Rah-e-Huda – Quran Ki Sadaqat – Peshgoian




Rah-e-Huda – Quran Ki Sadaqat – Peshgoian

راہ ھدیٰ ۔ قرآن کی صداقت پیشگوئیاں

Rah-e-Huda | 6th March 2021

ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں سے ہے خدا میں ختم المرسلیں سے ہے خود ہی میں ختم الرسل صلی علی خان وسیم بسم اللہ الرحمن الرحیم نگرام اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ تہاجم 6مارچ 2019 ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور جی این پی کے مطابق اس وقت سحر کے چار بجے ہیں اور ناظرین یہ وقت ہے پروگرام راہ خدا کا کا حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی مقدس بستی قادیان دارالامان سے پروگرام راہداری کی دوسری اس وقت ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں آج اس کا اور آخری ایپیسوڈ ہے اور حسب معمول یہ پروگرام آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے لائیو ہونے کے ساتھ ساتھ یہ انٹری بھی ہوگا یعنی ہم اسٹوڈیو کی ڈسکشن کے ساتھ ساتھ اپنے ناظرین کے ٹیلی فون کال ریسیو کریں گے ان کے سوالات گے اور جو علماء کرام اس وقت ہمارے ساتھ پینل میں موجود ہیں وہ ان کے سوالات کے جوابات بھی اسی پروگرام کے ذریعے دیں گے re ہم سے رابطہ کرنے کے لئے ہماری ٹیلی فون لائنز ایکٹیویٹی ہیں اس کے علاوہ ٹیکسٹ میسج ٹیکسٹ میسجز اور ای میل کی سہولت بھی موجود ہیں جن کے ذریعہ سے آپ ہم تک اپنے سوالات پہنچا سکتے ہیں تو ین اگر آج کے پروگرام میں آپ سے ملنا چاہتے ہیں اور اپنے سوالات پیش کرنا چاہتے ہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ اس پر ہم سے رابطہ کرنے کی تفاصیل مشاہدہ کر رہے ہوں گے ہمارے راہ داں کے ریورس اس بات کو جانتے ہیں کہ اس سیریز میں ہم قرآن کریم خدا کا کلام ہے کہ عنوان پر گفتگو کر رہے ہیں اور حسب معمول اس پروگرام میں ہمارے ساتھ دو علماء شریک گفتگو ہوں گے پہلے مالک کا تعارف کروا دیتا ہوں محترم مولانا محمد احمد صاحب اور آپ کے ساتھ والی نشست پر تشریف فرما ہیں محترم مولانا عطاء الرحمن صاحب 2019 ڈرامہ ختم کرتا ہوں انگرام قرآن کریم قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی میں ایک بار تبدیلی اور ایک روحانی انقلاب پیدا کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں وہ معاشرے میں بااخلاق بن کر ایک اچھی زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے قرب کو بھی حاصل کرسکتا ہے قرآن کریم کی وہ تعلیمات ہے جن پر اگر عمل کرے تو دنیا میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے اور ان کی ہدایت اور کامیابی کے لیے اس ضمن میں آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اپنے سوالات پیش کر کے جوابات حاصل کر سکتے ہیں آج کی گفتگو کا آغاز میں محترم مولانا محمد حنیف صاحب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم میں مختلف ایسے پیشگوئیاں موجود ہیں جن کا تعلق مستقبل کے زمانے سے ہیں جن سے یہ علم ہوتا ہے کہ قرآن کریم جو ہے وہ اللہ تعالی کا نازل کردہ کتاب ہے اور جو کہ عالم الغیب ہے تو عصر حاضر کے متعلق قرآنی پیش گوئی کے بارے میں براہ کرم ہمیں کچھ بتائیں کے نام نام سے تم نے چودہ سو سال پہلے قرآن مجید نازل ہوا اور اس کی ابتدا مکہ میں ہوئی اگستجین 114سورتوں پر مشتمل ہے ستر ہزار نو سو چونتیس کے الفاظ اس میں پیش گوئیاں ہیں پیش ہوئے ہیں اسی میں پوری ہوگی کچھ عصر حاضر میں پوری ہو رہی ہے کہ مستقبل میں پوری ہوگی یہی قرآن مجید کی خوبیاں اور اس کا امتیاز ہے ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ جب سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ قرآن مجید نازل ہو رہا تھا اور یہ پیشگوئیاں اس میں ذکر کی جارہی تھی صحابہ کرام اور سنتے تھے صحابہ کرام تو اس کے اوپر ایمان بالغیب لاتے تھے یہ تو ہماری سمجھ سے بالا ہے ہے اب اس لحاظ سے تعلق رکھنے والی بات پیشگوئیوں کا ذکر کرو وہ بھی لاتعداد ہے جو اس کے ساتھ تعلق ہے اس کا وہ میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں سورۃ تقویر یہ مکہ میں نازل ہوئی اس کی ابتدا اللہ تعالی فرماتا ہے واعظ شمس قوت حضرت جب کہ سورج کی انور والپیپر دیا جائے گا آئیے اب صورت سے مراد ایک تو ہمارا ظاہری صورت ہے اور یہ میں بتاتا چلا جاؤں کی حمایت کا اعلان فرمایا قرآن مجید کے تو بہت سے ہو تو نہیں اور اس کے ایک ایک برتن میں بہت پیشگوئی اور مطالبات مطلب یہ ہے کہ ایک تو یہ صورت ہے اور دوسرا اللہ تعالی نے سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دیا ہے سورج اس کا یہ بنا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ سید محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو اپنے اور بیگانے پن دور کرنے کی کوشش کریں گے پیشگوئی وہ انجومن خطابت جائے گی ستاروں سے بغاوت یہاں پر علماء ہیں وہ بھی اپنا ووٹ دینا ہے دینا بند کر دیں گے تو مطلب ہے ان کے اوپر ایسی سرنگیں اور سڑکیں بنائی گئ کے رستے بنا کر آسانی سے اس راہ پر چل کیا جا سکتا ہے اور جب اس سے مراد بڑی بادشاہ ہیں جن کا زمانہ ہے اللہ تعالی فرماتا ہے وائس اشعار جبکہ اس زمانے میں جب یہ آیت نازل ہوئی تھی اونٹ کی اور دس مہینے کی اونٹنی کی بہت زیادہ خراب تھی اللہ تعالی فرما رہا تھا ایک زمانہ آئے گا یہ چھوڑ دی جائے گی اس کی کوئی اہمیت نہیں بچے گی نہیں سار یہاں جائیگی ہوائی جہاز جس دی گئی ہو شرط جبکہ جانور اکٹھے کیے جائیں گے یہ ہے اور دیے جائیں گے اور سمندر کا سفر بڑے بڑے بحری جہاز وہ سب کا سب سے بڑا ہے مفہوم لائے جائیں گے دیکھ رہے ہیں کہ یہ پروگرام پیش کر رہے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں اس نا جا رہا ہے یہ ہر ایک تفصیل جب کے زندہ درگور کی جانے والی لڑکی کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ کیوں اس کو دور کیا جارہا ہے آج ہمارے انڈیا میں بہت بڑا مسئلہ پروانہ تھا کہ الٹراساؤنڈ کے ذریعے اگر پتہ چل جائے ہے اس کے اوپر کی جاتی ہے یہ آج سے چودہ سو سال پہلے اللہ تعالی نے بتا دیا تھا اور میں نے تو پتھروں پہ چل پڑے پر ہڈیوں پر قرآن مجید لکھا جا رہا تھا اللہ تعالی اس وقت بتا رہا تھا کہ اتنا زیادہ اس وقت بارات اور رسائی چھپ جائیں گے کہ خدا رکھتے چلے گئےاتنے زیادہ گناہ بڑھ جائیں گے کیا جا رہا ہو گا لیکن اس وقت ایک نظام ہوگا جماعت احمدیہ جو بہت ہی قریب ہوتا یہ تو کچھ پیش ہوئی تھی اور بھی تھی لیکن اسی زمین میں ایک بات اور ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے ایک بات کہی وہ از شمس کورت جب کہ سورج کی روشنی کو ڈھانپ دیا جائے گا مطلب یہ ہے کہ مسلمان آپ کی تعلیمات کو چھوڑ دیں گے اور آخر میں یہ بتایا جا رہا ہے جنت الفردوس ایک نظام ایک جماعت ایک الوسیط کا نظام یا ایسے ہوں گے جو کہ جنت کے سے قریب کرنے والے انسان کے لیے ہوں گے وہ اس کے اندر پیش کی گئی آپ جب اس کی مزید تفصیل ہم دیکھتے ہیں قرآن مجید کی پہلی سورت ہے سورہ فاتحہ اس کے آخری دو آیات میں اللہ تعالی فرماتا ہے مسلمانوں کو دعا سکھا رہا ہے یہ دعا بھی ہے اور اس میں کوئی بھی ہے کہ اھدنا الصراط المستقیم اے اللہ ہم کو سیدھے رستے پر چلانا صراط الذین انعمت علیہ کے رستے پر جو ہونے والے ہیں جن کے اوپر تیری نعمتیں نازل ہوئیں اور آگے غیرالمغضوب ان لوگوں کے رستے پہ نہ چلانا جو مغضوب جو کہ جن کے اوپر تیرا غضب نازل ہو گیا اور جو گمراہ ہوں گے ان کے رستے پہ ہم کو نہیں چلانا اب اس کے اندر ایک بہت بڑی پیشگوئی ہے مکہ میں یہ سورت نازل ہوئی اور اس کے اندر یہ پیشگوئی سکھائی جا رہی تھی کہ ہم ہیں جن پر تیرا غضب نہیں نازل ہوا ہمیں ان کے رستے پہ چلانا انا تو مکہ میں تو سوتی ہوں تھے ہی نہیں اور عیسائی برائے نام تھے اصل میں یہ پیش گوئی تھی مسلمانوں کے لیے کہ الرسول پہنا چل پڑا جن پر وہ یہودی چلے جن پر اللہ تعالی کا عذاب نازل ہوا یا وہ نصاریٰ جو کہ مسیح علیہ السلام کی تعلیم سے الگ ہو کر گمراہ ہو گئے اور خود رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے ایک دفعہ پوچھا یہ مغضوب علیھم ہی کام تو حضور پاک صل وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ لوگ جو کہ نثار حکمراں ہو گئے اس راستے سے ہٹ گئے اب وہ اس پر غور کرتے ہیں ہیں کہ یہ مغضوب علیھم یہود بنی کیسے تو اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ہمیں یہ بات سمجھ آتا ہے ان الذین کفروا من بنی اسرائیل سعودی عرب اور اسرائیل میں کیا وہ داود کی زبان کے ذریعہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کے ذریعہ لعنت کیے گئے یہ ان کے نافرمان ہو جانے کے سبب اور اس سبب سے ہوا کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں یہاں پر یہ دعا سکھائی گئی تھی مسلمانوں کو کہ مغصوب علیہ بننے سے اللہ کی پناہ مانگنا چل پڑھنا جس میں یہودی مسیح علیہ السلام کی تکفیر تکذیب تعزیت کر کے موضوع لا الہ اللہ کی نگاہ میں قرار دیے گئے اس طرح نہیں چلنا چاہیے کلین کے رستے پر نہیں چلتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھائی گئی اس کا یہی منشا تھا کہ جیسے یہودیوں نے حضرت مسیح کا انکار کرکے خدا کا انکار کرکے خدا کا غضب مارا تھا اسی لیے اول ہیں ان کو پیش گوئی کی تلاوت دی گئی کہ سعید روحیں بچائے اللہ تعالی نے جب سے ان کو حضور صاحب آرہے تھے شرک سے بچنے کی دعا نہیں سکھائی جو کہ اس کا خطرہ نہیں تھا جو خطرہ تھا وہ مخدوم اور والدین بننے کا تھا تھاالسلام علیکم ٹھیک ہو گئے ہیں وہ اب اس دنیا میں واپس نہیں آئیں گے جس مسیح کے آنے کی خبر تھی مسئلہ مسیح کے آنے کی خبر دی گئی تھی اس سے مراد آپ ہے اور اللہ نے الہام فرمایا کہ مسیح بن مریم کے ہم نے تجھے مسیح مریم بنایا ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو گروہ بن گئے ایک وہ جب انہوں نے اعلان سنا اور کہ اس میں نہ آتا نہ کہ ہم جو آپ کہہ رہے ہیں ہم اس کو سنتے ہیں آپ نے انکار کیا اور مغضوب علیھم کے زمرے میں چلے گئے اور یہ بات سیدنا محمد مصطفی صل وسلم نے بھی بتائی تھی کہ میری امت پر نہیں آتی علی بن الحسن بن علی بن المدینی سے جوتی جوتی سے مشابہت رکھتی ہے ایسے ان کے ساتھ پچھلی قوم یہود کے ساتھ مشاورت کریں گے آج جماعت احمدیہ ان کی تکذیب اور تعذیب کی جارہی ہے دنیا میں وہ لوگ سمجھ لیں کہ وہ مخدوم علی حسن کے رستوں پر چل رہے ہیں وہ اولین کے رستے پر جارہا ہے اور یہ اللہ تعالی کے سامنے کہی تھی لاک کھولنا لاہور صراط المستقیم کے تیرے صراط مستقیم پر بیچ میں بیٹھ جاؤنگا مستقیم پر چلنے نہیں دوں گا آج صورتحال یہ ہے کہ یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کر کے بالکل وہ اختیار کر رہے ہیں جو کہ یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تکذیب کر کے اور وہاں پر لعنت کمائی تھی جس کا ہر مسلمان اشارہ فرمایا بیلے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر کرکے اپنے آپ کو مغلوب کے دور میں داخل کیا اور یہ حالات دنیا کے سامنے ہیں کہ جو مخصوصا اور وہ بالکل درست ہے وہ ان کے پاس ہے تاہم لیا ہے اور جماعت احمدیہ اللہ تعالی کے فضل سے روز روز اس کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے یہ وہم علیہ وسلم کا گروہ ہے جن کے اوپر اللہ تعالی کا نام ہے اور وہ دعا سکھائی گئی تھی کہ دین صراط المستقیم اے اللہ ہمیں سیدھے راستے پر رکھے اور یہ بات سوچنے کی ہے کہ صراط المستقیم تہتر فرقوں میں بٹا ہوا تو صرف مستقبل نہیں ہوگا na69 فرقوں میں لطف طارق نہ امتیازی سلوک کرتا کے ایک ہی جنتی ہو کر راہ راست پر ہو گا صراط مستقیم ہوگا وہ جس کی بنیاد اللہ تعالی کے حکم سے رکھی جائے گی اور وہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام علیکم مصطفی کی سطح ثانیہ کا مظہر ہے اللہ تعالی نے آپ کو امتی نبی امتی رسول بنایا ہے چاہے کوئی بات کو مانیں یا نہ مانیں لیکن انکار کرکے مسلمان ضرور ہے اور تعلیم کے دورے پر جا رہے ہیں لیکن ان کو مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں ایک بات میں کہتا ہوں حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا اور بڑے دس سے فرمایا سب سے میری طرف ایسی خیر سب سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے آئندہ ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار میں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ان مسلمانوں کو خاص طور پر جو ہمارے عوام الناس ہے ان کو اور علماء کے چنگل سے نکالے جن کے بارے میں رسول پاک نے فرمایا اور منتخب فرمایا نہیں خوں علامتیں العلم والمال ہوں کہ میری امت کہیں ان کے راستے پر چل پڑے تو آج جس امتحان سے امت محمدی آ رہی ہے ہم بڑے در صحیح کہتے ہیں جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف آؤ سچائی کی طرف آؤ دعا کرکے آؤ اوراجزاء ناظرین اب کچھ ٹیلی فون کالز کا پروگرام میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں سب سے پہلے میں بات کرنا چاہوں گا انڈیا سے قریشی عبدالحکیم صاحب سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کریم صاحب السلام علیکم ساری دنیا کوئی بچہ دے رہے ہیں اور اللہ تعالی فرماتا ہے فرمایا ہر آیت میں جس احمد علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں یہاں پر آپ کے ملک میں آنے والے تمام ٹیم بہت مہربانی فرمائیں کہ میرا امام مہدی مجروح ہو جائے گا اور اسے ایک رات میں عربی زبان کے چالیس ہزار جا سکے گا مثال کے طور پر میں اللہ تعالی سے زیادہ اکثر ہم تک پہنچ گیا ہے درخواست کروں گا محترم مولانا مفتی محمد حسن صاحب سے ان کے سوال کے جواب دے دیں گے تو نے پیش کی ہے اس وقت میرے سامنے ہے سورۃ یوسف کی آیت نمبر 7 ہے یہ اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی زبانی یہ بشارت دی گئی ہے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے وہ رسول حضرت علی علیہ الصلاۃ والسلام نے بشارت دی ایک ایسے رسول فرمایا رسول آیا تو لوگوں نے اس کرتے ہوئے ہر مدینہ تو اس میں جو لفظ احمد استعمال ہوا ہے اس کے تعلق سے قریشی عبدالحکیم صاحب نے یہ سوال پوچھا ہے کہ اس سے ملا محمد عمر علیہ السلام کے سلسلے میں عرض ہے کہ ہم ہی مراد ہے لیکن بالواسطہ طور پر اس سے جماعت احمدیہ حضرت امام مہدی علیہ السلام بھی ہے دراصل یہ ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن مجید میں دو طرح کی صفات بیان ہوئی ہے موسی علیہ السلام نے اپنی کتب میں اس پر روشنی ڈالی ہے ہے ہے اور دوسری صفت ہے جو علی سے الفت کی طرف حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد جو ہے وہ اشارہ کرتا ہے اور احمد جو نام ہے اس میں دراصل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جمالیات کے ظہور کا ذکر کیا گیا جو اعلیٰ امام مہدی اور مسیح موعود تھا جس میں صدی میں آنا تھا جس کو بھی موت نے جمالی صفت کے ظہور کے لئے دنیا نیوز والا جانتے ہیں کبھی صاحب کی بھی اجازت دی گئی لڑائی بھی لڑی گئی اور اسی لیے صحابہ کو راشدہ والکفار بھی کہا گیا لیکن آخری زمانے میں جس محمود کی بشارت دی گئی اس نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جمالی صفت ہے کرنا تھا اور اسی لئے پیش گوئیوں میں یہ بات بھی موجود تھی کہ وہ جو بھی امام ہیں جو آئے گا وہ دنیا سے لڑائیوں کو صالح لڑائیوں کو ختم کرے گا جو احمد کا لفظ قرآن مجید کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے مراد ہے اس کا ذکر کرنا تھا اس سلسلہ میں مختصر نوٹ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے تفسیر صغیر کے نیچے دیا ہے وہ بھی پیش کر کے میں آپ کو ختم کروں گا حضور فرماتے ہیں اسی آیت کے تعلق سے کہ اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہے جو انجیل برناباس میں لکھی ہوئی ہے مگر یہ آپ کی لائبریری میں پائی جاتی ہے ہے ہے ہے کہ مروجہبے ہیں یہ اگلا جملہ غور کے قابل ہے اور فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بلاواسطہ اور آپ کے ایک بروز کی جس کا ذکر اگلی سورت میں ہے بالواسطہ خبر دی گئی ہے چنانچہ اس سورت کے بعد سورج ماں ہے اور اس میں بعث فی الامیین رسولا منہم یتلو علیہم و لا الہ الا اللہ ذکر آیا اور تو خلاصہ کلام یہ کہ اس لفظ میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ہے اٹلی فون کالز کو اپنے پروگرام میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ بات کرنا چاہوں گا بنگلہ دیش سے محترم عارف زمان صاحب سے سلام علیکم ورحمۃ اللہ اللہ اللہ کے نظریات قرآن کریم کا بنیادی تعلیم کیا ہے کے لئے یہ کافی ہے جی ٹھیک ہے جزاک اللہ تعالی جزا کا سوال ہم تک پہنچ گیا ہے میں محترم مولانا محمد انور صاحب خان کے سوال کے جواب دے دیں  Zee2 جید کی تعلیمات کیا ہے یہ تو قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ آئی ہے اگلے ایک سوال میں بھی اس کا کسی حد تک جواب آجائے گا اس سے پہلے جتنی بھی شریعت تھی یا دینی کتابیں تھی وہ ساری کی ساری محرم بدل ہو چکے تھے یعنی وہ کلیاں تبدیل ہوچکی ہوئی تھی اور قرآن مجید کی یا اس سے پہلے جتنے بھی مصحف تھے اور مذہبی کتابیں تھیں اصل میں سب کی ایک بنیادی تعلیم یہ تھی کہ ایک اللہ کی عبادت کرو تم اس کے بندے ہو اور اس کی عبادت کرو لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ یہ ساری دینی کتابیں تصویریں کے ساری تبدیل ہوئی اور اس کے اندر نہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کون سا اللہ کا کلام ہے کون سا انسان ملا دیا ہے اور ہر ایک نے اس کو اپنی مرضی کے مطابق بنایا لیکن قرآن مجید کی یہ خصوصیت تھی کہ یہ قرآن مجید کے بارے میں اللہ تعالی نے خود یہ وعدہ کیا تھا انانحن نزلناالذکر وانالہ لحافظون کہ ہم نے ہی اس کو اتارا ہے ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے اللہ تعالی کی حفاظت نہ ہوتی تو ان مولویوں نے تو اس کا پتہ نہیں کیا کیا حشر بنا دینا تھا جو تفسیروں میں آج ہم کو ملتا ہے بعض دفعہ اسی تو پڑھ کر بعض آیات کی تفسیر جوان لڑکی ہے شرم محسوس ہوتی ہے یہ تو اللہ تعالی کا وعدہ تھا کہ اس نے اپنے کلمات کو آج تک محفوظ رکھا اور قیامت تک محفوظ رکھا کو پڑھیں اس کے اوپر تدبر کریں قرآن مجید نے تین چار لفظ کے لیے استعمال کیا ہے یے افلا عقل سے کام لینا یہ اس کو بار بار پڑھنا اور اس کو سمجھ کر پڑھنا اور پھر یہ اپنے دل و دماغ کو سمجھانا کہ یہ اللہ تعالی کا ایک پیغام ہے مسجد جائے جو میرے لئے آیا ہوا ہے مجھے اس کے اوپر عمل کرنا ہے اور اپنی اخروی زندگی کو بات کی زندگی کو کامیاب بنا لیا ہے قرآن مجید دو باتیں کہتا ہے کہ ایک تو یہ دنیاوی زندگی ہے اس کو کامیاب بنانے کے لیے اور اس سے بڑھ کر آخرت کی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے اور اللہ تعالی نے ہر دعا سکھائی ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ آتا رہتا تا کہ ہم کو اس دنیا کی بھی حیثیت دیں اور آخرت کی بھی دے اور قرآن مجید کو تجوید سے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہیں ہیں اللہ تعالی کی رضا حاصل ہوتی ہے اور دونوں جہانوں کی فلاح ایک انسان کے حصے میں آتی ہے اللہ تعالی سجدہ پروگرام کو آگے بڑھانا چاہوں گا اور میں محترم مولانا مجیب الرحمن صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ قرآن مجید کی تعلیمات ایسی ہے جو انسان کو بااخلاق بناتے ہیں اخلاق فضل کے متعلق کرنے کے لئے کیا تعلیمات اس پر روشنی ڈالنے کی درخواست کیاللہ تعالی نے قرآن مجید میں تمام تعلیمات کے حوالے سے اور جتنے بھی تعلیمات اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے اس سورہ میں ایک آیت اللہ تعالی نے نازل فرمائی ہے جس میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ علوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا تو لکم دینکم تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کیا واتممت علیکم نعمتی اور اپنی نعمت کو مکمل کیا پورا کیا اور زیتون کو اسلام اور تمہارے لئے میں نے اس بات کا ذکر فرمایا اور قرآن مجید کا یہ دعوہ ہے اس آیت میں کہ جس قدر بھی تعلیمات کی انسان کو قیامت تک ضرورت ہے قرآن مجید میں بیان فرمائی تھے ابھی جو عارف صاحب عارف زمان صاحب یہ سوال پوچھ رہے تھے تو اس ضمن میں وہ اس آیت پر غور کر کے دیکھ لیں اس آیت میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا ہے کہ کافی اور شافی تعلیمات ہر چیز کے بارے میں چاہے وہ جو بھی شعبہ زندگی ہو چاہے انسان کی کسی بھی شعبہ زندگی سے اس کا تعلق ہے اس نے بیان فرمائی اخلاق کے تعلق سے قرآن مجید کی تعلیمات ہے اخلاق فاضلہ کے تعلق سے اس سے بھی قرآن مجید میں بے شمار آیات ہیں اور پورا قرآن مجید بھرا ہوا اور اس کے نتیجے میں انسان جو ہے وہ انسان بنتا ہے انسان بننے کے بعد پھر وہ بااخلاق انسان بنتا ہے باہر انسان بنتا ہے ہے ہے کی تعلیمات پر کماحقہٗ انسان ایک وحشی کی حالت میں بھی اگر وہ ہے تو درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے ان تعلیمات کے نتیجے میں وہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جس کو ہم خدا نما کام کر سکتے ہیں ایسا ہو ہو سکتا ہے جس کو دیکھ کر انسان کو خدا یاد آجائے اس حوالے سے میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ جب قرآن مجید کا نزول ہوا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اس وقت جو عرب کے حالات تھے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کھینچا اللہ تعالی نے فرمایا ظہر الفساد فی البر کے بارے میں یہ بھی بیان فرمایا کہ ان کے وہ لوگ تو ایسے تھے کہ گویا کہ وحشی تھے حیوان تھے ان کو وہ انسان کہلانے کے بھی قابل نہیں تھے بلکہ اس سے بھی گئی گزری حالت میں تھی یہ حالات میں ان کے اخلاقی لحاظ سے اسے روحانیت تو دور کا مقام ہے جسے ان کو اللہ تعالی نے کل انعام قرار دیا لیکن قرآن مجید کی شریعت کے نتیجے میں جو انقلاب پیدا ہوا ہے وہ بھی ظاہر و باہر ہے اور دنیا کے سامنے ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے عربی منظوم کلام میں اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان علاقوں میں خفیہ معلومات حصول تاروں کا سوال ہے کہ یہ حالت تھی کہ قوم کی کی وہ دو چیزوں میں اندھی ہوگئی تھی ایک تو شراب نوشی اور دوسری عورت کی عدت دوسری جگہ اسی قصیدے میں حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کانوں کا مسح فساد بھی جہنم بھی ایسے تھے کہ وہ بے وقوفی سے فساد کے خلاف تھے میرے قتل پر خوش ہوتے تھے جب یہ ایسی صفات ہیں جو حیوانوں کے اندر ہوتی ہے اور وہی بات جو اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کل انعام میں بیان فرمائی ہے جو ان کے اندر موجود تھی آداب زندگی کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ وہ مقام نہ کرو سندریفلم تو نے ان کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ گوبر کی طرح ذلیل تھے لیکن ان کو سونے کی ڈلی کی مالک بنا دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ نے جو یہ عظیم الشان انقلاب ان کے اندر پیدا کیا ہے وہ آداب زندگی ان کے اندر پیدا کرنے کے حوالے سے ہو چاہے ان کے اندر اخلاق فاضلہ پیدا کرنے کے حوالے سے ہو یا ان کا روحانیت کا معیار بہت اونچا اور بالا کرنے کے حوالے سے ہوں کہ سارے کا سارا عظیم الشان انقلاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی تعلیمات کے ذریعے قرآن مجید میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی انقلاب میں پیدا فرمائے ہیں بے شمار تعلیمات اخلاق کے حوالے سے جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے سچائی امانتداری ہے احسان اقرا والدین کے ساتھ حسن سلوک غرباء کی دیکھ بھال بھوکوں کو کھانا کھلانا یہ ٹیموں کے ساتھ ہمسایوں کے ساتھ ماتحتوں کے ساتھ مسافروں کے ساتھ حسن سلوک ہے عہد کی پاسداری ہے بے شمار تعلیمات ہیں جو صرف اور صرف اخلاق کے حوالے سے اللہ تعالی نے قرآن مجید نے بیان فرمائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں جگہ کہ قرآن مجید کی تعلیمات ایسی ہیں کہ سات دن میں ایک انسان کو ولیوں کی طرح بنا سکتی ہے کتنی بھی پستی کا شکار ہو ایک انسان کو اتنی گری ہوئی حالت میں کیوں نہ ہو جیسا کہ قرآن مجید میں بھی آیا کہ ایسی حالت ہو انسان کی لیکن اگر وہ قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے والا بن جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ سات دن میں وہ ولیم کی طرح بن سکتا ہے وہ سکتا ہے اس کے اندر ہے اور پھر روحانیت کے اعلیٰ مقام حاصل ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلامی اصول کی فلاسفی میں بڑے ہیں شرارت کے طور پر روشنی ڈالی ہے انسان کی طبعی حالت ہے پھر اخلاقی حالت میں اور روحانی حالت ہے کیا ہے پھر میں کیسے غیر پیدا ہوتا ہے اور قرآن مجید نے اس کے تعلق سے کیا تعلیمات بیان کی ہیں وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے فرمایا یا علیہ السلام نے فرمایا کہ جس طرح نفس امارہ نفس لوامہ اور نفس کے 330 میں ہے آتش میں ہے اسی طرح ہے جیسے ہوتے ہیں ان کو شادی بیاہ کے طریقہ تو یہ ساری چیزیں سکھانا یہ بھی حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ ہے کہ جب ادبی زندگی سے تنگ آکر اس کے اندر جتنے بھی خواب آیا جاتے ہیں ان کو برمحل اور بر موقع استعمال کرنا سکھانا یہ قرآن مجید کی دوسری اصطلاح لاہور تیسری اصطلاح حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو باخلاق انسان بن جاتا ہے اس کو روحانیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچانا اور اللہ تعالی کی محبت کا اور اس کی اس کے وصال کا مزہ اس کو کھانا یہ تیسری قسم کی اصلاح قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ یہی خلاصہ ہے قرآن مجید کی جتنی بھی اصلاحات ہے انسان کی اصلاح کے حوالے سے بیان فرمائی ہیں یہ تین اصول میں بیان کی گئی پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ قرآن مجید میں اخلاق کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں وہ ہے جن کا تعلق ترک شہر سے ان کو ترک کرنا اور دوسری قسم اخلاقی وہ ہے جن کا تعلق احسان خیر سے ہے یا نہیں بھلائی پہنچانا سے تعلق رکھنے والے والی والے اخلاق وہ ہے جن کے نتیجے میں جن کو اختیار کرکے انسان اپنے ہاتھ سے اپنی زبان سے یاپکچر کے حوالے سے بھی اس الخیر کے حوالے سے بھی ترک کر کے حوالے سے حضور نے فرمایا کہ ایک ملک ہے احسان جس کا مطلب ہے پاکدامنی پاک دامن رہنا اور اس کے تعلق سے قرآن مجید کی تعلیم ہے کل للمومنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم کہ وہ اپنی نظروں کو نیچے جھکا ہے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرے ترک کرکے صرف اور اخلاق جو ہے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں شور ہے پھر امانت و دیانت کی تعلیم اللہ تعالی نے قرآن مجید نے دی اور اس نے ترقی اشاریہ ہے ترک شہر کے اخلاق میں حضور نے ان کو بیان فرمایا اور جان کو بیان فرمایا اور اس نے ترک شہری حضور نے بیان فرمایا کہ کسی سے کسی کے مال کو نقصان سے بچانا یہ امانت داری قرآن مجید کی آیات حضور نے بیان فرمائی آیا تو انھوں نے اس ضمن میں فرمایا پھر اس الخیر کے حوالے سے بھی مختلف آیات قرآن مجید کی حضور علیہ السلام نے بیان فرمائی اور یہ ساری کی ساری تعلیمات جو ہے وہ تعلیمات ہیں جو قرآن مجید نے اخلاق کے حوالے سے بیان فرمائے آخر میں کیوں توڑا ہے زیادہ ملنا نہیں کر سکتے حضرت مسیح علیہ السلام کا کہ اس ضمن میں پیش کر کے اپنی بات کو ختم کرنا چاہوں گا حضور فرماتے ہیں یہ قرآن نے ہی دنیا پر احسان کیا ہے کہ طبی حالت اور اخلاق فاضلہ میں فرق کر کے دکھایا حالت سے نکال کر اخلاق فاضلہ کہ لیا گیا تو پھر کفایت نہ کی بلکہ اور مرحلہ جو باقی تھا یا روحانی حالتوں کا مقام تک پہنچنے کے لئے پاک معرفت کے دروازے کھول دئے اور نہ صرف پھول دیئے بلکہ لاکھوں انسانوں کو اس تک پہنچا بھی دیا اور اس طرح پر تین قسم کی تعلیم میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کمال خوبی سے بیان فرمائیں مائی پشتو کے تمام طالب علموں کا جن پر دینی تربیت کی ضرورتوں کا مدار ہے کامل طور پر جامعہ ہے اس لئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ میرے دائرے دینی تعلیم کو کمال تک پہنچایا جیسا کہ وہ فرماتا ہے الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مضمون کو بیان فرمایا ہے تو خلاصہ یہ کہ بےشمار تعلیمات ہیں آخر میں نہ صرف اخلاق فاضلہ کے تعلق سے ان کے تعلق سے بھی اخلاقی حالت میں کے تعلق سے بھی اور روحانی حالتوں کے تعلق سے بھی اور دیگر جائے قرآن مجید کی تعلیمات انسان کو روحانیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچاتی ہو جاتی ہیں جیسا کہ خدا اور خدا نما انسان بناتے ہیں اللہ تعالی سے زیادہ پروگرام کو آگے بڑھاتا ہوں محترم مولانا محمد امیر خسرو سب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ قرآن مجید کی تعلیمات ایسی ہیں کہ اگر کوئی انسان پر عمل کرے تو اللہ تعالی کو حاصل کرسکتا ہے اور وہ بھی اس کی ترغیب دلاتا ہے تو معرفت الہی کے متعلق قرآن کریم کی کیا تعلیمات پہ تعلیمات اس پر روشنی ڈالنے کی درخواست ہے آپ سے سے معرفت الہی معرفت کیسے کس کو کہتے ہیں اللہ کو پہچاننا عارفہ کا مطلب ہے کہ کا مطلب ہے اس کو پہچانا ہے ہے اگر آپ کہیں کہ صرف قرآن مجید سے پہچان لے گا تو یہ قرآن مجید کی اپنی ہی تعلیم کے خلاف ہوگا کیونکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا علم الکتاب و الحکمہ  کہ وہ ان کو کتاب سے کھاتا ہے اور حکم سکھاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہادت القرآن میں بیان فرماتے ہیں اگر معلم قرآن کی ضرورت نہ ہوتی تو اللہ تعالی تو اس کو ویسا ہی اتار سکتا تھا درختوں پر اتار سکتا تھا اور کسی طریقہ سے اتار سکتا تھا لیکن اللہ تعالی نے قرآن مجید کو اتارا اور اس کے ساتھ معلم قرآن مجید کو اتارا اور اس نے آ کر بتایا کہ اللہ تعالی کی معرفت انسان کیسے حاصل کر سکتا ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہ مضمون کی آیتیں ہیں وہ علم الکتاب والحکمہ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اور قرآنی حکمت لوگوں کو سکھاتے ہیں پھر ایک جگہ اور فرماتا ہے البتہ روضۃ القرآن کے حقائق حقائق ہیں جو پارک کیے جاتےہیںجس کو خدائے واحد اپنے ہاتھ سے پاک کرتا ہے سب سے پہلے اگر معرفت حاصل کرنی ہے تو معلم کی تلاش کرے جو قرآن کریم کا اظہار کو سکھائے اب اس زمانے میں حضرت فرماتے ہیں اس زمانے میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا جو کہ وہاں آخرین منھم لما یلحقو بھم سات اور موت ہے وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے ہے ایک معلم علم ہوتا ہے یا اسم علم کے خلفاء کے پاس خلیفہ وقت کے پاس آنا ہوگا وہی قرآن کریم کی سچی معرفت سکتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شروع میں جو آپ نے بتایا کہ قرآن مجید کی شاعری صفحات ہیں جو قرآن مجید نے ابتدا میں سورہ فاتحہ میں بیان کی ہے اور وہ سب سے پہلے اس کا اسم ذات پھر اس کی صفت رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین یہ امت صفات ہیں جب اس کا ادراک ایک انسان کو ہوتا ہے وہ خود بخود یہ کہتا ہے تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ایک تو اللہ تعالی نے اس سے متعارف کروایا جب یہ آیت اتری ہوئی اللہ تعالی کی وحدانیت دنیا میں نہیں جانتا تھا کہ القاعدہ اور طالبان جیسے ماں چھوٹے بچے کو سکھاتی ہے کہ دو کہ میں تیری ماں ہوں تو مجھ سے مانگ باپ سکھاتا ہے اس کو اللہ نے ہی اس کو سکھایا کہ تو کیا ہے تیری عزت کرتا ہوں تو چاہتا ہوں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب کے حوالے سے یہ سب کو سمجھا ہے اب اس سے اگلی بات عصر حاضر میں حضرت ناصر الدین رازی جو خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں وہ سارے کے سارے اللہ تعالی کی معرفت کے لئے شروع میں پہلے خلیفہ کون صحابی نے پھر حضور اللہ تعالی کے صفات الہیہ کے تعلق سے بہت سے خطبہ سماعت فرمائیے اگر اس کو صحیح طور پر انسان پڑے تب بھی وہ اللہ تعالی تک پہنچ سکتا ہے موجودہ دور میں مثال کے طور پر حضور فرماتے ہیں کروگے تو کھاں گیا مثال کے طور پر کل حضور اللہ تعالی علیہ وسلم کا خطبہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں تھا کی گہرائی کو سمجھے قرآن مجید کی تعلیمات کو سمجھیں تو آکر قوم کو تباہ کرکے رکھ دیا اور جن سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی مثالیں دیکھے بتایا کہ قرآن مجید کے ابتدا میں 17 آیات میں بھی یہ بات بتائی گئی ہے کہ المتقین فی تاریخ منافقوں کے بعد کو نقصان پہنچایا ہے آئندہ جماعت احمدیہ کو اس سے بہت ہی خبردار رہنا ہوگا اور باخبر رہنا ہوگا کہ منافقتوں کی صفوں میں ملائیں اور جب ایک انسان خلیفہ وقت کے خطبہ سنت ہے اور اس کی ایک بات کرتا ہوں بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے خطبہ دیتے ہیں یا آج کل حضور کے لائیو پروگرام آن لائن آتے ہیں ایک امت واحدہ کیسے بن سکتے ہیں کو پکڑ کر سکتے ہیں مولانا ظفر کو تو انسان کے دل کی حالت پہ چل رہی ہے میں اللہ تعالی تک کیسے پہنچ سکتا ہوں اور میرے دل میں یہ خوبصورت سے اٹھتے ہی ہو سکتے ہیںآصف فصیح کے خاموش ہے یہاں کے ہمارے مولانا عطاءالمجیب صاحب ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ یہ ان کی مجلس میں پڑھتے ہیں وہ جب بھی کرتے ہیں ہم بھی پڑھتےہیں ہیں خیرات بھی کرتے ہیں مگر اپنے رشتے داروں سے وہ کہنے لگے میں یہ سمجھا کہ یہ میرے لئے کہ حضور میرے اختلافات اپنے بھائی کے ساتھ اور یہ دل کی بات جب حضور نے کی وہ اسی وقت میں بات کرلیں تو یہ حد شکریہ نفس اس کے بعد ہوتی ہے اور وہ غوث کہ خلیفہ المسیح کے خطابات اور خطبہ سننے اور دعا کرنے سے جزاکم اللہ تعالی سے زیادہ احساس پروگرام کا اخبار مولانا عطاءالمجیب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور اسلام کے روشن مستقبل کے متعلق قرآن کریم میں کیا پیش گوئیاں ہیں ان کا ذکر فرمانے کی درخواست ہے آپ سے ہم نے آپ کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ زمانہ جس میں اسلام کی نشر ہوئی جس میں تھے ہو اور اس نے فرمایا ایک ہزار سال کا زمانہ ہے ہوئی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھی اسی زمانے میں اسی زمانے کے آخر میں ایسا زمانہ بھی آئے گا الناس زمان لا یبقیٰ من الاسلام حضرت علامہ ابن اللہ دا علماء مشرف کا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن مجید کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے اس کا مفہوم ہے اس کا مطلب ہے وہ دلوں میں موجود نہیں ہوں گے مساجدہم عامرۃ اور خراب ہوگی لیکن ہدایت سے خالی ہو گی علماءھم شر من تحت اور علما کی بھی بہتات ہوگئی کثرت کے ساتھ علمی دنیا میں موجود ہوں گے لیکن یہ علم اس زمانے کے علماء ایسے ہوں گے زمانے کی کا نقشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھینچا اور پھر آخری زمانے کے نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے تعلق سے بھی بچاتے بیان فرمائی اور فرمایا رضی اللہ تعالی عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا کہ اس زمانے میں اگر یہ بانسری یہ ستارے پر بھی چلا گیا ہوگا تو وہ اسے ایک شخصقرآن مجید کی آیت میں ذکر فرمائے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ایسا نبی مبعوث کیا امیوں میں سے جو ان کو قرآن مجید سکھاتا ہے ان کا تزکیہ کرتا ہے ان کو تعلیم دیتا ہے ان کی ہدایت کرتا ہے اگرچہ وہ پہلے گمراہی میں تھے اور پھر دوسری اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آخری آخری ایام میں بھی اس نبی کی بعثت ہوگی بروزی طور پر واقع امام مہدی اور مسیح موعود کی صورت میں امت نبی کی صورت میں وسلم کی بعثت ہوگی اور وہ زمانہ جو ہے وہ اسلام کا نشاط ثانیہ کا زمانہ ہوگا ایک بار پھر اسلام تنزل کے بعد پھر اٹھے گا اور اس کو ترقی حاصل ہو گی اور پھر اس ترقی کے بعد اس کو اللہ تعالی عظیم الشان ترقیات سے نوازے گا اس کا ذکر بھی قرآن مجید میں موجود ہے چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ہی سہی سورہ توبہ میں فرمایا اور سورۃ الصف میں بھی ایک موجود ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے جو حیراں ہوں الدین تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے چاہے پسند ہی کیوں نہ کرے تو یہ تمام ادیان پر غلبہ کی پیشگوئی جو ہے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں واضح طور پر آیت بیان فرمائی اور اس کا تعلق اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے ساتھ ہیں اور پھر ایک اور پیش کر کے بات کروں گا اس سال کے ساتھ اللہ تعالی نے فرمایا اور یہ دونوں لیرو نور الٰہی سے بھی اعلی درجے کی کیوں نہ ہو اور اللہ تعالی کے نور کو مٹانا چاہے وہ لیکن اللہ تعالی اپنے نور کو کامل کرتا رہے کر رہے گا پورا کرکے رہے گا اور اس نشاط ثانیہ کے زمانے میں بھی اسلام کو غلبہ عطا کرے گا اور اس زمانے میں بھی اسلامی دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جائے جزاکم اللہ تعالیٰ عنہ کا نام اسی کے ساتھ آج کے پروگرام کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے عزت پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پیش کرتا ہوں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ کتاب ہے جس نے اپنے عزم تو اپنی حکمت تو آپ نے صداقتوں اپنی بلاک تو اپنے لطائف نقاط اپنے روحانی کا آپ دعویٰ کیا ہے اور اپنا بے نظیر ہونا ظاہر فرما دیا ہے یہ بات ہرگز نہیں کہ صرف مسلمانوں نے فقط اپنے خیال میں اس کی خوبیوں کو قرار دے دیا ہے بلکہ وہ خود اپنی خوبیوں اور اپنے کمالات کو بیان فرماتا ہے اور اپنے مسلمان دو نا تمام مخلوقات کے مقابلہ پر پیش کر رہا ہے اور بلند آواز حل مہارت کا نقارہ بجا رہا ہے اور قائد اس کے صرف دو تین نہیں جس میں کوئی نادان شخص بھی کرے بلکہ اس آیت سے بحرذخار کی طرح جوش مار رہے ہیں اور آسمان کے ستاروں کی طرح جہاں نظر ڈالو چمکتے نظر آتے ہیں کوئی صداقت نہیں جو اس سے باہر ہوں کوئی حکومت نہیں جو اس کی ماہیت بیان سے رہ گئی ہو کوئی نور نہیں جو اس کی متابعت سے نہ ملتا ہو براہین احمدیہ صفحہ نمبر 640 انگرام قادیان دارالامان سے پروگرام پر مشتمل تھی آج اس کا تھا اور اس اختتام پذیر ہوتی ہے اگلے 4 اپیسوڈ سکسی اسٹوڈیو سے لائیو رہو گے چار پر مشتمل میں حاضر ہونے کی اجازت چاہتے ہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہلعنت تمہارے تارۃ صلیب کا بتایا ہم نے

 45 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: