی کتابوں کی روشنی میں ایسی پیشگوئیوں کی ایک ایسی وضاحت کی ہے میرے بھائی کا سوال کیوں کہ خاص طور پر عصر کی نماز کے ساتھ متعلقہ ہے ان سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے حوالہ نہیں بتایا روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 225 ملتے ہیں ساجد محمود بھٹی صاحب کی طرف اور ان کے سامنے اپنا سوال رکھتے ہیں ساجد صاحب جو اگلا سوال میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ساجد صاحب اسلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سر جی اگلا سوال جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ ہمارے بھائی احمد ان کا نام مجھے بتایا جارہا ہے انہوں نے پاکستان سے کیا ہے وہ سورہ نساء کی جو آیت ہے ہمایوں تیار اور رسول اس کے حوالے سے بات کر رہے ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ اس آیت سے جماعت کا موقف کیا یہی ہے کہ نبوت جاری ہے اور مرزا صاحب کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے تو برائے مہربانی میرے بھائی کے سوال کا جواب دے دیں یہ سوال کے جواب کے حوالے سے عرض ہے قرآن کریم میں جو مضمون بیان کی ہے اور جس کی ہمارا عقیدہ ہے وہ یہ کہ نبوت کا دروازہ جو ہے وہ قیامت تک کھلا ہوا ہے اب نہیں ہوا لیکن کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد نبی آنا ہے یا نہیں آنا اس کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہوا ہے اللہ عالم ہے تو یار ورگا کہ اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ کب کس میں اور کہا اس نے اپنا رسول اور نبی چاہے تو دروازہ کھلا ہے یا دروازہ بند ہے یہ دو الگ چیزیں ہیں بند نہیں ہے دروازہ کھلا ہوا ہے لیکن کیا اس دروازے میں سے آئندہ کسی زمانے میں کوئی آئے گا اس کا بہترین علم ہے وہ اللہ تعالی کو ہے قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں دیکھنے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہمیں ملتی ہے جس میں اپنے زمانے سے لے کر قیامت تک کے حالات جو آپ کی عمر پرانے ہے وہ آپ نے بیان کی ہیں انہوں نے فرمایا ہے کہ میں دنیا میں آیا ہوں میرے بعد جو ہے وہ خلافت ہوگئی اس کے بعد ملوکیت ہو یہ بات جابرانہ ملوکیت بادشاہ کا درجہ ہے وہ شروع ہوگا تو یہ سارے سلسلہ وار واقعات اور حالات جو امت حضرت اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیے یہ بیان فرمانے کے بعد حضور نے فرمایا سونا تکون خلافۃ علیٰ منہاج النبوۃ کے بعد نبی خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے گا اور اس نبوت کے طریق پر خدا تعالیٰ کی طرف سے خلاف ہے وہ ٹائم اس حدیث کے بیان کرنے کے اینڈ میں آنحضرت نے فرمایا کہ محتاج بنیادی ہدایتکاروں نے اس کے بعد حضور نے سکوت اختیار فرمایا خاموشی اختیار فرمائی جس سے بظاہر ہماری رہنمائی ہو رہی ہے جوان کہ آپ قیامت تک کے لیے ہدایت کا سرچشمہ جو ہے وہ خلافت ہوگئی ہے چنانچہ رسالہ الوصیت میں حرکت اسلام میں جہاں کی مضمون بیان کیا تو برطانیہ والا پہلے تو نے فرمایا کیوں بحیثیت نبی اور دوسری ہجرت خلافت احمدیہ کو جو آپ کی وفات کے بعد ٹائم ہو چنانچہ اس سورت کے والد کو حضور نے فرمایا کہ اس کا سلسلہ پتا نہیں ہوگا روایت حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس فرمان کے بعد ہدایت کا سرچشمہ قیامت کے لیے تمام بنی نوع انسان کے لیے یہ ہے کہ آپ عاملیت کا وجود ہے یا نبی کی نے آنا ہے یا نہیں آنا اس قرآن کریم کا فیصلہ ماشاء اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ بہتر جانتا ہے کہ کیا کسی زمانے میں ضرورت ہے وہ بھی کہاں ہو گی اس لوگ اس کو بھیجا جائے گا تو یہ فیصلہ کن آیات ہمارے لئے رہنمائی کر رہا ہے صاحب یہ بھی انہی سوالات میں سے ایک سوال ہے جو متعدد دفعہ ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جواب اس کا یہی ہے جو قرآن کریم میں اللہ تعالی نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے نصیر قمر صاحب اگلا سوال ہمارے بھائی ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے کینیڈا سے بھیجا ہے وہ سوال اسی طرح آپ کے سامنے پر دیتا ہوں وہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو تعلیم جہاد کے متعلق اپنی کتابوں میں دی ہے وہ بہت واضح ہے لیکن پھر آگے کہتے ہیں لیکن کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ جہاد باسیف کے منع کرنے سے مراد صرف یہ ہے کہ اسلام کی تبلیغ میں تلوار نہیں اٹھانی لیکن مسلمان اپنے حقوق کی خاطر اور آزادی کی خاطر جہاد کرنے ہیں یہ ابھی بھی جائز ہے برائے مہربانی اس کی وضاحت کر دیں نقیب دو باتیں ہیں ایک ہے کہ مذہبی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے حوالے سے یہ بتایا کہ لا اقرا فی دین میں کوئی جبر نہیں چلتا آفس سے نہ اسلام پہلے پھیلا تھا یہ غلط خیال ہے کہ اسلام نے پہلے تلوار اٹھائی تھی تو اس کے ذریعے اسلام کی اشاعت ہوئی بلکہ وہ جب کفار کی طرف سے مشرکین کی طرف سے مخالفین کی طرف سے ان پر جنگ مسلط کی گئی اور مذہبی آزادی کو چھینا گیا اللہ تعالی کے حکم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنا ہے وہ قاتل ابن ام سلیم کی شادی داری کے تحت مدافعانہ طور پر جنگ لڑی اور خدا نے کیا تھا کہ اب تعداد کا سوال نہیں ہے وسائل کا سوال نہیں ہے اب میرے میری اجازت کے تحت آپ آزادی کے قیام کے لئے جو ہے مقابلے پر کھڑے ہوں اور خدا کی تائید و نصرت اور لا علمی مرکزیت کے مطابق باوجود تین سو ترانوے ہزار والوں کے اوپر غالب رہی تھوڑے ہونے کے زیادہ پر ان کو ملا اور اس طرح سے اللہ تعالی نے اپنی نصرت جو ہے وہ ثابت فرمایا اور بتایا کہ یہ جنگجو ہے یہ خدا کے حکم کے تابع اور اس کی مرضی کے مطابق لڑی جارہی ہے جو دفاع اسلام کے لئے دفاعی بنی نوع انسان کے لئے دفاعی مذہب کے لئے اور مذہبی آزادی کے قیام کے لیے اور اس میں صرف مسلمانوں کا نہیں قرآن کریم نے یہ بتایا کہ اگر اس کا بازو میں بعض ناقدین صوابی اور مسلمانوں میں مساجد کا ذکر آیا ہے گائے کی عبادت گاہیں ختم ہو جاتی ہیں اگر یہ اقدام نہ کیا جاتا جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کوئی ظالم حکمران مسلط ہو جاتا ہے اپنے عوام کے حقوق ادا نہیں کرتا اس سلسلے میں ایک تو یہ بات سامنے رکھنی یاد رکھنی چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے پتہ لگتا ہے کہ جیسے لوگ ہوتے ہیں فلم کے اوپر مسلط کیے جاتے ہیں وہ سارے حکمران بنتے ہیں وہ وہی لوگ منتخب کر کے آگے لاتے ہیں اور پھر وہ ان پر ظلم سے تنگ کرتے ہیں انہیں پہلے سپورٹ کرتے ہیں جب ظلم کرتے ہیں تو پھر کہتے ہیں یہ کیا ہوگیا ایک تو یہ بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو بدلیں اور ہمیں عمومی تعلیم یہی ہے کہ کوئی بھی حال ہو حاکم وقت کی اطاعت کرنی ہے فساد پھیلانا حقوق لینے کا طریقہ یہی نہیں ہوتا کہ آپ آگے لگانے شروع کر دی لڑائی شروع کر دی حکومت وقت سے حکومت کے پاس بہت سارے وسائل ہوتے ہیں کون اس کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے جو پہلے ہی ظالم ہے اگر اس کے کال کر لیں گے اور کیا رہے گا اور پھر اس کا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے سوائے اس کے کہ خون خرابہ ہو مزید ظلم اور زیادتی میں جو ہے وہ سختی آئے تو اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیا آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کی اطاعت اور فرمانبرداری ہر مسلمان کے لئے ضروری ہاں وہ عمر اس کے لیے پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ جب تک وہ عمران آسی اتنا ہوں اور یہ بہت بنیادی بات ہے کہ ہم نے اطاعت کرنی ہے فساد پھیلانہ حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص اپنے امیر میں کوئی ناگواریاں نظر ظاہر بری بات دیکھے تو وہ صبر کرے سے وابستہ ہے کیونکہ جو شخص تھوڑا سا بھی جماعت سے الگ ہو جاتا ہے اور تعلق توڑ لیتا ہے وہ جہالت کی موت مرتا ہے اس ارشاد سے بھی رہنمائی ملتی ہے کہ آپ دعا کریں اگر ایسے ظالم حکمران آپ پر مسلط ہوگئے ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کو بھی نہیں دیتے تو خدا سے دعا مانگے خدا ان اس بات پر قادر تھے تو ان کے لیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی حالت کو بھی تو بدل لینا خدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ مومنوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑتا بے آسرا نہیں چھوڑتا ہمارے اس زمانے میں دیکھ لیجئے پاکستان کی مثال لے لیجئے جماعت کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے قانون اور محروم کیے جا رہے ہیں اور مذہبی آزادی کے فقدان کا یہ حال ہے کہ نماز پڑھنے تونے تکلیف ہو اللہ کا نام لے تو اس میں تکلیف ہوتی ہے کھلا جو دنیا کی ایک عظیم الشان صداقت ہے اس کا اظہار کریں تو تم کون ہوتے ہو والے لیکن ہمارے امام نے کیا بتایا سالہا سال سے اس ظلم کو برداشت کر رہے ہیں کبھی کسی نے دیکھا کہ ہم سڑکوں پر نکلے ہو ٹائر جلائے ہو ٹریفک جیم کیا ہو لوگوں کے گھروں کو حملے کیے ہوئے حکومتی پراپرٹی کو نقصان پہنچا نہیں ہمیں یہی حکم ہے ہمارے امام کا کے غدود بڑھ گیا شور و غوغا میں نہ عام ہوگئے یاری نامی خدا کی طرف توجہ کرو اور جو اصل مقصد ہے اس سے نہیں ہٹنا ہم نے صبر سے کام لینا ہے ہم نے ملک کے عوام کے لئے بھلائی کا سوچنا بھلائی کا جو ہم کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے خدا ہمارے کاموں کا مستقبل اور ایک جگہ پر ظلم اور زیادتی ہوتی رہی ہے ساری دنیا میں خدا کا فضل کس طرح وہ ابھی رو رہے ہو وہ قربانیان قربانیوں کا پھل ہے جو ساری جماعت کو عطا ہو رہا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالی کی محبت کی نشانیاں ضرور پیدا ہو رہی ہیں اللہ کے قرب کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے تو یہ وہ بہترین لایا عمل ہے کہ فساد نہیں کرنا کیونکہ ان اللہ لا یحب المفسدین جس طرح آپ نے سوال بھیجا ہے اس سے یہ تاثر مل رہا ہے گویا ابتدائے اسلام میں اسلام کی تبلیغ تلوار کے ساتھ ہوئی یہ ہرگز جماعت احمدیہ کا اور اسلام کا یہ موقف ہی سرے سے ہاں یہ مخالفین اسلام کا نظریہ تو ہو سکتا ہے یا مودودی صاحب شاید اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں لیکن جماعت احمدیہ نے واضح طور پر بات بیان فرمائی اور خود قرآن کریم اس بات کا اظہار کر رہا ہے کہ جو آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جنگوں میں شمولیت کرنی پڑی وہ محض دفاعی جنگ تھی اور ان کا مقصد بھی نہ صرف یہ کہ مساجد کو باقی رکھنا تھا بلکہ تمام عبادت گاہوں کی حفاظت کرنا تھا ایک تو یہ جاننا بہت ضروری ہے اور دوسری بات یہ بھی جاننا بہت ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ کے ماننے والوں کے لئے تو بہت آسان راستہ ہے ہم ایک امام کو ماننے والے ہیں ہم نے جب بھی لڑنا ہے امام کے پیچھے لڑنا ہے اور امام کہ لڑنے کا طریقہ دعا اور دعائیں ہمیں سکھایا جا رہے ہیں ہم نے یہی کرنا ہے گفتگو کو آگے لے کے چلتے ہیں فضل صاحب ہمارے بھائی ہیں محمد احسان شاہ صاحب اور اگر میں ان کے شہر کا نام لے کر آنا ہے موقع دیجئے گا لیون فرانس سے یہ سوال کر رہے ہیں تعالیٰ نے حضور صلی السلام کو اپنی حضرت آمنہ کی قبر پر دعا کرنے سے کیوں منع فرمایا تھا میں جاؤں گا کہ آپ سے سوال کی وضاحت کریں اور اس کا جواب بھی نہیں یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اسے زباں 13 سے بھی ہمارے لئے ایک کیفیت ایسی پیدا کر دیتا ہے جس میں پہلے وضاحت کرنا چاہتا ہوں ایک بات تو یہ بات کرنی چاہیے یاد رکھنی چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر پر دعا کی یا نہیں کی یہ اس کو بعد میں ہم ذکر کریں گے لیکن کسی کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ جنت میں ہے یا جہنم میں ہے اس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا یہ خدا کا کام ہے خدا تعالیٰ ایک گناہ گار سے گناہگار اور کسی شخص کو بھی یہ خدا کی مرضی ہے جس کو جنت میں پہنچ جاتا ہے اور پھر سلسلے میں کسی کا کوئی دخل نہیں ہے یہ اتنا عظیم الشان وجود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم جیسا جسم اسے پیدا ہوا اس کے بارے میں ہماری زبان تو بات کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کو اللہ تعالی نے کیوں منع کر دیا قرآن کریم کی بعض آیات ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عام طور پر یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہیں تھا بلکہ ایک عمومی حکم تھا اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے ما کان لنبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین والا اللہ ھم اصحاب الجحیم کیا اور بعض آیات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ نے صحابہ کو اپنے مشرک والدین کی قبروں پر جانے سے منع کیا تھا ایک انساں میں بات تھی کہ معاملہ خدا کے سپرد ہے ہمیں اب اس معاملے میں کی ضرورت نہیں ہے اللہ تعالی ان کو جنت میں داخل کرے یا یہ بہت حدیث کا تعلق حدیث نمبر دیتا ہوں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر کے پاس تشریف لائے اور والدہ کی قبر دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہاں پر کچھ دیر حضور صلی اللہ وسلم کے ٹھہرے اور جیسے ذکر ہے سنن ابی داؤد کی حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ دیر روتے رہے اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے یہ اجازت مانگی تھی کہ میں اپنی والدہ کے لیے دعا کرو لیکن مجھے اس کی اجازت نہیں دی گئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کر دیا تھا کہ تم نے ایسا اپنے مشرک والدین کے لیے دعا اور یہ ایک انسانی بات تھی تو ظاہر ہے سب سے پہلے تو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے مناسب نہ تھا باقی ان کے ساتھ ساتھ اللہ کا کیا ثبوت ہے یہ اللہ بہتر جانتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ کو اللہ تعالی نے کیا کیا نعمتیں عطا فرمائے کن تھا اور پھر جن لوگوں نے آپ کے ساتھ حسن سلوک کیا یہ میرے خیال میں ایک انسانی بات تھی جو سارے صحابہ کے لیے اس زمانے میں ایک بات تھی کہ مشرک والدین کی قبروں پر جایا نہیں کرتے کرین اگر سوال لے کر ہم گانا چلتے ہیں اور ساجد محمود صاحب سے بات کرتے ہیں السلام علیکم ساجد محمود صاحب وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ صاحب جو میں آپ کے سامنے سوال پیش کرنا چاہتا ہوں یہ ہمارے بھائی سرفراز صاحب ہیں فیصل آباد سے انہوں نے بھی کیا اور اسی قسم کا سوال ہمارے بھائی عارف زمان صاحب نے بنگلہ دیش سے بھی کیا ہے کیوں آج 21مارچ ہے اور دو دن کے بعد 23 مارچ کا دن ہے اور جیسے کے پروگرام کی ابتدا میں خان صاحب نے اس کی تھی نعت سن 1989 تقریبا ایک سو اکتیس سال پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے جماعت احمدیہ کا آغاز فرمایا پہلی آپ نے لدھیانہ میں نہیں تھی صوفی احمد جان صاحب کا گھر تھا تمہاری دونوں بھائی جو سوال کرنا چاہ رہے ہو یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ کی پہلی بیعت لدھیانہ میں لی جائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا فیصلہ تھا یا کوئی الہام ہے اس کے بارے میں تو اس بارے میں ہمارے بھائیوں کی رہنمائی کردیں اور انکا بھی اس سوال کے حوالے سے عرض ہے کہ جو ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام لینے کے حوالے سے الہام ملتا ہے لدھیانہ کا میرے علم میں کوئی تازی کرنی ہے حضور کو جو خدا کی راہ میں الہام کیا وہ تھا کہ وطن اہل وطن وابریٹر پیار کرو ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں ہوگی اور ہماری وحی کے مطابق ہو گی یعنی ایک روحانی کس چیز سے وہ تیار کرنی ہے جمشید خان اللہ دین نعت آ ہن ہمایون اللہ یا اللہ رحم میری بات کرتے ہیں اصل میں وہ خدا تعالیٰ کی بات کریں گے خدا سے اللہ کی حفاظت میں ہے وہ آ رہے ہوں گے حوالے سے اگر جامع حدیث کو دیکھتے ہیں تو یہ بات ہمیں ایک کہہ سکتے ہیں کہ پیشگوئی کے رنگ میں جو ہے وہ جگر کے صحیح مسلم میں حضرت بلال کی حدیث میں مسیح کو نبی اللہ کے حوالے سے ذکر کیا ہوا ہے چنانچہ اس میں کہ جعلی تحریک کا خاتمہ جو ہے وہ ابن مریم کس طرح کرے گا اس میں الفاظ آتے ہیں کہ ہدایت عبدالرحمن بھائی آپ کے پھر مسیح ابن مریم کو ہے تو وہ دجال کو باب چلے گا یا پائے گا اور پھر اس کو قتل کر دے گا قاتلوں کے الفاظ صحیح حدیث میں آنا کو اشارہ ہی بتا رہا ہے کہ ایسا مقام ہے اور یہ اس سے قدرے مختلف ہیں وہاں پیار ہی جمعتہ الوداع سے لودھیانہ جو ہے وہ مزا دیا یاد آتی ہے بہت دل اسلام میں ایک مقام پر اپنی جماعت کا آغاز فرمایا جواب افراد پر مشتمل تھی اور اس جماعت کے ذریعے سے پھر پوری دنیا میں سجا لیں تحریکوں کا خاتمہ پنجابی ختم ہونا تھا اور اسلامی قائم ہونا تھا اس جماعت کے ذریعہ سے اتنا تو وہ والی خبر کیا ہے وہ حدیث چالیس افراد کا قافلہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام وہ چار لاکھ افراد ہیں وہاں سے ایک ملک سے کی غلامی میں کیا ہے وہ آگے احمد جاوید صاحب کا ایک یہ بھی ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کا منشا ہوگا کہ حضور کے اس بات کے اس سے پہلے ہی وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بھی چند جماعتیں لٹریچر میں ان کا ایک شعر بھی بڑا معروف ہے جنہوں نے کہا حضور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر ایک اور جگہ پر توہین کا بھی آتا ہے کہ ہم مریضوں کی ہے تو نے پہلی نظر کے لیے نعت لحاظ سے عین ممکن ہے کہ ان کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کو ٹھیک ساجد صاحب آپ نے بھر پہلو سے اس کا ذکر کر دیا ہے صوفی احمد جان صاحب اس موقع پر تھے لیکن آپ نے میں بھی کہا تھا کہ داؤد علیہ الصلاۃ والسلام کو بیان مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ تم مسیحا بن خدا کے لئے تو ہر لباس کی طرف بھی اشارہ کے تمام پہلو ناظرین کے سامنے ہیں قصیدہ عمر صاحب ہمارے بھائی ہیں منیر عمان سے ایک سوال پوچھنے میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں وہ کہتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کو اللہ تعالی نے آفیت کا گھر قرار دیا ہے چار دیواری کے اندر آنے والوں کو بلاؤں سے بچانے کا وعدہ کیا گیا ہے یہاں فیت اور چار دیواری اس سے کیا مراد ہے اس کی وضاحت چاہتے ہیں بالکل درست ہے خدا کے مامور ہمیشہ وہی عافیت کا حصار ہوا کرتے ہیں اپنے وقت میں کھانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے کو اللہ تعالی نے عافیت کا حصار بنا کے بھیجا آپ نے ایک موقع پر یہ بھی فرمایا کہ اس زمانہ کا حسن حسین میں ہوں بہت مضبوط قلعہ میں ہوں اور جو اس میں آئے گا وہ آفات سے بچایا جائے گا اور وہابیت کا اظہار والا ہے وہ فرماتے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالی نے یہ بتایا تھا الحمد ان کا زمانے میں یہ آپ کو الحمد یہ بتایا گیا کہ انڈیا وحافظو قبلہ منفردہ کے میں ہر اس شخص کو جو تیرے گھر کی چار دیواری میں آئے گا تیرے گھر میں آئے گا اس کو غیر معمولی طور پر اس کی حفاظت کروں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس موقع پر اللہ تعالی سے علم پاکر اسلام کی روشنی میں تجارت کس دیگر ہدایات کا گورنمنٹ کا تعلق ہے صفائی ستھرائی کا وہ آپ کا اہتمام ضرور کریں لیکن ٹیکہ لگوانے کی ضرورت نہیں بلکہ اصل ضرورت ہے کہ آپ خدا کے ساتھ تعلق قائم کریں اور میرے ذریعے سے جو میرا روحانی گھر ہے اس کے اندر داخل و اس میں آپ کے ظاہری گھر کی کا ذکر بھی تھا اور اداروں سے مراد آپ کی تعلیم اور طور پر آنا اس چار دیواری کے اندر آنا بھی ہے میں حضرت سید مودودی کام کے وہ مختلف جگہوں سے چند جملے پر دیتا ہوں جس سے بات کو  تعلیم کا ذکر اپنی کتاب کشتی نوحواضح ہو جائے گی فرماتے ہیں اس نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ تو اور جو شخص میرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقوی سے تمام ہو جائے گا وہ سب تعاون سے بچائے جائیں گے مجھے ایک ایک لفظ جو ہے وہ قابل غور ہے اور یہ تھا اور سچے تقوی سے تجھ میں ہو جائے گا وہ سب تعاون سے بچائے جائیں گے اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہوگا تو وہ قوموں میں فرق کر کے دیکھ لاوے لیکن وہ جو کامل طور پر بھی نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے یہ کا مزار بھی ہے آپ فرماتے ہیں اس نے مجھے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ میں ہر ایک ایسے شخص کو تعاون کی موت سے بچاؤ گا جو اس گھر کی چاردیواری میں ہوگا بستے بشرطیکہ وہ اپنے تمام مخالفانہ ارادوں سے دست کش ہو کر پورے اخلاق اور کتا اور ان کے ساتھ سلوک یہاں سے وضاحت ہوگئی چاردیواری سے مراد سلسلہ بیعت میں داخل ہونا ہے میں اور خدا کے احکام اور اس کے معمول کے سامنے اسی طور سے متعلق بر اور سرکش اور مغرور اور غافل اور خود سر اور خود پسند نہ ہو اور عملی حالت موافق تعلیم رکھتا ہوں اور پھر آپ نے کشتیوں سے میں پڑا ہوں اور آپ یہ فرماتے ہیں کہ میرے منجانب اللہ ہونے کا یہ نشان ہوگا کہ چار دیواری کے اندر رہنے والے مخلص لوگ اس بیماری کی موت سے محفوظ رہیں گے اور میرا تمام سلسلہ نسبت المقابلۃ تعاون کے حملے سے بچا رہے گا اور وہ سلامتی جو ان میں پائی جائے گی اس کے کسی گروہ میں قائم نہیں ہوگی پھر آپ اس تعلیم کا ذکر فرماتے ہیں تاکہ کہ سارے لوگ تو اس گھر کے اندر نہیں سکتے جو آپ کا تھا کہ سکتے تھے تو اسلام نے یہ فرمایا کہ وہ میں نے جو ذکر کیا ہے کہ میں تعلیم کے اندر دائرے کے اندر ای تعلیم کے گھر کے اندر آئیں وہ کیا ہے کہ وہ تعلیم کیا ہے جس کی پابندی تعاون کے حملے سے بچا سکتی ہے مختصر بطور بطور مختصر چاند سے نیچے رکھ دیتا ہوں اور پھر آپ نے تعلیم کا عنوان لگا کے لئے لکھا ہے کہ واضح رہے کہ صرف زبان سے بات کا اقرار کرنا کوئی چیز نہیں ہے جب تک دل کی عزیمت سے اس پر پورا پورا عمل نہ ہو پس جو شخص میری تعلیم پر پورا پورا عمل کرتا ہے وہ اس میرے گھر میں داخل ہوجاتا ہے جس کی نسبت خدا تعالی کی کلام میں یہ وعدہ ہے انہیں وہ حافظ غلام نمبردار سارے جو تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہے میں اس کو بھول جاؤں گا اس جگہ یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہی لوگ میرے گھر کے اندر ہیں جو میری اس خاک کو اُس کے گھر میں بودوباش رکھتے ہیں ٹھیک ہے مکان میں اینٹوں کے مکان میں کبھی جو میری پوری پیروی کرتے ہیں میرے روحانی گھر میں داخل ہیں پیروی کرنے کے لئے یہ بات یہ ہے کہ وہ یقین کریں کہ ان کا ادراک ما یوم اور خالق خدا ہے جو اپنی صفات میں اجنبی اور غیر متغیر ہے یہ کلام با حوالہ ہے اس کو پھانسی پر چڑھانا چاہیے سے کیوں کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ پیش کر دیے ہیں تو میرے خیال میں اس سے زیادہ اس سے گفتگو بھی نہیں کرنی چاہیے بہت اہمیت کا حامل سوال ہے اللہ ہم نے سوال رکھنا چاہوں گا ہم نے ان پروگراموں میں ذکر کیا اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا اور یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ایم ضرورت زمانہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعوی فرمائے اور پھر وہ پیشگوئی آج واقعہ مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی وہ آپ کی ذات میں اور آپ کی جماعت میں پوری ہورہی ہیں کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں ٹھیک ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوی کو ہم نے دیکھ لیا ان کو مان لیا لیکن یہ خلافت کا سلسلہ جو آپ نے شروع کر دیا ہے اس کی اصل کیا ہے اس کی بنیاد کیا ہے چاہے گا کہ آپ حوالے کے ساتھ ہمارے ناظرین کو اس بارے میں رہنمائی کردیں سوال میرا سال پہلے حوالہ دکھا دیتے ہیں اور میں چاہوں گا کہ وہ اسکرین پر ہمیں دکھائیں اس وقت کی مناسبت سے صرف ایک اندمال کا حوالہ ہے میرا مگر تو اس میں میری جلد نمبر 6 ہے یہ اس کتاب کا اور اس کے اندر یہ حدیث ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تو نبوت توفیق و ما شاء اللہ ان تکون ایک دلچسپ بات تو یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ یہ حدیث ایسی ہے جو مسلمانوں کی اکثریت ہے اس کتاب میں موجود ہے اور اس پر کسی نے ایسا کلام نہیں کیا گیا یہ دیسی ہے اس لیے اس حدیث کی بڑی عظمت ہے اور میں کپڑوں کا بھی اسکرین پر بھی نظر آرہی ہے تو اس کو دیکھ رہے ہیں اسلام نے ایسی احادیث اور اس طرح کی خوشخبری و جدل خوشخبری بھی ہیں اور بعض عبارتیں بھی ہیں یہ بھی تبصرہ فرمایا کہ مسلمانوں کی کیسی بری حالت ہے یہ کہتے ہیں کہ جتنی ایسی باتیں ہیں جن کے اندر اندر پایا جاتا ہے کدھر جائیں گے مسلمان تباہ ہو جائیں گے اور اسلام کا نام باقی رہے گا اور مسلمانوں کے اندر فرقہ فرقہ لوگ دیں گے قرآن دنیا سے بہت ساری پیش ہو یا بری دوائی کرامت ولی پیشگویی تھی اس کے پورا ہونے کا ان کو فکر نہیں ہے اور اس حدیث کی عظمت یہ ہے کہ اس حدیث کا ایک ایک لفظ پورا ہوتا ہے کہ جو بھی تاریخ اسلام پر ایک عمومی نظر ڈالتا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ حدیث اپنے رنگ میں پوری ہوئی اور اس بات کو بھی ہنسی ہیں اسلام نے مسلمانوں پر واضح کیا کہ دیکھو اگر تمہیں کوئی حدیث میں خیال آیا کہ یہ پوری نہیں یہ سید حسینی تو لیکن یہ تو بتاؤ کہ جو حدیث لفظ بعض حدیث کی اصطلاحات کی وجہ سے یا آدم کی وجہ سے وہ اس پر پوری نہیں اترتی تو وہ کیسے جھوٹی ہو سکتی وہ حدیث ام لا پوری ہوچکی ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تکون النبوۃ فیکم ماشاء اللہ ان کو نہ تمہارے اندر نبوت رہے گی جب تک اللہ تعالی جائے گا ارفع و اعلیٰ شاہی رفع اور جب اللہ تعالی چاہے گا اس کو اٹھا لے گا سموسمہ تکون خلافۃ علی منھاج النبوۃ سر اس کے بعد خلافت ہوگئی منہاج نبوت فتح کون ماشاءاللہ اور اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ تعالی چاہے گا اور دوسری حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد 35 سال خلافت لی تھی کہ نہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیشگوئی کے مطابق جب خلافت راشدہ کسی وجہ سے ختم ہوئی العشاء ثم تکون ملکا ک پھر اس کے بعد تکلیف دے بادشاہ تو ظاہری خلافت راشدہ کے بعد ایک بادشاہ کا سفر ہے لیکن وہ بڑے اچھے بادشاہ تھے نیک تھے سال کے تھے اور ان کے اندر نیکی اور تقوی کا اختیار تھا فرمایا کہ ایک آزادانہ آئے گا کہ اللہ تعالی اس بادشاہ کو بھی اٹھا لے گا سلمہ ملک جبری تک پھر ظالم جابر بادشاہ گے اور یہ بھی مسلمانوں نے دیکھا کہ شروع شروع میں جو بادشاہ حضرت عمر بن عبدالعزیز جاتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے ان کے بعد جب وہ خلافت جو یہ بادشاہت تھی ایسے بادشاہوں کی صورت ہوگی دونوں بڑی غلطی کی ہے ثمہ تکون فرمائے جو سلسلہ ہے جب فرمایا کہ جب زمانہ بادشاہت کس طرح ختم ہوگئی سنت کو خلافت علی منہاج نبوت میں پھر اس کے بعد منہاج نبوت کے مطابق ہمارا استدلال یہ ہے کہ اس وقت جماعت احمدیہ کے اندر جو خلاف جاری ہے کس طرح کی خلافت قائم کرنے کے لئے ساری دنیا میں مسلمان اور اس کے پیچھے ان کی بادشاہت سے بھی ہے پوری کوشش کر چکے ہیں لیکن اس کا کام نہیں کر سکے اور پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ وہ ایسی خلاف ہوگی جو منہاج نبوت پر ہوگی تو یہ بات خود بتا رہی ہیں کہ آنے والا مسیج جو ہے وہ بولا ہوگا لیکن وہ تو اس کے خلاف چلے گی اگر وہ آنے والا مسئلہ نہیں تھا وہ منہاج النبوۃ والخلافۃ کیسے کہہ سکتے ہیں اگر مسلمان الفاظ میں غور کریں اور یہ کیسی ہے جس کا لفظ بن تاریخ اس پر گواہ ہے کہ پوری ہو چکی ہے سوائے اس کے کہ اگر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ جماعت احمدیہ کو اللہ تعالی نے خلافت آفر مائی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے اور اس زمانے کے مسیح کے ذریعے وہ خلاف قائم ہوئی ہے دنیا کی ظاہری طاقتوں کی وجہ سے خاص ساری بادشاہت مل جائے ایسی خلافت کا قیام کوئی دنیا کی ساری طاقت نہیں کرسکتے صرف اور صرف ہمارے جو لوگ جماعت احمدیہ کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں اور دوست بھی کرتے ہیں اور اس کی صداقت کو جاننا چاہتے ہیں ان کو بھی سدیس کی طرف دیکھنا چاہیے اس پر غور کرنا چاہیے کہ ایک دفعہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چودہ سو سال پہلے بیان فرمائیں اور کتنی ڈیٹیل میں بیان فرما رہے ہیں راشدہ کا ذکر فرمایا گیا اس ذکر فرمایا گیا پھر ایک زمانے کا ذکر کیا گیا جس میں مختلف قسم کی بادشاہت کے قیام کا ذکر فرمایا گیا اور پھر دوبارہ خلافت علی منہاج نبوت پر آنے کا ذکر کیا گیا ہے تاریخ پر نگاہ ڈالی جس طرح باقی ساری باتیں تاریخی طور پر پوری ہوئی اور ان سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اس لئے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ دعوہ ہے وہ عین ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق آپ کا مسیح موعود ہونا امام مہدی ہونا وقت کا نبی ہونا لیکن یہ سب کچھ اگر ہے تو صرف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل غلامی میں ہے اگلا سوال بھی اور برمحل سوال ہے میں اس کو لے کے ساجد محمود بھٹی صاحب کے پاس جانا چاہوں گا اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جی صاحب سلام ورحمتہ اللہ حاجی صاحب ہمارے بھائی ہیں ناصر راجپوت صاحب جرمنی سے سوال کرے اور بڑا ریلوے سوال ہے وہ یہ چوتھا پروگرام ہے اور وقت بہت کم رہ گیا لیکن میں چاہوں گا کہ آپ ضرور اس سوال کا جواب دیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات اللہ علیہ وسلم سے محبت کے نتیجے میں ظہور ہوئے اور جمع جو مقام آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو حاصل ہوا وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے نتیجے میں ملا یہ بات یقین درست ہے تو اس کی تصدیق کرنا چاہ رہے ہیں آپ پلیز کچھ معجزات نشانیوں کا ذکر کریں اور اس بات کی تصدیق کریں جزاک اللہ تعالی ہمارے دوست ہمارے بارے میں کیا ہے وہ بالکل درست ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وزارت حضور کے ذریعے آئے جو آپ نے پیش ہوئی قرآن سے آپ کے ساتھ ہوئی اور آپ کو جو عظیم الشان مقام ملا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اطاعت اور فرمانبرداری کے نتیجے میں تھا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آلو بخارا تین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک قسم کی برکت جو ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے میں فیصلہ کر دیا کہ تمام برا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پوری دنیا میں پھیل گئی اور تمام پتھروں کی بارش نازل ہوگی وہ دراصل آخرت اللہ علیہ وسلم کے فیض کا سرچشمہ ہوگا مضمون کو حضور نے اپنے ایک شعر فارسی شعر میں بھی انہیں چشمہ رواں بکل کے خدا دہم یہ طرز بارے کمالیہ محمد کے جو میں بنی نوع انسان کو یہ عظیم الشان فیض کا چشمہ دے رہا ہوں فرعون یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کمال اور اس کے فوائد ڈرامہ دیکھ رہا ہے حضرت اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم مقام ہے وہ ہمیں بتا رہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس سلسلے کا آغاز کیا ہے تو اس سے بہت پہلے حضور نے ایک طرف دیکھا اور کشف یہ ترا یہ آسمان کے لوگ ایسے آدمی کو تلاش کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں بارہ زندگی ملے معاہدے کی تلاش میں عمرہ کرنے والے آدمی کی تلاش میں ہیں چنانچہ حضور فرماتے ہیں کہ وہ تلاش کرتے کرتے یا میری میرے قریب سے گزرنے لگے تو ان میں سے ایک نے میری طرف انگلی کا انگلی جہاں کے حاضر جو لوگ جو ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدمی ہے جو آخرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھ نعتیں ان کے آگے اور نے اسی طرح ان کی تشریح میں یہ اس سے بات کیا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس پودے کی جو شرط عظیم ہیں وہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے شیر بھی ہے یہ وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام سپاہ محمد پر میرا یہی ہے اداکارہ نور بخاری مرکزی قید جو پوری دنیا میں پھیل رہے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت اور یہ دراصل حضرت اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہیں جہاں تک پہنچا کے سوال کے دودھ آپ نے کیا کہا علیہ السلام کے چند معجزات اس حوالے سے میں ایک ہی عظیم الشان معجزہ کا ذکر کرنا یہ ملاقات پنجاب وقت کی ملاقات اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے بڑی کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بشارتیں بھی میرا مطلب ہے کہ دنیا کے کناروں تک چلے گا کراچی حضور کا آنا نہیں ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا ایک اور جگہ پر حضور کا الہام درج ہے کہ یا تو نہ مل سکا نہ میں لکھ کے دور دراز کے علاقوں سے لوگ تیرے پاس آئیں گے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا دین کامل گوجرات کے علاقوں سے لوگ تحائف دیتے ہیں وہ تیرے پاس لے کے آئیں گے ایک اور ان میں خدا کرے آپ کو مخاطب کر انا اعطینا کل کوثر کہ ہم نے تجھے کوثر عطا کی اور ہر اچھائی کی کثرت جو ہے وہ کوثر کراچی سے ایک مراد کے تیل کوئی کثرت ہو گی دنیا میں ایک اور انگلش زبان میں اللہ تعالی نے آپ کو کیا کہ آئی ٹی وی والا پھر ایک اور جگہ پر اور نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے یہ شعر دی کہ میں تیرے کالج اور دلی محبوں کے گروہ کو پڑھوں گا اور اموال میں برکت دوں گا اور ان میں کرتب شوگر کا علاج کس طرح اپلائی کر رہے تھے کہ ایک سو تیس سال پہلے اس جماعت کا آغاز ہوا ہے پانچ 130 کے بعد وہ آدمی جو اکیلا تھا وہ آدمی جس کو کو آج اس کے ماننے والے دو سو دس سے زائد ملکوں میں پھیل چکی ہیں کروڑوں کی تعداد میں ہیں مختلف رنگوں کے ہیں مختلف نسلوں کے ہیں مختلف قوموں کے ساتھ ان کا تعلق ہے ان میں یورپین بھی ہیں ان میں افریقن بھی ہیں امریکن بھی ہیں ان کے لئے بھی ہیں جو مختلف رنگوں کے زبانوں کے مختلف قوموں کے لوگوں کا آپ کی جماعت میں داخل ہوجانا باوجود تمام تر یہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے جو خدا تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ سے دکھایا بہت بہت شکریہ ساجد صاحب جس طرح آپ نے بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے اگر اس کا عملی نمونہ دیکھنا ہو تو جماعت احمدیہ کے دنیا بھر میں جلسہ ہے سالانہ ہوتے ہیں ان کو دیکھا جاسکتا ہے واقعی ملک کا ملک سے تعلق رکھنے والے مختلف زبانیں بولنے والے ایک دوسرے کو السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ دینے والے اور مسکراہٹ کے ساتھ ایک دوسرے سے ملنے والے لوگ ہمیں نظر آتے ہیں اس وقت حبیب صاحب جو ہمارے پینل نمبر بھی ہوتے ہیں وہ خلائی موجود ہیں رحمتہ اللہ و برکاتہ نصیر صاحب اچھا لائن اس وقت موجود نہیں کوئی بات نہیں نصیر قمر صاحب اگلا سوال ہمارے بھائی کا ہے لیکن مجھے بتایا جا رہا ہے کہ وہ اپنا منہ نہیں بتایا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سوال بہترین ہے ان آخری لمحات میں آخری منٹوں میں جب کہ ہمارا پروگرام اختتام کے قریب جا رہا ہے کہ میرا سوال یہ ہے کہ ایمان کو مضبوط کس طرح کیا جائے اور صراط مستقیم پر کس طرح رکھا جائے اس کے لیے کونسی دعا کرنی چاہیے میپ ایک تو یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ فاتحہ کو نام بھی دیے ہیں ایک دوائی بھی ہے ایک القرآن ہے یعنی سارے قرآن کی ماں ہیں میں مختلف دعاؤں سے بھرا پڑا ہے نبی علیہ السلام نے کی جو اللہ تعالی نے خود سکھائیں ساری دعائیں ہیں ایمان کی مضبوطی کے لئے ہیں فاتحہ جو ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن اور حدیث خاص طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ جامع دعا ہے اور الصراط المستقیم صراط الذین انعمت غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کی یہ دعا ہے اس طور پر سورہ فاتحہ کا یہ حصہ اس کو پورے طور پر غور اور تدبر کے سوچ کر سمجھ کر اس کے معانی اور مطالب کو سامنے رکھ کر پڑھا جائے تو یہ بہت ہی اہم دعا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلفائے کرام نے جو تفسیر بیان کی ہیں ان کو پڑھا جائے دیکھا جائے اس کا ذکر ہے ایک اور بات جو میرے ذہن میں آرہی ہے یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں آیات ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان امنوا بربکم لکھائی کے جب اے ہمارے رب ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان کی طرف بلا رہا تھا پسند ایمان لے ایمان کا خاص طور پر ذکر ہے اس کے لیے دعا بتائیں ربنا فاغفر لنا ذنوبنا وکفر عنا سیئاتنا و توفنا مع الابرار ہمارے گناہوں کو بخش دے ہماری کمزوریوں کو ہم ابرار کے ساتھ فائدے اور تیسری بات میں اس سلسلے میں بات کروں گا کہ خوبصورت خلافت کا بھی ذکر ہو رہا ہے خلافت کی ایک برکت تعالی نے قرآن کریم میں یہ بیان فرمائی ہے والا یہ ممکن نہ ہوندی نہ مرضی یہ تمکنت نصیب ہوتی ہے اور یہ تمکنت صرف مخالفین کے مقابلے پر نہیں ہے کہ جو خلافت سے وابستہ ہیں ان کے اندر ایمانیات کو مضبوط کرنے کے لیے بھی خلافت لیا ہے میں عرض کروں گا کہ اگر خلافت سے وابستگی میں اور اطاعت میں صرف اخلاق اور محبت کے تعلق میں بھرتی اور خلیفہ وقت کی طرف سے خاص طور پر جن حالات میں جنگجوؤں کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی جاتی ہے اگر ہم ان کو کرتے ہیں تو وہ ہمارے ایمان کو تقویت دینے کا موجب ہوتی ہیں اور انشاء اللہ اس کے نتیجے میں اب ان کے ثمرات میں حاصل ہوتے ہیں اکرام ہمارا یہ جو پروگرام جاری تھا یہ آج کے پروگرام کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچے گا اور یہ پروگرام 24 پروگرام تھے یہ لنڈ اسٹوڈیو سے آپ کے سامنے پیش کیے جارہے تھے ہم نے کوشش کی ہے کہ مختلف مختلف انداز میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور ہے جو آپ کا دعویٰ ہے اور اس دنیا میں تشریف لائے پیش کرنے کی کوشش کریں اس پروگرام میں جو آج کا پروگرام ہے اس میں جو میرے پیر میں عمران یہاں شاملہ گفتگو کر رہے ہیں ان کا بھی شکرگزار ہوں ساجد محمود صاحب گانا سے ہمارے ساتھ رہے فضل الرحمن ناصر صاحب اور نصیر قمر صاحب ناظرین کرام علیہ الصلاۃ والسلام کی آمد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب تھے آپ جو پیغام لے کے آئے جو باتیں ہمیں بتائیں وہ ڈھکی چھپی نہیں ہیں دنیا کے کونے کونے میں بیٹھا ہوا کوئی بھی آدمی کوئی بھی شخص کوئی بھی میری بہن کو بھی میرا بھائی اس پیغام کو دیکھ سکتا ہے سن سکتا ہے اور پڑھ سکتا ہے جو ویب سائٹ کے الاسلام ڈاٹ کام اس روز روز کریں الاسلام دوست آپ اس کو ضرور وزٹ کریں اور اس سے بڑھ کے جو براہ راست ایک فیض نصیب ہوتا ہے وہ حضرت امیرالمومنین حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہر جمعہ کے روز خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہیں اور ہمارے لیے اس میں بے شمار رہنمائی ہوتی ہے اس کو بھی ضرور سنیں اور خود جانچے اور پرکھے کہ آپ کو خطبات جمعہ میں کیا مسئلہ ہے ان سب باتیں جمعہ میں اللہ تعالی کا پیغام ملتا ہے قرآن کریم میں ملتا ہے اور حدیث ملتی ہے اور پھر امام زمان حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے جو ان تعلیمات کی وضاحت فرمائی ہے وہ ہمیں نصیب ہوتی ہے اور وقت کی مناسبت سے حضور ہماری رہنمائی فرماتے ہیں اور ہمارے لئے تو وہ ڈھال ہیں جس کا وعدہ ہے بیان فرمایا تھا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے چند اشعار میں یوں بیان فرمایا ہے ان میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار ویسے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار اب اس کا فرض ہے کہ وہ دن کرکے استوار لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت مسیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور کبھی ہے ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا اگر نہ سمجھو تو سمجھ آئے گا خدا یہی پیغام ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں دیا اور یہی وہ پیغام ہے یہی وہ آواز ہے جو امام وقت حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دنیا کے ہر بندے تک ذریعے تحریر کے ذریعے پیغام کے ذریعے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں ہر وقت صرف ایک ہی بات کرتے ہیں اور وہ باتیں کرتے ہیں کہ وہ مسیح جس کے آنے کا وعدہ دیا گیا تھا وہ آ چکا ہے لوگوں کو چاہیے کہ اس کی بات سنی اور اس کی طرف توجہ دیں یہ نہ ہو کہ پھر دیر ہو جائے ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ جب بھی کوئی ایسی آفت کی بات آتی ہے کہ دنیا میں کوئی پریشانی آتی ہے تو امیرالمومنین ان الفاظ میں ہمیں توجہ دلاتے ہیں ابھی کل کے خطبہ جمعہ میں آپ نے فرمایا آخری حربہ دعا ہے اور یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالی ہم سب کو اس کے شر سے بچائے ان تمام احمدیوں کے لیے بھی خاص طور پر دعا کریں جو اس بیماری میں کسی وجہ سے مبتلا ہوگئے یہ ڈاکٹروں کا شوق ہے کہ ان کو بھی یہ وائرس ہے یا کسی بھی بیماری میںمبتلا ہیں سب کے لیے دعا کریں عمومی طور پر ہر ایک کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالی دنیا کو اس کے اثرات سے بچا کر رکھے جو بیمار ہیں ان میں شفائے کاملہ عطا فرمائے اور احمدی کو شفا عطا فرمائے کے ساتھ ساتھ ساتھ ایمان اور ارکان میں بھی مضبوطی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے وعلیٰ آل محمد و بارک وسلم کا حمید مجید اللہ حافظ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں قادیان ہم تو رکھتے ہیں 9 قدیم دل سے ہے خدا میں ختم بخاری سنی

 30 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: