Friday Sermon – Khalifa IV – 27-07-1984




Friday Sermon – Khalifa IV – 27-07-1984

 خطبہ جمعہ خلیفۃ المسیح الخامس مرزا طاہر احمد

Friday Sermon 27-07-1984

اب بین ما نہ اٹھا لے رہی ہے مدینہ منورہ میں اولے دیکھنا الاوا ہمارا ہے ہے سوپر ہے ہےمقتل ہے انبالوی اور مدد کی تعریف کرتی ہیں کیونکہ ہم آپس میں ملتے ہیں اور تھوڑی نہیں ہےبظاہر جائز ہوتا ہے بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ انسان جسے حاصل ہو جھوٹی تعریف کی اجازت نہ دیں اور اختلاف منطق کے نتیجے گئے میں نہ رہا ہے بلکہ اگر کوئی سے نکل کر دوسرے عقیدے میں داخل کرنے کا طریقہ فرما اور اس پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں یہ باتیں آپ کے حق میں بھی دعا نہیں تمہاری مدد کر رہے ہیں اس میں تمہارا علاج ہے ہے نا تو سمجھتے ہیں تو کوئی بات نہیں سن رہے ہو کیا اور کہا کہ دیکھو تمہاری بنا حاصل ہے لیکن کو سننے کو ملیں گے بنا دیا چاہیے انسانی زندگی کے لئے جو ہے حکومت کی ہے اور عورت کی دشمن کیوں ہوتی ہے ہے ہے ہے ہیںآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شیشے دلوں کے گرد تعصب سے اٹ گئے آیا ہے دیتا ہے ہیں کئی آبی پرندوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے تو آپ کی کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے تو میرے خدا کی پناہ کے لیے اور اس بات کی کوئی پروا نہیں کیا ہوتا اور کوئی جواب نہیں آپ اپنی بات سن کر اگر یہ صورت کیا ہو گیا آدم کی آمد کو یقینی بنایا جائے اس سے بڑا ظالمانہ الزام کے پاس مذہب پر لگائیں اس لئے جلد ہی ہماری ہوتی ہے نہقرآن کریم میں موجود ہیں لیکن یہ ظالمانہ تھے اس کے پیروں پر بے حال ہے جس کا مدرسہ مسجد رحمت اللعالمین ہو اور اس کا مطلب کی تمام رات قیامت کو مجھ پر یہ الزام کہ اس میں سارے زمانے کے ناسور کو بدل کر مصروف عمل اپنے کارکن ہیں اور جو حقیقت نہیں بالکل برا نتیجہ اور مقاصد کے حصول کے نام پر جھوٹ کو باطل کو سبق سکھا دیتے ہیں یہ ہے ہے ہے جو کتاب و سنت کے عقیدے پر عمل کرنے کے نتیجے کہنے آپ نے فرما رہے ہیں جو انسانیت کا بل آتا ہے یہ سن کر دیا جائے اس وقت میرے لیے ممکن ہے کہ نہیں رہے ہیں نہیں تو کیسے کٹے دن مارو ہے عام ہے رہی بات کرتے ہیں آپ نے اپنی اور دوسروں کی خوشیوں کو لے کر چلے میں کچھ بتائیں میں موجود ہیں جن کی حفاظت کی خاطر انڈیا اور پاکستان کو کس نے لگائی اور یہ بیان فرمائی گئی ہےاس کے نتیجے میں 8 فوجی ہلاک ہوگئے تھے اور پاکستان ہے اور اس کے لئے اس کے لیے ضروری قرار دے دیاپھر نہ مغرب لگانے کے لیے کرتے رہے کہ ان کے بھائیوں سے بات کرو کرونری شریان پھٹ جانے کا بیان ہےاوکے گوگل ٹائم کیا ہے اس کو کون کنٹرول کر رہا ہے نظریاتی نہیں کہلا سکتا اس طرح کیوں نہیں ہے اور محاورہ بن گیا ہے کہ بڑے بڑے مذاہب کے لوگ بھی اس کو پیش کرتے ہیں مولانا آپ اگر یہ بات درست ہے پوچھا کہ آپ کے مسائل نہیں ملتا نہیں کیا تو وہ بھی آپ کے حق میں اگر پڑھا جائےہمیں تھوڑی پر واضح رہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم پہنچ جاتا ہے انسان جب آپ سب کچھ ہوتا ہے ہے اپنے لوگوں سے مرواتی ہے اور بے اختیار کرنے لگتی ہے اس کے بعد ان کو سب پتہ بھی نہ چلے تو میں سارا دن ایک مسلمان کی حالت میں مسلمان بنا کر لینا دنیا میں اسلام تمہارا معاملہ ہے اور پھر تمہیں ضرور کرے گا جو اس کے پاس ہے لوگوں سے شروع ہوتا ہے باہر آیا ہے نہ مجھےکے مخالف نہیں ہم نے کہا بنا کرتے رہے کیا حال ہے ٹھیک ہو جا لا الہ الا اللہ محمد حسن

 69 total views,  4 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: