FridayFriday Sermon – Khalifa IV – 9-3-1984




FridayFriday Sermon – Khalifa IV – 9-3-1984

 خطبہ جمعہ خلیفۃ المسیح الخامس مرزا طاہر احمد

Friday Sermon 9-3-1984

اشھد اللہ الہ الا اللہ محمد بن عثمان بن علی الحمد للہ رب العلمین قرآن کریم قرات النبی انا علیہم ہم غیر حال ہیں دعا علی نعت نعت السلام علیکم سر نہ من الممکن سورج حالت ان اصول حبیبہ 106 یاسر ولادت رسول نوبہار السلام کا تعلق اللہ کی صفت ہے جس سے ہے اسے اس کی مغفرت سے سورہ انعام سے لی گئی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے ہے کہ جب تیرے پاس وہ لوگ ایسے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو انہیں کہہ تم پر ہمیشہ سلامتی ہو تمہارے رب نے اپنے آپ پر رحمت کو فرض کرلیا ہے ہے اس طرح کہ تم میں سے جو کوئی غفلت میں کوئی کر بیٹھے کہ وہ اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرے تو اس خدا کی صفت یہ ہے کہ وہ بہت بخشنے والا اور مہربان رحم کرنے والا ہے ہے دوسری آیت کا ترجمہ ہے جس کی آگہی کے حکم کے انتظار میں چھوڑے گئے ہیں ہیں یعنی خدا تعالی کو اختیار ہے کہ ان کو عذاب دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے اور اللہ بہتر جاننے والا اور حکمت والا ہے ہے پھر دوسری آیت میں بیان کرتی ہے کہ کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا کیا انھوں نے نیک کام لوگوں کو کچھ اور عوامل ہوتے ہیں جو برے تھے ملا دیا یا رب دی ابھی کئی اور نام لکھیں قریب ہے کہ اللہ تعالی ان پر فضل فرما دےمحاورہ کا یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعید نہیں کہ خدا تعالیٰ ان پر بھی فضل فرما دے اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے ہے گزشتہ برس مئی میں نے خدا تعالی کی کی صفت ہے غفاری سے متعلق بیان کیا تھا تھا کہ اس کا ایک معجون نہایت اعلی درجہ کا اور بہت ہی بلند پایا مانا ہے اس کا اخلاق سب سے بڑھ کر لاہور سے دور رکھ ہمیں اپنی محبت میں شامل ہیں یہاں تک کہ گناہوں کو یہ توفیق نہ ملے کہ ہم تک پہنچ سکیں کی ادنیٰ ہو یا بڑے ہر قسم کے گناہوں سے ہمیں دور رکھیں و ہمارے درمیان فاصلے کر ڈالو یہ معنی ہیں جن جن معنوں میں استغفار کرتے ہیں اور ان معنوں میں سب سے زیادہ عرصہ طور پر یہ آیت حدود صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تعلق رکھتی ہے یا یہ صرف اہل صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تعلق رکھتی ہے ہے لیکن اس کے اور بھی بہت سے معنی ہیں ہیں اور ان میں میں گنہگار بندوں کا بھی ذکر چلتا ہے تھوڑے گناہ گار بندوں کو بھی زیادہ گناہ گار بندوں کا بھی گیم سے بھی ہیں جنہوں نے کچھ نیک اعمال کی ہے اور کچھ بادام لیے ابھی جن کے بعد اعمال زیادہ غالب آ گئے لیکن ان کے متعلق بھی ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا گیا وہ چاہے بخش دے چاہے تو نہ بچے ان دونوں لحاظ سے جب ہم اللہ تعالی کی صفت غفاری پر غور کرتے ہیں تو اس کی ایک حد ربوبیت سے ملی ہوئی نظر آتی ہے اور دوسری حد مالکیت سے ملی نظر آتی ہے ہے ہی ہوں گے جو عملی طور پر مجبور ہوئے آئے اگرچہ دوسرے معنی میں بھی ربوبیت جلوہ اگر ضرور ملتی ہے لیکن اس کا زیادہ تر تالو ملکیت ہے ہے خدا تعالیٰ آپ کی تربیت اس طرح بھی کرتا ہے ہے کہ وہ خدا کے حضور ہمیشہ استدعا کرتے رہتے ہیں ہیں کہ ہمیشہ جاتے ہیں اپنی ذات میں گناہ سے بچنے کی طاقت نہیں ہے ہے ہمیں کوئی غم نہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم اپنے سے گناہ سے بچ کر پاک لوگوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں ہیں اس لئے تو ہم پر رحم فرما اور ہمیں گناہوں سے دور رکھ اس طرح کہ گناہوں اور ہمارے درمیان سے محبت ہو جائے ہم سے محبت میں مستغرق ہو جائے اور اس وجہ سے ہم گناہوں سے بچائے ای تو روح بھی یاد کا یہ میری جان کے ساتھ افطار پارٹیوں سے تعلق رکھتا ہے ہے اس کی طرف چلا جاتا ہے اور اس طرح کی راہ میں جو خدشات ہیں سے بچتا ہے ان سے بچتا ہے جن کے نتیجے میں بسا اوقات ایک ترقی یافتہ انسان بھی ہے چنانچہ قرآن کریم کی مثال دیتا ہے کہ وہ نعمتوں بلباؤ نہیں دیتا لیکن ایک کتے کی مثال دے کر اس کا ذکر کیا گیا ہے ہے اس نے اسی سے بات کی اور ایسے اعمال کی طاقت تھی جس کے نتیجے میں اس طرح ہوسکتا تھا تھا دنیا کی طرف اس کا میلان بن گیا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اس سے محروم رہا اور اللہ تعالی سے لینے کی طلب کرنے کی بجائے اس نے اپنی بات پر زور دیا یہ مفہوم ہے اس کا مطلب اور ملتا ہے ہے مجھ کو آتا ہے پھر اسے دنیا کی طرف جھکنے دیا اور اس کا راستہ نہ فرمایا یا اس کے متعلق روایات آتی ہیں ایک وقت میں اپنی زندگی میں یہ بڑے اولیاء کے مقام تک پہنچ گیا تھا اور اس کے اندر غیر معمولی صفات پائی جاتی تھی کیونکہ اس نے اعتبار سے کام لیا اور یہ زوم اس کے گویا میں اپنے زور سے نہیں کر رہا اس لیے بڑے بلند مقام سے وہ گیا گیا ہے ہے اور بہت بلند چوٹی سے جو کرتا ہے اتنا ہی زیادہ اس کو نقصان پہنچتا ہےاور استغفار انجام تک انسان کی ربوبیت کی حفاظت کا انسان کی تربیت کرتا چلا جاتا ہے اور جو کرو سے اور فرشتے اس کی حفاظت کرتا ہے ہے جو میں نے سب سے زیادہ استغفار فرمایا اور کسی اور انسان کو یہ توفیق ملی کہ اس حد تک استفادہ کرے کرے جو اس طرح اس بار کرتے ہیں ان کا رخ صرف حلال نہیں ہوتا بالکل اسی طرح اس پر وہ اپنے بندوں کی روایت کرتے ہیں ہیں خدا کے بندوں کی روح کیا کرتے ہیں اور ان معنوں میں وہ ملک کی ہو جاتے ہیں ہیں جتنا زیادہ استغفار کرنے والا ہو گا اتنا بڑا اس کے اندر تزکیے کا رجحان پایا جائے گا اتنا زیادہ وہ بنی نوع انسان کو پاک کرنے کی بے پناہ صلاحیت اپنے اندر رکھتا ہوگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم 139 سے مختصر تھے کثرت سے استغفار کر کے کے بلند مراتب حاصل کرنے والا ہے ہے ترقی کرنے والے ربوبیت کی وہ انتہائی منازل طے کرنے والے جو انسان کے مقدر میں ہیں ہیں اور دوسری طرف بندوں کے لئے ملک کی بن گئے بندوں کے لیے اہل نہیں تھے کیونکہ ربوبیت کسی سے جو خلاصہ کے لیے استعمال ہوتی ہے بندوں کے لئے استعمال نہیں ہوتی لیکن جب روحانی طور پر ایک انسان اپنے رب کی صفات اختیار کرتا ہے تو بندوں کے لئے ملک کی بن جاتا ہے ان کو پابند کرنے لگتا ہے ہے اور ان دونوں چیزوں کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے ہے وہ لوگ جو استغفار کو کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے بندوں کی اصلاح احوال کی فکر نہیں کرتے اسی قدر استغفار اپنے ماحول سے اپنے مطلب سے محروم ہو جاتی ہے ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ انسان اللہ تعالی سے تو یہ چاہے ہے یہ تو مجھے گناہوں سے دور رہ کر اپنی محبت میں جھانک لے اور اس کے بندوں میں بادشاہ کو دیکھنا پسند کریں اور ان سے ہم محبت اور پیار کا سلوک نہ کرے ان کو اپنے ساتھ جوڑ کر ان کی اصلاح کی کوشش کریں کرے ان معنوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو طبیعت کا ایک بہت ہی اعلی نقطہ ہمارے ہاتھ آتا ہے ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر آپ اصلاح کرنا چاہتے ہیں جس طرح خدا تعالی کی محبت حاصل ہوتی ہے گناہ کے درمیان اور انسان کے درمیان اسی طرح انسان کی محبت حائل ہو جاتی ہے ایک بندے کے درمیان اور اس کی بچیوں کے لیے اور جب تک محبت نہ ہو اصلاح نہیں ہو سکتی جو تربیت کا دعویٰ کرتا ہے جو ملک کی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس کے اخلاق لمحوں کے اندر نفرت کا جذبہ پایا جاتا ہو وہ اپنے ساتھ جوڑے انسان کو کو اور اس کے نتیجے میں اس کا تذکرہ ہو چاچا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں پہلوؤں سے سب بنی نو انسان سے زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں ہیں اتنا گہرا محبت کا تعلق اپنے اپنی ذات کے ساتھ پیدا کر دیا دیا کہ بہت بڑا مقام اس محبت کا تھا جاھل عربوں کی اسلامی جن کی چند سالوں کے اندر کہاں لگا دی گئی اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر معمولی محبت ان کے دل میں نہ پیدا ہوتی تم کو طاقت میں گناہوں سے بچنے کے لیے نہیں تھی کہ وہ اپنی بیویوں اور سیکڑوں سال سے خون میں ملیریا سے دور رہ سکے کے پاس آج بھی یہی آتا رہوں گا وہ تربیت کا ازالہ کرتے ہیں اور استغفار کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کا استعفیٰ قبول ہو ان کو بالکل یہی سلوک جو وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے بندوں سے کرنا پڑے گا گا پر نفرت اور تزکیہ میں حساب ہے اور کب ہے اور وہ لوگ جو نفرت کیجیے اصلاح کرنا چاہتے ہیں لازماً ہوتے ہیں قرآن کریم جگہ فرما رہا ہے اور انسانی فطرت سیالکوٹ کے رہی ہے ہے اس کے مضمون پر یہ ذرا غور کریں آپ کو یہ سمجھ آئے گی کہ فنی نوکیہ برا انسان کی اصلاح کا دعوی اور نفرت کا ہتھیار لے کر نکلنا یہ دونوں باتیں نہیں کر سکتے صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم فرماتا ہے لوگ منتخب غزل بیلنس دو منہ والے کی محمد صلی اللہ علیہ وسلمگردن میں سختی پیدا ہوجاتی تھی تو شروع ہوجاتا لفظوں میں نہ آوے یہ سارے بندے جو آج عاشقوں کی طرح تیرے گرد اکٹھے ہوئے ہیں اور پروانہ وار تیری محبت میں جاننا چاہتے ہیں اور کم بھاگے ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام میں استغفار کی یہی تعریف فرمائی آئی کہ اس کی محبت میں چھپنے کا نام ہے ہے ہے جو اس سے پہلے آپ کو کبھی کسی مفسر کے کرم سے نکلتا دکھائی دے گی فرماتے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں قرآن شریف میں دو معنی پر آیا ہے تو مان پرایا ہے ایک تو یہ کہ اپنے دل کو خدا کی محبت میں قائم کرکے گناہوں کے ظہور کو جو علیحدگی کی حالت میں جمع ہوتے ہیں ہیں کتنا گہرا فلسفہ گناہ کا بیان فرمایا استغفار کی تعریف میں ناخدا سے دوری کے نتیجے میں جوش مارتے ہیں اور اس کی محبت کے نتیجے میں خود کرنے لگتے ہیں فرمایا ایک تو یہ کہ اپنے دل کو خدا کی محبت میں موم کرکے گناہوں کے ظہور کو جو علیحدگی کی حالت میں جوش مارتے ہیں خدا تعالی کے تعلق کے ساتھ روکنا na.ja میں پیوست ہوکر اسے مدد جانا یہ استغفار کو مغربوں کا ہے ہے یعنی انبیاء اور اولیاء کی صحبت میں شمار ہوتے ہیں ہیں جو ایک طرفہ العین خدا سے علیحدہ ہونا اپنی تباہی کا مجھے جانتے ہیں ہیں ایک لینے کے لئے بھی غذا سے دور ہونا پسند نہیں کرتے اور اللہ کے ساتھ رہتے ہیں ہیں یہ اس کا مطلب ہوتا ہے اس لئے اس بار یہ کے لئے استغفار کرتے ہیں اس کا کوئی تصور یہ اس میں نہیں آتا گناہوں سے بچنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور خالصتاً محبت الہی کے نتیجے میں گناہوں سے بچنے کے لیے جو تمنا دل میں پیدا ہوتی ہے اسے کہا جاتا ہے ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ گناہ سے نکل کر کربلا کی طرف بھاگنا اور کوشش کرنا کہ جیسے درخت زمین میں لگ جاتا ہے ایسا ہی دل خدا کی محبت کا اسیر ہو جائے آئے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام گناہوں کی بخشش کے معنوں میں بھی جب استغفار کی تفسیر فرماتے ہیں تو یہ میں نے نہیں لیتے کہ منہ سے کہہ دینا کہ اے خدا میرے گناہ بخش دے اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ گناہ بخش دیتا ہے بلکہ یہ مان لیتے ہیں کہ اگر دل میں یہ بات مناسبت پیدا ہو کہ خدا سے دور کر دے اور پھر استغفار کرے تو پھر اس کی صورتحال کیا ظاہر ہوتی ہے ہے کہ نہ تو نہیں دیے جاتے ہیں ہیں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ گناہ زیادہ تھے یعنی کیا جاتا ہے ہے حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ بعض دفعہ ایک لمحے کیلئے اللہ کی محبت دل میں جلوہ گر ہوتی ہے یا خدا کی خاطر بنی نو انسان کی محبت دل میں جلوہ گر ہوتی ہے اللہ تعالی تمام بیویوں کے حساب کو قلم کردیتا ہے اور یہ اس کی صفات کے مالک ہیں استغفار استغفار کی قبولیت کے رنگ ہوتی ہے ہے ان معنوں میں اللہ کی صفائی کا مالک کی طرف سے ایک گہرا تعلق ہے اس مضمون میں بہت سی احادیث ملتی ہیں جن میں سے بعض کو میں نے آج کے خطبے کے لیے موضوع بنایا ہے ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مسلم فرماتے ہیں ابوذر کی روایت ہے ہے کہ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو خدا کی طرف منسوب کرکے بیان فرمایا کہ اللہ نے مجھے خبر دی ہے ہے وہ کہہ رہا ہے کہ برہم کر نہ ہو سوائے اس کے جس کو میرا دکھاؤ مجھ سے بات کرو میں تمہیں بتا دوں گا تم سب نادار اور محتاج ہو سوائے اس کے جس کو میں بھی نہ کروں بس مجھ سے سب گناہ گار ہوں سوائے اس کے جس کو میں بچاؤ بس بس تم میں سے جو تم میں سے وہ جو یقین رکھتا ہے کہ میں گناہ بخشنے کی قدرت رکھتا ہو ہو وہ مجھ سے بخشش طلب کریں میں اسے بخش دوں گالکھنے والے ہو تو ان سب کا بہترین منتقل ہونا میری سلطنت اور ملکیت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی انصاف نہیں کر سکتا اور اگر تمہارے ملن اور آخری اور تمہارے زندگی اور تمہارے اور تمہارے جوان ہوں تمہارے اور شقی القلب ہو جائیں بھائی ان کی ہیں یہ برائی میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں کر سکتے اگر تمہارے اولین اورآخرین زندہ اور مردے جوان اور بوڑھے ایک میدان میں اکٹھے ہو جائیں اور پھر تم میں سے ہر ایک اپنے سب مرادیں مانگنے لگے اور میں ہر ایک کو اس کا مطالبہ پورا کر دو تو میری نہیں آتا میرے ملک کی میں ملک کے خزانوں میں اتنا بھی کبھی نہیں کرے گی جتنا ایک سوئی سے سمندر میں ڈبویا جائے اور باہر نکالا جائے تو اس کے ناکے پر کچھ تھوڑا سا پانی لگا رہتا ہے پھر اللہ تعالی فرمائے گا میں جوان ہوں میں ماجد ہوں جو چاہو کرتا ہوں میری اطاعت بھی کلام ہے میرا نام ہے اس حدیث میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ممالک کے ساتھ اس کی مغفرت کو جوڑا ہے ہے اور وہ گناہ گار بندے ہیں جو حد سے زیادہ گناہوں میں ڈوب چکے ہوں انکو بھی مایوسی سے نکال دیا گیا ہے ہے اور یہ اعلان ہے کہ جہاں تک خدا تعالیٰ کی ملکیت کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے جسے چاہے گا بخش دے گا جسے چاہے گا نہیں بچے گا اور اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے نے جو شرائط پیش کیے ہیں جو شریعت واضح فرمائی ہے ان کا ان آیات میں ذکر گزر چکا ہے جو میں نے پہلے پڑھ کر آپ کو سنائیں آئی-اے تعلق رکھنے والی جو مختلف شرائط ہے یا ایسے مواقع جن پر اللہ تعالی کی مغفرت خاص جوش مارتی ہے ان کا بیان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف روایات کے رنگ میں اور مختلف فرمودات میں فرمایا ہے ایک حدیث حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا اللہ تعالی نے اپنے بندے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے دوزخ میں لے جاؤ او جب وہ دوزخ کے کنارے پر جا کھڑا ہوا تو مل کر کہا کہ اے اللہ میرا گمان تو تیرے بارے میں بہت اچھا تھا تھا یا نہیں میں تو آپ سے حسن ظن رکھتا تھا اللہ تعالی فرمائے گا اسے واپس لے جاؤ کیونکہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہوں ہو تو سب سے بنیادی بات اللہ تعالی کے متعلق اپنے ذہن کو درست کرنا ہے ہے اور یہ خیال درست ہو جائے گا ایک لمحے سے یہ غلط ہے ہے جو اللہ تعالی کے متعلق ذہن درست رہتا ہے اور جب ابتلاء ومصیبت علاج آتا ہے تو ٹھوکر کھانے کے باوجود بھی خدا تعالیٰ کے متعلق اپنا تصور درست رکھتا ہے ہے اگر اس کی دعا خدا کو قبول نہیں کرتا تو لگا رہتا ہے ہے اگر کسی بلا سے اللہ تعالی اس کو باہر نہیں نکلتا اس وقت اس کے دل میں بغاوت کے خیالات پیدا نہیں ہوتے اور گناہوں میں جب فارغ ہو جاتا ہے اور بے اختیار پاتا ہے اپنے آپ کو کبھی یقین ہے کہ اس کے دل میں رہتا ہے اور کبھی یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اگر اللہ چاہے تو مجھے بخش سکتا ہے اور اسی قسم کا سلوک وہ خدا تعالیٰ کی مخلوق سے بھی کرتا ہے ہے یہ غزل ہے جس کے متعلق ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی اس ظلم کی اتنی قدر فرمائے گا گا تب بھی یہ نماز انسان کو اخلاق سے بچا سکتا ہے ہے تو استغفار کرنے والوں کے لئے اس میں بہت ہی عظیم الشان خدمت کا پیغام ہے کہ اللہ تعالی سے اپنے ذہن کو کبھی میلا نہ ہونے دیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے حسن ظن کا معاملہ کریں اور جو اللہ سے اس نے زندہ رکھتا ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ بنی نوع انسان سے اس نے سن رکھے ایک اور پہلو ہے جس کو خدا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مختلف رنگ میں میں کہ جو شخص بندوں سے یہ صرف نہیں کرتا وہ خدا کے لئے سلوک نہیں کرتا جو بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی چکر لگانے کا تھا جو بندوں پر رحم نہیں کرتا وہ خود اس کے رحم کا طالب نہیں ہو سکتااگر غلط ہے خدا کو روزے رکھنے والا خدا کے بندوں پر بھی حسن ظن رکھتا ہے اور وہی اس نظم کو قبول ہوگا یا اسی کا اسلام قبول ہوگا جو اپنے اللہ پر بھی نظر رکھتا ہے اس کے بندوں کے دلوں سے غم مٹاتا ہے ہے ان کے ساتھ بھی حسن والے معاملات کرتے ہیں بدلنے والے معاملے کرتا ایسے شخص کے لئے خوشخبری ہے کہ اگر اس کا ہو اور اس کے گناہ کا پہلا نمایاں طور پر حاوی ہوگیا ہوں تب بھی اللہ تعالی اس زمین کے نتیجے میں اسے معاف فرما دے گا گا ہے کیا کر چکا تھا اسے بچہ ہو گیا اور اس قسم کی احادیث پر کر کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کوئی فرق نہیں پڑتا بن کر لینی چاہیے کہ اس قسم کی بچیوں کی ضرورت اس خوف کو کھا جاتی ہے ہے ہے ہے اس میں بد دعا کرنا کرنا کا کوئی جواز ہی نہیں ملتا نہ کرانے کے لیے میں احادیث میں میں لیکن ایک انسان بعض دفعہ آپ کی وجہ سے آپ کی حالات کی وجہ سے اور اپنے اندرونی جھلی بعض وجوہات کی بنا پر برسوں سے محروم ہو جاتا ہے ہے اور مرضی کے وقت بھی خدا کا بندہ رہتا ہے اور ساری عمر اس کے ذہن پر یہ غالب آجاتی ہے کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے اور خوف کھاتا ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا ایسے شخص کی حالت کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہیں آپ نے فرمایا ایک آدمی جس نے کبھی کوئی نہیں تھی اپنے اہل سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو مجھ کو جلا دینا اور میری رات کو اگر خوشی ہے اور اگر سمندر میں بہا دینا خدا کی قسم اگر اللہ نے مجھ پر قابو پالیا تو پھر مجھے ایسی سزا دے گا کہ دنیا بھر میں کسی کو نہیں ہوگی اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جب وہ آدمی ملا تو انہوں نے اسی طرح کیا جس طرح اس نے کہا تھا کہ اللہ تعالی نے خشکی اور تری کا حکم دیا کہ وہ مالک ہے ہے کہ اس کی رات کے ذرات کو جمع کرو اور جمع ہوئی اور اسے وجود ملا تو اللہ نے اس سے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا تھا تھا اے میرے بندے کی وصیت کی تھی مجھے جلا کر کھا کر دیا جائے اور تاجروں کو خشکی میں بکھیر دیا جادو کو سمندر میں غرق کر دیا جائے میں نے اس کی وجہ سے فرمائے گا گا تو نے میرا فون کیا تھا اس لئے مجھے معاف کر دیتا ہوں ہو اور وہ سارے بھلا جن کے مقابلے پر ایک دن ہی کمال کی جب جنگ ہوئی تو ان کو خوارج کی طرح دیا کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا ہوگا لیکن ایک طرف زندگی میں درجہ کمال کو پہنچا حصہ اور خوف خدا میں درجہ کمال کو پہنچا ہے ہے عملی کی دوسری کو ہلانا ہو اللہ کا خوف رکھنا اور عزت کرنا اور اپنے گناہوں کا محتاط رہنا یہ اپنی ذات میں ایک بہت بڑی نیکی ہے اور اسی کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں جہاں تک خدا کی مالکیت کا تعلق ہے اس کا کوئی بھی حق نہیں ہے اس لئے کسی انسان کے لئے مایوسی کا کوئی مقام نہیں ہے ہے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سلم اور شخص کے صفات کا ذکر کرتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ خدا ہوتا کیا ہے ہے اور بعض اوقات کسی قسم کا خوف ہے جو برائیوں کو کھاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو مغفرت فرماتا ہے انسان روایت کرتے ہیں ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص پر اللہ تعالی کیفیت طاری ہوگئی گی اور اتنی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو گھر میں قید کر لیا میں باہر نکلنا چھوڑ دیا حضور سے اس کا ذکر کیا گیا کہ اس کے گھر تشریف لے گئے داخل ہوئے اور اس کی گردن کو ہاتھ لگا کر دیکھا کہ کیا حالت ہے وہ مر کر گر پڑا ہوا تھا اس پر حضور نے فرمایا اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرو کیونکہ خوف خدا اور شیطان الہی سے اس کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیںانسان کی ہے حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور کے ساتھ ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے تھے ہوا چلی اور اس درخت کے خشک اور باقی رہ گئے ہیں فرمایا ہے ہے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں ہم تو جو کچھ لکھتے ہیں ہے مثال ہے جس کی خوشی ہے جس کے اللہ کی مشیت سے اونٹ کھڑے ہوئے اس کے گناہوں سے جڑ جائیں گے اور اس کی نیکیاں نیکیاں باقی رہ جائیں گے صرف ایک جگہ نہیں ہے بلکہ جس طرح فارسی ادا کرتے ہیں جن کے سے اس طرح گناہ جھڑ کر اس سے تعلق کہتے ہیں یہ مراد ہے اللہ کی بخشی اور سمجھتے وہ نیکیاں باقی تھی وہ اسی طرح جاتی ہیں تو چاہے کم سن ہو یا زیادہ سے زیادہ دو سلسلے میں باقی رہ گئی اور زیادہ بھی توجہ جائیں گے وہ بھی تمہاری طرف لے جایا کرتے تھے صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت یارخان رنگ میں کے نتیجے میں بخشش کی مثال کو واضح فرما دیا آپ نے فرمایا کہ جس کا دل واقعہ تنخواہ سے ڈرتا ہے اس میں میری کیا غلطی ہے مومن کی زندگی میں یہ ملتا ہے کہ وہ نیکیوں سے محروم ہو جاتا ہے جس طرح ذرا آنکھیں لال ہوجاتا ہے جو ہوا کے جھونکے سے اس کو چھوڑ گئے ہمیشہ کے لئے نیکیوں سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ مزید نشوونما پاتی ہے کیونکہ ملتے جلتے ہیں تو لازم اس درخت کے پتوں کو زیادہ خراب ملا کرتی ہے ہے ہے ہے اور موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مغفرت کے حصول کے جو نکاح ہیں باری ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا اور رقم اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار نہیں سات بار نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ سننی ہے ہے فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک مرد نہیں تھا جو گناہ سے بچا نہیں تھا تا واقعات کے نتیجے میں جب میں فاقہ کشی پھیل گئی اور جان بچانا مشکل ہو گی تو ایک غریب عورت اس کے پاس آئی اس نے اس دیس میں پیدا کیا اور کہا کہ میں دوں گا اگر تو اپنی قسمت میرے پاس بھیج دے تے عنایت فرماتے ہیں کہ وہ نہیں رہی اچھا یہ کیا ہو رہا ہے ہے اور کیوں کے بدلتا ہے اس نے کہا کہ مجھے خدا تعالی نے جس سے بچائے رکھا ہے ہے میں خدا کی خاطر دیتے ہیں کہ مجھے بھی مضبوط ہے ہے اس کی خاطر اس بندے نے فیصلہ کیا کہ میں اس سے باز آ جاؤں گا اور صرف یہ فیصلہ نہیں کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس نے آئین کے قریب نہ جاؤ جب تک وہ لکھتا اوقات بعض راویوں نے حدیث بیان کرنے کے نتیجے میں چھوڑ دیا اور لوگوں نے غلط فہمی پیدا ہو گئے کچھ یاد رہا اس کے بعد یورو زون اور پھر اللہ نے بات ہی ایسی کوئی بات نہیں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اللہ کا ایسا خوف طاری ہوا ہے کہ اس نے فیصلہ کیا کہ میں آئندہ بجے کے قریب نہیں جانا آپ کی رحمت کی شان دیکھیں کہ اسی رات مر گیا یا اور خدا نے اس کو اس سے محفوظ کر لیااور آئندہ شاید نہ رکھیں ہم شاید کہتے ہیں اللہ کوئی نہ ہوگا کہ وہ فقط نہیں سکتا اسی آخری فیصلے کے وقت وقت وہ آخری سال تھا اس کے بعد اس کی وفات ہوگئی اور اللہ تعالی نے اس کی مغفرت فرما دیں کہ یہ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رات وہاب مردہ پایا گیا اپنے گھر میں اور اس کے دروازے پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ اللہ تعالی نے اس نیکی کے بدلے کو معاف فرما دیا ہے ہے یعنی صرف اس سے مغفرت ہی نہیں کی بلکہ سرکاری کا بھی عجیب سلوک فرمایا کیا اور اس میں تمام لوگوں کے سامنے سرخرو فرما دیا جو جانتے تھے کہ انتہائی بعد انسان ہیں نہیں تو استغفار کا معنی گناہوں سے بخشش کے معنی میں بھی جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نے اپنے پاس ان کے نتیجے میں آسمان کو پایا اور ہمارے سامنے بیان کیا وہ یہ نہیں ہے کہ محض معافی مانگی جائے بلکہ بخشش طلب کی جائے کہ اس جذبے کے ساتھ ایسا جذبہ جو روح کی تنہائیوں تک اثر انداز ہونے والا ایسا جذبہ جو بندہ جگہ پر کھڑے کردیں جس کے نتیجے میں انسان کا وجود مٹ جائیں جس سے جایا کرتے ہیں اور قائم رہی اور یہ تیرا دل سے بلند ہو کہ نہیں اور استغفار ان معنوں میں انسان کریں کہ اللہ مجھے بتیوں سے آئندہ محفوظ رکھنا اور میرے پچھلے گناہ معاف فرما دے اس صورت میں اللہ تعالی ایسے انسان کی بخشش فرما دیتا ہے ہے اور اسے ہاتھ سے بچوں کے وہ مالک ہیں اس لیے کوئی گناہ ہ تہہ در جہاں یا مرتبہ یا اس کی کمی ہے خدا کی بخشش کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتے جیسا کہ میں نے کہا تھا انسان کا بندوں سے حسن سلوک بندوں پر رحم کرنا یہ خدا تعالیٰ کو بہت پسند ہے ہے وہاں بھی دراصل جو واقعہ بیان ہوئے ہیں اس میں جلد ہی رہا تھا جو غالبا یا رحم شروع ہے غریب عورت پر پر اور اس نے جنم دیا ہے پھر اللہ کے خوف کو اور وہ درجہ بدل جائے انسان ترقی کرتے کرتے ہو اپنی کیفیت میں اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں اللہ تعالی کی بخشش واجب ہو جاتی ہے ہے جو انسان سے وہم کا بخش سے بڑا گہرا تعلق ہے ہے چنانچہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مضمون کو کھول کر بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص لوگوں کو کردیا کرتا تھا اور اس نے ملازم کو کہہ رہا تھا کہ جب کسی کو تنگ دستی پائے غریب ہوں اور قرض ادا نہ کر سکتا ہوں ہو تو اسے درگزر سے کام ہے اسے کوئی لفٹ ہی نہیں کرنی یی شاید اس طرح اللہ تعالی ہمیں بھی معاف فرما دے مجھے جب اس کی وفات ہوئی اللہ تعالی نے معاف فرما دیا کیا یہ خبر خلاصہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے اور یہ بھی سکتی ہے ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ پھر سے وہ اس طرح ہوا کہ اللہ نے خدا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا حالات کا ذکر فرما کر اس کی بخشش کے متعلق اطلاعات عطا فرمائے آئے ہیں روح کا تعلق ہے وہ دعا ہی ہے ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ دعا اور اس عجز کا اظہار کہ ہم اپنی طاقت سے نیک نہیں ہو سکتے اپنے زور اپنی قوت سے کسی بڑی کو چھوڑ نہیں سکتے اور کسی نہ کسی کو اختیار نہیں کر سکتے تے پیاری دعا ہمیں اس سلسلے میں سکھائی ہے ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے ہے کہ انہوں نے مجھے کوئی ایسی دوائی کھائی جو میں نماز میں مانگا کرو کرو تو آپ نے فرمایا یہ دعا مانگا کرو اللہم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا ولا الہ الا اللہ حضرت علی پر تم ہو رہی ہے کہ میرے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے ہے ظلم قصیرۃ حضرت بہت ہی برا کیا ہمیں میں جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں اچھی طرح کے تیرے سوا کوئی پوچھنے والا نہیںمیری مغفرت اپنے حضور سے فرما mar23 انداز ہے دعا کا تسلی نہیں کہا صرف بلکہ فرمایا کہ اپنی جناب سے یہ میرا اس کے ساتھ کوئی نہیں ہے کسی مضمون کو مزید واضح فرما دیا پہلے یہ کہا کے میں اتنا اگر یہ کہ میں گناہ گار ہو گناہوں میں میں نے حد کر دی ہے ہے تو آپ سے آپ نے حضور سے عطا فرما دے اور میرا معاملہ تو نہیں ہے اس کے ساتھ کرنی ہے تو فرما رہیں تو بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا اس میں جگہ عطا حمدیہ کو استغفار کرنی چاہیے چائے عمل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلتے ہوئے گناہوں سے بچنے کی بکثرت استاد دوسرے ان گناہوں سے توبہ اس رنگ میں جس رنگ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور دعاؤں میں انتہائی عجز و انکساری قاری یہاں یہ مسئلہ بھی حل فرمادیا اور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز میں کوئی اور دعا جائز ہے کہ نہیں نہیں یہ لوگ کہتے ہیں کہ نماز کے بعد دعا کرنی چاہیے یہ حدیث اس تصور کو ختم کر رہی ہے کہتے ہیں نماز میں مسنون الفاظ کے سوا اور کوئی الفاظ نہیں کہے جاسکتے صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر کو اس سوال کے جواب میں دوائی کھا رہے ہیں یا رسول اللہ مجھے نماز میں دعا کرنے کے لئے کوئی دوا بتائے آئے اس دعا کو اس نام سے جماعت احمدیہ اپنے لئے اختیار کرلے چلے کیوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ہیں کہ اب جب کہ امن کی حالت میں ہوں اپنے لئے استغفار کرو کرو جب وہ وقت آ جائے کہ خدا کے عذاب پہنچ جائیں اور کو اپنی لپیٹ میں لے لیں وہ وقت استغفار کر نہیں ہوتا عطا آج جو تم استغفار کرو گے وہ مشکل وقت میں تمہارے کام آئے گی اور میں دیکھ رہا ہوں کہ دنیا بڑی تیزی کے ساتھ تباہی کی طرف جارہی ہے اور بہت شدید مسائل دنیا پر بننے والے ہیں ہیں اور کوئی مل گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا فرمائی تھی ان خطرات سے عمل میں نہیں ہوگا نہ جزائر کے رہنے والے نان دوستانہ پاکستان میں پنجاب کے لوگ اور بہت بڑی تباہی آنے والی ہے ہیں چند سالوں کا واقعہ ہو یا چند اور سال کا لیکن اب یہ مقدر ہوچکا ہے انسان کے اعمال سے سیاہ ہو چکے ہیں اور اس کی جلن خدا تعالیٰ کے خلاف اتنی بڑھ چکی ہے اور اس کے مظالم انتہاء کو پہنچ چکے ہیں کہ جب یہ واقعات اس شدت سے ہونے لگی تو اللہ کی پکڑ آجائے کرتی ہے ہے اور کثرت سے استغفار کریں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں ہیں کہ وہ شخص جو استغفار کرتا ہے اور اس کے دل میں خدا تعالی کی محبت ہوتی ہے سوا اس کے دل کے کسی ذمہ کو بھی عقل نہیں پہنچ سکتی کسی پر بھی اللہ کا عذاب وارد نہیں ہو سکتا ایسے دل بنا لے کہ جو خدا کی محبت اس کے پیار کے نتیجے میں اور آپ کے اس پار کے نتیجے میں غزہ کی پٹی سے محفوظ رہیں اور اللہ تعالی تمام دنیا پر بھی رحم فرمائے اور بنی نوع انسان کے لیے بھی اہم بھی وہی کو استغفار کی توفیق ہےالحمد للہ الحمد و لک النبوۃ محمد حسن یار ملا دے

 78 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: