Rah-e-Huda – Ambia Ki Namoos ka Tahaffuz Kesy




Rah-e-Huda – Ambia Ki Namoos ka Tahaffuz Kesy

راہ ھدیٰ ۔ انبیاء کی ناموس کا تحفظ کیسے کرنا چاہیے؟

Rah-e-Huda | 28th November 2020

مجھ سے نبھا دو خدا نہیں ہے اس وجہ سے نبھانا لو جان گا تم پر 16 یہ ہے ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اکرام پروگرام راہ خدا میں ہم گزشتہ پروگرام سے اس بارے میں گفتگو کر رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے ہیں ہیں اور انبیاء نے دنیا کو ایک طرف اللہ تعالی کا پروگرام پہنے کا پیغام پہنچایا ہے اور دوسری طرف اپنا قائم کیا ہے کہ اس پیغام پر اور اس پر کس طرح عمل کیا جائے آئے ہمیشہ موجود انبیاء کا مذاق اڑایا ہے اور ان کی توہین کرنے کی کوشش کی ہے وہ مخالفین کی یہ حرکات دراصل ان کے خلاف کی گئی ہیں لیکن ہم یہ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تاریخ انبیا سے قرآن کریم کی تعلیمات سے اور آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونے سے ہمیں کیا معلوم ہوتا ہے کہ ایسے مواقع پر کیا کرنا چاہیے اور پھر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلیفہ ہماری کیا رہنمائی فرما رہے ہیں انہی موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہے گا گا وبرکاتہ طہ علی اشرف کی روشنی میں چاہتا ہوں کہ میں آسمان روحانیت کے اثرات سورج ستارے ہیں ان کے مخالفین محسوس نہیں کرتے ہیں وہ اللہ کی جنت میں موجود ہیں ان کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے نسل کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا کہ اللہ اور اس کا رسول اللہ تعالی اور اس کے فرشتے ہے اس پر ہم پڑھ رہے ہیں مسلمانوں تم بھی اس پر درود بھیجو اس کو کیا نقصان صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی بلندی عطا کر دے اور دوسرا لائیو کال کرکے فرماتا ہے اور کن حالات رینگنے آخر زمانہ میں آنے والے لوگوں کے لئےکے بارے میں سامنے آئی کہ ان کو غرق کر دیا گیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کے بہت سے دشمنوں کو تلوار کے ذریعے قتل کیا جائے ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ہلاک ہوا اس کے دو بیٹے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجے میں بھیڑیوں کا شکار بن گئے ہیں رہنمائی فرماتا ہے کہ تم اپنا کام کرتے تھے لگاؤ تبلیغ کا کام کرتے تھے جاواں لوگوں کو خدا کا رسول اللہ کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ عالم دین اور راستے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس زمانہ میں یہ تعلیم دی کہ جب بھی کوئی شخص دریا سے اسلام پر رحم فرمائے اللہ علیہ السلام کے زمانے میں جب بھی کوئی اعتراض کیا جب بھی کوئی کتاب لکھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اس کے جواب میں کتاب لکھنے شروع کر دیں اور بعد میں اس لکھے جو صرف عامر کو ہم ان کے جوانوں پر مشتمل ایک مسلمان رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ محسوس کرکے ابابیل رہے ہیں آپ نے صرف النبی کے جلوسوں کی بنیاد ڈالی اور فرمائے ہیں اس دنیا کے ہر مذہب سے ہو اور نہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے مذاہب کے پیشواؤں انگیز بھی قائم کریں گے حضور نے سیرت النبی کے جلوسوں کے علاوہ 1939 میں پیش آنے والی اور اللہ کے فضل سے آج جماعت احمدیہ کس تیزی سے دنیا کے ہر مذہب کے پیشوا کی عزت و تکریم کے نعرے بلند ہو رہے ہیں اس موقع پر یہ نہیں کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے مندرجہ ذیل ہیں اب کیا کرنا ہے کام پر تبلیغ اور تربیت جاسکتا ہے اور تم سناؤ جی چاہتا ہوں ہر مسلم پرسنل لاء کے افریقہ سے تھرڈ اردو خانہ کعبہ پر حملہ کر دیا اور اس کو آسان ہو جائے گا اللہ ہر مسلمان فرماتے ہیں کہ ساغر کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ اگر ہم افریقہ میں اسلام کی تبلیغ کا نظام جاری کر دیے ہیں اور انسانوں کو نہیں ملتیں بنا لیں ہیں قبل اس کے کہ کوئی بات تھی اور خانہ کعبہ پر حملہ کرے انشاء اللہ جیت سچ بولتے ہیں فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی وجہ سے مجھے افریقہ میں تخلیق کی طرف متوجہ ہوئے اور آج اللہ تعالی کے فضل سے افریقہ کے ملکوں میں بڑی شدت کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ قائم ہے اور مولانا سمیع الحق سے زیادہ ہو رہا ہے مسئلہ بن رہی ہیں قرآن کریم میں بھی شائع ہو رہے ہیں جامعہ جہاں کا گانا ہو آپ یہاں پہ بنیاد کے چوبیس ملکو کے 200 سے زائد طلبا زیر تعلیم ہے انشاء اللہ تعالی سے فارغ ہو کر اپنے ملکوں میں بھی افریقہ کے ملکوں میں بھی اور دوسرے ملکوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج کے نام ملتے ہیں اس ہمارا کام تبلیغ تربیت ہے اور آخری بات یہ ہے کہ اگر فساد پھیلانے والوں کو روکنے کے لیے اگر عالمی سطح پر توجہ کا معنی بن سکے تو ہم ان کا سامنا کرتے ہیں جس میں تمام ترامیم شامل کیا جائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آپ سے آنے والے پہلے نبیوں کو بھی اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی اور دوسرے سے بے تعلق کسی بھی مذہب کے ہیں ان کی عزت و حرمت کا معنی پاس کیا جائے اور یہ کہ نہ صرف فساد پھیلانے والے لوگوں کو کوئی توجہ ہونی چاہیے اگر انسان کی قیادت کے ساتھ ہو سکتے ہیں اور انگلستان میں عدالت نے بڑے بڑے جرمانے کر سکتے ہیں اور میں عدالت نے جرمانہ کر سکتے ہیں کسی عام انسان پہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے پیشواؤں جن کی عزت لاکھوں دلوں میں قائم ہے ان کی قائم کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی قانون ہونا چاہیے لیکن عالمی سطح پر ہونا چاہئے اور جہاں بھی کوئی انتہا پسند گروہ ہے اس کا قلع قمع ہونی چاہیے دنیا میں فساد کا سلسلہ کس طرح محترم عبدالسمیع خان صاحب خلافت احمدیہ کا دور شروع ہوتا ہے جو اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ایک سو بارہ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے میں چاہوں گا خدا فائی احمدیت مختلف مواقع پر جب کبھی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر انبیاء کی توہین کا کوئی معاملہ آیا ہے تو انہوں نے ہماری کیا رہنمائی فرمائی ہے سادات ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہیں اور اس دور میں ان ایجادات کے ذریعے سے اسلام کی اشاعت کی تکمیل تھی وہ مکمل ہوئی تھی لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی ہے کہ اسی ذریعہ سے مخالفین نے ان حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراضات کرنا شروع کر دی جو ان اعتراضات کی بھرمار پہلے تھی وہ تو کچھ بھی نہیں تھی جواب ہے کہ آپ ذرائع ابلاغ ایسے ہیں کہ دنیا کی ہر جگہ پر یہ بات پہنچ گئی ہیں نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دور سے یہ معاملہ شروع ہوگئے تھے کتب شائع ہونا شروع ہوگئی تھی اور ڈاکٹر نظام آگیا تھا ذرائع نقل و حمل کل جو تھے وہ پریس ہو گئے تھے بڑھ گئے تھے ہوا ہے ہے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی قربانی اسلام کی قرآن کریم کی دفاع میں جو امور سرانجام دیئے اس کی ابتدا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور سے ہی شروع ہو گئی تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب لکھی ہے براہین احمدیہ ہے تو اس کے جواب میں لکھ رہا ہوں میں نے بھی ایک کتاب لکھی تکذیب براہین احمدیہ کے نام سے پر بلاول تصدیق براہین احمدیہ کے نام سے کتاب لکھی اور بڑے کبھی دلائل کے ساتھ اسلام کی حقانیت اور آنحضور صلی اللہ علیہ کا کیا یا دوسری طرف خلافت سے پہلے عیسائیوں کے اعتراضات تھے اس کے جواب کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام کے ارشاد پر تحریک پر آپ نے کتاب لکھی فصل خراب یہ تو آپ کا جو جہاد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی سے ہی اسلام کی حقانیت کے لئے اور اپنے جسم کے کی ناموس کے دفاع کے لئے شروع ہو گیا تھا جب آپ خلیفہ بنے ہیں تو اس وقت ایک شخص عبدالغفور مسلمان تھا اور یہ ہوگیا اور نہ اس نے اپنا دھرم پال رکھ لیا اور ایک کتاب لکھی اسلام حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے مسند خلافت پر اس وقت تک نہیں آپ نے کتاب کے ذریعے اس کتاب کا نام رکھنا نورالدین کے جو کتاب میں لکھ رہا ہوں اس میں دین محمد اسلم کا نور تو آپ نے اس ذریعہ سے جو ہے وہ اسلام کا دفاع کیا یہ کتاب لکھ کر 9900 میں ذکر ملتا ہے کہ عیسائیوں نے کالج میں عیسائیت کے بارے میں اور اسلام کے بارے میں لیکچر کا شروع سلسلہ شروع کر دیا جب یہ سلسلہ شروع ہوا ہے تو اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے اعلان کیا کہ ہم بھی لاہور میں جو ہیں وہ لیکچرز کا سلسلہ شروع کریں گے اور نوجوانوں کو بتائیں گے کہ حضور صلی وسلم اور اسلام کا حقیقی چہرہ کیا ہے اور ہوئے اور جو لیکچرز ہوئے اور یہ حضور نے چار روزہ جو ہم نے اس سلسلہ شروع کیا ان میں نے جماعت کی روٹی کے علماء نے جو لیکچر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ کا نہ کبھی اگر ہم دوسرا حصہ دیکھتے ہیں دوسری طرف دیکھتے ہیں شرافت کا جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کا دور ہے وہ طویل دور ہے نمبر سلسلہ ہے اس وقت گھر پہ جو ہے وہ اسلام پر حملہ مہربانی اسلام پر حملے ہوئے ہیں سب کا ذکر یہاں ممکن ہے نہ کر سکتے ہیں چند ایک کی بات ہے جب یہ ملے ہیں تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کا دل جو بے قرار ہوگیا اور اپنے تمام امت کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ تین پوائنٹس ہیں اور ان کی طرف آتے ہیں نمبر1 سب سے پہلے ہمیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لیے متحد ہو جانا چاہیے اور یک زبان ہو کے جوان وسلم کا دفاع کرنا چاہیے اور آپ کی سیرت کی تشہیر کے نہیں چاہیے تاکہ اسلام کا حسین چہرہ حضور صلی وسلم کو جو انسان اس دنیا پر وہ لوگوں کو بتانا چاہیے یہ ہماری ذمہ داری ہے دوسری بات آپ نے جو مسلمانوں کی ہے وہ یہی ہے کہ ہمیں حضور صلی وسلم کے دفاع کے لئے جو ہے وہحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں جو مدثر آیا وہ کریں گے دنیا کا شکار کروائیں گے کہ اس علم کی دنیا کے احسانات تھے یہ تو ایک پہلو ہوا کہ مسلمانوں کو متحد ہوکر اسلام کے دفاع کی طرف آپ نے توجہ دلائی اس زمانے میں ایک شخص تھا جواری تھا اس نے ایک مضمون لکھا اور آرہی ہے جو شخص کا نام سے بیوی شرن شرما اور اس نے برتن یا اسے دوزخ کے نام سے اسلام کی اور بانی اسلام کے پر ایک مضمون لکھا جو مختلف ہندو سالوں میں شائع ہوا اور بڑی بیہودہ زبان استعمال کی ہے جہاں اور کوششیں کیں وہاں پر قانونی چارہ جوئی بھی کی اور حضور نے یہ گورنمنٹ کو باور کروایا یہ کتاب جو ہے یہ نامناسب ہے اور جو ہمارے قوانین ملکی اس کے تحت جو ہے وہ حضور نے اس کو چیز کیا اور وہ جو اشاعت ہوئی تھی اس کو سب کروایا ناصر جب کروایا جو ملکی قانون تھا اس وقت لیکن یہ بھی یاد رہے کہ وہ قانون انگریزوں کے دور کا تھا نا کہ مذہبی آزادی تھی حکومت کو کسی مرد کا حصہ نہیں تھی کہ میں ان کے لیے کچھ الفاظ کی املا کی ہوئی تھی ان کے مطابق وہ عمل کرو اس گورنمنٹ ہے اور جو مضمون نگار تھا اس کو بھی سزا بھی ہو کوئی جرمانہ بھی ہوا اور جو ایڈیٹر تھا اس کو صحیح مان بھی ہوا پھر 1927 میں ایک موقع آتا ہے جب رنگیلا رسول نام کی کتاب لکھی گئی اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کا جواب جس انداز میں دیا وہ آج تک قابل تقلید ہے حضور نے کہا کہ حضور سلم کی کے بارے میں غلط نہیں کر رہے ہیں ہمارا کام یہ کیا کہ سلم کی سیرت کو اتنا عام کردیں کہ ہر بندے کو بتاؤ کہ آج کون تھے آپ کے احساسات تھے تو آپ نے جلسہ سیرت النبی کا ایک سلسلہ شروع کیا جو آج تک ہماری جماعت میں اور اس کی خوبی یہ ہے کہ ہر وقت دنیا کے ہر جگہ پر ہر کونے پر سارا سال ادھر سے بنائے جا رہے ہیں میں تو میں آتی مناتے ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی آنحضور صلی وسلم کی سیرت کے لیے سے چلا جا رہا ہے تو کتنا اچھا حضور نے اس معاملے کا سدباب کیا ہے اس مسئلے کا حضرت انس بن مالک کی زندگی کے یہ جو خود گلفا نے جو اس بارے میں جو کاوشیں کی ہیں وہ ایک لمبا سلسلہ ہے تو ہم حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ذکر تک یہاں رہتے ہیں اور کیونکہ میرے سامنے سوالات آنے شروع ہو گئے تم سوالات کی طرف چلتے ہیں پھر ان شاء اللہ موقع ملا تو ہم اس طرح واپس آئیں گے ناظرین آپ کے سوالات کا سلسلہ کثرت کے ساتھ یہاں شروع ہو چکا ہے لیکن اس وقت لائن پر ہمارے ساتھ موجود ہیں محمد عبدالرشید صاحب تو میں چاہوں گا پہلے مجھ سے بات کرنے ہمارے ریگولر ہیں اور بڑے چونکہ سوالات لے کے آتے ہی محمد عبدالرشید صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ ہو قسط نمبر چوبی انہوں نے اپنے تفسیر صغیر میں نوٹ لکھا ہے اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی انسان اس زمین سے باہر نہیں جا سکتا نہ آسمان پر جا سکتا ہے جیسا کہ غلطی سے لوگ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ آسمان پر چلے گئے اگر وہ دونوں آسمان پر بیٹھے ہیں تو یا تو یہ ایک غلط ہے کہ تم اس زمین میں ہی رہوں گی اور اسی میں ہی مرو گے یا پھر ایسا اور انسان نہیں تھے اس بارے میں فرما دیں پھر حضرت حضرت آدم کا بھی ذکر ہے کہ ان کو بھی صحت حسین کیا گیا زمین میں براہ کرم وضاحت فرما دیں جزاک اللہ جزاک اللہ بہت بہت شکریہ محمد عبدالرشید صاحب یہ عطائیوں نہ تھی اس آیت قرآنی سورہ احزاب کی آیت نمبر 26 ہے اس کے حوالے سے محمد عبدالرشید سید صاحب نے سوال کیا ہے اور یہ سوال لے کر میں گانا چاہوں گا اور محترم عبدالسمیع خان صاحب کے سامنے یہ سوال پیش کرنا چاہوں گا اب ہمارے بھائی محمد عبدالرشید صاحب یہ سورت کی آیت نمبر 26 کے حوالے سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اس آیت میں جو لکھا ہوا ہے کہ کوئی بھی اس دنیا سے یاسمین سے باہر نہیں نکل سکتا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے جو ہمارے مخالفین کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ چلے گئے ہیںہوتا ہے کہ وہ خراب اس زمین سے نکل جاتے ہیں اس کا کیا مطلب ہے جو لوگ پاکستان پریمیر اس پر جانے کی کوشش کر رہے ہیں تو قرآنی آیت کے حوالے سے پیغام دے رہی ہے کہ تم زمین کے ماحول سے نکل کر نہیں رہ سکتے ہیں جن کے اوپر صرف چند کلومیٹر ہلاکت کا خطرہ ہے جس میں ہوا ہے اور اس کے بعد خلاف بالکل اور اس کو ہوا کا سن لے جانا پڑتا ہے کسی جنات پریشان کر دے رکھی ہے جو آدمی چاند پر گئے ہیں یا میرے اوپر بستیاں بسانے کی کوشش کریں اور سلمان خان وہوا کو ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس پر آکسیجن پیدا ہوگی اور انسان زندہ رہے گا اس لئے وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے باہر جا چکے ہیں آسمان پر ہیں اور پھیلانے کی بات ہے کہ ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہو گا ان کو ہوا کی ضرورت ہے کھانے کی ضرورت ہے سنی عالم لکھنے کی ضرورت ہے جو قرآن کریم میں بیان کرتا ہے کہ ہم نے ان کے جیسا نہیں بنایا ماشاءاللہ جیسا کہ ہم نے ان کے جیسا نہیں بنایا کہ وہ کھانا کھاتے ہو اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس ان سے جنگ کیسے لڑنی ہے جیسے وہ سانس لیتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کھانا نہیں کھاتے ہیں اور کھانا لانے کو تیار نہیں کرتا ہے اور کھانا ہے جو انسان کے جسم کے مطابق ہے اگر وہ انسان جس نے ہے اگر وہ خدائی ہے تو پھر وہ خدا ہے جس طرح حصہ مانتے ہیں پھر وہ انسان نہیں اگر وہ انسان ہیں اور رسول ہیں محمد کا خدا کرتا کوئی بشر رسول آسمان پر جانے سکتا اور اگر کوئی آ سکتا ہے تو پھر وہ کھانے سے آزاد نہیں حضرت مسیح علیہ السلام 2007 سے کھانا کھا رہے ہیں اور وہ کھانا لکڑیوں کو بتاتا بھی ہوگا ان کے لیے کہا آلو سبزی گوشت چکن یہ ساری باتیں بیان کر جاتے ہیں اگر یہ ساری چیزیں آسمان پر موجود ہیں تو پھر پیروں کا ملانا بھی ہے بے غیرتی سال اسلام کا کوئی مول نہ ہوا اگر وہ اپنے بت میں بھی پائے جاتے ہیں اور اگر میں بحث نہیں پائے جاتے ہیں ان کا دل پتھر ہٹانے قوت بھی جائزہ نہ کرتا ہو گا کبھی پالک کھانے کو دل کرتا ہے وہ اس نے ساری فضول بات ہے یہ عالم فانی نظم ہے اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو روحانی رفعت آتے یہ ہو تو نے صلیب پر مارنا چاہتے تھے انہیں ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ جھوٹا شخص ہے نعوذ باللہ اللہ تعالی نے خود سے بچایا اپنے فضل سے وہ کشمیر میں شرکت کرکے آئے انہوں نے وہاں اپنی رحمت کے مقاصد پورے کئے وہ دستاویز میں بھیجے تھے وہ آئے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیتے ہوئے ایک سو بیس سال کی عمر میں شہید ہو گئے ہم نے تفصیل کے ساتھ یہ سارے دلائل پیش کرنے پر مسلسل اسلام کے زمانے سے لے کر آج تک دلائل کا ایک انبار ہے تو جمع کرکے پیش کر رہے ہیں اور شاید وہ ان کو قبول کرتے چلے جا رہے ہیں میں یقین اور یہاں تو وہ آپ نے سورۃ اعراف کی ایک جگہ برائے فروخت پکڑ لیا اور بیچ کے بعد میں نے اسے یہ پتہ لگتا ہے کہ انسان ایسے ماحول کے بغیر نہیں رہ سکتا اور انسانوں ساری چیزوں کا محتاج ہے اسلام آباد میں وہ باتیں کرتے ہیں اور مختلف کر نہیں سکتا اور بیل کی ان کے پاس سامنا ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بند ہے اور یہ تنہائی ہے نہ ملا جس میں 2 ہزار سال قدیم قلعہ یو کے سارے تم نے جس طرح سمجھ نہیں آتی کہ مجھے ساری موضوع معجزہ در مورد نظر موجود ہے انسان نے وہ انسان سے بلا کر مخلوق ہے جس طرحہیں تو اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے ان کو دوسرا جھوٹ بولنا پڑتا ہے تیسرا جھوٹ بولنا پڑتا ہے اور یہ باتیں آگے سے آگے بڑھتی چلی جاتی ہیں لیکن اگر آپ عقل سے بھی کام لے کر بھی غور کریں اور سب سے بڑھ کر قرآن کریم کی تعلیمات پر غور کریں تو صرف یہ بات آپ کو سمجھ میں آئے گی کہ جماعت احمدیہ جو دعوی کرتی ہے چاہے وہ وفات مسیح کے بارے میں ہو جائے وہ ختم نبوت کے بارے میں ہو چاہے وہ مقام و مرتبہ آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دراصل وہی درست ہے ہمیں امید ہے لوگ ہماری باتوں پر غور ضرور کریں گے اس وقت بلال احمد صاحب کا بھی ایک سوال آیا ہوا ہے وہ دراصل ناموس رسالت کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کاوشوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں محترم بلال صاحب گزشتہ پروگرام نے بھی ہم نے ذکر کیا تھا اس پروگرام کے آغاز میں بھی ہم نے اس بارے میں ذکر کیا ہے اور اس ذکر کو کرنے کے بعد ہم خلفائے احمدیت کی کاوشوں کا آغاز کر رہے ہیں آپ امید ہے اس کو دیکھ لیں گے اس کے علاوہ جو ہمارے پاس سوال ہے وہ ہمارے بھائی ہیں اسم صاحب اور سری لنکا سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں بلال احمد صاحب نے کشمیر سے اپنا سوال بھیجا تھا تو اس میں حصہ جو سری لنکا سے سوال پوچھ رہے ہیں جو صاحب آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں وہ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتاب ازالہ اوہام حصہ اول میں یعنی جو روحانی خزائن کی جلد نمبر 3 اور صفحہ نمبر 251 ہے تو پھر فرمایا ہے کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیحا سکتا ہے اس جملے کی وضاحت چاہتے ہیں ہیں اور السلام جو یہ بیان فرما رہے ہیں وہ یہ ہے کہ حضور فرماتے میرا یہ دعویٰ تو نہیں ہے کہ میں اکیلا ہی مسیح و خدا تعالی نے آپ کو اسی کا نام دیا لیکن خدا تعالیٰ جو ہے وہ مسیح کے نام میں سیکس فاطمی اور لوگوں کو بھی سکتا ہے اور حضور کے ایک کیا کر سکتے ہیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ حضور کا فرمان ہے حضور فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کے جو حقیقی علماء ہیں جن کے بارے میں قرآن کریم کہتا ہے انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء کے یقین جو حقیقی رہنما ہے وہ خدا تعالی کا حقیقی تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ان حضور صل وسلم کی بتائی ہوئی تعلیمات ہیں ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو جو شخص اس کی ڈگری پر علماء کی تعریف کے مستحق ہوتا اس کو اس نے فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے انبیاء کی مسیح میں ان کی  مانند ہیں تو حضرت مسیح ناصری اسلام بھی بنی اسرائیلی سلسلے کے نبی تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالی نے مسیح بن مریم کہا کہ آپ نے اس سے بات کی پیشگوئیاں بھی تھی اور آنحضور صلی علی نبی دیا تھا فرما کر ہمارے سامنے یہ جو فرمایا ہے اور حدیث میں بھی ہے کہ اس نے فرمایا کہ میرے بعد جو ہے وہ جابر حکمران آئے گی پہلے خلافت آئے گی پھر جابر حکمران آئیں گے پھر اور اسے بھی کسی قسم کی حکمرانی ہوگی اس کے بعد اللہ تعالی خلافت علی منہاج نبوت قائم کرے گا اور آنحضور صلی وسلم کے بعد خاموش ہو گیا جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ خلافت علی منہاج النبوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے حاصل کی دوبارہ خلافت کا آیا ہوا ہے قیامت جاری رہے گی اور ہم یہ مانتے ہیں کہ رسالہ الوصیت میں تو نے فرمایا ہے کہ میرے بعد آسانی ہے تو میں ضرور ہوگا تو جتنے بھی فطرت ثانیہ کے مظہر ہیں ہمارے خلاف اس سارے کے سارے مسیحی کام کر رہے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہم رنگ ہیں یہ نہیں ہے یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان ہونی چاہیے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ اس سلسلے کے علاوہ کوئی اور سلسلہ شروع کرے گا کوئی اور سلسلہ شروع نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ حضور صل وسلم کی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے سلسلہ جاری کردیا ہے اور اب خلفاء کے ذریعے سے وہ کام ہو رہے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو مسیحا نے ہی کے لیے مختلف ہیں اور کوئی نہیں ہے کوئی نہیں پینل سسٹم نہیں چلے گی اس کے ساتھ کام کیا ہے یہ ہے کہ اسلام کی دنیا میں قائم کریں اور بالخصوص آیت کے جو ہم ملے ہیں ان سے اسلام کا دفاع کریں اور یہ میرے خلاف کر رہے ہیں تو جو فرمایا ہے اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہے کہ اللہ تعالی کوئی نئی بوتل قائم کرے گا تو نہیں کرے گا یہی خلافت ہے جو مصیبت میں کام آئےعلیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی تعلیمات کو کھول کر دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے اگر آپ ان کتب کا مطالعہ کریں تو وہ آپ کو ایک بات ہی نظر آئے گی اور وہ یہ ہے کہ ان کتب میں ایک طرف قرآن کریم کی مختلف آیات کی تفسیر بیان کی گئی ہے دوسری طرف سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا گیا ہے اور تیسری طرف انسانوں کی اصلاح کے لئے جماعت کی اصلاح کے لئے وہی تعلیمات جو دراصل ان کے گئے ہیں گویا دوبارہ لوگوں کے سامنے بیان کیا اور اس کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی ہے کہ قرآن کریم موجود تھا اور موجود ہے اور موجود رہے گا لیکن اس کے عمل کرنے والے وہ بے راہرو ہو رہے ہیں تو ان کی اصلاح کے لئے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس دنیا میں آئے ہیں نوید احمد صاحب کینیڈا سے آپ کا سوال ہمیں مل گیا ہے تھوڑا سا کی نوعیت کا سامان ہے اس پروگرام میں شامل نہ کر سکی سید مسعود احمد صاحب بنگلہ دیش سے ندیم احمد انجم صاحب آپ کے پیغامات ہمیں مل گئے ہیں لیکن اگلا سوال لے کر محترم عبدالسمیع خان صاحب کی طرف چلتا ہوں عبد الصمد صاحب ہمارے بھائی ہیں خادم محمد سعید صاحب جو پاکستان سے ہمیں اپنا سوال انہوں نے بھجوایا ہے اور ان کا سوال یہ ہے کہ نبی کی کامیابی کا دارومدار اس کے ذاتی نمونہ پر ہی ہوتا ہے یا پھر اور کوئی بھی ذرائع استعمال کرتا ہے ہے ہے لیکن سب سے بڑھ کر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے رسول اللہ سے فرمایا اعلان کرو فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تینوں میں سے چالیس سال پہلے یہ مرغا چکا ہوں تم نے مجھے کبھی کسی انسان پر جھوٹ باندھ کے بیٹھنا تو نے خدا پر جھوٹ بولوں گا کیونکہ تم پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو لوٹا کہتے تھے یا نہیں تھے آپ کا انتظار کرتے تھے وہ دل میں آپ کی سطح پر اصرار کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ ابو جان سے پوچھا کہ تم بتاؤ کیا تم رسول اللہ کا سمجھتے ہو اس نے کہا تم نے جھوٹا نہیں سمجھتا لیکن اس تعلیم کو قبول نہیں کر سکتا ہے وہاں یہی ایک خدا کو مانو اور بتوں کو چھوڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کثرت سے ثابت ہوتی ہے آپ کو صادق اور امین کہا کرتی تھی اور بڑے دشمن باوجود انکار کرکے آپ کی صداقت کا اعلان کرنے پر مجبور ہے کہ رسول اللہ صلی مشتمل تھا جن میں مارا گیا اس کو کسی نے اطلاع پہنچائی اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی ہے کہ لوگ مجھے قتل کر دے تو اس نے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو گا وہ بدر کی جنگ میں جانے کو تیار نہیں تھا جن کے ہاتھوں قتل ہوئے ان کے شرائط اور اس کے دل پر گراں لیکن خدا کی تقدیر اس کو گرفتار کر لیا جائے تو یہ بات نہیں جانتے یہ کے مطابق اس لئے سب سے بڑی بات میں ہے کہ بیٹا پاکیزہ نمونہ ہے اس کی طاقت کی بجائے اس کے کردار سب سے بڑے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی دوسری بات کرنے اور مذہبی ہونے کا حصہ سمجھا نہیں تھے مثلا دعا ہے ہے اور امت مسلمہ الصلاۃ والسلام علیک یا مضمون بڑی دور سے بیان فرمایا ہے کہ وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں گلاں کراں گے لاکھ واری مر گئے تھے دلوں میں زندہ ہو گئے اور آنکھوں کے دے دینا ہوئے اور لوگوں کی زبانوں پر معرفت لائبریری ہوئے ہیں اور ایک دفعہ حسین کربلا برپا ہوا تو اس سے پہلے کس نے اسلام قبول کیا تھا وہ کھلا رہے تھے جس میں انقلاب برپا کردیا اور سننے میں حالات کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے انبیاء کی کامیابی نے ان کی دعاؤں کا بہت بھاری دخل ہے اور قرآن کریم نے لکھے معلوم شد و علیکم یا ربی انی لما انزلت الی من خیر فقیر فرعون کے متعلق وہی قوم کے متعلق وہی اس کے سر میں درد اور ہونا نہیں بلکہ اس کی تبلیغ اور اللہ تعالی نے اس کا بڑی کثرت کے ساتھ تفصیل کے ساتھ قرآن کریم نے کیا فرمایاصاحبزادہ فضل کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی کرنے کے ساتھ پھر صبر و استقامت کے جلوے دیکھا اس کی زندگی میں وہ نظر آتا ہے رسول ہم انتہائی دکھ اٹھائے پتھر کھائے ہوئے جنگ احد میں آپ صلی اللہ انہوں نے سر سے پاؤں تک آپ کے جسم پر زخم آئے اور آپ کے مارے گئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیغام پہنچانا نہیں چھوڑا جنگ احد کی رات کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے حالات مدینہ پہنچے تو آپ کے زخموں پر مرہم پٹی کی جارہی ہے جس کے بعد آیت کا نعرہ بلند کیا یہ وہ توحید کا پیغام ہے اور اس کے ساتھ اپنی جانیں قربان کر کرتے رہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے کے ساتھ نہ آیا تو اس نے خط لکھ کر ان کے دلوں کو فتح کر لے وہی سوال کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاون خصوصی عمارت یا رسول اللہ کہنے کا یہ محمد آپ کے کام ہو رہا ہے ہے آپ کا مرضی انتظار کرلیں گے اور اپنے بھائیوں کے لیے مکان ہے اور جب کہ مدینہ میں صحابہ پر کا پتھر بن کر آئے تھے آج پھر اپنے عقل کے بجائے اور ان کے لیے آئے تھے جس کے نتیجے میں بارش ہو گیا یہ سارا واقعہ تفصیل کے ساتھ ظلم اور بہت سی باتیں اخذ کیے جاسکتے ہیں بڑا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سب سے جھوٹا پاکستان حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طرح اپنے کردار کے ساتھ بعد میں اپنا پاک نہ دکھایا دشمنوں کے لیے دعائیں ان کے ساتھ سلوک کیا صبر و استقامت اور ہر طرح کے رکھ شاکر صاحب اور یہی وہ سوائے نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو موجودہ دور میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آپ کے خلفاء اور آپ کی جماعت دنیا کو دکھا رہی ہے اس وقت اس زمین پر اگر اس کا نام لیتے ہیں اس وجہ سے کہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ پڑھتے ہیں اور اس وجہ سے کہ وقت کے امام کو مانتے ہیں ان وجوہات کی بنا پر اگر کسی کو مارا جا رہا ہے کسی کو شہید کیا جارہا ہے اور کسی کو جیل میں ڈالا جا رہا ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہے ہم اپنے مخالفین کو بار بار یاد کرتے ہیں یہ الہی سے صلح ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اللہ تعالی نے بھی ہوئی ہے اس لئے کسی بھی مخالفت سے پہلے سب سے پہلے کتیا کو دیکھ لیں اور پھر پھر آپ نے خدا تعالی سے پوچھیں اور یہ خود تحقیق کرنے کی کوشش کریں کہ وہ کر رہی ہے ہے ہے کافی ہیں کہ جلدی آپ کے سامنے پیش کریں ہمارے بھائی ہیں جاوید اقبال صاحب وہ سوالات پوچھ رہے ہیں امام مہدی کی آمد کے بارے میں قرآن و حدیث میں کہاں کہاں ذکر ملتا ہے مختصر بتا دیں کہ امام مہدی کے بارے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تمام انبیاء جو اس دنیا میں قرآن کریم بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ وہ سارے امام مہدی تھے تھے تو یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ جتنے انبیاء ہیں ان کی جو مختلف ہوتی ہیں ان صفات میں سے ایک صفت نہیں ہوتی ہے کہ وہ امام مہدی ہوتے ہیں مثلا دو جگہ پر قرآن کریم میں اللہ تعالی نے یہ بات بھی ان کی ایک سورت الانبیاء آیت نمبر ہے جس میں فرمایا کہ یہ دونوں بھی مدینہ کا ذکر کیا ہے اس ماہ کو اللہ علیہ السلام کا اور فرمایا کہ یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے امام بنایا تھا اسے امام تھے جو ہمارے حکم سے دیتے تھے تھوڑے سے لپٹ کر کے ساتھی ہیں آئیے اس صورتحال میں بھی لہرائی ہوئی ہے پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے فرمایا انہیں جعلی نامہبخاری کیا فرمایا لو کان الایمان معلقا بالثریا لال اور اجالا اگر آسمان اگر آسمان کو بھی چلا گیا تو سلمان فارسی کی قوم کے بعض لوگ اس کو دوبارہ زمین پر قائم کریں گے تو ان حضور صل وسلم کی بعثت جو ہے وہ دوبارہ ہونی تھی اور تمام انبیا امام مہدی آبادی سے اگر ہم اس بات کو ذرا دیکھیں تو اسے بیان کروں گا بہت ساری حدیث جس میں یہ بات ثابت ہوتی ہے 37 آنے والا مسیحی مہدی ہے وہ یہ ہے کہ یہ اسلامی دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے رسول کی حدیث ہے پھر اسی طرح ایک اور مسند احمد بن حنبل کی ایک بڑی مشہور حدیث ہے جس میں اس نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم تم لوگوں میں آئیں گے اور وہاں پر صفات بیان کی ہیں ان میں سے ایک صفت یہ بیان کی ہے کہ امام مہدی امام مہدی ہونے کی حالت میں آئیں گے تو آنے والا جو مسئلہ ہے اس کو کو مصیبت میں مریم اس کو انہوں نے امام مہندی میں کیا ہوا اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے جس میں قرآن کے حوالے سے اس کی ہے کہ جتنے نبی آئے ہیں وہ سارے کے سارے ماما دی تھے آخری باتیں پیش کرتا ہوں کہ مجھے اندازہ ہے کہ آپ بہت زیادہ ہے میرے پاس طبرانی کی حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ میں اس ابن مریم کے عیسی ابن مریم جو ہے وہ نازل ہوں گے تو ملتی ہیں مصدق محمد ان کے وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آئیں گے اور آگے فرمایا امام مہدی اس حال میں کے آپ ہی مہدی ہونگے تو حدیث کی سند کے ساتھ مل رہی ہیں یہ بتا رہی ہیں کہ آنے والا جو مسیح اور مہدی بھی ہے تو دوست سے بات ہوگی کل بھی حوالہ دیا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے جو یاد رکھنے والی بات ہے کہ جتنے انبیاء خدا تعالیٰ کے آتے ہیں وہ سارے امام مہدی  ہندی بہت شکریہ شاہ صاحب جو اگلا سوال ہے وہ ہمارے بھائی ارسلان احمد نے انڈیا سے بھیجا ہے اور یہ سوال میں عبدالسمیع خان صاحب کے سامنے پیش کروں گا میں سارا سوال پر دیتا ہوں تاکہ ناظرین بھی اس نے ہمارے سوال یہ بھیجا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درمیان جو مباہلہ 1893 میں ہوا اس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ عبداللہ آتھم پندرہ مہینے کے اندر کرایا جائے گا یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ڈپٹی عبداللہ کی وفات ہوئی اور فیروز پور پنجاب میں اس کی قبر ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کی وفات اس کی موت موبائل کے تین برس کے بعد ہوئی ہے تین برس کے اندر نہیں ہوئی عبدالسمیع خان صاحب گا اس سوال کا جواب دیں z8 کے درمیان مباحثہ ہوا جس سے شائع شدہ ہے اور روحانی خزائن کی زندگی میں شامل ہیں عیسائیوں کی طرف سے جو بڑے لیڈر تھے باہر نکل آتے ہیں جنہوں نے بعد میں حضور پر مقدمہ دائر کیا تھا جس میں میں اور جون کے مہینے میں جاری رہا اور عبداللہ آتھم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی فتح ہے تحریک مسلموں کو اسلام نے دوبارہ اس ماہ کے آخر میں فرمایا اگر غور سے سنی ہے اللہ تعالی نے مجھے خبر دی ہے وہ فرق جو ہم دن بھر کر رہا ہے اگر وہ حق کی طرف رجوع نہیں کیا جاتا ہے 15 مارچ تک وہ آج ہمیں بتایا جائے اور چونکہ بنگلہ دیش مباحثہ جاری رہا ہے اور لندن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاقی گئے ہیں اس لیے اللہ تعالی نے پندرہ مہینے اس لئے میں یاد رکھئے گا کیا ہوتا ہے مثلا صلاۃوسلام کے اعلان کے ایک مہینے کے اندر اندر امرتسر کے جو میری پینشن تھا اس کے مقابلے کے بعد وہ شخص مظفر انتظام کر رہا تھا اس بات کا لوگوں کی آمدورفت کا اصل ذمہ دار تھا کہ کھانے پینے میں مر گیا نہ دوا ہی مر گئے اور دوسری طرف دو عالم کے دل میں خوف پیدا ہوا اور اس نے اپنی زبان سے جس وقت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیش گوئی بھی فرما رہے ہیں اس کو ہاتھ لگایا اور اس کا رنگ بدل گیا اور اس کے کانوں کو ہاتھ لگا کر کارکنوں اللہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست ہیں اس کے بعد مجھے 15 میں ہی تھے اس کا برا حال رہا ایک شعرمیں نے رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی ہے اور میں اسے ڈرامے ہیں اور میرے دل پر کوئی غالب نہیں آیا اور میں کوئی تعلق کو ہاتھ لگا کر وضو نہیں کیا لیکن اس عبداللہ آتھم نے اس بات کا کوئی اعلان نہیں کیا اور دل میں لڑتا رہا یہاں تک کے شہر بھاگتا رہا ہے اس کو صاف نظر آتے تھے اس کو عبادت ڈرامے اور وہ بھاگ کر اس کے چار علامتیں 5 ستمبر 1993 میں 1800 سے ایک رات پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آگ میں ڈالا حوالہ ہم یہی غم ہے کہ اللہ تعالی نے اس کے نام اور اس کے حل کو دیکھے ہیں اللہ تعالی مطلب ہوا اور اس نے پیشنگوئی عارضی طور پر پھیلا دیں جب یہ ختم ہونے تھے اگر تم سے یہ اسلامی کتاب شاکر اور فرمایا کہ خدا نے مجھے نہیں کیا اور یہ خدا کے عذاب سے ڈرتا نہیں رہا تو پھر اعلان کریں یا پھر دیکھتے اخلاق تیار کیا اور مارچ میں ہزار روپے تک کال کرتا ہوں اگر تم نے حق کی طرح دل میں بھرا تو اعلان کرو میں ہزاروں پتہ چل گیا ہے کہ 2004 تک اس تحقیق کو چھپایا ہے اب میں گستاخی ڈال دیتے ہیں اور صلاحیتوں پر توجہ دیتی تھی اور اس طرح فلاپ شو تھا صادق اور امین الحق سے عذاب کو ٹال دیتا ہے اور خاص طور پر ان کو طلاق دیتا ہے اور اگر وہ مستقل توجہ اور گریہ و زاری رحمت پر مستقل استعمال سے اس تحقیق کو چھپایا ہے اور دنیا پر حکومت نافذ کر دیا گیا ہے نہ کرتا ہوں کہ میرے ماتھے پہ لکھو سلام کے ساتھ ہی جا را روپے والے اشتہار کے بعد سات میں جنرل گیا اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام علیک یا جوان ہے میں تھوڑا ہو میری زندگی میں مرجع اور میں نے کہا کہ اس بات میں پہلے مر جائے اور آپ ہمیں مر گیا اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دل میں یہ رخصت ہوگیا اور کیا انسان ہونا اور عطااللہ کے نشانات میں سجا دی ہے کہ اگر کوئی شخص اگر وہ راضی کرتا ہے اور جہاں تک زندہ بھی خلا کا نشان ہے اور حق کو چھپانا بھی خدا کی نشاندہی کرتا ہے اس لیے جب پاکستان کے لوگوں نے طرح جانتے ہیں کہ اس نے کہا کہ مجھے تم کو ابھی تک نہ پسند نہیں کرتے ہو اور اللہ تعالی نے اس میں کوئی پورا کیا اور کئی لوگوں نے اس وجہ سے وہ اپنے معاملات کو اسلام کو قبول کیا اور اپنے ماں باپ بہت شکریہ عابد علی خان صاحب پروگرام کا وقت بڑی تیزی سے اپنے اختتام کی طرف جارہا ہے ہم مختصر وقت میں لکھیں جس طرح عبد اللہ صاحب نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس سوال کا جواب دیا ہے جس سے تھا اگلا سوال مسعود صاحب آپ کے سامنے قدیر ملک صاحب کینیڈا سے سوال پوچھ رہے ہیں وہ پوچھ رہے ہیں کہ ایک زمانے میں ہندوستان میں عیسائیت بڑی تیزی سے پھیل رہی تھی بعد ریفری نے اعلان کیا کہ جس تیزی سے عیسائی ترقی کر رہی ہے بہت جلد ہم میں ہی تھی نہ پر اس آیت کا جھنڈا لہرائیں گے سوال یہ ہے کہ عیسائی پادری کیا کہہ کرایک سانس آسمانوں پر جا کر بیٹھ گیا دوسری بات تو یہ کہتے تھے کہ دیکھو تمہاری اپنی عمر جو ہے وہ حضرت عیسی کی موت آ جائے وہ واپس آئیں گے اور تمہارے دل کو تقویت دیں گے سمندر کو ٹھیک ہے تو کہتے تھے کہ دیکھو یہ ساری باتیں ایسی ادعوھم کر رہے ہیں ہمارا دین ہمارے مسئلے کا محتاج اور ساری صفات دیکھ لو پرندے بنایا انہوں نے مردوں کو زندہ نہیں کیا تمہاری کتابیں کہ یہ ساری باتیں ہمیں تو یہی کہہ رہا ہے تو یہ وہ چیزیں تھیں جن کو ایک عام آدمی سمجھنے سے جب کا سر ہوا تو پھر ان کی گود میں جا کر بیٹھ گیا کیا اور وہ کہہ رہا تھا اور یہ تھا کہ اے 188 جوہرٹاون اس سے 30 سال کے اندر اندر کے حصے میں جو ہے جو بیان کیا جاتا ہے ان کی تعداد دو تھی وہ نظر آرہی تھی لیکن یہ جمپ پلی کر تقریبا پانچ سال کے اندر اندر باتیں کی ہیں ساری باتے اور جو اس زمانے میں فلسفے کے دلدادہ لوگ تھے اور مسلمانوں کے گانے کیوں نہ ہوں جب ان کے سامنے بات کی جاتی تھی تو کتنے بات کو ٹھیک ہے اور وہ ان کی باتوں میں آکر ان کے ساتھ جا کے بیٹھ جایا کرتے تھے اور اسلام توڑ دیا کرتے تھے مرتبہ رہا کرتے تھے پھر پھر یہ وہ حالت تھی جب مسلمانوں کو تو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کریں اور یہ بھی لگا کر رہے ہیں بھی باتیں کر رہے ہیں تو پھر شعرا نے اسلام کے بارے میں مرثیہ کہنا شروع کر دیئے ایک شعر یاد آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک خاص خاصان رسل وقت دعا ہے امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے تو یہ مرثیہ تھا کہ بچا لو ہم ڈوب چلے اور دوسری طرف جا کر دیکھیں تو علامہ اقبال مشہور شہر میں مسلمانوں کے حالات کے بارے میں وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود تو ہماری اپنی اندرونی حالت تھی اخلاقیات کی حالت تھی علم کے نام ہونے کی حالت تھی دوسری طرف ان کا یہ پروپیگنڈا اس قدر کثرت کے ساتھ تھا ایک بات انہوں نے آپ کی ٹھیک ہے کون کون سے مسائل تھے جو مرد اور مسلمان عیسائی ہے اور جادو ہے انہوں نے کتابیں لکھیں فتح علی  کوئی ایک بندہ ہے اس نے جو ہے وہ اس ہمارا ملک بھی تھا مسلمانوں کو معلوم تھا اور ایسی باتیں بن گیا اس نے تو آنکھوں والی کتاب لکھی ہے اسلام کے خلاف ایس ایل بننے کے بعد پھر پادری فتح اس نے بہت سارے لوگ ہیں جو جن کے بارے میں بات ہو سکتی ہے مشہور صاحب اگلا سوال جو ہمارے بھائی جنید احمد نے پاکستان سے ہمیں بھیجا ہے عبدالسمیع خان صاحب کے سامنے پیش کروں گا جن کو ہم سب کے سوال ایسا اسی طرح انہی کے الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں وہ کہتے ہیں احمدی عید میلاد النبی کیوں نہیں مناتے مجھے اللہ تعالی کے فضل سے احمد نصرت کے دعوی کرتے ہیں بلکہ عمل سے ثبوت دیتے ہیں کہ سب سے بڑا کر ہمیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ امید رکھتے ہیں ان لوگوں پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم وبارک علٰی حرکت ہر خوشی رہ سکتا ہے آخر میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے ہی اس سے بہت برکت والا ہے جس نے آپ سے سیکھا بہت برکت والا ہے جس نے سکھایا بناتے ہیں مگر اس طرح بناتے ہیں اس سے محبت کرنے لگائیں اس سے ہی منائیں جشن مناتے ہیں عثمان انور علی اور ان سب میں سے پانچ نماز کس نے باجماعت ادا کیے ہیں ابوبکر نے ہاتھ کھڑا کر دیا اور مایا آج بیمار کی عیادت کے لیے کسی نے جنازہ کس نے پڑھا ہے اور تم کھڑا کر دیا آج ہمسائے کی خبریں رکھتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو میرا سب سے قریب ہے اور تو جنت کے ہر دروازے سے بلایا جائے اور تکبر کے متعلق بھی اس رات ہے حضرت حسین کے متعلق فرمایا میں کردار میں میرے سب سے زیادہ قریب ہے احمد علوی سارا سال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ خاص تو آپ کہتے ہیں بارہ ربیع الاول گا جہاں تک ممکن ہوتا ہم بھی وہ بھی کرتے ہیں لیکن چونکہ اس نے عبدالمحسن شامل ہوگئے ہیں اس میں کھاؤں آپ سارا شامل ہوگیا ہے اس میں بہت ساری باتیں شامل ہوگئے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود نا پسند کا اثر میرا مدینۃ المعاجز میلاد النبی مناتے ہیں کہ بازاروں میں جلوس نکالتے ہیںپوری ہوتی مقابلے میں پڑھتے ہیں کہ ہمارے پاس موجود ہیں اگر کسی کو بتایا تو وہ بھی سن سکتا ہے اس لئے ہمارے لئے ہر دن محمد مصطفی کا خدا کوئی اور ہے اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کوئی الگ مخصوص کر کے علاقوں میں بھی دے گا آپ نے ہمیں امید ہے یہ تو بہتر ہے اور اللہ ہے لیکن اس کے باوجود اگر کوئی مسلمان بارہ ربیع الاول کو محبت رسول کا مظاہرہ کرتا ہے تو ہمیں اس کو کوئی اعتراض نہیں آپ نے بدعت پر عمل نہ کرے وہ باتیں شامل ہیں جو رسول اللہ کے کردار کا حصہ ہے اور رسول کی طرف من الرحمۃ کے پیغام پر بننے والوں کو قائم کریں اور مسکینوں کا خیال کریں اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سکتے ہیں اللہ کرے ہمارا ہر دن عید میلاد النبی کے طور پر ہے اسلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ رات میں نے پکڑا میں شامل ہوں ان کی اُمت کو صحت عطا فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں خان صاحب یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے کفن ہے اس کے بارے میں ہم یہ کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کے چہرے کا عکس ہے تم کا سوال یہ ہے تو پھر مرزا صاحب حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کی شکل سے کیوں نہیں ملتی ٹھیک ہے میں اس کو کس طرح سے بیان کرو حضور صل وسلم نے حضرت خالد بن ولید کو کہا کہ یہ سیف اللہ ہے یا اللہ کی تلوار ہے ہے اب کوئی یہ کہنا شروع کر دیا کہ اللہ کی تلوار بھی میسر نہیں انسان کیوں ذرائع پر حضرت علی کے لیے اسداللہ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور کوئی بات نہیں کرنا چاہتا مسجدیں تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم تمثیلات سے بھرا پڑا ہوا ہے اللہ تعالی کہتا ہے وہ بلائیں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور اسی طرح حاصل کی ہے اللہ تعالی کہتا ہے لہذا ہم نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے رات کو لباس ہوتا ہے عورتوں کے لیے کام لباس لکم وانتم لباس لہن تو اپنی بیویوں کے پاس وہ تمہارا لباس ہیں اس نے باتیں ہوتی ہیں اس کو اہل حدیث مان لینا تو کہاں کہاں جائیں گے ہم تم کو محسوس ہوگی جس طرح آپ کیا ہے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مشہور حدیث بیان فرمائی جس کو حدیث سہولیات ہی کہتے ہیں اس میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسیح بن مریم اور اپنی امت کے مسیح کاہلی اور بیان کریں تو وہ سیم ہونا ضروری نہیں ہے نام پروگرام راہ خدا کا یہ سلسلہ ان شاء اللہ آئندہ چند ہفتے بھی یہاں ایم ٹی انٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے ہی جاری رہے گا لیکن جو بنیادی بات ہم جو کر رہے ہیں جو ہمارے لیے بھی بہت ضروری ہے اور آپ کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہماری آفیشل ویب سائٹ ہے جماعت احمدیہ کے بارے میں کوئی بھی آپ تحقیق کرنا چاہیے تو اس کو ضرور جاکر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں چاہے آپ انگریزی زبان میں جاننا چاہتے ہیں عربی زبان میں جاننا چاہتے ہیں اردو زبان میں جاننا چاہتے ہیں بنگلہ اور جماعت خانوں میں بھی اصل بات یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہ السلام کا مقام ومرتبہ قائم رکھنا اور سب سے بڑھ کر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کرنا اس طرح ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو دنیا میں پھیلایا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کیا جائے جائے اور کم از کم صبح شام درود شریف پڑھا جائے اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے اگلے پروگرام تک اجازت دیجئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ طہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا قدیم سے ہے خدا میں ختم رُسل ی

 30 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: