Rah-e-Huda – Muhammad pbuh ka Ghulamon Se Salook




Rah-e-Huda – Muhammad pbuh ka Ghulamon Se Salook

راہ ھدیٰ ۔ محمد ﷺ کا غلاموں سے سلوک

Rah-e-Huda | 26th December 2020

کیسے ہے خدا میں ختم المرسلیں منت لے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آج 26 دسمبر دوہزار بیس ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق اس وقت شہر کے چار بجے ہیں اور زرین یہ وقت ہے پروگرام رہے خدا کا قادیانی ان سے پروگرام ہے اللہ کی سیریز کے دوسرے سوٹ کے ساتھ اس وقت ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہے پروگرام بھی آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اور ہماری لوگ جانتے ہیں کہ پروگرام راہ ڈسکشن پروگرام ہے جس میں ہم جماعت احمدیہ اور اسلام کی مختلف تعلیمات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں اور اپنی گفتگو کے ساتھ ساتھ ہم اپنے مجاہدین کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کرتے ہیں ہم آپ کو ٹیلی فون کالز کے ذریعے ٹی آئی میں شامل کرتے ہیں اس سے ان کے جو اثرات ہوتے ہیں جو سوالات ہوتے ہیں اس کو ہم سنتے ہیں اور ہمارے علماء کرام میں موجود ہوتے ہیں وہ ہمارے مشاہدے ان کے سوالات کے جوابات بھی اس پروگرام کے ذریعے پیش کرتے ہیں اگر آپ ہمارے ساتھ آج کے تصور میں جاننا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطے کی تفصیل میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت آپ اپنی اسکرین پر ملاحظہ فرما رہے ہوں گے اور ان سے جو سیریس لے کر ہم حاضر ہوئے ہیں ہمارے رویوں سے جانتے ہیں کہ اس سیریز میں ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو ہمارے ناظرین کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی سیرت کے حوالے سے بعض کم عقل اور کم فہم لوگوں کی طرف سے جو اعتراضات لگائے جاتے ہیں غلاموں کو آزاد کرنے کے حوالے سے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے حوالے سے جو عظیم الشان کارہائے نمایاں سرانجام دی ہیں پروگرام میں ہم اپنے ناظرین کی خدمت میں وقت کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ تفصیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے گے ہم موضوع پر گفتگو کے لیے جو اس وقت ہمارے ساتھ رہتے ہیں ان کا تعارف کروا دیتا ہوں مکرم و محترم مولانا محمد کاشف صاحب ہیں اور ان کے ساتھ رکھتے ہیں مکرم و محترم مولانا مجاہد ہمبستری دونوں حضرات پروگرام ہے اللہ کی قادیان سیریز کے پرانے اور اگر پہلے ہی میں آپ دونوں حضرات کا پروگرام ہے میں خرم کرتا ہوں نام مذاہب کی تاریخ کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو بانیان مذاہب ہوتے ہیں اور جو اللہ تعالی کے مامور ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کے انبیاء ہوتے ہیں ان کے ذریعے دنیا میں جو مختلف اہم کام اللہ کے اذن سے انجام پاتے ہیں ان میں سے اہم کام ہے علم حاکموں سے معصوم لوگوں کو دلائی گئی ہو صرف مذہب کے نام پر جو مذہب کے ٹھیکیداروں کی طرف سے جو توقع لوگوں کے اوپر لگا دیے جاتے ہیں اس میں جلائے جانے والی آزادی ہو اگر ہم انبیاء اور بانیان مذاہب اور اللہ تعالی کے جو مرد ہوتے ہیں ان کے ذریعہ سے لوگوں کو حاصل ہوتی ہے اور ہے پھیلی ہوئی ہے اور دنیا کے دور دور تک پھیلی ہوئی ہے وہ دراصل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک کرتا ہے اور آپ کے اس پر عمل کرنا شروع کر دیتا ہے تو وہ حقیقی معنوں میں میںمیرا ہر صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے آپ کے اس سوال پر چلتے ہوئے جب ایک انسان اپنی زندگی کو سنوارتا ہے تو ہر قسم کے فرق کی زندگی سے دور ہو جاتے ہیں تو ایسے ہیں کہ آپ کے اور آپ کے حوالے سے ہم آج کے بعد میں بات کریں گے کہ کس طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ ونسل کے فرق کو دنیا سے مٹا دیا ہے اور خادموں کے ساتھ حسن سلوک کے حوالے سے ایک عظیم الشان نمونہ آپ نے فرمایا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے ہر طبقہ انسانیت کی آزادی حاصل ہو سکیں اور ہر ایک اپنی زندگی کے مقصد کو جو ہے وہ پورا کر سکے اور اس کا مقصد کو حاصل کر سکے ایک مرتبہ پھر میں اپنے مجاہدین کو یاد دلانا چاہوں گا کہ آج کے پروگرام میں اماں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا پہلو غلاموں سے حسن سلوک کے حوالے سے بات کرنے والے ہیں اگر اس ضمن میں آپ کے ذہن میں سوالات ہیں یا سات ہیں تحمیل فون کریں ہمارے آن لائن صاحب کے لیے اس وقت سیکٹر بہی بڑی خوشی ہوگی اگر اپنے پروگرام میں تو ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے اس مختصر سی تمہید کے بعد اب میں پروگرام کی طرف جاتا ہوں اور سب سے پہلے میں آج کی ایپیسوڈ میں گفتگو کرنا چاہوں گا کہ میں نے تمہیں بھی یہ بات بتائی ہے مختلف قسم کے رنگ و نسل کے ہوتے ہیں آزاد ہیں سب کو قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں نہ صرف ختم کیا بلکہ اپنے اس ویسے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ کس طرح انسان کو اپنی زندگی گزارنا چاہیے اور اپنے ساتھیوں کو کس طرح خیال رکھنا چاہیے اس کے سامنے پیش کرنا ہے اس کے بارے میں  قرآن مجید کا نزول شروع ہوا 20 اگست 10تک دس سال پہلے قرآن مجید کا نزول شروع ہوا اور سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ وسلم نے اپنی رسالت اور نبوت کا اعلان کیا لوگوں نے انسانوں نے انسانوں میں مختلف طبقات بنائے ہوئے تھے اور اس کے اوپر سونے پر سہاگہ والی بات یہ تھی کہ بعض مذاہب کے لوگ بعض قبائل کے لوگ باشعور وہ یہ دعوی کرتے تھے کہ اللہ تعالی صرف ان کا ہے مثال کے طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو شریعت موسوی کے ماننے والے تھے اور یہود بنی اسرائیل تھے مجھے انہوں نے اپنے اور ان کی جو عہد نامہ قدیم ہے اس پر بنی اسرائیل کا ہے اور اسی حوالے سے وہ بات کی گئی ہے مثال کے طور پر خود امت بنی اسرائیل کا خدا سماوی خداوند اسرائیل کا خدا خداوند اسرائیل کا خدا اکیلا خدا زبور 72 یہ ساری وہ باتیں تھیں جو کہ بنی اسرائیل کے لوگ کہتے تھے کہ اللہ صرف ان کا ہے ان سے مخاطب کرتا ہے وہی سب سے اعلیٰ اور افضل ہیں انسانوں میں سے باقی سب دوسرے یا تیسرے درجے کا حصہ ہے اس کے بعد ہم آتے ہیں کہ انہیں بنی اسرائیل کی ایک شاخ تھی جو عیسائی مذہب جمشید حضرت عیسی علیہ السلام ہے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے آپ کو یہی کہا کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لیے ہوں اس کے علاوہ کسی اور کے لئے نہیں بلکہ انجیر مکہ میں یہاں تک لکھا ہوا ہے کہ ایک عورت آئی اس کی لڑکی بیمار تھی اس کے اوپر کوئی جنوں بھوتوں کا سایہ تھا تو جب وہ ایک دعا کر دیں اس کے لیے کچھ تو حضرت عیسی علیہ السلام نے واضح طور پر کہا میں بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لیے ہوں اس کے علاوہ میں باہیں علیہ السلام نے انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ یہ مناسب نہیں کہ جو روٹی لڑکوں کی بچوں کی ہے وہ اٹھا کے کتوں کے سامنے یا دوسروں کے سامنے آئے تھے یہ جو سونگبہت حد تک دبا کو چلا ظلم کا شکار یہ طبقہ بھی رہا یہ سارے حالات سے اس وقت جب سیدنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے آکر پھر دنیا کے سامنے اعلان کیا وہ یہ یہ کلیاں یوحنا سوال رسول اللہ کو یاد رکھو اسرائیل نہیں ہو رہی ہو تو نہیں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور یاایوھناس کہ قرآن مجید کے مخاطب کیا اور یہ جو طبقات ہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا یا ایہا الناس انا خلقناکم من ذکر تمہیں ایک نر و مادہ سے پیدا کیا ہے اور تم ہی مختلف قبائلی علاقوں میں پیدا کیا ہے غرض کیا ہے لیکن جو چیز ہے جو انسانوں والی چیز ہے ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم اللہ کے نزدیک تمام بنی نوع انسان سے وہی راز ہیں محترم و مکرم ہے جو کہ تقوی میں سب سے زیادہ بڑا ہوا ہے جو کہ اللہ تعالی کے سب سے زیادہ قریب ہے تو یہاں پر چودمار اللہ تعالی نے بنایا وہ تقویٰ ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایک اصول بیان کیا الخلق و عیال اللہ کے یہ ساری مخلوق یہ اللہ تعالی کے خاندان ہے اس کا پریوار ہے اس کی فیملی ہے اس کی مخلوق کے ساتھ ہے تمام بنی نوع انسان کو اللہ تعالی میں نے ایک عیال کے خاندان ایک آئل کے طور پر پیش کیا ہے اور یہ اسلام کا سب سے بڑا امتیاز اور نبی کریم صل وسلم کا سب سے بڑا امتحان ہے الوداع کے موقع پر جو مختلف خطابات ارشاد فرمائے اس کا خلاصہ پڑھ کر سنا دیتا ہوں بہرحال عربی عبارت ہے یا ایو ھل من ناصر ارباب واہ واہ واہ تم پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں نہ ہی سب کو کسی سطح پر کوئی فضیلت ہے نہ سیاہ کو سخت پر سوائے تقویٰ کے تم سب ابنائے آدم ہو اور آدم مٹی سے پیدا ہوا تھا یہ ہے اسلام کی سب سے بڑی خوبی کہ اسلام کسی رنگ نسل قوم علاقہ ہو اس سے بالاتر ہوکر اسلام یہ بتاتا ہے کہ تمام بنی نوع انسان وہ انسان ہیں سب کے سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا ہوا تھا یعنی اس کے خمیر میں رکھی گئی تھی گئی تھی اپنے اطاعت کے طور پر وہ ترقی کر سکتا تھا کہ یہ سب سے بنیادی بات تھی جو اسلام نے بیان کی ایک دو واقعات بتاتا ہوں ہو مثال کے طور پر اسلام نے گن رنگ رنگ و نسل کی بات کو ختم کیا کیا حضرت عزیز نے نے ستمبر دو ہزار بیس میں ایک خطبہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا تلف کے غلام تھے بہت تکلیف اٹھائی ہونے لگتا ہے جس سے آپ نے خود پر محسوس کرتی ہے ابو ابو روانہ کیا بھائی بنا دیا مواخات ان کے درمیان قائم کروا دیں فتح مکہ تو یہ مکہ میں آئے اور مکہ میں آنے کے بعد اب وہاں بھی ان کے پاس تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جھنڈا تیار کروایا اور اس کا نام رکھا بلال کا جھنڈا ta2 اعلال جھنڈا وہ اور وہ دیا جو ان کے بھائی تھے اور فرمایا کہ آپ ایک چوک میں کھڑے ہوجائیں اور یہ اعلان کرے کہ آج جو بھی بلال کے جھنڈے کے نیچے آئے گا وہ امن اور عمان جائے گا جن سڑکوں پہ آپ کو گھسیٹا گیا حضرت بلال جو اس وقت کہلاتے تھے ان کا جھنڈا بلند ہوا سامان لینے کے لیے اس کے نیچے آئے یہ حرکت تھا جو رسول اکرم صل وسلم نے جو امتیاز غلام اور آزاد کالے اور گورے قریشی اور حواشی میں پیدا کیا جاتا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسری مثال آل سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اپنے زمانہ خلافت میں مدینہ سے مناسک حج ادا کرنے کے لیے جب یہ سارے مناسک ادا ہو گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایک کمرے میں تشریف فرما تھے کمرہ تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جس خاندان قریش سے تعلق رکھتے تھے ان کا کام تھا نسب معلوم کرنا انساب یعنی ہر قبیلے کا ہر انسان کا ان کو نصب پتا ہوتا تھا شجرہ نسب انکار کیا ہے ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ تشریف فرما تھے اور الساعۃ مکہ کے بعد غسل لڑکے ان کے فرزندان حضرت عمر سے ملنے کے لیے اب ان کے دل میں ایک اتفاق تھا کہ ہم قریش کے بڑے بڑے خاندانوں میں سے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہمارا احترام کریں گے ہماری خاندانی تک کی وجہ سے ہمارے اعلی خاندان کی وجہ سے ہمارا ایک خوف ہے ہمارا ایک مقام ہے یہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے ان کو اپنے قریب بٹھایا اور ان سے کچھ باتیں کیں کہ اتنے میں ایک غلام تشریف لایا جو نومسلم تھے حضرت عمر نے ان کو آگے آنے کے لیے کہا ان کو کہا پیچھے ہو جائے آئے پھر دوسرے آئے ان کو کہا اور پیچھے ہو جائیں پھر تیسرے ان کو کہا اور پیچھے ہو جائے روایات میں آتا ہے سات غلام جو مکہ میں گزرتے رہے وہ آتے گئے یہ پیچھے ہوتے گئے آتے گئے پیچھے ہوتے تھے کے باہر نکلے اور ان کی آنکھیں نم تھیں تھی کہ ہم تو حال اور فعل قریش کے لوگ ہیں ہیں اور یہ ذلت آج حضرت عمر کی مجلس میں ہمارے ساتھ ہوئی وی یا کہ اسلام سو آسیہ یکسانیت کے لیے آیا ہے اسلام میں رنگ نسل خاندان بڑا ہونا چھوٹا ہونا اس کی کوئی حیثیت نہیں اگر ہے اب تک کوئی جو ان لوگوں نے اختیار کیا اور تمہارے ابو کیا ان لوگوں نے اپنے تقوی کی حفاظت کے لیے دین کی حفاظت کے لیے اسلام کی حفاظت کے لیے بے شمار مظالم سے ہے جو ہمارے بڑوں نے اسے پھر یہ حضرت عمر کے پاس دوبارہ گئے کہ اس ندامت امت اس شرمندگی اس ذلت لعنت اس کا کوئی حل ہے حضرت عمر کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اس میں کوئی شک نہیں تو نہ ہو اور جو تمہاری ذلت آئی ہوئی وہ ایک مجبوری تھیاسلام کا امتیاز اسلام کا جو رسول آیا اس نے اعلان کیا کہ یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم میں کسی علاقے کے لئے نہیں میں کسی قوم کے لئے نہیں میں کسی قبیلے کے لیے نہیں میں کسی رنگ کے لیے نہیں میں کسی نسل کے لیے نہیں ہوں میں تمام بنی نوع انسان کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور رہتی دنیا تک بناکے گیا ہوں اور دوسری المومنین جو میری ہے وہ یہ کہ میرا وجود ہے میرا وجود ہو اور رحیم ہیں وہ کریم ہے اس دائرے میں رہ کے میں تمہاری طبیعت کروں گا جیسے ماں بچے کے ساتھ رحم کرتی ہے ہے وہ میرا عطامحمد ثلاثۃ ارحم الراحمین خدا کا ارحم الراحمین رسول تھا اور آج تک اس کی رحمت کا سلسلہ جاری ہے یہ ہے اسلام یہ ہے اسلام کا رسول یہ ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بھی یہی غزل خدا پاؤ گے آج اس دور میں حضرت محمد صلی وسلم کی بعثت ثانیہ کا مظہر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود وہ رسول اکرم صل وسلم کی بیوی ثانیہ کا مظہر ہے ان تمام صفات کے ساتھ اللہ تعالی اس کو اس دنیا میں بھیجا ہے آج کا کوئی دائرہ ہے تو وہ یہ جماعت احمدیہ اور آج کے دور میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جو حضور کے خلیفہ ہیں یا نشید ہے ہیں اور انہیں کا یہ رحمت کا دائرہ ہے اگر اس کے نیچے کوئی آئے گا تو اطمینان اور سکون پائے گا اللہ تعالی ان کو توفیق عطا اللہ نیازی نے ٹیلی فون کالز کی طرف جائیں گے سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں اسے قریشی عبدالحکیم صاحب اس وقت ہمارے ساتھ ٹیلی فون پر موجود ہیں ان سے بات کرتے ہیں ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ کیا جائے پھر بھی زندگی سے تعلق رکھتا ہے تو اس میں اللہ اور سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کا ذکر ہے ہے وہ رسول اللہ مع الذین انعم اللہ علیہم من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین وحسن اولئک رفیقا صدیق شہید نبی تھیک ہے جیسے درجات بتا رہے ہیں ہم اپنی زندگی میں میں اس امت کا سال سال کے ساتھ ہوگا صدیق صدیق کے ساتھ کیا ہوگا شہید کے ساتھ ہوگا اور نبی کے ساتھ ہوگا  Google.in سیما نے کرنا ہے تو یہی کریں اگر نبی ہوگا ہی نہیں ظلمت کا تو وہاں کیسے نبی کے ساتھ بیٹھے گا جا کے اگر یہ ترجمہ کر لیا جائے آپ کا جیسے یہ تھا کہ میں کر رہے ہیںاللہ نے بتایا جو اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا اللہ تعالی اس کی اطاعت کے مطابق اسے سال صدیق شہید اور نبی بنائے گا لیکن اس امت میں سے بنائے گا اب یہاں پر انہیں کی بات آگے بڑھاتے ہوئے بات کرکے ختم کروں گا احمدی پتہ نہیں کس منہ سے بات کرتے ہیں ان کے مولوی اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام آسمان سے اترے گا وہ اس روئے زمین پر آخری نبی ہوگا کون سا فلسفہ بیان کرتے ہیں دیکھو کس کو منا رہے ہیں میں بھی دوسری طرف کہتے ہیں اس زمین پر آخری نبی ہو گا اور وہ ایسا جس کے بارے میں قرآن مجید میں آیا ہے کہ ہم نے اس کو انجیل تھی اور یہ آیا ہے کہ وہ رسول اور نبی ہی دفعہ قرآن مجید میں اس رسول اور نبی کو جس کو قرآن میں رسول اور نبی کہا گیا اک آئینہ الانجیل قرآن میں کہاں منجی ہے یہ انجیل والے کو اس روئے زمین پر آخری نبی بنانا چاہتے ہیں جو بات ہی کرتے وہ یہ کہتے ہیں اور رقیہ لگائی ہوئی ہے کہ رسول اللہ خاتم النبیین اللہ کے حضور حاضر ہوں خدا کے لئے خدا کا خوف کرو آج کا دنیا بڑا روشن دنیا ہے عقل کی دنیا ہے علم کی دنیا ہے خدا کے لئے کچھ خوف خدا کا اور امت کو گمراہی میں آدھا کیلو جس کو اللہ تعالی نے عصر حاضر میں محمد یوسف حسین کی غلامی میں امتی نبی بنا کر بھیجا اس کے خلیفہ کے چرنوں میں آؤ اس کے قدموں میں او اسی میں نجات ہے اس کے علاوہ اور کوئی کو ٹیلی فون کر لو میں تمہارے ساتھ انڈیا سے ہی بشیر احمد سب وہ بھی اپنا سوال پیش کرنا چاہتے ہیں ان سے بات کرتے ہیں سے چودہ سو سال پہلے نازل ہوا اور قیامت تک یہ رہے گا گا کچھ تعلیمات کا تعلق افریقہ کے جنگلات میں بسنے والوں کے لیے ہے کچھ کا تعلق آسٹریلیا والوں کے لیے ہے کچھ کا تعلق حلال کے لیے کیونکہ یہ کل عالم کے لئے لیے یہ بات ٹھیک ہے جو شکل غلامی کی حضور کے زمانے میں تھی آج نہیں ہے لیکن اس سے صرف ہوں سال پہلے یورپ کے بہت سے ملکوں میں غلامی تھی اور غلام بنا بنا کے بحری جہازوں میں بالکل ننگے چوتیے 1940تک اور پینتالیس تک ہلاتے رہے ہیں اور نا کہ افریقہ کے فیکٹریوں میں اور دوسری جگہوں پر کام کر رہے ہیں اور قیمت لگاتے رہے اور میں نے تو پڑھا وہ آج کل یہ نہیں ہے غلامی کی لیکن آج بھی بہت سے پسماندہ علاقوں میں میرے بھائی جن کی حالت غلاموں سے بھی بدتر از علاقوں میں وہ بھی ہماری مدد کے محتاج ہے وہ بھی محمد صلی وسلم کے غلاموں کی مدد کے محتاج ہیں تو آج تھوڑی شکل تبدیل ہوگئی ہےقرآن کو آزمانہ بخت زمان نہیں ہے مکان نہیں ہے یہ تو اب تک ہے پوری پورا رضیہ کے لئے ہے یہ تو اس کو ہمیں ملحوظ رکھتے قرآن مجید کو پڑھنا چاہیے اگر آج غلام نہیں ہے اللہ نہ کرے کوئی جھنگ ہونے والی ہے جو حالات بنتے چلے جا رہے ہیں پتہ نہیں کیا ہوگا اس لئے ہمیں کیا کرنا چاہیے اور اللہ سے نجات مانگنی چاہیے اور موجودہ دور میں غلاموں سے بھی بدتر جو دنیا کے بعض علاقوں میں لوگ ہیں ان کی مدد کرنی چاہئے اللہ ہمیں توفیق اللہ بنگلہ دیش برکاتہٗ ہے ہے میں غریب کا واقعیا کیا یہ گودی بیٹا تھا نہ غلام تھا اس وجہ فرمادیجئے کا سوال ہے میرا اہل بیت کس کو کہتے ہیں ان شاء اللہ آگے جو سوالات اٹھائے گا لیکن آپ نے سوال کیا ہے میں یہ بتا دیتا ہوں بہرحال یہ کہتے تھے کہ میں آگئے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مطابق ان کے غلاموں میں سے بعض کے مطابق ان کو کسی نے ان کے سامنے کسی نے تحفہ دیا تھا رضی اللہ عنہ کی شادی ہوگئی یتیم کا اس وقت زید بھی ان غلاموں میں آئے جو کہ اس وقت تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار غلاموں کو آزاد کر دیا اس کو بھی آزاد کیا چچا کا اب دونوں حضور صل وسلم کے پاس آئے آئے اور کہنے لگے کہ یہ ہمارا بچہ ہے ہمیں دے حضور نے فرمایا میں تو اسے آزاد کر چکا ہوں لے جاؤ وہ کہنے نہیں جو مرضی کر لو میں نے نہیں جانا عباس لیا اور کاوا میں جا کے اعلان کر دیا کہ اس سے یہ میرا بیٹا ہے ہے اس کو منع کرتے تھے وہ طلب نہ تھا اور میں نام بھی ہو گیا د حضرت علی نے دے دیا اور اسی نام سے مشہور ہوئے تو یہ ہے ان کی کہانی کچھ ان کے بارے میں آگے کچھ سوالات کے جوابات میں نے دوسرا سوال کیا تھا علم اہل بیت اہل بیت اہل بیت کہلاتے ہیں ان کو عام طور پر اسلامی اصطلاح میں ہے ویسے اس کے معنی وہ اگر وسیع روحانی معنوں میں لیں گے وہ تمام جو سیدنا محمد صلوۃ روحانیت میں داخل ہیں وہ بھی اس کے اہل ہیں تو یہ ہے اس کا مختصر جواب جوابتفصیل جاننا چاہوں گا اس اعتراض کا مختصر اور سادہ سا جواب تو یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں کے حقیقی دوست تھے مجھے آپ کا مقصد تھا غلاموں کی اصلاح کرنا معاشرے میں ان کو ایک مقام عطا کرنا آپ کوئی تماشا دیکھنا نہیں چاہتے تھے کوئی نمائش آپ کا مقصد نہیں تھا بلکہ حقیقی غرض یہ تھی کہ ایسا کام کیا جائے جس کے نتیجے میں معاشرے میں استحکام ہوں مضبوطی ہو اور ایک مثالی معاشرے کی تجویز اور اس میں بہتری ہوتی چلی جائے ہر ایک عقل مند شخص سمجھ سکتا ہے غور کر سکتا ہے کہ اگر یہ بات جو معترضین اعتراض کرتے ہیں کہ غلاموں کو ایک ساتھ آزاد کر دیا جائے تو سب سے پہلا بنیادی سوال یہ ہوگا جو ہزاروں کی تعداد میں غلام تھے تھے وہ تو غربت سے مر جائیں گے ان کے کھانے پینے کا انتظام کہاں سے ہو گا حکومت تھی ہی نہیں یا اتنی مضبوط نہیں تھیں تو وہ اس کا انتظام کون کرے گا پھر ان غلاموں میں سے جو مضبوط ہوں گے یا طاقتور ہوں گے جب ان کی صحیح رنگ تربیت نہیں ہوگی تو آیا مجھے آئے گی نہ ہونے کی وجہ سے پریشانیاں جائیں گے کئی مسائل پیدا ہوں گے قوم تباہی کی طرف چلی جائے گی یہی وہ بنیادی وجہ جس کے نتیجے میں اسلام نے جو غلاموں کو آزاد کرنے کا طریقہ اختیار کیا وہ طریقہ دراصل یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یہ لعنت چلی آ رہی ہے یا نہیں ہے بلکہ بعض تو یونانی تہذیب میں سے بھی آپ نے سنا کہ ہندوستانی تہذیب میں بھی یہ ہے کہ انہوں نے تو غریبوں کے لئے الگ لباس اور ان کے رہنے کے لئے گاؤں سے باہر بنا دیے تھے اور یہاں تک تعلیم پائی جاتی تھی کہ اگر غلاموں میں سے اونچی ذات والوں میں اسے کوئی کسی اونچی ذات کے سامنے سے گزرتا چلا جائے تو وہ گھنٹی بجاتا چلا جائے اور اعلان کرتا چلا جائے کہ میں نیچے جہاں تک ہوتی تو نہ جاؤ تو یہ وہ رات تھی جو دنیا کے مختلف حصوں میں پائی جاتی تھی تو میں بھی لعنت تھی اور اس لعنت کو دور کرنے والا اگر کوئی شخص ہے تاریخ عالم میں سب سے پہلے اگر کسی نے اس کے بارے میں آواز اٹھائی ہے تو میرے پیارے آقا خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلاموں کی آزادی کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا وہ یہ تھا کہ آپ نے وہ ظالمانہ طریقے بند کر دیے جس کے تحت ایک انسان دوسرے انسان کو غلام بنا لیتا تھا مسئلہ کوئی بھی آزاد شخص نہیں جا رہے ہیں قافلے کی شکل میں جا رہے ہیں اس کے اوپر کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا ان کا سامان لوٹ لیا اور کافی والوں کو غلام بنا لیا لڑی بنادی گئی جان والے سلوک سے کیا گیا ان کو بازاروں میں جیسے جانوروں کے حسن کی بولی لگا کر ان کو بیچا گیا تو آپ نے اپنی تعلیم میں سختی سے اس بات کو منع کر دیا کہ کسی بھی آزاد شخص کو دوسرے انسان کو غلام بنانے کا کوئی حق نہیں ہے دوسرا آپ نے یہ بتایا کہ جو غلام اس وقت بنے ہوئے تھے ان کے لیے کیا بہترین طریقے ہو سکتے ہیں کیا اس حالات کو دیکھتے ہوئے ان کو یکلخت آزاد کردینا بہتر تھا یا درجہ بدرجہ ان کی تربیت کرتے ہوئے ان کو اسلامی آداب اور اخلاق سکھاتے ہوئے معاشرے کے اندر شامل کرنا ہی بہتر تھا ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس کو دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں کہ انسانی جسم میں کوئی تھوڑا ہوتا ہے ہے تو ڈاکٹر کیا کہتے ہیں بعض دفعہ اس گھوڑے سے انسان کو بچانے کے لیے اس کے جسم کا وہ حصہ کاٹ دیتے ہیں ہوجائے معذور ہو جائے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر بعد ایسا کرتے ہیں کہ اس گھوڑے کے اندر جو مواد ہے جس کی وجہ سے یہ کہا ہے وہ اس کو دور کرنے کے لیے ادویات دیتے ہیں جس سے آہستہ آہستہ و تحلیل ہوتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے اور مواد فاسدہ ختم ہو جاتا ہے اسلام نے دونوں طریقوں کو اختیار کیا ایک تو وہ تاریخ کے غلامی کے بنانے کے راستوں کو بند کر دیا دوسرا طریقہ اسلام میں زیادہ اختیار کیا کہ جو غلام تھے ان غلاموں کو اسلام نے یہ کہا کہ ایسے ان کی تربیت کی جائے اس رنگ میں معاشرے کا ایک مفید وجود بنایا جائے کہ وہ معاشرے کے لیے سالانہ ایک وجود بنتے چلے جائیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طریقہ اختیار فرمایا وہی سب سے افضل اور اعلیٰ تھا اور اس کے نتائج ہمارے سامنے موجود ہیں ہندوستان کی مثال لے لیں ہندوستان میں غلاموں میں سے ایسے لوگ پیدا ہوئے جو ہندوستان کے حاکم ہوئےایک دوسرے پہلو کو بھی اختیار کرتے ہیں اور سوچتے اسلام سے پہلے جو دیگر اسلام کے مخالفین تھے قریش تھے ان کے ساتھ جنگ ہو رہی تھی تھی اب ان جنگوں میں یہ صورتحال ہو رہی تھی کہ جو مسلمان شہید ہوتے وہ جو شہید ہوئے تھے جو زندہ ہاتھ آتے ان کو تو مخالفین قریش کے لوگ سارے مکان کو غلام بنا لیتے اگر یہ تعلیم ہوتی کہ اسلام نے ان کو جنگ میں بھی ان کو یقینی بنانا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آہستہ آہستہ مسلمانوں کی طاقت کم ہوتی چلی جاتی ہے وہ لوگ جو قید ہوکر آتے یا تو احسان کے طور پر چھوڑ دیا جاتا یا ان کو پھر سے مجھے چھوڑ دیا جاتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں طریقوں میں سے جو یہ طریقہ کیا کہ فدیہ لے کر چھوڑنے کے نتیجے میں اس کو یہ بتا دیا کہ آپ اسلام کے موجودہ بنانے کے لئے کوشش کی جائے چنانچہ جنگ بدر میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب غلام آئے ان غلاموں کے فدیہ کے طور پر ان کے سلسلہ میں بیان کی ہے کہ مدینہ کے وہ لوگ جو تعلیمات نہیں جانتے تھے کیا غلام کیا غریب اگر وہ دس لوگوں کو تعلیم سے شادی گے ان کی آزادی ہو جاتی تھی اس طریقے سے معاشرے کے دھبے کتنے لوگ تھے ان کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ آہستہ آہستہ معاشرے کا مفید بن گئے آخری بات کہ میں اپنے سوال کا جواب دیتا ہوں آج ہم یہ بات کر رہے ہیں کہ غلاموں کے لیے یہ طریقہ درست ہے یا نہیں تھا غلاموں کے حوالے سے آج ہم چودہ سال بعد یہ بات کر رہے ہیں جو غلام تھے جو اس زمانے میں موجود تھے وہ کیا سمجھتے تھے کہ ہمارے لیے کون سا طریقہ بہتر تھا کیا وہ نبی کریم صلی وسلم سے تھے یا دشمن سمجھتے تھے کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غلامی کو قائم رکھنے کے حامی تھے یا غلامی کو ختم کرنے کے حامی تھے اور واقعہ بھی آپ نے سنا کہ نبی کریم صلی وسلم کی 25 سال کی عمر میں جب شادی ہوئی تو حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا سارا مال و دولت اور اولاد اور جو کچھ بھی آپ کی جگہ تھی نبی کریم صلی وسلم کے حضور پیش کردیں کہ اس کے مالک ہیں ان سے سمجھاؤں پہلا کام کیا وہ یہی تھا کہ غلاموں کو آزاد کر دیا تو یہ پتہ لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں کے دوست تھے پھر غلام کہ سمجھتے تھے غلام بھی آپ کو اپنا حامی سمجھتے تھے چنانچہ مسلسل واقعات تاریخ میں درج حضرت بلال بھی تکلیف برداشت کر رہے ہیں حضرت صہیب رومی تکلیف برداشت کر رہے تھے پھر ابتدائی جو مسلمان تھے ان پر غور کر کے دیکھ لے سات سال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کی اس کے نتیجے میں تاریخ کے مختصر حالات مختلف کتابوں میں آتا ہے کہ چالیس سے پچاس لوگ مسلمان ہوئے ان میں سے پندرہ سے بیس ایسے تھے جو غلاموں میں سے تھے یعنی وہ غلام یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر ہم نے آزادی حاصل کرنی ہے اگر ہمارے معاشرے میں بہتری کی کوئی صورت ہے تو یہ اسلام کو قبول کرنے کی شکل میں صورت ہے اور نہ صرف یہ کہ یہ غلام جو مسلمان ہوئے تھے بلکہ وہ غلام بھی مشرک تھے یا غیر مسلم تھے وہ بھی حاضر سلم کو اپنا نجات دہندہ مانتے تھے مثل ہذہ کا مشہور واقعہ ہے کہ وہ باہر سے جب گھر آئے تو ان کو ایک اورلونڈی نے ان کی بتائیں آیا کہ آج تین بجے سے واقع ہوا اس کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا اور غور و فکر کیا پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ ہیں سارے غلام نہیں کیے تو یہ جذباتی اور کیفیات والی بات بنتی ہے اس کا حقیقت سے کوئی بھی دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے مزہ پروگرام کو ہی آگے بڑھاتے ہیں اور محترم مولانا محمد کاشف صاحب سے میرا یہ سوال ہے کہ جیسے کہ ہم بات کر رہے ہیں کہ غلاموں سے الجھیں وسلم کا حسن سلوک کے واقعات تو بے شمار ہیں اور مجھے نظر رکھتے ہیں جناب میں آپ کی اجازت سے جواب سے پہلے ایک بات کرنا چاہتا ہوں پچھلی دفعہ میرے بھائی نے ایک واقعہ کا حوالہ مانگا تھا تو اس کی تھوڑی سی اس واقعہ کی تصحیح اور اس کا معائنہ والا وحشت سے جلدی سے پڑھ دیتا ہوں ہو مالک بن ہشام معروف معارف اسلامی گزرے ہیں 213 ہی بات ہوئی ہے سیرت النبی ابن ہشام جلد نمبر 2 صفحہ 26 یہ تحریر فرماتے ہیں اصل میں وہ تھا میں خاک ڈالنے کا یہ واقعہ تھا اس صحت کی کتاب میں وہ واقعہ کیسے درد ہے اس کی روح میں خلاصہ عربی میں ہے اس کا اردو خلاصہ پر دیتا ہوں تاکہ بات واضح ہو جائے گی حضرت ابو طالب کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ بہت تیز ہو گیا یہاں تک کہ آپ کی ذات پر حملے ہونے لگے ایک دوست عربی ہے اسفیانآپ کے سر پر خاک ڈال دیں کھانا سارہ علی واصف علی خان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حالت میں گھر تشریف لائے آئیے آپ کی صاحبزادیوں میں سے ایک نے نے آپ کا سر مبارک ہونا شروع کیا اور ساتھ ساتھ روتی جاتی تھی کرنے والا ہے کوئی اور کا دفاع کرے گا یہ واقعہ سیرت ابن ہشام جلد نمبر 2 صفحہ 26 یا پیچیدہ میں نے کہا تھا کہ اس دفعہ میں حوالہ اور تصویر بھی کردوں گا یہ ہے اب آپ کے سوال کا جواب ارے میرے بھائی ہمارا نور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت اور غلاموں کا رکھوالا آخری سانس نکل رہی ہے اور اور گھر کی حالت ہے ہے اور اس حالت میں جب کے انسان کو کچھ ہوش نہیں ہوتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہہ رہے ہیں الصلاۃ وما ملکت ایمانکم کہ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں تمہارے جن کے مالک ہوئے تمہارے داہنے ہاتھ ہاتھ ان کا خیال رکھنا اس سے زیادہ غلاموں کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا تھا تھا اور آگے میں بتاتا ہوں اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اس کو کیسے فرمایا وما ادراک ما العقبۃ کہ اگر کہانیوں میں سے بلند چوٹیوں پر تم نے چنا ہے ہے غلاموں کو آزاد کرو آپ ہم سارے قرآن مجید کی آیات آپ پڑھ لے اگر کسی نے روزہ نہیں رکھا یا روزہ توڑا علامہ آزاد کرے کوئی اس سے کوئی گناہ سرزد غلطیاں سرزد ہوئی غلام آزاد کرے کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ رسول کے اساتذہ کی تعلیم کا نتیجہ تھا پھر حضور صلی اللہ تعالی عنہ جو بدری صحابہ تھے حضور میں بھی ذکر کیا کیا انہوں نے ایک دفعہ اپنے غلام کو مارا حضور سے پیچھے سے تشریف لائے آئے اور دیکھتے ہوئے کہنے لگے کہ جس طرح یہ غلام تیرے سامنے مشہور ہے ہے تو اللہ کے سامنے اس سے زیادہ مجبور ہے ہے اگر تو اس کا دل نہیں کرے گا اللہ تیرا موڈ چلتا ہے کہ جن میں اس نے اسی وقت نے جو سلوک زید بن حارثہ سے کیا اپنی پھوپھی زاد بیٹی پر اپنی پھوپھی زاد بہن بھائی کی تھی وہ اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی حکومت تھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں بعض روایات آتی ہے کہ ایک صحابی جو کپڑے کی تجارت کرتے تھے ان میں سے آدھی رات تھی پھر میں آپ کو کچھ ایسے اعدادوشمار پیش کرتا ہوں ہو کہ صحابہ کو کتنا شوق تھا غلاموں کو آزاد کرنے کا حضرت علی نے اپنی کتاب سیرۃ خاتم النبیین میں اس کا خاکہ پیش کیا وہ میں تھوڑا سا پڑھا ہوں پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام آزاد کیے یہ ایک محدود انداز ہے اور کچھ ایسے ہیں جن کا تو پتہ بھی نہیں ہے اور غلام آزاد کیالاہور پاکستان کے ایک دن میں آٹھ ہزار غلام آزاد کیا مجموعی طور پر 30 ہزار تین سو بیس غلام بنتے ہیں یہ جن کو آزاد کیا بات ہے ایک دفعہ کیوں نہیں کیا کیا جاتا تھا یہ تو سارے کے سارے دہشت گرد بن جاتے ہیں یا خدانخواستہ کسی اور راستے پر چل پڑتے ایک آخری بات کہتے نہ ختم کردو دیکھیں اسلام نے بہت سی باتیں کیا لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے غلام اگر اپنے مالک کو کہتا ہے کہ میری قیمت مثال کے طور پر ایک ہزار روپیہ ہے مجھے نوکری کر کے مزدوری کرکے تیرا 1000 واپس کر دوں گا اور اس طرح تو مجھے آزاد کر دینا یہ ممالک کے اوپر ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو مخاطب کے ذریعہ سے آزاد کریں اور پھر وہ مکمل طور پر آزاد بھی نہ ہو سکا اور نہ ہی آزاد ہو جاتا ہے تو اس کو کہتے ہیں مولا مولا میرے دوستوں ایسے نکلے مولا وہ اس کی وراثت میں شریک ہو جاتا ہے کہ یہ نہ سمجھے کہ میں غلام ہوں اب میں کسی اور پر یہ کسی اب یہ جو مولا اگر تاریخ اسلام کا واقعات آپ دیکھیں میں تفصیل بیان نہیں کر سکتا اتنا وقت نہیں بڑے بڑے کے پاس صحابہ میں سے گزری غالب سالم تھے وہ مولا تھے وظیفہ کے کے حضور پاک صل وسلم نے چار آدمیوں کو کہا ان سے قرآن مجید پڑھے اس سے ایک سال بھی تھے تھے مشہور قرآن مجید کے عالم بہت بڑے مفسر اور ان کی تفسیر و روایات میں بعض جگہ پر ملتی ہے ہے تو یہ غلام غلام جو یہ کہتے ہیں حضور میں تو غلام کہیں سے بھی منع کردیا تھا حضور نے فرمایا یہ نہیں کہنا کہ آپ کی کہ میرا بھائی اس کے بارے میں کہا اور حضور نے منع کیا کہ کوئی غلام اپنے آقا پر بات نہیں کرے گا بالکل نہیں سید دی یعنی سردار یہ کہنا ہے یہ وہ سارے حقوق تھے جو رسول پاک صلی اللہ وسلم نے یہ غلاموں کو دیے اور اس وقت پتا انسانیت کے لیے یہ ہمارے لئے ایک دعا ہے کہ ایک نمونہ ہے جو قائم رہے گا اس کے اوپر آج بھی اگر انسان عمل کریں آپ میری بات نہیں ہوتی ہے ان کے کمیشن بنے ہوئے ہیں فلاں بنے ہوئے دنیا اس میں مر رہی ہے آج اور کل اصول ہے اگر کھانا نہیں ملا کسی صحابی نے کہا کہ حضور مجھے بھوک لگی ہے میں نے پتھر باندھے تھے آپ نے اٹھا کر کہا میں نے دو مردے دیکھنے ہوں گے اعلان کیا سلمان منا اہل البیت یہ نہ سمجھنا ہے تو ہمارے اہل بیت میں سے ہے یہ حضور پاک صلی اللہ اسوا غلاموں کے ساتھ جو آپ نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہمیں بھی اللہ توفیق دی ہے کہ مظلوم انسانیت کے ساتھ جماعت احمدیہ جس طرح آج ہمارے خلیفہ ہیں اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ کر رہے ہیں آپ یعنی ان مظلوم انسانیت کے لیے اگر کسی کو ٹھنڈا پانی پلانے کی توفیق مل رہی ہے وہ ہمارے خلیفہ ایک دولت کے ذریعے سے نفرت ہے ہے ہےکریم صل وسلم نے پیدا کیا ابھی یہ تفصیل سے اس پروگرام میں آپ نے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسوہ حسنہ دکھایا جو اعلی تعلیمات دکھائیں جو اعلی نمونہ غلاموں کے ساتھ پیش کیا یہ سوال جواب پوچھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ان غلاموں کے اندر وہ بغیر تبدیلی کیا پیدا ہوئی کیا اس کا واقعہ درج ہے ابھی شروع میں حضرت زید کا واقعہ آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلامی کی حالت میں آئے اتنا بہترین سلوک نبی کریم صل وسلم نے کیا کہ ان کو اپنے بیٹے کے مقام عطا فرمایا اور انہوں نے محبت میں جب ان کے حقیقی والدین والد ہے وہاں پر لینے چاہیے تو انہوں نے انکار کر دیا کہ میں تجھے آزادی نہیں کی غلامی میرے لیے بہتر ہے کے واقعات آتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا فجر کے بعد کیا بلال بلال مجھے یہ بتاؤ کہ تمہارا وہ کونسا کام ہے جس کو تم سمجھتے ہو کہ خدا کے نزدیک بہت پسندیدہ کام ہے کیوں میں یہ پوچھا نہیں وسلم اس کی وضاحت بیان کر دیں آپ قرآن فرماتے ہیں کہ میں نے بلال تمہارے جوتوں کی آواز جنت میں سنی ہے جو میرے آگے آگے چل رہی تھی تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں نے ایسا تو کوئی بھی عمل نہیں کیا ہاں جب بھی میں دن اور رات میں وضو کرتا ہوں اس کے بعد میں خدا کے حضور نماز پڑھتا نوافل ادا کرتا ہوں تو روحانیت کا وہ بلند مقام تھا جو ان غلاموں میں سے ملا وہ منظر سامنے لائے حضرت بلال کا جواب تھا جو ان کا سردار بنا ہوا تو میں ایسا ظلم ڈھاتا تھا وہ پتھر رکھ کے ان کے سینے پر چڑھ بیٹھا اور جب الاحد کہہ رہے ہیں اور وہ مقامات شامل ہیں جبکہ اصل فرما رہے ہیں کہ بلال جنت میں تیرے قدموں کی چاپ میرے آگے میں سن رہا تھا تو عرش سے فرش تک مقامات پیدا ہوگا یہ تغیر تھا پھر ایک اور غلام مشہور حضرت صہیب بن سنان کا واقعہ ہے نبی غلام تھے انہوں نے مکہ میں رہ کے اپنا کاروبار کیا کچھوا کام کرتے تھے جب اسلام قبول کرلیا اور مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے تو راستے میں قریش نے روک لیا قریش نے کہا کہ اب ہم سے جانے نہیں دیں گے ہم نے کہا دیکھو تم جانتے ہو کہ میرے پاس پیر ہیں اور میں تم میرا مقابلہ نہیں کر سکتے اگر وہ ختم ہوجائیں گے میں تلوار سے تمہارا مقابلہ کروں گا تو مجھے بھی اس میں بھی نہیں ہرا سکتے لیکن اس کے باوجود میں یہ کہتا ہوں کہ تم اگر مال چاہیے تو میں تمہیں اپنے مال کا پتہ بتا دیتا ہوں وہاں سے میرا سامان لے لو مجھے صحیح سلامتی کے ساتھ جانے دو اور اس کو سمجھا اور ان کا سارا مال لے لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس واقعہ کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابو یحییٰ تھی بیان کیا ہے اب ہوائیں ہی تمہاری تجارت بہت ہی اچھی تجارت رہی تو توبھیج درود اس محسن پر دو دن میں سو سو بار پاک محمد مصطفی نبیوں کا سردار اللہ تعالی سے زیادہ ناظرین اس کے ساتھ آج کا ہمارے پاس ورڈ ختم ہو جاتا ہے آخر میں آپ کی خدمت میں بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں جس میں حضور فرماتے ہیں اگر اللہ تعالی کو تلاش کرنا ہے تو اس کے دل کے پاس تلاش کرو اسی لیے پیغمبروں نے اس کا جامہ پہن لیا تھا اسی طرح چاہیے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تم جو میرے پاس آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے بلکہ سوال یہ ہو گا کہ تمہارا عمل کیا ہے اسی طرح پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہا فاطما خدا تعالیٰ کی ذات کو گا اگر تم کوئی برا کام کرو گی تو خدا تعالیٰ اس واسطے درگزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہوں آج کے پیسوں کے ساتھ ختم ہوتا ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلو ہم اپنی اس کے آئندہ کے دور میں بھی کریں گے اور جنوری 2020 کو ہفتے کے دن انڈین ٹیم کے مطابق رات کے ساڑھے نو بجے اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے قادیان دارالامان سے ہم آپ کی خدمت میں لائیو پیش کریں گے تب تک کے لئے اجازت دیجیے گا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نور جہاں سدا آباد رہو گے آؤ گے نہ خط اور تثلیث کا بتایا ہے کہ یہ ضرور خدا آباد گے تمہیں تار تسلی کمنٹ بتائیں آئی ہے تمہیں اور تسلی بخش ہے

 118 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: