Rah-e-Huda – Ambia Ki Taoheen Ka Jawab




Rah-e-Huda – Ambia Ki Taoheen Ka Jawab

راہ ھدیٰ ۔ انبیاء کی توہین کا جواب

Rahe Huda 05 December 2020

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ صحن کے پیارے آقا و مولی حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مصائب مختلف مشکلات پیاروں کی شہادت اور طرح طرح کی ایذا رسانیوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہی کہتے ہوئے نظر آئے اللھم اھد قومی فانھم امی کو ہدایت دے کہ یہ جانتے نہیں ہیں اسی آس پہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپناتے ہوئے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اور خلفاء احمدیت نبی ہمیشہ ہمیں اسی بات کی تلقین کی ہے کہ جو ہمارے پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت تھا کسی بھی قسم کی اس کے مقابلے پر کسی بھی قسم کی توہین کے مقابلے پر وہی ہم نے اپنا ہے ہمیں تو یہ نظر آتا ہے کہ آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بزبان شاعر محبت سے گھائل کیا آپ نے دلائل سے قائل کیا آپ نے جہالت کو زائل کیا آپ نے شریعت کو کامل کیا آپ نے بیان کر دیئے سب حلال وحرام علیہ الصلوۃ والسلام کے نام یہ پروگرام راہ خدا ہے اور آج کے اس پروگرام میں پاکستان کے ساتھ یہاں لندن سٹوڈیو میں موجود ہیں نصیر احمد قمر صاحب جبکہ سکائپ کے ذریعے ہمارے ساتھ شامل گفتگو ہوں گے منظور احمد شاہ صاحب اب دونوں مہمانوں کو بھی میں خوش آمدید کہتا ہوں اور خاص طور پر ناظرین آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں کیونکہ یہ پروگرام راھادا آپ کا پروگرام ہے اس پروگرام میں ہم آپ کے سوالات کے جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں سوال کرنے کے دو طریقے ہیں ہمارا لینڈ لائن نمبر ہے اگر براہ راست لائن نمبر استعمال کریں پہنچانا چاہیں تو اس کے لیے ہمارا واٹس ایپ نمبر نوٹ کر لیں پروگرام بنایا ہے جو آج پانچ ستمبر سن دو ہزار بیس ہفتے کے روز جی ایس ٹی وقت کے مطابق شام چار بجے پیش کیا جا رہا ہے یہاں تک جاری رہے گا اور اس دوران آپ کوئی بھی سوال پوچھنا چاہیے جس کا تعلق ہستی باری تعالیٰ سے ہو قرآن کریم سے ہو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ اسلام تاریخ احمدیت یا عقائد جماعت احمدیہ سے ہو تو ضرور اس پروگرام میں کریں گزشتہ دو پروگراموں سے ہم نے خاص طور پر اس موضوع پر گفتگو کا آغاز کیا ہے کہ جب کبھی بھی مقدس ہستیوں کی توہین کی جاتی ہے تو خود ان ہستیوں کا کیا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیا سکھایا اور اسلامی دنیا کے دور میں حضرت بانی جماعت احمدیہ اور آپ کے خلفاء نے ہماری رہنمائی کی محترم سید قمر صاحب نے گزشتہ دو پروگراموں میں ایک سلسلے کے تحت ہم نے آغاز کیا ہے اور ہم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہٗ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے دور میں جو چند ایک واقعات جن کا وقت کی مناسبت سے ذکر ہو سکتا تھا اور اس موقع پر آپ کی رہنمائی کی جا رہی ہے ذکر کیا ہے آج کے پروگرام میں چاہوں گا کہ جو ایک تقریباً تیس سال کا طویل دور ہے خلافت ثالثہ اور خلافت رابعہ کیا اس میں ہمیں بتائیں کہ کیا واقعات رونما ہوئے اور ہماری رہنمائی وفا نے کیا کیا اسلام کے مخالفین کا وطیرہ شروع سے جو رہا ہے وہ آج بھی ہے اور دن بدن کے آجکل نشریات کے مختلف صرف نئی نئی صورتیں پیدا ہو چکی ہیں تو ان کا جو اسلام کے خلاف زہر ہے وہ اسے بھی ان جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے مختلف ان پر زیادہ شدت کے ساتھ پھیلاتے چلے جاتے ہیں ہیں اوربے بنیاد روایات کو بنیاد بناتے ہوئے یے قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح تعلیمات اور ارشادات اور اسمائے حسنیٰ سے کے بالکل برعکس خودساختہ نتائج اختیار کرتے ہوئے ان پر اور اس مقدس کلام پر نہایت ہی سوقیانہ زبان استعمال کرتے ہوئے اور بڑی بے شرمی اور بے حیائی اور ڈھٹائی سے اعتراضات کرتے چلے جاتے ہیں اور آج کل کے زمانے میں جو مزید باتیں داخل ہو چکی ہیں جس میں مختلف قسم کے خاکے بنانا کارٹون بنانا یا فلمیں بنانا یہ جماعت احمدیہ وہ جماعت ہے جو قرآنی تعلیمات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کے اسوہ حسنہ کے مطابق فائرنگ میں اس کا رد کرتی ہے اور قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مقدس ہستیوں کی اور ان کی حفاظت کے لیے سینہ تان کر کھڑی ہوتی ہے ہے دوسرے مسلمان بھی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات قرآن مجید کی محبت کا دم بھرتے ہوئے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے چونکہ وہ آسمانی قیادت اور رہنمائی سے محروم ہیں ہیں اس کو انہوں نے قبول نہیں کیا جو اس زمانے میں اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے بعد خلافت احمدیہ کس نے فرمائی ہے اس میں سوات میں پیدا ہوجاتی ہیں ایک تو یہ کہ وہ وہ ہوش کی بجائے ایسے جو اس سے کام لیتے ہیں جس کے نتیجے میں صورتحال مزید بگڑتی ہے اور مخالفین کو اسلام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم پر اعتراضات کے مزید مواقع ملتے ہیں اور پھر پھر مسلمانوں کا ردعمل ہے وہ آپس میں بھی ایک جیسا نہیں ہوتا ایک جگہ پر ایک قسم کا رد عمل ظاہر ہورہا ہے دوسرا اس کے برعکس بات کر رہا ہے محسن حضرت بہت بڑا واقعہ جو ہوا وہ ایک شخص سلمان رشدی نا میں نے شیطانی آیات رات کے نام سے کتاب لکھی اور اس نے اس نے ایسی چیزوں کو نشانہ بنایا آیا ایسی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو نشانہ بنایا جو بالکل غیر مستند تھی من گھڑت تھی خلاف واقعہ تھی جو جھوٹ پر مبنی تھی اور اس کے مقابل جو درست روایت تھی اس کو نظر انداز کیا اور لکھا اس پر اور پھر تھی بیہودہ زبان استعمال کرتے ہوئے ان بزرگ ہستیوں کو نشانہ بنایا اب اس پہ ہوا یہ کہ مزید کے ایران کے جو لیڈر تھے امام خمینی انہوں نے کہا کہ اس شخص کو قتل کر دیا جائے اب جب یہ بات ہوئی تو بہت سارے مسلمانوں نے  نے اس بات کو سامنے رکھ کے ہنگامے بھی کی ہے توڑ پھوڑ بھی کی فساد بھی کی اس کی کیا اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے لیے مزید حالات مشکل ہوگئے اور مسلمان حکومتوں کے لیے مسائل پیدا ہوگئے اور پھر زیادہ تر اس کا نقصان خود مسلمانوں کو ہی ہوا یعنی مادی لحاظ سے بھی اسی لحاظ سے بھی اور مذہبی لحاظ سے بھی ایسے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے وہی طریقہ اپنایا مقابلے کااسلام کی تعلیم کے آئین کو بتایا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ راج مطہرات اور دیگر بزرگ ہستیوں عفت و عصمت کے کس مقام پر ان کی پاکیزہ ان کی اعلی اور منصب سے آگاہی کی جائے گی ہیں آپ نے فرمایا جس نے یہ کہا جائے کہ فلاں کتاب کو ضبط کر لو یہ ہنگامے کیے جائیں گے ساتھ کیا جاۓ اور عظیم الشان جلسے کے پروگراموں میں ذکر ہو چکا ہے اسی طرح آپ کے خلفاء نے بھی اسی طریقے کو اپنایا اور دلیل کے ساتھ بیان کر کے ساتھ سمجھا کہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کیا یہی طریقہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام خلفاء کی زندگی میں نظر آتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ بھی ہیں آپ آپ ایک درد محسوس کریں اس دکھ کو محسوس کریں اس عرفان کے ساتھ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے اس مہینے میں سے سب سے زیادہ ہوتا ہے اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام کی شان میں گستاخی کرتا ہے لیکن اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ سڑکوں پر فساد کیا جائے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کی قرآنی تعلیمات سے آگاہی کی جائے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے آگاہ کیا جائے دلائل کے ساتھ ان کے جواب دیے جائیں دیکھیں اور اس سے منسلک وزیراعلی نے فرمایا کہ دو قسم کے ہیں ایک جسمانی اور ایک جو قلم کا ہے کلام کا ہے ہے جہاں اسلام پر جسمانی لحاظ سے ہو اس کے لیے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مخصوص شرائط کے ساتھ اسی طرح پر اپنے دفاع اور مقابلے کی اجازت دی ہے لیکن جہاں کلام کے ذریعے حملہ ہو رہا ہے اس کے مقابلے پر اگر آپ جسمانی پیار کریں گے اس کا جواب کیا تو یہ غلط طریقہ ہو گا اگر دشمن کلام کے ذریعے حملہ آور ہیں تو کلام کے ذریعے اس کا جواب دیں اور اس کے اس کے خیالات کا رد کریں اس کے دلائل کا رد کریں اور دلیل کے ساتھ کرے چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں خاص طور پر خطابات فرمائے جماعت کو نصائح فرمائیں آپ کو جو اچھی زبان جاننے والے ہیں ان کو کہا کہ آپ اپنے اپنے ملکوں کی جو جو اہل زبان ہے اس نے جو انگریزی زبان سے اچھی طرح واقف ہیں ان کو چاہئے کہ وہ دین اسلام سے تعلیمات سے پوری آگاہی حاصل کریں اور اپنے قلم ہاتھ میں لی حضرت مسیح موعود نے جس طرح فرمایا تھا کہ اس زمانے میں قلم کا میں کل میں اسلحہ سے لیس ہو کر میدان کارزار میں اترا ہوں اسی طرح آپ کے بعد آپ اسلام کے خلاف ابھی نے بھی ایسی باتوں کا دلیل کے ساتھ فرمایا آپ نے خود بات میں اس کی وضاحت فرمائیں جماعت کو گائیڈ لائن دی اور فرمایا کے ایک دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجیں اور اپنے اعمال اور اخلاق کو ایسا بنائیں کہ لوگ ان کے جوگن پھیلایا جا رہا ہے اس کا عملی طور پر ہوں اور پھر اپنے لوگوں کو رہنمائی فرمائیں کے مضامین لکھیں خود حضور کی رہنمائی میں سلمان رشدی کی کتاب کے مقابلے پر ہمارے یہاں اکثر احمد صاحب ہیں انہوں نے ایک اور بڑی موثر طور پر وہ کتاب جو ہے وہ بھی دنیا میں پھیلائی گئی مجھے یاد ہے اس زمانے میں بہت سارے میڈیا کے لوگ بھی آئے حضور سے انٹرویو کرنے کے لیے یہاں کے ریڈیو کے ٹیلی ویژن کے مختلف اخبارات کے ان کا خیال تھا کہ آپ کو ایسا جواب دیں گے جس سے آپ کو آگے اور پھر اس کو اور دنیا میں اور ایک کے مسلمانوں کی آپس میں کوئی کوئی لڑائی شروع کروائیں گے یا یہ کہ آپ ان ہنگاموں کو جو یہاں پہ ہو رہے ہیں یہ دنیا کے کتنے روپے ہو رہے ہیں ان کے حق میں بیان کریں گے کہ بالکل ٹھیک ہے یہ یاد دلانا چاہئے کہ ہم اس کو مزید پڑھیں گے لیکن جب حضرت مصعب نے قرآن و سنت کی روشنی میں ان کو سمجھایا دلائل سے بتایا کہ ایسے موقع پر قرآنی تعلیم کیا ہے تو بہت کم اس کو کوریج دی انھوں نے اور کمرے یاد ہے ایک دفعہ ایک لڑکے کے بڑے معروف ریڈیو سٹیشن کے ہے بندہ آئے گا اس کو انٹرویو دیا تو چلا گیا تو پھر فرمانے لگے مجھے اس وقت کی رو میں آیا اس نے نشر نہیں کرنا اور ایک بار آزما کے دیکھنا اس میں کوئی شک نہیں دینی اور وہی ہواقیامت تک پوری دنیا کو لے کے جا رہی ہے ناظرین کرام آپ کے سوالات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور پہلا سوال جو ہمارے بھائی مومن مختار صاحب نے کیا ہے اور انہوں نے ذکر کیا ہے کہ ان کا تعلق اہلسنت جماعت سے ہے وہ میں چاہوں گا کہ اپنے پینل نمبر منصور ضیاء صاحب کے سامنے پیش کروں تو منصور ضیاء صاحب سے بات کرتے ہیں اسلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صاحب کے بھائی محمد مختار صاحب نے جو سوال کیا ہے میں ایز آپ کے سامنے پڑھا ہوں اور مجھے امید ہے کہ آپ اس کی وضاحت کر دیں گے وہ کہتے ہیں کہ کلمہ طیبہ کی لعنت سے مراد لا الہ الا اللہ کا ذکر کر رہے ہیں کلمہ طیبہ کی لعنت سے مراد ہے نہیں لفظ آتا ہے علاج لا باس طہور نفی کرتا ہے وہ کہتے ہیں کے بعد آ جاتا ہے تو ذکر کریں کہ لا الہ الا اللہ میں جلایا ہے وہ کسی بھی قسم کی معبودیت کی نفی کر رہا ہے لیکن جب یہی لانبی آبادی کے بعد آتا ہے یا اس سے پہلے اختر بلوچ کہنا چاہ رہے ہیں تو کیا نصیحت نہیں کرتا کتا کی نبوت کی تو آگے وہ سوال یہ پوچھ رہے ہیں تو آمدی کس طرح مراد لیتے ہیں ظلی بروزی یا اسی قسم کی غیر تشریعی نبوت کا وہ کس طرح ذکر کر لیتے ہیں کیا اوپر والے لا سے بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ظلی بروزی خدا کی گنجائش ہے اور اس سے استدلال کرتے ہوئے کیا کوئی خدائی کا دعوی کر بیٹھے تو کیا جماعتیں اسے سچ مانیں گی میں نے ان کا سوال آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے آپ برائے مہربانی ہمارے بھائی کی رہنمائی کردیں شکریہ ادا کروں گا کہ انہوں نے جو ہے وہ سوال کرنے کی کوشش کی ہے اور اسی کے اسی مقصد کے لیے اگر دل میں کسی کے کوئی کسی قسم کا کوئی اعتراض پیدا ہوتا ہے کوئی سمجھنا چاہتا ہے تم کو ضرور جو ہے نہ وہ اس کے لئے کوشش کرنی چاہیے اور رابطہ کرنا چاہیے جزاک اللہ تو بہت پیاری باتیں ہونے کی ہے کہ جب لا الہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کے معبود کی نفی ہو گی اور اگر میں اس کی طرف اس لیے اشعار کا ذکر کرنا چاہوں گا وہ کہتے ہیں کہ لا نبی یا بعدی یہ لا بھی دراصل ویلا ہے جو لا الہ نکلا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ہے ان کے اعتراضات کا علمی خلاصہ ہے تو میں اپنے بھائی کو اس طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ عربی زبان کے جو جو عربی زبان جانتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دو قسم کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں بلکہ کسی قسم کی اقسام ہیں لیکن یہاں چونکہ دوڑ مختلف قسم کی اقسام کا ذکر ہے تو اسی حساب حساب سے نکل کر وہ اس کا جو لا یعنی ہر قسم کی جنس کی نفی کر دینا کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو یہ عربی میں اس کے لئے ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے جو اصطلاح استعمال کی جاتی ہے وہ لائے نفی جنس کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور قرآن کریم کی پہلی آیت ہے جس میں آتا ہے لاریب حصے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں اس میں بھی یہی عشق ہے کیا یہی پیار نہ لائے نفی جنس کی اصطلاح ہے وہ استعمال کی گئی ہے ہے اس کو کہتے ہیں لائے نفی کمال کہ یہ وہ نغمہ ہے جو اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اس جیسی باکمال چیز اب دنیا میں دوبارہ نہیں آئے گی اور اس کی مثال آپ کو دیتا ہوں اور مثال میں عربی زبان سے بلکہ عربی زبان کے علاوہ آنحضرت صلی وسلم کی حدیث سے اور حدیث بھی جو بخاری کتاب حاصل کی سب سے الکتب بعد کتاب اللہ کہلاتی ہے اس کے حساب سے مثال دوں گایہ اب تاریخی طور پر دیکھ لیں کہ اس کے سر کے مرنے کے بعد کیسے پیدا ہوتے رہے تمہارے اللہ تعالی عنہ کے دور تک اس کے بعد بھی جو یہ روم کا ایک کے بادشاہ کا لقب تھا کہ لوگ آتے رہے تو یہ کہنا کہ جب یہ کہہ کر ہلاک ہو جائے گا تو کوئی اور پیسے نہیں آئے گا تو یہ لائف یہ کمال کا تعلق ہے اس کمال کر دیا سر کوئی نہیں آئے گا یہ کیسا رہے گا اور کوئی نہیں آ سکتا تو چمچے اور یہ معنی میں اپنی طرف سے نہیں کر رہا بلکہ ہمارے دوست ہے مختاری کی طرف ساری کتاب کھولی اور اس کے پاس ایک شخص آیا ہے اس کو فتح الباری کے نام سے پہچانی جاتی ہے تو اس میں انہوں نے یہ اس کی تشریح بیان فرمائی یہ فرمایا ہے کہ فلاں حصہ آباد کا کیا مطلب ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کینسر پیدا نہیں ہو گا کہ جو اس جیسے اختیارات رکھتا ہوں یہ تشریح موجود ہے اگر وہ دیکھنا چاہیں تو آن لائن بھی دیکھ سکتے ہیں تشریف تو یہ بھی موجود ہے تو یہ ایک مثال اس طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں مثلا آنحضرت نے فرمایا اور یہی بخاری میں ہی فرمایا کہ لا ہجرۃ بعد الفتح کے فتح کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے یعنی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت بند ہو گئی تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اب کوئی ہجرت نہیں رہے گی کیا مسلمانوں نے جب پاکستان بنا تو انڈیا سے پاکستان کی طرف ہجرت نہیں کی کیا وہ حیض شمار نہیں ہوگی یا آج روہنگیا کے مسلمان ہیں جو کسی جگہ پر جہاں پر تعلیم ملتی ہیں تو انہوں نے کسی جگہ پر حملہ کیا تو ان کی ہجرت شمار نہیں ہوگی  Ye he کو کہتے ہیں لائف یہ کمال کے ایسی ہجرت کے جس میں جو اس کی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام نے کی تھی اس طرح کی کوئی ہجرت نہیں ہوگی تو یہ عربی زبان سے مثالیں ملتی ہیں اب ہم آتے ہیں کہ الانبیاء میں حضرت صلی وسلم نے فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا آپ نے کہ اس میں بھی بہت طلب بات ہے اگر اس نے ایک جگہ یہ فرما دیا کہ لانبی آبادی میرے پاس کوئی نہیں آ رہا تو دوسری جگہ اس نے خود فرمایا کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ناظر ہوگا مسلم کی حدیث میں تو دیکھیں ہمیں تو حدیث کی تشریح کرنی پڑے گی جو حدیث عہد رسالت صلی وسلم کے اقوال کے خلاف نہ ہو ایسی بات کرنی پڑے گی جو اس کی باقی باتوں سے ٹکراتی نہ ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جب ایک اللہ کے آنے کی بشارت دے دی تو ہم اس کے یہ معنی نہیں کر سکتے کہ لا نبی یا بعدی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اسی لئے ہمارے بزرگ گزرے ہیں انہوں نے بھی لعنت کا مطلب یہ نہیں لیا کہ اس فلم کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا بلکہ انہوں نے یہ فرمایا ہے نہ مشرف آبادی کی تشریح ہے کہ لانبی آبادی کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا کے بارے میں ایسا ہی نہیں بھائی نہیں کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اس طرح کی متعدد احادیث ہیں ہمارے بزرگ ان کی قوالی ان سے پتہ لگتا ہے کہ رہی تھی اور قیامتقسمت میں بھی ہوں گے اور اگر کوئی اور بھی آپ کے ذہن میں سوال ہوگا تو آپ ہم سے ضرور کریں گے اس وقت خاکسار اسکرین پر دیکھ رہا ہے ہمارے بھائی ہیں جاوید اقبال صاحب انہوں نے بھی ایک سوال بھیجا ہے لیکن کیونکہ کی نوعیت کا سوال ہے شاید اس پروگرام میں شامل نہ کر سکیں اسی طرح ارشاد احمد صاحب کا لاڑکانہ سے بھی ہمیں پیغام مل گیا ہے آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ لیکن نصیر قمر صاحب اگلا سوال ہماری بہن اس خانم صاحبہ کا جرمنی سے ہے میں وہ سوال آپ کے سامنے پر دیتا ہوں اور پھر میں چاہوں گا کہ آپ ان کے سوال کا جواب دے دیں وہ کہتی ہیں کہ سورہ مریم کی آیت نمبر 30 اور 31 مئی حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں یہ ذکر ہے کہ وہ جب بچپن کی حالت میں تھے تب بھی ان پہ وہ پیغمبر بن گئے ان کی نبوت نازل ہوگی یہ وہ سوال ہیں اسی طرح آپ کے سامنے کر رہا ہوں حالانکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وسلم کو چالیس سال کی کی عمر میں یہ ذمہ داری دی گئی انہوں نے اشارۃ وہ آیت کا ٹکڑا بھی لکھا ہے جہاں اللہ تعالی نے فرمایا ہے نکلی ہے یا نبی یا رسول کی وضاحت کر دیں کرنے کا تعلق ہے تو اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے وہ جب چاہے کسی کو نبوت کے مقام پر سرفراز فرمائے اور جب بھی کوئی حد تک پہنچ جاتا ہے جیسے قرآن کریم نے چودہ کے الفاظ میں بھی ذکر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی شخص کے اہل بن جاتا ہے تو اللہ تعالی اسے نبوت عطا فرماتا ہے اس میں عمر کی کوئی ایسی کایا ہمیں نہیں ملتی بلکہ عبادت یہ درست ہے جس کے متعلق اللہ تعالی نے ذکر فرمایا کہ ان کا بلاک جو ہے وہ چالیس سال کی عمر میں ہوا یعنی وہ اس مقام پر پہنچے کہ انہیں نبوت کا مقام عطا کیا جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اللہ تعالی کی نظر میں تو نبی تھے اور انہوں نے تیار کر رہا تھا لیکن جب نبوت کا اعلان فرمایا ہے اس وقت آپ کی عمر علیہ الصلاۃ والسلام سے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہیں 30 سال کی عمر میں نبوت پر ہے جس کا انہوں نے ذکر فرمایا کہ اللہ نے نبی بنایا یہ خدا تعالی کے اختیار میں ہے اس میں یہ مراد نہیں ہے کہ بچپن میں دودھ پیتے بچے تھے تو اس وقت انہوں نے کہا کہ مجھے میں ہے ماں کی گود میں دودھ پیتے ہیں پر پہنچ چکے تھے جب اللہ تعالی نے انہیں نبوت کا مقام بخشا تھا اور اسی لئے جب مخالفین نے حضرت مریم علیہ السلام سے علیہ السلام سے متعلق اعتراض کیا کہ یہ آپ نے کیا کیا آپ کے ہاں بیٹا کیسے ہو گیا نا آپ کا الزام لگایا تو آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میں کوئی بات کرو آپ اس سے بات کر کے دیکھیں اگر یہ کسی بدکاری کا نتیجہ ہوتا تو یہ کیا یہ اس قسم کی باتیں کرتا اور جب انہوں نے ان کی طرف اشارہ کیا جاتا علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف تو انہوں نے آگے سے یہ بتایا کہ میں عبداللہ اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اس نے مجھے نبی بنایا ہے مجھے اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بتایا ہے تو یہ ساری وہ باتیں تھیں جو نظر بھی آ رہی تھی تو جب ایسے نیک اور پاک کلام کرنے والا خدا سے مکالمہ مخاطبہ کا شرف حاصل کرنے والا یہ جو نوجوان تھا جب اس کو انہوں نے دیکھا تو اس کے مخالفین کے پاس کوئی جواب نہیں تھاشادی اور کی مخالفین کے اعتراضات کے جواب کے لئے اس کی سمجھ آتی ہے اور اس میں حضرت عیسی علیہ السلام نے جو بیان دیا اس کی حکمتیں میں سمجھاتی بہت شکریہ نصیر قمر صاحب جس طرح محترم نصیر صاحب نے بھی ذکر کیا ہے ہماری آفیشل ویب سائٹ ہے الاسلام ڈاٹ کام کوئی بھی جماعت احمدیہ کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتا ہے اس کے اوپر تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ فرض ہے کہ وہ ہمارے موقف کو جاننے کے لیے اس ویب سائٹ کو ضرور دیکھیں اور اگر کوئی ویسے بھی اگر قرآن کریم کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے اور یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ جماعت احمدیہ قرآن کریم کی مختلف آیات کی کیا تفصیل کرتی ہے تو یہ ویب سائٹ بہت مفید ہے وہاں پر قرآن سیکشن ہے مختلف زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ بھی آپ کو ملے گا اور حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام اور آپ کے خلاف انہیں جنگلی حیات کی جہاں کدو شریف فرمائی ہے وہ بھی آپ کو ملے گی اور امید ہے  ہے کہ ہماری محنت کر رہی ہے عنقریب آپ کو قران کی ایک نئی ویب سائٹ بھی دیکھنے کو ملے گی اللہ تعالی وہ دن جلدی لاۓ میں سوالات کی طرف چلتا ہوں اور منصور صاحب سے بات کروں گا منصور صاحب آپ کے سامنے اگلا سوال میں پیش کرنا چاہتا ہوں وہ ہمارے بھائی ہیں بلال احمد کشمیر سے انہوں نے یہ سوال کیا ہے میں وہ سوال پیش کر دیتا ہوں پر دیتا ہوں پھر میں آپ سے اس کا جواب دوں گا وہ کہتے ہیں کہ روحانی خزائن جلد نمبر 19 روحانی خزائن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مجموعہ ہے اس کی جوانی نمبر جلد ہے اس میں کتاب تحفۃ الندوہ صفحہ نمبر 99 میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں اس کی ذرا وضاحت کر دیں ہمارے بھائی بلال کے لیے لیے جو جہاں تک اس بات کا ذکر ہے کہ قرآن کریم نے کسی کا نام جو ہے وہ ایک دن مریم رکھا مسیر کھایا جو اس حوالے سے ذکر ملتا ہے سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے کا نام مسیح نے مریم رکھا لا کیا تھا وہ یہ تھا کہ ان کے گھر والے بال تھے اور ان کا رنگ سرخ تھا آج وفات یافتہ جن کو دیکھا ان کا رنگ سرخ اور بال گھنگریالے اور پھر فرمایا ایک بجے بخاری کی حدیث فرمایا کہ جو نیا عہدہ جو وہ مسیح جو دجال کا مقابلہ کرنے کے لیے آئے گا اس کے بارے میں نے فرمایا کہ جب میں جب میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ ایک جال کا مقابلہ کرنے والا جو مسئلہ ہے اس کے بارے میں نے اس کا حل یہ دیکھا کہ اس کے اس کا رنگ گندمی ہے اور بال لمبے اور بالغ اور سیدھے ہیں تو یہاں بیان کر کے یہ بات کے مقابلے کے لیے آئے تھے وہ دراصل ایک صفاتی نام ہے ورنہجب یہ دنیا بنائی اس وقت سے ایک ہی مذہب اسلام کیوں نہیں بنا دیا یا دوسرے مذاہب کیوں بنائے جو شرک کرتے ہیں کہ زندگی کا سوال ہے آپ ان کو وضاحت کر دیں zee cream نے بڑی وضاحت سے یہ بتایا ہے کہ ان الدین عند اللہ الاسلام اسلام جو ہے ہے وہ اللہ کے ہاں اسلام ہی ہے ہیں اور قرآن مجید کا اگر مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ تمام نبی جو خدا کی طرف سے موسوم ہے وہاں پر کارفرما تھے انہوں نے یعنی سب مشن ٹو اللہ اسلام کا مطلب ہے کہ اللہ کی کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دینا نا اور ہر مذہب کی بنیادی طور پر اسلام ہی تھا لیکن وہ نبی جو تھا وہ مسلمان تھا انبیاء سے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق دوسروں سے متعلق بھی یہ ذکر آتا ہے کہ میں تو مسلمان ہوں میں تو خدا کا فرمانبردار ہو غیر اللہ کے سامنے جھکنے والا نہیں تو دین تو اسلام ہی ہے آغاز سے ایک ہی دین ہے لیکن لیکن یہ دین جو ہے بتدریج جو اسلام انسان کی نشوونما ہوئی اس کے خواب میں بہتری اور ترقی آئی ایک ارتقائی مراحل سے گزرتا ہوا انسان آگے بڑھتا رہا ہے اسی کے مطابق اللہ تعالی کی طرف سے مختلف نبیوں کے ذریعے سے تعلیمات دیگی چمچے قرآن کریم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا اردو نصیبا من الکتاب ہے جو پہلے مذاہب مختلف گزرے ہیں یا دے گزرے ہیں اسی کتاب یعنی قرآن کریم جو الکتاب ہے کامل کتاب ہے اسی کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے دیا گیا اسلام کی اسلام سارے کا سارا قرآن کریم میں ہے اسی میں محفوظ ہے کامل طور پر دین اسلام جو ہے اس کی تعلیمات اس کامل کتاب میں بیان کر دی گئی ہیں پہلے لوگوں کو اسی کتاب کے پاس سے دیئے گئے وقت کے مطابق حالات کے مطابق ان بچیوں کے ذریعے اس عہد کی تعلیمات کو اس زمانے کے لوگوں کے لیے اس علاقے کے لوگوں کے لئے ظاہر کیا گیا  یا نہ ہو تو لوگ اس نبی کی اپنے وقت کے نبی کی تعلیمات پر عمل کرتے رہے وہ دین اسلام کے اس حصے پر کاربند رہے ہیں جو اللہ تعالی نے انہیں دیا تھا لیکن پھر ہوتا یہ ہے اور یہ قرآن کریم اس کا ذکر فرمایا ہے کہ لوگ پھر اس راستے سے ہٹ جاتے ہیں گمراہ ہو جاتے ہیں افراط اور تفریط کی راہ اختیار کر لیتے ہیں جو شرک سے روکا گیا تھا وہ دوبارہ اس کی طرف لوٹ کے جا آ لوٹ جاتے ہیں تو پھر اللہ تعالی کسی اور نبی کو محفوظ کر لیتا ہے ہر سے ان کو توحید کی طرف لاتا ہے انہیں اللہ تعالی کی منشا سے خدا سے علم پاکر انہیں آگاہ کرتا ہے تو یہ ایک سلسلہ ہے جو چلتا چلا آ رہا تھا یہ نہیں کہ وہ مزاحیہ بنیادی طور پر مجھے گانا تعلیم دینے والے نہیں تھے تمام مذاہب کی بنیاد توحید پر تھی تھی گر آنے میں مصلحت حائل الدین شاہ اتقیا ہے جو رہنے والا ہے جو انھیں سزا کے طور پر مشتمل دین ہے وہ یہی ہے کہ اللہ کی عبادت میں توحید اور خدا کے احکامات الصلاۃ وآتوا الزکاۃ بنی نوع انسان کی ہمدردی تو یہ وہ تعلیمات ہیں جس کے مختلف پہلوؤں خلیات کے ذریعے ظاہر ہوتے رہے اور کامل طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دین اسلام جو اپنے کمال کو پہنچا ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں پہنچا ہے اور وہ تمام تعلیمات جو پہلے لوگوں کو جزوی طور پر دی گئی تھی وہ ساری کی ساری اپنے کمال کے ساتھ قرآن کے لیے جمع کر دی گئی اور اس کو الکتاب بنا دیا گیا تو دینا نہیں ہے جو حقیقی اسلام ہے اس کا کامل اظہار نبی اکرم صلی اللہآپ نے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب مشرکین نے آرمان مدینے اسلام کا فتنہ جو دجالی فتنہ یاجوج اور ماجوج کا فتنہ وہ بھی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا اور مسلمان مسلمان بھی انتہائی پستی میں ہوں گے کہ ان کے دین سے بھی واقفیت ہو گئی ہے قرآن سے کچھ کم ہو گی اس وقت خدا مسیح موعود کے ذریعے مہدی کے لیے سے مغرب کا سامان کرے گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں اپنی غلامی میں ظاہر ہو گا تو یہ ایک پروسس ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے اسلام کا عمل ہے اور اسلام ہی اصل دین ہے ہیں بغیر اس کے کہ وہ ایسا چکر ہے وہاں سے ان میں سے ہوگا تو اسلام ایک آفاقی دین صاحب آپ نے بڑی وضاحت کے ساتھ ذکر کر دیا ہے دل تو ہی کی ہے تمام انبیاء بھی دراصل وہی دی نازل ہوا ہے اور اس کی تکمیل جو ہے ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے آپ کے اوپر ہوئی ہے آپ کے اوپر نازل ہونے والی آیات کے ذریعے کا تعلق ہے یہ تو لوگوں کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں لوگ اس بار بھی میں پڑھتے ہیں اور اسی لیے اللہ تعالی نے اس وقت بھی جب لوگ بے راہ روی میں پڑے ہیں ان لوگوں کی رہنمائی کے لیے حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام اور پھر آپ کے خلافت احمدیہ کا سلسلہ چلا آیا ہوا ہے اگلا سوال جو ہمیں محسوس تو پچھلی پروگرام میں ہوا تھا اختصار کے ساتھ ہم نے ذکر کیا تھا لیکن آج کے پروگرام میں چاہوں گا کہ منصور حمزہ صاحب تفصیل کے ساتھ اس سوال پر روشنی ڈال دیں یہ ہمارے بھائی کاشف احمد صاحب نے پاکستان سے بھیجا تھا منصور صاحب آپ کے سامنے ہو وہ کہتے ہیں کہ جو کفن مسیح ہے جو چوروں کا کفن ہے جس میں حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کی شادی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ٹیورن کے کفن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس میں حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کے چہرے کی شکل میں موجود ہے اگر ایسا ہی ہے تو حضرت مرزا صاحب بیان حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کا چہرہ اس سے ملتا جلتا کیوں نہیں ہے جب کہ آپ اپنے آپ کو مسئلہ مسئلہ کہتے ہیں میرے بھائی کا سوال ہے شکریہ یہ بات ٹھیک ہے کہ آج کل کے دور میں کفن ہے یا کپڑے مسیح کے نام سے جس کو کہتے ہیں دریافت ہوئے ہیں آج کل اور اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی شادی بھی موجود ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پورا علیہ السلام کو جب کر دی گئی اس کے بعد ان کو اس کفن میں لپیٹا گیا اور پیٹنے کے بعد چونکہ آپ کے جسم پر جو جو خون کے دھبے تھے اور اس کی وجہ سے زخم آپ کے جسم پر تھے ان سے خون رس رہا تھا تو اس کی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اسی اس فن کے اوپر جا چکی ہے اگرچہ اس میں بعض لوگ کرتے ہیں وہ کفن نہیں ہے لیکن جماعت احمدیہ تو یہ سمجھتی ہے کہ بہت سے اور روایات بھی موجود ھیں قرآن کریم کی اس بات کی صداقت میں کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے غیبت پر فوت نہیں ہوئے تھے بلکہ صرف سے زندہ ہوتا لیے گئے تھے یہ گواہی بھی ان میں سے ایک گواہی آج کل کے دور میں ہو سکتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بچتے تھے اور ایک دن میں ان کی جب دیکھتے ہیں کہ خون بہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ جب سے اترے تھے تو اس وقت تک زندہ تھے اوررات میں مطابقت ہوتی ہے ورنہ پرانے مسیح کے بارے میں قرآن کریم میں جگہ جگہ بے شمار آیات موجودہ اس نے فرمایا کہ اس کے قریب آیات ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام وفات پا چکے ہیں اور احادیث بھی اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہیں اور آنے والے کے بارے میں فرمایا ہے کہ بخاری کی کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم کو تمہاری کیا حالت ہوگی اس وقت ایسے مریم تمہارے میں نازل ہوئی ہیں کہ تمہاری حاجت پڑی خطرناک ہو چکی ہوگی تو یہاں پر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ شاید وہی پرانا نبی علیہ السلام جو اسرائیل کی طرف آئے تھے وہ دوبارہ آئیں گے تو فرمایا کہ نہیں اماموں کو ملک و قوم کے مجھے تمہارا ایمان ہے وہ تمھیں میں سے پیدا ہوگا تو یہ بخاری کی حدیث ہے کہ جس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ وہ ایک مختلف  ہستی ہیں ایک مختلف اور شخصیت ہیں تو جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے اہل حدیث جس میں یہ بخاری میں حضرت علی نے فرمایا کہ دونوں مسیح کے لئے ڈسٹرکٹ مختلف ہیں ان کے لیے دیکھ سکیں تو بخاری کی وہ حدیث جس میں یہ پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معراج کی رات میں دیکھا تو اس میں فرمایا کہ روایتوں کے معراج کی رات میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام علیکم السلام و رحمۃ اللہ علیہ السلام کو دیکھا واما ایسا احمر و جادو کا حل یہ کیا تھا میں نے کیا دیکھا کہ سرنگ ہے اور جادو اور باغوں میں رہتے ہیں تو یہ حال کر دیا اور پھر جو دوسری حدیث جہاں پر آنحضرت صلی hai فرماتے ہیں کہ آئندہ کے آپ کو حالات دکھائے گئے اور دجال کو دیکھا اس جگہ جس مسیح کا دجال سے مقابلے کے لئے جس مسیح کا حلیہ بیان کیا گیا اس میں فرماتے ہیں کہ بھائی ماہانہ ہوں جب کہ میں سویا ہوا تھا تو ملاقات خواب میں دیکھا کہ میں نے کعبہ کا طواف کر رہا ہوں تمہیں کیا دیکھ کر میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ہزار روپے آدم سب تو شاعر ہے کہ ایک دن دن گندمی رنگ کا آدمی ہے اس کا ہے اور سیدھا ادھر ہی چلا گیا میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے کھالو حاضر مسیح ابن مریم کو دیکھیں یہ بات کا تعلق ہے تو میں کیا کروں گا کہ آنحضرت صلی وسلم نے ہرگز ظاہرہ میں مشابہت نہیں دی بلکہ کردار میں اخلاق میں صفحات میں اور حالات میں مشاورت کی ہے اور بلکہ ان کی اس بات سے میں یہ بھی آیا یہ بھی لہجے میں پہنچ سکتے ہیں اور کی قسم کتوں کے ساتھ یہ بھی ایک مشابت بن سکتی ہے کہ دنیا میں کسی اور نبی کی تصویر نہیں ملتی لیکن اس کی بات آج اس رنگ میں پوری ہوتی ہے کہ اگر یہ درست ہے کہ جو تصویریں ہو یا اسی طرح ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور السلام کی تصویر بھی موجود ہے آج کل جو ہیں وہ سب دیکھ سکتے ہیں اور وہ اسلام کا گندمی رنگ تھا تو اس رنگ میں یہ بات بھی ایک پوری ہوجاتی ہے اور یہ نہیں کرنا چاہتا ہوں کہ بزرگان امت میں سے کسی کا بھی یہی عقیدہ ہرگز نہیں لکھا کہ امت میں جنسی آئے گا وہ ظاہری شکل و شباہت میں ظاہری صورت میں بھی حضرت عیسی علیہ السلام سے وفات پا چکے ہیں ان سے حوالہ علامہ اقبال کے سامنے پڑھنا چاہوں گا کے اوقات حرکت و نزول عیسیٰبلکہ کردار اور اخلاق میں ہوگی اور یہی بات ہم نے بخاری کی حدیث سے آپ کے سامنے پیش کیا اس میں بیان فرمائے بہت شکریہ منصور ریاست ہے جس طرح محترم منظور قاضی صاحب نے بڑی تفصیل کے ساتھ اور حوالوں کے ساتھ اس بات کی وضاحت کر دی ہے یہاں ایک اور بات کی طرف بھی میں آپ لوگوں کی توجہ دلانا چاہوں گا آپ کو بھی اور جن لوگوں کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں ہے یہ سارے حوالے جو ہم یہاں پیش کرتے ہیں چاہے وہ کتب احادیث کی ہو یا دیگر کتب کے ہو یہ بھی اللہ تعالی کے فضل وکرم کے ساتھ ہماری آفیشل ویب سائیٹ میں موجود ہیں آپ ضرور جا کے اس کو سرچ کرنے کی کوشش کریں خاص طور پر دو کتابیں قندیل ہدایت اور قندیلیں صداقت کے نام سے جن میں ان حوالوں کو نہ صرف جمع کیا گیا ہے بلکہ اردو انگریزی اور غالبا جرمن زبان میں بھی اس کا ترجمہ وہاں موجود ہے نصیر قمر صاحب نور صاحب ہیں ہر شاٹ سے سوال پوچھ رہے ہیں وہ کہتے ہیں غیر احمدی جس امام مہدی کا انتظار کر رہے ہیں تو جب وہ آئیں گے تم کو کیسے پتہ کیسے پتہ چلے گا کہ وہ امام مہدی ہیں یہ دور ساحری احمدیوں کی سوال اور ان کے موقف کو سامنے رکھتے ہوئے جاننا چاہتے ہیں کہ اللہ ان کو الہام کرے گا کہ تم امام مہدی ہو اگر الہام ہو گا تو اس کا تو غیر احمدی انکار کرتے ہیں تو اسلام کا راستہ دو بندے تو گویا یہ سوال دور صاحب غیر احمدی احباب سے کرنا چاہ رہے ہیں لیکن میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں آپ کو وضاحت کر دیں بڑی آنت کے ساتھ انھوں نے اس سوال کو بنایا ہے اور جیسا کہ آپ نے فرمایا بالکل ٹھیک ہوں مطلب یہی ہے کہ وہ غیرہ جماعت افراد سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جسے امام مہدی کا انتظار کر رہے ہیں وہ جب آئیں گے تو کیسے ان کو پتہ چلے گا کہ وہ عمارتیں ہیں ہیں یا خدا ان کو الہام کرے گا گا کیونکہ یہ الہام کو نہیں مانتے اس کا مطلب ہے کہ پھر وہ کیسے پتہ چلے گا اور یہ سمے میں یہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں بات یہ ہے کہ اگر اگر وہ خود ہی کوئی بات نہ کرنا امام مہدی ہو تو پھر تو وہ فطری ہوگا کیونکہ ماضی تو وہ ہوتا ہے جو اللہ سے ہدایت پا کر آگے ہدایت دینے کا کام کرے قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں سورۃ الانبیاء میں مختلف انبیاء کا ذکر کرتے ہوئے ان کے متعلق بھی یہی اصطلاح استعمال فرمائی ہے اور اس کی تفصیل یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں نہ ہم نے انہیں امام بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ لوگوں کو ہدایت دیتے تھے تو امام مہدی وہ ہے جو اللہ سے ہدایت پا کے اللہ کے حکم کے تابع بنی نوع انسان کی ہدایت اور رہنمائی کا فریضہ انجام دے کے حکم پر آئے گا تو وہ الہام کے ذریعے ہوگا اگر وہ اس کو علم نہیں ہوتا وہ خود اپنے پاس  صحیح سمجھتا ہے تو پھر وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہوگا کوئی بھی شخص کہہ دے کہ میں امام مہدی ہوں یہ نہیں ہوگی تو وہ گا اور باغیوں ہوگا جسے خدا کرے کہ میں نے توجہ ہدایت کے بخشی ہے اور اب تجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ طالبان نے انسان کی ہدایت کا فریضہ انجام دے ہمارے حکم کے ساتھ تو الحمدللہ میں ہے اور جو خدا کی طرف سے آئے گا بار بار اللہ اس کو بھی کرے گا اس کی رہنمائی کرے گا تب بھی وہ لوگوں کی ہدایت کا کام انجام دے سکے گا ورنہ وہ گندا میں چا نہیں ہوگا اور واقعہ یہ ہے کہ جو لوگ وحی اور الہام کا منکر ہے وہ بہت مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ قرآن کریم توبہ کا دروازہ الہام کا دروازہ کھولتا ہے لیکن قرآن کریم کی وحی کے تابع قرآن کریم کی اطاعت اور برکت کے فیض سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے پھل سے مکالمہ اور خطبہ اور یہ امریکا کا فیض ہے وہ انسان کو مل سکتا ہے نہ کوئی ایسا الہام ہو سکتا ہے جو قرآن کریم کی کسی ایک چھوٹی سی آیت چھوٹ کو بھی منسوخ کریں اس میں کوئی اضافہ کریں نہ کوئی ایسے ایسے ہی وحی نازل ہو سکتی ہے جو کسی بھی رنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اترنے والی شریعت کے احکامات کے خلاف ہو تو یہی وہ بات ہے جس کا الامام المہدی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا اور اللہ تعالی نے قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے پیسے آپ کو یہ شرف بخشا مکالمہ مقابلہ کا اور آپ چیک پر بکثرت علامات نازل فرمائے ان کی صداقت بھی ساری دنیا میں پوری طرح عیاں ہے اور جسے چاہے کلیم اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار اگلا سوال لیکن اگلا سوال منصور صاحب کے سامنے پیش کرنے سے پہلے میں بتانا چاہوں گا اسم صاحب سے لنک سے آپ کا پیغام مل گیا ہے ندیم احمد انجم صاحب سیالکوٹ سے آپ کااسامہ صاحب ان کا اب یہ پیغام مل گیا ہے تو آخری سوال جو ہم اس پروگرام میں منصور صاحب کے سامنے پیش کریں گے منصور صاحب ہمارے بھائی ہیں ان کا سوال پہلے میں آپ کو بتا دیتا ہوں پھر میں آپ کو بتاؤں گا کہ آپ اس کے بارے میں اس کا جواب دے دیں وہ کہتے ہیں کہ معترض کہتا ہے کہ نبی کو کیا ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ساری عمر اپنا سچا ہونا ثابت کرتا رہے یا یہ کہ وہ ثابت کرتا رہے کہ میں سچا نبی ہوں یہ جو سوال ہمارے سامنے پیش کیا ہے یہ ہمارے بھائی ہیں عظیم طاہر صاحب انہوں نے لندن سے بھیجا ہے مختصر وقت میں ان کی رہنمائی کردیں بات ہے دیکھیں کہ یہ ذمہ داری اللہ تعالی کی طرف سے ان کو بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالی کی خاطر انہوں نے اس ہر نبی نے کوشش کرنی ہے کہ وہ لوگوں تک پہنچا اللہ کا پیغام پہنچایا ہے اور ساری عمر نبی اسی کوشش میں رہتا ہے یہاں تک کہ قرآن کریم میں دیکھیں اللہ تعالی عنہ حضرت صلی وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جائے گا کہ جو کچھ نازل ہوا تو لوگوں کو تک اچھی طرح سے پہنچا دے یہ پیغام پہنچا دیا اور فرمایا کہ اگر ایسا نہ کیا تو نے اپنی رسالت کا پیغام جو تجھے میں نے دیا تھا اس نے نہیں پہنچایا تو یہ ایک نبی کی ذمہ داری ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں قرآن کریم ہم اٹھا کر دیکھیں قرآن کریم میں انبیاء کے واقعات موجود ہیں اور ہر نبی اور ہر ہر نبی اپنے مخالفین کے سامنے یہی بات پیش کرتے ہوئے نہ کرتا ہے کبھی دعاؤں کے ذریعے پیش گوئیوں کے ذریعے دیکھو میں اچھا نہیں ہوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں مجھے معلوم کے دل میں یہ ایک طرف ہوتی ہے بیٹیاں قوموں کے معنی قرب سجائے اس کے دل میں یہ طرف اور یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ضرورت ہوتی ہے تو اس نے کئی اوٹ پٹانگ بالکل ٹھیک ہے جس سے بہت بہت شکریہ ہمارے پروگرام کا وقت ختم ہو رہا ہے جس طرح آپ نے ذکر کیا انبیاء ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ ہر طرف آواز دینا ہمارا کام آج جس کی فطرت نہیں ہے آئے گا وہ انجام کار کی کوشش کی ہے تو خلفائے احمدیت نے کی کوشش کی ہے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ 10 فروری سن دو ہزار چھ میں فرمایا یا اللہ تعالی نے تو ان کو بھیجا ہے جیسا کہ خود فرماتا ہے کا اللہ نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کیلئے رحمت کے طور پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی ہستی رحمت بانٹنے والی ہستی نہ پہلے کبھی پیدا ہوئی اور نہ بعد میں ہو سکتی ہے آپ کا اس وہ ہے جو ہمیشہ قائم ہے اور اس پر چلنے کی ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے اور اس کے لئے بھی سب سے بڑی ذمہ داری احمدی کی ہے تو بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمت اللعالمین تھے اور یہ لوگ آپ کی تصویر پیش کرتے ہیں جس سے انتہائی بھیانک تصور کرتا ہے پس ہمیں پیار محبت اور رحمت کے سوا کو دنیا کو بتانا چاہیے  اور ظاہر ہے اس کو بتانے کے لئے مسلمانوں کو اپنے رویے بھی بدلنے پڑھیں گے اللہ تعالی ہم سب کو امام مالک کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی زندگیوں میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ان لوگوں کو بھی

 62 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: