Deeni O Fiqahi Masail: Episode 91 (Urdu)




Deeni O Fiqahi Masail: Episode 91 (Urdu)

Uploaded on 10-05-2016

اللہ اللہہاہاہا اللہ محمد الرسول اللہ اللہ محمد الرسول اللہ اللہ محمد رسول اللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ پروگرام دینی و فقہی مسائل کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہے آج ہمارے اس پروگرام میں سکیں گے مگر اور مولانا صاحب سے مولانا منصور احمد صاحب سے سوالات موجود ہیں جن کا کام اسی پروگرام میں بتایا تھا کہ شہباز صاحب عبدالشکور صاحب کینیڈا سے اور منصور احمد ناصر صاحب تفریح سے گفتگو کریں گے جب پہلا سوال جو ہے وہ صاحب لندن سے کیا مغرب کے ساتھ عشاء کی نماز جمع کی جاسکتی ہے اور یہ پوچھنے کی بات دوستوں کی ہے کہ مغرب کے ساتھ ہی جمع کی جاسکتی ہے یا عشاء کے ساتھ جمع کی جاسکتی ہے مغرب یا ظہر کے یا عصر کے وقت نہیں ہے رحمن رحیم احادیث میں خاص طور پر اس موضوع سے متعلق حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک روایت ہے جس میں انہوں نے یہ سنن ترمذی میں بھی موجود ہے اور اس میں وہ واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ تھا کہ حضور اور ظہر کے ساتھ عصر کو جمع کر لیتے تھے جمع مقدم کہتے تھے اور اس کے ساتھ عصر کے ساتھ شوہر کو بھی جمع کر لیتے تھے جمع ہوئے اور اسی طرح مغرب کے ساتھ عشاء کو اور عشاء کے ساتھ مغرب کو بھی جمع کر دیں اس لیے ان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے واضح طور پر یہ ملتا ہے کہ ان سے جو ضرورت ہوتی اگر حضور نے سفر جو ہے وہ جلدی شروع کرنا ہوتا تو ظہر اور عصر کو جمع کرکے 20 کروانا ہے بعض اوقات زہر سے بھی پہلے سفر شروع کرتے تو حضور پھر زہر کو تھوڑا لیٹ کر دیتے اور اگر کوئی کام ایسا ہوتا جس میں مغرب سے پہلے کسی جگہ پر روانہ ہونا ہے تو پھر حضور مغرب کو کرتے کرتے کے فورا بعد نکلنا ہوتا تو مغرب اور عشاء کو جمع کرکے پھر اس کام کے لئے تشریف لے جاتے تو دونوں طریقے جائز ہے جس طرح بھی کوئی اسے اس کے اختیار جی ٹھیک ہے چلتے ہیں عبدالشکور صاحب کا حصہ پنجم سے انہوں نے یہ خط کے ذریعے سوالات ہمیں کچھ جو آئے تھے کہ ایک شخص جو کلا ہے اور اس کی ایک سے زائد ہیں ہیں اور بھائی کوئی نہیں ہے اس کی بیوی بھی موجود ہے تو اس کا ترکہ کس طور پر تقسیم ہو گا اس میں نہ رہیں صورت میں قرآن کریم نے یہ بیان کیا ہے کہ سب سے پہلے جن کا حصہ مقرر کر دیا ہے وہ افراد جن کا حصہ قرآن کریم نے مقرر کیا ان کو اصطلاح میں زلف روز کہا جاتا ہے اور جن کا حصہ مقرر نہیں کیا بلکہ وہ زلف روز کو حصہ دینے کے بعد ان کو جو بچا تھا وہ ان کو دیا جاتا ہے تو ایسے افراد کو اس کا نام دیا جاتا ہے اس بات کا موجودہ صورتحال ہے اس میں بیوہ کا حصہ بھی قرآن کریم نے مقرر کیا ہے اور بیان کی ہے والا ہر لمحہ ختم کے تمہارا ہے اس کا ایک بڑا چار حصہ بیوہ کو جائے گا المشاکل کو والا دن اگر اولاد نہ ہو تو اس صورت میں چونکہ اولاد نہیں ہے اس وجہ سے بیوہ کو ایک بڑا چاہیے سکول ترقی کا ملے گا پھر بہنیں بہنوں کے حصے کی تعیین قرآن کریم نے الفاظ میں بیان فرمائی ہے ان کا کہنا ہے کہ song مما ترک کر کے یہاں پر بھی یہ نہیں کریں گے کہ پہلے بیوہ کا حصہ نکالا جائے بڑا چار اور اس کے بعد جو باقی بچے ہیں اس میں سے دو باتیں نکالا جائے ایسے نہیں ہوگا بلکہ کل ترکے میں سے ایک بچہ نکالا جائے گا اور کل ترکے میں سے ہی باتیں نہ سہا کیا جائے گا اس کے بعد جو باقی بچے گا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ وہ اس بات کو جائے گا فرماتے ہیں کہ الفرائض فی اہلہ سب سے پہلے زلف و سکون کا حصہ ادا کرو مما باقی ہے اور جو بچ جائے فروغ دینے کے بعد وہ والے اول الذکر تو وہ قریبی مرد رشتہ دار ہے اس کو دیا جائے گا یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ جو کالا جن کا ذکر کیا جا رہا ہے ان کا ان کا کوئی چاپ سوم کی وفات کے وقت موجود تھا یا کوئی موجود تھی اسی طرح چادر یا پھوپھی زاد بھائی وہ موجود تھا تو ان کو دیا جا سکتا ہے تو یہ تعین ہونے کے بعد میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اے جے کے وقت گلہ ہے شوق کو ایسے ہی زندگی ہے اس سے یہ تعلق رکھتا ہے سوال سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی فوری ردعمل میں کہہ دیا اس کے بعد اس کو احساس ہوا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ اصل میں نہیں تھا کہ میں واپسی کے بارے میں کیا حکم ہے یہ ہے کہ اپنے خاوند کو طلاق کا حق دیا ہے جس میں وہ رجوع کر سکتا ہے یہ ہے چار کے ساتھ اور ہوش و حواس میں چلی جاتی ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ غصے میں تلاک اس کی جس کو فقہ احمدیہ نے بھی غصے میں دی گئی طلاق کو غیر مؤثر کہا ہے وہ دراصل ایسا غصہ نہیں تو ناراضگی ہے کیوں کہ طلاق تو ہوتی ناراضگی ہے کبھی پیار میں بسا طلاق نہیں ہوتی کہ ہنستے کھیلتے ہوئے کوئی کام ہے کہ بڑا پیارا ہے ہم اس لیے میں تمہیں طلاق دے اس سے تو وفا نہ ہوتی ہے ناراضگی اور غصے سے ہی ہوتی ہے جس خاص طور پر فقہ حنفی میں لکھا ہے اس میں محترم مشرف کا لو مفتی سلسلہ کی وضاحت مجھے بڑی پسند آیا بڑی رفتار بھی ہیں انہوں نے کا درست غصہ آیا جس نے غیر مستحق کو غیر مؤثر کہاں جا رہے ہیں وہ دراصل یہ ہے کہ ایسا غصہ جس میں بعض اوقات انسان آپے سے باہر ہو جاتا ہے ایسا ہے جس میں وہ اپنے ہوش کھو دیتا ہے اس میں اگر وہ کوئی ایسی الفاظ کہتا ہے اور پھر ختم ہوتا ہے اور اپنی وہ ہوش میں آتا ہے تو اس میں وہ اس اگر ہوتا ہے اور وہ نادم ہوکر پشیمان ہوکے طلاق واپس لینا چاہتا ہے تو وہ اس کا طلاق واپس لینا ہے دراصل بتاتا ہے کہ وہ اس وقت ہوش میں نہیں تھا اس لئے ہم کہیں گے کہ وہ طلاق غیر مصدقہ وہ مسلمان نہیں مانی جائے گی لیکن اگر کوئی شخص غصے اور تلاش میں یہاں پر بھی بات کی کہ اگر وہ تھا ایسے ہی غصے اور تم نے جسے اپنا ہوش نہیں تھا اور اس نے طلاق دی اور بعد میں پشیمان ہونے کے باوجود اسے طلاق واپس نہیں لیں تو گویا اس نے اپنے پہلے والے سال کی توسیع کر دی عدت کیا ہے ایک طلاق کی عدت جو ہے وہ تین کرو قرآن کریم میں بیان کئے ہیں اور وہ ایسا لفظ ہے جو حیض کے لیے بھی استعمال ہوتا تو ہر کے لئے استعمال ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص نے تو ہر میں طلاق دی ہے تو تین ہیز ٹیم کر لیں اور اگر اس نے محسوس کیا کہ ہم نے دی ہے تو تین تو ہر کام کر لے تو یہ اس کے نتائج کو یہ نہیں آتے خاتون کو وہ اس کے لیے تین مہینے اور جو حاملہ ہیں ان کے متعلق فرمایا کے وضع حمل ان کی ہے لیکن یہ طلاق حسن کے متعلق ہے ایک اور بھی طلاق ہے جس کو طلاق حسن کہا جاتا ہے وہ ہے کہ ایک طلاق دی اور اگلا تہران پر دوسری طلاق دی پھر اگلا پورا نے تیسری طلاقیں دراصل ایک ایک مہینے کے بعد ہوتی ہے اگر کوئی شخص اس طرح طلاق دیتا ہے تو اس کی ایک مہینہ اور تین مہینے میں جو ہے وہ اگلا سوال یہ ہمارے پاس خالد صاحب کا ہے کینیڈا سے نے یہ پوچھا ہے وہ پوچھتے ہی جھٹکے کے گوشت کے بارے میں جماعت کی کیا رائے ہے اس میں جانور کا سر ایک دم سے جدا کردیا جاتا ہے ہے ہے اسلام نے بیس کے لئے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے وہ خون ہے کہ چونکہ ہو جاتا ہے جلد اس میں جراثیم کی نشوونما ہو جاتی ہے اس وجہ سے خون کو بنیادی طور پر حرام قرار دیا گیا اور اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ خون جسم کے اندر سے کے جانور کے جسم کے اندر سے سارے کا سارا نکل جائے اس سے کیا جاتا ہے کہ کچھ حصہ لے جاتا ہے تو اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ دماغ کا جسم کے ساتھ رابطہ بر قرار رہے جس پینل کوڈ ہے اس کو حرام سے بھی کہتے ہیں اس کو نہیں کہا جاتا اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ خون کا وہ جو دماغ ہے وہ آرڈر دیتا ہے جسم کو کے خون سارا جسم سے نکل جائے اور اس طرح آہستہ آہستہ سارا خون نکل جاتا ہے تو جھوٹ کا ہے اس میں یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی مرتبہ گردن کو الگ کر دیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں دماغ نہیں اگر نہیں جسم کو دے سکتا کہ سارا خون یہاں سے نکل جائے اور سارے کا سارا جو خون ہے وہ گوشت کے اندر جاتا ہے اور گوشت اور میڈیکل سائنس بھی ایک کہتی ہے کہ وہ خراب ہو جاتا ہے اور ایسا گوشت صحت مند کو شمار نہیں ہوتا اس وجہ سے اسلام نے اس تحریک کو جاری کیا حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں اسی طرح کا ایک واقعہ ہوا سوال پوچھا کہ حضور مرغی کی گردن اتار کے لے گئی ہے ہماری پگڑی کے عمل کو ذبح کر لیں تو یہ کون سا ایسا کوئی اس کی اجازت نہیں دیتا اسلام کے آپ بچانے کی خاطر اپنے ایمان کو ضائع کر لی ہے گردن اتار کے لے گئی ہے تو خون کے کی صورت کیفیت پیدا ہو گئی اور دماغ کا سن کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیا جس کے نتیجے میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ حلال ہے جو یہاں سے وہ درست نہیں ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام اور رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک حوالہ میں پڑھتا ہوں تو فرماتے ہیں کہ جب یہاں میں یہ حکمت ہے کہ خون جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے اور جس میں زہر ہوتا ہے ذبح کرنے سے نکل جاتا ہے ہے ہے ہے ہے ہے کہ خون کو خراب کرتا ہے گیم کے بارے میں ہماری جماعت کی کیا ہے کی پالیسی ہے کوئی بھی معاہدہ یا کوئی بھی قرض ایسا جس میں ہوں قوم ادا کرتا ہے تو اس میں ملنے والا منافع جو ہے وہ سود نہیں ہوگا لیکن اگر اس میں نقصان کا ذکر نہیں ہے صرف منافع کا ذکر ہے منافقت کا ذکر ہے تو وہ سود ہے چنانچہ احادیث میں بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا واضح طور پر فرمایا یہ سن سنا ہے الصلاۃ والسلام نے بڑی خوبصورتی کو ظاہر فرمائی ہیں دکی یہ ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لیے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے ہے یہ تعریف جہاں صادق آباد گی کہ لائے گا اب اس میں دیکھنا کہ قومی بچت میں جو شخص پیسے دے رہا ہے خرید رہا ہے کوئی ان کی فکس ڈپازٹ کروا رہا ہے یا کسی بھی سکیم ہے دیکھنے دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ایسا معاہدہ کر رہا ہے کہ وہ صرف ماں اور زائد روپے لینے کا معاہدہ ہے اگر ہے تو وہ سود ہے لیکن اگر وہ نفع نقصان میں شراکت کے ساتھ ہے تو پھر اس وقت نہیں اور اس کے ساتھ حضرت صاحب نے ایک اور بھی الگ وضاحت فرمائی جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وی تو کچھ نہیں کرتا یہ نہیں کہتا کہ میں تمہیں اتنا زیادہ دوں گا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سوچ سے باہر  ہر شخص نہیں وہ اپنے طور پر دیتا ہے چنانچہ انبیاء ہمیشہ شرائط کی رعایت رکھتے آئے گا اگر بادشاہ کچھ روپیہ لیتا ہے اور وہ اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے قومی بچت کے گورنمنٹ کا ادارہ ہے اگر کوئی شخص اپنی ضرورت کے لیے اور وہ اپنی طرف سے دیتا ہے لیکن معاہدہ نہ ہوا تو پھر کچھ نہیں ہے دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی صورت میں داخل نہیں وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے آگے آگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا کر قرضہ نہیں لیا کی ادائیگی کے وقت اسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ نہ دیا انہیں ہمیشہ حضور نے زہر دیا بلکہ بعض جگہ پے تو آتا ہے کہ اصل زہر سے بھی بہت بڑھ کے حضور نے دیا یا علی علیہ السلام فرماتے ہیں یہ خیال رہنا چاہیے کہ اپنی خواہش نہ ہو خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سود کا روپیہ جو کہ گورنمنٹ سے ملتا ہے وہ اسی حالت میں سود ہوگا جبکہ لینے والا اس خواہش سے روپیہ دیتا ہے کہ مجھے سود ملے یعنی وہ اس قسم کا معاہدہ کرتا ہے کہ مجھے دے ورنہ گارمنٹ جو اپنی طرف سے احسان ہے وہ صورت میں داخل نہیں تو یہ بڑی واضح یہاں پے ہی بڑا کھل کے اس میں بات ہوگی کہ اگر قومی بچت میں ایسا معاہدہ ہو رہا ہے کہ وہ اس میں باقاعدہ ذکر ہے کہ مجھے پانچ سال کے بعد دگنا ملے گا جس سال کے بعد دکھ نہ ملے گا اور اس میں کہیں بھی نقصان کا ذکر نہیں ہوا سود قرض لیتی ہے اور اس پر ازخود میں کچھ زائد دے دیتی ہے تو کوئی حرج کی بات ہے یہ تو باقاعدہ کاروباری کمپنیوں کی طرح ہے اور ان کی پہلے سے طے شدہ ہوں تاکہ کتنے پرسنٹ آپ کو یہ ملے گا تو پھر تو ہوتی ہی نہیں بندے نے کسی کو مکان بنانے کے لیے رقم دی اور اس کے عوض مکان کو قرض خانے میں جس نے قرض لیا ہے قرض دہندہ کے نام گر کر دیا یہ ساڑھے سات تولے سونا یعنی 50 گرام تک اگر اس تک نقدی یارک میں کوئی چیز جس کی مالیت پچاس گرام سونا ہے اس وقت اس حد تک پہنچتی ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی اور اس کے لیے یہ شرط ہے کہ سال گزرنا چاہئے اگر سال گزرتا ہے تو پھر بھی پھر اس پر پڑھائی پر سینڈ کی ہے کہ حساب سے زکوٰۃ واجب ہو گی اب یہ جو صورت حال ہے اس میں یہ ہے کہ مکان جو گروہ جس نے رکھا ہے ہے اس وقت واجب ہوگی کیونکہ وہ اس کے نفع نقصان کا اس کے فائدے کا وہی ذمہ دار ہے 18 نہیں ہوگا کہ مالک کی ذمہ داری مالک اور ذمہ داری ڈال دی جائے تو وہ اس سے زکوۃ اس کی جگہ عطا کرے اور ان کے متعلق یہ ہے کہ مکان کی زکوۃ نہیں ہوتی ہے مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کے استعمال کی چیزیں پر زکوٰۃ نہیں فرماتے ہیں مکان کتنے روپیہ کا نہیں حامد پر زکوۃ ہے آپ کے لیے استعمال کیا جائے گا جتنی جتنی آمد ہورہی ہے وہ رقم پھر سیو رہتی ہے اگر وہ رقم سیب نہیں ہوتی بلکہ مکان کی ضروریات پر خرچ کر دی جاتی ہے اور محفوظ نہیں رہتیں ایک سال تک تو پھر زکاۃ نہیں ہوگی اور اسی طرح رہن رکھنے والے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مکان کی مرمت کا خیال رکھے اور اگر کوئی چھوٹی موٹی اس میں کمی بیشی ہوتی ہے تو وہ اسی رقم میں سے پوری کرنی ہے نہ کہ مالک مکان کو کہا جائے کہ وہ ان کی ضروریات کا خیال رکھے اور وسلم کی ایک حدیث سے ثابت ہے جب میں یہ رواج تھا اور جان رکھو لیکن تمہاری ذمہ داری ہے کہ اس کو چاہا بھی مہیا کرو دوسروں سے فائدہ اٹھاؤ جانور کے جو غائب ہیں غیر ہے لیکن ان کو چارہ مہیا کرنا یہ اس شخص کی ذمہ داری ہے جس نے اس کو لکھا ہوا نہ کے اس کے مالک کی تو یہ اس کے نہیں ہے اور میں اس کا ذکر ہے جو قرض لے کے کوئی شخص قرض لے رہا ہے اور اپنا مکان کسی کو رحم کے طور پر دے رہا ہے تو جس نے اس کے طور پر لیا ہے اور اس کی وجہ قرار دے دیا ہے وہ اگر اس کو ذاتی طور پر استعمال کر رہا ہے تو پھر تو حضرت موسی علیہ السلام کے ارشاد کی روشنی میں کوئی زکاۃ نہیں اس کا کسی کو کرائے پر دے دیا ہے اور اس پہ ایک تو جوڑ ہوتی ہے وہ یہی قرض دینے والا جو ہے یہی جس کے پاس اور ہر مکان وہی اس کو مرمت کروائے گا اور اس کا کرایہ بھی وہی اپنے پاس رکھے گا اب اگر وہ کرایہ اس کی ذاتی ضروریات پر خرچ ہوجاتا ہے یہ مکان کی مرمت پر خرچ ہو جاتا ہے تو پھر بھی کوئی زکاۃ نہیں کیونکہ ایک تو یہاں آنے کے بعد اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے کے بعد پھر اس کے پاس کچھ رقم بچ جاتی ہے اور وہ ایک سال گزرنے کے بعد جس طرف منسوب میں کہا کہ وہ 85 غلام رسول ہیں یا ساڑھے سات تولہ سونے کی قیمت کے برابر رقم ہوتی ہے تو پھر اس پر ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کرے گا جزاک اللہ بہت شکریہ دونوں بزرگ ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں آج کے پروگرام کو یا پر ملیں گے آئندہ جو ہے انشاءاللہ نئے سوالات کے ساتھ یہ پروگرام میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے آپ جو سوالات پوچھنا چاہیں ان کے جو ہر طرح سے دوستی کا طریقہ استعمال کرتے ہیں لوگ جو خط کے ذریعے لکھ کر بھجوا دیتے ہیں یا بعد میں فون کر کے پوچھ لیتے ہیں جس کے ذریعے اور ای میل کا رابطہ جائے وہ تو دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنی سہولت کے مطابق سچائی انشاءاللہ

 24 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: