Rah-e-Huda – Namoose Risalat Ki Hifazat




Rah-e-Huda – Namoose Risalat Ki Hifazat

راہ ھدیٰ ۔ ناموس رسالت کی حفاظت

Rah-e-Huda | 21st November 2020

راہل خدا نہیں ہے سوجن بالوں جانا گا ہم یہی ہے ہےباللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اس وقت لندن وقت اور جی ایس ٹی وقت کے مطابق ہفتے کے روز شام کے چار بج چکے ہیں اور ایم پی اے انٹرنیشنل پر یہ وقت ہے پروگرام راہ خدا کا آپ دنیا کے جس ملک میں بیٹھے ہوئے ہیں اپنے گھر میں موجود غلطیوں پر نگاہ ڈالی اور یہ یاد رکھیں کہ ہر ہفتے کے روز یہ پروگرام ایم ٹی انٹرنیشنل پر نشر ہوتا ہے یہ پروگرام راہ خدا ہے جو آج اینٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے آپ کی خدمت میں براہ راست پیش کیا جا رہا ہے پروگرام راہ خدا جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد کے بارے میں ہے تاریخ احمدیت کے بارے میں ہے مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اور سنت اور ہستی باری تعالی کے بارے میں ہیں ان تمام موضوعات میں اسے کسی کے بارے میں بھی آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو آپ اس پروگرام میں کر سکتے ہیں سوال کرنے کے دو طریقے ہیں ایک ہمارا لینڈ لائن نمبر ہے جو اس پروگرام کے دوران اگلے تقریبا ایک گھنٹے تک آپ کو اپنی اسکرین پر نظر آتا رہے گا آپ اس پروگرام میں اس نمبر کے ذریعے سکتے ہیں یا وائس میسج کے ذریعے سوال بھجوانا چاہیے تو اس کے لیے ہمارا واٹس ایپ نمبر نوٹ کر لیں آج کے پروگرام میں خاکسار کے ساتھ یہاں لندن سٹوڈیو میں موجود ہیں مکرم حافظ سید مشہود احمد صاحب جبکہ گانہ سے ہمارے ساتھ ہوں گے مکرم و محترم عبدالسمیع خان صاحب آپ تو مہمانوں کو میں پروگرام میں خوش آمدید کہتا ہوں اور آج کا جو ہمارا موضوع ہے ناظرین کرام وہ دراصل جو موجودہ حالات ہیں انہی کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے اس موضوع کو چنا ہے ہے اللہ تعالی کا یہ قانون ہے اور اس کے مطابق اللہ تعالی نے ہر زمانے کی رہنمائی کے لئے مقدس ہستیوں کو اس دنیا میں بھیجا ہے اور پھر جب اللہ تعالی نے یہ نظام چلایا ہے تو پھر یقینا اللہ تعالی نے ہماری رہنمائی بھی کی ہے کہ مقدس ہستیوں کی ناموس کے تحفظ کے لئے کیا اس کی رہنمائی کرتا ہے سنت یا کے آ رہی ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ کیا ہے اس کے بارے میں گفتگو کریں گے اور پہلا سوال لے کر محترم عبدالصمد خان صاحب کی طرف چلتا ہوں صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ جس طرح خاکسار نے ابھی ذکر کیا ہے ناظرین و سامعین کے لئے تو اسی مناسبت سے پہلا سوال آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ ہمارے ناظرین کو بتائیں کہ سب سے پہلے تو انبیاء حرام کی کیا سنت رہی اور پھر قرآن کریم ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے اور اس دن بھی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا نظر آتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کی ناموس کو قائم رکھنے کے لیے اور ان کے تقدس کو بڑھانے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہیے صرف عبدالسمیع خان صاحب احب ہم خالہ کریں کریم کا بھی حق ہے ہمارا پتہ دوبارہ کرنے کی کوشش کریں گے ابھی ہمیں ان کی آواز یہاں سنائی نہیں دے رہی ہیں لیکن ان سے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے مجھے کنٹرول روم سے بتایا جا رہا ہے کہ ہم دوبارہ دوسری خان صاحب سے بات کر سکتے ہیںبارے میں کچھ ہمیں بتا دیں اور پھر ہم عبدالقیوم خان صاحب کے پاس دوبارہ چلے جائیں گے الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ناموس رسالت کے لئے جو وردی ہے جو ہمیں دکھائیں ہے ہے وہی ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اور آپ کے پاس وہ ناپسند سے نظر آتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی کچھ کیا جو خدا تعالی نے آپ کو بتایا اور کسی بھی نبی کی اہانت کی جائے یا اس کو برے ناموں سے پکارا جائے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی خدا تعالیٰ کے کتنے نبی آئے انہوں نے آکر ایسی باتیں کیں جس پر ساری دنیا کے مخالف ہو گی کے بھی خلاف لوگ ہیں ہے یہ باتیں اس قدر تکلیف دی ہیں انسان کوئی بھی بے غیرت انسان ان چیزوں کو سننے سکتا اور برداشت نہیں کر سکتا کتا خدا تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن کریم میں ایک عمومی اصول بیان کی ہے اور وہ یہ ہے بس ٹائم کا کام یہ ہے کہ دعا کے ذریعے سے صبر کے ذریعے سے خدا تعالیٰ کے حضور جھک جائیں اور دعائیں کریں کہ خدا خود ان سے نمٹ اور یہ وعدہ تو اللہ تعالی نے خود بھی بیان کیا ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالی نے مخاطب کرکے فرمایا انا کفیناک المستہزئین کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تیری ذات پر جو لوگ استحصال کر رہے ہیں ان کے لیے میں خود کافی دنوں خدا تعالی نے خود ذمہ لیا ہے کہ جو لوگ بھی حضور صل وسلم کی ناموس سے مقدس ہستیوں کی ناموس پر الزامات لگاتے ہیں انگلیاں اٹھاتے ہیں غلط زبان یا کرتے ہیں مغلظات بکتے ہیں ان کے لئے خدا تعالیٰ خود کافی ہے میں یہاں پر خدا تعالی نے مومنوں کو یہ حکم دیا ہے کہ ان اللہ وملاءکتہ یصلون النبی یا ایھا الذین امنو صلو علیہ وسلمو تسلیما نہ کہ مومنوں کا کام یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجیں اور اس سے اگلی روایت ہے اس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان للہ دینا یوذون اللہ و رسولہ و یقینا  وہ لوگ جو خدا تعالی کو اور اس کے رسول کو اذیت دے رہے ہیں اللہ تعالی ان پر بھی لعنت کرے گا اور آخرت میں بھی لعنت کرے گا تو معاملہ تو صرف خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے کہ اس دنیا میں بھی ایسے لوگ خوار ہوگئے آخرت میں بھی ہوں گے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی اس موقع پر گیا تھا خدا تعالیٰ کے حضور جھکے گرے انتہائی شدید قلت تکلیف کے باعث تھے جو اعتراضات اسلام پر کیے گئے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پڑھ کر بتاتا ہوں کہ کس طرح سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان حضرات پر انمول ذات پر اور اس ہرزہ سرائی پر تکلیف ہوا کرتی تھی حضور فرماتے ہیں خدا کی قسم اگر میری ساری وہ رات اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیے جائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں اور میری آنکھیں کی پتھری نکالنے کی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھو تو ان ساری باتوں کے مقابلے پر بھی میرے لئے یہ سب سے زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسے ناپاک حملے کیے جائیں پس اے میرے آسمانی آقا تو حضور اس تکلیف کا اظہار کے سامنے کر رہے ہیں حضور فرماتے ہیں فسانے میرے عثمانیہ تھا تو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلا سے نجات بخش تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالی کے حضور گڑگڑا ہیں لیکن لیکن دعاؤں کے ساتھ حضور نے جو اسباب کے وہ بھی کیے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے ہیں تو اس وقت جو ہندوستان تھا وہ مذہبی اکھاڑہ بنا ہوا تھا عیسائیوں کی الگ الگ تھی ہندوؤں کی الگ الگ تھی تو وہ کیا کر رہے تھے وہاں حضور صلی وسلم کی ذات پر اسلام کی ذات پر قرآن کریم کی ذات پر حملے کررہے تھے اور سادہ لوگ کم عقل کمان جو لوگ تھے ان کو ورغلا رہے تھے بیٹا رہے تھےاس موقع پر حضور نے براہین احمدیہ خدا تعالی کے فضل سے لکھی اور حضور کی کتاب کتنی اعلی شان ہے کہ جو اس وقت مسلمان کے بعد میں جو کہ دشمن ہوئے وہ بھی حضور کی آمد فرائی کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ جو خدمت چودہ سو سال میں مرزا صاحب نے کی ہے ایسی خدمت تو کسی نے نہیں کی تو حضور نے تو پوری کوشش کی کہ حضور صل وسلم کی ناموس کے لئے خدا تعالی کے حضور کے جو ذریعے مخالفین نے اپنا ہوئے تھے انہیں ہتھیاروں کے ذریعے آپ نے جواب دیا اس رات لکھے آپ کی کتب جوتی خواہ وہ نظم میں ہو یا نثر میں وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں تیسری مثلا چند ایک کی بات ہے میں کال کرتا ہوں ہندو نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملے کی ہیں تو حضور نے اس کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں مثلا آریہ سماج والوں نے مذہبی کانفرنس کی وسلم کے بارے میں قربانی کی تو حضور نے شمار کتابیں لکھی سناتن دھرم والوں نے اگر کچھ اسلام کے بارے میں خلاف کچھ سرائیکی ہے تو ہنسی میں دعوت لکھی سناتن دھرم کے نام سے کتاب لکھی عیسائیوں کا جو جگہ تھی وہ یہ تھی کہ اس قدر شدید فتنہ تھا یہ کہ جو مسلمان علماء بنے پھرتے تھے وہ جاکر عیسائیوں کے پاس بن گئے ہیں اور پھر ان حضور صل وسلم کی ذات پر جو اپنا مذہب تبدیل کر رہا ہے وہ آپ کا میسج تو نہیں ہوگا وہاں بھی ہوگا پھر اس قسم کی انہوں نے بیہودہ گوئی کی ہے یہ موقع نکل جا اس بات کو برداشت نہیں کر سکا حضور نے کل کتابیں لکھی ہیں مثلا ملا تھا اس نے کتاب لکھی ہے تو حضور نورالحق اس کے جواب میں لکھی اگر کی ہے اس نے مغلظات کے خطوط لکھے ہیں تو حضور نور ہیں قرآن کے ذریعہ سے اس کو جواب دیا ہے تو یہ تو کتب کا سلسلہ ہے لیکن وہ لوگ جو کہتے تھے کہ ہم محمدی مذہب کا نام و نشان مٹا دینگے میری مراد الیکشن ڈریس ہے حضور نے خدا تعالٰی کے حضور جھکے ہوئے موبائل نے کی ان کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کے حضور جھکے اور کہا اے خدا ان کو نشان عبرت بنا کہ یہ تیرے محمد رسول اللہ سلم کے گستاخ اور تیرے دین کے دشمن ہیں حضور نے کوئی گل نہیں کروایا  یا کوئی آئے تو خدا تعالیٰ کی عدالت میں معاملے کے گئے ہیں اور یہی وہ معاملات کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مصطفیٰ زیدی کہ خدا تعالیٰ خود ان سے نمٹے گا اور خدا تعالیٰ کی لعنت ہوگی تو حضور میں وہی معاملہ جو خدا تعالیٰ نے آپ کو بتایا تھا کہ بنایا اور اسے ملک یا ابو آگیا لیکن رضوی کا جو انجام ہوا وہ سب کے سامنے دوسری طرف داریوں کو دیکھیں تو لے کر آپ نے جو ہرزہ سرائی کی ہے جو بکواسات کی ہیں جو مغلظات اس نے کی ہیں اسلام کے بارے میں بیان اسلام کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے تو ہمارا دل چھلنی کر کے رکھ دیا ہے کہ کیا خدا تعالیٰ نے اس کو پکڑا اس دنیا میں بھی بنائے اور آخرت میں بھی بناؤں سے تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت صاحب کی تو ساری زندگی کا جہاد اسی بات پر تھا کہ اسلام کی قربانی اسلام کی تعظیم ہو اور یہی آپ کے آنے کا مقصد تھا خدا تعالی نے فرمایا تھا کہ یہی دین و ایماں شیریں ہے یہاں کر دین کا احیاء کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا یہ حضور نے کیا اور وہ شریف کیا تھی اسلام کا جھنڈا بلند کیا کہ اپنی ذات تو نہیں تھی تو مخالفت بھی اسی وجہ سے ہوئی کہ ان کے لئے کھڑے ہوئے اور جو زرعی ہو سکتے تھے مجھے ایک بات یاد آرہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جب مخالفت ہوتی تھی شارع حج میں اشعار کہے تھے اسلم کی کے بارے میں غلط بیانی کرتے تھے اور شیروں کے ذریعے سے کرتے تھے تو حضور صل وسلم نے حضرت حسان بن ثابت کو حکم دیا کہ ان کا جواب بھی اسی رنگ میں دو تو آپ نے اشعار کہے یار تو ہر مصیبت اور سامنے جس انداز میں حملے اور اسلام پر اس انداز میں جواب دیا اور اس کے علاوہ سب سے بڑا ہتھیار تھا وہ تو خدا تعالیٰ کی ذات تھی نہیں آپ کی وہی آپ نے اپنی گزارشات کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کیا آخر میں آکر حضور کا ایک اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر پیش کر دیں گے تو حضور کی زیارت اور ہمیں نظر آئے گی اور فرماتے ہیں جو لوگ نہ خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو برے الفاظوں سے یاد کرتے تھے اور آج جناب صلی اللہ علیہ وسلم پر ناپاک تہمت لگاتے اور بد زبانی سے باز نہیں آتے ان سے ہم کیوں کر صلح کریں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شارع زمین کے ساتھ ہوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے مس نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے نا پسند کرتے ہیںکام کرنا نہیں چاہتے جس میں مان جاتا رہے شکریہ یہ یہ جو مضمون ہے کہ کس طرح بانی جماعت احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب بھی کسی بھی موقع پر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کس نے تو بات کی ہے تو کس طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہر لیول پے دعا کرکے جواب دے کر اور عملی نمونہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور اسلامی تعلیمات حقیقی تعلیمات کو پھیلا کر کوششیں کی ہیں ہم چلے اس سلسلے کو جاری رکھیں گے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارا عبدالسمیع خان صاحب سے رابطہ ہو جائے اور میں اسکرین پر دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے پاس والا شروع ہوگئے ہیں ہمارے بھائی ہیں بشیر احمد صاحب کیرلا سے انہوں نے سوال بھیجا ہے لیکن شاید ان کا سوال ہم اس پروگرام میں شامل نہ کرسکیں کیونکہ یہ سوال سے کی نوعیت کا ہے لیکن میں نے اپنے بھائی کا نام اس لیے دیں تاکہ تسلی ہو جائے کہ ان کا سوال ہم تک پہنچ چکا ہے اب ہم جو رسوا مرزا صاحب آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا ہمارے بھائی ہیں خواجہ عبدالمومن صاحب انہوں نے بنیادی نوعیت کا سوال پوچھا ہے میں چاہتا ہوں اس کے بارے میں آپ کچھ بتا دیں وہ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ جو لوگ الہی جماعتوں سے ارتداد اور فرار اختیار کرتے ہیں ان کے بارے میں قرآن کریم کی روشنی ڈالتے میں تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بات کی جائے تو اسلام میں ارتداد کی سزا کا ذکر ہوتا ہے یا قتل مرتد کا ذکر ہوتا ہے جس کے بارے میں خاص طور پر تکلیف کے ساتھ میں کہہ رہا ہوں وہ لوگ کہلاتے تو اپنے آپ کو مسلمان ہیں لیکن اسلامی تعلیمات سے بہت دور ہٹ کے اس کے بارے میں بیان کرتے ہیں اس بارے میں لوگوں کی رہنمائی کردیں گے ہیں کہ کیا اسلام میں جو شخص مرتد ہوجاتا ہے اس طرح کرتا ہے ہے تو قرآن کریم تو کہیں پر بھی اس کی اجازت نہیں دیتا نہ حکم دیتا ہے اور ان سلم کے اس میں بھی یہ بات نظر آتی ہے کہ حضور صلی اللہ نے کبھی اس قسم کا کوئی حکم نہیں دیا کیا قرآن کریم میں فرمایا یا لا اقرا فی دین میں کوئی جبر نہیں اور دوسری طرف کرم دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے قرآن کریم کی ایک آیت ہے ان للہ وانا من کفر ہے یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے تو اللہ تعالی کہتا ہے ان کا معاملہ میرے ساتھ ہے ہے میں ان کو جواب دوں گا تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص ایمان لاتا اور کافر ہو جاتا تو فرماتے ہیں تو قتل کر دو دو تو دوسرے بھی مانگا رہا ہے اور پھر ہو رہا ہے تو دوسری طرف طالبان کی بات نہیں بنتی اس سے پہلے وہ قتل کر دیا جاتا عطا کرے گا چلتا ہے کہ ایک شخص وسلم کی زندگی میں مدینہ ہے ہے اسلام قبول کیا کچھ عرصے کے بعد اس کو بخار چڑھ گیا تو بخار پر کہتے ہیں کہ شاید مجھے یہ جواب ملا ملا تو اس کے اوپر کے میں اپنی بات ختم کرتا ہوں اور میں واپس جا رہا ہوں تو حضور صل وسلم نے فرمایا ان مدینہ لکیر کے مدینہ بھٹی کی طرح ہیں جو اپنے پاک کو زیادہ لکھا دیتا ہے اور جو بات ہوتی ہے اس کو نکاح کے بعد پھینکتا تھا حضور صل وسلم نے صحابہ کو یہ پتا نہیں کہاں یہ مرتبہ دورہ کرنی تھی اس کو پکڑو قتل کرو تو اسے کوئی بھی نہیں کیا ایک اور مثال ہیں عبداللہ بن سرح کی کاتب وحی تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی معافی مانگنے سے منع کردیا اس کے علاوہ میں کوئی مثال دیکھتے ہیں کہ مسلمان جب صلح حدیبیہ ہوا تو اس وقت جو معاہدہ ہوا تھا اس معاہدے کی تھی کہ جو شخص مسلمان ہو کر مکہ سے مدینہ چلا جائے گا تو میں اس کو واپس کرنا اور جو مدینہ سے شخص اسلام کا ارتداد کر کے واپس آئے گا تم نے وہی واپس کردینا اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس شرط کو صلح حدیبیہ کے موقع پر قبول کرنا اس بات کی غماز ہے اسلام میں اس قسم کی تعلیم تھی نہیں کیا اب اگر ہم خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر نگاہ ڈالی ایک تو آپ یہ ذکر کردینا قرآنی آیات کے حوالے سے جو ہمارے بھائی حاجی عبدالوہاب صاحب نے پوچھا تھا کہ قرآن تو اس طرح کا کوئی ذکر کرتا ہے اور پھر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آپ نے بڑا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہت عمومی رنگ کی اور بہت وسیع قسم کی تعریف فرمائی ہے کہ مسلمان کون ہے اور اس میں کسی کو دخل اندازی کے پھر آپ نے اجازت نہیں دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب مدینہ میں مردم شماری کروائی گئی اس کا انتظام ہوا تو فرمایا اب تو بولی اس کی زبانی اقرار کر رہا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو اس کا نام آپ نے لکھ لینا میں جو مسلمانوں کی لسٹ تیار کی جائے گی اور پھر اسی طرح نسبتا تھوڑی سی تاریخ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مستقبل تھا نہ وہ اقرار ذبیحتنا مسلموں المسلم الذی لاالہ اللہ محمدرسول ہیں حالات پھر اللہ حافظ متی اب اس تعریف میں ایک طرف یہ بیان فرما رہے ہیں کہ جو کوئی ہمارے ساتھ نماز پڑھتا ہے ہماری طرح نماز پڑھتا ہے ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتا ہے اور پھر وہ ہمارا ذبیح کا ایک طرف تو وہ ہمارے ساتھ تو کیا دوسرا اللہ تعالی کا اور رسول پر تمام امت مسلمہ کا یہ فرض بنتا ہے تو اس کی حفاظت کا خیال کیا جائے اور یہاں پے میرے خیال میں بالکل یہ بجانب ہوگا کہ وہ واقعہ بھی بیان کر دیا جائے جو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے آتا ہے کہ جب ایک موقع پر آپ یہاں پر تشریف لے گئے اور وہاں پر آمنا سامنا ہو گیا آدمی سے اور اس نے جب اس پر آپ نے جسے کہتے ہیں قابو پا لیا تو اس نے لا الہ الا اللہ لا الہ الا اللہ پڑھا لیکن آپ نے اس کو قتل کر دیا جب یہ واقعہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہ کہتے تھے افلا شققت عن قلبہ کیا تو نے اس کے دیکھا تھا اور حضرت اسامہ بن زید یہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اتنی تکلیف ہوئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان ہوا ہوتا چنانچہ ایک طرف تو ہمیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر آرہی ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان قرار دیتا ہے لوگ اس کو مانتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو مانتے ہیں اور جو کوئی اپنے آپ کو اسلام سے علیحدہ کرتا ہے تو اس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق بالکل گیا اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی جاتی ہے بارہ رتجگوں کا سلسلہ جاری رہے گا مشرف صاحب اگلا سوال یہ ہماری بہن ہیں سیدہ مبشرہ شکیل صاحبہ انڈیا سے یہ سوال بھیج رہی ہیں عمومی نوعیت کا انتخابی سوال ہے اور میرے خیال میں سوال پر واپس روشنی ڈال دیں یہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ کیا ہمارے پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بچپن سے ہی اللہ تعالی کے وجود پر یقین رکھتے تھے کیا ان کے والدین مسلمان تھے جو عمومی مسلمان کی تعریف اس میں بات کریں مجھے امید ہے آپ اس کی وضاحت کر دیں گے کہ اور معاملہ ہے بالکل الگ معاملہ ہے جب تک مسلا تحویل قبلہ کے بارے میں جو خدا تعالیٰ نے حکم نازل کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے لیکن بعد میں جب خدا تعالی کی طرف سے آپ کو حکم ہوا کہ آپ نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنی ہیں کی خواہشات کی پیروی کی جب کہ تیرے پاس آیا تھا گئی ہے تو پھر ان کا ظلم من ظالمین تو پھر ظالموں میں سے ہوگا تو جب خدا تعالی نے کوئی معاوضہ نہیں دیا نبی آتا کیوں ہے نبی آتے ہیں اس لئے ہے کہ وہ خدا تعالی کےدین کی خدا تعالی سے سمجھ لے کر لوگوں کو آگے تقسیم کروائے اور اللہ تعالی کہتا ہے کہ میں رسولوں کے اس لئے بھیجتا ہوں کہ کون حال یہاں پر خدا تعالی کے خلاف حجت نہ ہو کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں ملا اگر پیغام ہے تو مان لیتے تو انقائم علیہ السلام کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے حنیفہ مسلماں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خصوصا آج تک مجھے یاد پڑتا ہے خاص طور پر ان کے دادا تھے ان کے بارے میں یہ ذکر آتا ہے کہ وہ واحد تھے ناظرین کرام پروگرام کا سلسلہ آگے کی طرف بڑھاتے ہیں اور میں اپنے ناظرین کو یہ بتانا چاہتا ہوں کے آپ کے سوالات ہمیں موصول ہو رہے ہیں اور ہم ایک ایک کرکے ان کو اس پروگرام میں شامل کریں گے لیکن خاص طور پر یہاں پر ایک بات عرض کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اس پروگرام کو دیکھنے والے دو طرح کے ہمارے ناظرین و سامعین ہیں ایک ہی جماعت یا سے ہے اور وہ ہمارے غیر از جماعت احمدیہ سے گفتگو کرتے رہتے ہیں اور ان کے سامنے مختلف سوالات آتے ہیں وہ اس پروگرام میں اپنے سوالات ہمارے سامنے پیش کریں اس کے علاوہ ایک دن ہمارے سامنے والے ہمارے بھائی اور بہن بھی ہیں جو حقیقت جماعت احمدیہ کے عقائد کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتے ہیں جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کیا ہیں اول تو ہمارا یہ پلیٹ فارم آپ کےلیےحاضر ہے آپ ضرور سوال کریں لیکن آپ کی رہنمائی کے لئے میں یہ بھی عرض کر دینا چاہتا ہوں آفیشل ویب سائٹ ہے الاسلام جب بھی آپ کو وقت ملے آپ اس ویب سائٹ کو ضرور وزٹ کریں آپ سے انگریزی زبان بولنے والے ہیں بنگلہ زبان بولنے والے ہیں عربی زبان بولنے والے ہیں اردو زبان بولنے والے ہیں بلکہ دیگر زبانوں میں بھی آپ کو جماعت احمدیہ کے عقائد کے بارے میں ہماری ویب سائٹ الاسلام ڈاٹ پر کافی مواد ملے گا کریں اور اپنے سوالات کے جوابات وہاں سے بھی حاصل کریں پروگرام کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہیں اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اس میں خان صاحب اس وقت تم سے بات کر سکیں گے تو میں چاہوں گا کہ ہم یہاں سب سے بات کریں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صاحب کیا کریں یہ لکھ دوریاں ہیں آپ گانہ میں بیٹھے ہوئے ہیں ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ہم آپ کی شادی تصویر تو نہ دیکھ سکیں لیکن ہم نے آپ کا نام اپنے سامنے سکرین پر لگا لیا ہے آپ کو دوبارہ پروگرام میں خوش آمدید اور میں چاہوں گا کہ آپ اس وقت جو پہلا سوال میں نے آپ کے سامنے رکھا تھا سوال یہ تھا کہ سنت انبیاء ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ کیا ہے اور قرآن کریم اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے کہ جب بھی مخالفین انبیاء کسی قسم کی اہانت کا سلوک کرتے ہیں تو انبیاء علیہ السلام واقعہ مولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا اثر ہو رہا ہے سارا ملتے ہیں کہ انسانی قومیں اپنے نبیوں کو جھٹلایا اور محرمات سے تبلیغ کرنے کی کوشش کی اللہ تعالی کی زیارت اور جو جلال حرکت میں آیا اور فرماتا ہے کہ ملک ترقی کر گئے جس چیز کا بیان قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی اتفاق رائے پر پتھروں کی بارش ہے یا امی کو سلامت رکھے گئے اور موسی علیہ السلام کی قوم کون آپ کھایا جائے اور کبھی وفا نہیں آیا نہیں آیا قدم ہے لیکن انہوں نے کیا پایا اور پھر ان کو لاک لگ رہے ہیں اللہ تعالی کی طرف سے جو آئے ہیں انسانوں کی طرف سے کسی بھی اللہ کا ذکر نہیں کیا گیا ناراض ہو جاؤں اپنے کام کرو کہ خانہ کعبہ میں چلا گیا ہے بیان میں آجاؤ صوفیان کرنے والوں کے سردار تھا اس کے علاوہ بھی ہے وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہے محبت کرنے والے کرو گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرنے والوں کے لیے ہم نے بدلہ لینے کے لیے برباد کر دیا اور اس کے ساتھیوں کو بدر میں برباد کیا اس کو تلاش کر کے اور کچھ کینسل اسلام میں داخل کر رہ گیا اگر کوئی نہیں جانتا کہ اس محبت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں پر رحم کرو آسمان والا تم سے پیار ہوگیا ہے کسی نے حالت بگاڑ کر رکھ دیا اور خدا میں بہت شکریہ عبدالسمیع خان صاحب نے جس طرح محترم عبدالسمیع خان صاحب نے خاص طور پر انبیاء کرام کی کیا سنت رہی ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسے مواقع پر کیا اثر ہو رہا ہے اور قرآنی تعلیمات کی آرہی ہیں کہ جب کسی بھی مخالف نے انبیاء کرام کی توہین کرنے کی کوشش کی ہے کہ جو صاحب سوالات کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے سامنے ہی میں اس وقت آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا وہ ہمارے بھائی ہیں بلال احمد انڈیا سے وہ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے امام مہدی کے بارے میں فرمایا یوسف نوں معی فی قبری یعنی امام مہدی میری قبر میں میرے ساتھ دفن ہوں گے انہیں لکھا کہ میری قبر میں دفن ہوں گے جس کا غیر احمدی اکثر احباب ذکر کرتے ہیں اس بارے میں ناظرین کو کچھ وضاحت کر دیں جی ضرور موجود ہیں وفا کے لیے کچھ تاریخی حقائق آپ کو دیکھنے پڑیں گے اور اس بات کو سمجھنے کے لئے کچھ عقلی دلائل بھی آپ کو دیکھنے پڑیں گے مثلا سب سے پہلی بات اگر آپ کو دفن کرنا ہے تو اس کو کھودنا بھی تو پڑے گا اس کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کو دے اور اس میں کسی اور کو دفن کریں تو عقل بھی اور غیرت اور حمیت کا تقاضا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے دوسری بات یہ ہے کہ جماعت احمدیہ سکدے اے کو سپورٹ نہیں کرتی لیکن غیر احمدیوں کا عقیدہ ہے اس بارے میں مصدقہ حدیث میں آیا ہے کہ ماں تو فلانا بین الحنفیہ ایسے وقت کہ جہاں پر بھی کسی نبی کریم کی روح کون قبض کرتا ہے اسی جگہ پر اس کی بات تھی چلیں اگر ان کے کو لے لیتے ہیں تو ذرا ویڈیوز کریں بلکہ ان سے دیکھیں کہ کیا حضرت عیسی علیہ السلام وفات کے وقت حضور صلی وسلم کے مزار پر جا کے لے جائیں گے کہ اس جگہ پر مجھے جو ہے وہ وفات ہوگئی اور اس ہیں جو بہت زیادہ ہمارے ماہرین کو اور سننے والوں کو اپیل کرے گی اور یہ حقیقت بھی ہے تو آپ حضرت عائشہ کے حجرے میں تھے تھے حضرت عائشہ نے کچھ عرصہ پہلے خواب دیکھا اور الفاظ عزیز کہ یہی کہہ رہی تو سلاست اور تمہاری کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے حجرے میں تین چاند جو ہیں وہ گرے ہیں ہیں تو حدیث کے الفاظ ہیں فکس کروں یا علی بٹ میں نے اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق کی خدمت میں اپنی یہ رویہ بیان کردیں دی فلم عطوفت رسول اللہ کی وفات ہوگئی تو آنحضورصلی ہاں آپ کی تدفین ہوئی ہے تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیق جو پہلے خلیفہ تھے اسلم کے بعد وہ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ عائشہ تاریخ کا پہلا حصہ جو پہلا چاند تھا وہ گزر گیا ہے اور یہ باقی دو چاند کے پیچھے رہتے ہیں ان میں سے بہترین ہے ہے بعد میں خدا تعالیٰ کی منشاء آتیلکھنا چاہ رہی تھی جو کہ جگہ نہیں تھی اور اس کی بات نا کرو گا جب حضرت عمر کی وفات ہوئی ہے وفات سے پہلے جادو یہ شادی سے پہلے اپنے پیغام بھجوایا کہ ایسی جگہ مجھے مل جائے آئے تو آپ نے یہ بات کی یہ تو آپ نے رکھی تھی لیکن پولیو مال اسی آج کے دن میں آپ کو اپنی جان پر ترجیح دیتی ہوں ٹھیک ہے آپ تسلیم کر لیں آپ کو محفوظ رکھے اور تم نے ایسی بات کی کہ ممکنہ حضرت عائشہ کے دل میں کوئی ان کے بعد اس بات پر تو جب میں فوت ہو جاؤ میں نہیں آؤں گا نا پھر دوبارہ اس کو محسوس کرنا اگر پھر بھی دے دے تو پھر میری ماں پر کھیل کر دینا چنانچہ حضرت عائشہ کی وفات کے بعد پھر پوچھا گیا آپ نے کہ نہیں یہ تو میں رہیں آپ کی تفصیل ہوگی تو یہ سارا معاملہ بتاتا ہے کہ چوتھے کی جگہ نہیں تھی اگر کسی چوتھے کی جگہ ہوتی اس مقبرے میں اس میں تو آپ کی ٹھیک ہے وہ بھی آئے گا میرے لیے بھی جگہ بنا لی جائے گی گی آپ بھی آ سکتی تھی وہاں پر نہ جگہ تھی اور سب سے بڑھ کر نہ تھا تھا ہیں حضور صل وسلم کی قبر اور اس کے بعد اسے سلام ہوتے تو اصل میں آپ فرماتے کہ سب سے پہلے میری قبر کھولی تھی مجھے بتانا کرے گا میری قبر میں تیسرا بھی ہوں گے وہ بھی کھڑے ہوجائیں گے کہ ہم امید تھی وہ بھی کھڑے ہوجائیں گے تو انسان نے جو آخرت نادرا بیان کیا اس میں بھی کہیں امام مہدی کا ذکر نہیں تھا اچھا چلو ٹھیک ہے پھر اس کا مطلب کیا ہے ہے قرآن کریم کی سورۃ جو ہے تیسرے پارے کی سورہ اخلاص میں اللہ فرماتا ہے انسان پیدا ہوتا ہے بڑا ہوتا ہے تو لگتا ہے اس کو موت ہے پھر اس کی قبر میں آتا ہے ہے خدا کا یہ بیان کے مرنے کے بعد ان کی قبر بنتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کتنے لوگ ان کی ظاہری کے نصیب میں نہیں آتی ہندو اپنے مردوں کو جلاتے ہیں جو بیچارہ سمندر میں پرانے دور میں بھی اب بھی ہوتا ہے اس کو سمندر برد کر دیتے ہیں اس کو بھی ظاہری طور پر تو نہیں ملتی لیکن اللہ تعالی کہاں ہے ہے حضور صلی وسلم آتے ہیں قبر کی تعریف میں نے ریاض الجنہ قبر جو ہے یہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اور برتن نیران یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک بڑا ہے تو گویا کہ جو شخص کی قبر نیک ہو گا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں ہوگا بند ہوگا تو دوزخ میں ہوگا تو حضور صل وسلم نے فرما رہے ہیں وہ دفع نمایاں ہیں تو فرمایا کہ جنت میں مقام پر میں ہوگا خدا تعالی امام مہدی کو یا مسیح علیہ السلام کو بھی میرے ساتھ اسی مقام پر جنت میں رکھے گا اور حدیث اگر آپ دیکھیں جب کہ صحابی نے پوچھا کہ حضور کیا مجھے آپ سے میں جنت میں حاصل ہوگی تو نے فرمایا المرحوم احبا آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت ہو تو یہ چیز بتاتی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا تعالی عنہ حضور صل وسلم کی محبت سے عشق تک سر پر دے گا کہ گویا وہ اس دنیا میں بھی آپ کے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی اور آپ تو کہتے ہیں ہیں سب ہم نے اس سے پائے شاہد ہے تو خدا ہے کہ ہم نے جو کچھ ملا ہے صبح اسلم کی بدولت ہے آپ نے ذکر کیا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کوئی کتاب اٹھا کے دیکھ لیں ملفوظات دیکھیں جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات موجود ہیں جگہ جگہ ہمیں یہی اظہار نظر آتا ہے کہ ایک طرف تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام عشق الہی میں مشغول نظر آتے ہیں تو دوسری طرف جو عشق الہی جسم علم سے آپ نے سیکھا وہ آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے تو عشق محمدی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حضرت بانی جماعت احمدیہ ڈبیو نظر آتے ہیں ناظرین کرام اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ لوگوں کی خدمت میں خاص طور پر جو جماعت احمدیہ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ایک گزارش سرور ہم کرنا چاہیں گے اور وہحضرت بانی جماعت احمدیہ کس طرح جماعت احمدیہ کو اللہ تعالی کے قریب لے کے گئے ہیں اور آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اطاعت اور پیروی کی طرف لے کے گئے ہیں تو حضرت بانی جماعت احمدیہ کی کسی نہ کسی ایک کتاب کا مطالعہ ضرور کریں مجھے امید ہے آپ اس بات پر عمل کریں گے اگلا سوال لے کر محترم عبدالسمیع خان صاحب کی طرف جاتا ہوں عبدالسمیع خان صاحب یہ اگلا سوال جو میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا یہ ہمارے بھائی ہیں عرفان احمد کینیڈا سے تو میں آپ کے سامنے سوال کرنا چاہوں گا محسن خان صاحب سے بات کر سکتے ہیں یہ دو سو گئے ہیں سبھی ہمارے بھائی عرفان احمد ہیں کینیڈا سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آزادی اظہار رائے پرحم اسپیچ کے بارے میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں اور وہ یقینا کیوں کیا مسئلہ میں تعلیمات کا ذکر کریں تو وہ چاہتے ہیں کہ قرآن حدیث حضرت اقدس مسیح محمد علیہ الصلاۃ والسلام اور خلفاء کے ارشادات کی روشنی میں یہ ہمارے بھائی کو بتا دیں zamer2020 بننے جارہا ہے یہ ہے کہ بولنا سب مسلمانوں کو بھی ٹھیک ہیں اور اچھا رنگ میں بات کرو اور فرمایا کہ بات کسی بات کو بھی اس رنگ میں نہ کہوں کہ لوگوں میں نفرت ہے بلکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ رسول اللہ ہی اللہ ہے وہ لوگ جو خدا کے علاوہ دوسرے معبودوں کو پکارتے ہیں ان کو بھی گالیاں نہ دو حالانکہ وہ جھوٹے ہیں معنی چیز ہے جو چیز ہی ایسی ہے نہ ہو گی اور اس کے خلاف پہلے اسے پتا لگا کہ قرآن کریم میں فرماتا ہے اظہار ایسے رنگ میں جس سے انسانوں میں فرق پہلے اور پھیلنے اور دو علیہ السلام فرماتے تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف جا رہا تھا اور بنی اسرائیل کے نقباء حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام پر ایمان لانے سے انکار تھا خدا کا انتظار تھا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون دونوں کو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون فرعون کی طرف بھیجا ہے تو فرمایا قول العلماء فی من کی بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا کبھی اُس سے بات کرنا ایسی بات نہ کرنا جس سے کام ہے آپ نے قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سارے گفتگو کو محفوظ کیا ہے اور اس کو شکست دی ہے کہ مقبوضہ جموں ہوگیا اور بالآخر نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقابلہ میں بالکل پسماندہ ہوگیا اور ہار گیا اس نے جادوگروں نے اسلام قبول کرلیا لیکن فرض ہے ہم نے ہمیں اپنے سنت وقت سے جائزہ لیں گے ہم نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور مرتبہ پھر کون سننے والا تھا لیکن مسلمان ہیں ان کو تھپڑ مار دیا یہودی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لے کر گیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا لاتفضلونی علاقہ کے فروغ میں فضیلت لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور بجائے ہمارے قریب آنے کے بعد دور ہوتے چلے گئے اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت نوح علیہ السلام دونوں خدا کے پیارے ہیں لیکن کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اور اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں اس کی وضاحت کیجئےمیں نے سمجھا جائے اسے کریں اگر آپ کا دل السلام نے فرمایا ان کے حق میں بات بن گئی ہے لوگوں سے اس کی بدزبانی کی وجہ سے سخت لانے کی وجہ سے اس کو راضی کرنے والے کو ٹھنڈے پڑ جاتے تھے دکھ نہیں پہنچا سکتے تھے اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا جاتا ہے اسلام اور ہندو پر ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن ہے دشمن سے ہوتا ہے اور تمام انسانوں سے مجھے آپ سے پیار ہے اسے ایک والد ہمیشہ انہیں اپنے بچوں سے پیار ہے ہے ہے اسلامی تعلیمات کا نمونہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آزادیء اظہار کے حوالے سے کام فرمایا ہے اپنے عقیدے کو ضرور بیان کروں اس حد تک اس حد تک سے ملاقات ایک دوسرے کے خلاف سخت مرحلہ ہے دوسرا آج جس نے بھی اس بات میں پڑھتے ہیں اس سکتا ہے تو اللہ کے فضل سے سو سال سے زائد جس طرح آپ نے ایک مختصر سے وقت میں کافی تفصیل بیان کر دی ہے اور یہی ہمارے لیے بھی اور ہمارے ناظرین کے لیے بھی رہنمائی ہے حافظ محمد سعید صاحب پروگرام کا وقت بہت تیزی سے اپنے اختتام کی طرف جارہا ہے ہمارے ریگولر سوال بھیجنے والے ہیں عارف زمان صاحب ان کا سوال بہت رونق ہے آج کل کے حالات کے بارے میں ہے مختلف مواقع پر جو ہمارے پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کے بارے میں مختلف قسم کی جو توہین آمیز حرکات ہوتی رہتی ہیں ایک تو یہ استعمال کرتے ہیں کیا یہ اسلام کے خلاف سازش ہے اور دوسرا میں چاہوں گا کہ آپ ان کی رہنمائی کردیں کہ ایسے موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہیے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام کے خلاف سازش ہے تو یہ لوگ بہتر جانتا ہے لیکن بات نہیں اور چونکہ ہمارے معاشرے میں علم کی کمی کی وجہ سے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ہدایت کے لئے امام کا ہونا ضروری ہے جہاں پر ہر گلی کے نکّڑ پر امام بنا ہوا ہے تو جو اس کی عقل والے صاف نے لوگوں کو لے کر جانا ہے عربی میں کہتے ہیں کہ اداکار غلام قوم جب کسی قوم کا تو پھر ایسی کوئی ہلاکت نہیں آتی ہے تو اگر تو ان کے پیچھے جانا ہے تو آپ کی مرضی ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہم تو خدا تعالی کے فضل سے امام کے پیچھے اور امام کے بارے میں حضور ص نے فرمایا ہے کہ امام حسین تعلقات ڈھال ہے اس کے پیچھے رہنا na توں امام کے پیچھے ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ ہے تقاضا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ہدایت کرتا ہے اور خدا تعالیٰ ہر لمحہ ہر لحظہ اس کی حفاظت کرتا ہے اس رہنمائی کرتا تو ہمارے لئے تو یہ معاملہ سمجھنا مشکل ہی نہیں ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضور کا اپنا حصہ ہے اپنا اس کا یہ ہے کہ لاسٹ لیں جو دو ہفتے پہلے حضور نے یہ دوبارہ جو فرانس کی صدر کی طرف سے بیان آیا تھا اس کے زوال کے بعد میں بات کی ہے اور یہ دیکھو یہ ساری امت مسلمہ کا متفقہ فیصلہ ہونا چاہیے تھا کہ کھڑے ہوئے اسلم کی ناموس کے لئے اکھٹے پڑھتے تم لوگ خدا کے لئے اسلم کے لیے کھڑے ہوں اور سب کو ایک زبان ہونا چاہیے تھا کہ افسانہ آزادی رائے اپنی جگہ لیکن حضور صل وسلم کے بارے میں بات کر رہے ہو یا مناسب نہیں ہے حضور نمبر یاد ہے کہ ایک موقع پر عالمی جاکر وہاں پر بیان کی ہے کہ تم لوگ ایک مخصوص اس مذہب کے لوگوں کو فرماتے تھے اس کا جواب دو نہ کہہ دیا حضور یہ کا کہ کہ اس موقع کی طرف آ جاتے ہیں اس موقف کی طرف آ جاتے ہیں کہ جتنے بھی پانی آنے بانیان مذاہب کے سارے بزرگ نے پیارے ہوتے ہیں خدا کے فرستادہ حضرت ایسا ہو تو وہ خدا کے فرستادہ حاصل ہے تو خدا کے فرستادہ امام حضرت شیث علیہ السلام اورامام نےسلام ہو یہ سب کو خدا کے فرستادہ نانک صاحب خدا تعالی کے پیارے محبوب علی اللہ تو ہم ان لوگوں کی عزت کرتے ہیں کتنے لوگوں کا ان کو قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائید ان کے ساتھ تھی تھی خدا تعالیٰ کی ہدایت کا کچھ نہ کچھ تو یہ لوگ تو آؤ ان کی تعظیم میں اپنی زبانوں کو اگر تعریف نہیں کر سکتے تو قربانی نہ کرے نا تو اس سے معاشرے میں امن پیدا ہوگا اور یہی کہہ رہے ہیں یہ سمجھا کہ سب کیا ہے میں ناظرین کو یہ بتانا چاہوں گا کہ خاص طور پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتاب ہے جس کا نام ہے گورنمنٹ انگریزی اور جہاد اصغر علیہ السلام نے خاص طور پر یہ صرف انیس سو میں لکھی گئی کتاب یعنی آج سے ایک سو بیس سال پہلے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اصول بنائے ہیں اور اصول بیان فرمائے ہیں کہ معاشرے سے کس طرح ایک دوسرے کے خلاف جو نفرت کے جذبات ہیں وہ کام کیے جائیں ان میں یہ باتیں بیان کی ہیں کہ آپ اپنے مذہب کی خوبیاں جتنی مرضی بیان کریں لیکن کسی دوسرے مذہب کے مقدس ہستیوں کے بارے میں کسی بھی قسم کی کوئی بھی لگتی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہماری بہن خالدہ رانا ہیں ان کا پوچھ رہی ہیں کہ آج کل انصاف کے بارے میں کہا تو بہت جاتا ہے لیکن اس میں انصاف کی حقیقی تشریح کیا ہے اب خان صاحب اگر ہمیں اس سوال کا جواب دیتے ہیں اور پھر ہے عدل کے معنی ہیں ہر چیز کو اس کی جگہ پر ہے جان تمہے فرماتا ہے اللہ تعالی نے زمین و آسمان میں ملک کے سارے کائنات میں توازن پیدا کرکے رکھا ہوا ہے ہر چیز اپنی جگہ پر رکھیں صرف نظام شمسی مولانا میں تعینات پہلے ہی سارا ستارے سیارے گھوم رہے ہیں اور کوئی دوسرے سے ٹکراتے ہیں کسی کے مدار میں نہیں جا رہا تھا کس نے کہا اللہ تعالی چاھتا ھے کہ یہ تمام انسانوں کے درمیان قائم کرو ان اللہ یامرو بالعدل والاحسان کا حق بنتا ہے جو کہ بندہ اس کو اور صرف انسانوں کو مخاطب فرمایا آپ کو اس کا حق میت حلقہ 19 مسافروں کو نکاح کے راستے کو بھی اس کا ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو دل کی مصیبت ٹالنے ہے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کامیابی عطا فرمائے کتابی شکل میں شائع ہوچکی چکے ہیں اور بنیاد آپ نے مجھ سے بھائی اللہ تعالی ساری کائنات میں انسان اور برائے مہربانی کرکے ان کو پتھر کو استاد ملنا چاہیے جو افطار کرنا چاہیے عورت کو فارغ کرنا چاہیے جو خدا نے اس طرح پوسٹ لگ چکی ہیں وہ سارے حقوق ملتے ہیں انسان کرتا ہے جس کے نام میں رہتا بلکہ نفرت کرتا ہے اور ان کو قیامت میں اعمال کا جوابدہ ہونا پڑے گا اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی بارش اور نہ ہی اسے کسی دوسرے کی اپنے قبضے میں کر لیتا ہے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق گلے میں بنایا جائے اور اس کا جواب سر اٹھا کر دیکھا وابستہ اور قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاف کو نہایتعبدالسمیع خان صاحب ناظرین کرام آپ نے یقیناً اس پروگرام کے دوران نے دیکھا ہوگا کہ ہم مختلف کتابوں کا ذکر کرتے ہیں مختلف حوالہ جات کا ذکر کرتے ہیں تو میں آپ کو دوبارہ یاد دہانی کروانا چاہوں گا کہ تمام کتب اور یہ تمام حوالہ جات اللہ تعالی کے فضل وکرم کے ساتھ ہماری آفیشل ویب سائٹ اسلام ڈاٹ آف موجود ہیں وہاں ان سے استفادہ کر سکتے ہیں اور ناظرین کرام میں پروگرام کے اختتام سے پہلے آپ کو یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ جو ہمارا سلسلہ ہے گفتگو کو انشاءاللہ لندن سٹوڈیو سے بھی آئندہ چند پروگراموں میں بھی جاری رہے گا آپ اس وقت تو نوٹ کر لیں اس موضوع کو نوٹ کر لیں اور جب بھی آپ کو موقع ملے تو اس پروگرام کو ضرور دیکھیں اور اپنے سوالات ہمیں ضرور بھیجیں میں پروگرام کے اختتام سے پہلے اپنے پینلز عمران حافظ مسعود احمد صاحب اور عبدالسمیع خان صاحب کا بھی شکرگزار ہوں اور خاص طور پر اپنے ناز جتنا شکر ادا کرنا چاہتا ہوں شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ کے سوالات پر ہی مبنی یہ پروگرام ہوتا ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے محمد عربی بادشاہ ہر دو سرا کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں کہ اس کی مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی ہم نے تو یہی سیکھا ہے بانی جماعت احمدیہ سے اگلے پروگرام تک کے لئے اجازت دیجئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ طہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا قدیم نہیں میں ختم المرسلیں

 20 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: