Friday Sermon – Khalifa IV – 20-04-1984




Friday Sermon – Khalifa IV – 20-04-1984

 خطبہ جمعہ خلیفۃ المسیح الخامس مرزا طاہر احمد

Friday Sermon 20-04-1984

محمد ظہور ہوا دور اللہموسم گانا اس کے لئے ان کی خدمت کے لیے کام کر رہی ہے ہے اس کی بہترین مثال بیان فرمائیں اس کی باتوں کی نصیحت کتھے چلے جاتے ہیں کتاب النکاح کتاب بھی ایمان لے آتے ہیں ان کے لیے بہترین نسخہ ہے کہ نہیںہندوستان کے بغیر لمبے عرصے تک زندہ رہتی ہے اس میں یہ ہے کہ دوسروں کو کال کرو اچھی باتیں جس کا اس جماعت کی ذات ہے جو اچھی بات ہےاس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے پہلے کی قوموں کی ہلاکت کی فرمایا کیا کہ وہ قوم ہیں نیک باتوں کا حکم دینے سے روٹھ جاتی ہیں ہیں کرنا ہے کرتے ہیں وہ حالات کی طرح بچنا چاہیے جو نیٹ ان کو سمجھ میں نہیں نہیں تو جب کشتی ڈوب گئی تو پھر میں غلط نہیں کرے گی اگراور چند لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں سے کیا کر رہے ہوتے ہیں جو تمہیں تو یاد ہی نہیں رہا تھا ویسے ہی پتہ چلتا ہے کہ نہیں کر سکتے اس کے لیے ضروری ہے اگر وہ ہے جو نیک کام کرتے چلے جائیں اور اس کام کے لیے چن لیا گیا ہے ہے میں دوسری وجہ یہ ہے کہ اس نے کسی مذہبی عقیدے کی تفریق کا کوئی ذکر نہیںیہ لوگ کسی عقیدے کی تعریف کرتے ہیں اور پیروں سے ہوتے ہیں ہیں کہ اسلامی معاشرے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ہے جو ہر مذہب کے نقطہ نگاہ میں عشاء کے بعد بن جاتے ہیں پیروں سے یہ کیا کہلاتی ہے انسان کا انسان کیا انمول میں کے مقابلے میں شریک ہوتے ہیں ان کے مسلک کے ماننے والے ہوتے ہیں لیکن یہ ہے کہ انسان کے درمیان پائی جاتی ہے اور مدد کریں نصیحت کرنے کا جواب میں ارشاد فرمایا اگر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمہیں کیوں کہتے ہو اور جھوٹ نہیں بولوں کرتے ہو کہ ہم لیتے ہیں میری طرف سے بات کرتے ہو تم پر ظلم کرنا چھوڑ دو اور ظلم سے باہر رہنے کی نصیحت کرتے ہیں ہمارا ہے تمہارا بھی ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ابھی کیا ہے ہے ہے ہے ہے خراب ہے نہ مذہب کے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں کے درمیان فروخت کرتا ہے ہے اس کی ضرورت کیا دیتا ہے قرآن کی جو ہلاک ہوگئے تو نے چھوڑا تھا نہ کر دیا کیا کیا تھا کچھ نہیں ہوتا ہے جو دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں اسیہ ہو نہیں سکتا ہے اور میرے ظاہر کو بھی دیکھ رہا ہے ان کو بھی دیکھ رہا ہے ہے نہ کرتا ہوں کرتے وقت بکرے کی طرف توجہ دینا اس لئے اس کے لئے یہ ہوتی ہے ہے کہ وہ بدلہ کرنا چاہتے ہیں ان کی برائیوں میں مبتلا ہونا چاہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اگر ہم نے روکا لوگوں کو تو اچانک سامنے آ جائیں گے اور پھر میں کیا یا جماعت سے الگ ہوئے کیا کرنا چاہتے تھے اس لیے وہ نہیں کرتے تھے کہ جانتے تھے کہ ہمارے اندر یہ کمزوریاں ہیں بلکہ بلا ارادہ کرنا چاہتے ہیں ہیں کیونکہ بنی کے مقام پر نہیں تھے اس لیے کرنے کے لیے اس لئے انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کیسا چل رہا ہے کرتا ہے ہے اور اس کے اندر کمزوریاں ہیںجس کے نتیجے میں ایک نظام شام ملک کی طرف سے حملوں کا الزام ہو جاتا ہے ہے کہ بیرونی حصے یعنی نصیحت کرنا مکروہ ہے اور یہ ہمارے ہے کرنے کے لئے کہیں بھی شامل ہیں لیکن یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم بہی ملتے ہیں اس لیے نہیں کرنی چاہیے اس لیے نہیں ہے لیکن ہمارے لوگ ہیں آپ کےتبلیغ سے باز رہتے ہیں کہ دوسروں کو بلایا ہے کیا ہے اس کے وصال کے بعد کی زندگی میں ایمان میں مذاق میں کچھ نصیحت کی بات کر لو تھے ہے میں یہ نہیں ہے ہے اس کا نام ہے میں نہیں کروں گامیرا نام کیا ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ایکخلع کے موقع پر وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ معصوم ہیں لیکن اللہ کے فضل سے زندگی کی بنا پر ہے کہ انسان کسی مقام پر کھڑا ہونے کا حکم دیا جاتا ہے ہے اس کے باوجود ابھی تک نہیں آئے گی نبی ہیں جو کے ساتھ نہیں کر سکتی بڑے بڑے بڑے لوگوں کو میں نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس پر یہ فریضہ عائد نہ کرے اس لیے تاریخ سلطنت عثمانیہ کتاب انبیاء کی مدد کے لیے حاضر ہو جائے اسپیشل ہیں ہیں کے ساتھ کیا تعلق ہے یہ تمہارا ہے ہے عامر خان کرشمہ کپور کی جو تعریف فرمائی اس میں نہیں ہے یہی وجہ ہے کہکرتا ہے اس سے معافی مانگتا ہے کوشش کرتا ہے کہ ہو جائے اتنے سچے دل سے مانگو یہ سمجھتا ہے کہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور میرا دل کرتا ہے کہ لپٹ کر چار پائی ہےشرم آتی ہے لیتا ہے لگتا ہے ہے ایمان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے ہے ہے ہے اس کے بعد امانت کی جاتی ہے تو وہ ہمارے خیالات کرتا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ چند روپے لٹا دیے جائیں ہے آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ کیا اور کہا گیایہ ہے کہ جب درد ہو تو کیا کریں اس ملک میں میں بہت سے ایسے واقعات ہیں کہ قوم یہ مانتے ہیں کہ تم کیا کر رہے ہوتو ان کا فرض ہے کہ وہ لڑکی ہے ہے کوئی کام کیا جاتا ہے اس کا اثر ہو گیا ہے کہ حکومت کے نمائندے کے طور پر کام کر رہا ہوں یا کمپنی بن جاتا ہے جس کا مطلب ہے اس کا ترجمہشریعت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا ہو رہا ہے اقوال زریں لاہور کرے گی کیسے بڑا کیا جاتا ہے جو تم سے وعدہ کرتی ہوں تو جس میں ہو جائے جو اس سے تعلق رکھتی ہے ہے کیا گیا وہ نہ کیا گیا اس کے بچے کی ہے ہے وہ بھی پوچھا جائے گا کہ تم نے فرماتے ہیں کہ کیا ہے اور اس کے دل پر لگ جائے گامیں تو مسجد میں تم سے بات کرنی چاہیے اور اس کے نتیجے میں جماعت کے اپنے خلاف ہے کریں گے تو آپ نے دل سے شکریہ ادا کرنے کی کوشش کریں گے تو میسج کرنا چھوڑ دیا کرتے ہیں نہ کر سکا جن کا نام ہو گیا وہ مخالفت آج کا کام کر رہے ہومیری کے لیے کرنے کے لیے ہے ہے اور اس کے ہیں ہیں بچے قوم کے کسی عظیم الشان ہیںجو یہ ہے کہ اس قوم کے بچے ہو گیا ہے اسی نسبت سے اس طرح کی ہوتی ہے ہے جو خلا کے ذریعے ہوگابنیادی اختلاف کرنا ہے اگر آپ پریشان ہو جائیں گے تو پھر بات نہیں کر رہا ہے ہے کہ جسے ایک جہاں مان گیا تھا ہے کسی نے بچوں کے لئے ہے منافق ہے تو کچھ بھی نہیں کر سکتا اس کا مرتکب ہو سکے کے جیسا کہ میں نے کہا دو اس میں نظر آتی ہے ٹھیک ہے ہے مجبوری کی کمزوریاں جن سے انسان شرمندہ ہوں اور ذکر کرتا رہے خدا کے حضور گریہ و زاری کرے دور کرنے کی کوشش کرے گا تو کرنی ہے اسلام میں منافق نہیں کہا جاتا لیکن جب کام کرتا ہے ہے کرتا ہوں تو پھراس میں کوئی ایک ملک نہیں ہے ہے گوگل ہاؤ آر یو ٹیوب جھوٹ ہے یہ جھوٹ سے کام لے گا وہ کہتے ہیں یا ترقی پذیر ملک ہے اور اس سے بھی سب سے بڑا انسان بات کریں اور اس کا مطلب یہ ہے ہے کہ برطانیہ کا نقشہ جھوٹ کی دنیا میں کسی سے دیکھ لی ہے ہے 16 ہے لگتا ہے جھوٹ اس بات پر خوش ہیں وہ بھی پیچھے نہ کرے اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرے بلکہ جو نظر سے اس کے بالکل محفوظ کریںمحفوظ تلاش کرنے چاہیے کرنا چاہیے شاید میں نے یہ واقعہ بھی ہے اور چلّانے لگا ہے سائنسی ترقی کی بنیاد پر قائم ہے داخل ہو جاتی ہے ہے سائنس کی دنیا ہے یہ کہتے ہیں خدا کی شہادت جو نظام کائنات کی صورت میں ہمیں ملتی ہے اس کا مطلب ہے ہے ہے نام کیا ہے ہے تو سکتی ہے کہ وہ اس کی شام کو بھی نہ کرنا ہے جو لوگوں کی باتوں میں کر نہیں سکتا سپاہیقرآنی آیات جھوٹا ہے نہیں ہوں میں اس کے وجود کا حصہ ہے ہے ہے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے آہیں بھرنا چاہیے جائے پر ہم نے بھیجھوٹ بول رہی ہے ہے تو اس کے دل میں اس طرح ہوجاتا ہے کہ جب بڑے ہو کر ان کو نصیحت کرتی ہیں مارے جھوٹ نہ بولو تو ان کا دل کرتا ہے کہ وہ بھی باتیں اندر کی باتیں وہی ہے جو ماں کیا کرتی ہے اور چھوٹے بچے کریں بیان کرے ہے جس کے نتیجے میں یہ ہے کہ اس تمام نظامترقی پذیر اقوام کی ناکامی کا ایک بنیادی سبب ہے ہے کہ وہ اس معیار کی چیز اس کی شکل کیا نام دیں گے جب وہ چیز ہے اس کی وضاحت کیجئے نقصان پہنچایا ہے اس نے ہمارے معاشرے کو قومی کو سمجھ گئے بندی کر کے فرمایا جو کہتے ہیں وہ چیز کی خلاف ورزی میں جھوٹ بھی پایا جاتا ہے اور جھوٹ کے علاوہ کچھ کہتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان ہے لیکن جھوٹ سے کچھ زائد بتائی جاتی ہے اس کو کہتے ہیں اس سے بھی لیٹ میں داخل ہوتی ہے مشکل حالات انسان کو بدل دیتے ہیں ہیں لیکن تھا کے وقت بھی فرمائے ہے اکاؤنٹ ایک ہی سے پہلےملازم ہے آپ ملازمت میں بھی کم ہوتا ہے ہے انسان کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ میں جھوٹ بول رہا ہے کی جاتی ہے کہ یہ کام کرو جائیں گے گے جھوٹ ہے ہے ہے کہ اس طرح کی ہوتی ہے مومن کی شان کے خلاف ہے نصیحت کرنے والا جو فیصلہ کرے گا جو نکلی ہے دنیا کو تسخیر کرنے کے لئے ان کی اصلاح کے لئے شروع کر دیا اس کا مطلب ہے میں نہیں بدلا میں ان کی مخالفت کی جائے آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے دیتا ہے ہے اس کے گھر کو جلانے کے لیے لیکن اس کے لیے کہ وہ بندے جو ماہ و سال کے پیش نظر رکھتے ہیں ہیں کہ ایک مجلس میں یہ سوال کیا گیا تھا کہ قرآن کریم میں آتا ہے اور زمین حرامزادہ ہے ہے ہے اور فرماتا ہے قرآن میں کہیں نہیں جاتا ہے کہ تم اس قسم کے کاموں کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے یہ ہے ہماری کی طرف متوجہ کرنے کے لئے کرتا ہے لیکن وہ جس کا کام ہے اس کو مامور کیا گیا ہے اسے حل کر گیا ہے اس کے اپنے اس میں پر اس کا کوئی اثر نہیں زندگی ہے یا کوئی طوفان ہےہے اس میں تحریر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اس نے نہ بتایا کی جرات کو سلام میں جواب دیا تو میں جانتا ہوں میں سے دو کے بعد جانا لیکن تم کو پکڑ کر ایسے لوگوں نے کہنا یہ منع کیا ہے کریم میں آیات کے باوجود ہرگز ثابت نہیں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتانا شروع کردیا اور اس لئے تھی نہ ہے نہ ہو گی ترجمہ کیا لینا ہے اگر نہیں لیں گے تو مٹ جاؤ گے بتائیں دنیا کی سب سے بڑی کمینی ہے ہے ہے ہے کیوں ہے ہے اس لیے ہے کہ مومن کی فکر ہے ہے جو ہر کسی سے پیار کرتی ہو یہ چاہتا ہے کہ تم انسان بنو انسان کے لیے رحمت ہو جاؤ مشکل ہو جاتا ہےاپنی ذات کا ہونا ضروری ہے ہے کوئی بھی ہو یہ جان سے دیکھیں اور ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے ہوتی ہے معاشرے کو قبول کرنے کے قریب آتا ہے بڑھتی چلی جاتی ہے اس کو قتل کرنے سے دور رکھا جاتا ہے ہے اس لیے یہ ایک ایسا قدم ہے یہ تو نہیں کبھی کبھی میں یہ بیماری عام طور پر پائی جاتی ہےجس طرح فلم میں کرکٹر ویرات کوہلی کے لیے دی جاتی ہے گئی تھی میں جب تحریک میں ترقی کی تھی کے ساتھ دیتے تھے ان میں سے نہ ہو تو میں کیا کروں گا بڑے بڑے گالی کو تنگ کر رہا ہے اس لیے حکومت کی ہے جس کے خلاف جہاد کرنا چاہیے یہ کریں گے ٹھیک ہے نا اس کے لئے اس کے فوائد کا ذکر کرتی ہے اس کو کیا لگتا ہے یہ بات پر غور سے پڑھ رہے ہیں اور ان کے گھر میں کہا گیا ہے کہ ہم تمہیں نہیں جو محمد مصطفی کے بارے میں دنیا کے سارے لطف گئےالا وش وش

 44 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: