Rahe Huda – Sadaqat Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad pbuh – Qatle Khinzeer aor Kasre Saleeb




Rahe Huda – Sadaqat Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad pbuh – Qatle Khinzeer aor Kasre Saleeb

Rah-e-Huda – 14th March 2020 – London UK

اس سے لام سے نہ باندھا گیا اردو ہے اس وقت نبھانا لو جان رسم حنا میں یہی ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے کہ ظاہر الفساد فی البر والبحر موقع ہوتا ہے یہ وہ وقت ھوتا ھے جب ظاہری طور پر بھی اور تری میں فساد برپا ہوتا ہے اور روحانی طور پر بھی دنیا کی یہ حالت ہوتی ہے اور اس بات کا ذکر فرماتے ہوئے اللہ تعالی نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ وہ وقت ھوتا ھے جب اللہ تعالی اپنے معمول کو اور اپنے نبی کو دنیا کی اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجتا ہے ایک بنیادی معاملہ جو ہوتا ہے وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے تعلق رکھتا ہے خدا اس سے بے بہرہ ہوتی ہے اس سے دور چلی جاتی ہے اور اللہ تعالی کا معمول اللہ تعالی کا نبی لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف اور مخلوق میں آپس میں ہمدردی کرنے کا سبق سکھاتا ہے یہ پروگرام راہ خدا ہے جو اس لندن سٹوڈیو سے براہ راست پیش کیا اس پروگرام میں ہم جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد کے بارے میں آپ کے سوالات کے جواب دیتے ہیں یہ ہے کہ سب سے بنیادی بات آقا مولا حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی فرمائی تھی ان کے عین مطابق حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے معمور زمانہ ہونے کا مسیح موعود ہونے کا اور امام مہدی ہونے کا دعویٰ فرمایا ہے دو پروگراموں میں بھی اور آج کے پروگرام میں بھی انشاءاللہ آئندہ ایک پروگرام میں بھی ہم خاص طور پر اس موضوع پر گفتگو کریں گے کہ جس وقت ثانیہ جماعت احمدیہ نے دعویٰ فرمایا کیا حالت تھی اور پھر کیا یہ ضرورت ہے زمانہ تھی کہ کوئی دعویٰ کرے یہ اس کے بارے میں کوئی پیش کوئی پرانے صحیفو میں پائی جاتی تھی کہ نہیں پروگرام میں یہاں لندن سٹوڈیو میں خاکسار کے ساتھ گفتگو کرنے کے لیے موجود ہیں نصیر احمد قمر صاحب اور فضل الرحمن ناصر صاحب جہاں سے ٹیلی فون لائن کے ذریعے ہمارے ساتھ ہوں گے ساجد محمود صاحب کمال صاحب جب بھی امام مہدی کا ذکر آتا ہے ذکر آتا ہے ایک طرف تو لازمی بات ہے ہم قرآن کریم کا ذکر کرتے ہیں احادیث کا ذکر کرتے ہیں لیکن احادیث میں چند ایسے امور ہیں جو بڑے مارجن طور پر بیان کئے گئے ہیں اور ہمارے سوال کرنے والے بھی بے شمار ہمارے بھائی اؤر میری بہنیں سوال کرتے ہیں تمہارے بھائی نے ہمیں سوال بھیجا ہے اور وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ احادیث میں کسر صلیب کا ذکر ہے اور یہ الخنزیر کا ذکر ہے اس کے بارے میں حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے ہماری کیا رہنمائی فرمائے کہا ہے وہ قتل خنزیر اور قسم جی بالکل یہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و شان کا اس حدیث سے بھی بخوبی اظہار ہوتا ہے اللہ تعالی نے امت کے ساتھ پیش آنے والے حالات و واقعات آپ پر منکشف فرمائے اور اپنے کھانے والے امام محمود مہدی اور مسیح موعود کا ذکر فرمایا اور اس کے زمانے کے متعلق یہ بتایا اس کے کاموں کے حوالے سے کہ جب وہ آئے گا تو اس صلیب کو توڑ دے گا اور دراصل ان مختصر اور جامع الفاظ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی کمزوری جلیبی فتنے کی زمانے میں کثرت ہونے اور اس کے غالب ہونے کا ذکر اور بتایا کہ یہ وہ امام مہدی اور مسیح ہوگا جو آ کے اس صلیب کو توڑ دے گا نہ اس سے کوئی اس بات سے اس زمانے کی تعین بھی ہو جاتی ہے کہ مسیح موعود ایسے وقت میں آئے گا جب صلیبی فتنہ صلیبی عقیدہ بہت زور اور طاقت میں ہوگا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بیان فرمائی ہے اور یہ صرف آپ ہی نے بیان نہیں بہت سارے سابق میں بھی علماء نے اس بات کا ذکر فرمایا کہ صلیب توڑنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ لکڑی کس لیے بھی ہوتا رہے گا بلکہ جیسے حضرت حافظ ابن حجر عسقلانی امام نووی نے بھی یہی معنی کی ہیں کہ وہ جب مسیح موعود اور مہدی آئے گا تو وہ کس نے صلیب کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث آیت کا ابطال ثابت کرے گا شریعت نثار جو ہے اس کا غلط ہونا ثابت کرے گا یعنی اس زمانے میں عیسائی دن کس قسم کے عقائد رکھتے ہوں گے ان کا بطلان ثابت کرے گا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تفصیل کے ساتھ آپ کی مختلف کتب میں روشنی ڈالی ہے مثلا فرماتے ہیں کہ صلیب توڑنے سے مراد یہ ہے کہ اس زمانے میں آسمان اور زمین کا خدا ایک ایسی پوشیدہ حقیقت ظاہر کردے گا کہ جس سے تمام صلیبی عمارتیں ایک دفعہ ٹوٹ جائے گی ہیں کہ اور خنزیروں کے قتل کرنے سے نہ انسان مراد ہے نہ خنزیر بلکہ خنزیروں کی عادتیں مراد ہیں فرض کرنا اور بار بار اس کو پیش کرنا جو ایک قسم کی نجاست ہو رہی ہے اور جس طرح مرا ہوا خنزیر نجاست نہیں کھا سکتا اسی طرح وہ زمانہ آتا ہے بلکہ آ گیا ہے خصلت اس قسم کی نجاست خوری سے آپ فرماتے ہیں کہ اسلام کے علماء نے ان بعض علماء نے اس نبوی پیش گوئی کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے اور اصل معنہ صلیب توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کے یہی ہیں جو ہم نے بیان کر دیے ہیں اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑی تفصیل سے اس بات میں اپنی عادات میں روشنی ڈالی ہے اور اس بات کی کیا توڑنے سے مراد کیا ہے آتے ہیں کہ ہمارے پاس تو ایسے دلائل کا ایک انبار ہے ان سے عیسائی یہ صلیبی عقیدہ جس میں حضرت عیسی مسیح ناصری علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیا گیا اور انہیں ہمیشہ کے لئے زندہ قرار دیا گیا اور یہ بتایا کہ وہ یا یہ کہا گیا کہ وہ صلیب پر مر کے ان کے گناہوں کا کفارہ ہو گئے اس سال عقیدے کو حضرت محمد علیہ الصلاۃ والسلام نے دلائل کے ساتھ چھوڑا ہے اور اس کے لئے میں پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے دوبارہ کر دیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کتوں میں جنگ مقدس چشمے مسیحی راز حقیقت ہندوستان میں کتاب البریہ قاری سراج الدین صاحب کے چار سوالوں کا جواب انجام اعظم گڑھ کی تحصیل موجود ہے کے ایس ای جو یہ جو عقیدہ ہے کہ مسیح کی 182 تسلیم کرے گا مسیح موعود آکر دلائل کے ساتھ ان کے عقیدے کا راج ہے اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس کو پورا فرمایا اور یہ ثابت کیا کہ کسر صلیب جو ہے اس سے مراد آپ فرماتے ہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صحیح بخاری میں آنے والے مسیح کی نسبت جو لکھا ہے کہ یہ سراسر وزیر آیا نیو صلیبوں ہیرو کو قتل کرے گا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جنگلوں میں چھوڑ کے ماروں کی طرح شکار شکار کھیلنا پڑے گا اور جو اوپر چڑھ کر صلیب توڑنا پڑے گا کہ اصل بات یہ ہے کہ خنزیر نجاست کھانے والے کو کہتے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ نجاست جانوروں کی بلکہ جھوٹ اور روح کی جو نجاست ہے وہ سب سے گندی اور بدبودار نجاست ہے اس لیے ایسے لوگوں کا جو ہر وقت جھوٹ اور فریب سے دنیا اللہ تعالی نے خنزیر نام رکھا ہے اور یہ جو فرمایا اکثر اسالیبہ تو اس کے یہ معنی نہیں کہ جب آئے گا تو پتھر تانبے اور لکڑی وغیرہ کی صلیبوں کو پیسے پر فروخت ہوتی ہیں تو الٹا پھر اور اس کا مطلب یہ ہے کہ صلیبی مذہب کی بنیاد کو توڑے گا آپ فرماتے ہیں کہ صلیب کا لفظ حدیث میں آیا ہے وہ بطور مجاز استعمال کیا گیا ہے اور اس سے مراد کوئی جنگ کی یادیں نئی لڑائی اور درحقیقت صلیب کا توڑنا نہیں ہے اور جس شخص نے اظہار خیال کیا اس نے خطا کی ہے بلکہ اس لفظ سے مراد عیسائی مذہب پر حجت پوری کرنا اور دلائل واضح کے ساتھ صلیب کی شان کو توڑنا ہے اور سلیم کو توڑے گا اس سے یہ مطلب نہیں کہ وہ درحقیقت صلیب کی صورت کو توڑے گا بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایسے دلائل اور براہین ظاہر کرے گا جن سے صلیبی وصول کی غلطیاں ظاہر ہوجائیں گی اور دانشمند لوگ اس مذہب کا کسی قیل کرلیں گے اسی طرح فرماتے ہیں مسیح موعود کی بعثت کے وقت غلبہ اسلام آباد کا وقت غلبہ صلیب کو قتل کرایا گیا ہے توڑنے کے لئے آئے گا مطلب صاف ہے کہ مسیح موعود کی آمد کی غرض عیسوی دین کا اعلان کل ہوگا پہلے بھی بعض علماء نے اس بات کو کھا جون ابراھیم کے ساتھ جن کو آسمانی تعینات اور خواری تو اور بھی کردیں گے اس صلیب پرستی کے مذہب کو باطل کر کے دکھا دے گا پھر آپ فرماتے ہیں کہ یکسر الصلیب ہ کے الفاظ میں یہ بھی خیال تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں خدا کے ارادے سے ایسے اسباب پیدا ہو جائیں گے جن کے ذریعے سے صلیبی واقعہ کی اصل حقیقت تب انجام ہوگا اور اس عقیدہ کی عمر پوری ہو جائے گی آپ فرماتے ہیں صلیب کے توڑنے سے مراد کوئی ظاہری جنگ نہیں بلکہ روحانی طور پر صلیبی مذہب کا توڑ دینا اور اس کا بطلان ثابت کرکے دکھا دینا مراد ہے پھر آپ فرماتے ہیں صلیب کے توڑنے سے یہ سمجھنا کہ صلیب کی لکڑی یا سونے چاندی کی تسلی بھی تھوڑی جائیں گے سخت غلطی ہے مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود صلیبی عقیدے کو توڑ دے گا اور بعد اس کے دنیا میں صلیبی عقیدے کا نشوونما نہیں ہوگا اور ایسا ٹوٹے گا کہ قیامت تک اس کا پیوند نہیں ہوگا بالوں کے کی سکتے ہیں کسی میجر صاحب آئے وہ کہتے ہیں کہ سلیم کردی ہیں تو ابھی بھی دنیا میں بڑی کثرت ہے پیدا ہو سکتا ہے اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود میں وہ پڑھ دیتا ہوں آپ فرماتے ہیں یہ خیال بھی غلط ہے کہ کوئی عیسائی دنیا میں نہ رہے گا اسلام ہوگا جب کہ خدا تعالی خود قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ ان کا وجود قیامت تک رہے گا مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کا مذہب ہلاک ہوگا اور عیسائیت نے جو عظمت دلوں پر حاصل کی ہے وہ نہ رہے گی ایک موقع پر فرمایا درحقیقت سلیم کا کا سر موقع پر خدا ہوگا آیا یہ کس نے صلیب اعزاز اور اکرام مسیح موعود کی طرف منسوب کی بنا کر تو سب کچھ خدا ہے اسی طرح فرماتے ہیں کہ عربی عبارت ہے اس کا ترجمہ ہی فرماتے ہیں یقین یاد رکھو یہ کسر صلیب تلواروں تیروں کے ذریعے نہیں ہو گی جیسا کہ بعض نادان خیال کرتے ہیں بلکہ یہ ساری کسر صلیب دلیل و برہان آسمانی نشانات اور روحانی غذا کے ذریعے ہوگی آپ فرماتے ہیں کہ اس پیش گوئی میں جو انہوں نے فرمایا میں یہی اشارہ تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں خدا کے ارادے سے ایسے علم اسباب پیدا ہو جائیں گے جن کے ذریعے سے صلیبی واقعہ کی اصل حقیقت کھل جائے گی تب انجام ہوگا اور عقیدے کی عمر پوری ہو جائے گی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح جیسے میں نے آج کی اسلامی خدمات کے حوالے سے بتایا کہ آپ ایک اور جگہ بڑی تفصیل سے اس کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسیح موعود کو کیوں کر اور کن وسائل سے اسے سلیکٹ کرنا چاہیے کا جواب یہ ہے کہ مسیح موعود کا منصب یہ ہے کہ ہو جائے عقلیہ آیات سماویہ اور دعا سے اس فتنہ کو یہ تین ہتھیار خدا تعالی نے اس کو دیے ہیں میں ایسی اجازت حکومت میں اس کا غیر ہرگز اس سے مقابلہ نہیں کرسکے گا آخر اسی طور سے صلیب توڑا جائے گا یہاں تک کہ ہر ایک محقق نظر سے اس کی عظمت اور بزرگی جاتی رہے گی اور رفتہ رفتہ بھی قبول کرنے کے بعد دروازے کھلیں گے یہ سب کچھ تدریج ہوگا کیونکہ خدا تعالی کے سارے کام تدریجی ہیں کچھ ہماری حیات میں اور کچھ بعد میں ہوگا اور یہ آپ دیکھ لیجئے گا زمانے میں پیر جماعت علماء نے دانشوروں نے اخبارات کے ایڈیٹرز نے اس بات کو تسلیم کیا اور انہوں نے کہا مرزا حیرت دہلوی قرض کے ایڈیٹر تھے انہوں نے لکھا حضرت حسن کی وفات کے بعد کہ مرحوم کی وہ الحدید معتزلی اور عیسائیوں کے مقابلے میں اسلام کے کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کے مستحق ہیں آپ لکھتے ہیں کہ نہ بحثیت مسلمان ہونے کے بعد کے محققوں نے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے ا اور بڑے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلے میں زبان کھول سکتا اخبار وکیل پر لکھا کہ مرزا صاحب کا لٹریچر کے مسیحیوں اور یہودیوں کے مقابل قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اب یہ دیکھیے کہ آج تک بھائی احمدیوں کے مقابلے پر آنے سے بات کرنے سے دلیل کے ساتھ بات کرنے سے کتراتے ہیں دوسرے غیر جماعت علماء بھی بات کرتے ہیں تو انہیں دلیل سے مسلح ہو کر بات کرتے ہیں تو اس کے بعد الصلاۃ والسلام نے اپنے علم کلام میں بیان فرمائی لیکن ایک بات میں آ کے پیچھے رہ جاتے ہیں جس میں حضور صلی اللہ علیہ کے آسمانی نشانہ تازہ تازہ چیلنج روحانی مقابلے کے لئے دعوت اس میں وہ نہیں کر سکتے لیکن جہاں تک باقی عقلی دلائل کا تعلق ہے مسیح موعود علیہ روسی مسلح ہو کر عیسائیت کا مقابلہ کرتے ہیں تو کسر صلیب تو آپ نے کر دی آدم علیہ السلام نے کر دی بلکہ آپ کے بعد اللہ تعالی نے ایسا نظام فرمایا اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ کچھ تو ہمارے وقت میں ہوگا اور کچھ ہمارے بعد بھی ہوگا تو خلافت کے ذریعے سے وہ کس نے صلیب کا قیمہ مجھے اس کا آغاز مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ آپ کو بڑی شان کے ساتھ ساری دنیا میں جاری آج 213 ممالک میں وہ جو ہے وہ اسلام کو اور اب سربلندی عطا ہو رہی ہے عیسائیت کے بطلان ثابت کیا جا رہا ہے اس آیت کا جو آج کی آیت ہے جس میں کسی کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دے کر یہ ہمیشہ کی زندگی پانے والا قرار دے کر اس کو ایک خاص مقام دیا جاتا ہے اس کا بیان کہ جیسے جنگ جاری ہے آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حوالے پیش کرکے اس بات کو واضح کر دیا ہے میں ناظرین کی خدمت میں یہ ضرور عرض کرنا چاہوں گا اور ہم اس بات کا جتنی دفعہ ادا کریں وہ کم ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام دراصل نہ تو کوئی نیا دین لے کے آئے ہیں نہ ہی کوئی نیا پیغام لے کر کیا کام مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی فرمائی تھی ان کے عین مطابق آپ اس دنیا میں آئے ہیں اور وہی کام گویا اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کام سرانجام دے رہے ہیں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے کیا فرمایا کیا تحریر فرمایا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اب آپ تو اس کو کنسرٹ کرتے ہیں کرتے ہیں لیکن وہ احباب جو جماعت احمدیہ کے بارے میں تحقیق کرنا چاہیں ان کے لیے بھی میدان کھلا ہے ہماری ویب سائٹ ہے اسلام اس کو ضرور وزٹ کریں اگر آپ انگریزی زبان سمجھتے ہیں تب یہ مفید ویب سائٹ ہے اگر آپ اردو زبان سمجھتے ہیں تب بھی یہ مفید ویب سائٹ ہے اور اگر آپ عربی زبان سمجھتے ہیں تو اس کے لیے بھی یہاں پر موجود ہیں آپ خود تحقیق کریں کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے کیا فرمایا ہے ایک بھائی ہیں تو پھر احمد صاحب جرمنی سے انہوں نے ایک سوال کیا ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک تحریر سے تعلق رکھتا ہے وہ انہوں نے تو اس تحریر کے حوالے سے دو حوالے ہم سے پوچھیں ہیں ایک ابن تیمیہ کا اور ایک ابن قیم کا لیکن میں چاہوں گا کہ ناظرین کے لیے پہلے میں وہ تحریر پڑھ کر دیتا ہوں اور پھر میں آپ سے چاہوں گا کہ دیگر بزرگان کا ذکر ہے وہ والے آپ ہمارے ناظرین کو بتا دیں میں نے جو سوال کیا ہے وہ حضرت اقدس علیہ الصلاۃ والسلام کی کتاب کتاب البریہ سے ہے یہ روحانی خزائن کی جلد نمبر 13 میں ہے اور اس کا پیج نمبر ہے 221 222 میں جو حاشیہ درج ہے اس میں حضرت بانی جماعت احمدیہ تحریر فرماتے ہیں یہ حاشیہ کی دوسری لائن سے خاکسار پڑھا ہے سوا اس کے مالک جیسا امام علم حدیث و قرآن و متقی اس بات کا قائل ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں امام ابن حزم جن کی جلالت شان محتاج بیان نہیں بے وفا تم سی ہیں اسی طرح امام بخاری جن کی کتاب بعد کتاب اللہ ہونے تک تب ہے وفات مسیح کے قائل ہیں اور میرے بھائی نے جو سوال کیا گلف کے کے بارے میں عیسائی فاضل علوم حدث و مفسر ابن تیمیہ اور ابن قیم واقعہ امام ہے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کی تائید ہی تو میرے بھائی نے سوال کیا ہے کہ آپ بتا دیں کہ ان بزرگان نے کہا یہ بیان فرمایا ہے صدای رحیم یارخان وستاز وسیم عالم اسلام تو ساری عمریں مسلمانوں کو یہ سمجھ آتے رہے کہ تم ایسا کو مرنے دو تا اسلام زندہ ہو تو اس کے لیے آپ نے جو بات کی بڑی محنت سے اپنے گھر والے نکالے میں اس وقت اس کو تمہارے پاس والے موجود ہیں امام بخاری کا اعلان سب سے سب وسیم اکرم نے بھی ذکر کیا ہے امام بخاری کے متعدد ایسے والے جن کو مسئلہ سامنے کی جگہ پیش کیا ہے بلکہ ایک روز ایسا لکھا ہے جس نے سارے دریائے بخاری میں لکھتے ہیں فراست سے میں صرف ایک حوالہ امام بخاری کا پڑھنا چاہوں گا اور میرا خیال ہے کہ اگر ناظرین کو سکرین پر دکھا دیں تو اور یہ بڑا علم ہوا ہے کہ مسلمانوں میں عام طور پر یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کو کہ تمام مسلمان جو ہیں وہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ سمجھتے ہیں حالانکہ اگر اس حوالے سے دیکھا جائے اور غور سے پڑھا جائے اس کو تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر آج جمعہ ہے کسی بات پر تو اس بات پر ہے کہ گویا عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں حوالہ یہ ہے یہ صحیح بخاری کتاب المغازی ہے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حوالے سے جو واقعات ہوئے ہیں اس میں حضرت امام بخاری کے ذکر کرتے ہیں اور یہ جو روایت ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی ہے کہ عبداللہ ابن عباس ان ابا بکر اساسہا وعمر بن الخطاب ہیں فقال عمر و ابو مروان جی صاحب اس کا اردو ترجمہ پڑھ دیتا ہوں صاحب کے عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نکلے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ لوگوں کے ساتھ باتیں کر رہے تھے اور دراصل وہ دوسری روایات سے پتہ چلتا ہے لوگوں کو یہ کہہ رہے تھے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ بھائیوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ان کو یہ کہا کہ جیسے عامر طرف بیٹھے ہیں کی حالت بھی تھی کچھ ان کو یہ تھا کہ کیا حضور صلی اللہ وسلم تو فوت ہو ہی نہیں سکتے انہوں نے وہ اپنا وہی کام کرتے رہے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ لوگوں کی طرح تاریخ کو عمرہ فقال ابو بکر ی تو بہرحال انہوں نے اوپر کے فرمایا اما بعد ہو خانہ من کو یا وہ دو محمد محمد خان قدم آتا مابعد جو تم میں سے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی ہے انا منکم یعبد اللہ ان اللہ حی لا یموت عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ تعالی ہمیشہ زندہ ہے اور کبھی بننے والا نہیں ہے اور اس پر دلیل پھر آگئے حضور تو قدرت اللہ انہوں نے یہ دی قال اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اللہ وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اللہ کے رسول تھے اوکے اور جب یہ آیت سنی تو راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس ولالہ کا الناسہ لا الہ الا اللہ آئے تو آج ہی نہ تو یہ اعلان لگانا پڑتے تھے اللہ تعالی بہترین بلاک تعلق کا ہنر ہو پتہ لگتا ہے منہ سے لوگوں نے وہ قرضہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت سنی یاد کرتے تھے پھر آگے لگا ہوا ہے کہ ہیں اس حوالے سے دراصل اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہوتے تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ اتنے ماشاء اللہ اس وقت ایکسپریس کے صحابہ موجود تھے جب ان میں سے کسی کو بھی خیال آتا کہ استعمال کنندہ جو کتاب بنایا ہوا ہے اس میں سے ہم نے امام بخاری کا ذکر کردیا بدلہ والے کی طرف چلے دوسرا حوالہ آپ یہ اصل کتاب ہے امام طاہر گجراتی کے نام سے تحریک بہت بڑے افسوس نیو الامام میں سے ہیں اور ان کی کتاب ہے مجمع البحار اور اس کا اتنا بڑا مقام ہے کہ بڑے بڑے سنی علماء اور اہل حدیث علماء نے اس کا ذکر کیا ہے اس میں وہ ایک حدیث کا اور اس میں انہوں نے چھوٹی دی سے لے کے آ چکی ہے کہتے ہیں بلاک سروانہ ایس المحمود اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے وہ کالام الکلمات اور لیکن حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ وہ فوت ہوچکے ہیں کچھی والا علامہ ابن قیم کا جو بہت بڑے مفسر بھی تھے محدث بھی تھے اور انہوں نے بے شمار کتابیں لکھی ہے جو آج بھی بڑے بڑے جو مرتبہ شائع کرتے ہیں اس میں وہ یہ کہتے ہیں ان کی کتاب زاد المعاد یہ میں نے دیکھا بھی نہیں اسکرین کے اوپر تحریر فرماتے ہیں کہ امام الذکر والانثی ہے انہوں فی السماء یے والا و ثلاث وثلاثون آتا غزالاں سوں کے جو ذکر کیا جاتا ہے کہ مسیح آپ زندہ ہیں آسمان پر اٹھا لیا گیا کہ تیس سال کی عمر میں وہ کہتے ہیں اس کی کوئی اصل نہیں ہے فضا لائیور فول ہوا اثر و تسلسل آج بالمسیر الی ہائے کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کی حسرت کی تلاش کی جائے یہ کوئی ایسی بات نہیں اس طرح امام ابن قیم نے اور بھی اپنی کتاب میں بارہ سال کی عمر میں بھی ان میں حضرت مسیح وہ کہتے ہیں لوگ کا نام بتاؤ عیسیٰ علیہ السلام کہنے لگا نہ زندہ ہوتے تو وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں تیسرا حوالہ جو وہاں موجود ہے اس کا ذکر کردیا ہے بالکل ٹھیک ابے کے چوتھا حوالہ ہے حضرت امام ابن حزم کا توسی موسیٰ میں ذکر کیا ہے یہ بہت بڑے مسلمانوں کے بڑے معروف امام ہیں انہوں نے بھی جو کہ عام طور پر جب مسلمانوں کے ساتھ بات ہوتی ہیں تو وہ مانتے قرآن تو سارے مسلمان پڑھتے ہیں تو بعض الفاظ ایسے ہیں جن کے بعض علماء غلط معنی کر کے لوگوں کو بہکانے کی کوشش امام ابن حزم نے ان الفاظ کو لیا ہے آتے ہیں کہ یہ جو مسئلہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جو ہے نا میوزک والا کن وفاق ال تحویل ہے اس کا سارا مطلب یہ ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے اس السلام کو ہی وہ نہ قتل ہوئے نہ صرف ہوئے بتا دے دیں اور پھر ان کو انکار کیا وہ پھر اس پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے جاتے ہیں اس میں جو کا لفظ ہے جس کا آج کے علماء بھی کہتے ہوئے جسم اور روح کا زمین کو آسمان پر اٹھا لیا وہ کہتے ہیں تو فائدہ نہیں خاتون نام الفلفا تو عثمانی وفات کی دو قسمیں ہوتی ہیں جو ماتم فقط اب وفات کا یہ معنی کسی جگہ نہیں ہے کہ آسمان پر اٹھایا گیا کہ دوا نے اس کے ہوسکتے ہیں یا نہ من فقط والا یورپ عیسی علیہ السلام کے قول و فعل معطوف معنی اردو میں اسلام کے لئے جو توفی کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد وفات النوم نہیں ہو سکتی غصہ آنا ہوا المعانی وفات آلموتے میرے نزدیک اس کا معنی موت ہے یہ بات ہے تو اس کا مطلب یہ ہے آپ نے اگر ہم ترتیب سے بات کریں سب سے پہلے امام بخاری کا حوالہ ہمارے ناظرین کو دکھا دیا ہے اور دوسرے نمبر پر آپ نے امام مالک کا حوالہ ہمارے ناظرین کو دکھا دیا ہے تیسرے نمبر پر آپ نے امام ابن قیم کا حوالہ ناظرین کو دکھایا اور چوتھے نمبر پر ابن حزم کا دکھایا اب ایک امام ابن تیمیہ جو ہے ان کا آپ نے ذکر ویتامین بی اپنی کتاب ہے مجموعۃ الفتاوی اس میں بڑی تفصیل سے اس کا ذکر کیا ہے میں صرف متعلقہ حصہ پڑھتا ہوں آپ نے ہمیں عمل فتاوی فرماتے اماں حکایت حال ہیں بعد ان روپیہ ہوا مثل وہاں اور کیسا اسلام کے بارے میں یہ کہا جاتا ٹائم کیا ہوا ایسی باتیں جیسے تورات میں ذاکرہ وفات ابو موسیٰ علیہ السلام کے موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر آتا ہے وہ معلومات عن حذیفۃ اتوار میں خبریں انوائس عبادات و فیما یہ جو باتیں لکھی گئی ہیں کہ ان کا رقبہ ہوا گویا آسمان کی طرف سے ایسی باتیں جیسے موسیٰ علیہ اسلام کا تورات و غیرہ میں بھی ذکر ہے اور یہ سب عیسی اور موسی کی وفات کے بعد کی باتیں لکھی ہوئی ہیں ایسا ہوا معاملہ ہو یہ وہ باتیں نہیں ہے جن کو جو خدا نے نازل کی ہیں مطلق وہ خاموش ہو ایسا اللہ تعالی سے ان دونوں نے سیکھی ہیں بل ہوا میں ما کان ابو معاذ التاریخ فی الحال تو فیما وہ کہتے ہیں کہ یہ جو ان کا حال بیان ہوا ہے یہ خبریں وہاں موجود لوگوں سے ان کے احوال کے متعلق ان کے بعد لی گئی ہیں تو انہیں اللہ نے ان دونوں پر نازل کیا نہ ہی ان دونوں نے اپنی یا اس کا حکم دیا اور نہ ہی ان دونوں نے لوگوں کو اس کی خبر دی کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا ان کا ہوا یہ باتیں ہی باتیں ہیں جیسے تورات کو منسوب کی جاتی ہے کہ وہ حضرات ان پر نازل ہوئی ہے اس میں بے وفا کا ذکر ہے تو یہ وہ باتیں ہیں جو بعد میں لوگوں نے گاڑی ہیں ہیں علیہ السلام کے آسمان پر جانے کا جو کہ صحیح بات میں پکڑا گیا ہے ایسی کوئی بات تو میں نہیں پائی جاتی تھی ملک صاحب بہت بہت شکریہ ہم نے تفصیل کے ساتھ یہ حوالے دیکھا بھی دیے ہیں جو آخری حوالہ ہے وہ مجموعہ فتاوی کا ہے اور یہ کہ امام ابن تیمیہ سے اس کا تعلق ہے باقی والوں کی توقع اصلاحی صاحب نے یقینا صرف یہ یہ والے نہیں ہیں اسی بھارت میں آگے جا کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام محی الدین ابن عربی کا بھی ذکر فرماتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی گزشتہ متعدد علماء ہیں جنہوں نے اس بات کا ذکر کیا ہے جس سے واضح طور پر پتہ لگتا ہے کہ وہ وفات مسیح کے قائل ہیں لیکن یہ میدان ہمارے تحقیق کرنے والوں کے لئے کھلا ہوا ہے وہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر کا بھی مطالعہ کریں اور خود ان حوالوں کو بھی اصل کتب سے چیک کریں کہ ہم جو حوالے پیش کر رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں گفتگو کے سلسلے کو آگے چلاتے ہیں اور اس وقت میں بات کرنا چاہوں گا گانا میں ساجد محمود بھٹی صاحب سے السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ صاحب سلام ورحمۃ اللہ صاحب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد آپ کا دعوی مسیح موعود اور امام مہدی ہونے کا اگر ہم نہ صرف ان باتوں کا ذکر ہوتا ہے جن کا ہم نے پہلے ذکر کیا یا کسر اسالیب کا ذکر کی آیات الخنزیر کا ذکر کیا اور ابھی فضل صاحب نے کن والوں کا ذکر کیا کہ صرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی نہیں بلکہ دیگر علماء بھی وفات مسیح کے قائل تھے اور اس رنگ میں کسی اور وجود کے آنے کا گویا وہ بھی ہمیں اشارہ دے رہے تھے کھانے کی علامات کا ذکر کیا جائے تو ہمیں یہ ملتا ہے کہ تعاون کا ذکر ملتا ہے زلزلوں کا ذکر ملتا ہے کہ دس علی کا ذکر ملتا ہے جنگوں کا ذکر ملتا ہے اور دیگر افراد کا ذکر ملتا ہے میں آپ سے براہ راست سوال کرنا چاہوں گا کہ ہمارے ناظرین کو بتائیں کہ یہ جن علامات کا جن نشانیوں کا ذکر مل رہا ہے کیا وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے جی بھائی صاحب اس سلسلے میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان عظیم الشان علامات کا زمانہ جو بیان کیا ہے وہ مشکلات میں الآیات بعد المائتین کارساز کا مطلب یہ ہے کہ دو سال کے بعد یہ بڑے بڑے انشاء حضرت آدم کی وفات کے دو سال کے بعد تو یہ عظیم الشان بڑے بڑے نشانات امام مہدی کا ظہور ابن مریم کانہ دجال اور یاجوج ماجوج الانتظار نہ ہوئی علماء نے آدم علیہ السلام کے زمانے سے کی یہ تشریح کی ہے کہ یہاں کے جو عقل میں نہ آئے ہیں علماء دین تو اس سے مراد دو سو سال ایک ہزار کے بعد ہیں حضرت اللہ علیہ وآلہ وسلم کے 12 سال کے بعد یہ عظیم الشان عظیم ظاہر ہوں گے اس سلسلے میں مقرر کا مطلب نبی ایک دور کا نام لیا ملا علی قاری طوطا 14 ایران کی تاریخ وفات ہے انہوں نے بھی ایک جدید کی یہ گئی کے بارہ سو سال کے بعد یہ عظیم الشان ہوتا ہے جیسا کہ آپ بھی کرتا رہے تھے ٹاؤن کہاں ہے تو حدیث میں بھی اور قرآن کریم میں بھی ٹاؤن کا نشان امام مہدی کی تائید کی مزار تو جو ہے وہ ملتا ہے ڈرامہ الارض کے الفاظ کیوں آتی ہیں زمین کا کیڑا کیوں نہیں کھڑے تھے اس کا آغاز ہوتا تھا بیماری کا اللہ نے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بنیادی علامت ہے اس میں بیان کر دیں ان کے زمانے میں یہ عظیم الشان شان حضور کی پر واضح کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ظاہر کیا اور یہ بہت ہی ایک طرف آزاری نشان ہے تو دوسری طرف ماتم کے حوالے سے ناچے اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں انڈیا میں خصوصی طور پر جو ہے وہ تعاون کا یہ نشان ہے ظاہر ہوا اور اس کے قرآن کے ذریعہ سے لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں کہ گھروں کے گھر خالی ہوگئے محلوں کے محلے خالی ہو گئے کئی دیہات کی گاؤں ان کی بڑی آبادی ہیں وہ ویران ہو گئی اور پھر نشانہ کو لوگوں نے دیکھا اور علی مولا علی علیہ السلام کو اس سے پہلے ہی یہ خوشخبری بتا دی تھی کہ میں اس گھر کے اندر آنے والے لوگوں کو جہنم حق اس گھر کی چار دیواری کے اندر آئیں اس کی تشریح بھی کی کہ صرف جاری کے اخبارات مراد نہیں ہے بلکہ خود ہی رنگ میں جو میری تعلیم پر عمل کرنے والا ہے خدا میں پوچھنے لگا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیروکار اور اس کے ماننے والے اور گلیوں اور بازاروں میں یہ منادی کر رہے ہوتے تھے کہ اگر شہزاد کے نشان کی اس بات میں کیا ہے اور وہ ہے کہ اگر ترکی میں خلافت کا دوسرا نام آپ کی بات کر لے یہاں پے آؤ سارے طوطے لوگ رہے ہیں اور ان کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں لیکن اسی جگہ پر کے بعد اندھیرا رہے ہیں احمدیوں میں اس طرح کے حالات میں ہیں وہ نظر نہیں آرہی کام کے جراثیم نے ان کو حکم کون دے رہا ہے کہ پلانٹ ان کے تم نے حملہ کرنا ہے اور پلانٹ کو تم نے حملہ نہیں کرنا عظیم الشان نشان تھا جس کی وجہ سے میموری طور پر ہے اور موجودہ کراچی 1898 کارکن ہیں تو 18 تک یہ بھی تھا کہ ہفتے میں جو بعد ازاں شمار کے مطابق تقریبا ایک کروڑ کے قریب یا اس سے بھی زائد ہے وہ لوگ ہلاک ہوئے یہاں تک کہ احمدیوں کا تعلق ہے تو ہر اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ہی ٹاؤن سے پہلے جماعت کی ابتدا جو ہے وہ بہت کم تھی ہزاروں میں تھی دکان کا نشان ظاہر وہ ہے اور اسی طرح یہ تارا لوگوں نے نصرت تو حیران کن طور پر جماعت کی تعداد ہے بڑی ہے پہلے ہزاروں میں تھی وہ نے جماعت کی تعداد جو ہے وہ ایک لاکھ ہو گئی یار میں یہ تعداد بڑھ کر دو لاکھ ہو گئی اور یہی تعداد انیس سو چھپن میں تیار رکھو گی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جب خدا نے یہ نشاندہی کھایا ہے بڑی کثرت کے ساتھ ہیں وہ لوگ کے دائرے میں اگر آئے اور یہی والا عظیم الشان تھا کہ جماعت احمدیہ کی ترقی اور مخالفین کو کم کرنے کا نشان بنا دے اور کوئی ایسا بڑا علم نظر نہیں آتا کہ جوہر ٹاؤن کا جو ہے وہ شکار ہوا اسی طرح ایک اور جوا میں نشانی ملتی ہے امام مہدی کے زمانے والی وہ مسند احمد بن حنبل میں ہے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر کے حوالے سے اوپر شیروں کو بھی جمع کیے گئے اور لوگوں میں امام مہدی کے امام مہدی کب آئے گا فرمایا کہ یوں بات تو بھی امتی علی اختلاف کرتے تھے کہ امام مہدی کی رات اس وقت وہ کیا میری امت میں بہت زیادہ غزل آدمی اور کثرت کے ساتھ زلزلے ہیں وہ دنیا میں آئیں گے ملا چک کے ساتھ لازمی یہ ایک عظیم الشان نشانی بھی ہے وہ خدا تعالیٰ نے حضرت اسلام کے زمانے میں دکھایا اور حضور کے زمانے کے بعد بھی اگر آپ دیکھیں بات ہورہی ہے وفات سے پہلے بھی کئی زلزلے آئے اور یا اس کے بعد والا بھی دیکھتے ہیں تو ایک سال کے اندر اندر بہت بڑی تعداد ہے ان غزلوں کی اور ان کے نتیجے میں ہلاکتوں کی خدا کی طرف سے پہلے اگر کئی سو سال کا ریکارڈ نکالیں غزل آدمی اور مجھے وہ نظر نہیں آرہی ایک اور علامت ہے وہ ملتی ہے کہ کثرت کے ساتھ جنگ ہوئی اور اس کے حوالے سے آخرت لگاؤ نہیں میں ایسی حضور کی حدیث ہے کہ امام علی کے زمانے میں جو ہے وہ ایک سوال ہے جو ایک شرط کے ساتھ رہوں گا تو حضور سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ کا کیا مطلب ہے تمہارا البتلو یعنی کثرت کے ساتھ قتل و غارت بہت زیادہ لوگوں کی ہلاکت میں وہ بھی غیر بھی موجود ہے وقت کے ساتھ کراچی کے موجودہ زمانے میں بھی اگر ہم دیکھیں تو یہ تو بڑی بڑی لڑائیاں اور عالمگیر کا بھی ہوئی ہیں اور مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی بات کہ اس سے پہلے ہمیں اس طرح کی نظیر نہیں ملتی کہ عالمی سطح پر اتنی بڑی بڑی لڑائیاں جنگ عظیم اول لے لی تو پوری دنیا میں جو ہے وہ پھیلاؤ ہے کثرت کے ساتھ علاقوں میں اور بازاروں شمار کے مطابق عنقریب اس کی ہلاکتیں ہورہی ہے جس میں فوجی بھی ہو ترین بھی دونوں افراد میں شامل ہیں عظیم زہراوین تو اس میں بھی چھوڑ میکسیمم ہے وہ داری ہوتی ہے کہ اس طرح یعنی یہ علاقہ پوری یہاں تک کہ بیسویں طریقوں بعد ادا شمار کے مطابق کیا ہے وہ پہلی ٹیسٹ سنچری کے وہ کہلایا ریڈ جو ہے وہ صدی اور یہ اسی حوالے سے ایک خط کے ساتھ یہاں پر جو ہے وہ ہلاکتیں ہوئی تھیں چند علامات میں ہی وہ اندر طلب کی احادیث میں ملتی ہیں اور کثرت کے ساتھ ہیں ان کی زندگی کے دوران اور حضور کی بعثت کے بعد اس طرح کی پائی اور یہ ہیں وہ منظر عام پر آگئی معین ہمیں بتا دیا کہ کس طرح کس طرح حدیث میں ذکر ہیں اور کس طرح یہ علامات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں پوری ہو رہی ہیں موسم نصیر صاحب ہمارے بھائی منیر احمد صاحب ان سے وہ سوال کر رہے ہیں اور ان کا سوال دراصل آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیش کرتا ہے وہ جو سورج ماہ سے تعلق رکھنے والا ایک واقعہ ہے کہ جب ان آیات کا نزول ہوا تو صحابہ نے بڑی جسے کہتے ہیں کہ جستجو کے ساتھ یہ پوچھا کہ وہ کون لوگ ہوں گے جن کے ذکر ہو رہا ہے سوال یہ کریں کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لو کان الایمان معلقا لاہور جلال اور آج المنہالی میرے بھائی کا یہ ہے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایمان کو ایسے کیسے واپس لائے ہی بڑا اہم سوال ہے اور دلچسپی کا حامل ہے بہت اہم سوال ہے واٹس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے کہا آپ نے اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا حوالہ دیا جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فارسی کے شانے پر اپنا دست مبارک کرے فرما لو کان الایمان معلقا بالثریا نالہ و رجالہ رجال منہ اول آئے اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا سلمان فارسی کی نسل سے یعنی ایک عربی نہیں ہوگا بلکہ آج میں ہوگا ایک ایسا عظیم الشان مرد یا ایسے مرد ہوں گے جو ایمان کو صحیح سے واپس لاکر دنیا میں قائم کریں گے کر دیا ہے اور آپ نے خود یہ دعویٰ فرمایا کہ میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہتا ایمانوں کو قوی کرو اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھاؤ کیونکہ ہر انسان کی ایمانی حالت نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی حالت سے بتا رہا ہے کہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی دعوت پر اس کو بھروسہ دنیاوی اسباب پر ہے یہی یقین اور بھروسہ لڑکی کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا کالا ہے آپ فرماتے ہیں سو میں بھیجا گیا ہوں کہ اس کا زمانہ پھر آئے اور دلوں میں تقوی پیدا ہو تو یہی افعال میرے وجود کی علت غائی ہے اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ نے وعدہ کیا کہ ‏kamzar1hou ایمان کو دنیا میں لائے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کی طرف دیکھیں اس زمانے میں یہ حالت تھی کہ لوگ یہ کہتے تھے خدا اپ کلام نہیں کرتا کہتا بھائی الہام کا سلسلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گیا اور آپ کی پیروی کے نتیجے میں بھی آپ کی شریعت کی پیروی کے نتیجے میں بھی قرآن پر عمل کرنے کے نتیجے میں بھی خدا اپنے بندوں سے کلام نہیں کرتا لیکن مکالمہ المخاطبہ کا کلیات انکار کر دیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اعلان فرمایا جب خدا پر ایمان کی یہ حالت ہو گئی تھی کبھی ایک لفظ یا مانتا لا الہ الا اللہ پڑھے عید کی حقیقتوں سے بے خبر تھے کہ ایسے خدا کو مانتے تھے جس کے بارے میں یہ تصور پیدا کردیا گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ جسم عنصری کے ساتھ اس کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ خدا ایسا ہے نہیں کرتا خود نمائی نہیں کرتا مسیح موعود علیہ السلام کا تو سب سے بڑا معجزہ اور سب سے یہ تھا جیسا کہ فرمایا کہ ایمان کو دلوں میں اور ایمانیات میں سب سے اول اللہ تعالی کی ذات پر ایمان ہے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اور میں یہ والے اس لیے پیش کر رہا ہوں تاکہ ان کے سوال کو مزید تقویت بھی آتا ہوں کہ آپ نے فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام کے دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض اور ان کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا تعالی کو شناخت کریں زندگی سے جو نے جہنم اور ہلاکت کی طرف لے اور جس کو گناہ آلود زندگی کہتے ہیں نجات پائیں حقیقت میں یہی بڑا بھاری مقصد ان کے کھانے کا ہوتا ہے بس اس وقت بھی جو خدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم کیا ہے اور اس نے مجھے بولا فرمایا ہے تو میرے آنے کی غلط بھی وہی مشترکہ مرض ہے جو سب نبیوں کی تھی یعنی میں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا کیا ہے اور گناہ سے بچنے کی رہبری راہ کی طرف رابری کرتا ہوں گھر کو کیسے مانا جائے کہ خدا آنکھوں سے نظر آتا ہے نہیں لیکن یہ بتائیں کہ لا تدرکہ ‏bahubali full movie وہ کیسے دیکھا جاتا ہے خدا کو اس کی قدرت نمائی سے دیکھا جاتا ہے محمد علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی ذات کو سب سے پہلے یہ پیش فرمایا کہ خود میرا خدا مجھ سے کلام کرتا ہے اور بکثرت غیب کی باتیں مجھ پر ظاہر کرتا ہے میری عاجزانہ دعاؤں اور التجاؤں کو سن کر بڑے بڑے عظیم الشان شانہ دکھاتا ہے اور آپ نے دنیا کو چیلنج کیا عیسائیوں کو ہندوؤں کو آر یو کو او او خدا کو بلایا میں اپنے خدا کو ملاتا ہوں جو زندہ ہیں یا قیوم کرتا ہے اور غیب کی خبریں آپ نے بتائی اور آپ کے مقابل پر جو آئے وہ تو آیا کوئی نہیں اس چینل کو قبول کرنے کے لئے لیکن پھر اللہ تعالی سے علم پاکر آپ نے جو خریدی غیب کی خبریں بڑی شان سے بھری ہوئی دوستوں کے حق میں پوری ھوئی دشمنوں کے خلاف بھی پوری ہوئی عالمی واقعات کے حوالے سے بھی پوری ہوئی اور اس طرح سے زندہ ایمان بخشا حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام نے ایام سلسلہ میں آپ نے ایک پورا لمبی تحریر ہے جس نے فرمایا کہ اب بہتے ہیں جو میرے ساتھ ہیں جو گناہوں سے توبہ کرکے خدا پر زندہ ایمان کو نصیب ہوئی خدا مجھ سے باتیں کرتے ان کی دعاؤں کو سنتا ہے اور بچے رویے اور مکاشفات سے نوازتے ہیں اس طرح پر ایمان اللہ تعالی نے آپ ایمان کو دنیا میں لائے اور ان دنوں میں قائم کئے اور یہ واقعہ صرف ہی نہیں کیا بلوچستان آیا کہ قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے اکثر موت اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے خدا اپنی قدرت سے اپنے وجود لگتا ہے اپنے آپ کو یاد ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالی نے دو قسم کی قدر نہیں کرتے ایک وہ جو نبیوں کے سرور بھیجتا ہے اخلاقی گویا ایک مجسم قدرت ہوتے ہیں اور دوسری قدرت ثانی اجنبیوں کی وفات کے بعد حضرت ثانی ان کی خلافت کی صورت میں اپنی کو تباہ کرتا ہے شیخ محمود علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں آپ کے صحابہ نے دیکھا کہ آپ کے لیے سے کس کس کے ساتھ نشانہ بنا کر دعاؤں کی قبولیت کے الہامات کی خرابی صحابہ نے بہت سارے خواب میں دیکھیں پھر اب آپ کی وفات کے بعد خلافت میوزیم شان خود نمائی ہے اللہ تعالی کی جس کے ذریعے سے ہم سو سال سے زائد عرصہ ہوا یہ اس نشان کو دیکھتے جاتے ہیں اور اس خدا کی خلافت کے حوالے سے آگے بہت ساری قدرتوں کے نشانات دیتے ہیں اور خود ان خلفاء کے وجود جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت دونوں ایک عظیم الشان نشانات ہے اوکے سر چلا جارہا ہے لاکھوں ایسے افراد ہے مرد بھی عورتیں بھی بڑے بھی بچے بھی جوان بھی جن سے اللہ تعالی سچے خواب دکھاتا ہے ان سے ان کو بہت سے مستقبل کے واقعات سے خبر دیتا ہے وہ ویسا ہی پورا بھی ہوتا ہے اس سلسلے کا لٹریچر ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے اور اب سے لوگ جو ہمارے بیان نہیں کرتے لیکن تحدیث نعمت کے طور پر جو چند باتیں سامنے آتی ہیں وہ بھی اتنا وسیع مواد ہے اور آثار نمایاں کہ یہ ایک بات ہوتی ہے جو براہ راست خدا کو اس طرح اپنی ذات میں وہ ایسے نشانات کو دیکھیں یا زبان کا ایک ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو دیکھے جن کے ذریعے ایسے نشانات ظاہر ہوتے ہیں اور اس وقت جماعت احمدیہ جماعت ہے کہ جماعت اسلامی اور خلافت اسلامیہ سے وابستہ جماعت ہے یہ میں بڑی کثرت کے ساتھ اللہ تعالی کے فضل سے لوگ اللہ تعالی کے فرشتوں کے نزول کے پہلو سے مستفید ہوتے ہیں اللہ تعالی ان کی دعاؤں کو سنتا ہے ان کے سچے خواب دکھاتا ہے جو یار مکافات دکھاتا ہے یہ بات اور یہ بات اور جماعت میں اسے گزرے جن کو لوگوں نے کہا کہ آپ تو بڑے عالم فاضل تھے بڑے اچھے آپ کو کیا ہوا کیا بند ہوگئے تو بڑے دلچسپ انداز میں باتیں کی ہیں خان صاحب کو صحابی نہیں تھے لیکن امی ابو ٹھیک کو اپنے علاقے میں چارسدہ کے علاقے میں پڑا ہوا تھا ایک مقام تھا بزرگ تھے تو لوگ کہتے ہیں آپ کو کیا ہوا کہ آپ کو اہمیت میں کیا ملا ہے بولے کیا ہوگیا آپ کو تو انہوں نے بڑے دلچسپ پنجاب میں بات کی میں اپنے الفاظ میں اس کو بیان کر رہا ہوں کہ یار میں ایک چیز گم ہو گئی تھی بڑا ڈھونڈا ملا نہیں مجھے وہ احمدیت میں مل گیا کو مرتے خدا گرم ہو گیا تھا مجھے احمدیت میں زندہ خدا ملا لوگ کہتے تھے خدا کوئی بات نہیں کرتا اس میں اس کے کیسے نشان دیکھا خدا اور خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے اور جب انہوں نے یہ بات بتائی تو لوگوں نے کہا کیا ہے تو یہ ایمان جو ہے ایمان ہے جس کے لئے ہم حمد ہوئے ہیں اور اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے دعائیں مانگنی چاہیے اور اللہ کے فضل سے بےشمار نشانات ہیں جو زندہ خدا پر زندہ ایمان وسیم الصلاۃوسلام بخش رات ہے قرآن پر زندہ مانم شان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عرفان زندگی ہے نبی اور رسول کے طور پر مانا تو یہ بہت سارے پہلو ہے اور اسلام کی عظیم الشان کارہائے نمایاں کی حال اجازت سے آپ کا کارنامہ جواب عثمان کوریا سے لوگوں کے دلوں میں لے آئے ہیں اور اسی بات کا ذکر فرمایا وہ خدا جسے چاہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے جاری ہے اور میں بغیر کسی تمہید کے اگلے سوال کی طرف چلتا ہوں مجھے یاد پڑتا ہے ہماری بہن ہے نازیہ خالق صاحب ہے انہوں نے پچھلے پروگرام میں بھی استعمال کیا تھا وقت کی کمی کی بنا پر نہیں کرسکے تو سب آپ کو چاہوں گا کہ آپ اس سوال کا جواب دے دیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک شعر ہے آرہی ہے اب تو خوشبو ہے یوسف کی مجھے گو کہ و دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار کا شیر کو بھی نے کی وضاحت چاہی ہے وہ بھی میں آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں دوسرا شیر ہے میں کبھی آدم کبھی موسی کبھی یعقوب ہو انیس ابراہیم ہو میری بے شمار ان دو اشعار کے بارے میں وضاحت کر دیں فہیم بات یہ ہے کہ اس طرح کے نام جب بیان ہوتے ہیں یوسف ابراہیم اور اور باز انبیاء کے بزرگوں کے تواصل اس سے یہ تشبیہات و استعارات کا وہ مضمون ہے جس میں گہرے پیغامات ہوتے ہیں اسلام نے یہ فرمایا کہ آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گوک ہوں دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار اس نظم کا اگر سیاق و سباق دیکھا جائے تو اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب کرتے ہو گھر میں آگیا ہو کر نصیحت خود مسیحا کا دم بھرتا ہے یہ بات بہار ہو رہا ہے نئی کتابوں پر فرشتوں کا اتار آرہا ہے اس طرح یورپ کا مزاج نفرت چلنے لگی مردوں کی لاگت زندہ باد اس میں بے شمار مضامین ہے لیکن ایک مطلب یہ بھی ہے کہ سینکڑوں سال سے لوگ امام مہدی اور مسیح کا انتظار کر رہے تھے اور یہ زمانہ تھا جس میں جیسے یوسف علیہ السلام کے باپ جو ہے وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی یاد میں اس وقت آیا کرتے تھے کہ نہیں بلکہ صدیوں میں دیکھیں تو لوگ اسباب کاش میں مہدی کا زمانہ دیکھوں ایک تو براہ راست سے یہ مراد ہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جس نے خدا کا مسیح اور امام مہدی ظاہر ہوا ہے اور صرف یہ دعویٰ ہی نہیں ہے بلکہ تم اگر سارا ماحول دیکھو تو ایک پر اعتماد پیدا ہورہی ہے قربانی والے لوگ پیدا ہو رہے ہیں اور پھر دنیا جماعت میں دنیا میں ایک ایسی جماعت پیدا ہوئی ہے گویا جس نے دوبارہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صحابہ کے رنگ نیا میں دکھائے اور اس میں ساتھ ساتھ ہیں کہ مسیح کسی کے ساتھ بہت محبت اور پیار کی بات ہو رہی ہے موت انسان کے لیے سب سے زیادہ خوشی کی بات تھی جس کا اس زمانے میں میاں نثار کھوڑو صاحب کو بھی اس کا تعلق اور فرماتے ہیں جگہ مجھے اس کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظمت ظاہر ہو اس کا جلال چمکے اور اس کا بول بالا ہو والدین کی عظمت امام مہدی کی وقت کے ساتھ دنیا میں ظاہر ہوئی اٹھا کہ دنیا میں یہ ہو رہا تھا کہ رہا دین باقی نہ فقط رہ گیا اسلام کا نام باقی علماء جاتے دنیا گویا صف ماتم بچھائے بیٹھی تھی لیکن مسیح علیہ السلام کی آمد کے بعد یہ دیکھیں وہ قادیان سے مرزا غلام احمد قادیانی اسد صاحب کا پیغام اٹھائی گمنامی کی حالت میں آج سارا یورپ میں جماعت احمدیہ کے مخالفین کے خلاف نہیں بلکہ ساری دنیا میں اور لوگ احمدیہ کو قبول کر رہے ہیں یہی بات ایسی موسم تمہارے ہیں یورپ کا مزاج پھر چلنے لگی مردوں کی لاگت سے زندہ باد یہ جو آپ نے دوسرا شعر پڑھا کا کے میں کبھی آدم کبھی موتی کبھی یعقوب ہو نیز ابراہیم نسلیں ہیں میری بے شمار اس میں بھی دراصل وسیم اسلام کے بارے میں پیشگوئی چلی آتی تھی ایک وقت آئے گا ادھر وقت تک جب انبیاء کے رنگ ہیں وہ ایک شخص نظر آئے گی دنیا میں اجاگر حضرت مسیح علیہ السلام از احمد قادیانی اسلام کی زندگی اور آپ کے صحابہ کے حالات کو دیکھ کے تو آپ کو ہیں کا اعلان کرنے والے لوگ نظر آئیں گے توحید کا الا اللہ پڑھتے ہوئے جانے نہ لوگ نظر آئیں گے نماز پڑھ رہے ہیں لوگ ان کو مار رہے ہیں ان کی مساجد کے نعرے ان کے گھروں پر حملے ہو رہے ہیں اب یہ ساری باتیں جس کو کہا جاتا ہے کہ یہ انبیاء کا وہ راستہ ہے جس میں منہاج النبوۃ بھی کہا جاتا ہے انبیاء پر چلنے والے وہ راستے جوھی موڑ وار کیے ہیں تو دراصل اس میں یوسف سے مراد دراصل مسیح اور امام مہدی کا ظہور ہے اس زمانے میں ہوا جس کے نتیجے میں دوبارہ اسلام کو ہے وہ زندہ ہونا شروع ہوا ہے ہم نے بہت دفعہ بھی بات کی کہ حضرت اقدس خود علیہ الصلاۃ والسلام کا جو منظوم کلام بھی ہے وہ بھی دراصل بہت گہری مضامین اپنے اندر رکھتا ہے اور وہ کوئی عام شاعروں کی طرح وہ کلام نہیں ہے بلکہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جب سے کوئی سمجھے بندھائی ہے اور وہ جو ایک الہام بھی عزت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا اجر اللہ فی حلل الانبیاء اس کی طرف بھی اسی بحر میں ایک اور بات جو بڑی دلچسپی کی حامل ہے ہمارے ناظرین کو بھی مدنظر رکھنی چاہیے اہمیت کی حامل بات ہے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کے محض آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع و پیروی بھی اس دنیا میں تشریف لائے اور آپ کی پیش گوئیوں کے مطابق اپنی زندگی گزاری اور اس کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہے الصلاۃ والسلام کے اوپر جو بھی الزام لگایا جاتا ہے اگر اس سے عظام کو ذرا غور سے دیکھا جائے تو ہمیں یہ پتہ لگے گا کہ وہ الزام کسی نہ کسی رنگ میں گذشتہ انبیاء پر بھی لگایا گیا ہے تو وہ انبیاء پر لگائے جانے والے الزام کس نے کسی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر آج کل کے مخالفین بھی دوبارہ دہرا رہے ہیں تو اس طرح بھی ہمیں توجہ دینی چاہیے بہرحال یہ اشعار ہیں جو بہت گہری مضامین لکھتے ہیں مجھے امید ہے کہ میری بہن نادیہ خٹک صاحبہ کو ان کے سوال کا جواب مل گیا ہوگا میں اگلے سوال کے جواب کے لیے ساجد محمود بھٹی صاحب کے پاس جانا چاہوں گا اسلام علیکم ساجد صاحب وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ جیسا آپ ہمارے بھائی ہیں عبدالمصور خان صاحب وہ پاکستان سے وہ اپنا ایک سوال پیش کرتے ہیں وہ سوال اسی طرح آپ کے سامنے بیان کر دیتا ہوں وہ کہتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تحریرات میں مخالفین کو متعدد جگہ لعنتی دی ہیں کیا ایک صادق نبی ایسے الفاظ استعمال کر سکتا ہے بڑا کام نہیں کیا جانے والا سوال ہے چاہوں گا کہ آپ ہمارے بھائی کو اس کے سوال کا جواب دے دیں جی اس سوال کے جواب کے حوالے سے عرض ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی نبی ہونے کا ہے یہ آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں کے عورتوں کے لیے اس طرح کی زبان استعمال کی ہے وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بھی استعمال کر لیں کیونکہ یہ آپ کے صدر کی علامت بن جاتی ہے اس حوالے سے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں جو قرآن کریم میں سچائی اور صداقت مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کی آواز میں کچھ خرابی ہے تو بتا دو رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس دوران ہمارے کال بھی موجود ہیں تو ہم ان سے بات کرتے ہیں اسلام علیکم عبدالرشید صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ہاں جی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بھائی صاحب آپ بڑا شاندار پروگرام ہے اللہ تعالی آپ کو خوش تبلیغ کا موقع دے گا جس کے دو سوال ہیں پہلا سوال یہ ہے کہ آپ قرآن مجید میں غیر تشریحی نبی کا تشریحی نبی کے بعد آنے کا ذکر ہے ہیں یا نہیں ہے اس بارے میں مرد پر مادی نیز احادیث سے بھی وضاحت فرما دیں دوسرا سوال یہ ہے جی مولانا غلام ہے دل میں اسلام کو ہرگز تبدیل نہیں کیا تو پھر ان پر جھوٹے الزامات کی تشریح فرمادیں جزاک اللہ جزاک اللہ محمد عبدالرشید صاحب بہت بہت شکریہ آپ کے دونوں سوالات ہم تک پہنچ گئے ہیں پینل ممبران سے ایک ایک کرکے جواب دیتا ہوں نصیر قمر صاحب پہلے دوسرا سوال حملہ کرتے ہیں وہ یہ پوچھتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جب قرآن کریم کے کوئی احکامات تبدیلی نہیں کیے ہیں تو پھر آپ پر اعتراضات کس طرح کیا جا سکتے ہیں دلچسپ سوال ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جب کوئی نئی تعلیم نہیں لے کے آئے ہیں کوئی آپ نے قرآن کریم میں تبدیلی نہیں کی ہے تو لوگ ہمارے اوپر اعتراض کس طرح کہتے ہیں ایک سوال کرنے کا انداز ہے یہ تو وہی بتائیں گے کہ کیوں اعتراض کرتے ہیں بات بالکل درست ہے حق نہیں ہے کوئی اعتراض کا جائزہ تراجم بنتا نہیں ہے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارہا یہ فرمایا کہ میں نہ کوئی نئی کتاب لایا ہوں نہ کوئی نئی شریعت لائے ہو نہ کوئی میراقا لایا ہوں میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہوتی اور مجھ سے جو مکالمہ اور مقاصد کا اللہ تعالی کے ساتھ مکالمہ خاتمہ کا شرف حاصل ہوا ہے میں ہرگز اس نے مجھ کو پانا اب تو یہ تو آپ کی اطاعت کا فیس ہے اور اس پر کوئی اعتراض کا حق بنتا نہیں ہے یعنی کوئی جائیداد پر وارد ہو ہی نہیں سکتا یہ جو بھی اعتراضات ہیں وہ صرف تیرا ہے کہ گویا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کوئی ایسا دعویٰ فرمایا جو اللہ سے بڑھ کر اور عوام کو دھوکا دینے کے لیے کہتے تھے کہ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا چوری کرلیا نبوت کے خدا کا خوف کریں نبوت کے معنی کو سمجھیں محبت ہے کیا چیز کیا اس کو کچھ بھی کر سکتا ہے نہ موت تو ایک انعام ہے جو اللہ تعالی نے خود عطا فرماتا ہے وہ انعام یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتے ہیں اس سے کثرت سے مکالمہ مخاطب کرتا ہے اور اس پر غیب کی خبریں شائع کرتا ہے اس نے فرمایا قرآن کریم میں ہیلو والا غائب ہیں احدا الا من ارتضی من رسول اللہ تعالی نبی اور رسول کے طور پر لے اس پر کثرت سے خبردار کرتا ہے اب یہ اللہ کی طرف سے ایک نعمت عطا ہونے والا ہے اس کو کون کون ہو سکتا ہے کہ اللہ کی اللہ سے زبردستی کوئی یہ چیز ہے پھیلانا باتیں کر ان کے خلاف باتیں ہی نادانی کی باتیں ہیں عوام کو محض جوش دلایا جاتا ہے جب کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے قرآن کریم میں یہ بتا دیا گیا کہ اب کا انعام محمدیہ میں صرف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے نتیجے میں ملے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی اطاعت کے فیضان کے نتیجے میں وہی نبی بنے گا جس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود علامتیں بتا دیں اور جس کو اللہ کے نبی اللہ فرمایا فرمایا اور اس کی علامت بتادیا کمایا جائے تو اسے میرا سلام کہنا میرا مہدیہ کو غالب کرے گا تو اس کے خلاف جو اس پر جو اعتراضات کرنا ہے وہ دراصل نعوذباللہ من ذالک کرن ارجن کی پیش گوئیوں کے مطابق آیا اور جس کے آنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افضل یا بڑی شان کے ساتھ ثابت ہو رہی ہیں کیا دیا ہے عبد الرشید پرینتر آزاد کی کیا حقیقت ہے کوئی حقیقت نہیں ہے رات کی حقیقت ہے اور وہ وہی ہے جو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی اور مسیح موعود کے زمانے کے علماء کے بارے میں بیان فرمایا تھا کہ وہ ایسی مخلوق ہوں گے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق امام مہدی اور مسیح موعود کی مخالفت کریں گے دوبارہ ہونا تھا اعتراضات اور کی باتیں امام مہدی کے بارے میں کہیں جا رہی تھی عبدالرشید صاحب کا جو پہلا سوال ہے وہ بھی میں آپ کے سامنے پیش کروں گا اور ہمارے بھائی ہیں عادل عباس شاہ صاحب دونوں سوالات کی ایک ہی نوعیت میں دونوں سوالات یکجا کرکے آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں عبدالرشید صاحب نے پوچھا تھا کہ کیا قرآن کریم میں کسی تشریح بھی کے بعد کثیر بھی کے آنے کا ذکر ہے اور ہمارے بھائی عدیل عباس شاہ صاحب یہاں سے پوچھیں کہ کیا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد بھی کوئی نبی آسکتا ہے ایک بات یہ ہے کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیا کسی شہری نبی کے بعد کوئی غیر تسلی بھی ہو سکتا ہے میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کے لیے تو قرآن کریم سے بڑھ کے اور کوئی دلیل نہیں ہوسکتی تو قرآن کریم کی سورہ بقرہ کی آیت نمبر 88 ہے اللہ فرماتا ہے والا تعامل صحابہ وقفہ نا عیسیٰ بن مریم البیانات خواتین ایس بنا مریم للبنات نے موسی کو کتاب دی عباس علیہ السلام سے نبی تھے وقفہ منہ میں چھالے اور ان کے بعد ان کے نقشے قدم پر پے در پے ہم نے نبی بھیجیں اس ایک عظیم الشان دیدا آتا ہے نا حسن مری اور آبی کبھی ہم نے دلائل کے ساتھ بھیجا اسی طرح سورہ نساء کی آیت نمبر 164 میں اللہ تعالی فرماتا ہے اگر قتل کر کے ساتھ نبیوں کا ذکر ہے اور یہ بڑا اچھا کیوں نہیں یہ سوال اٹھا دیا کہ ہمارے بغیر ان کے لوگوں نے اس کو بڑا جذبات کے ساتھ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خاتون بھی یہی تو ان کے بعد کیسے آگے موسی علیہ سلام بالکل ابھی شریعت والے نبی تھے قرآن کریم میں ان کو اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مشابہت بھی دی گئی ہے انا اوحینا الیک کما والا علیکم شاہدہ شاہدہ علیکم ارسلنا الا رسول اللہ کے اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ ہم نے تمہارے اندر ویسا ہی رسول بھیجا قرآن بنا کر جیسا کہ ہم نے بنی اسرائیل کی طرف اس ان کو بھی جاتے کماتا ہے اس سورہ نساء آیت نمبر 164 میں انا اوحینا الیک کما اوحینا الا نبی نہیں ہے راہی بھائی صاحب ایوب ایوب صاحب سلیمان واتینا داودا زبورا 4 5 6 7 8 9 10 11 12 کا ذکر ہے میں سے وہ ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں نبی کے بعد آئے سال کا جہاں تک تعلق ہے کہ کیا اب اگر صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کا سوال تھا کہ کیا اب بھی کوئی آ سکتا ہے یا نہیں آ سکتا ان کا میں سوال یہاں دیکھ لیتا ہوں اس میں وہ کہہ رہے ہیں جب ہم یا حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین مان لیا تو ہمارا کیا تھا یہ ہے کہ اگر تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات سے قرآن کریم جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اس کی آیات سے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے کسی اور نبی کی آمد کا پتہ چلے گا تو آمنا و صدقنا ہمارے مطالعے میں اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد ایک نبی کی مسیح جو اللہ کی بشارت دی ہے مسلم کی ایک حدیث میں چار دفعہ آنے والے مسیح اللہ قرار دیا ہے تو ہمارے نزدیک ایک نبی اللہ کے آنے کی بشارت موجود ہے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں سے اور آپ کی شادی کسی اور نے بھی کی آمد کوئی ثابت کرے گا تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے تو یہ ہمارا بالکل ٹھیک ہے ان سوالات میں سے ایک سوال ہے جو اکثر ہمارے بھائی اور ہماری بہنیں کرتے ہیں اور ہم بار بار اس کا جواب دیتے ہیں انشاءاللہ آئندہ بھی دیتے رہیں گے السلام علیکم ساجد محمود صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اسلام ورحمۃ اللہ بے شک آپ ہم سے دور گانہ میں بیٹھے ہیں لیکن بھرپور کوشش کریں گے اور آپ کو بار بار اپنے پروگرام میں شامل کریں گے اپنا جواب جاری رکھیں میں سوال ناظرین کے لئے دعا دیتا ہوں آپ ہمارے بھائی عبدالمصور خان صاحب کے سوال کا جواب دے رہے تھے اور سوال یہ تھا کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تحریرات میں جو مخالفین کو متعدد جگہ لعنتی ہیں اس کی کیا وجہ ہے قرعہ اندازی 200 والے کی ہے اسلام کا دعوی وہ نبی ہونے کا دعویٰ ہے اپنے ہاتھ سے آپ کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے حق اور سچائی کے مخالفین کے لئے وہی زبان اور تبت کریم غلام استعمال کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بی اور صداقت کے مخالفین اور دشمن کے لیے جو وہی زبان عورت کی مختلف اقسام کو بھی استعمال کرنے چاہئیں حوالے سے قرآن کریم کو دیکھ میں سورہ بقرہ میں یہ مضمون یہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور امجد ہی بھاگ کی مخالفت کی ہے اور اسی حالت میں مرے ہیں کی اولاد کا علیہ لعنۃ اللہ والملائکہ کے یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالی کی لعنت ہے اور تمام فرشتوں کی لعنت ہے اور اسی طرح تمام کی تمام لوگوں کی لعنت ہے خدا تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں بھی استعمال کیا حکم ہے اور الفاظ استعمال کی اولاد کا جزاھم اللہ علیہا لعنت اللہ علی الکاذبین کیا یہ ہے کہ جو یہ برے کام کر رہے ہیں اور حق کی مخالفت کررہے ہیں کہ اللہ تعالی کی ان پر لعنت ہو فرشتوں کی تعداد پر لعنت مجھے لگتا ہے کہ آپ کو ہماری آواز صحیح سنائی دے رہی ہے لیکن ہم نہایت معذرت خواہ ہیں ناظرین سے بھی بڑا اہم سوال تھا جس کا ساجد صاحب بہت عمدگی کے ساتھ جواب دے رہے تھے ہم پھر ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں بہت معذرت آپ سے کر رہے ہیں لیکن اس وقت اور کال موجود ہیں جو ہمارے پینل کے ممبر بھی ہوتے ہیں وہ بھی کچھ یہاں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ پروگرام کے حوالے سے نصیر نصیر ترابی اچھا ٹھیک ہے مجھے بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت ہماری لائن میں کچھ خرابی ہے ہم اپنے کسی بھی کالر سے اس وقت بات نہیں کر سکتے چلیں باہر ہم کوشش کریں گے کہ آئندہ اس کو بہتر سے بہتر کریں نصیر عمر صاحب ابھی تھوڑی دیر پہلے ہم نے گفتگو کی تھی آپ ہمارے بھائی کے سوال کے حوالے سے منیر احمد صاحب کے سوال کے حوالے سے جو ایمان ثریا پر چلے جائے گا اس حدیث میں جو ہم اکثر بیان کرتے ہیں اسی ترتیب میں حدیث بیان کرتے ہیں اور جو لوگ اور ان کا لفظ ہمارے بھائی ڈاکٹر خالد محمود صاحب کینیڈا سے یہ جو رجالا ورجالا صاحب بیان کرتے ہیں اس کا کیا مطلب ہے اور اس کی وضاحت چاہتے ہیں اس کی حدیثوں میں آپ کو ایسے الفاظ ملیں گے کہ ایک لفظ استعمال کیا اور پھر آپ ہی کی ایک اور بات کی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صحابی کر رہے ہیں یا وہ آگے تعبیر جنہوں نے آگے ان سے بات سنیں وہ اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں کہ یا تو حضور نے رجوع لفظ فرمایا تھا یا رجال ایک لفظ میں تھا یعنی ایک شخص نے فرمایا تھا جو ایمان کو ایسے لفظ واپس لائیگا یا حضور نے رجال فرمایا تھا یا ایک سے زیادہ لوگ ہوں گے جو ایمان کو سعودیہ سے واپس لائیں گے تو یہ اس کا مطلب ہے یا تو وہ جو پہلے صحابی جو اندر وسلم کے حوالے سے بات کر رہے ہیں انہوں نے یہ فرمایا ہے یا پھر بعد میں شرابی جو کو روایت کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں انہوں نے رجوع کا لفظ بولا تھا یار کا لفظ بولا تھا تو ہمیں اس دراصل یہ بھی صحابہ کی احتیاط تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی کے جو الفاظ ہیں یہ لفظ تایا سے ملتا جلتا لفظ ہے تو اس کا اظہار کردیتے تھے اور اس میں اس حدیث کو پہلے اس سے جب ہم دیکھتے ہیں تو اس میں کیا اور عجیب سا نظر آتی ہے آئی وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حراج ہیں کوریا سے واپس لائے اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ وہ کس طرح لائیں اور کس طرح ایمان کے دلوں میں قائم کیا یہ بہت تفصیلی مضمون ہے اور اس کے بے شمار پہلو ہیں اس کا ایک پہلو ہے اس میں مضمون پہ چل رہا تھا ایمان کو آپ نے قائم کیا اس ایمان کو دلوں میں ٹائم کرنے اور ایمان والی جماعت کے قیام کا ایک جیتا جاگتا ثبوت یہ ہے مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے مومن کے وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالح بجا لائے سلانے کے بعد فرمایا کہ ان میں خلافت قائم فرمائے گا او کے ذریعے سے جو جماعت مومنین قائم ہوئی اس خلافت کا قیام اور اس خلافت کے کا تسلسل ان تمام برکات و ثمرات اور تحفظات کا اظہار اسلام کے ذریعہ سے جاری ہوئے تھے ان کا آگے پھیلتے چلے جانا بڑھتے چلے جانا اور یہ اپنی ذات میں اللہ تعالی کی ایک ایسی زبردست پہلی شہادت ہے کہ یہی وہ جماعت مومنین اور عمل صالح بجا لانے والی جماعت ہے جس کے حق میں خدا کا یہ وعدہ پورا ہو رہا ہے آج دنیا میں کوئی اور جماعت نے مسلمانوں میں جو یہ کہہ سکے کہ ان کے خلاف قائم ہے فاطمی خلافت کا قیام حضرت خلافت مسیح موعود کا قیام خلافت علی منہاج نبوت کا قیام الصلاۃ والسلام نے جو جماعت قائم فرمائی تھی وہ مومنین کی جماعت ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے کیوں کہ اللہ تعالی کا بعد اختلاف تو کیا ہو رہا ہے اسے اسے بھی اگر دیکھا جائے تو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سزا کا روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے جو اس پہلو سے رجعت کے لفظ سے وہ بھی اسی میں مضمر تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد پڑھتا ہوں آتی کہ جب کسی کو بھیجتا ہے جیسا کہ رسول نبیوں کا منشا یہ ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہوجائے اور کوئی اس کا مقابلہ نہ کرسکے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خدا تعالیٰ کبھی نشانوں کے ساتھ سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس پر اس کے بعد ایک وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی ہی کے ہاتھوں سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اٹھتے اور طعن و تشنیع کا موقع دیتا ہے تو پھر دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعے سے وہ مقاصد کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچ چکے ہیں اسی طرح فرماتے ہیں غرض دو قسم کی قدر کرتا ہے اور خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کھاتا ہے دوسرے نبی کی بات کے بعد خلافت کے لئے اور آپ نے یہ فرمایا کہ اپنے بارے میں ممکن نہیں کہ خدا تعالی اپنی قدیم سنت کو ترک کر اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی جائینگی رحمت ہوں جس میں حضور نے فرمایا تھا کہ میں وفات کا وقت قریب ہے آپ فرماتے ہیں کہ تمہارے لیے دوسری کتب بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا نہ تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس سے اس کا سلسلہ قیامت تک مرتے نہیں ہوگا قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤ لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری کو اس گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور صحابہ نے اس کو بیان کردیا کہ آپ نے رجوع فرمایا فرمایا تھا ہو سکتا ہے دونوں نے فرمایا ہو تو خدا کی پہلی شہادت یہ بتا رہی ہے کہ رجب کے ذریعہ سے وہ بیج بویا گیا اور اس کے بعد مسیح موعود کے بعد وہ قدرت آسانیاں خلافت کی صورت میں جاری ہے وہ ایسے رجال ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں اور ان کے ذریعہ سے دین اسلام کو استحکام اس طرح کیا مقام تھا ان صحابہ کا کیا آقا مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لمبی مبارک سے جو کوئی بھی کلمہ پڑھا جس طرح بھی زیر زبر پیش روزے رکھے اور پھر بات کیوں علماء نے بھی احادیث کو اکٹھا کیا پوری پوری زندگی اس کام میں لگا دیں اور دیکھیں آج ہم اس کا ثمر پارے ہیں اور پھر اس میں یقینا اللہ تعالی کی حکمت بھی تھی میں نے ایک دفعہ پھر ہم کوشش کرکے گانا چلتے ہیں اور ساجد محمود صاحب سے اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اسلام علیکم ساجد صاحب سلام ورحمۃ اللہ ساجد صاحب کر دیتا ہوں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب میں جو مخالفین کے لئے لعنت کا لفظ استعمال کیا ہے اس کی وضاحت کر دیں قرآن میں اس کا ذکر یہ کہہ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چونکہ خدا کی اے اللہ تو آپ کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہی زبان استعمال کریں جو اللہ تعالی نے ہاتھ کے مخالفین کے لئے استعمال کی ہے میں سچائی اور صداقت کے دشمن ان کے لیے کہ زبان استعمال کی ہے وہی زبان میں تک مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس اسلام کے سب سے پہلے جمع کرانے کیلئے کی طرف دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے اس بات کا ذکر آتا ہے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین ہم لوگ کہ جو قابل ہوتے ہیں جھوٹ بولنے والے ہوتے ہیں ان پر اللہ تعالی کی لعنت ہو اس پر بھی ایک اور جگہ پر سورۃ البقرہ میں اللہ تعالی استغفار کے متعلق اور حق کے دشمنوں کے متعلق کہ اولاد کہ لعنت ہو جائے یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہوگی فرشتوں کی لعنت ہوگی اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی میں خود اسلامی پہلی کتاب کے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق سے بے شک انہوں نے تعلیم حاصل کی ہوئی تھی لیکن فرمایا کہ ماں دوبارہ ان کی حالت تو ایسے گدھے کی طرح ہے جس میں کتابیں اپنے اوپر اٹھائی ہوئی ہیں لیکن ان کی کتابوں کا صحیح مسلم سورۃ البینہ میں اللہ تعالی نے کفار اور مشرکین کے لیے استعمال کیا کہ اولاد ٹاؤن شرالبریہ تمام کی تمام مخلوقات میں سے سب سے ہے اور سب سے زیادہ قیمتی نہیں ایک حدیث آخری زمانے کے علماء کے متعلق اسلم سعدی میں بڑی وضاحت کے ساتھ ملتی ہے حضور نے فرمایا کہ علماؤہم شر من تحت ادیم جمائے سچائی کے شمع سرمایہ کے آسمان کے نیچے وہ سب سے بدترین مخلوق ہوں گے میں قرآن پڑھا تو ہمیں ایک لگ رہے ہیں ایک سچائی خلیفہ نہیں ہوتی اور وہ نبی کا انکار کرتا ہے ان کا شرافت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے آپ کے ساتھ دیتا ہے اور ان کے دل اور دماغ ان سے بڑے ہوتے ہیں وکالت کی وجہ سے وہ ہے جس کی زبان سے اور اس کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کے ہمراہ کام ہو رہے ہیں نہ کے یہ الفاظ اسی طرح کے لوگوں کے متعلق ہیں ان کے دل اور دماغ رکھتے ہیں اور جن کی وجہ سے اس سے محروم ہوتے ہیں اس کے متعلق غیر مسلموں کے قبول اسلام کی بڑی وجہ سے یہ تحریر ملتی ہے کہ اردو میں خواجہ کی تیاری کہیں یہ کو شریف کو شریف علامہ ہے ان کے متعلق ہوئے تشریح کرتا ہے جس شخص یہ الفاظ بالکل ٹھیک بہت بہت شکریہ ساجد صاحب اور احمد آپ کو جانے نہیں دیں گے اور ہماری کوشش ہوگی کہ اور کوئی سوال بھی آپ کے سامنے پیش کرے لیکن بات اس وقت پروگرام کا وقت بہت کم رہ گئے اس وقت نصیر حبیب صاحب بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ نصیر صاحب جب آپ کچھ کہنا چاہ رہے تھے چل رہا تھا اس میں کہ وہ غیر تشریعی نبی کی کوئی قرآن سے بھی ثابت ہے تو میں یہ عرض کروں گا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ما کان اللہ لیذر المؤمنین حال ہمالیہ جنت میں مومنوں کی حالت میں نہیں رہنے دے گا جس پر تم خبیث اور طیب کو الگ کر لیں وما کان اللہ علیہ رقم لگانے پر غور سے مطالعہ نہیں کرے گا لیکن اللہ یجتبی من رسلہ یہ شاعر لوگ مجھے چائے کا چمچ لے گا اس میں یہ اس کا طریقہ کار کلومیٹر جائے گا چلے گا یہ صرف تیز کرنا چاہتا تھا محمد اسلم نے یہ دعوی کیا ہے تو اس وقت شیعہ علماء میں سے بیت اللہ بسم اللہ جو کہ جن کی کتب شیعہ نصاب تعلیم میں آج بھی شامل ہیں وہ جو آپ کے حق میں آئے اور حضرت فرنگی محل سے تعلیم یافتہ تھے مولانا عبد الحی فرنگی محلی کے شاگرد تھے آپ نے مان لے کے آئے اویس رضا شاہ صاحب جو تھے جو بعد میں پھنس گئے تھے اور وہ جو مشہور علماء کے شاگرد تھے وہ آپ ایماندار کے لے کے آئے تھے حضرت خلیفۃ المسیح الربع رضی اللہ تعالی عنہ نے وہ شامل نئے جوش اور ولولہ لے کے آئے تھے جو کہ عبیداللہ سندھی کے بقول اس دور کے سب سے بڑے عالم کو جنید قرآن پڑھتا تھا جی نے یہ سب جو زمانے کے جن کی کتاب جو ہے نصاب میں شامل ہیں لوگ ایمان لے کے آئے تھے لیکن جب یہ دوسرے علماء تھے یا دیکھئے اس زمانہ پکار کر کہہ رہا تھا کہ وہ ضرورت ہے بابا فرمایا آپ نے بجائے خدا کا شکر ادا کرنے کے شروع کرنے کی وجہ ہے تم میرے ہمسفر میرے بھی اثرِ بہار سمجھے انھیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نصیر حبیب صاحب آپ کے آپ نے جو برمحل ہم سے رابطہ کیا اور اپنا انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کیا ہمارے لئے اس کی بہت اہمیت ہے اگر سب ایک نہایت دلچسپ سوال ہے اور بہت زیادہ آج آج کل کے حالات سے ریلوے ہے ہمارے بھائی عبدالباسط صاحب کا یہ سوال کر رہے ہیں یہ حدیث سے تعلق رکھتا ہے سوال اور مجھے امید ہے کہ سکتا ہے سوشل میڈیا تو کبھی کوئی واقعہ ہوتا نہیں ہے پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے یہ کاری کے حال ہی میں کویت میں دی جانے والی اذان کا کیا ثبوت ملتا ہے کیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی دی گئی یہ ویڈیو چلی مجھے نہیں پتہ وہ اس وقت کی ہے اس کا کوئی موجودہ حالات سے کرونا وائرس سے تعلق ہے کہ نہیں لیکن اس میں یہ کہا گیا ہے کہ جو نماز جو ہے وہ اپنے گھروں میں ادا کی جائے تو اس کی کوشش ہے کہ جو سوشل میڈیا پر چل رہا ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہے وہاں پے کیا کر رہا ہے چل رہا ہے میں نے سنی ہے ایسا لگتا ہے وہ الفاظ صلی اللہ کے الفاظ آئے ہیں جو مجھے یاد ہیں دیس میں اور مجھے میرے سامنے ہے وہ یہ ہے مسلم نے آیا کہ صلو فی الرحال لیلۃ البارحۃ یا ویلتی رکھے ایسا رنگ اپنے گھروں میں ہیں بلکہ ہر حال سے مراد سے ہی کاغذات میں جائیں تو وہیں نماز ادا کر لو اگر بہت زیادہ سردی ہے یا بارش ہے اور اس کی عملی وضاحت ہمیں یہ زیادہ تر ایسے واقعات حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ملتے ہیں ایک ایسا موقع تھا جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کہیں جارہے تھے تو راستے میں کیسی جگہ پر نماز کا وقت آیا کہ ہر طرف پانی ہی پانی تھا کیا تھا اور کوئی ایسی جگہ نہیں تھی کہ نیچے اتر کے تو نماز ادا کی جا سکے یا پھر دوسری صورت یہ تھی کہ خیمے لگے ہوئے تھے لیکن کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں پر پھر نماز پڑھ السلام نے یہ اعلان فرمایا کہ سلفر حال بھی کرتے ہیں آگے کے وہ ہمارا بھی تو اسے بڑی سہولت ہے جن لوگوں کے پاس نظام نہیں ہے ان کے لیے مسائل ہیں کہ کبھی ایسا کرنا چاہیے کمپنی کرنا چاہیے ہم تو ہمیشہ اپنے خلافت سے رہنمائی لیتے ہیں خلافت کے نظام کا ہے میں جب وہ کہتا ہے تو اس کے مطابق ہو جاتا ہے تو اس لئے ان کے پاس اور نظام نہیں ہے ان کے لیے پریشانی ہے وہ پھر دعا کریں اللہ پاک اللہ تعالی ان کو بھی انتظام کریں پھر کیا کہ جن کے پاس کوئی امام نہیں ہے جن کے کے لیے بہرحال یہ سوچنے کی ضرورت ہے اور یہ جو دنیا کے حالات چل رہے ہیں یہ دنیا کو کس طرف لے کے جا رہے ہیں اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے مجھے اسکرین پر بے شمار نظر آ رہے ہیں ہمارے بھائی آج عبدالرحمن صاحب کا بھی سوال میرے سامنے ہی مبشر صاحب کبھی سوال میرے سامنے سرفراز صاحب کا سوال میرے سامنے ہی ہماری بہن نادیہ خالد صاحب نے بھی ایک اور سوال بھیجا ہے وقت بہت تیزی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے انڈیا سے مبارک ہو سب کا مختصر جواب وہ کہہ رہے ہیں کہ ریت کا زمانہ ہے جماعت کا غلبہ کیسے ہوگا جماعت کا حلوہ مجید سے معلوم ہوتا ہے اور ان سے صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تصنیفات میں بیان فرمایا ہے یہ آسمانی نشانات کے ذریعے ہوگا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام معالم عثمانی تائید و نصرت کے زبردست نشانوں کے ذریعے احمدیت کی طرف متوجہ ہوئی اور انہوں نے آپ کو اسلام اور امام دیت کی سزا کو اور مواصلاتی نظام کو قبول کیا اور توحید کی طرف آئے جیسا کہ پہلے شروع میں ذکر ہو چکا ہے مقصد اور جیسے آیت استخلاف میں بھی اس کا ذکر توحید کا قیام دنیا میں ہے اور آپ دیکھ لیں کے 24 سال پہلے ایک فرد تھا آج 213 ممالک میں توحید کی آواز گونج رہی ہے مساجد کی تعمیر کے ذریعے اور لوگوں کو خدا کے ساتھ زندہ تعلق قائم کر کے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف الوصیۃ ہے ایک کروں گا یہ بہت اہم ہے السلام علیکم سارے سوالوں کے جواب دیئے ہوئے اوکے ذریعے سے ان شاء اللہ تعالی توحید حقیقی کا دنیا میں قائم ہوگا آج مجھے اسلامی صدارتی بھی دی ہے اور اس کے ساتھ جو ہماری ذمہ داریاں ہیں اس کا بھی اس میں ذکر ہے اور اللہ تعالی کے فضل سے وہ دن آئے گا اور ضرور آئے گا بہت بہت شکریہ نصیر صاحب انشاءاللہ اس سلسلے کہ اگلے پروگرام میں بھی جاری رکھیں گے پروگرام کا وقت بہت مختصر رہ گیا ہے میں اپنے پینلز پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں نصیر قمر صاحب فضل صاحب لائن پورٹس پروگرام میں شامل ہیں ان کا بھی شکریہ اور ناظرین آپ کا بہت بہت شکریہ آپ سوال کرتے ہیں جس سے اس پروگرام کی شان زیادہ بڑھتی ہے اس پروگرام کو سنتے ہیں ان کا بھی بہت بہت شکریہ اس پروگرام کا مقصد وہی ہے جتنی مرضی دنیا میں دہشت پھیل جائے ہمیں اس سے کوئی ڈر نہیں ہے ہمیں جو کرنا ہے وہ صرف یہ کرنا ہے کہ قرآن کریم نے جو ہمیں حکم صادر فرمایا ہے کہ ہم نے کام کرنا ہے جانا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اتباع میں یہ کام امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس سیدنا مصروف ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پنجاب فرما رہے ہیں اور ہم آپ کی اتباع میں اس کام کو آگے بڑھا رہے ہیں جماعت احمدیہ کیا کہتی ہے کیا کرتی ہے یہ دیکھنے اور سننے کے لیے خود جانتی اور پر رکھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہو کر مسیح خود مسیحا دم بھرتی ہے یہ بات بہار ایک جوش ہے ہو رہا ہے نئی کتابوں پر فرشتوں کا اتار اگلے پروگرام تک کے لئے اجازت دیجیے السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں 9 قدیم دل سے ہی خدا میں ختم سلیم

 42 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: