Deeni O Fiqahi Masail: Episode 92 (Urdu)




Deeni O Fiqahi Masail: Episode 92 (Urdu)

Uploaded on March 31 2016

اللہلا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ اللہ محمد الرسول اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ مدد الرسول اللہ اللہ من شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ پروگرام دینی و فقہی مسائل کے ساتھ ہوں آپ کی خدمت میں حاضر ہے آج کے ہمارے اس پروگرام میں متفرق نوعیت کے وہ سوالات جو آپ نے ای میل کے ذریعے یا بعض اوقات خون کے ذریعے پوچھی ہیں ان پر ہم انشاءاللہ گفتگو کریں گے گے آج کے اس پروگرام میں ہمارے پاس جو سوالات ہیں اس میں یزدانی الرحمہ اور عصمت مریم صاحبہ یہ ان دونوں نے ایک اکٹھی میں اہم سوالات جو آیا وہ شامل کریں گے اس کے بعد ایسا طاہر صاحب نے لاہور سے ہمیں سوال بھجوایا ان پر بھی کوشش کریں گے اس پروگرام میں شامل کر لیا جائے اس پروگرام میں سوالات کا جواب دینے کے لئے جو علمائے کرام یہ عمر سٹوڈیو میں تشریف رکھتے ہیں اس میں مکاؤ مولانا ظہیر احمد خان صاحب اور مولانا منظور احمد صاحب شامل ہیں آپ کے سوالات کے ساتھ چلیں گے بزرگان کی طرف اور آپ کے سوالات پیش کرتے ہیں آپ کے سوال کا جواب آپ سن کے تو اگر اس سے کوئی مزید سوال پیدا ہوتا ہے یا کوئی ایسی بات جس کو ہم ٹھیک طرح سے سمجھ نہیں سکے تو آپ دوبارہ بھی عمل لکھ کر بھجوا سکتے ہیں ہم ان شاء اللہ آئندہ پروگرام میں اس دن بھی آپ کی ضرورت کے مطابق گفتگو کر لیں گے اور آپ کے پوچھنے سے جہاں آپ کو فائدہ ہوتا ہے وہاں اور بھی ایم پی اے ہیں ان تک پہنچتی ہے اور وہ بھی کر سکتے ہیں سوالات لگتا ہے سکول جانے والے بچے ہیں تو ان کے سوالات ہیں سوالوں سے یہ اندازہ لگا تھا مختلف ہوتا ہے کہ طلبہ کو سکول میں سمجھا لیا اپنا پارٹیوں کے کیوں ہوتا ہے یا کس طرح سے ہوتا ہے لیکن باہر عرب ساتھی ہیں بچیوں کے یہ کہتے ہیں کہ یہ تو آج سے ہے اور وہ آج کے دن منائی جاتی ہے اور چونکہ مکہ میں ہوتا ہے تو لہذا عید الاضحی جو ہے وہ تو مکہ کے مطابق یمنی جانی چاہیے اس بارے میں میری رہنمائی فرما دیں کہ یہ کس طرح سے اس کا اندازہ لگایا جاتا ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم بات اصل میں یہ ہے کہ اگر ہم قرآن کریم کی طرف دیکھتے ہیں اس میں واضح طور پہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ لوگ سوال کرتے ہیں چاند کے بارے میں فرمایا کہ ان کو بتا دو کہ چاند جو ہے لوگوں کے وقت معلوم کرنے کا ذریعہ یا اب وقت معلوم کرنا اس زمانے میں چاند کے ذریعے پتہ چلتا تھا چاند نکلتا تھا تاریخ کا اندازہ ہو جاتا تھا اور عیدالفطر جس طرح بچوں نے لکھا کہ عید الفطر کے مختلف علاقوں میں جو چاند نکلے گا اس کے مطابق عید منائی جاتی ہے اس میں کہیں کا ارشاد موجود نہیں ہے کہ عید الفطر کے لیے تو یہ حکم ہے لیکن اب موجود نہیں ہے کہ عید کو العزیہ کو حج کے ساتھ منایا جائےاسلام میں سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ تو یہ کوئی نہیں مناتے ہیں عید کی نماز پڑھی جاتی ہے نہ وہاں پہ کوئی اس طرح عید کا لگ دس کو خود ان کے اپنے حج کی جو اپنی مناسب ہیں وہ ادا کیے جاتے ہیں تو سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ کہیں پہ ایسی وضاحت موجود نہیں ہے دوسری بات اس میں یاد رکھنی چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خود حج پر تشریف نہیں لے کے گئے مثلا حضرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال مدینہ میں ہیں اور اس میں صرف ایک سال کے لیے آخری سال تھا ظفر کی وفات سے پہلے اس کے حضور تشریف لے گئے باقی عید حضور نے العزیزیہ مدینے میں رہ کر منائی اور کہ یہ نہیں آتا کہ یہ وضاحت موجود نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے بارے میں یہ فرمایا ہو کہ کل پتہ کر لیں کہ مکہ میں کس کس دن کی کلاس کے مطابق تمنائے مدینہ میں جو چاند نکلتا تھا اس کے مطابق اس میں یہ بھی بات کی واضح ہوجانا چاہیے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مدینہ اور مکہ کا اگر سچ ہے تو ہے سو میل کا فاصلہ ہے لیکن وہ ستارہ زمین ایسی ہے وہاں پر مطلع ہے لیکن اس نے فرمایا کہ میں بھی چاند نکل آیا کہ نہیں یہ بنیادی بات ہے اب جو ان بچوں نے بھی جس کا ذکر کیا کہ عید الفطر کے متعلق ہم مانتے ہیں اور احادیث میں یہ موجود ہے اور ان کے بڑے صحابی جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچپن سے تربیت پہ حضور کی پرورش میں جو بڑے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق اعلیٰ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی کہ اللہ محقق شمس دین کی سمجھ عطا کر انہوں نے ان کے بعد میں کتابیں جب حضرت امیر معاویہ کا زمانہ ہے حکومت تھا تو اس زمانے میں ایک تعبیر شام میں کسی کام کے لئے گئے اور وہاں پہ انہوں نے جمعہ والے دن رمضان کا آغاز کیا جب وہ واپس آئے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ان کی گفتگو ہوئی اور انہوں نے پوچھا کہ آپ نے کس دن یہاں پر رمضان کا آغاز کیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے ہفتے والے دن کا آغاز کیا تو اس نے جو تابی سے ان سے پوچھا کہ ہم نے تو وہاں پر جمعے والے دن آغاز کیا تھا تو کیا ہمیں وقت جو ہے جو امیر ہے شام میں اس کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ انہوں نے واضح طور پر فرمایا کہ نہیں ان کا چاند دیکھنا ہمارے لئے کا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ  اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر علاقے کے لوگ جو ہیں وہ اپنا چاند دیکھ کے رمضان کا آغاز کریں اور اس کے مطابق کی وہ مہینے کا آغاز کریں اب اس میں اس حدیث کے متعلق جو علامات جن کتب میں یہ حدیث صحیح ہے صحیح مسلم کتاب کہلاتی ہے امام بخاری کی کتاب صحیح بخاری ہے پھر وہ مسلم کتاب صحیح مسلم ہے اس میں بیان کیا گیا ہے اور اس پر امام مسلم نے بڑا خوبصورت باب باندھا ہے جب عنوان بابت کسی حدیث کو بیان کرنے کے لیے باندھا جاتا ہے تو وہ دراصل امام کا اپنا نقطہ نظر واضح ہوتا ہے یا علماء کا ہوتا ہے تو اس نے باب باندھا ہے وہ یہ ہے کہ ان الکلب لادن روی عطا ہو وہ عطا ہو اظہار الہلال البلاغ دن ہویہ حکم حج کے لئے بھی ہے اور پھر اگر ہم یہ ایک تصور کریں کہ ان کی تعریف جس تاریخ کو دس زلحج کی مکہ میں ہے اس دنیا میں عید الفطر کی عید الاضحی منائی جائے تو پھر صرف تاریخ کیوں پھر وہ وقت کیوں نہیں کہ جو وہ چاشت کا وقت وہاں پہ ہے اس وقت کے ساری دنیا میں منائی جانے چاہئیں وہ پھر کسی جگہ پر لوگ سو رہے ہوں گے کسی پہ جاگ رہے ہوں گے کسی آدھی رات ہوگئی اور ایک عجیب سی ایسی کیفیت لوگوں کے لیے پیدا ہو جائے گی جو جس کو جس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تکلیف مالایطاق ایسی تحریر جس کی طاقت نہیں رکھتے اور قرآن کریم نے حد اسلام تشریح تو یہ کہتا ہے کہ دینی و سلم آسانی کا نام ہے تو اثر آسانیاں پیدا کرو یہ تو مشکل پیدا کرنے والی بات ہو گی اور پھر ایسے وقت میں وہ بھی نوازا جائے گی جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض علاقوں میں ایسے وقت میں آئی جس کے متعلق اسلام آباد ہے نماز پڑھنی مثلا فجر پڑھنے کے بعد سورج طلوع ہونے تک کوئی نماز نفل نماز پڑھنے کا حکم آیت میں اجازت نہیں ہے اسی طرح سر نماز پڑھنے کے بعد نماز عصر کی ادائیگی کے بعد سورج غروب ہونے تک حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے تو بعض ایسے علاقے ہوں گے جہاں پر عید کا وقت اگر ہم مکہ کے سامنے تو آ رہا ہوگا تو یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو اگر ہم اس پر غور کریں تو یہ دراصل آسانیاں اور بہتر یہی ہے کہ ہر علاقے کے لوگ اپنا چاند دیکھ کر اس کے مطابق عید الحج کا آغاز کریں گے اور ان کے چاند کے مطابق نکلے ہوئے چاند کے مطابق چند سستے علاج ہوگا تو اس دن عید ایک جذباتی خیال تو سکتا ہے  ہے کہیں دیکھی میں مکہ جو ہے وہ مرکز ہے تو اس کے ساتھ منانا چاہیے اور اس کے ساتھ ملنا چاہیے ہوتا ہے یہ گرتی ہے جیسے آپ نے فرمایا کہ وہاں پر تو کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پر وہ وقت گزر کے اگلی تاریخ میں داخل ہو چکا ہے ان کے دوسرے حصوں میں تو ان کے مطابق ہو ہی نہیں سکتی اور روزہ یہ تو آج کے اس دور میں یہ بچے جن کا یہ سوال ہے جن کے ساتھ یہ بحث کرتے ہیں آج کے دور میں یہ بات کر رہے ہیں کہ وہ اس وقت بنا دے تو جے برسوں سے بیان کیا اس کے بعد سے قیامت تک یہ قائم رہنے والی ہے یہ ذرائع آج جو ہے بہت سے لوگوں کو آج بھی میسر نہیں ہے ہے بالفرض یہ خود ہو جاتے ہیں جو ہے یہ سسٹم کسی وجہ سے انسان کے جو ہے وہ اپنے کے ایک اور پھر کس طرح سے پتہ کریں گے کیا مقام ہے وہ چاند نظر آ گیا یا نہیں وہاں پر آج ہو رہی ہے کہ نہیں جائے گا اس کی خبر لینے تو اس لیے یہ چیز ممکن نہیں ہے اس لیے جذباتی طور پر صرف یہ یہ تصور پیدا کرنا کہ اس سے بڑا اتحاد اور ہوگی اور لگتا ہے اس پر لبیک کہنے والے لیکن یہ کبھی جو ہے ہمارے مرکز سے حضرت صاحب کی طرف سے خلیفۃ المسیح کی طرف سے یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ کیونکہ آج ہم لندن میں عید منا رہے ہیں تو سارے انتظامیہ کے مطابق بنائے کے مطابق اور جو شریعت کی تعلیم ہے وہ تو وہی آواز دیں گے بنا کے کچھ باتیں جو آپ پیدا کرنیو زمانے کے اس لحاظ سے چاند تو آج کی موجودہ جو لیٹس ذرائع ابلاغ کے مطابق کتنا چاند نکلتا تھا کہ دنیا دیکھتی تھیں اور اس علاقے کے سارے لوگ دیکھ لیتے اس لیے یہ بات آپ کی درست ہے کہ یہ تو ذرا اب ہے جس سے یہ سوچ سکتے ہیں چلیں وہ امریکہ میں چاند نکلا ہے اس وقت تو نہیں پتا چلتا ہے تو سوال یہ ہے کہ آپ کس چیز کو فالو کریں گے گے کہ یا تو نماز عید کہاں پیدا ہو خطبہ نماز عید کا پھر تو کہا جاسکتا ہے کہ بچوں کے مکہ میں پھر بھی نہیں کہا جا سکتا لیکن کر فرض کرنا ہو تو پھر پھر بھی ہیں کیونکہ اس دن ہوتی ہی نہیں بلکہ صرف قربانیوں کا دن قربانی کی جاتی ہے کوئی عید کی نماز نہیں ہوتی کوئی خطبہ نہیں ہوتا صرف عید کی نماز اور خطبہ صرف ان علاقوں کے لیے جہاں پہ آج نہیں ہو رہا ہے بنائی کا خطبہ بھی ہوا اور اس کے بعد قربانیاں بھی ہوا کرتے ہیں تو فالو کس کو کریں گے اگر دیکھا جائے تو اس کو تو ہے ہی نہیں ہے پھر وہ کہیں نمازوں میں بھی اس میں فالو کروں جو میں بھی فالو کریں وہاں تو آپ بھی لاگو ہوتے ہیں کہ ہر چیز کے اوقات مقرر ہے پھر ایک ایک چیز ہے اس میں سے ملے اور باقی کچھ چھوڑ دی ہم نے کوئی ایسی بات فرمائی ہوتی ہیں نا اس لئے ہر انسان کو اور وہ خدا جو ہر جگہ موجود ہے جس نے ایک کائنات کا نظام چلا رکھا ہے اس کے مطابق ساری عبادات کا حکم دیا گیا نورمحمدی الگ الگ سے اسی کے مطابق سے وہ عمل کرتے ہیں آگے چلتے ہیں ان کا دوسرا سوال جو منصور صاحب یہ تھا کہ اگر دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے تو وتر کی نماز میں جیسے تیسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھنے کا حکم ہے تو کیا دوبارہ پڑھنی چاہیے یا سجدہ صاحب کرکے دعائے قنوت پڑھی جائے جیسے ان کا سوال تھا وہ میں نے آپ سے کیا گیا کہ نماز میں اگر کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو اس کا ہے یہ ہوتا ہے کہ صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور سبحان ربی الاعلیٰ پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کی مقررہ تشبیہات ہے تو اس میں یہ بات تھوڑی سی وضاحت طلب ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ سجدہ صاحب صرف ایک سجدے کا نام ہے اور ایک سجدہ کرکے تو وہ ختم کر دیتے ہیں ایسے نہیں بلکہ سجدہ صاحب دراصل دو سجدوں کو ادا کرنے کا نام ہے جو آخر میں ادا کیے جاتے ہیں غلطی کی صدارت کرتے ہوئے تو اس سوال کا جواب دینے سے قبل تھوڑا سا میں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ سجدہ صاحب  ہوتا ہے تاکہ اس حوالے سے پھر یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ وتر اگر بھول جائیں تو ان کو دوبارہ پڑھنی ہے یا نہیں پڑھنی تو اس حوالے سے یہ میسج کروں گا کہ نماز بنیادی طور پر تین حصے کیے جاتے ہیں پہلا حصہ کہلاتا ہے نماز میں رکعتوں کی تعداد ہیں کہ عام ہے اور اس کے بعد پھر سجدے ہیں پھر آخری قعدے میں جب بیٹھتے ہیں تو وہ سارا اس میں فرائض میں شامل ہوجاتا ہے کہ کم ہے ابھی ادا کرنا ہے اور پھر آخر میں غلطی کے تدارک کے لیےاسلم ایک مرتبہ عصر کی نماز پڑھا رہے تھے تو ایک دو رکعت پڑھی ہیں آپ نے اسلام سے ہوتی ہے اس آبادی نے ایک صحابی نے ہجرت کر کے پوچھا کہ یا رسول اللہ انس یہ تھا کہ آپ بھول گئے ہیں ہم کو صرف یہ نماز مختصر کر دی گئی اللہ کی طرف سے بھی حکم آ گیا اس کی اتنی رفتار کی وجہ دو رکعت پڑھا کریں تو اس میں ہمارا تو میں بول رہا ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا حکم آیا لیکن میرے علم میں تو نہیں کوئی ایسی کوئی بات ہوئی تو نہیں اس نے کچھ تو ہوا ہے جس میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے تو انسان باقی صاحب آپ سے پوچھا تو والد صاحب نے عرض کیا بڑے ادب سے یا رسول اللہ جی دور رکھا تھا آپ نے پڑھی ہیں تو ہم نے دو رکعت رہ گئی تھی وہ ادا کروائیں باجماعت پڑھائی اور آخر میں دو سجدے کیے یہ پتہ لگا کہ فرسٹ چیز اگر رہ جائے تو پھر وہ رکعت یا وہ جو بھی رکن ہے وہ کبھی دوبارہ ادا کریں گے اور آخر میں دو سجدے بھی کریں گے دوسرا نماز کا جو حصہ واجبات نماز کہلاتا ہے واجبات نماز وہ کام ہیں جن کا کرنا تو بہت ضروری ہے لیکن اگر وہ رہ جائیں ٹوٹ جائے کسی وجہ سے بھول جاتا ہے انسان تو پھر ان کا دہرانا ضروری نہیں ہے اس کے آخر میں دو سجدہ صاحب کر لیے جائیں تو اس سے غلطی کا تدارک ہو جاتا ہے اس میں سورۃ فاتحہ پڑھنا ہے مصلحت کی شال رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھی جاتی ہے صورت کی جاتی ہے پھر درمیانی قعدہ ہے جو دو رکعت کے درمیان جو بیٹھا جاتا ہے ان میں سے ہیں اور ان کی ان کے بارے میں قبول ہو جائے کوئی غلطی ہو جائے تو پھر ان کو دوبارہ دہرانا نہیں ہے بلکہ آخر میں دوسروں سے سبقت کرنے حدیث میں مثال نہیں ملتی ہے کہ اگر تم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور دو رکعت کے بعد جو درمیانی کا درد تھا ان کے بیٹھے نہیں بلکہ مسلسل بیٹھ کے بغیر چار رکعت پڑھا دی اور آخر میں سلام پھیرنے سے قبل دو صاحب کئے تو اس طرح اسلام نے اس کو دہرایا نہیں دوبارہ قادر کو دوبارہ نہیں دہرائی عمر صاحب کر لیا ہے وہ سننے نماز کہلاتا ہے نماز کی سنتیں اور مستحبات نماز کو کہا جاتا ہے یعنی پسندیدہ ہیں اگر کرلی جائیں تو خدا تعالیٰ ان کا ثواب دیتا ہے اور اگر نہ کی جائیں تو ان کا گناہ نہیں ہوتا یہ بھی شامل ہے کہ اللہ کہنا مولانا احمد کا کہنا تو اس کی تسبیحات ہیں تو یہ چیزیں رہ جائیں تو ان پر کسی قسم کا نہ تو سجدہ سہو واجب ہوتا ہے اور نہ ہی اس دوران ہوتا ہے جو سوال پوچھا گیا ہے کہ دعائے قنوت پڑھنا ضروری ہے یا دعائے قنوت کرائی جاتی تو پھر کیا کرنا ہے تو اگر دعائے قنوت رہ جائے تو اس کے بدلے میں کرنا ہوتا ہے یا اس کو دوبارہ کسی وقت میں پڑھنا ہوتا ہے اور اس میں گویا کہ دو صرف باتیں ایسی ہی فرض نماز اور واجب نماز کے اگر ان دونوں میں سے کوئی حصہ رہ جائے تو پھر آپ نے کرنا اس میں یہی عرض کروں گا کہ اس میں یہ بات غور طلب ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ دعائے قنوت پڑھنا ضروری نہیں ہے اور ٹھیک ہے جان بوجھ کر چھوڑنے چلتے ہیں اس کو آنحضرت صلی وسلم نے پڑھا ہے علیہ السلام نے بہت پسند فرمایا ایک مرتبہ حضرت پیر سراج الحق نمانی صاحب رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کے پاس تشریف رکھتے تھے بیٹھے تھے پوچھا کہ حضور لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ دعائے قنوت وہ نماز میں وتر میں پڑھتے ہیں کروایا تھا اس کے بارے میں آپ کا کیا فیصلہ ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواب دیا کہ دیکھیں تو دعا ہے دعا ہے اتنی ہم سے بھری ہوئی ہے اس ذات اقدس کے جس کے دل میں ہر وقت خدا تعالیٰ کی حمد رہتی تھی اس کے علاوہ کسی کے منہ سے الفاظ نہیں نکل سکتا اس لیے دعاویسے انہوں نے پہلے بیان فرمایا کہ برطانیہ مراد نہیں کہ آپ بھی اس کے بعد سے چھٹی ہے گویا کہ وہ نفی میں والوں نے بتایا کہ آپ نے تو کوئی نہیں چھوڑ دے یہ مقصد نہیں ہے کہ کسی سے بھول کے رہ جاتی ہے تو اس بارے میں شریعت کے کیا احکامات ہیں وہ بات جو ہے وہ ہم نے آپ کی خدمت میں عرض کی ہے لیکن جو شخص کے بعد سنتیں ادا کرنے کے بعد وتر پڑھنے کے لئے کھڑا ہے آپ سے کبھی نہیں چاہے گا کہ وہ اس میں سے مختلف چیزیں چھوڑ دیا جائے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے یقینا ایسی چیز کو کوشش کرکے ضرور عمل کروں اور اتنا میٹھا ہوگا بالکل نوافل تو ویسے ہی اعلیٰ حضرت صلی اللہ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نوافل تو ایسی چیزیں ہیں جو دراصل فرائض کی حفاظت کرتے ہیں اور جو کمی رہ جائے تو اس کو جتنا زیادہ سے زیادہ ہو سکے اس کو پورا اس کو سنوار کر ادا کرنا چاہیے اور جس طرح آپ نے کہا کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ پڑھائی چھوڑ دے بلکہ یہ تو اس بندے کے لئے بتایا جا رہا ہے کہ جو بھول گیا ہے اس کی ای میل میں تھا تو انہوں نے یہ سوال پوچھا ہے آپ نے اجلاس میں باجماعت نماز پڑھنا چاہے تو کیا ان کے لئے کام کرنا ضروری ہے ہے اس میں ملتی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ اس طرح ہی نماز پڑھنا چاہیں تو ان پر نہ تو اذان ہے اور نہ اقامت ہے اور یہ کتاب سنن الکبری کتاب میں موجود ہے اور یہ ہے کا ایک واضح حکم ہے اب اس کے ساتھ ایک اور بھی ہمیں واقعہ ملتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور کے آغاز میں میں حضور کی صحابیت حضرت عمر کا عبداللہ بن نوفل بن ساریہ تھی اور پڑھی لکھی تھی قرآن کریم کاالبم جانتی تھی اور بڑی عبادت گزار خاتون تھیں انہوں نے آنحضرت صلی کے لئے نکلنے لگے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے بھی جان پہ جانے کی اجازت دی میں بھی آپ کے ساتھ شامل ہو گئی اور میں وہاں پہ زخمیوں کو سنبھالو گی پانی پلاؤ گئی جون سنگھ کا کام ہوا کرو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایسے ویسے بھی آنحضور صلی علیہ وسلم نے اس وقت نہیں دی نہ وی ون کے بعد میں نرسنگ کے لیے خواتین شامل ہوتی رہیں اللہ تعالیٰ عنہا تم نے سلیم رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق عطا کے بعد کی جنگ میں شامل ہوئے تھے وہ حالات ایسے تھے کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاتون کو لے کے جانا مناسب نہیں سمجھا اس کے احترام کی ادب کے حفاظت کے پیش نظر بھارت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ آپ نماز باجماعت پڑھ لیا کریں تو اگر اجازت دیں تو وہاں پر اذان کا انتظام کرنا چاہتے تو حضور نے انہیں تو خواتین کو اذان دینے کی اجازت نہیں مرحمت فرمائی بلکہ ان کی خواہش کے پیش نظر کسی مرد ایک بڑی عمر کے مؤذن کو مقرر کر دیا جو ان کے ہاںٹھیک ہوں تو انہیں اذان اور اقامت کی ضرورت نہیں ہے اور اس کی اس میں حکمت یہ ہے کہ دراصل نماز باجماعت کا حکم جو ہے وہ مردوں کے لیے عورتوں کے لئے یہ ہے کہ اپنے گھر میں اکیلے اکیلے نماز پڑھنے تو نے اتنا ہی درجہ ملے گا اتنا ثواب ملے گا جو مرد باہر جاکے باجماعت مساجد میں نماز فرض نماز ادا کرتے ہیں اتنا ثواب عورتوں کو گھر میں اسلیے انہیں غیر معمولی تکلیف کرنے کی نئی ایک ایسی تکلیف میں نہیں ڈالا جو ان کے لئے مشکل ہو سکتی ہے اس لیے یہ وجہ ہے کہ اذان اور اقامت اسی بھی کہی جاتی ہے کہ انسان اس لیے کی جاتی ہے کہ لوگوں کے اعلان کی بتایا جاتا ہے کہ اب نمازکاوقت ہوگیاہے آج جب اقامت اس لیے کہی جاتی ہے کہ آپ نماز بالکل کھڑی ہونے لگی ہے ہوگئے امام پہنچ گئے ہیں لوگ کھڑے ہوگئے اب تکبیر ہونے لگی اس لئے جس باجماعت کی اہمیت کے پیش نظر اس کے اعلان کے لیے اور چونکہ نماز باجماعت خواتین پر فرض نہیں ہے اس لیے ان کے لیے یہ چھٹی دی کہ اگر انہوں نے نماز پڑھی اگر کہیں علی جناح کی ہوتی ہیں تو بغیر اذان کے بغیر قامت کے بنے گی وہ لیکن اس میں ایک اور بھی چھوٹی سی بات ہے کہ بعض اوقات سے جتنا زیادہ ہوتی ہیں تو وہاں پے ان کو بتا دیا جائے کہ نماز کھڑی ہونے لگی آپ آ جائیں نہ تو یہی ایک امت کا جو جو فائدہ ہے وہ اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ ان کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ خواتین کی خاطر وہ لوازمات ہے اذان یا اقامت جس چیز کے لوازمات جب وہ کم لاگو نہیں ہوتا وہ لوازمات جو ہے وہ بھی لاگو نہیں ہوتے ہیں یہ بھی نکالا ہے کہ اگر کسی جگہ پر ایک مرد نماز پڑھانے والا ہے اور ساتھ خواتین ہی گھر کی خواتین ہے یا تو اس صورت میں بھی انہوں نے یہاں تک کہ طبیعت کیسی ہے کہ جو مرد ہے جس نے امامت کروانی ہے وہ خودکشی کا مت کہہ لے اور بلکہ یہاں تک کہ اگر ان کی ضرورت ہے تو خود ہی اذان دے وہی اقامت کہے اور پھر اس کے بعد امامت کروائے اس میں بھی خواتین کے لباس کے پیچھے وہی حکمت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ اگر نماز باجماعت ہو رہی ہے تو تم میں سے اگر کسی کو معاملہ پیش آ جاتا ہے امام کو غلطی لگ جاتی ہے تو مرد مقتدی جو ہیں وہ سبحان اللہ وہ بول سکتے ہیں لیکن عورتوں کے متعلق فرمائیں تو وہ نماز میں بھی نہ بولے اس سے کئی قسم کی باتیں پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی بلکہ فرمایا کہ اگر انہوں نے کسی کا کسی بات کی طرف امام کو توجہ دلانی ہے تو وہ پھر ہلکے سے تعلق لپک کر دیں تاکہ امام کو پتہ چل جائے گا کوئی مسئلہ ہوا ہے تو یہ اس کی وجہ سے غالبا علماء اس طرف گئے ہیں کہ اگر اذان اور اقامت کہنی پڑے تو وہ بھی مرد خود ہی کہے گا اور پھر انہیں بلکل ٹھیک ہے جزاک اللہ کا بہت شکریہ آج ہمارے پروگرام کا وقت اپنے اختتام کو پہنچتا ہے جو آئندہ پروگرام کوشش کریں گے جو سوالات پہلے میں نے ذکر کیا تھا کہ صائمہ طاہر صاحب لاہور سے ان کی ای میل کے ذریعے کوئی سوالات دے دو ان پر اس مرتبہ تو نہیں جو ہے جرمنی سے 12 سوالات ہے پروگرام میں ہم بات کریں آج کے لیے جاتے ہیں السلام علیکم محمد الرسول اللہ اللہ اللہ حمد الرسول اللہ

 29 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: