Rah-e-Huda – Quran ki Ahmiyyat




Rah-e-Huda – Quran ki Ahmiyyat

راہ ھدیٰ ۔ قرآن کی اھمیت

Rah-e-Huda | 6th March 2021

جو آنے والا امام مہدی اور مسیح موعود تھا جس میں صدی میں آنا تھا جس کا بھی محترم مولانا محمد حنیف صاحب نے فرمایا تم نے جمالی صفت کے ظہور کے لئے دنیا نیوز ہیں جہاد باسیف کی بھی اجازت دی گئی لڑائی بھی لڑی گئی اور اسی لیے صحابہ کو راشدہ وہ بھی کہا گیا لیکن آخری زمانے میں جس محمود کی بشارت دی گئی اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جمالی صفت ہے وضاحت کرنا تھا اور اسی لئے پیش گوئیوں میں یہ بات بھی موجود تھی کہ وہ جو بھی امام ہیں جو آئے گا وہ دنیا سے لڑائیوں کو صالح لڑائیوں کو ختم کرےگا احمد کا لفظ قرآن مجید کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے ہے ہے اس کا ذکر کرنا تھا اس سلسلہ میں مختصر نوٹ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے تفسیر صغیر کے نیچے دیا ہے وہ بھی پیش کر کے میں آپ کی بات کو ختم کروں گا حضور فرماتے ہیں اسی آیت کے تعلق سے کہ اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہے جو انجیل برناباس میں لکھی ہوئی ہے آپ کی لائبریری میں پائی جاتی ہے ہے ہے ہے کہ مروجہ اناجیل میں فارقلیط کی خبر دی گئی ہے جس کے معنی احمد ہیں کے بنتے ہیں یہ اگلا جملہ اور کے قابل ہے فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بلاواسطہ سطح اور آپ کے ایک بروز کی جس کا ذکر اگلی سورت میں ہے بالواسطہ خبر دی گئی ہے چنانچہ اس سورت کے بعد سورج ماں ہے اور اس نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علی محمد محلہ لیز کرایا اور تو خلاصہ کلام یہ کہ اس لفظ میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ہے فون کالز کو اپنے پروگرام میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں میں بات کرنا چاہوں گا بنگلہ دیش سے محترم عارف خان صاحب سے سلام علیکم ورحمۃ اللہ اللہ اللہ شریعت قرآن کریم کا بنیادی تعلیم کیا ہے کے لئے یہ کافی ہے جزاک اللہ جزاکم اللہ تعالی جزا کا سوال ہم تک پہنچ گیا ہے میں مسلمان احمدپورسیال کرتا ہوں کہ سوال کا جواب دے دیں قرآن مجید کی تعلیمات کیا ہے یہ تو قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ آئی ہے اگلے ایک سوال میں بھی اس کا جواب آجائے گا آئے گا اس سے پہلے جتنی بھی شریعت تھی یا دینی کتابیں تھی وہ ساری کی ساری محرم بدل ہو چکے ہیں یعنی وہ کلیاں تبدیل ہوچکے ہیں ہوئی تھی اور قرآن مجید کی یا اس سے پہلے جتنے بھی معصوم تھے اور مذہبی کتابیں تھیں اصل میں سب کی ایک بنیادی تعلیم دی تھی لاالہ اللہ کے ایک اللہ کی عبادت کرو تم اس کے بندے ہو اور اس کی عبادت کرو لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ یہ ساری دینی کتابیں تصویریں کے ساری تبدیل ہوئی اور اس کے اندر نہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کون سا اللہ کا کلام ہے کون سا انسان ملا دیا ہے اور ہر ایک نے اس کو اپنی مرضی کے مطابق بنایا لیکن قرآن مجید کی یہ خصوصیت تھی کہ یہ قرآن مجید کے بارے میں اللہ تعالی نے خود کی آوازسوال یہ ہے کہ عوام الناس اور عام لوگ اس سے کیسے فائدہ اٹھائیں سب سے پہلے یہ ہے کہ قرآن مجید کو پڑھیں اس کے اوپر تدبر کریں قرآن مجید نے تین چار لفظ کے لیے استعمال کیے تو عملا ت سے کام لینا بار بار پڑھنا اور اس کو سمجھ کر پڑھنا اور پھر یہ اپنے دل و دماغ کو سمجھانا کہ یہ اللہ تعالی کا ایک پیغام ہے میسج آئے جو میرے لئے آیا ہوا ہے مجھے اس کے اوپر عمل کرنا ہے اور اپنی بات کی ہے قرآن مجید دو باتیں کہتا ہے کہ ایک تو یہ دنیاوی زندگی ہے اس کو کامیاب بنانے کے لیے اور اس سے بڑھ کر آخرت کی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے اور اللہ تعالی عنہا کو دعا سکھائی ربنا آتنا فی دنیا حسنہ آتا رہتا تا کہ ہم کو اس دنیا کی بھی حیثیت دیں اور آخرت کی بھی دے اور قرآن مجید کو تجوید سے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہیں اللہ تعالی کی رضا حاصل ہوتی ہے اور دونوں جہانوں کی فلاح ایک انسان کے حصے میں آتی ہے جزاکم اللہ تعالی سجدہ اب اپنے پروگرام کو آگے بڑھانا چاہوں گا اور میں محترم مولانا مجیب الرحمن صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ قرآن مجید کی تعلیمات ایسی ہے جو انسان کو بااخلاق بناتے ہیں اخلاق فاضلہ کے متعلق کرنے کی کیا تعلیمات اس پر روشنی ڈالنے کی درخواست سکتا  سوال ہے اور اللہ تعالی نے قرآن مجید میں تمام تعلیمات کے حوالے سے اور جتنی تعلیمات اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے اس سورہ میں ایک آیت اللہ تعالی نے نازل فرمائی ہے جس میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ علوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا اللہ کے دین کو تمہارے لیے مکمل کیا وہ اتممت علیکم نعمتی اور اپنی نعمت کو مکمل کیا پورا کیا ہے تم اسلام لے کر فرمایا ہے اس آیت میں جس قدر بھی تعلیمات کی انسان کو قیامت تک ضرورت ہے ہے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بیان فرمائی تھے ابھی جو عارف صاحب عارف زمان صاحب یہ سوال پوچھ رہے تھے تو اس ضمن میں وہ اس آیت پر غور کر کے دیکھ لیں اس آیت میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا ہے کہ کافی اور شافی تعلیمات ہر چیز کے بارے میں چاہے وہ جو بھی شعبہ زندگی ہو چاہے انسان کی کسی بھی شعبہ زندگی سے اس کا تعلق ہے میں اخلاق سے قرآن مجید کی تعلیمات ہے اخلاق فاضلہ کے تعلق سے اس تعلق سے بھی قرآن مجید میں بے شمار آیات ہے اور پورا قرآن مجید بھرا ہوا اور ہمیں پتہ لگتا ہے کہ میں انسان جو ہے وہ انسان بنتا ہے انسان بننے کے بعد پھر وہ بااخلاق انسان بنتا ہے انسان بنتا ہے ہے قرآن مجید کی تعلیمات پر کماحقہٗ انسان ایک وحشی کی حالت میں بھی اگر وہ ہے تو درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے ان تعلیمات کے نتیجے میں وہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جس کو ہم خدانما کام کر سکتے ہیں ایسا موجود ہوسکتا ہے جس کو دیکھ کر انسان کو خدا یاد آجائے اس حوالے سے میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ جب قرآن مجید کا نزول ہوا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی جو عرب کے حالات تھے قرآن مجید میں کھینچا اللہ تعالی نے فرمایا ظہر الفساد فی البرحالت ان کی تھی یہ حالات میں ان کے اخلاقی لحاظ سے آزادی زندگی کے حوالے سے روحانیت تو دور کا مقام ہے اس وجہ سے ان کو اللہ تعالی نے کل انعام قرار دیا لیکن میں نے جب قرآن مجید کی شریعت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے نتیجے میں جو انقلاب ان میں پیدا ہوا ہے وہ بھی ظاہر و باہر ہے اور دنیا کے سامنے ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے عربی منظوم کلام میں اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان علاقوں میں خفیہ معلومات حسب الفاروق کثرۃ السوال کہ یہ حالت تھی کہ قوم کی کی وہ دو چیزوں میں اندھی ہوگئی ایک تو شراب نوشی اور دوسری عورت کی عدت دوسری جگہ اسی قصیدے میں حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ انوکھا مشغول الفساد بھیجیں اہل ہم ایسے تھے کہ وہ بے وقوفی سے فساد کے خلاف تھے میرے قتل پر خوش ہوتے تھے جب یہ ایسی صفات ہیں جو حیوانوں کے اندر ہوتی ہے اور وہی بات جو اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کل انعام میں بیان فرمائی وہی بات ہے جو ان کے اندر موجود تھی آداب زندگی کے اندر نہیں تھے اخلاق علیہ السلام نے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ صحافت وہ مقام نہ کرو سن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایسی حالت میں پایا کہ گوبر کی طرح ذلیل تھے لیکن ان کو سونے کی ڈلی کی مالک بنا دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ نے جو یہ عظیم الشان انقلاب ان کے اندر پیدا کیا ہے وہ آداب زندگی ان کے اندر پر پیدا کرنے کے حوالے سے ہو چاہے ان کے اندر اخلاقی فاضلہ پیدا کرنے کے حوالے سے ہو یا ان کا روحانیت کا معیار بہت اونچا اور بالا کرنے کے حوالے سے ہو اس کا سارا عظیم الشان انقلاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیمات کے ذریعے جو قرآن مجید میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں انہیں کے ذریعہ آپ نے یہ عظیم الشان انقلاب میں پیدا فرمائے پر غور کرتے ہیں تو بے شمار تعلیمات اخلاق کے حوالے سے جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے سچائی امانتداری عدل احسان اور ربا والدین کے ساتھ حسن سلوک کی دیکھ بھال بھوکوں کو کھانا کھلانا ٹیموں کے ساتھ ہمسایوں کے ساتھ ماتحتوں کے ساتھ مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کر رہے ہیں ہے بے شمار تعلیمات ہیں ہیں جو صرف اور صرف اخلاق کے حوالے سے اللہ تعالی نے قرآن مجید نے بیان فرمائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں جگہ جگہ قرآن مجید کی تعلیمات ایسی ہے کہ سات دن میں ایک انسان کو ولیوں کی طرح بنا سکتی تو کتنی بھی پستی کا شکار ہو ایک انسان اتنی گری ہوئی حالت میں کیوں نہ ہو جیسا کہ قرآن مجید میں بھی آیا کہ وہ شیطان کی بھی حالت تو انسان کی لیکن اگر وہ قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے والا بن جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ سات دن میں وہ ولیم کی طرح بن سکتا ہے وہ بالآخر گلاب بن سکتا ہے اس کے اندر جو ہے وہ پیدا ہو سکتے ہیں اور پھر روحانیت کا اعلیٰ مقام حاصل ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلامی اصول کی فلاسفی میں بڑے حیدرآباد دکن کے ساتھ ان امور پر روشنی ڈالی ہے انسان کی طبعی حالت پر اخلاقی حالت ہے اور روحانی حالت ہے ان کا کیا ہے ان کا منبع کیا ہے پھر میں کیسے تغیر پیدا ہوتا ہے اور قرآن مجید نے اس کے تعلق سے کیا تعلیمات بیان کی ہیں وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے فرمایااس کے اندر جتنے بھی خواب آیا جاتے ہیں ان کو برمحل اور بر موقع استعمال کرنا سکھانا یہ قرآن مجید کی دوسری اصطلاح اور تیسری اصطلاح حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو باخلاق انسان بن جاتا ہے اس کو پھر روحانیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچانا اور اللہ تعالی کی محبت کا اور اس کی اس کے وصال کا مزہ اس کو کھانا یہ تیسری قسم کی اصلاح قرآن مجید میں فرماتے ہیں یہی خلاصہ ہے قرآن مجید کی جتنی بھی اطلاعات ہیں کہ انسان کی اصلاح کے حوالے سے بیان فرمائی ہیں یہ تین مجید میں بیان کی گئی پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ قرآن مجید میں اخلاق کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں وہ ہے جن کا تعلق ترک شہر سے ان کو ترک کرنا اور دوسری قسم اخلاقی وہ ہے جن کا تعلق احساس خیر سے ہے یا نہیں بھلائی پہنچانا نے والے والی والے اخلاق وہ ہے جن کے نتیجے میں جن کو اختیار کرکے انسان اپنے ہاتھ سے اپنی زبان سے یا کسی بھی ذریعہ سے دوسرے کی جان مال اور عزت کو نقصان ہونے سے بچاتا ہے اور اس میں وہ اور اخلاق آتے ہیں جن کے نتیجے میں انسان اپنے ہاتھ سے اپنی زبان سے یا کسی بھی ذریعے دوسرے کی جان مال اور عزت کو فائدہ پہنچاتا ہے اور میں نقصان سے بچاتا ہے اور اس الخیر میں فائدہ پہنچاتا ہے اور یہ دونوں قسم کے اخلاق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا قرآن مجید میں موجود ہے بے شمار آیات حضور نے قرآن مجید کی اس سلسلے میں بیان فرمائی ہے طارق شہر کے حوالے سے کے حوالے سے بھی کے حوالے سے حضور نے فرمایا کہ ایک ملک ہے احسان جس کا مطلب ہے پاکدامنی رہنا اور اس کے تعلق سے قرآن مجید کی تعلیم ہے وہ للمؤمنین صنایع غذایی من ابصارہم ویحفظوا منوج اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرے ترک کرکے صرف اور اخلاق جو ہے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ پھر ان کی تعلیم اللہ تعالی نے قرآن مجید نے دی اور اس نے ترقی شعر یہ ہے ترک شہر کے اخلاق میں حضور نے ان کو بیان فرمایا امانت اور دیانت کو بیان فرمایا اور اس نے ترک شہری حضور نے بیان فرمایا کہ کسی سے کسی کے مال کو نقصان سے بچانا اور اس کی آیات بیان فرمائیے اور بھی مزید مختلف آیات حضور نے اس ضمن میں فرمایا پھر اس الخیر کے حوالے سے بھی مختلف آیات قرآن مجید کی حضور علیہ السلام نے بیان فرمائی اور یہ ساری کی ساری تعلیمات جو ہے وہ تعلیمات ہیں جو قرآن مجید میں اخلاق کے حوالے سے بیان فرمائے کیونکہ تھوڑا ہے زیادہ ہم نہیں کر سکتے حضرت موسی علیہ السلام کا عدالت میں پیش کرکے اپنی بات کو ختم کرنا چاہوں گا حضور فرماتے ہیں یہ قرآن نے ہی دنیا پر احسان کیا ہے کہ طبی حالت اور اخلاق فاضلہ میں فرق کر کے دکھایا سے نکال کر اخلاق فاضلہ کے محل بنایا تو فقط اسی پر کفایت نہ کی بلکہ اور مرحلہ جو باقی تھا یا روحانی حالتوں کا مقام تک پہنچنے کے لئے پاک معرفت کے دروازے کھول دئے اور نہ صرف پھول دیئے بلکہ لاکھوں انسانوں کو اس تک پہنچا بھی دیا اور اس طرح پر تین قسم کی تعلیم میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کمال خوبی سے بیان فرمائیں پشتو کے تمام طالب علموں کا جن پر دینی تربیت کی ضرورتوں کا مدار ہے کامل طور پر جامعہ ہے اس لئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ میں نے دائرہ ہی تعلیم کو کمال تک پہنچایا جیسا کہ وہ فرماتا ہے الیوم اکملت معرفت الہی معرفت کیسے کس کو کہتے ہیں اللہ کو پہچاننا عارفہ کا مطلب ہے عارفہ کا مطلب ہے اس نے اللہ کو پہچان نا اسی سے ہے معرفت الہی یعنی اللہ تعالی کو پہچاننا کیسے ہے ہے اگر آپ کہیں کہ صرف قرآن مجید سے پہچان لے گا تو یہ قرآن مجید کی اپنی ہی تعلیم کے خلاف ہوگا کیونکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا علم الکتاب و الحکمہ کہ وہ کتاب سکھاتا ہے اورہر سکھاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہادت القرآن میں بیان فرماتے ہیں اگر معلم قرآن کی ضرورت نہ ہوتی تو اللہ تعالی تو اس کو ویسے ہی ہوتا سکتا تھا درختوں پر اتار سکتا تھا اور کسی طریقہ سے اتار سکتا تھا لیکن اللہ تعالی نے قرآن مجید کو اتارا اور اس کے ساتھ معلم قرآن مجید کو اتارا اور اس نے آ کر بتایا کہ اللہ تعالی کی معرفت کو ایک انسان کیسے حاصل کر سکتا ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہ مضمون کی آیتیں ہیں یہ علم الکتاب والحکمہ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اور قرآنی حکمت لوگوں کو سکھاتے ہیں پھر ایک دفع اور فرماتا ہے البتہ رود یاری قرآن کے حقائق اور کیے جاتے ہیں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے ایک معلم کی ضرورت ہے جس کو خدائے واحد اپنے ہاتھ سے پاک کرتا ہے سب سے پہلے اگر معرفت حاصل کرنی ہے تو معلم کی تلاش کرے جو قرآن کریم کا اظہار کو سکھائے عباس زمانے میں حضرت صاحب فرماتے ہیں اس زمانے میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا جو کہ وہ آخری نہ ملن کی رات اور خود ہی وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے ہے علم ہوتا ہے اور اگر اللہ تعالی کی معرفت حاصل کرنی ہے تو وہ اس معاملے یا اسم عالم کے خلفاء کے پاس خلیفہ وقت کے پاس آنا ہوگا وہی قرآن کریم کی سچی معرفت سکھا سکتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شروع میں جو آپ نے بتایا کہ قرآن مجید کی چار صفات ہے جو قرآن مجید نے ابتدا میں سورہ فاتحہ میں بیان کی ہے اور وہ سب سے پہلے اس کا اسم ذات پھر اس کی صفت رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین یہ الصفات ہیں جب اس کا ادراک ایک انسان کو ہوتا ہے وہ خود بخود یہ کہتا ہے تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ایک تو اللہ تعالی نے اپنی وفات سے متعارف کروایا جب یہ آیت اتری وصی اللہ تعالی کی وحدانیت دنیا میں نہیں جانتا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کے ہی ایک انسان کو سکھایا جیسے ماں چھوٹے بچے کو سکھاتی ہے کہ دو کہ میں تیری ماں ہوں تو مجھ سے مانگ باپ سکھاتا ہے اس کو اللہ نے ہی اس کو سکھایا کہ تم کیا ہے تیری عزت کرتا ہوں تو یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب کے حوالے سے یہ سب کچھ ہے اب اس سے اگلی بات عصر حاضر میں حضرت ناصر الدین رازی جو خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں وہ سارے کے سارے اللہ تعالی کی معرفت کے لئے شروع میں پہلے خلیفہ کون صحابی نے پھر حضور اللہ تعالی کے صفات الہیہ کے تعلق سے بہت سے خطبہ سماعت فرمائیے اگر اس کو صحیح طور پر نہ پڑے تب بھی وہ اللہ تعالی تک پہنچ سکتا ہے موجودہ دور میں مثال کے طور پر حضور نے فرمایا کے اگےخطبہ کی گہرائی کو سمجھے قرآن مجید کی تعلیمات کو سمجھیں آفت ہوئی تو ایک انسان اپنا آپ تباہ کر لے گا قوم کو تباہ کرکے رکھ دیا اور حضور نے بڑی تفصیل سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی مثالیں دیں گے بتایا کہ دیکھو قرآن مجید کے ابتدا میں 17 آیات میں بھی یہ بات بتائی گئی ہے کہ المتقین پھر تحفہ منافقوں کے بعد ہے کہ جماعت احمدیہ کو اس سے بہت ہی خبردار رہنا ہوگا اور باہر رہنا ہوگا کہ منافقتوں کی صفوں میں لائیں اور جب ایک انسان خلیفہ وقت کے خطبہ سنت ہے اور اس کی ایک بات کرتا ہوں ہو یہ ہے کہ حضور اللہ تعالی نے آج کل حضور کے لائیو پروگرام آن لائن آتے ہیں تاکہ امت واحدہ کیسے بن سکتے ہیں ظفر علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضور میں اللہ والوں کو تو انسان کے دل کی حالت پہ چل رہی ہے میں اللہ تعالی تک کیسے پہنچ سکتا ہوں اور میرے غصے سے اٹھتے ہی ہو سکتے ہیں مگر اپنے رشتہ داروں سے ان کے معاملات اچھے نہیں ہوتے وہ کہنے لگے میں یہ سمجھا کہ یہ میرے لئے کہ حضور میرے بھائی کے ساتھ اور یہ دل کی بات جب حضور نے کی وہ اسی وقت میں بات کرلیں تو یہ حدث کیہ نفس سکتی ہے اور وہ غور سے خلیفہ المسیح خطابات اور خطبہ سننے اور دعا کرنے سے اللہ تعالی سے زیادہ احساس پروگرام کا اخبار مولانا عطاءالمجیب بہت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور اسلام کے روشن مستقبل کے متعلق قرآن کریم میں کیا پیش گوئیاں ہیں ان کا ذکر فرمانے کی درخواست ہے اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں تذکرہ فرمایا ہے کہ وہ زمانہ جس میں تھے اور اس نے فرمایا ایک ہزار سال کا زمانہ ہے اور بہت ساری ہوئی ہیں زمانے کے تعلق سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھی اسی زمانے میں اسی زمانے کے آخر میں ایسا زمانہ بھی آئے گا الناس زمان لا یبقی من الاسلام الا عمر تو ہر عمل خدا حشر میں ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن مجید کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے عید ہوگی لیکن ہدایت سے خالی ہو گی علماؤہم شر من تحت ادیم اور علما کی بھی بہتات ہوگئی کثرت کے ساتھ علامہ دنیا میں موجود ہوں گے لیکن یہ علم اس زمانے کے علماء ایسے ہوں گے کہ ہوئی تو اس زمانے کی کا نقشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچا اور پھر آخری زمانے کے نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے تعلق سے بھی بچاتے بیان فرمائی اور فرمایا رضی اللہ تعالی عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا کہ اس زمانے میں اگر یہ بانسری یہ ستارے پر بھی چلا گیا ہوگا اسے ایک شخص یا اس کو واپس دنیا میں اور لوگوں کے دلوں میں دوبارہ اس کو لائیں گے اور ان کو دوبارہ وہ میں کریں گے تو اس طرح سے حضور نے مسلمانوں کا ذکر فرمایا قرآن مجید میں بھی اللہ تعالی نے جس کے ذکر بھی آیا تھا آخری زمانے کا اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا واضح طور پر اللہ تعالی نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں سورج مکی آیات کے حوالے سے اسلامی مہینہ رسول من اللہ یتلو علیہم آیاتہ یوسف کی کتاب اور حکمت دین میں نمایاں ہو گئیں اس میں دونوں شرطوں کا اسلام کی دو نشستوں کا اللہ تعالی نے قرآن مجید کی آیت نازل فرمائے اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ایک ایسا نبی مبعوث کیا امیوں میں سے جو ان کو قرآن مجید سکھاتا ہے ان کا تزکیہ کرتا ہے ان کو تعلیم دیتا ہے ان کی ہدایت کرتا ہے اگرچہ وہ پہلے گمراہی میں تھے اور پھر دوسرے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آخری آخری ایام میں بھی اس نبی کی بعثت ہوگی بروزی طور پر واقع امام مہدی اور مسیح موعود کی امت نبی کی صورت میں اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوگی اور وہ زمانہ جو ہے وہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا زمانہ ہوگا ایک بار پھر اسلام تنزل کے بعد پھر اٹھے گا اور اس کو ترقی حاصل ہو گی اور پھر اس ترقی کے بعد اس کو اللہ تعالی عظیم الشان ترقیات سے نوازے گا اس کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ہی سورہ توبہ میں فرمایا اور سورۃ الصف میں بھی ایک موجود ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے جو حیراں ہوں الدین تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے چاہے پسند ہی کیوں نہ کرے تو یہ تمام ادیان پر غلبہ کی پیشگوئی جو ہے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں واضح طور پر آیت بیان فرمائی اور اس کا تعلق اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے ساتھ ہیں اور پھر ایک اور اس کے ساتھ اللہ تعالی نے فرمایا یہی دلیل تھی وہ نور اللہ بافواہہم واللہ متم نورہ ولو کرہ الید ہی کیوں نہ ہو اور اللہ تعالی کے نور کو مٹانا چاہے وہ لیکن اللہ تعالی اپنے نور کو کامل کرتا رہے کر رہے گا پورا کرکے رہے گا اور اس نشاط ثانیہ کے زمانے میں بھی اسلام کو غلبہ عطا کرے گا اور اس زمانے میں بھی اسلامی دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جائے جزاکم اللہ تعالی سزا ناظرین کرام اسی کے ساتھ آج کے پروگرام کاتو بحر ذخار کی طرح یو شمار رہے ہیں اور آسمان کے ستاروں کی طرح جہاں نظر ڈالو چمکتے نظر آتے ہیں کوئی صداقت نہیں جو اس سے باہر ہو کوئی حکومت نہیں جو اس کے منہ سے بیان سے رہ گئی ہو کوئی نور نہیں جو اس کی متابعت سے نہ ملتا ہو براہین احمدیہ صفحہ نمبر 640 انگرام قادیان دارالامان سے پروگرام پر مشتمل خصوصی تھی آج اس کا یہ آخری ایپیسوڈ تھا اور اس سے زیادہ ہوتی ہے اگلے 4 اپیسوڈ کسی اسٹوڈیو سے لائیو نشر ہوں گے چار پر مشتمل کی خدمت میں حاضر ہونے سے اجازت چاہتے ہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 37 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: