Friday Sermon – Khalifa IV – 27-01-1984




Friday Sermon – Khalifa IV – 27-01-1984

 خطبہ جمعہ خلیفۃ المسیح الخامس مرزا طاہر احمد

Friday Sermon 27-01-1984

شریف محمد بن عبد اللہ ہے من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ اللہ کا رب العالمین الرحمان الرحیم تکبیر اولی نومۃ علیہم غیر المغضوب علیہم والضالین علی یاد آمنوا اجتنبوا اصول اعتبار باوا ان للہ وان الیہ سلگ دہ یہ ان سمع والبصر والفؤاد اللٰہ پاک ان انہوں نے 16 کسے ہوئے مموں کو آگے تک پہنچے جو ممنوع ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند فرمایا ہے تو اس کے لیے جگہ خالی تھی اور بیچ میں سے بھی گئے ہیں اور ان خالی جگہوں سے انسان دوزخ کے عذاب کو پورا کرے جو پیچھے آنے والے ہیں ان کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ آگے آنے والوں کو تکلیف دی ہیں اور ان کے کندھوں پر سے گزرتے ہوئے اور کہیں تو کرتے ہوئے آگے آئیں لیکن دوسرا پہلو جو ہے وہ اور بھی زیادہ قابل ذکر ہے کہ منتظمین نے کوئی ایسا انتظام نہیں کیا ہوا اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو بیچ میں بیٹھے ہوئے خدام جن کو معلوم ہو کہ ہمارا یہ کام ہے یا انصار بغیر آواز کے بغیر بولے ان کو روکنے اور یہ بہت اہم بات ہے ایک منظم جماعت کے لئے ہمیشہ مستعد رہنا چاہیے اور اس قسم کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کی طرف توجہ رکھنی چاہیے بیان کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ صفات باری تعالیٰ کا نظام شام بہت ہی گہرا اور مربوط نظام ہے اور ہر وقت ایک دوسرے سے ملتی ہے اور چلی جاتی ہے اور اس کا تعلق رہتا ہے ہے اس کے برعکسبعض تبدیلیاں پیدا ہوتی ہے ہیں اور جس طرح اس دفعہ صنعت کا آپس میں تعلق ہے اسی طرح کی ہے آقا بھی آپس میں تعلق ہے ہے کہ باری تعالی اگر کسی جگہ کو چھوڑ دیں تمہیں خلا پیدا ہوتا ہے ہے اور خلافتیوں سے بھرا جاتا ہے جس طرح روشنی کے افسران سے تاریکی وہاں پیدا ہو جاتی ہے تو اس لیے رکھتے ہوئے الہی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ صفات باری تعالی کی طرف بہت گہری توجہ نے وہی صفات جب انسان کے سانچوں میں ڈھلتے ہیں تو اخلاق حسنہ بن جاتی ہیں اور جب وہ انسان ان سے محروم ہونا شروع ہو جاتا ہے تو اخلاق صحیح ہو جاتے ہیں ہیں اس پر میں نے اس کو اور اس کے برعکس جو صفا کے ہیں یہ ہیں ہیں ان کو آج کے خطبے کے لیے موضوع بنائے ہیں ہی معاف کرنا بھی ہے لیکن اس کے اصل معنی ہیں موجود ہی نہیں تھا کو قراردیابے ہے کرنے والا وہ گناہ کرتے ہوئے بندوں پر نظر رکھتے ہوئے بھی ایسا سلوک فرماتا ہے جیسے اس نے کچھ دیکھا ہی نہیں اس کا نام ہے پیدا ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے جو خود کسی بندے سے افضل کا سلوک کرے اس کی فطرت کے خلاف ہے کہ وہ اس کی وردیاں لوگوں تک پہنچائے آتا ہے کہ آپ نے کبھی وہ بیان نہیں پہنچنے دیتا ہے خود شرم آ جاتا ہے کیسے ممکن ہے کہ وہ دوسروں تک نبیوں کو پہنچائے تو اس کے نتیجے میں ستائیس پیدا ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں براہ راست اور ایک تاریخ دان کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اگر نہ ہو تو سب سے پہلے دن اس کی جگہ لے لیتا ہے ہے یعنی جو برائیاں نظر نہیں آرہی ہیں ان میں بھی انسان شروع کر دیتے ہیں کہ یہ بھی ہوں کیونکہ لڑائی دیکھنے کا شوق ہوتا ہے جس کا ہوتا ہے لطف آتا ہے کسی کی دنیا دیکھنے کا تو جواب دیا نظر نہیں آتی تو آج جو غلطی پر چکی ہے جس کا پورا کرنا ہے پھر وہ جن کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے یہاں یہ نظر تو اس کے پیچھے ضرور کوئی خرابی موجود ہے کہ مجھے نظر نہیں آئی اور اس کو آگے بڑھ کر انسان کا اچھا نظر نہیں آئی ہوگی تو ضرور تو کیوں میں تلاش کرو خود نکالو اور ایسے لوگ دوسرے کو کیوں دیا تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں اور دوسرے پہلوؤں پر کے میں پھر یہودیوں کو دوسری جگہ پہنچاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پھر دوبئی اگر پیدا ہوتی ہیں ایک غیبت کی اور ایک چوری کی کی بات کہتے ہیں ایسی بات کو جو کسی کے غیب میں کی جائے یا نہ طور پر کسی کے متعلق کہیں جائے اور وہ بات ایسی ہو کہ اس سے دوسرے کو دکھ پہنچے گا اگر وہ سن لے تو اس کو تکلیف پہنچے مجھے جو بھی بات کی تعریف فرمائی ہوتا ہے اس بات کو نہیں کہا جاتا کہ کسی کے متعلق جھوٹی بات کہی ہیں اس بات کو کہا جاتا ہے کہ سچی بات کہی ہیں لیکن وہ بات ایسی ہو کہ جس کے نتیجے میں اسے دکھ پہنچتا ہوں ہو اگر غائبانہ کی جائے تو اس کا نام ربط ہے ہے اور اگر موجودگی نے کی جائے تو اس کا نام دل آزاری ہے اس بارے میں لکھتے ہیںپہلے تو وہی بات کر رہے تھے اب دل آزاری بھی کرو گے تو بتائیں ہم بہرحال نہیں ہے کہ غائبانہ تو نہ کی جائے لیکن سامنے کی جائے جب دکھ سے بچانا مقصود ہے سوسائٹی کو تو لازم نائب کی بات ہوئی حاضر کی بات ہو تو ناجائز ہیں اور اور اتنی تفصیلی تعلیم دی ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں کار جہاں پہنچتا ہے وہاں امروز صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پہنچی یا یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اس طرف مبذول فرمائی اور آپ نے اس کے متعلق نصیحت فرمائی بچے کے نتیجے میں میں ایک اور برائی پیدا ہوتی ہے وہ بھی دکھ پہنچانے کا مفہوم اپنے اندر ہوتی ہے یعنی چوری تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رب تمنا ہے یہ لیکن اگر کوئی کسی کو غیبت کرتے ہوئے سنے اور وہ اس بات کو اس شخص تک پہنچا دے جس کے متعلق ہی گئی تھی تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی کسی کی طرف دیکھیں گے اور تیر نشانے پر لگے اور وہ اس کے قدموں میں جا گرے اور کوئی شخص اس کے قدموں سے تین اٹھا کر اس کے سینے میں بھونکتے کہ میں نے اس کا مقصد پورا کر دیا ہے ہے کیونکہ دل آزاری منع ہے بنیادی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ دل آزاری گناہ ہے کسی کو دکھ دینا منع ہے کسی کے گناہوں پر نظر رکھنا منع ہے گناہوں سے حیات کے کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اس لئے وہ تعلیم سب جگہ جاری ہے وہاں صرف نظر آتی ہے ہے اور جہاں اس کا سودا ہوتا ہے اس کے نتیجے میں بدیاں پڑتی ہیں اور بدیوں میں بھی اسی طرح شاہ حیدر شاہ ہی برائیاں آگے بڑھتی چلی جاتی ہے یہ ہاں تو سال خاندانی فساد کسی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے ہے کتنا دکھ پہنچایا ہے ہمارے معاشرے کو اس گندی عادت نے نے اور یہ گندی عادت ایسی دوری انسانی مزاج میں داخل ہوچکی ہے کہ صرف ہندوستان اور پاکستان کا سوال نہیں تمام دنیا میں یہ اندر موجود ہے اس نے رکھا ہے ہے باہر کی دنیا جو مصروف ہو چکی ہے جو اقتصادی لحاظ سے آگے بڑھ گئی ہے جن کے پاس وقت نہیں رہا ان کو بھی جب وقت ملتے ہیں تو وہ ضرور کرتے ہیں یہ ضرور کرتے ہیں عالمی بیماری ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی طور پر اللہ کی صفت اور موصوف کو دھتکار دیا گیا ہے اس سے غفلت کی گئی ہے اس کی جا رہی ہے ہے اور جب سے نفرت کی جائے گا خود میں بیان کیا تھا اللہ تعالی کا اسی حد تک بندہ کم ہو جائے گا کہ جو لوگ آپ فون نہیں کرتے وہ آپ کے سلوک کی حقدار نہیں رہتے جو لوگ ستاری نہیں کرتے وہ خدا تعالیٰ کی صفات دے ستاری کے حقدار نہیں رہتے اس کی رحمت اور اس کی بلی کے حقدار نہیں رہتے تھے تو ساری دنیا میں دو طرح سے ان دو گندی گندی صفات میں مصیبت ڈالی ہوئی ہے کے ساتھ ایک براہ راست کی بیماریاں معاشرے کو قسم کے دکھ میں مبتلا کر رہی ہیں اور اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس نہ خالی ہو جاتا ہے ہے اس کی ریس یہ معاشرہ خالی ہو جاتا ہے ہے اور انسان کی غلطیوں کے نتیجے میں جو ملا رحمت کا سلوک فرماتا ہے اس کی تقدیر خاص کو بچاتی ہے مصائب سے وہ تقدیر خاص عمل کرنا چھوڑ دیتی ہے ہے اس لیے بہت ہی اہمیت دینی چاہیے جماعت کو ان باتوں کی طرف حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو غیبت کے متعلق تعلیم دی اور اس سے ملتی جلتی برائیوں کے متعلق چند احادیث کا انتخاب کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ میں ہی جماعت کو یاد کرو گے ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو محبت کیا ہوتی ہے ہے صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں ہیں فرمایا تو اپنے بھائی کا اس انداز سے ذکر کرے جسے وہ پسند نہیں کرتامیرے بھائی میں پائی جاتی ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ بات جو تو نے کہی ہے تیرے بھائی میں موجود ہے تو تونے اس کی ہے اگر موجود نہیں تو نے تو اس پر بہتان باندھا ہے ہے اس لیے بہتان اور غیبت کا فرق ملحوظ رکھے ہمیشہ جھوٹی بات کو نہیں کہتے ریبدت سچی بات کو کہتے ہیں لیکن وہ سچی بات جو دکھ دینے والی ہو ہو چی من میں بسا اوقات آپس کی بحث کے دوران عطیہ کرنا بھی سنیں گے دور کرنے والوں کے درمیان میں جھوٹ بولوں کہ نہ سچی بات ہے وہ کہتی ہے میری عادت ہے میں بڑا صاف گو ہوں اور سچی بات نہیں مانتا ہوں ایسے صاف گو پر خدا تعالیٰ کے رسول نے نہ ڈالی ہوئی ہے ہے اور فرمایا ہے کہ ملالہ کو پکڑے گا اور بڑی سخت تہذیب فرمائی ہے بڑی سخت اس کے متعلق زار کی پیش گوئی کی ہے اور نقشہ کھینچا ہے کہ ایسے سام لوگ وہ لوگوں سے قیامت کے دن کیا سلوک ہوگا تو اس کا یہ مطلب یہ تصور بالکل جھوٹ اور ماتھے اور جاھلانہ تصور ہے کہ جو بات دکھ پہنچانے والی ہو کسی کے منہ پر ماری ہے ایسا بولو خلاف کوئی پتہ نہیں ہے اس لیے جماعت احمدیہ میں اسے صاف لوگ نہیں چاہیے ہمیں ایسا بولو کہ میں تو ویسے آپ بولو کیا ہیں جیسے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ صاف کون ہو سکتا ہے لیکن آپ دوسروں کی باتیں لوگوں تک پہنچانے سے ترازو فرماتے تھے اور اس سے منع فرمایا کرتے تھے اور دکھوں کی باتیں لوگوں تک کرنے سے لوگوں کے متعلق کرنے سے احتراز فرماتے تھے اور مجھ سے منع فرماتے تھے تو آپ نے فرمایا کہ تو نے اسی بات کی ہے اگر موجود نہیں ہے ہے ہے ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد درج ہے کہ جس کے پاس اس کے کسی مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اس کا اندازہ کرکے اس کی مدد نہ کرے مجھے مدد کر سکتا تھا تو اس کا گناہ دنیا و آخرت میں اسے بھی پہنچے گا گا ہم نے تو خود کسی کے خلاف برائی نہیں تھی ان کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انہوں نے بھی گناہ سہ پا لیا یا اگر تم سنتے ہو اور منع نہیں کرتے کتے اور برا نہیں مناتے یہ اپنے بھائی کا دفاع نہیں کرتے تو ایسی صورت میں غیبت کے گناہ میں تمہیں سردار ہو گئے یا پھر سنو نبی داؤد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جب مجھے معراج کے لیے لے جایا گیا یا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے تھے میں نے جبرئیل سے دریافت کیا یہ کون ہے تو اس نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے تھے اور ان کی آبرو کے پیچھے پڑے رہتے تھے تھے یہاں تجسس جس کا بھی ذکر فرما دیا یا کسی کے متعلق ایسی باتوں کی تلاش کرنا کہ وہ بے آبروئی کا موجب بنے اور پھر غیبت کر کے لوگوں تک پہنچانا یہ بڑا ہی خطرناک ہیں کہ ان کی سزا جو خلاصہ نے تجویز فرمائی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے روز دکھائیں گی احمد بن حنبل کی ایک اور حدیث ہے کہ حضور نے فرمایا اے وہ لوگو جو زبان سے تو ایمان لائے ہو مگر دل میں ایمان داخل نہیں ہوا تو مسلمانوں کی ذلت نہ کیا کرو کرو اور ان کے عیوب اور ان کی کمزوریوں کا پیچھا نہ کیا کرو ان کی ٹوہ میں نہ رہو کہ جو شخص ان کی کمزوریوں کا پیچھا کرے گا اللہ تعالی اس کی کمزوری اور اس کے عیب کو کس طرح ظاہر فرما دے گا کہ اسے خود اس کے گھر ہی میں رسوا کر دے گا گا نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے اور محیط الایمان فی قلوبکموحید کرنے والے ہیں ایسے لوگ ہیں جو لوگ اپنے بھائیوں کی برائیوں کی تلاش میں رہتے ہیں پھر ان کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں ہیں کتنی خطرناک بات ہے بھی برائی سے آپ اندازہ کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قرآن کریم کی ایک آیت کی اور بتاتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن کریم میں فرمایا کہ ایمان و ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا ان کے اعمال کیسے ہوتے ہیں اور ہم ان سے ان کو پہچان لو وہی بات کرنے والے لوگ ہیں اور بھائی کی بچیوں کی تلاش میں رہنے والے اور ان کا تجسس کرنے والے لوگ ہیں اور فرمایا کہ دنیا میں بھی اللہ تعالی ان کو رسوا کرے گا اس کی سزا دے گا گا نے ایک موقع پر فرمایا یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے ہے کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ایک دوسرے دن میں تین بار اور ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو کھو ایک دوسرے کے پیچھے برائی نہ بیان کرو کسی کے سودے پر سودا نہ کرو ایک دوسرے کی کے بھائی رہ کر اللہ کے بندے بنو مسلمان مسلمان کا بھائی بھائی بھائی ہے نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے نہ اس کی توہین کرتا ہے تقوی کا مقام تقوی کا مقام دل ہے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا انسان کی شہر اور اس کی بدبختی کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقارت سے دیکھے ہر مسلمان پر حرام ہے کہ وہ کسی مسلمان کا خون بہے یا اس کا مال ضائع کرے یا اس کی آبرو ریزی کریں حضرت عثمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ غیبت اور چغل خوری ایمان کو اس طرح کاٹ دیتے ہیں جس طرح چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کے سامنے درختوں کی شاخیں کاٹ کر ان کو ان کے سامنے ڈالتا ہے ہے آپ نے دیکھا ہو ایسا درخت جس کو ہم چلے نہیں کاٹ کر بکریوں کے سامنے ڈالا ہو تو اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان فرما رہے ہیں میں مر گیا تو میں حرام ہے یہ دیکھ کر کہ جو زندگی گزاروں کے طور پر درخت تھے وہ پہچانے نہیں جاتے ہیں کیا حال ہیں لگتا تھا جیسے کوئی بالکل گیا ہے ان کے اوپر میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو کوئی آئے تو لگتا ہے کہ یہ قیامت ٹوٹ گئی ہے اور سب ٹھیک ٹھاک ہیں کہیں تو اس نے بتایا کہ میں نے چرواہوں کے پاس ان کو اس طرح اس پر بیٹھا تھا کہ تم ہی باقی رہ جائیں اور سبزی منڈی کے ساتھ ہی نہیں ہوتا کے لیے گئے اس طرح چلو آئو کرتے ہیں درختوں کے ساتھ جب ان کو موقع مل جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقشہ کھینچا کے جو غیبت کرنے والے اور چور نہیں کرنے والے لوگ ہیں وہ اپنے مکانوں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں اور پھر اس کی تفصیل اور اس طرح بیان فرمائی آئی کہ انسان اپنے اعمال نامے کو قیامت کے دن کھلا ہوا لائے گا اعوذ کی دنیا کے اے میرے رب میری فلاں فلاں نے کیا کہا گی وہ بھی تو میں نے کی تھی جس طرح دیکھتے ہیں چیک کرتے ہیں اس کو کھا ملے گا اعمال میں بہت سی طبّی خوبیاں بہت سی لڑکیاں درس نہیں پائے گا آج کرے گا کہ یا اللہ مجھے یاد ہے میں نے یہ بھی کیا تھا وہ بھی کیا تھا ان کا تجزیہ کرنی ہے تو اللہ تعالی اس کا جواب دے گا وہ تیری طرف سے لوگوں کی غیبت کرنے کے نتیجے میں مٹا دی گئی کیسی تیاری مثالیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح چرواہا درختوں کے ساتھ سلوک کرتا ہے میں رب کو ڈالنے کے لیے محبت کرنے والے اپنے ایمان و کے ساتھ سلوک کرتے ہیںاب جو قیامت کے دن جو خلوت فرمائے گا وہ دنیا میں کتنا رونما ہوتا ہے واقعہ اس کا نقشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اتنا مربوط مضمون ہے اور حدیث کی صحت کے لیے یہ اندرونی میں سب سے پہلی گواہی ہے ہے اپنی شکل و صورت سے اپنی اندرونی اور بیرونی خوبیوں سے کس طرح سارا مضمون ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلا جارہا ہے ہے ہے ایک موقع پر فرمایا آیا کہ زیبت زنا سے بھی بری حرکت ہے ہے ہے کو نہیں بخشے گا جب تک کہ وہ نہ بخش کی زندگی گئی ہے ہے یہ پہلو ہے جس سے بدن اسے بھی بن جاتی ہے ہے انسان کا واسطہ سر بسر ہے تو اس کو کوئی خوف نہیں ہے نا mf19 میں تو صرف اللہ ہی کا ہے لیکن وہ رحم کرنے والا اور بخشنے والا ہے کہ انسان اپنے رب سے رحم اور بخشش کی بہت زیادہ امید رکھ سکتا ہے بنسبت ایک انسان کے کے بعد دفع بڑے ظالم لوگ ہوتے ہیں ان کے ہاتھ میں اگر بخشش کا معاملہ چلا جائے تو وہ تو خون چوستے اور کبھی بس نہ بچنے کے اوپر آمادہ نہ ہو اس لیے ان معنوں میں وہ گناہ جن کے بچنے کا معاملہ انسانوں کے ہاتھ میں چلا جائے وہ بہت بڑے گناہ ہیں ان کو کے بعد میں مقابلے پر جن راہوں کے بچنے کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں رہتا ہے ہے ہے ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ محبت کر بیٹھے ہیں بڑی کثرت کے ساتھ اور روز کرتے ہیں اور بطور سالن استعمال کیا جاتا ہے بدھ کو ان کے لئے کفارہ کیا ہے ہے ہے ہے تو ان پر فرماتے ہیں ہیں یہ مشکاۃ المصابیح درس حدیث گئی ہے ہے اور ان کا کفارہ یہ ہے کہ تو اس شخص کے لئے بخشش طلب کرے جس کی جتنی بھی مذمت کی ہے اور اس کے لئے دعا مانگتا ہے اللہم مغفرلنا باقی عمر ربط کے بد اثرات سے بچنا ہے تو پھر اس کے لیے دعا کی طرف متوجہ ہوں اور یہ ایک بہت ہی عمدہ ذریعہ اصلاح ہے ہے یہ صرف کفار ہی نہیں بلکہ غربت سے بچنے کی ایک بہت ہی پیاری ترکیب ہے ہے ورنہ جس کو رب کا چسکا پڑ چکا ہوں اس کا اس سے باز رہنا بہت مشکل کام ہے لیکن جس کی بھی وضاحت کرتے ہیں زیادہ صبح اس کے لئے دعا شروع کردیں اور کفارے کی دعا شروع کر دیں تو دعا آپ کے اندرونی کیفیت کو بدل دے گی یہ ممکن نہیں رہے گا آپ کے لیے خطرہ تھا ایک طرف اس کے لیے دعا کر رہے ہیں اپنی بخشش کی خاطر اور اس کے لیے بھی کر رہے ہیں یہ ترکیب ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی گئی ہیں اور برائیوں سے بچنے کا علاج بھی ہے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دو اقتباسات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ہو حضور فرماتے ہیں میری بات کرنے والے کی نسبت قرآن کریم میں ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے ہے عورتوں میں یہ بیماری بہت ہے ہے یہی اور پھر صبح اٹھ کر کام شروع کر دیتی ہیں لیکن اس سے بچنا چاہیے ہے ہے وہ جو آیت میں نے شروع میں تلاوت کی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا ترجمہ فرمایا ہے میں وہ جماعتیں پڑھ کے سنا دو میں نے جو آیت تلاوت کی ہے یا ایہا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظنالزام مت لگاؤ جس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں اور یاد رکھو کہ ہر ایک اس سے مواخذہ ہوگا اور کان آنکھ دل ہر ایک سے پوچھا جائے گا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں دل تو اللہ تعالی کی سندھی ہوتا ہے اور اس کی کنجی اس کے پاس ہوتی ہے کسی کو کیا خبر کہ اس کے اندر کیا ہے تو خواہ مخواہ اپنے منہ میں ڈالنا کیا فائدہ شریف میں آیا ہے کہ ایک شخص بڑا گناہ گار ہوگا google اس کو کہے گا کہ میرے قریب ہو جا یہاں تک کہ اس کے اور لوگوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے پردہ کر دے گا اور اس سے پوچھے گا کہ تو نے فلاں گناہ کیا قرآن گناہ کیا لیکن چھوٹے چھوٹے گناہ آئے گا ہیں یا میرے اللہ یہ گناہ بھی مجھ سے ہوئے ہیں تو خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ اچھا آج کے دن میں نے تیرے سب گناہ معاف کیے اور ہر ایک گناہ کے بدلے دس نیکیوں کا ثواب دیا یا تو وہ بندہ سوچے گا کہ جب ان چھوٹے چھوٹے گناہوں کا دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے تو بڑے بڑے گناہوں کو تو بہت ہی ثواب ملے گا گا ہے پھر اسے حکم دے گا کہ جہاں بہشت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو جائے تو کیا خبر ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس سے کیا سلوک ہے یا اس کے دل میں کیا ہے اس لئے بند کرنے سے بالکل پرہیز کرنا چاہیے یہ جو حدیث ہے اس سے پہلے ایک اور روایت سے بھی آئی ہے مختلف الفاظ کے ساتھ اور وہاں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے تعلق قائم کیا تھا اس کا تعلق ہے جو دنیا میں سب سے پیش آتا ہے اور لوگوں کے گناہوں کا ذکر نہیں کرتا دوسروں سے سے اور پردہ پوشی سے کام لیتا ہے خدا یارو فرمائے گا میں ایک عورت رہی ہیں روایات بیان ہوئی ہے یہ مضمون ایک اور تعریف پر بیان ہوئے حضرت مسیح علیہ الصلاۃ والسلام نے وہ مضمون پیش نظر رکھا اور آخر پر غیبت کا مضمون اس سے بند ہے بڑی عجیب طریقہ پر آپ کا منشا یہ مبارکہ ہے ہے کہ اللہ تعالیٰ دلوں سے اپنا تعلق ایک سلوک ہے اور وہ دلوں کی اندرونی کیفیات کو جانتا ہے تمہیں بسا اوقات ایک انسان کے گناہ تو نظر آ جاتے ہیں لیکن تم یہ پتا نہیں کہ وہ گنہگار آدمی اپنے دل میں کیا کیا محبت ہے اپنے رب سے رکھتا ہے ہے اور کیا کیا ہے ہے تم نہیں ہو دونوں جہانوں کا مالک رب العالمین ہے جواب وہ ہے جو ستارہ ہے یوں فور ہے جو نہیں ہے وہ بعض دفعہ ایسے گنہگار لوگوں کے دلوں کے پر نظر رکھتے ہوئے ان کی بعض ایسی خوبیوں پر نظر کرتے ہوئے یہ فیصلہ بھی فرما لیتا ہے کہ ان کی نیکیوں ہیں کہ انہیں ان کی بچیوں کا میجر کا اچھا چل اور تم اپنی بدبختی میں اس کے متعلق بڑی باتیں کرتے رہتے ہو برے لوگ بولتے رہتے ہو اس کے متعلق دل آزاری کی کوشش کرتے رہتے ہو تو دل پر کھلا کی ایسی پیار کی نظر بھی پڑھ سکتی ہے کیوں تم گناہ میں ملوث ہوکر اس دن کے متعلق بڑی باتیں کرتے ہیں معرفت کا نقطہ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا اگرچہ بظاہر یہ جو بات نظر آتی ہے جو سر سے اس بات کو دیکھنا سے کیا تعلق ہے اس لیے جماعت احمدیہ کو ان باریک باتوں پر نظر رکھنا چاہیے جو خوف سے ڈرنے والے لوگ ہیں ان کے لیے وہ حدیث کافی ہے کہ قیامت کے دن لوگوں سے کیا سلوک ہوگا اور جو نرمی اور محبت اور پیار سے ماننے والے لوگ ہیں وہ ان باتوں پر نگاہ کریں ہم تو اللہ تعالی کی رحمت کے بھوکے اور اس کے فقیر ہیں اور کوئی انسان نہیں ہے بڑے بڑے اعمال والا بھی جو اللہ تعالی کی رحمت سے مستغنی ہو سکے اس کی بخشش کے مقصد بھی ہو سکے اس لئے ان باتوں کی کوشش کریں نہیں کروں گا میسج نہیں کروں گا لیکن کچھ ایسا چسکا ہے ایسی مصیبت ہے یہ بیماریانہیں سینے میں داخل ہوئی اور کتنی عدت ہے خصوصاً عورتوں میں کہ وہ برداشت نہیں ہوتا ان سے کسی کی برائی دیکھے یا سنے اور واقعہ کو دیکھ کر کچھ کرنا بھی بہت بڑی بات ہے لیکن سن کر پہنچا تو اس کی بھی بن جاتا ہے اور بھی بن جاتی ہے اور پھر پورے کرنے کے لیے وہ پھر زندگی کرتی ہیں اور من گھڑت باتیں بنا کر بہتان میں بھی داخل ہوجاتی ہے اور یہ بیماری ہیں مردوں میں بھی آتی ہے ہے اور اس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے کا بہت برا حال ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قرآن کریم سے ثابت ہے کہ یہ بیماریاں قومی شکل بھی اختیار کریں اور جب یہ قومیں شکل اختیار کر جائیں گے اور قوموں کے تعلقات میں داخل ہو جائے گی تو پھر انسان کی ہلاکت کا انتظام کیا جائے گا گا ہے اس لیے کوئی معمولی بات نہیں اس کو سمجھائیں کیا فرق پڑتا ہے اگر تھوڑا سا اٹھا لیا تب باتیں کسی کے متعلق کہہ کر کہ انفرادی بیماریاں قومی بن جاتی ہیں معاشرتی بن جاتی ہیں پھر اگے پھیل کر بین الاقوامی تعلقات میں داخل ہو جاتی ہے جیسا کہ چکی ہیں اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وہ ایٹم بم ایجاد ہوگا جس کے متعلق ایک پوری سورت موجود ہے پانے کے لیے مختلف لیکن بڑی تفصیل سے حفظ کرنے والی بہت ہی مضبوط ارادے کے ساتھ اور کبھی فیصلے کے ساتھ اس کے اسمبلیوں کے خلاف جہاد کرنا چاہیے آہی عادت گندی سے گندی چیز کی بھی ہو جب وہ عزت سے پوری نہ ہو تو انسان کو تکلیف پہنچتی ہوتے ہیں یا سیڑھیوں کو کیا ہو گیا ہے کیا بندہ سی چیز ہے کوئی گندی سی جی اور آپ کے اس کے لئے میں گرنے والی لیکن مرتے جاتے ہیں مجھے پتا ہے آج کل کی ہو سے گندی چیز کی بھی ہو جب وہ آج چھٹی ہے تو برا تکلیف کا زمانہ ہوتا ہے ہے اس لیے میں جانتا ہوں کہ تکلیف ہوگی سب کو شروع میں لیکن اس تکلیف کا علاج احمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دیا ہے جب غیرت کو دل چاہے تو اپنے بھائیوں کی برائی کرنے کی بجائے ان کے لیے دعا کریں اور دعا کریں سب کے لئے آپ کو اس کے نتیجے میں آپ کے اندر عظمت کردار پیدا ہوگی آپ کے دل کو تسکین حاصل ہوگی اور کیونکہ پہلا نہیں رہ سکتا صرف وظیفہ دور کرنا کوئی حقیقت ہے خطا اس لیے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق دعاؤں کے ذریعے نبیوں کو دور کریں اور ان بھائیوں کے لیے دعا کیجئے یہ ویڈیو کو ضرور کریں جن بھائیوں کو آپ کی زبان نے اور آپ کے نقصان پہنچاتے ہیں اللہ تعالی رحم فرمائے میں نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ جس شخص کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی ہے ہی نہیں کروں گا میں بات نہیں کروں گا قسمت اس شخص کو بھی بدظن نہیں ہم تجھ سے الگ نہیں رکھتے میں پڑھ کر شروع کر دیتے ہیں کوئی مقدمہ کا فیصلہ ہو تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ اس نے یک طرفہ بات سنی ہے اس لیے یہ فیصلہ ہمارے خلاف دے دیا یا خان سے تعلقات تھے اس لیے اس نے ہمارے خلاف فیصلہ دے دیا جائے تو ایسی بلا ہے زنی کہ جس بات پر بیعت کی جاتی ہے کہ ہم وزن ہی نہیں کریں گے اور کوئی بات نہیں کریں گے اسی ھاتھ کو گزرنے کے چاقو سے کاٹا جاتا ہے اس لیے بہت مستفید ہونے کی ضرورت ہے اور بہت دعاؤں کی ضرورت ہے ایک مہم کا عالمی سطح پر جماعت کا آغاز کر دینا چاہیے اور بندہ نہیں کریں گے تو نہیں کریں گے اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے آئے آئے آئے آئے استغفراللہفلا ہادی اللہ اللہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا شریک لہ واشہد ان محمد عبدہ و رسول کی طرف توجہ دلائی تھی آج پھر انہیں دعائوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں ایک تو بارش کے لئے دعا جاری رکھیں اپنے ملک کے لیے بھی اور دوسرے دنیا کے ممالک کے لئے بھی یہاں کچھ مثالیں ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے گزشتہ جمعہ جو ہم نے دعا کی تھی خاص طور پر عنہ کے متعلق بہت فکر تھی وہ جماعتیں بھی بڑی تعداد میں ہیں اور دردناک واقعہ مل رہے تھے تھے یہ فضل فرمایا ہوئی اللہ تعالی نے بڑی وسیع بارش فرمائی ہے ملک میں اور بہت دل خوش ہو ہی عرصے میں شریک ہیں ان کے متعلق دوا جاری رکھیں اسی طرح کے متعلق بھی خاص طور پر دعا جاری رکھیں بہت ہی پیار اور محبت ہونی چاہیے قوم کے لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تشریف لائیں اگر سچا اس کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی قوم سے محبت ایک بات ہے ہے عمل ہے کہتے ہیں لیکن کے کتے سے بھی مجنوں کو پیار تھا کہ ہم غموں سے ہمیں پیار نہیں ہو سکتا اس لئے عربوں کے لیے بالخصوص بہت درد سے دعائیں کرتے رہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے حالات بدل دے اور ان کی طرف سے خوشبو کی خبر پائی والا القربان ارفع

 60 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: