Rah-e-Huda – Quran aor Muslim Scientists




Rah-e-Huda – Quran aor Muslim Scientists

راہ ھدیٰ۔ قرآن اور مسلمان سائنسدان

Rah-e-Huda | 27th February 2021

تیرے مسلمانوں کا دیں دل سے ہے خدا میں ختم المرسلیں ہے خدا میں ختم المرسلیں امن بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج 27 فروری دو ہزار اکّیس ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے ہیں اور زرین یہ پروگرام رہے خدا کا قادیانیوں سے پروگرام کی دوسری جماعت کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اس کا آج یہ تیسرا ایپیسوڈ ہے جو اس وقت ہم ٹی وی کے ذریعے آپ کی خدمت میں نشر کر رہے ہیں ناظرین کرام جانتے ہیں کہ پروگرام راہ خدا ایکشن پروگرام ہے جس میں ہم اسلامی تعلیمات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں اور اپنی گفتگو میں بھی شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ پروگرام کے ٹو پروگرام ہے اور اسی وجہ سے ہم اس پروگرام کو آپ کی خدمت پر لائیو بھی پیش کرتے ہیں ہم اپنی گفتگو کے دوران اپنے مجاہدین کو بھی اس پروگرام میں ٹیلی فون لائنز کے ذریعے شامل کرتے ہیں اس کے علاوہ ٹیکس میں سود کی رقم سے جی ایس ایم ایس کیا ہے ہے اس سے سوالات کے جوابات بھی اسی پروگرام کے ذریعے سے پیش کئے جاتے ہیں میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت اپنے ٹیلی ویژن سکرین پر حملہ ہم سے رابطہ کی تفصیل کو ملاحظہ فرما رہے ہوں گے دارالامان پروگرام رابطہ کیجئے سیریز ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ہمارے لیے بھی وہ جانتے ہیں کہ مکمل سیریز میں ہم قرآن مجید جو کہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس کے حوالے سے بات کر رہے ہیں اس کی کیا ضرورت ہے اور اس کی تعلیمات بیان کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کر سکتا ہے یعنی خدا تعالی کو شناخت کر سکتا ہے اور اس کے قرب حاصل کرسکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی کامل معرفت اس کو نصیب ہو سکتی ہے اس حوالے سے تفصیلی اس پروگرام کی جاسوسی کر رہے ہیں جس میں ہم بات کریں گے کہ کس طرح قرآن مجید کی تعلیمات پر پر عمل کرتے ہوئے انسان روحانی اعتبار سے بھی اور دنیاوی اعتبار سے بھی ترقی کر سکتا ہے آج کے اس اہم موضوع پر گفتگو کے لیے علماء کرام اس وقت ہمارے ساتھ دیں اس میں تشریف رکھتے ہیں ان کا تعارف کروا دیتا ہوں محترم مولانا محمد زکریا صاحب شاہد ہیں اور ان کے ساتھ رکھتے ہیں مکرم و محترم مولانا ضیاء الدین صاحب حامد 2007 پروگرام راہداری قادیانی سیریز کے پرانے اور اگلے ہی دن کا پروگرام پر حتمی فیصلہ کرتا ہوں نام قرآن مجید کے حقائق اور معروف اور اس کے روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہونے کے لیے انسان کا پاکیزگی کی کل اور اسی طرح تزکیہ نفس ہونا ضروری ہے ہے اور دلوں کے پاس گئی پاکیزگی اور نفس کی یہ تحریر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی عطا کی جاتی ہے جیسے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ لا یمسہ الا المطہرون کہ قرآن مجید کے حقائق و معارف سے وہی شخص آگاہ ہوتا ہے جس کو خدا تعالیٰ خود اپنے ہاتھوں سے پاک کرتا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی جس نے قرآن مجید کے معنوی حفاظت کی ذمہ داری اپنے ہاتھ پر اٹھائی ہوئی ہے اس نے ہر زمانے میں ایسے لوگوں کو دنیا میں بھجوایا ہے اور قرآن مجید کا علم عطا کرتا رہا جس میں الفاظ جو نے دنیا کے سامنے قرآن مجید کے حقائق و معارف کو کھول کر ایسا بیان کیا جس کے نتیجے میں قرآن مجید کی عظمت اور اس کی شان و شوکت سے انہوں نے دنیا کو روشناس کرایا ہےاللہ جانتا ہے اس کے مطابق قرآن مجید کے جو خزائن ہیں اس کو اللہ تعالی نے دنیا پر ظاہر کرتا ہے آپ لوگوں کے ذریعہ سے اور ہر زمانے میں باطل سر اٹھانے کی کوشش کرتی ہے تو اس موقع پر قرآن مجید ہی ایک ایسا کارگر ہتھیار ثابت ہوتا ہے جو باطل کی قلعہ قمع کرنے کے لیے ہمہ وقت موجود رہتا ہے چنانچہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی اس انکشاف ہوتا ہے یا کوئی بھی ایک جدید علوم ظاہر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انسان خدا تعالی کی طرف سے ہونے لگتا ہے تو اس زمانے میں اللہ تعالی آپ سب لوگوں کے ذریعہ سے ایسے جدید انکشافات قرآن کریم کی آیات سے اور قرآن کریم کے اسرار مخفی ان کے ذریعہ سے دنیا کے سامنے پیش کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں پھر ایک مرتبہ لوگوں کے دلوں میں خدا کی ہستی کی جو موجود ہے وہ کی تعلیمات پر جبہ عمل کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے فضل سے قرآن مجید کے حقائق و معارف سے جب انسان کو اطلاع ہوتی ہے یا اسے مقدس لوگوں کے ذریعہ سے قرآن مجید کی تعلیمات کی جو اصل حقیقت ہے اس سے جب انسان روشناس ہوتا ہے تو پھر انسان روحانی اعتبار سے بھی ترقی کرتا ہے اور قرآن مجید میں تمام علوم جدیدہ کے حوالے سے بھی جو ہیں وہ بیان کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں روحانی اعتبار سے بھی اور دنیا بھی اعتبار سے بھی انسان ترقی کرتا ہے جب قرآن مجید کے ساتھ تو اپنے آپ کو منسلک کر لیتا ہے تم آج کی ایپیسوڈ میں یہی تفصیل آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرنے کے نتیجے میں اور قرآن مجید پر غور و تدبر کرنے کے نتیجے میں انسان کو روحانی مدارج بھی عطا ہوتے ہیں اور دنیا کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بھی انسان ترقی کرتا ہے حوالے سے قرآن مجید میں کیا تعلیمات ہیں آج ہی ہوگا قرآن مجید کے حوالے سے بات کرنے والے ہیں اس پر عمل بھی حاصل کر سکتے ہیں اور دنیاوی اعتبار سے بھی حاصل کر سکتے ہیں اگر آپ کے ذہن میں سوالات ہیں تو ہمیں ضرورت فون کریں اس وقت ہے آپ کے لیے ہیں اس کے علاوہ بھی مختلف ذرائع ہیں جس کے ذریعہ سے اپنے سوالات ہم تک پہنچا سکتے ہیں تو اس مختصر سی تمہید کے بعد آج میں گفتگو کا آغاز محترم مولانا محمد کریم الدین صاحب شاہ سے کرنا چاہتا ہوں کہ جیسے کہ ہم نے بھی بات کی کہ قرآن مجید کے حقائق و معارف سے فیض یاب ہونے کے لیے تزکیہ نفس کی ضرورت ہے میں مختلف سائنسی اور علوم کے جو میدان ہے اس میں کس طرح مسلمانوں نے ترقی حاصل کی کی ہے اس کے بارے میں کچھ تفصیل ہمارے ناظرین کو بتائیں الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ارشاد فرمایا کہ موجود ہیں وہ سب تمہارے لئے ہم نے پیدا کیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پوری کائنات میں اور پوری دنیا میں اگر کوئی فائدہ اٹھانے والی ہستی ہے تو وہ انسان ہے باقی جو دوسرے جاندار ہیں وہ اپنے اپنے حساب سے جی رہے ہیں لیکن منصب کو جو پیدا کیا ہے اللہ تعالی نے انسان کی خاطر پیدا کیا ہے یہ ساری کائنات کی اللہ تعالی نے انسان کے لیے پیدا کی ہے چنانچہ جیسا ایک مشہور حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ کی پیدائش ہمیں مقصود نہ ہوتی تو یہ ساری کائنات کو ہی میں پیدا کرتا ہے عالم خلقت الافلاکاپنے اعمال کو درست رکھتے ہیں تو اس کا اثر بھی روح پر پڑتا ہے اچھی غذائیں کھائیں گے تو روح کے اوپر بھی اس کا اچھا اثر پڑتا ہے چنانچہ ظاہر کا باطن پر اثر پڑتا ہے اس زمانے کے امام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑی تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی ہے اور جن کو اچھی طرح مطالعہ کریں تو اس میں آپ نے اس بات کی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ ظاہر کا باطن پر اثر پڑتا ہے اور اس لحاظ سے ابتدائی زمانے سے ہی مسلمانوں نے قرآن مجید کے ساتھ ساتھ اس کے اندر جو حقائق اور ماری ہوئے ہیں اور تخلیق کائنات کا جو مضمون بیان ہوا ہے اور اس کے ساتھ انسان کی پیدائش کے جو ادوار اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بیان کیے ہیں اگرچہ سینکڑوں سال کے بعد بہت سارے حقائق کو آج انسان نے دریافت کر لیا لیکن اگر ہم غور کریں تو یہ ساری باتیں قرآن مجید میں اللہ تعالی نے بہت پہلے چودہ سو سال پہلے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کر دی ہوئی تھی چنانچہ کائنات کے تعلق سے اللہ تعالی نے تو یہ فرمایا ہے کہ ان فی خلق السماوات والارض واختلاف اللیل والنہار لآیات عقلمند لوگوں کے لئے ان کے اندر بہت سارے نشانات پائے جاتے ہیں تو تخلیق کائنات کے تعلق سے اللہ تعالی نے زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کرنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ یہ کائنات جو ہم نے پیدا کی ہے یہ اقدام نہیں پیدا کی ہے بلکہ آپ پر اللہ تعالی نے فرمایا کہ ابتدائی زمانہ میں نظر آتا ہے یہ کہ گیس کا مجموعہ تھا چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی آیت حامیم سجدہ فرمایا مصطفیٰ السماء وہی دخان ثانوی سے تشبیہ دی ہے اور چونکہ انسان گی سریا اس قسم کے جو استاد آج ہم استعمال کر رہے ہیں اس زمانے میں سمجھنے کے قابل نہیں تھا اس نے اس کو ایک دفعہ ان قرار دیا دعا ہوتا ہے بھی جائے تو اللہ تعالی نے فرمایا کے سارے گیس کا مجموعہ تھا پھر اللہ تعالی نے ان پر کیا کیا کہ اللہ تعالی نے فرمایا کے بعد بگ بینگ کا تعلق جو ہے ان سائنسدانوں نے پیدا کیا کہ بہت بڑا دھماکہ ہوا اس کے بعد یہ کائنات عمل میں آئی ہے فرما دیا ہے کہ ان الارض اور کارکن نہ ہوا ہاں یہ تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ زمین اور آسمان یہ جٹ جتنی بھی تعینات ہیں بلکل لائک بند گاڑی کی تلاشی اور دھماکہ ہوا اس کے بعد یہ ساری کائنات مل جائیں اور پھر یہ تعینات تھی اس کو دیکھ رہا ہے بلکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ بن آئے نہ آئے دن ہم نے اپنی قدرت سے اس تمام کائنات کو پیدا کیا ہے اور اس میں ہم وسعت دیتے چلے جاتے ہیں کہ یہ صرف ہماری ہی کائنات بھی نہیں ہے بلکہ جس کو ہم گیلیکسی کہتے ہیں گیلیکسی اور بہت ساری کلاس ہے یہ ہمارا سورج ستاروں اور زمین وغیرہ کے ساتھ یہ جو گردش کر رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ اور دوسری کائنات کی طرف رواں دواں ہے ہے اور یہ بھی اللہ تعالی نے فرمایا کہ منجمد نہیں ہے کائنات بلکہ اللہ تعالی نے فرمایاانسان کے پیدائش کی وہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کے اندر بیان کر دی ہوئی ہے اور ان پر غور کرتے ہوئے مسلمان ہمارے جو گھر ماہی نصرت روحانیت پر انہوں نے ترقی حاصل کی ہے بلکہ دنیا کے باہر سے سائنس کے اندر بھی بہت بڑے بڑے سائنسدان اسلام نے پیدا کیے گئے چنانچہ اب ہم جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی وہ زمانہ ہے جس میں پوری دنیا کے جو علوم ہے وہ رستہ آہستہ آہستہ پروان چڑھتے رہے ہیں چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ لاطینی سنسکرت پہلوی اور سریانی زبان میں دنیا کے تمام علوم کا خزانہ موجود تھا چنانچہ ان علوم کو پھر ہمارے مسلمان علماء نے جب کہ بغداد کے خلیفہ المنصور کا عہد خلافت تھا تو ضلع زمانے میں سائنس کا بڑا یونیورسٹی سمجھا جاتا تھا تو وہاں پر آہستہ آہستہ ان تمام زبانوں سے عربی زبان میں تراجم ہونے شروع ہوئے اور پھر مسلمانوں نے جب اسپین فتح کیا ہے تو وہاں پر روم کی تہذیب ہوئی اور وہاں سے پھر اسپین کے شہر طلیطلہ جس کو ڈھونڈو انگلش میں کہا جاتا ہے ترجمہ نگاروں نے خاص طور پر گرافک رومینہ اور مائیکل اسکاٹ نے عربی زبان سے پھر آہستہ آہستہ سائنسی سرمائے کو یورپ کی زبانوں میں لاطینی میں اطالوی میں انگریزی میں عبرانی میں فرانسیسی میں منتقل کرنا شروع کیا تو میں اس وقت یہ بات بھی بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ کیا ہے تو ہمارے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے صاف اور ڈسٹری کے نام سے اندراگاندی جب یورپ میں تعلیم حاصل کر رہی تھی تو ان کو جو خطوط لکھتے تھے ان کے اندر ان باتوں کو بھی بیان کیا ہے کہ جب مسلمانوں نے فتح کیا ہے تو یورپ کی حالت یہ تھی کہ مسلمانوں سے نفرت کیوں کرتے تھے اس لئے نفرت کرتے تھے کہ مسلمان کہتے پاک و صاف ہونا چاہیے صفائی اور اختیار کرو تم کو صاف کرو کپڑوں کو صاف کرو ماحول کو صاف کرو اس سے وہ لوگ جھگڑتے تھے لیکن آج ہے جو ہے صاف ستھرا ہمیں نظر آتا ہے مسلمانوں کی بستی اگلی نظر آتی ہیں تو یہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالنے کا دراصل نتیجہ ہے تو تھا جب سے فرانسیسی بے ہوئے اور پھر یہاں سے سائنس نے دنیا میں پھیلنا شروع کیا تو میں بچوں کے وقت مختصر ہے لہذا میں چند سائنسدانوں کے نام لیتا ہوں جب مسلمان علما تھے ان میں سے دیکھی ہے ایک تو جابر بن حیان ہے ان کا زمانہ ہے اور یہ کیمسٹری کے باوا آدم کہلاتے ہیں آج کل بڑی ترقی کر چکی ہے لیکن ابتدا شروع کی ہے تو اب نہیں آنی شروع کی ہے کہ اب اس کا یہ مطلب تھا اور بہت مشہور زمانہ تھا اور اس طرح یہ بہت بڑا سائنسدان تھا اور اسلامی دنیا میں ستاروں کا جو سب سے پہلے زائچہ کہہ لیں یا جدول کر لیں اس نے تیار کیا تھاہائے کے ذریعہ سے پتہ لگتا ہے کہ اس وقت ٹائم کیا ہوا ہے ہے ابو معشر بلخی تھا یہ بھی بہت بڑا سائنسدان تھا عرب نے ابن طبری تھا دوبارہ کوشش کریں یہ کہ اس زمانے میں بغداد سے یہ علوم پھٹنے جب شروع ہوئے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ پھر نہ صرف یہ کہ بغداد میں بلکہ ترکستان میں اور اسی طرح بخارا میں اور دوسرے بڑے بڑے جو مسلم ممالک تھے وہاں پر مسلمان سائنسدانوں نے بڑی بڑی رصدگاہیں قائم کی تھی کیا آج ہم ستاروں کے ذریعے سے بہت ساری باتیں معلوم کرتے ہیں تو اس زمانے میں بڑے بڑے جو رصدگاہیں تھیں وہ ان شہروں میں مسلمانوں کا یہی تھی تھی اسی طرح سے محمد بن زکریا الرازی ہے یہ بھی بہت بڑا کیمیادان تھا یعنی ابھی بھی تھا فلسفی بھی تھا تو اس سے لے کر 929 تک ہے یہ بھی کیمسٹری کا بڑا ماہر تھا عبدالرحمن سلفی کا نام آتا وہ صحابی کا نام آتا ہے اس کا نام آتا ہے یہ فیصلہ بھی تھا اور بھی تھا اور طبیعت کا بڑا ہوتا ہے ریاضی دان فلسفی دا ماہر فلکیات تھا اس کا پر فخر ہے پھر آج کے زمانے میں اور بھی بہت سارے سائنسدان ہیں اسلامی سائنسدان ہونے کے اعتبار سے میں محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا نام لینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ انہوں نے بھی نوبل پرائز حاصل کیا سائنس میں ترقی کرتے ہوئے اور انہوں نے خاص طور پر اور نیوٹن کا نظریہ کیا ہے اور آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ ساری حکومتیں تو خود ہی نہیں بلکہ ایک ہی دراصل ہے یہ خدا کی توحید کی طرف لے جانا چاہتے تھے اگرچہ عمر میں ان کی وفا نہیں کی تو بہر خدا آج کے زمانے میں مسلم سائنسدان کا نام لیا جائے تو ڈاکٹر عبدالسلام کا نام بھی دینا ہمارے لئے ضروری ہے اگرچہ بعض لوگ کچھ تعصب کی وجہ سے ان کا نام لینا پسند نہیں کرتے لیکن یہ حقیقت ہے کہ دنیا چاہے ان کا انکار کرے یا ان کی طرف توجہ نہ کرے لیکن زمانہ آئے گا کہ ان کے نظریات کو بھلا دیا ہے توبہ قرآن مجید نے جو یہ فلسفہ بیان کیا کہ نفس کی پاکیزگی کے ساتھ جو بھی علم حاصل کرنا ہے وہ حاصل کرو اور اس کے نتیجے میں ساری دنیا کا بھلا چاہو اور اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ جیسے اللہ تعالی کا قانون سب کے لئے یکساں ہیں اسی طرح بنی نوع انسان کے لئے سب اونچ نیچ کسی طرح کی بھی جائز نہیں ہے بلکہ سب اللہ کے بندے ہیں اور اس وجہ سے اللہ کے بندوں کے درمیان تفریق جائز نہیں ہے اس کے پیچھے دے گا جزاک اللہ تعالیٰ جزا کچھ ٹیلی فون کالز کو ہم پروگرام میں شامل کرتے ہیں اور ان کو بھی موقع دیتے ہیں اس وقت ہمارے ساتھ بنگلہ دیش ہے پر موجود ہے ان سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ صاحب سوال پیش کریں کریں ہے قرآن کریم میں چودہ جگہ میں آیا اس کا کیا ہے منظر ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہیے یہ سلسلہ میں شکریہ مولانا حسین صاحب سے درخواست ہے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض حصوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تلاوت قرآن مجید کے بعد آداب بیان کیے گئے ہیں ایک تو ہے جہاں پر اللہ کی رحمت کا یہ مغفرت ورکیاتی ہے ہے ہےہم تو پھر تلاوت کا قرآن مجید میں حکومت بھی ہیں اللہ تعالی کی آیات کی تلاوت کرتے رہنا ہے ہر مومن کافر بھی ہے ان کا ذکر ہو رہا ہوں جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہو جانے پر سجدہ کیا جاتا ہے وہاں پر سجدہ کیا جانا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ جزا پروگرام کو آگے لکھتے ہیں اور مولانا نعیم الدین صاحب ہم اس کے ہیں ہمارا یہ سوال ہے جیسے کہ ابھی آپ نے پہلے بات کی قرآن مجید کے حقائق و معارف سے انسان کبھی فائدہ اٹھا سکتا ہے جب اس کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور تزکیہ نفس کا ذکر کرتے ہوئے اور قرآن مجید کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے مختلف شعبے میں مسلمانوں نے ترقی کی ہے اس کی تفصیل سنا ہے روحانی اعتبار سے بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کے نتیجے میں اور قرآن مجید میں غور و تدبر کرنے کے نتیجے میں اس کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کے نتیجے میں مسلمانوں نے روحانی مراتب کے اعتبار سے بھی اعلیٰ مدارج حاصل کی ہیں اور ترقی کی ہیں تو اس حوالے سے میں آپ سے تفصیل جاننا چاہوں گا اس وقت ہے فضل سے جو قوم ہیں اسی طرح رفتہ رفتہ دیگر اقوام بھی اور ساری دنیا قرآن مجید کی تعلیمات کو اپنانے کے نتیجے میں روحانی لحاظ سے بھی اور دنیا بھی اس بلند و بالا مقام پر فائز ہوئے اور صحابہ کے حالات کی دیکھ لیجئے کس قدر عظیم الشان تبدیلی اندر اندر پیدا ہوئی اور ان سے صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے نتیجے میں اور قرآن مجید کی تعلیمات کو اپنانے کے نتیجے میں جو عظیم الشان تبدیلی اور وہ انہیں بغیر ان کے اندر واقع ہوا وہ ایک بے نظیر ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام میں بعض کتابوں میں اس کا ذکر کیا ہے ہوئے تو قرآن مجید کی تعلیم کو اپنے ان کے نتیجے میں زندگی کے ہر شعبے میں انسان نے ترقی مسلمانوں نے ترقی کی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلامی قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق انسان کی تمام تر ترقی کا انحصار تزکیہ نفس اور تصفیہ نفس کے بغیر کوئی ترقی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ جہاں پر انبیاء کی بعثت کا ذکر آتا ہے اور قرآن مجید میں تین چار مرتبہ یہ ذکر کیا ہے آگے کس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی خاص ذکر کیا ہے کہ وہ البحث فی الامیین رسولا منہم یتلو علیہم آیاتہ کی بنیادی مقاصد میں شامل ہیں میوزک کی ترقی کرتے ہیں تو یہ تزکیہ نفس کے کے حاصل کرنے کے نتیجے میں انسان قرآن مجید سے رہنمائی فائدہ اٹھاتا ہے اور قرآن مجید میں بیان کردہ تمام تر روحانی مقام پر مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کیا یہ قرآن کریم میں متعدد آیات اس سلسلے میں وارد ہوئی ہے قد افلح من زکہا وقد خاب من دسھا کامیاب ہوگیا جس نے ترقی حاصل کیا وقت خواب میں بادشاہ اور جس نے اپنے نفس کو مٹھی میں چھپا دیا ہو یا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان فی الجسد مضغۃ دن ہو جائیں یا صلی اللہ علیہ وسلمماکو کے مطابق اپنی زندگی کو میں کو ڈالنے کے نتیجے میں اس طریقہ سے ترقی کی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں  ہیں آپ نے ایک عربی شعر میں زیادہ مستحق وومن دعاؤں سے نکلتا ہے یعنی انہیں دونوں ادوار کا نہایت خوبی کے ساتھ بیان فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قوم میں کام نہیں ہوا اور وہ گاؤں سے ملتا ذلت کے لحاظ سے بالکل گوبر کی مانند معمولی قوم تھی لیکن اب جائیں تو ان کا ساتھ دیتے ہیں جس نے جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت آئے اور اسی طرح قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق زندگی گزارنے کا حصہ آیا کے بارے میں فرمایا گی کہ وہ اللہ ہی اللہ بات کا اظہار مقصود ہے تو صحابہ کے ذریعہ سے قرآن مجید کی تعلیم کو اپنانے کے نتیجے میں اللہ تعالی کے بے شمار صفات ہونی شروع ہوئی تو اسلام نے اس گاؤں میں جو غیر معمولی تبدیلی آئی ہے جو انقلاب برپا ہوا اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ایک طرف تو نہیں کرنی تو صدیوں کے مردوں کو ایک جلسے میں زندہ کر دیا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اس کے بعد میں نے ایک اور چیز دیکھی بانیءسلسلہ علیہ السلام فرماتے ہیں جو قرآن مجید کی تربیت کے نتیجے میں تعلیمات کو اپنانے کی نعتیں انہوں نے اپنی خواہشات کو چھوڑ دیں تو اپنے نفسوں کو بھی چھوڑ دیا ہے دنیا کی معلومات سے معلومات سے بیزاری کا اظہار کیا اور اس کے تربیت یافتہ ایک وقت ایسا آیا ہوں گے تو محبت کا جو جذبہ پیدا ہوا ہم دیکھتے ہیں وہ کیسے کیسے لوگ تھے معمولی معمولی بات پر لڑائی جھگڑا کرکے کرتے تھے بعض معمولی بات پر کئی سال تک یہ لڑائی ہوتی رہتی تھی صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے نیچے آگے اور قرآن مجید کی تعلیم کو اپنایا تو اس کا نتیجہ کیا ہوا قرآن مجید فرماتے ہیں مذکورہ نعمۃ اللہ علیکم اذ کنتم اعداء محبت کے لئے ایسے مقام پر وہ لوگ آئے ہوئے تھے میں الفت پیدا کر دی گئی اس کے بے شمار مثالیں ملتی ہے اور قربانی کے ایسے زبان کے اندر پیدا ہوا اور ایک تو یہ کہ ان کی سیرتبعض ایسی صفات ان کے اندر پیدا ہوئیں مثلاً ایک بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں یہ تو یہ کہ مواخات کا سلسلہ جو حضور نے ارشاد فرمایا جب وہ مدینہ پہنچ گئے کیونکہ مہاجرین کے بے شمار مسائل ہوتے ہیں آج کے زمانے میں ہم زیادہ اس کو سمجھ سکتے ہیں اس کی حکومت میں بھی ناکام ہوجاتی ہے جو ان کے ماہر ان کی جان مال اور عزت کی حفاظت کی آبرو کی حفاظت کا مسئلہ ہے اسی طرح ان کی رہائش کا مسئلہ ہے اس کے مسائل ہیں ان کے دیگر جو معاشرتی مسائل نے یہ سارے مسائل ٹائم کی کئی سال گزر جاتے حکومت میں ناکام رہی لیکن قرآن مجید کی تعلیم کے نتیجے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چند لمحوں میں اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور انصار میں مواخات قائم بھائی بنا دیا اور ایک اور صفت کے اندر بیان کی جاتی ہے یا اللہ ان کو ترجیح دیتے ہیں ولو کان بہم خصاصہ وحشت کتنی تکلیف میں کتنے کفار کو فکر میں مبتلا کیوں نہ ہوں بھوک میں مبتلا کیوں نہیں کیوں نہ ہو ایسی بے شمار مثالیں مل جاتی ہے جن کے موقع پر ختم ہونے کے بعد زخمیوں کا جائزہ لینے کے لیے صاحب بھی گئے تو ایک صاحب ہیں وہاں زخموں کی تاب نہ لا کر بھی چین سے پریشان ہو رہے تھے تو ان کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے وہ صاحبان کے پاس پہنچتا ہے وہ خرید لیتے ہیں دوسرے سخ میں کتنی شادیاں کرتے ہیں ان کو دے دو وہ جیسے کہ یہ تم اچھا نہیں کرتے اس طرح کرتے کرتے درجنوں صحابی کے پاس پہنچتے ہیں اس کو دے دو جب وہ ملاوٹ کل پہلے صاحب کی طرف سے ہوتے ہیں اور دوسرے کے پاس جاتا ہے اور حضرت یاسر قرآن مجید کی تعلیم کا اپنا ان کے نتیجے میں جان کی قربانی کے لئے اتنا آسان تھا گاجر مولی کی طرح کاٹیں گے لیکن اپنے تقاضوں سے انحراف کرتے ہوئے راستے میں اپنی جان تک کی قربانی کی اپنے مال کی قربانی کی اپنے عزت و آبرو کی قربانی کی اور بعض ایسے ایسی مثالیں ملتی ہیں مشہور مورخ میں ملی جب سے ہوا ہے میں اس کو حرام کر دیا گیا ہے اور اس سے اجتناب کرنے کا حکم مل گیا تو کسی منہ زور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق شادی کی تو ایک جگہ ایک گھر میں مجلس گئی ہوئی تھی جب ان کی آواز آواز ہی لیں گے ان کی جو منفی صفات میں یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ وہ کثرت کے ساتھ شراب پینے کے عادی تھے لیکن تربیت کے نتیجے میں قرآن مجید کی تعلیم کو اپنا ان کے نتیجے میں ان کے ایسی صفات پائی جاتی ہے کہ وہ ایک خط اپنے ملک کے توڑ دیتے ہیں شراب کو ڈھیل دیتے ہیں اور راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ ان کے اس دن مدینے کی گلیوں میں شرابی شرابی تھی یہ عظیم الشان تبدیلی اس کے اندر آئیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں آپ کا ہی چھوڑ دیں اور وہ بدلے میں جو کہ اپنے ذوق کو بدل دیا نہ لگے بن جاؤ شراب پینے کے عادی تھے لیکن ان کے ذہنوں کو بدل دیا کس چیز سے بدلا نہیں راتوں کی دعاؤں سے چاہیے تبدیل کر دیا ان کے اندر ایسی تبدیلی آئی عبادت کے لئے دعاؤں کو ایسے طالب علم کے لئے اللہ تعالی سے کلام کرنے کے اندر تبدیلی آئی ہے صدیوں کے مردے زندہ ہو گئے اور گونگوں کی زبان پر ہماری ہوئے تھے اس وقت ہمارے ساتھ چلنے پر موجود ہیں ان سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہکے پہلے گیس کا مجموعہ تھا تمام کائنات یاد نہ آسمان تو وہ صورت نوٹ کریں آپ حامیم سجدہ آیت نمبر 13 دوسری آیت سے علم ہوا تو لہٰذا کانتا رتقا ففتقناہما جو ہے جہاں پر تعلقات ایک بڑا دھماکہ ہوا اور اللہ تعالی نے اس کے اندر ایک دھماکہ کیا پھر پھٹ کر زمین مل گئی کہ دوسرے ستارے بن گئے سورج بن گیا وغیرہ وغیرہ تو یہ سورۃ انبیاء کی آیت 31 ہے سورۃ انبیاء آیت 30 اسی طرح سے جہاں پر ذکر آتا ہے کہ تمام سیارے اپنے اپنے محور پر گردش کر رہے ہیں اس کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ یاسین کی اکتالیسویں آئے تھے اس کے علاوہ قرآن مجید میں جگہ ہو جہاں مختلف مواقع پر اللہ تعالی نے زمین و آسمان کے پیدا کرنے کا ذکر آتا ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالی نے سورۃ الرحمٰن میں بھی اس کا ذکر کیا ہے سورۃ اعراف میں بھی اس کا ذکر آتا ہے اور یہاں پر یہ ذکر آتا ہے کہ چند دنوں میں اللہ تعالی نے کائنات پیدا کیے تو یہ یاد رکھنا چاہیے ہمارے دن نہیں ہے بلکہ یہ دن تو ہمارے سورج کے ارد گرد گھومتی ہے اس سے ہماری زمین کے دن ہے لیکن اللہ تعالی نے فرمایا من قال فی سنۃ اللہ تعالی کا ایک ایک دن جو ہے وہ ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے ایک اور جگہ فرمایا کا بھی ایک دن اللہ تعالی نے فرمایا تو یہ دراصل سال ہمیں سمجھانے کے لیے اللہ تعالی نے بیان کیا ورنہ دراصل یہ ایک دور کی بات ہے کہ ہمارے اعتبار سے ایک دور جو کہ ایک ہزار سال کا دور ہو یا پچاس ہزار سال کا ہو اس دور میں کائنات کی تخلیق بھی ہوئی ہے تو یہ والے ہیں جماعت احمدیہ کے چوتھے خلیفہ حضرت مرزا طاہر احمد سب ان کی کتاب ریلیشن نیشنل ٹیکنالوجی میں بھی انہوں نے قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں تخلیق کائنات کے حوالے سے مختلف سائنسی حقائق پیش فرمائی ہیں تو اس سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں جو کہ جماعت میڈیا کی ویب سائٹ اسلام میں جو ہے وہ دستیاب ہے اس سوال ہے کہ جب ہم مطالبہ کرتے ہیں بنیادی طور پر دو حقوق کے حوالے سے ذکر ملتا ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد پرائز ہے اس کی ادائیگی کرے اور بنی نوع انسان کے حوالے سے جو اس میں کامیاب ہو سکتا ہے اپنی زندگی میں تو اس حوالے سے میں آپ سے مزید تفصیل جاننا چاہوں گا  گامیں یقین ہو اور شرک سے بغلیں طور پر جو ہے جتنا کہ و شرک جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوتا رہا ہے یہ تو زیادتی ہوتا ہے ایک صفاتی ہوتا ہے اللہ تعالی کی ذات میں کسی کو دینا لبیک اللہ عنہا کے جیسا یا اس کے برابر کا اور کوئی نہیں ہے تو یہ شرک فی الذات کہلاتا ہے اگر کسی کو آگے فلم بھیجو ہے اس کے اندر پائی جاتی ہے ایسا ہے جیسا کہ بعض مذاہب میں دیوی دیوتاؤں کا رواج پایا جاتا ہے تو یہ فساد کہلاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ نہیں خدا تو ایک ہی ہے لیکن بعض صفات میں دوسرے بھی اس کے شامل ہیں یہ شخص صفات ہو جاتا ہے یا پھر جیسا کہ مزید باریک رنگ میں اگر ہم دیکھیں تو یہ بھی ہو سکتا ہے مثال کے طور پر ہر چیز اللہ تعالی نے فائدے کے لیے پہنچ پیدا کی ہے ہے اب یہ اس کے اوپر توقع کرنا کہ ہم نے جس کے چیز استعمال کی تو لاجواب فائدہ ہوا اس سے بے شک اس کے اندر اللہ نے خواص رکھیں لیکن دراصل وہ طاقت یا وہ فائدہ یا اس کے اندر وہ شفا کی جو جگہ ہے وہ کہاں سے اللہ تعالی نے پیدا کیے تو اگر ہمارے دل میں ہو مثال کے طور پر ہم دوائی لیتے بخار ہو گیا کوئی گولی لے لیں بھیا جی فلم گولی ہم نے لے لی ہے اس سے آپ کو شفا ہوگی یہ بھی ایک ٹریفک اشارے پر جاتا ہے بلکہ یہ ہمارا خیال ہونا چاہیے بیمار میں ہوا تھا لیکن اللہ تعالی نے دراصل شفا دی اس کی دی ہوئی چیزوں کے استعمال کی اسے شفا حاصل ہوئے ابراہیم علیہ السلام کا قول ہے نظام مصطفی جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے اور اس کے علاوہ اللہ تعالی کی کی حفاظت کرنا وہ سب سے بڑا حق ہے اللہ کا کہ اللہ تعالی نے جب ہم کو پیدا کیا اتنی بڑی کائنات ہمارے لئے پیدا کئے ہر قسم کا سامان ہمارے لئے مہیا کیا ہے زندگی کے لیے ہر چیز مہیا کی ہے تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ شکرانے کے طور پر اس کی حفاظت کرے اس رنگ میں نہیں ہے طور پر حملہ کریں بلکہ اس کا حق بنتا ہے کہ اللہ تعالی نے چونکہ ہمیں یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں یہ سہولتیں عطا کی ہیں تو اس میں سے اللہ تعالی کا ہمیشہ ادا کرتے ہوئے اس کی عبادت کرنا چاہیے السلام نے لکھا ہے جیسا کہ میں انشاءاللہ ہوگا اگر جنت اور دوزخ کا وہ بھی نہ ہو ہمارے اندر تو ایسی حالت میں بھی ہمیں عبادت کرنی چاہیے اگر کوئی کہے کہ میں تمہیں کوئی جنت ملے گی تمہیں نہیں پہنچائے گا تب بھی ہم ہم ہی نے بڑی تفصیل کے ساتھ قرآن مجید میں بیان کی ہیں میں قرآن مجید کی ایک آیت پڑھتا ہوں سورۃ النساء کی سینتیس میں آئے تھے اللہ تعالی نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ وبالوالدین احسانا کے ساتھ احسان کا سلوک کرو دنیا میں لانے والے تمہارے کون ہے ماں اور باپ ہیں ان کا حصہ ادا نہیں کرتے ان کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتے تو پھر اور کس کا سلوک سکس تم جائے وہ انسان جو ہوں کسی کا احسان تم سمجھو گے تو جن لوگوں نے تم کو جنم دیا ان کا حق ادا نہیں کرتے تو پھر اور کس کا حق ادا کر سکتے ہو تو اللہ تعالی نے فرمایا وہ بھی دن قریب آاچھا سلوک کرنا ہے چاہے وہ ساتھ بیٹھنے والا کلاس فیلو ہے یا ایک دفتر میں کام کرنے والے ہیں اسی طرح سے ساتھ رہنے سفر کرتے ہوئے ساتھ بیٹھنے والے ہی تو ان کا بھی خیال رکھنا ہے ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے وہ اپنی سہیلی مسافروں کا بھی خیال رکھنا ہے جو تمہارے ماتحت ہیں ان کا بھی ہر طرح سے خیال رکھنا ہے صرف افسر بھی نہیں ہے بلکہ اس کا بھی خیال رکھنا ہے تو ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا ہے زیادہ ہو تو اللہ تعالی نے اس ایک آیت میں بہت سارے لوگوں کو بیان کرتی ہیں باقی کتاب قرآن مجید کے اندر تو اور بہت سارے آیتیں ایسی ہیں جن کے اندر تفصیل کے ساتھ میاں بیوی کے کیا حقوق ہے بچوں کے کیا حقوق ہے اور دوسرے لوگوں کے کیا حقوق ہیں یہ تمام اللہ تعالی نے بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں تو میں چونکہ وقت کم رہ گیا ہے آخر میں حضرت موسی داؤد علیہ السلام کا ایک حوالہ پڑھ کے اپنے اس بیان کو ختم کروں گا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اللہ تعالی کے اللہ تعالی کے حق میں سب سے بڑا حقیقی اس کی عبادت کی جائے اور یہ عبادت کی غرض سے ذاتی پر مبنی نہ ہو بلکہ اگر دوزخ اور بیشتر نہ بھی ہو تب بھی اس کی عبادت کی جائے اور اس رات اور اس ذات کی محبت میں جو مخلوق اپنے خالق سے ہونی چاہیے کوئی فرق نہ آوے اس لیے ان میں 2022 تک سوال نہیں ہونا چاہیے پھر فرمایا بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لیے دعا کی جاوے پورے طور پر صاف نہیں ہوتا وہ تو نہیں استجبلکم میں اللہ تعالی نے قید نہیں لگائی کہ دشمن کے لئے دعا کرو تو قبول نہیں کروں گا بلکہ میرا تو یہ ہے کہ دشمن کے لیے دعا کرنا یہ بھی سنت نبوی ہے حضرت عمر رضی رضی اللہ تعالی عنہ کسی سے مسلمان ہوئے اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے اکثر دعا کیا کرتے تھے اس لیے بول کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہیے اور حقیقی نمائندے نہیں ہونا چاہیے کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دواخانہ کی ایک بھی ایسا نہیں اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں خدا تعالیٰ اس سے کسی کو حقیقی طور پر پہنچائی جائے اور مخلوق کی دشمنی کی جائے ایسی بیزار ہے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے ساتھ ملایا جائے یعنی نہیں چاہتا اور ایک جگہ غسل نہیں چاہتا فصل کے معنی دوری اختیار کرنا غسل کے معنی جوڑنا تو جیسے اللہ تعالی سے ایک جگہ جو ہے وہ ہے شرک جہاں پر پسند نہیں کرتا اسی طرح سے لوگوں کے ساتھ جو ہے وہ وہ دوری اختیار کرنا بھی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے کسی کے ساتھ توسل اور یہی رہا ہے کہ ملک کے واسطے بھی دعا کی جائے اسے اور ہوتا ہے پر آخر میں فرماتے پشتو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہوں تو چاہیے کہ تم ایسی قوم بنو جس کی نسبت آیا ہے فائنل مکمل ایکشن ہندی سونگ ہے ان کا حل یہ سب دوست نہیں ہوتا یہ خلاصہ ہے ایسی تعلیم کا جو تخلقو باخلاق اللہ میں پیش کی گئی ملفوظات سونگ عطااللہ مولانا عظیم صاحب ہمیشہ میرا یہ سوال ہے کہ جیسا کہ قرآن مجید کی تعلیمات کو ہم دیکھتے ہیں تو انسان کو بہت فائدہ پہنچانے والی تعلیمات ہیں اور انسان کی زندگی میں جو مختلف حالات ہوتے ہیں اس موقع پر انسان کو اپنی ذمہ داری کا کس طرح قرآن مجید میں تعلیمات موجود ہے جس کے نتیجے میں انسان کوفلاحی معاشرہ بن سکتا ہے مثلا اس میں ہر ایک کی جان کی حفاظت کو ہر ایک کی جو آبرو کی حفاظت کو ہر ایک کا مالک یا کے مال کی حفاظت تو اسی طرح ان کی ساری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے ان کو امن نصیب ہوں اور ان کو زندگی کے ہر فرد کو میسر آجائے اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد اس سلسلے میں بہت ہی جا میں ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کا معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے حضور نے فرمایا منفی توازن کی مثال آپس میں پیار و محبت کے لحاظ سے اور ہمدردی کے لحاظ سے اسی طرح خلافت کے لحاظ سے ایک جسم کی مانند ہے دراز فرمائے اور جب جسم کے کسی حصے کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم  جو ہے وہ بخار میں مبتلا ہو کر تیاری کر کسی طرح اس میں شریک ہو جاتا ہے ایک ایسا تصور کو ملتِ واحدہ کا تصور ایک فلاحی معاشرہ کا جوس آئی ٹی کا جو تصور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی یہ یاد رکھنا کس طرح ایسے معاشرہ قائم ہو سکتا ہے کہ یہ بھی کوئی تکلیف نہ کسی کو بھی کسی کو کوئی تکلیف پہنچے سارا معاشرہ اس تکلیف میں شریک ہو جاتا ہے تو بالکل ایک جسم کی مانند ہے جو مرتے واحدہ کا تصور کس نے پیش کیا آج کے زمانے میں جمعہ میں یہ مثال جماعت ہے سزا دی جاتی ہے کہ اللہ تعالی کے فضل سے پوری دنیا کی آبادی پر جمع ہے ایک گھر کی طرح ایک فیملی کی طرح ہے یہاں ہمارے ماموں نے ایک دن فرمایا کہ کوئی جماعت ایسی نہیں کوئی جگہ کوئی علاقہ کوئی احمدی ایسا نہیں جس کے بارے میں رات کو سونے سے پہلے مجھے ان کے غم ان کے لیے دعائیں کرتا ہوں اور ان کے لئے ان کے غم میں شریک ہو جاتا ہے ان کی تکلیف کے ازالے کے لیے دعا کرتا ہوں تو جس میں واحد کا جو نظریہ پیش کیا گیا ہے وہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے آج جماعت احمدیہ کو مکمل صادق آتا ہے ایک اہم ترین پہنچے جو اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے عالمی سطح پر دیکھا جائے انصاف کا فقدان ایک بنیادی وجہ صاف ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے فرمایا ایک طرف ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربیٰ کی پہلی دوسرے علاقوں یا کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کر انصاف بار کرنا ہے یہ سچ ہے ایک ٹائم کم ہے 15 اور بتاتا ہوں کیونکہ مسلمان کی تعریف یہ بتائی گئی ہے المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ دوسری روایت میں فرمایا المسلم من سلم الناس من لسانہ مسلمان وہ ہے جو معاشرے کا حق ادا کرنے والا کیسے ادا کریں گے دیگر مسلمانوں کو دیگر تمام لوگ ان کی زبان سے اور ان کے ہاتھ سے تو محفوظ رہے اگر آپ نے اپنی عزت کی حفاظت کرنی ہے اپنے جان کی حفاظت کرنی ہے تو دوسرے لوگ ہیں ہم سے محفوظ رہے ہیں ان کے لیے یہ ارشاد فرمایا ان کا ظالم اور مظلوم ہیں اپنے بھائی کی مدد کرنا خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہوں منزلوں کو جاتی ہے کی جائے ظالم کو ظلم سے روکنا دراصل ان کی مدد کے مترادف ہے اس سے بے شمار جو اصل حقیقت معاشرے کے لئے باہرکریم ہے جو تمام دنیا کے دینی نظام و کے فیصلہ کرنے کے مقابلہ کرایا ہے جس کی آیت اور لفظ ہزارہا طور پر رکھتی ہے اور جس میں بہت سے صحابہ حیات ہماری زندگی کے لیے بھرا ہوا ہے اور بہت سے نادر اور بیش قیمت جواہرات کے اندر مخفی رکھتا ہے جو ہر روز ظاہر ہوتے جاتے ہیں قرآن مجید کی عظمت اور شان و شوکت کے حوالے سے ہم اپنے پیسوں میں بات کریں گے اس کا ایپیسوڈ 6 مارچ 2019 کے دن کے مطابق رات کے ساڑھے نو بجے اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے قادیان دارالامان سے ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے تب تک کے لئے اجازت دیجیے گا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہ یہیں نور خدا آباد آؤگے تب تمہیں تار

 172 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: