Ahmadi Muslims aor Pakistan 1974 Ki Aini Tarmeem




Ahmadi Muslims aor Pakistan 1974 Ki Aini Tarmeem

احمدیوں کو پاکستانی آئین میں غیر مسلم کیوں قرار دیا گیا؟

Streamed live 07-09-2021

اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ الہ الا اللہ وحدہ لا الہ الا اللہ شریف الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ آباد شریف عوذباللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم آیا نہ ھو سکی ملالہ کہ دین کے نام خاکسار اپنی مرضی سے آتے جاتے ہیں دیا آپ کو اس پروگرام میں اردو کی مرکزی ویب سائٹ www.ubqre.org کہتا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہمارا یہ پروگرام ہفتے کے چہرے سے عیاں کرتا ہے کہ اس پروگرام کو پیش کرتا ہے اور 3 اکتوبر بیان مولانا طارق جمیل صاحب اس پروگرام کو آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے یہی آج کا جو موضوع ہے سیدھا ہیں آج 7 ستمبر ہے اور پاکستان میں آج کے روز سات ستمبر کو خاص طور پر پاکستان میں سوشل میڈیا کے اوپر جو ہے یہ تقریبا ہر سال کے اندر ہی کو جلایا جاتا ہے کبھی نہ ہوتا ہے جماعت احمدیہ کے خلاف کوئی فرینڈ وغیرہ ہے اس کو چلانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی سات ستمبر کو یوم کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دن تھا جس دن ان بچیوں کو جو ہے وہ بھی اس قسم کی باتیں کی ہیں سوشل میڈیا پر مولوی حضرات اور ان کے سوشل میڈیا سیل ہوتی ہیں جو ان کے لوگ ہوتے ہیں وہ اس کے بغیر کو چلاتی ہیں ہیں آج بھی 7ستمبر ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا کے اوپر صبح کسی قسم کی رائے ہے وہ چل رہی ہیں اسی طرح کے تناظر میں خاص آدمی چاہیے کیوں نہ بعض حقائق جو 7 ستمبر 1974 سے تعلق رکھتی ہیں اس پروگرام کی وساطت سے ہم پاکستانی ہمارے بھائی ہیں ان تک اس پیغام کو ان حقائق کو پہنچانے کی کوشش کی جائے یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ 7ستمبر 1974 کو ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے اب تک سوشل میڈیا کے او پائے پاکستان میں یہ پٹواری یہ چلے جاتے ہیں کہانی کچھ اس طرح سے ہے کہ یہ سمجھ کر میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ ہیں جو اس وقت ہماری جماعت کے تیسرے امام کے پیچھے خلیفہ تھے حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہذوالفقار علی بھٹو صاحب سے بھی بڑھ کے زیادہ بڑے مسلمان تھے یعنی جرنل ضیاءالحق ان کا اور ان کی تحقیق کا اس بارے میں کیا کہنا تھا اس کی طرف انشاء اللہ تعالی جنت میں اعلی ہے مکاں تیرا مکیں لگتے تھے ایک مضمون ماں باپ کی خدمت میں لے کر آنا چاہتا ہے جس میں سے چند دے چی زی یہ چند اہم جو باتیں ہیں وہ آپ کی خدمت میں اس وقت اکساتا پیش کرنا چاہتا ہے ہے تو سات ستمبر کو 7 ستمبر 1974 کو یوم الفرقان کہا جاتا ہے کہ 7ستمبر 1974کو اس وقت کی قومی اسمبلی نے ایک فیصلہ کیا جس سے جماعت احمدیہ کے مخالفین نے مذاق اپنی فتح قرار دیا لیکن قرآن و حدیث کی رو سے فیصلے کی کیا حیثیت ہے اور یہ فیصلہ کیسے ہوا اور اس طرح جماعتی زندگی کی سچائی کے لئے ایک عظیم الشان نشان بن گیا اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے آج کے اس پروگرام میں ہم چند امور آپ کی خدمت میں پیش کر دیئے اس قومی اسمبلی میں جو باتیں پیش کی گئی اس میں جماعت احمدیہ کی جو خلیفہ تھے حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالی انہوں نے جماعت احمدیہ کی نمائندگی میں جماعت احمدیہ کی سربراہی میں ایک معتبر نام بھی پیش کیا جو پڑھ کر سنایا گیا وہ منظر نامہ بھی انشاء اللہ تعالی آج کے پروگرام میں خان صاحب کے ساتھ شیئر کریگا اس وقت جب یہ تمام کارروائی ہوئی اس کارروائی کو ریکارڈ کیا گیا لیکن اس ریکارڈ کو شاعر نہیں کیا گیا جو آج لیٹ ہو گئی تھی اس کو بھی شائع نہیں کیا گیا اور جو نوٹس وغیرہ کے لیے گئے جو ٹائم بغیرہ کیا گیا اس کو بھی کئی دہائیوں بعد کافی حصہ ریٹ کرنے کے بعد اس کو بچائے کیا تو کوئی چیز ہے اور اس میں سے جو جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کی گئی تھی ان کو بیچ میں سے اڑا دیا ہے وہ ایک الگ مضمون رہا اس میں جائے بغیر یہ دیکھیں کہ اس قومی اسمبلی میں معرکہ مارا گیا تھا ایسا کون سا بڑا تیر تھا جو انہوں نے چلایا جس کے نتیجے میں آج پاکستانی عوام جو ہے وہ بولی نہیں جاتی تو اس کی ٹیوشن ایکٹ کے نتیجے میں یہ یہ بات جو تھی اس تک پہنچ نہ سکے یہ قومی اسمبلی کے اراکین کمیٹی دیکھنے والا بھی تھے اور اسلام کے تمام فرقوں کی نمائندگی نظر آئی کرن امید کی جا رہی تھی تو یہ تعریف نہیں کی جاسکی کی مسلمان کون ہے پاکستانی کانسٹیٹیوشن کی طرح اگر آپ جائیں تو وہ آپ کو یہ بتا نہیں سکتا کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے حال بتا دیں تاکہ مسلمان کو نہیں ہے مسلمان کو نہیں ہے یہ بات بیان کر دی یہاں عدالت میں بیان کر سکے کہ ان کی نظر میں مسلمان ہوں اس لیے کیونکہ آپ جس پر کسی سے پوچھیں گے کہ پاکستان میں بسنے والے اگر آپ بریلویوں سے پوچھیں گے تو کہیں گے کہ صرف وہی مسلمان دیوبندی سے پوچھیں گے تو وہ کہیں گے ہمارے علاوہ باقی سب کہتے ہیں اسماعیلی ہیں دوسرے کے بغیر ہے گویا کہ ہر فرقہ کے نزدیک کوئی سچا اور باقی تمام فرقے والے کافر مسلمان کی تعریف بیان نہیں کی جا سکیں لہذا یہ تعریف بیان کر دیں یہ مسلماں کو ہے ننگ وہ بھی ایسی بیان کی کہ جو صرف اور صرف جماعتیں 1950 کی جاسکے دیکھتے ہیں کہ آئین کی دوسری ترمیم جو 7 ستمبر 1974 کو پیش کی گئی اس میں کیا لکھا ہے لکھا ہے کہ آدمی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے پر یقین نہیں رکھتا جو آخری نبی ہیں یا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مخالف یا کسی بھی ایسے بتائیں کو پیغمبر یا مذہبی مسلمانوں کو قانون اور آئین کی اور اس کے لئے مسلمان نہیں یا یہ فقرہ جو ہے ذرامیں کسی قسم کی کوئی شرط کوئی تفسیر کی کتابیں لگائی جاسکتی ہے لہذا طور پر آخری نبی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جس کے بعد بھی زندہ کوئی بھی نہیں ہے تو تمام مسلمانوں کے فرقے جو یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت عیسٰی بن مریم علیہ السلام جو اللہ تعالی کے نبی ہیں وہ دوبارہ دنیا میں آئیں گے ان تمام مسلمانوں کے بارے میں ان تمام مسلمان فرقوں کے بارے میں آئین کی دوسری ترمیم کیا کہتی ہے اور یقین نہیں لگتا کہ الزامات بھی ہیں وہ کیا ہے آئین قانون اور آئین کے اخراج کیلئے مسلمان نہیں جو خود تو جماعت احمدیہ پر لگانے چلے تھے اس کی زد میں تو یہ ہوتا ہے پھر اگلی بار بھی دیکھیں گے بھی بات ہے کہ کوئی بھی شخص کے بعد کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو یا کسی ایسے بندے کو پیغمبر یا مذہبی مسلمان کہتا ہوں اور وہ واپس آ جاتی ہیں قرآن نے ان کو نبی کا ہے رسول پاک صل وسلم نے صحیح مسلم کی حدیث میں حضور نبی اللہ کے الفاظ کے ساتھ یاد کیا ہے ظاہری بات ہے اگر وہ آسمان پہ گئے نبی ہونے کی حالت میں تو آسمان کے کوئی فرق تو نہیں لگا کے نبوت پیچھے رہ جاتے ہیں اور خود بغیر نبوت کے نیچے وہ بتا دیں گے اگر بقول پاکستان کے مسلمانوں کے عیسی علیہ السلام آسمان پر جس میں چلے گئے اور نبی ہونے کے حلق میں چلے گئے ہوں گے جب وہ ہونے کی حیثیت میں واپس آئیں گے اور کہیں گے کہ یہ بھی میں اللہ تعالی کے لیے اگر وہ کہتے ہیں کہ نبی نہیں ہوں اور لوگ ان کی پیروی کریں گے اگر وہ کہتے ہیں کہ میری اس لیے کرو اس کے تمنا میری بیرونی عازمین کے مل گئی ہو تو پاکستان کا آئین کیا کہتا ہے جی دوبارہ ایک دفعہ سماعت فرمائیے کہ کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو وہ قانون اور آئین کے آغاز کے لیے مسلمانوں کو پاکستانی آئین کے مطابق تو یہ اعتراض تو نہیں ملا میں ظالم حضرت عیسی علیہ السلام کی پیروی کرنے چلے گئے گئے تو اس آئینی ترمیم کی حیثیت ہے جس کو بار بار جو مسلمان ہیں یہ ان دنوں کو یاد کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم بھی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے کیونکہ پاکستان کا قانون کہتا ہے کبھی وہ مسلمان نہیں تو پاکستان کے قانون کے مطابق وہ بھی مسلمان ہے پاکستان کے قانون کے مطابق تو آپ کے مطابق اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں تو آپ کے پاکستانی آئین کے مطابق وہ بھی مسلمان ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ اللہ تعالی کے تمام اب یہ جو ہے وہ ان معنوں میں مسلمان ہیں کہ وہ اللہ تعالی کے پڑا ہے لیکن آپ کا قانون اور آپ کی آئینی ترمیم کیا کہتی ہے اس کی حقیقت یہ ہے اب یہ فیصلہ ہوا کہ کس طرح یہ بھی بڑی مزے کی بات ہے یہ بھی بڑی دلچسپ بات ہے سماعت فرمائیے گا مولانا مفتی محمود شاہ ہے اور مولانا مفتی محمود صاحب پاکستان کے آجکل ایک سیاسی رہنما ہیں وہ بھی مولانا کے نام سے مشہور ہیں ان کے والد والد گرامی ہیں اور پیش پیش تھے اور 1983 میں قومی اسمبلی کی اسمبلی کی کمیٹی اور مفتی محمود صاحب خود اندر کہتے ہیں کسی میں پاکستان بننے کے گناہ میں شامل نہیں تھا کہ مولانا صاحب کے والد مفتی صاحب کہتے ہیں کہ پاکستان کا بننا نعوذباللہ من ذالک ایک گناہ اور وہ گناہ میں شامل رہیں گےمحلہ آیا کمیز پیدا ہوئے اور شلوار میں ملبوس بڑی پگڑی پر لگا ہوا تھا اور سفید داڑھی تھی تو میں نے دیکھ کر کہا کیا یہ شکل کافر کی ہے اور جب وہ بیان کرتا تھا تو قرآن مجید کی آیتیں پڑھتا تھا اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتا تھا تو درود شریف پڑھتا تھا اور تو اسے کافر کہتے ہو اور دشمن رضوی کہتے ہو یہ جناب چھپا ہفت روزہ اخبار لولائ پور سے 28 دسمبر 1971 صفحہ 18 17 اور 18 اردو کہ طیبہ 6 ستمبر تک چلتی رہی اور کچھ نہ پایا کر کے الفاظ کیا ہوں گے 7 ستمبر کو چار بجے تک ایک مختلف علماء کے مابین گفتگو شنید ہوتی رہی یہ چاہیے تھا کہ خفیہ کارروائی کے نتیجے میں ایک بل تیار ہوتا اور اس پر قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں میں ہوتا اور اس کے بعد اسے بحث و تمحیص کے لیے ایوان میں پیش کیا جاتا لیکن پانچ بجے کے قریب بل پڑھ کر سنایا گیا اور ایک گھنٹے کے اندر اسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا اور راتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لات و کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسی اللہ سینیٹ کا اجلاس ہوا اور اس ایوان میں بھی کچھ وقت نہ میں کچھ بھی کچھ بھی غور و فکر کرنا ہوا اور دوسری آئینی ترمیم میں چند بنیادی خامیاں رہ گئی ایسی ہوا میں ایسی رواروی میں اور ذہنی میں کچھ بھی نہ ہو اور دوسری آیت میں بنیادی خامیاں رہ گئی یادیں اس کا جو انجام تھا وہ کیا کرنے والے کے جو ہے وہ جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب تھے جو پاکستان پیپلز پارٹی ہے اس کے بارے میں پانی اور مولویوں کے جو ہے وہ کہنے میں آتے ہو نہیں سکتی کیا اور ان کے ساتھ ہیں خدا تعالی کی تبدیلی کا اثر کیا تو ان کو چار سال بعد 18 مارچ 1978 کو پنجاب ہائی کورٹ نے قتل کے ایک کیس میں سزائے موت سنا دی اور 6 فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے اس سزا کی توثیق کر دی ہے جماعت احمدیہ نے الہام الٰہی کی بنا پر یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ جناب کا ایک شدید مخالف 52 سال کی عمر میں عبرت ناک موت کا شکار ہو گا چنانچہ کراچی کے اخبار وحدت نے لکھا کہ بھٹو کی سزائے موت کو ایک سال کیلیے موخرکردیا جائے تاکہ قادیانی یہ نہ کہے کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری ہوئی چلتا ہے کہ غیر احمدی احباب جانتے تھے کہ حضرت مسیح موعود و مہدی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشنگوئی ہے کہ جماعت کے ایک سال بعد ان کی وجہ سے میں داخل ہوتے ہی پکڑا جائے اور ان کا شکار ہوگا آتش فشاں لاہور-1991 پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چودھری محمد افضل خان صاحب کا انٹرویو شائع ہوا جس میں آپ نے اس اخبار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کراچی کے کسی اخبار میں چھپا بھی تھا کہ کم سے کم اس کو ایک سال مولا دینی چاہیے ورنہ مرزائی کہیں گے ہماری پیشگوئی پوری ہوئیانہوں نے جواب دیا سب سے بڑی منصف خدا کی ذات ہے بھٹو کا فیصلہ آسمانوں پر لکھا جا چکا تھا 1984 نمبر 22 73 بھٹو صاحب کی ہے اور ان کے ساتھ خدا کی تقدیر نہیں کیا جائے گا ہے اس کمیٹی کے ممبران قومی اسمبلی کے ساتھ جو علی بھٹو صاحب کی قومی اسمبلی کے ممبران دیکھ اس کمیٹی کے جو لوگ تھے ان کے بارے میں جنرل ضیاء صاحب کی حکومت نے ایک کتا سے ابھی تک یعنی پر شائع کیا اور اور ان میں سے بیشتر کے لئے ایسے شواہد مہیا کئے جس نے انہیں خائن یعنی محنت کرنے والا لاشیں جھوٹا بمع عملہ بدعنوان شرابی زانی کا رہ کر دیا تھا سے ابھی تک بھٹو کا دور حکومت جلد سوم صفحہ 182 کا 185 کے اوپر آپ یہ مضمون پڑھ سکتے ہیں ان تمام باتوں سے کیا چیز سامنے آئی ایم کو غیر مسلم قرار دے دیا لیکن حاصل کیا اس مسئلہ کو غیر مسلم قرار دینے کا قومی اسمبلی کے زیرغور ساتویں جماعت احمدیہ کے خلیفہ نے حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالی نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے اور یہ حدیث میں یہ ترمذی ابواب الایمان باب اختراع کا حاضری نامہ عربی میں پڑھتا ہوں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل تفرقت علی ثنتین وسبعین ملۃ وتفترق امتی علی الضلالۃ بالہدی و سبعین ملۃ کلھم من کیا یا رسول اللہ الا الیہ کا ترجمہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل 72 فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی لیکن ایک فرقہ کے سوا سب جہنم میں جائیں گے نا یہ ناجی فرقہ کونسا ہے یعنی نجات یافتہ کونسا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ناجی فرقہ جو میری اور میرے صحابہ کی سنت پر عمل کرے گا جماعت اسلامی کے کے جو مولانا مودودی صاحب اس پیش گوئی کی وضاحت یوں فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس جماعت کی دوا لعنتی نمایاں طور پر یہ بیان کر دی گئی ہیں ایک یہ کہ وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے قریب ہوگی اور دوسری یہ کہ نہایت اقلیت میں ہوگیا بیت القرآن جنوری فروری 1939 176 مرتبہ سید ابوالاعلی مودودی صاحب اب اس کا یہ پیشنگوئی کس نے پیدا ہوئی تھی یہ پیشین گوئی کے کے مسلمانوں کے ترقی ہو جائیں گے ایک پتہ ہوگا وہ راہ راست پر ہو گا وہ سچا ہوگا اگر کوئی غلطی ہو تو کی نمائندگی جب اس کمیٹی میں کی گئی تو اس وقت ہے یہ بات پیش کی جارہی تھی کہ جی ہم جو 72 فرقے ہیں مسلمانوں کے ہم اس بات پرمتحد و متفق ہیں ان کی مخالفت میں امت کے 73 فرقے متحد و متفق ہیں اور وہابی دیوبندی بریلوی شیعہ سنی اہل حدیث کے علماء تمام پیر اور تمام سیاسی مطالبے پر متفق ہیں کہ مرزائی کافر ہیں اور انہیں مسلمانوں سے ایک علیحدہ اقلیت قرار دو یہ خبر کا حوالہ تحریر مولوی اختر علی خان صاحب پیش کرتا ہوں اخبار نوائے وقت کا سن انیس سو چوہتر توبہ نمبر4 یہ والا یا اسلام کی تاریخ میں اس قدر پورے طور پر کسی اہم مسئلے پر کبھی اجماع امت نہیں ہوا اجتماع امت میں ملک کے سب سے بڑے بڑے علمائے دین اور ملا نصرالدین کے علاوہ تمام سیاسی لیڈر اور ہر گروپ کے سیاسی رہنما حقوق ہوئے ہیں اور صوفیائے کرام اللہ کو بھی پورا پورا اتفاق ہے قادیانی فرقہ کو چھوڑ کر یہ پہلی تاریخ کو چھوڑ کر جو بھی بدتر کے مسلمانوں کی بتائی جاتی ہیں سب کے سب اس مسئلہ کے اس فعل پر متفق اور خوش ہیں جی یہ آپ کا آپ اپنے والد کا حوالہ کے آپ لوگ 72 فرقوں میں شامل جماعتیں ندیاں بھر سے علیحدہ ایک تیسری صورت میں تھا تو آپ پاکستان کی عوام میں جو غیر مسلمان ہیں آپ پاکستان کا آئینی قرار دے دیا آپ نے پاکستان کے آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر رسول پاک صل وسلم کی حدیث کے مطابق احمدیوں کو ناجی فرقے کا دودھ پلانے والی پاکستانی قومی اسمبلی میں تقریر نئے معرکہ مارا مفتی محمود صاحب نے یہ ملک ہمارا ہے ہم تو اسی بات کی اور پوچھا کہ الحمدللہ ثم الحمدللہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ہمارے حق میں پوری ھوئی ہم وہ طرف سے کرائے پر چڑھائے گئے کیونکہ حدیث کے الفاظ یہ تھے کہ بہتر ہوں گے اور ایک قطرہ ہوا آپ نے خود 7 ستمبر 1974 کی کاروائی کے نتیجے میں یہ ثابت کردیں بات کہ آپ بڑھ کر ایک طرف اور ہٹ دھرمی کی توقع ہے کہ یہ جو قومی اسمبلی میں ساری کروائی مگر ہوئی تھی اس ضمن میں آپ کو اپنی چھوٹی سی ویڈیو ہے دیکھیں اس پر ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر واپس نہیں دیکھ رہے ہیں مکہ ایک گھر پہ الفقار علی بھٹو صاحب نے 1971 پیپلز پارٹی کے قیام کا انعقاد کا اعلان کیا تھا یہ اس کے شروع کے رکن رہے اور حکومت کے یہ وزیر خزانہ بھی تھے یہ اس قومی اسمبلی کی کاروائی کے بارے میں اور جو کام وغیرہ کیا گیا اس بارے میں کیا کہتی ہیں ان کی ایک ویڈیو میں یہ بھی بیان ہے کہ یہ صرف ایک پولیٹیکل چیز تھی آپ یہاں سے سعودی عرب کی طرف سے بھی پریشان تھا پاکستان کے مول بھی تھے وہ موٹر سائیکل پر دباؤ ڈالے تھے بھٹو صاحب کو ووٹ چاہیے تھے یا داؤد صاحب کی بات کو سنئے بھٹو صاحب کے جو ان کی ٹیم کے نمبر وزیر خزانہ تھے اور رہتے ہیں کیا اکثر لو تبدیلی آ گیا میرے پاس پرسنٹ نہیں ہے وہ ان لوگوں کے ایگزاسٹ ہی نہیں کر رہے تھے تھےمیں پانچ وکٹیں حاصل کرنے پر مین ٹائم تو جیسا کہ آپ نے سنا کہ اس سے پہلے سے کیے گئے تھے اور صرف ایک لوگوں کو بس ایک لوگوں کی نظر میں دھوکا دینے کے لیے کوشش کی گئی کہ ایکشن ایڈ کیا گیا ایک ناٹک رچا گیا کہ بھائی ہم نے آج وہ بھی موقع دیا کہ وہ آگے اپنا انڈیا پیش کریں اپنا جو ہے وہ اپنے آپ کو پیش کریں اور اس کے بعد علماء نے اور قومی اسمبلی کی سیٹیں نہیں کرسکتی ان کی تقرری کی گئی اور یہ کون بتا رہی ہیں وہ جو ہماری طرف سے نہیں آپ کی طرف سے اس کمیٹی کے اندر تھے وہاں پر موجود ڈاکٹر مبشر حسن صاحب یہ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ ایک کتاب کا حوالہ دیا گیا تھا کہ مثلا یہ کہ جہاں بھی جماعت یا کے خلیفہ حضرت حافظ اسلم صاحب نے جو بھی باتیں پیش کی اکثر چیزوں کو اکثر حوالوں کو قومی اسمبلی کی کاروائی جو پاکستان کی حکومت نے شائع کی ہے اس میں انہوں نے اس کو نشر نہیں کیا چیزوں کو بھاری تعداد کو جماعتی کی طرف سے پیش کیا گیا ایک کتابچہ چھوٹا سا کتابچہ ہے جس کا نام ہے منظر نامہ یہ ہے اس کا نام ہے وہ اہم تاریخی دستاویز ہے جو جماعت احمدیہ نے 1976 میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے سامنے اپنے مسلمان ہونے اپنے بنیادی عقائد کی وضاحت اور جماعت پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی تردید کے لئے پیش کی گئی تھی میں اس کا جواب یہ ہے ان کی فہرست یہ بھی آپ کے سامنے پٹڑیوں پر نکال رہا ہوں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ میں چلا گیا اور کیا وجہ ہے کہ مولوی حضرات اور پاکستان کی حکومت میں جب قومی اسمبلی کی کاروائی کو شائع کیا ہے تو اس میں سے اس کتاب کو سرے سے حذف کر دیں ہلکی بتائیں کیا گیا یہ دیا گیا تھا کہ یہ ریکارڈ کرایا جائے اور اس کو ریکارڈ کیسے بنایا جائے لیکن ایسا کر لیا اس میں مسلمان کی تعریف اور جماعت احمدیہ کا موقف اختیار کیا گیا کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ارکان تحریر پیش کی گئی باری تعالی کا عرفان از افادات حضرت بانی سلسلہ میں اللہ تعالی کی ذات کے بارے میں ان کی کیا باتیں ہیں پرانے عظیم کی اعلی و ارفع شان کے بارے میں جماعت احمدیہ کے بانی نگاری فرمایا ہے رسول اللہ صلی اللہ کی شان خاتم الانبیاء صلی وسلم کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی الصلاۃ والسلام علیک یا تحریر فرمایا ہے پھر آیت خاتم النبیین کی تفسیر جماعت کے مطابق اور آپ کے اپنے جو پہلے گزر چکے ہیں ان کے مطابق کاروبار کی گئی انکار جہاد کے الزام کی حقیقت بیان کی گئی بعض دیگر الزامات جو آپ کے اوپر لگاتی ہیں ہمارے بانی کیوں لگاتے ہیں اس کے بعد پاکستان کے مختلف فرقوں کے عقائد جو دوسرے فرقوں کے نزدیک محل نظر ہے جو ہاتھ پہ بریلویوں کو کافر سمجھتے ہیں لیکن وجوہات میں دیوبندیوں کو کافر سمجھتے ہیں ایک دوسرے کو کافر کیوں کہتے ہیں اور سوچنے کی بات ہے کہ کافر سے نیچے تو ملتے ہیں چرا غافل حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے اردگرد بھی پیش کیا گیا اور یہ لیں ایک چھوٹا سا کتاب کا جیسا دے سکتے ہیں یہ پیش کیا گیا لیکن اس کو لوگوں تک نہیں جانے دیا تھا کی کاروائی جو بھی اس میں اس کو شائع کیا گیا جماعت احمدیہ کی ویب سائٹ پر بھی پابندی لگا دی کہ لوگ ان جا کے پڑھ لیں اگر پڑھ لیا تو کہیں یہ تو حقیقت ہے آپ کے علماء کی یہ تو حقیقت ہے اس کو بھی عملی کیسوال یہ ہے کہ کیا سب نبی امتی ہوتے ہیں امی ہوتی اچھا امی کا مطلب ہوتا ہے ان پڑھ جنہوں نے کچھ نہیں ہوتا یہ تو صرف ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطاب ہے اعظم کا لقب ہے نہ کہ کسی اور نبی کو یہ لقب اداکارہ نے دیا ہے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں آتا ہے قرآن میں بھی آتا ہے حدیث میں آتا ہے کہ آپ پڑھے لکھے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کیا تھا کہ آپ پڑھے لکھے تھے اسی طرح دوسرے انبیاء کا بھی ذکر آتا ہے کہ وہ پڑھے لکھے تھے تو امی کا خطاب تو صرف رسول پاک صلی وسلم کا خطاب ہے جب مولوی حضرات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بغض و عناد میں عداوت میں رسول کے پاس دوسروں کو بھی دے گا نبی امی کا خطاب صرف اللہ تعالی نے رسول پاک صلی وسلم کا ہے مسلم برائےمسلم اللہ پاک آپ سب کی حفاظت فرمائے آمین جزاک اللہ بھائی اللہ تعالی آپ کی نیک دعاؤں کو قبول فرمائے اور جزاک اللہ آپ نے اس پروگرام کو دیکھا اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو جماعت احمدیہ کے متعلق حقائق تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے اور صحت کو قبول کرنے کے لیے جہاں آپ کی عزت نہ ملے کوشش کریں کہ وہ سوالات میرے سامنے ہیں جن کا تعلق آج کے موضوع کے ساتھ ہے بعض سوالات ہیں جن کا تعلق آپ کے ساتھ ہیں لیکن ان کو بھی اللہ تعالیٰ آخر کہاں سے ملے گا گا گا کرنے کے لیے دو جمع تین دی گئی تھی وہاں پے گئی تھی بیان کرنے کی ہدایت ہم نے بیان کی ہیں لیکن آج تک آپ اور آپ کے علم اور آپ کی جو بھی اسی پارٹی اور کچھ باتیں چلی آ رہی ہے دی ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ جی یورپ میں جو صغیرہ بنتی ہے اس میں وائی نیوز ہوتی ہے ڈاکٹر صاحب آپ جاہلانہ بات کریں اس سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے آپ کو کبھی اتفاق نہیں ہوا پاکستان سے باہر کسی اور ملک میں قدم رکھنے کا جس کی وجہ سے اس قسم کی جانب جاتی ہے ورنہ اگر آپ کا واقعہ کا پاکستان سے باہر کسی بھی ملک کا چکر لگا تو آپ کو معلوم ہوتا کہ یورپ یا امریکہ کیا افریقہ کیا علاج میں نئے کے اندر اس میں جو صغیرہ پیش کی جاتی ہے اس کے اندر شعبان کا استعمال کیا جائے کہ آپ مولوی حضرات یہی جھوٹ بولنے کے لیے کیونکہ آپ کی ایک جنگ میں یہ عادت بن گئی آپ کی فطرت ثانیہ بن گئی ہے اس لیے اس قسم کی باتیں آپ لوگ کرتے ہیں بے قدری کرتے ہیں اس نکتے سے دین کی خدمت کریں باہر اگر اس قسم کی دین کی خدمت مبارک ہو اس کی زمین کی شکل میں جھوٹ بول کے آپ کو کال کی ہےہمارے جو خاص طور پر غیر شادی شدہ نوجوان ہیں جو ہمارے اس پروگرام کو دیکھ رہے ہیں آپ لوگوں سے خاکسار اٹھتا ہے کہ اس پروگرام کو اس وقت جو ابھی دیکھ رہے ہیں اس کو لائن کرکے شروع سے دیکھیں جہاں پہ خاک سامنے حقائق پیش کیے ہیں اکثر 27 مئی سے پروگرام کے آخر پہ آتی ہیں اور پروگرام میں پیش کردہ حقائق ہوتے ہیں قرآن کی رو سے حدیث کی رو سے آنرس آپ شاید کم ہوتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالی کے رسول صلی وسلم کی باتیں ہوتی ہیں تو ان چیزوں کا کیا کردیتے ہیں اسی طرح کے اعتراض نہیں رہے ان کی برکت سے زیادہ توجہ دی ہے لیکن انہوں نے لکھا ہے کہ میرے پیارے بھائیو میری پیاری بہنوں اس پروگرام کو شروع سے سنے اور پھر اگر کوئی اعتراض کرتا ہے کوئی سوال بنتا ہے طبی ماہرین کے اوپر ہمارا ای میل ایڈریس کھا رہا ہوں آپ بالکل نہیں ملتے اور ای میل پر جتنے چاہے اعتراضات کرنے سے سوال کرنے جو آپ کا دل کرے چاہے کرے انشاء اللہ تعالی آپ کی طرف سے ہراد ہر سوال کہا جواب دیں تو اس پروگرام سے متعلق ہے جو باتیں تینوں تقریب میں ھاری آ گئی اب ہم لیتے ہیں جو بعض دوسرے سوالات وغیرہ یہی کی طرف سے سوال آیا ہے کہ جی اگر کوئی اسمبلی میں گئے کوٹ کیری دینے سے انکار کرے تو ان کو کس طرح سے سمجھایا جائے بات یہ کہ اگر تو کوئی ایسا بھی ہے جو مسلمان جو کوئی ٹینشن نہیں لینا چاہتے تو ویسے تو بنیادی طور پر یہ شخص کی اپنی ایک مرضی ہے اس کو خوش نہیں کیا جاسکتا لیکن باہر ہمارے دلوں کو تسلیم کرنے کےلئے سکون دینے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ ہمارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا ہے کہ حکومت نے ایک اور دلیل کے طور پر ویکسین تیار کی ہے جس میں بنی نوع کا قاعدہ تو اس کو لے لینا چاہیے اس میں حرج نہیں ہے تو جو اگر آپ کی فیملی میں بچے ہیں وہ ہم بھی ہیں جن کو حضرت علی کی یہ ویڈیو کلپ جو ہے وہ دکھائی جا سکتی ہے اگر آپ کو ویڈیو کلپ حوالہ چاہیے وہ آپ ہمیں ای میل بھیج دیں ہمارا ای میل ایڈریس نوٹ کر لیں اور آپ بولیں گے وہ ہیں جنہیں ہمارا ای میل ایڈریس اردو اسٹیٹس اسلام آباد اور ہیں کی طرف سے ایک آیا ہے جو کہتی ہیں کہ نون لیگ نون اکثر درود جیسے اسلام کے نفاذ کے لیے ووٹر آئی ڈی کارڈ کمپیوٹر سائنس علیہ السلام جس میں رتبہ پہچانیں گے نہ جب پہلے آپ یہ ثابت کرتے ہیں کہ جسم سمیت آسمان پر گئے تھے اور یہ کہ جس میں پچھلے دو ہزار سات سے زندہ بھی ہیں قرآن پاک کی تیس آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام کا واقعہ چکے ہیں اور قرآن پاک کی کم از کم 70 آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو وفات پا جائے وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آتے حکمران تو جسے کہتے ہیں بآواز بلند اعلان کر رہا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم وفا کر چکے ہیں اور آپ کے مولوی حضرات غور سے سن دو ہزار دس گی تو قرآن کے خلاف ورزی ہزار بات کرتے ہیں لوجی اور سائنس کی بات ہوتی ہے بات سب سے پہلے قرآن و حدیث سے کرتے ہیں قرآن کی کسی آیت میں یہ لکھا ہے کہ عیسی علیہ السلام کو آسمان پر اللہ تعالی نے جس میں اٹھا لیا جس کی وفات کا اعلان تیس آیات سے ثابت ہے اور اسی طرح رسول پاک صل وسلم کی کسی بھی صحیح حدیث میں ایک بھی ایسی حدیث جس میں نبی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے جسم سمیت آسمان پر ہے ایک بھی حدیث سے ملتی ہے اس کے برعکس اہل حدیث ملی جہاں پر اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے فنا اور بقا کے لئے ایک حدیث میں فرمایا کہ عیسی علیہ الصلاۃ و السلام کی قبر جو ہے اس کو عیسائی وہ اس کی عبادت کر دیں ایک حدیث میں آتا ہے کہ عیسی علیہ السلام کی قبر کا کتبہ ایک زمانے میں کال کرتا ہے پھر حدیث میں آتا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام 124 125 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی اور مجھے اللہ تعالی سات برس کے لگ بھگ ملے اور 62 63 سال کی عمر میں روزہ فاسد نہیں ہوتیکی روشنی میں بات کر رہے ہیں تو آپ اگر سائنس نہیں مانتا نہ مانے لیکن کم از کم خدارا قرآن اور حدیث کو ماننا شاہ جی میں جو آپ کے سوالات ہیں وہیں سے اگر کسی دوست کا بھی کوئی سوال رہ گیا کیونکہ کافی زیادہ پیغامات میں آتی ہے کی تعلیمات کی سوال بیچ میں اسی وجہ سے راجہ نظر کے سامنے آنے سے بھی زیادہ انگلش میڈیم پروگرام میں اور یہی ہوتی ہے کہ آپ کی خدمت میں یہی عرض کرنا چاہتا ہے کہ سات اکتوبر کو میسج نعرے لگا دینا کہیں ختم نبوت زندہ باد حافظ سے آپ کو کیا ہے حقیقت میں پہنچے اور سوچنے کا سوال سوچنے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر تو حضرت مرزا غلام غلام احمد قادیانی علیہ صلاۃ و سلام اللہ تعالی کی طرف سے سچے مامور من اللہ امام مہدی مسیح موعود نبی نہیں ہے اگر آپ کے نزدیک وہ سچے نہیں ہے اللہ تعالی کے نزدیک لیں کہ وہ اگر سچے نہیں ہیں تو پھر آپ نے تحقیق کی تو اس کے نتیجے میں کوئی بات نہیں ہے لیکن آپ مولویوں کی بات سن کر تبسم کیا جس کے متعلق کوئی فرق نہیں کرتے جماعت کے لٹریچر کو نہیں پڑھے اپنی تحقیق و تدوین کر دی ہے جو indian پنجابی movie شہلا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی پر اکتفا کر بھی کہتے ہیں کہ مرزا صاحب لیکن سچ نہیں اور نیٹ سے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں بچے تو کیا آپ فکر نہ کرے اللہ تعالی کے سچے مامور کا انکار قابل مواخذہ فیل ہے اللہ تعالیٰ ضرور کرے گا لہذا عقلمند کے لئے یہ بات کافی ہوتی ہے کہ وہ بیعت کا پہلو اختیار کرتا ہے آپ کی طبیعت کا پہلا پیار کرتی سرچ کریں ہماری وجہ سے ہم سے رابطہ کریں ہم سے ہمارے قائد کے بارے میں براہ راست سوال کرے ہم جواں ہوں گے اور پھر اگر آپ اس نتیجے پر پہنچنے کی جماعتیں سچی ہے تو ٹھیک ہے بسمہ اللہ تعالی کے حضور یہ تو کیا اس کی بھی حمایت کی تھی اور ہماری عقل اس بات کو نہیں پہنچ سکی کے ہم جماعت احمدیہ کو پہچانا اس وقت تو آپ صرف مولویوں کی باتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ان مولویوں کے باتوں میں آ رہے ہیں جن کے بارے میں خود آپ کی حکومت اور دوسرے سیاستدان اور دوسرے الغافقی دی دانی چور اور ڈاکو ہر قسم کے جو شرابی ہر قسم کے جرائم گناہ میں پائے جاتے ہیں اور بھی مدرسوں کی حالتیں ہیں پاکستان کے وہ آپ لوگوں سے کچھ بھید نہیں سوشل میڈیا کے ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی فرینڈ گا کوئی ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے تو آپ جانتے ہیں کہ آپ کے اپنے علماء کی حالت کیا ہے ہے جن کے بارے میں رسول پاک صل وسلم نے فرمایا تھا کہ زمانے کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق تو یہی تو زمانہ ہے تمام نشانیاں بھی پوری ہو گئی آنے والی لاگت بھی پوری ہوگی وہ زمانہ آ کے چلا دی ہے جس نے آنا تھا وہاں گیا لیکن ابھی تک آپ کہتے نہیں ہے اس کے پیچھے پڑھیں گے تو مولویوں نے تو آپ کی دنیا خراب کردی اور میں نے آپ کے اخلاق بھی خراب کرتے اس لئے برائے مہربانی کرے اور پھر ایک جھوٹا انسان کبھی بھی نہیں کھا کے متعلق اللہ تعالیٰ جلد سچائی کرے گا جہاں وہ میرے بارے میں خدا تعالیٰ سے خود پوچھے خدا تعالیٰ تمہیں بتادے گا زیادہ جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ صلاۃ و سلام کے بارے میں آج بھی آپ کو اندھا کردیتی ہے کہ اللہ تعالی سے براہ راست خود پوچھے اپنی نمازوں میں سنو میں دعا کر کے پیچھے سورہ فاتحہ کے بعد پڑھتے ہیں کہ صراط مستقیم کی بات کرتی ہیں اس وقت اپنے دل میں اللہ تعالی کے حضور دعا کریں کہ اللہ تعالی دکھا دیں اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے دعوے میں سچے تو میں دکھا دے اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تب بھی ہمیں پتا ہے اللہ تعالیٰ خدا کی راہ میں ہے آپ کی رہنمائی فرمائی اسی طرح کے پروگرام کو ختم کرتے ہیں اللہ ہم صلی علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و علیٰ اٰل ابراہیم

 92 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: