Islam Ahmadiyyat Aor Khatme Nabuwwat




Islam Ahmadiyyat Aor Khatme Nabuwwat

اسلام احمدیت اور ختم نبوت سوال و جواب

Streamed live on Sep 6, 2021

اردو آواز باللہ من شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اس امام کے اکاؤنٹ پروگرام کے ساتھ خاکسار عدنان احمد آپ کی خدمت میں حاضر ہے جیسا کہ آپ کے علم میں ہیں کہ یہ پروگرام ہفتے میں چھ دن پیش کرتے ہیں جمعہ کے دن یہ پروگرام نہیں آتا اس کے علاوہ ہر روز آج کے زمانے سے ہی وقت یعنی ساڑھے گیارہ بجے صبح کے وقت بھی اس تنظیم کے مطابق ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اس پروگرام کا جو دورانیہ ہے مومن 35 سے 40 منٹ ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک کہ آپ کو جماعت احمدیہ کی جو آفیشل ویب سائٹ ہے اس کا تعارف کروایا جائے اس سے کوئی حصہ جہاں آپ کو پڑھ کر سنایا جائے تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ کون سا مواد جو ہے وہ کہاں پر موجود ہے تاکہ اپنی اپنی سہولت کے لحاظ سے تحقیق کرنا چاہیں جماعت احمدیہ کے عقائد کے متعلق بانی جماعت احمدیہ کے متعلق فتویٰ آپ کو پتہ ہو کہ کون سا مواد کہاں پر موجود ہے دوسرا اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے جو اسلام اور احمدیت کے متعلق پنجابی قسم کے سوالات ہو ہم ان کے خلاف شریعت میں جو بات نہیں تو جو ہمارے باقاعدگی سے سننے والے اور دیکھنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بعض اوقات بس اتنی زیادہ ہو جاتی ہیں کہ ہر ایک سوال کا جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے ہر کمنٹ کو پڑھ کر دکھانا یہ سانحہ بھی مشکل ہو جاتا ہے تھوڑا سا بعض اوقات لوگ بے صبری کا مظاہرہ کر دیتے ہیں کہ ہم نے ایک سوال پوچھا اور اس کا فوری طور پر جواب نہیں دیا گیا تو آپ سے گزارش ہے کہ آپ پروگرام کے بالکل شروع کے حصے میں آجائے کریں اور اپنے سوالات پیش کر دیا کریں تو زیادہ قوی امکان ہے کہ آپ کے سوالات جو ہیں وہ اس سیشن میں لے لیے جائیں گے اگر کسی وجہ سے جو ہے آج کے پروگرام میں آپ کا سوال نہ ملے سکے تو قلم پروگرام میں آپ آجائے تو اس میں انشاءاللہ آپ کے سوال کا جواب دے دیا جائے گا اگر کل بھی نہ ہو تو پرسوں کے پروگرام میں آگے بڑھے نہ ہو تو اس کے اگلے پروگرام ہوتے ہیں جیسے میں نے بتایا کہ چھ دنیا پروگرام آتا ہے تو کسی بھی دینا کے ہمارے ساتھ اس پروگرام میں شامل ہو سکتے ہیں اور اپنے سوالات کیے ہیں وہ پوچھ سکتے ہیں اگر کسی وجہ سے آپ کا سوال نہ آئے کچھ دن تک تو اگر آپ مصروف ہیں دیکھیں ہمارا ای میل ایڈریس بھی یہاں موجود ہے اردو اید الاسلام طارق روڈ پر ای میل بھیج کے بھی آپ ہم سے اپنے سوالات جو ہیں وہ پوچھ سکتے ہیں ہیں تو آج ہے پروگرام کے پہلے حصے میں آپ کو جماعت احمدیہ کی آفیشل ویب سائٹس ہیں کوئی چیز کھانی ہے مقصود ہے بعض اوقات جماعت احمدیہ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں اور نہ اللہ ہم نے نبوت پر ڈاکہ ڈال دیا ہے اسی طرح جب ہماری اصلاح سیشن میں بارگاہ میں دوست احباب آتے ہیں تو آتے ہیں پہلا نعرہ لگاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ تاجدار ختم نبوت زندہ باد فیضان ختم نبوت زندہ باد زندہ باد میرے بھائی ہمیں اس نار سے کوئی ایک راض نہیں ہے اپنی طرف سے تو یہی سمجھتے ہیں کہ گویا یہ ہماری چھٹی ہے اور اسے ہمیں کسی قسم کا جو ہے وہ دلی تکلیف ہوتی ہے لیکن ہمیں کیا سبق یاد کریں ہوگی ہم تو حاضر صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتون بھی ایک مانتے ہیں اور آپ کا فیض جاری رہے گا اس لئے ہم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے آپ کے دین سے بھی محبت ہے آپ کی شریعت سے بھی محبت ہے ہے اور آپ کے ماننے والوں سے بھی محبت ہے تو اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ ہم ختم نبوت کو نہیں مانتے یا نعوذ باللہ قرآن کریم کی غلط تشریح کرتے ہیں تو اپنی تصویر کرلے اور ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ جماعت احمدیہ جس شان سے ختم نبوت پر ایمان رکھتی ہے کاش کے باقی مسلمان بھی اسی طرح کا ایمان رکھتے تو یہ جو جھگڑے ہیں یہ جو فساد ہیں کہ جو اختلافات ہیں یہ کلی تن جو ہے وہ مر جاتے ان کو پتہ چلتا کہ وہ عظیم الشان نبی جس کا نام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ کس چاند بھی تھا اور جس کے آنے سے جو ہے وہ کائنات نور سے جگمگا اُٹھی اور جن کے طفیل جو ہے ہم کو خدا تعالیٰ کو ہم نے جانا اور خدا تعالیٰ سے قرب کے جو ہے ہمیں نئے نئے وسائل اور ذرائع کا جب پتہ چلا تو آج میں آپ کو دکھاتا ہوں کہ ختم نبوت کے متعلق جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے اور کہاں سے آپ کو یہ والا جو مواد ہے وہ ملسامنے آجائے گا اصل اگست مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تصویر ہے کہ آپ دیکھیں تو اس کے بعد مختلف عناوین کے تحت آپ کو یہاں سے مواد مل جائے گا لیکن آج جہاں سے آپ کو دیکھا نہیں مقصود ہے وہ ہے یہ اختلافی مسائل ان کے وہ باتیں وہ عقائد یا وہ مصائب اس میں ہمارا باقی مسلمانوں سے اختلاف ہے اگر آپ کس سے میں جائیں گے تو آپ جو ہیں کافی معلومات ہو یہاں سے لے سکتے ہیں اگر آپ یہ آجائیں فیضان ختم نبوت اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے متعلق آپ نے کچھ کرنا ہے جماعت احمدیہ کی آفیشل ویب سائٹ سے تو جو ہے وہ یہاں پر جا سکتے ہیں اگر ختم نبوت کے متعلق جاننا ہے تو آپ جو ہے یہاں کلک کریں گے اب میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا ایک بہت ہی پیارا اور معارف جو ہے وہ والا پڑھ کر دکھاتا ہوں جیسے آپ پر ایک اعتراض ہو جائے گی کہ ہم کس رنگ میں عکس چاند سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہیں جس میں سے حماد علیہ السلام جو ہے وہ اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں کہ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شیء من الیمین آیت ہے جس کے متعلق جو ہر مسلمان کہتے ہیں کہ یہاں خاتم النبیین سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی وسلم آخری نبی ہیں اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے یہ ہم پر اترآئے عظیم ہے مجھ پر میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین جی نہیں مانتے یہ ہم پر اترآئے عظیم ہے ہم جس قوت یقین معرفت اور بصیرت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف بھی نہیں ہے وہ حقیقت اور اس کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے سمجھتے ہی نہیں انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ نہ ہوا ہے ان کے ختم نبوت والا لفظ اپنے باپ دادا سے سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے مگر ہم بصیرت عام سے جس کو اللہ تعالی بہتر جانتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ صرف ان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں اس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا وہ ان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہو یہ وہم نوالہ تھا جو آج کے پروگرام میں آپ کو دکھانا چاہتا ہوں یہ ملفوظات جلد اول صفحہ 345 سے آپ کو مل جائے گا اس کے بعد اگر آپ اسی ویب سائٹ کے اس پیج کے نیچے جائیں تو آپ کو مختلف عناوین کے تحت مزید جو ہے وہ مواد مل جائے گا اگر آپ نے جماعت احمدیہ کا موقف مسئلہ ختم نبوت کے متعلق جاننا ہے تو آپ یہاں جائیں اس پر خاتون نے بھی یہ آیت کی جو تفسیر ہے وہ جماعت احمدیہ کیا کرتی ہے یہاں سے آپ کو مل جائے گا اس طرح مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ختم نبوت پر جو ہے علمی تبصرہ آپ کو یہاں مل جائے گا کام کیا ہے جماعت احمدیہ کے نزدیک صدر ایک نصیرآباد کا ایک بہت ہی اہم لیکچر تھا اس موضوع پر عرفان ختم نبوت وہ بھی اور یہ جو کہتے ہیں کہ یہ احمد نے اپنی طرف سے عقیدہ گھڑ لیا ہے پہلے لوگوں نے ختم نبوت کے متعلق ایسی کوئی تشہیر نہیں کی تو اس کے متعلق بزرگان امت کے بعد جو ہے حوالہ جاتی ہیں کہتے کیے گئے ہیں جن کا وہی مؤقف تھا کہ ختم نبوت کے متعلق جو کہ جماعت احمدیہ کا ہے اس طرح مختلف فائنل سے ختم نبوت کے موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے اور آپ کو مقالہ جات اور مضامین جو ہیں وہ مل جائیں گے تو یہ سادہ پر جو ہے وہ اسی کے متعلق ہے جو انہوں نے بیان کی جاتی ہے لا نبی یا بعدی اس کے متعلق بھی جو ہے وہ آپ کو یہاں سے مواد مل جائیگاکہ ختم نبوت کے متعلق جماعت احمدیہ کا کیا کیا ہے اور آج بھی اگر آپ کسی کے اس کے متعلق کوئی سوال ہو تو ضرور پوچھیں تاکہ مزید تشریح کی جائے اس موضوع کے بیان کر سکے ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری شرعی نبی مانتے ہیں اب کوئی نبی نہیں آسکتا جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرے گا ختم کے ایک معنی مہر کے بھی ہوتے ہیں تو اب کوئی شخص نہیں آسکتا جو کہ نبی ہوں جس پر آخرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نہ ہو اور جو ہے وہ اس بات کا جو ہے وہ سمبل ہوتی ہے کہ یہ تھک ایک چیز ہے جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کس چیز پہ نہیں ہوگی ہم اس کو جو ہے وہ نبی تصور نہیں کریں گے تو اس لحاظ سے نبی آ سکتے ہیں اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہیں اور آپ کے جولائی کے احکامات ہیں ہو اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرما دیا تھا کہ آخری زمانے میں ایک نبی آئے گا اس نبی کو بازار بھی آپ کے القاب سے یاد کیا ہے اس کوایک جگہ مسیح ابن مریم کہاں ایک جگہ اس کو امام مہدی کہاں پھر ایک دوسری جگہ اس کو نبی اللہ بھی کہا تو یہ دراصل ایک ہی شخص ہے کوئی مختلف شکایت نہیں ہے بار بار ہم اس پروگرام میں آپ کو حوالہ جات بھی دکھاتے رہتے ہیں کہ غلط فہمی کی بنا پر مسلمانوں نے یہ عقیدہ گھڑ لیا ہے کہ یہ مختلف اشخاص ہوں گے مسیح موعود اور ہونگے جو ہے امام مہدی اور ہوں گے اور حضرت صاحب پرانے زمانے میں بنی اسرائیل کی طرف آئے تھے وہ ابھی تک زندہ ہیں وہ دوبارہ آئے گی ایسا ہمارا کوئی قید نہیں مانتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام وہی امام مہدی اور مسیح موعود ہیں جن کا آخرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانے میں وعدہ کیا تھا جن کے متعلق پیش گوئی کی تھی اور انہی کو روحانی لحاظ سے نبوت کا مقام بھی ہے اللہ تعالی نے دیا اور یہ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا اسے کا کوئی شخص پہلے آئے گا درمیان میں آئے گا آخر میں ملازم ہوں اس لئے سب سے بہتر وہ ہے جو خدا کی نظر میں سب سے افضل تو وہ شروع میں تھا درمیان میں تھا آخر میں وہ اصل فضیلت کا مقام ہے نہ کہ آخر پہ آنے میں جو ہے کوئی کسی قسم کی فضیلت ہے وہ ذات جو خاتم النبیین ہوئے اس لیے کہ آپ کا روحانی مقام اور مرتبہ سب انبیاء سے افضل ہیں آپ خاتم النبیین اس لحاظ سے ہوئے کہ آپ کی شرائط جہاد میں سب سے افضل ہے آپ خاتم النبیین اس لحاظ سے ہوئے کہا کہ کوئی نبی نہیں آ سکتا جب تک اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نہ ہو اور آپ کی شریعت کے تابع نہ ہو یہی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر میرے ذاتی اعمال ہیں وہ پہاڑوں کے برابر بھی ہوتے تو پھر بھی مجھے خدا تعالیٰ وحی و الہام نازل نہ کرتا اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ایک فرق نہ ہوتا یہ جو مجھے مختلف مقامات روحانی فیض اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے طفیل کی وجہ سے مجھے مل جائے آپ نے فرمایا شاگرد نے جو پایا استاد کی دولت ہے احمد کو محمد سے تم کیسے جدا سمجھو جو کچھ میں نے پایا ہے وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض حاصل ہوئے ان معنوں میں اس سے پہلے بھی کی ہے تو اس کے متعلق اگر آپ کے مزید کوئی سوالات ہوں تو ضرور پوچھیں اور اگر خود تحقیق کرنی ہے تو میں نے آپ کو ہر جگہ بتا دیا کہ اسے آپ کو اس طرح کی تقاریر و مقالہ جات اور سوال و جواب جو ہے وہ ملیں گے سوالات کی طرف آتے ہیںکہتے ہیں اسلام علیکم جی وعلیکم السلام سلام سلاماچھا پہلا سوال لے لیتے ہیں یہ کہ میرا سوال یہ ہے کہ اللہ سے محبت کا معیار کیا ہے اگر خدا سے محبت کرنے کا دعوی رکھنے والا شخص اللہ کو ناراض کر بیٹھے تو کیا اس کی محبت سچی نہیں ہے یا طبی طور پر ہے بات یہ ہے کہ خدا سے محبت کا معیار تو یہی ہے کہ جو خدا تعالی نے احکامات دیئے ہیں اس پر انسان جو ہے وہ دو سال کوشش کریں کہ ان پر جو ہے وہ پورا ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے انسانی پیدائش کی غرض یہ بیان کی ہے کہ قرآن کریم میں وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ہے کہ میں نے جن و انس کو نہیں پیدا کیا مگر اس ڈر سے کہ وہ میری عبادت کرے تو جس چیز کو جس مقصد کے لیے بنایا گیا ہوں اگر وہ اس مقصد کو پورا کرتی ہے تو لازمی جو بنانے والا ہے اس کو خوشی ہوگی محسن کھڑی ہے کھڑی کا مقصد یہ ہے کہ وہ وہ ہمیں وقت کے متعلق بتائیں کہ کیا وقت ہو چکا ہے گاڑی کا مقصد یہ ہے کہ ایک جگہ سے ہمیں دوسری جگہ پر جو ہے وہ لے کر جائے تو اگر یہ دونوں چیزیں جو ہے گھڑی ہمیں وقت بتائے اور گاڑی ہمیں اپنی منزل تک نہ لے کے جائے تو پھر اس کا کیا فائدہ ہوگا فائدہ اسی وقت ہوگا جب اس کام کو کرے جس کے لیے بنائی گئی تھی تو اسی طرح انسان کا بھی یہی ہے اس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے کہ وہ خدا کی عبادت کرے تو جتنا کوئی خدا کے قریب ہوگا اتنی خدا تعالیٰ سے جو ہے وہ محبت کرے گا اور ایک حدیث میں بھی آتا ہے جب خدا تعالیٰ کسی شخص سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کروں گا پھر جبرائیل باقی فرشتوں کو بتاتے ہیں کہ خدا تعالی فلاں شخص سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو پھر پھر اہل آسمان پر ادا کی جاتی ہے پھر جو زمین میں وہ شخص کی قبولیت جائے وہ پھیلا دی جاتی ہے تو معیار تو یہی رہ کے کیسا ہے وہ خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہاں بشری کمزوریاں حاضر کے ساتھ لگی ہوئی ہیں جو وہ نفس مطمئنہ کی حالت پر پہنچ چکے ہیں وہ تو ہمیشہ جو ہے خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کریں گے اس کی ناراضگی نہیں بولیں گے لیکن ہم لوگ جو ہوتے ہیں وہ کبھی کبھی جو ہے شیطان کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف چلے جاتے ہیں تو یہ ایک نیچر چیز ہے کوشش کرنی چاہیے کہ اس سے بچا جائے لیکن اگر کبھی ایسی کوئی خطا ہو جائے اس کا قرآن کریم نے یہ علاج فرمایا کہ ان الحسنات یذہبن السیئات کہانی کیا جو ہے وہ برائیوں کو دور کردیتی ہے اس لیے اگر کوئی خدا کے حکم عدولی ہو جائے تو اس کے بعد جو ہے وہ نیک کام کرنے چاہیے اچھے کام کرنے چاہیے تاکہ خدا کے وہ دوبارہ ہم سے راضی ہو اس کے متعلق ہے حدیث یاد بھی ہے جس میں آنحضرت صلی وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرا بندہ جو ہے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ میں تیرے احکامات پر عمل کروں گا اور وہ کرتا ہے لیکن صبح کے وقت اس کی اور کیفیت ہوتی ہے پھر رات کے وقت جو ہے وہ گناہ کر دیتا ہے پھر اس بات پر نادم ہوتا ہے میں نے خدا سے کیا ہوا عہد جو ہے وہ تو دیا ہے پھر دوبارہ توبہ کرتا ہے اور پھر جو ہے بلند رکھے مال کرتا ہے لیکن پھر اس کو توبہ کو توڑ کے دوبارہ غلط استعمال کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کو جو ہے وہ یہ ادا بھی پسند آتی ہے کہ توبہ کرتا ہے یہ ہے کہ بار بار کرتے رہیں کیونکہ ایک حد ہوتی ہے کب خدا تعالی کی پکڑ کر لے گی حدیث بتانے کا یہ ہے کہ اگر کوئی غلطی ہو جائے تو خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے بشری کمزوری کیا ہوتی ہے وہ معاف کر دیتا ہے تو معافی مانگنی چاہیے اور آئندہ سے پختہ عہد کرنا چاہیے کہ دوبارہ ایسا کام جو ہے وہ نہیں کیا جائے گا آئے گا ایک سوال ہے کہ مرنے کے بعد جسمانی اعضا ہوتے ہیں ان کے عطیہ کرنے کے بارے میں اسلامی تعلیم کیا بالکل تیار کیے جاسکتے ہیں بہت سارے جماعت میں بھی اور گرینڈ مستی حضور انور نے بھی اس کے متعلق جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ہدایات دی ہیں آپ تو اس دنیا سے چلے گئے اگر آپ کی کنیز ہیں آپ کے آنکھیں ہیں آپ ہے جو کہ کوئی اور شخص ہے وہ استعمال کرسکتا ہے جو بیمار ہے جس کی اپنی چیزیں جو ہے وہ ناکارہ ہو چکی ہیں تو یہ ایک قسم کا آپ کے لئے صدقہ جاریہ ہو جائے گا پیسہ جو ہے وہ کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ان کا علاج کیا جاتا ہے کہ ایسا جو کرسکتا ہے غرور کرے تےاتنی بڑی پڑتی ہے بات یہ ہے کہ توہین کرتا ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے وہاں گیا ہے اگر تو اس کی ایک جو ہے نوکری میں شامل ہے تو پھر ایسے شخص کو جو ہے وہ نہیں جو مسلمان ہوائی جہاز چلانے والے ہوتے ہیں وہ ایک دن ایک ملک میں ہوتے ہیں دوسرے دن دوسرے ملک میں ایک دو دن وہاں کرتے ہوتا ہے پھر اگلے دن یہ قسم کی ان کی نوکری جو ہے وہ ہوتی ہے تو سارا سال ہی جو ہے انہوں نے جاری رکھنا ہے تو پھر ہمیشہ یوں قصر نماز کریں گے یہاں کبھی کبھار اگر سفر کی غرض سے کسی سے ملنے کی خاطر آپ جاتے ہیں تو کا ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہیں تو پھر آپ کا سفر کریں گے لیکن اگر نوکری کی حیثیت سے پورے سال ہی کسی کا یہ طریقہ ہے جو اس نے پہلے ایک شہر میں جانا ہے اور دوسرے میں پھر تیسرے میں دو پھر میں شمار نہیں ہوگا ہاں بعض اوقات نوکری والے بھی بھیجتے ہیں آپ کو سفر کی وجہ سے آپ نے ایک ہفتہ جو فلاں شہر میں جا کے یہ کام کرنے وہ سفر میں آجائے گا کیونکہ وہ معمول کی ایک قسم کا آپ کا کام نہیں ہے اسی طرح ٹرک چلانے والے لوگ ہیں وہ بھی جو ہے سارا سال کا یہ کام ہے کہ امریکہ میں جانتا ہوں آپ لوگوں کو ایک اسٹیٹ سے لے کر بالکل امریکہ کے دوسرے کونے تک جو وہ گھر چلاتے ہیں تو وہ تو سارا دن ہیں جو ہے وہ سفر میں رہتے ہیں تو ایسے اشخاص کے لئے چونکہ ان کی جاب ہے تو وہ پھر نہیں کریں گے بلکہ پوری نماز سے ہے وہ پڑھیں گے تو اس لحاظ سے نیت ٹوٹ کرتا ہے اور کس مقصد کے لیے آپ کو سفر کر رہے ہیں وہ اس پر منحصر ہو گا کہ آپ نے کل کرنی ہے یا نہیں تو بعض اوقات اپنے دل سے فتوی لے لینا چاہیے کہ کیا واقعی میں سفر کی غرض سے آگاہ ہو کہ نوکری جو ہے اس کی وجہ سے پورے سال کی یہ طریقہ کار ہے ہے اس کے سنتیں فرض کے تابع ہوتی ہیں تو فجر کی نماز میں پہلے سنتیں کیوں پڑھی جاتی ہیں تب اس سے مراد یہ ہے کہ فرض نماز کا جو ہے وہ درجہ زیادہ ہے اس کی اہمیت زیادہ اس کے بعد جو ہے وہ سنتے ہیں تو تابع یہ دن پہلے آپ نے فرض پڑھنے کے بعد میں سنتیں پڑھنی ہے ویسے تو دو ہی نمازیں ہیں جس سے پہلے ہم سنتے پڑھتے ہیں نماز فجر ہے اس سے پہلے سنتیں پڑھتے ہیں اور پھر نماز ظہر سے پہلے جیسا ہی جاتی ہیں اس سے یہ مراد نہیں کہ اس کے ہر حال میں اپنے اس کے بعد ہی پڑھنی ہے کتاب سے مراد ہے اور الٹی جو ہے وہ اور نماز کو اس کے بعد جو ہے وہ سنت ادا کریں گے تو جنت اس لحاظ سے باضابطہ معافی ہو جاتی ہے جیسے آپ نے نماز جمعہ کے زور پر جمع کیے اور کی زندگی ہے وہ آپ نہیں پڑھی مغرب عشا جمع کیا تو پھر سنتے نہیں پڑے گی دوسرے ہاتھ سے وہ تابع ہے کہ اور اس بار قائم رہیں گے لیکن فرض کے علاوہ آنحضرت صلی وسلم کا یہ طریقہ کبھی دوست تھے پڑھا کرتے تھے کبھی چار سنتیں پڑھ کر کرتے تھے تو اسی سنت کے پیش نظر جو ہے ہم بھی اتنی ہی رکھتے ہیں وہ پڑھتے ہیں ہیں یہی سوال یہ ہے کہ حضرت محمد صلی وسلم کی محبت کیسے دل میں پیدا کی جاسکتی ہے اس درجہ کی محبت کے خدا ملے اور انسان کسی بھی شخص کے جانے کے لیے پہلے جو آیت کا پتہ ہونا چاہیے تو پہلے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آپ پڑھیں گے آپ کیا تھے کب پیدا ہوئے کیسے آپ نے اپنی زندگی گزاری آپ کو خدا تعالیٰ کے ساتھ کیسا تعلق تھا آپ کا اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسا تعلق تھا اپنے دوستوں کے ساتھ آپ اپنے دشمنوں کے ساتھ گہرا تعلق تھا کیسے آپ نے اپنے خدا کو راضی کیا کیسے اس کو پا لیا تو بڑا اہم ہیں کہ ہم ان حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھیں کیونکہ جب تک کسی شخص کے بارے میں آپ جانتے نہیں اس وقت تک محبت کا جو ہے وہ پیدا ہونا مشکل ہو جاتا ہے تو یہ پہلا کام ہے اسی بات یہ ہے کہ درود شریف کثرت کے ساتھ پڑھا جائے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہکے لیے فرمایا کہ ایک تو جو شخص اس قصیدے کو یاد کرے گا اور بار بار اس کو دہرائے گا یعنی کے روزمرہ کے معمولات میں شامل کر لے گا اس کے حافظے میں اللہ تعالی غیر معمولی طور پر جاؤ برکت دے گا دوسرا جو ہے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی اپنی اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایسے شخص کے دل میں جو ہے وہ ڈالے گا تو یہ ایک اور نسخہ ہے جو کہ آپ اپنی مثال یہ ہے کہ جب ہم سو جاتے ہیں تو ہماری روح تو کیا ہماری روح جسم سے نکل جاتی ہے ایک لحاظ سے بالکل نکل جاتی ہے اور قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر آتا ہے کہ بعض کو جو ہے نا وہ جو ہے اللہ ان کی نیند کی حالت میں قبض کرتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالی کا یہ حکم آجائے کہ اس کی وفات کا وقت آگیا ہے اس روح کو اللہ تعالی اپنے پاس رکھتا ہے لیکن جس کے متعلق ابھی فیصلہ نہ ہوا ہو جس کو ابھی مزید الہند زندگی عطا کرنی ہو تو وہ جو ہے اس کی روح کو واپس بھیج دیا جاتا ہے اس کی کیا کیفیت ہے وہ تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ قرآن کریم میں اس کا ذکر آتا ہے کہ نیند کے وقت جو ہے وہ رو رو کے پاس چلی جاتی ہے کیا کیفیت ہے اس کی وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے ہے ہے ہے ہے ہےاچھا اولڈ نور کہتے ہیں کہ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 29 اور 30 کی تشریح کر دیں تو دیکھ لیتے ہیں کہ جو ہے وہ کیا بات ہو رہی ہے ہے ہے یہ بھی میں آپ کو بتا دیتا ہوں جو ہے وہ السلام کا کیسے ہے آپ کو وہاں جاکر یہ چیزیں جو ہے وہ سکتے ہیں تو کوئی حوالہ کبھی آپ نے دیکھنا ہو کہ کیسے اسلام سے دور رہ سکتے ہیں تو یہ جواب میں بھی چلے جائیں گے تو یہاں جو ہے وہ قرآن میں گرجاۓ اس کے نیچے آپ اگر یہ آجائیں تو بنی اسرائیل کی جو ہے وہ آیت نمبر 33 34 ویہاڑی سورتوں کے جو ہے وہ نام دیے گئے ہیں جو ہے وہ 17 نمبر سورت ہے اور پھر یہاں سے جا کے آپ جو ہیں وہ آیت نمبر ڈھونڈ سکتے ہیں یہاں ان کا نمبر بند ہے اس کا اس میں بسم اللہ شامل کریں آپ کی بسم اللہ کے بغیر ہمیں بتاتی ہیں کہ احمدی بسم اللہ کو حاضر سورت کی پہلی آیت جو ہے وہ شمار کیا جاتا ہے اس لحاظ سے 29 دیکھے ہیں تو اس میں لکھا ہے کہ ایک متوازن مقدار رحمۃ من ربک ترجمہ قال رسول اللہ اور تجھے ان سے آغاز کرنا ہی پڑے تو اپنے رب کی رحمت کے حصول کی خاطر جس کی تو بھیج کر ان سے درخواست کر اگر آپ کے پیچھے جائیں تو وہ ذکر ہو رہا ہے کہ ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین فضول خرچی کرنے والے جو لوگ ہیں وہ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بہت جو ہے وہ ناشکرا ہے اگر تو یہ لیپ ٹاپ ذکر کر رہی ہیں تو اس میں فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے کہ فضول خرچی سے انسان جو ہے اپنے جو وسائل ہوتے ہیں ان کو ختم کر دیتا ہے اور پھر جو ہے وہ کسی سے مانگنا پڑتا ہے یا پھر دکھاوے کی خاطر ایسا کرتا ہے تو اس سے بھی جو ہے انسان خدا تعالیٰ سے دور جو ہے وہ چلا جاتا ہے اور ناشکری بھی اس سے پیدا ہوتی ہے اگر بہت زیادہ وسائل کی قدر نہ ہو تو نا شکرا انسان ہوتا ہے اور وہ بھی شیطان کو بھی کہا گیا کہ وہ بھی نہ رہا ہے اور ایسا شخص جو ہے وہ خدا کی جو ہے رحمت سے دور ہو جاتے ہیں اور تجھے ایسے راز کرنا ہی پڑے تو اپنے رب کی رحمت کی طرف کے حصول کی خاطر جس کی تو میری طرف سے نرم بات کرکے آپ ان کو بال تعلیم دینی ہے توجہ دلانی ہے لیکن نرم طریقے سے حکمت کے تحت جو ہے وہ ایسا کرنا ہے پھر اپنی مٹھی بھر کے ساتھ بھیجتے ہوئے گردن سے نہ لگا اور نہ اسے پورا کا پورا کول پاکستانی بچے میں تو ملامت زدہ اور رنجیدہ ہو کر بیٹھ جائے تو اس میں یہی باتیں بیان کی گئی ہے کہ فضول خرچی سے جو ہے وہ پرہیز کرنا چاہیے لیکن جو سی بھی جو ہے وہ بھی بعض لوگوں میں یہ ہوتا ہے کہ کہتے ہیں کہ جو خرچ نہیں کرنی تو جو بنیادی قسم کے اخراجات ہوتے ہیں ان سے بھی اپنے گھر والوں کو محروم رہتے ہیں تو جو درمیانی راستہ ہے ہمیشہ اسلام اس کی تاکید جتنا فضول خرچ کرنا ایک مجوسی کرو بلکہ درمیانی راہ اختیار کرو جو جائز ضروریات ضرور کرو لیکن اس رات جو ہے وہ سے بچنا چاہیے تو یہی آیات ہیں تو یہ اس کی تشریح ہو سکتی لیکن اگر کوئی آئے نا آپ کا سوال ہو تو وہ کیا بتا سکتے ہیں عید کی پیش گوئی کیا ہے اس کے بارے میں سنت اللہ کیا ہے وید کی پیشگوئی جس میں کسی کے جو ہے کسی کے عذاب کے ساتھ جن کا تعلق ابو اقوام ہو سکتی ہیں وہ اشخاص بھی ہو سکتے ہیں مثلا اس کے متعلق جو ہے وہ حضرت یونس علیہ السلام کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قوم نے جب آپ کا انکار کر دیا انہوں نے کہا کہ اب جو ہے تم لوگ ہلاک ہوجاؤگے اور اس شہر سے اس گاؤں سے پھر جو ہے وہ ہجرت کر کے آپ چلے گئے اور انتظار کرنے لگے کہ اب اس قوم پر جو ہے وہ عذاب آتا ہے تو یہ ایک واحد کی پیش گوئی کرتے گئے تھے جس میں ایک گاؤں تھا کہ تم جو ہے خدا کے عذاب کے نیچے آؤ گے ان لوگوں نے جو ہے وہ تو ان کو اپنی غلطی جو ہے وہ انہیں تسلیم کر لیں اور توبہ استغفار کرنی شروع کر دی اس لحاظ سے کہ اللہ تعالی نے ان کی توبہ اور استغفار کی وجہ سے ان سے عذاب سے ایبٹ آباداگر تو بہ اور استغفار کی جائے تو اللہ تعالی اس انسان کو جو ہے اس سزا کو جو ٹال دیتا ہے اور مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں بھی بعض واقعات ملتے ہیں مسجد عبداللہ آدم جو تھا اس نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے وہ باتیں کی نعوذ باللہ آپ کو غلط الفاظ سے یاد کیا تجھ کو دلائیں السلام نے فرمایا کے لئے جو نہیں کرتا توبہ نہیں کرتا تو یہ پندرہ مہینے کے اندر جو ہے وہ بھی ہمیں کیا جائے ان کے جو ہے اس کو سخت عذاب ملے گا اس نے جو ہے وہ سمجھ میں ہی توبہ کر دیا اور اپنی زبان کو باہر نکال کے میں توبہ کرتا ہوں اپنے ہاتھ جو ہے وہ قانون پر لگا دیے مافی کلبی تو اس کی وجہ سے وہ جو پندرہ ماہ کا عرصہ تھا اللہ تعالی نے اسکو ٹال دیا لیکن اس کے بعد لوگوں میں یہ مشہور ہوگی انہیں پیش پوری نہیں آپ نے فرمایاکہ عبداللہ آدم سے پوچھ سکتے ہو کہ وہ اس پیشگوئی سے جو ہے وہ ڈرا نہیں کیا وہ اپنی بات سے اس نے توبہ نہیں کر لیں تو پندرہ مارچ تک ہے اچھا چلتا رہا تو لوگوں نے جو ہے وہ بدلہ تم کو کہا کہ تم کیوں نہیں کہتے کہ میں مجھے اس پیشگوئی کا کوئی ڈر نہیں ہے لیکن جو کہ ڈرا ہوا تھا اس لحاظ سے اس نے توبہ کی نکلا میں سے بعض آ گیا تو پندرہ ماہ کی مدت میں جائے وہ پھر بچا رہا لیکن چند ماہ کے بعد بھی جو ہے وہ زمانے کے ظاہر کرو تاکہ لوگوں پر جو حقیقت واضح ہوجائے تو اس نے جو ہے آواز نہیں فرمائے اب جو ہے خدا تعالی کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ اب اس نے حق کو چھپایا تو اس نتیجے میں مر گیا تو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جو ایسی پیش آیا ہوں جس میں کسی کے عذاب کا تعلق ہو کسی شخص یا قوم کی سزا کا تعلق اگر تو وہ لوگ وہ اشخاص جو اقوام اپنا رویہ بدل دیں تو پھر جو ہے وہ پیشگوئی اللہ تعالی ڈال دیتا ہے وہ ذات جو ہے وہ خراب کر دیتا ہے یا کوئی تعلق ختم کر دیتا ہے تو امید ہے کہ آپ کا جواب جو ہے وہ آ جائے گا اس بات میں کے لئے ایک چیز ختم ہو چکی ہے اس پر کیس پہلا کیسے دیا جا سکتا ہے جیسے غیر احمدی لوگ کہتے کہ ہم ختم نبوت پر پہرا دیتے اس سوال کا جواب تو جو ہے وہ ختم نبوت ولیاں دے سراں دا سوال یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی کے اسمائے یہ ہے کہ جہنم کا تصور جو ہے مومن لوگوں میں غلط طریقے رائج ہوگیا ہے جہنم ایک طرح کا تعلق ہے آپ سمجھ سکتے ہیں تو بعض اوقات جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو آپ کو ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے بعض اوقات کچھ گھنٹے بعد آپ واپس آ جاتے ہیں بعض اوقات ایک دن رہنا پڑتا ہے بعض اوقات دس دن بعد لوگ مہینے اور کے سال میں رہتے ہیں اور وہ ڈیپینڈ کرتا ہے کہ بیماری کی نوعیت کیا ہے اس لحاظ سے جتنی بیماری کی نوعیت زیادہ اتنی زیادہ دیر جو ہے وہ رہتا ہے جن میں انسان کا سوال آتا ہے تو بعض اوقات ایسا بھی مرحلہ آتا ہے کہ بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹانگ جو ہے وہ کاٹنے پڑے گی ہاتھ چوہے کا کاٹنا پڑے گا کیونکہ یہ بیماری اس میں اتنی حد تک پھیل چکی ہے کہ اگر اس کو نہ کاٹا گیا تو جو ہے وہ سارے جسم میں وہ پھر جائیں گے سارے جسم کو ناکارہ کر دے گی تو نہ چاہتے ہوئے بھی مریض بھی اس کے گھر والے بھی کہتے ہیں کہ جس کو کاٹنے جو کہ یہ سارے جسم پر بہت پسند ہو جائے گی تو نہ چاہتے ہوئے بھی ہم جیسا کہ تم اب بھی بعض اوقات اس کی اجازت دے دیتی ہے باپ بھی جلدی تو جہنم بھی ایسے ہی ہے جب تک وہ لوگوں کو جو بیماری لاحق ہو جاتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی اس کے احکامات پر عمل نہ کرنا گناہ کرنا تو جب تک وہ جو ہے وہ پاک نہیں ہو گی اس وقت تک جنت میں نہیں جائے گیدوسرے لوگوں سے نا ملے تو جان بھی بالکل ایسے بڑے اچھے طریقے سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا کی حکومتیں جو ہیں وہ بھی چاہتی ہیں کہ وہ بیماری جو دوسروں کو نہ لگ جائے تو کیا خدا تعالیٰ ہم سب سے زیادہ پاک ہے اور پاک لوگوں کو پسند کرتا ہے وہ کیسے چلے گا کہ میرے بندوں کو ناپاک بندے جو ہے وہ نکال اور خراب کرتے ہیں اس لئے ان لوگوں کی روح کو پاک کرنے کے لئے جہنم میں جائے کو کس نے رکھا جائے گا پاک ہو جائیں گے اللہ تعالی ان کو جنت میں لے جائے گا تو اس میں محبت کی بات نہیں ہے محبت ہے تو تب بھی جو ہے اللہ تعالی ان کو وہاں سے نکالے گا ورنہ ساری زندگی ہم کو جہنم میں پڑا رہنے دیتا لیکن ایک حدیث میں آتا ہے ایک وقت آئے گا کہ جب میں کوئی بھی شخص نہیں ہوگا اور ہوا جو ہے اس کے دروازوں کو جو ہے آفس میں حاضری ہوگی مراد یہ ایک بالکل خالی ہو جائے گی تو پھر محبت نہ ہوتی تو خدا تعالیٰ ہمیشہ کے لئے ان کو دوست نہیں رکھتا لیکن وہ خالق ہے وہ کریم بھی ہے وہ بخشنے والا بھی ہے لیکن بیماری سے شفا پانے آنے کے بعد جو ہے وہ جہنم سے نکالے جائیں گے تو محبت کی وجہ سے خدا تعالیٰ ایسا کرتا ہے ہے اچھا ہے سوال یہ ہے کہ وہ چودو فیملی ممبرز کو ٹیکہ ویکسین یہ تو ان کا ذاتی فعل ہم کیا کہہ سکتے ہیں لیکن اگر وہ جماعت احمدیہ کے افراد دی تو حضور انور نے اپنے باز ٹرانسلیشن میں اس کی طرف جو ہے وہ تحریک بھی دلائی ہے کہ یہ ایک بہترین طریقہ ہے اس بیماری سے بچنے کا اگر دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں تو جو اس فیلڈ کے ماہرین نے مجھے کہتے ہیں کہ سب سے بہترین طریقہ جو ہے اس بیماری سے بچنے کا وہ ویکسین لگانا ہے تو ویکسین جو ہے وہ لگانی چاہیے اور پھر جو ہے وہ خدا تعالیٰ کی ذات پر جاؤ تو کال کرنا چاہیے ایک دفعہ ایک صحابی آئے تو یہی کہتے ہیں کہ جو ہونا ہے وہ ہونا ہے تو اس لیے اگر میری موت لکھی ہے تو میں نے آپ کے آنے پر کیا ضرورت ہے اگر یہی بات ہے تو پھر وہ ڈاکٹر جب بیمار ہوتے ہیں ڈاکٹر کے پاس کیوں جاتے ہیں جب ہوتا ہے یا اور بھی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں تو ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے نہیں بھائی کیوں لیتے ہیں اگر سب بھی اگر پہلے سے طے شدہ ہے یا جو ہونا ہے وہ تو ہو جانا ہے تو ان کا علاج کہیں کم ہو جاتا ہے کہ باقی بیماریوں کے وقت ہے وہ ڈاکٹر کے پاس جائیں گے تو پھر نہیں کہیں گے جو ہونا ہے وہ ہی جانا ہے اس لحاظ سے انہیں یہ بھی سمجھائیں کہ خدا تعالی نے جو ہے ہر چیز کی ایک دفعہ رکھی ہے لیکن جلد ہی بیماری کی شفا ہے اور توکل وہی ہے جو کہ گدھا بند کیا جائے صحابی کا واقعہ ہے کہ وہ کسی دوست باہر کی جگہ سے آئے مسجد میں مسجد نبوی میں انہوں نے اپنی ان کو باہر کھڑا کر دیا اور نواز میں شامل ہوگئے اور جب وہ نماز پڑھ کے فارغ ہوئے تو اتنی دیر میں وہاں نہ تھا وہ بھاگ گیا کہیں تو صابن گئے یا رسول اللہ میں نے تو خدا تعالیٰ پر توکل کیا تھا کہ میں نماز کے لئے جا رہا ہوں اچھے کام کے لئے جا رہا ہوں وہ میرے ان کی حفاظت کرے گا لیکن ان کو یہاں سے بھاگ گیا میں کیا کروں آپ نے فرمایا تو کل یہ نہیں ہے وہ کل یہ کہ تم اپنے ان کا گھٹنا پہلے باندھ دیتے اور پھر توکل کرتے یہ نہیں کہ جو انسان کے اختیار میں چیزیں ہیں پہلے وہ شادی کرے پھر خدا دل لگی تقدیر نے دوبارہ جو ہے وہ غالبانہ ہے اس لحاظ سے پہلے توقع یہی مقام ہے کس الاسباب روئے کار لائے جائیں اور پھر جو ہے بات ہے خدا طلب پر چھوڑی جائے تو یہ بھی تو عقل کے منافی ہے اسباب کو اختیار کرنا اور جو ہے کہنا کہ میں دعا کرتا ہوں تو کتنے خدا تعالی کی ذات ہو اور عقل کے مفہوم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ان کو بتائیں کہ اگر کسی لگایا اپنے لیے بھی اور آپ کے اردگرد کے افراد ہیں ان کی صحت اور سلامتی کے لیے بھی یہ بڑا ضروری ہے ہے ہی نہیں کی نماز پڑھ لیتے ہیں تو تب سے لے کر غروب آفتاب تک ہم مغرب کے وقت کے علاوہ کوئی نماز نہیں پڑھے جا سکتے یہی اذان کا حکم ہے کہ جو ثواب ہے وہ تو ایک آدمی ہے جب اللہ تعالی اور اس کے نبی نے کہا کہ ان اوقات میں نماز پڑھ لوں تو برکت یہی ہے کہ ان حالات میں ہم نماز پڑھتے جب کہا کہ نوکات میں نماز نہ پڑھو تو برکت یہی ہے کہ اس میں ہم نماز نہ پڑھے جب سورج نکل رہا ہوتا تھا اور سورج غروب ہو رہا ہے مشرکین کی زیادتی کی ہے خدا کی جو ہے عبادت کیا کرتے تھے اس کو مشرکانہ عبادت کیا کرتے تھے تو اس کو رد کرنے کے لئے جب سورج نکل رہا ہوں اس وقت جو ہے عبادت نہ کرنے کا حکم ہے اور جب سورج غروب ہو رہا اس وقت برباد نہ کرنے کا حکم ہے اور پھر جب سر پہ اس وقت اس کے علاوہ باقی اوقات میں آپیہ ایک دلچسپ سوال ہے کہ دلہن کو نماز معاف ہے چار گھنٹے کرنے کے بعد نماز پڑھے گی تو وضوع کرنا پڑے گا کا کوئی حل بتا دیں کہ بات یہ ہے کہ یہ تو ٹائم پہ ڈیپینڈ کرتا ہے نہ کہ کون سے وقت میں جو ہے وہ شادی کا فنکشن اور عموماً رات کو ہی ہوتے ہیں تو وہ وضو کر کے ہیں جو ہے وہ میکپ کروائے ہیں سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ وضو کر کے ہے وہ میں کب کروائیں تاکہ اس کے ساتھ جو ہے وہ نماز پڑھ سکیں یا پھر جب رات کو گھر میں جائے تو اس وقت ہے پہن کے بعد جا کر نماز پڑھی جا سکتی لیکن نواز صاحب کسی کو نہیں اللہ کے نبیوں کو بھی نہیں مانگتی ولیوں کو بھی نہیں مانگی تھی نہ جن کو خوف ہے نہ دولہے کو معافی نہ باراتیوں کو معاوضہ کسی کو معاف نہیںجی بھائی کہتے ہیں برائے مہربانی احادیث کے حوالے بھی دیے بھائی کون سی حدیث کا حوالہ چاہیے ساتھ دیتے ہیں مگر بعض اوقات تو بتا دیا کریں تو بعد میں چوں کہ یہ ایسی ڈکشنری تقریبا ہر پروگرام میں ہوتی ہے یہ ڈسکشن والوں کو ختم نبوت کے بارے میں اور کئی دفعہ حوالہ جات دے چکے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہی ہوتا جو کہ یہ حوالہ جات مال دے چکے ہیں تو ہر دفعہ اس کتاب سے حوالہ دیکھا نہیں اس کی تائید جو ہے وہ آسانی سے الفاظ میں بتا دیتے ہیں اور ہر دفعہ ہر حوالہ جات بھی نہیں ہوتا ہے بعض حوالہ جات تیار ہوتے ہیں لیکن ہر حدیث کی کس کتاب میں کس میں کونسا نمبر ہے یہ تو ممکن نہیں ہے کہ ایک بچی زیادہ لیکن کوئی موئن جو ہے وہ آپ کو حدیث کا حوالہ چاہیے تو آپ بتا سکتے ہیں ہیں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک دو سوال ہم لے لیں لی لی ہےاچھے اچھے وہ دلہن کا جوس والا تھا آپ کو پردہ کے بارے میں تو وہ بھی بچارا میک اپ وغیرہ کرواتا ہے تو اس کو بھی یہ ہے کوئی مجبوری ایسی ہو پانی میسر نہ ہو تو پھر تیمور بھی کیا جا سکتا ہے لیکن ہم تو ایسی جگہ پہنچے ہوتے ہیں کہ پانی وغیرہ میں اثر ہوتا ہے تو آگے جو ہے آپ کا فیصلہ ٹھیک ہے جی آج کے پروگرام کو پھر میں ہی ختم کرتے ہیں ابھی کہیں اور کامن سینس سوالات ہیں جو رہ گئے ہیں لیکن وہ اگلے پروگرام میں لے گیا ہے 45 منٹ سے ہی ہو چکے ہیں تو آپ سب کا بہت شکریہ کہ آج کے پروگرام کے لائیو سے میں آپ ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں اگر آج سوال نہیں کیا جا سکا تو کل جب مولانا فرمان ربانی صاحب آئیں گے آپ ان سے پوچھنے کا بھی نہ ہو تو پرسوں کا جشن ہو کہ خطے میں چھت دنیا پروگرام آتا ہے کسی بھی وقت آگیا ہے اپنا سوال پوچھ سکتے ہیں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سوالات کیے ہیں وہی بات سنو حالات ایسے بھی ہوتے ہیں میں وضاحت کردوں جو کہف کی نوعیت کے ہوتے ہیں اس کا جس کا مشہور ہو اس کا یہ جواب ہے وہ بتا دیتے ہیں بعض جوابات وہ پھر ایسے سوالات ہم نہیں لیتے تھے تحقیق کرنے پر متحقق کرکے جو کسی آئندہ کے سیشن میں اس کے متعلق بتا دیتے ہیں کہ یہ اس سوال کا جواب ہے تو بعض ایسے سوالات نہیں لیتے جن کا فوری طور پر ہمیں جواب نہیں آتا تو اچھی طریقے سے تحقیق کر کے پھر آپ کو سوال کا جواب دیا جائے یہ بھی ایک بات ہے واصف کی قسم کے سوالات نہ لینے میں تو آج کے پروگرام پر ہی ختم کرتے ہیں تو بارہ میں آپ سب کا شکریہ ادا کر دیتا ہوں ایک گزارش یہ ہے کہ اگر ابھی تک آپ نے ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب نہیں کیا تو کیا اس کو سبسکرائب کر لیں اور جو بھلائی کا نہیں اس کو بھی دبا دیں تاکہ آپ کو پتہ چل جائے گا اسی طرح ٹوئٹر ہینڈل ہے یہ اسلام کے اندر کورٹ اردو کو بھی آپ فالو کرنے کا پروگرام کے متعلق اور بھی مفید چیزیں ہیں اس میں شعر کی جاتی ہیں تو جزاکم اللہ تعالی جزائے آج کے پروگرام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر ختم کرتے ہیں اللھم صلی علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 60 total views,  4 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: