Friday Sermon – Khalifa IV – 03-08-1984




Friday Sermon – Khalifa IV – 03-08-1984

خطبہ جمعہ خلیفۃ المسیح الخامس مرزا طاہر احمد رح

Friday Sermon 03-08-1984

ماشاء اللہ ماشاء اللہ ہم وقتعبادات رات اور شاعر سے روکا جا رہا ہے ہے اس کی بڑی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ تم ہماری نقالی کرتے ہو اور ہم تمہیں اپنی نقالی کی اجازت نہیں دے سکتے کتے میں کبھی اس واقعہ سے پہلے نہیں ہوا کالی کرنے کے جرم میں میں آگ لگا دی گئی ہے ہے صرف ایک مذہب میں واقع ہے ہے ایک مذہب میں ایسا واقعہ گزرا ہے ہے کہ جس میں نفرت علی کے جرم میں بعض لوگوں کو سزائیں دی گئیں z0bi گی گی ہے ہندو مت میں جو مختلف ذاتوں کے تصور ہیں ہیں ان کی رو سے جو برہمن کو عبادت کے حقوق ہیں وہ سوداگر کو حاصل نہیں ہیں اس لیے وہ جو برہمن کی عبادتیں ہیں ان میں اگر شوہر بھی شامل ہو جائے آئے اور وہی باتیں شروع کر دیں جو برہمن کرتے ہیں ہیں تو اس کے لیے مقرر ہے بلکہ کی سزائیں مقرر ہیں ہیں اللہ کا ذکر اس طرح میں تو نے جس رنگ میں برہمنوں کے لیے سننے کا حکم ہے کیا جائے گا گروہ وہ دیکھے ان باتوں کو جن باتوں کو برہمن کو دیکھنے کا حکم ہے تو اس کی آنکھیں بھی کر دی جائے گی ابراہیم کا مذہب اور ہے اور ان کا مذہب اور یہ سارے ہندو مذہب کے تابع ہیں ہیں اس میں ایک مثال ہے لیکن ایک وقت تھا ایک ہی مذہب کے لیے ان کے اندر دو مختلف طبقوں کو تعلیم دی گئی ہے ہے یعنی یہ نہیں کہا گیا اچھے کام کی تعلیم نہیں ہے بلکہ ایک مذھب کے دو ہفتے بنا کر ان کے صوبے میں الگ الگ ہی باتیں کی گئی ہیں ہیں لیکن بہرحال اس کی سند موجود ہے ہے ہم سے جو یہ کہا جا رہا ہے کہ تم ہماری نکالی نہ کرو کرو اس کے لیے قرآن حکیم میں کوئی لفظ موجود نہیں نہیں اس کے لیے دیگر مذاہب میں ہندومت کو چھوڑ کر دیگر مذاہب میں بھی کوئی سند موجود نہیں ہیں اور ہمیشہ اس کے برعکس نظر آتے ہیں ہیں اگر اگر کوئی شخص ک نکالی نہ کرے بلکہ مخالفت کرے تو یہ برا منایا جاتا ہے ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں بڑی بڑی سمجھدار قوموں نے ہمیشہ اپنی تہذیب کی نقالی کروا کر حکومت کی ہے ہے اور کس تاریخ کو پسند نہیں کیا حکومت کا عروج تھا تو خصوصیت کے ساتھ یہ اپنی تہذیب کی نقالی کرواتے تھے رنگت ہی بدل سکتے تھے جو کالے تھے وہ خالی رہتے تھے لیکن ہدایت کار صاحب والی ہو جاتی تھی تھی نہ بیٹھنا وہی معیار وہی صبح کے وقت نماز کے لیے اتنا بھی اٹھنے کی تو بیٹی کی خاطر اٹھنا پڑتا تھا آثار یاد آئی اس قوم نے اپنی بیوی کو غلاموں کو غلام بنانے کے لئے اپنے رنگ میں رنگین کر کے کے ایسی تو چیزیں ملتی ہیں رومن امپائر کے متعلق بھی جب عروج پر تھی پتہ چلتا ہے کہ لوگ رومن امپائر کی نقل کی رہنے والوں کی نقل کیا کرتے تھے تھے انگریزی میں ایک محاورہ بھی ہے وائلڈ روندو اور منظور جو میں جاؤ ایسا رومن کرتے ہیں اچھا لگتا ہے اس میں پیدا ہو جاتی ہے ہے تو ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ غیر قوموں نے اپنی نقالی پر مجبور کیا ہو ہو کہاں پے آج کر رہے ہیں ان میں ہندو مذہب کے برخلافکلکتے میں خصوصیت کے ساتھ ایک دفعہ مجھے دیکھنے کا موقع ملا عام طور پر مسلمانوں کی تہذیب و تمدن اور طرحبندی جاتی ہے اور ہندو عورت بنتے ہیں اسی طرح پکڑی کے انداز میں فرق ہے ہے لیکن وہاں مجھے دیکھ کر یہ بڑا دکھ پہنچا کہ مسلمانوں نے ہندوؤں جیسی تباہی شروع کر دی دیا اور انہیں کی طرح پگڑیاں پہننے لگے ہے اور جب میں نے پتہ کیا بعد میں مسلمان لیڈروں سے اس بات پر گفتگو کی تو انہوں نے کہا ہمارا بھی فائدہ ہے ان کا ہی فائدہ ہے ہے وہ پسند کرتے ہیں اس بات کو کو کیوں کہ ہم ان جیسے ہو جائیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں پھر سے کوئی اعتراض نہیں رہتا ہمارا معاشرہ ایک ہو جائے گا گا تو ہندوستان میں بھی اپنے مذہب کے برخلاف عقل والی قوموں سے حاصل کی کی اور اپنے پیچھے چلانے کے لئے وحی رکھا جائے ان کو ان کے اپنے تھے تھے تاکہ ذہنی طور پر یہ ہمارے سامنے ہو جائیں بھائی لیکن یہ ہم سے جو یہ کہا جارہا ہے کہ تو ہماری نکالی نہ کرو اسے میں پہنچتی ہے ہے بہت دکھ ہوتا ہے ہے ہے ہے ہے جس کے اندر کوئی بھی نہیں ہے ظاہر ہے نہ باطن اس سے کوئی تعلق نہیں اس کے مختلف پہلو میں آج آپ کے سامنے کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں کیونکہ عام طور پر جب کوئی غیر مسلمان بھائیوں کو کہتا ہے کہ تمہارا کیا حق ہے ہمارے سوا کوئی بندہ و چھوڑ دو مر نا کیا فرق پڑتا ہے تمہارا مذہب اور ہے تو میں اپنے غیر مسلم کیا ہے تو ہم ٹھہرے جو سادہ لو احمدی ہیں ان کو پوری طرح جواب نہیں پڑتا کہ کیا کہیں دل تو گواہی دیتا ہے کہ بالکل بات کر رہا ہے ہے لیکن مجلس میں دوسروں کو سمجھانے کی خاطر فلکیات ضیاء ہونا چاہیے تھا کیا اس طرح ہونا چاہئے ان باتوں سے باہر ہیں بہرے ہیں ہیں اس لیے ایک تفصیلی تربیت کی خاطر مجھے اختیارکرلی نہیں پڑھ رہی ہیں ہیں کے طور پر ان کو چودرہاہو باری سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کہ اگر کچھ مذہب کبھی پیٹ نہیں ہو سکتا ہوں ہو اور وہ مذہب والے یہ پسند نہ کریں کہ دوسرے اسے اختیار کریں تو ان کو پینٹ کرنا چاہیے مطلب ساری دنیا میں بیٹھا ایک رواج ہے اس کو واپس کریں اور اپنے کروائیں آئی یہ جرمانہ ہو گا اس کو کو مذہب کے قانون کے مطابق میں شامل نہیں سکتی وہ سب کی نقالی کی بجائے دنیا کی قانون کی رو سے ہو سکتی ہے صدا جیسا کہ پی ٹی آئی کی ہو جایا کرتی ہے ہے اور دنیا میں یہ ممکن ہو تو ایسا کر سکتے ہیں ہیں لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم ان کی نقالی کرتے نہیں ہیں بلکہ ان کی نقالی سے ہمیں کہاں آتی ہے ہے کمال کرتے ہو ہو ہم نکالیں کیسے کر سکتے ہیں تو ہم ان کی طرح اذان سے پہلے گانے گاتے ہیں ہیں نہ ان کے باہر پڑھتے رہتے ہیں کچھ اور گھنٹہ گھنٹہ لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں ان کے گھروں کے آرام میں مخل ہوتے ہیں بیماروں کو چاکلیٹ کو جاتے ہیں اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان پر عمل کیا جائے آپ کی سنت پر عمل کیا جائے آج توجہ نہیں دی جا رہی ہیں ان کے دوران کی بالکل مختلف ہیں نہیں صبح فجر سے پہلے آدھا گھنٹہ ہمارے رب ہمیں تو مولوی صاحب خاص طور پر تنگ کرنے کی خاطر بعض دفعہ کی کئی گھنٹے پہلے گانے گایا کرتے تھے اور بعد میں پتا چلا کہ وہ ریکارڈ ہوتے تھے تھے ان کو کیا ضرورت تھی خان صاحب بھی ساتھ ہی ان کا مقصد لوگوں کو تنگ کرنا تھا کسی اور ٹیپ ریکارڈر میں پنجابی کے گانے بھر لیتے تھے اذان سے پہلے اور پھر اذان کے بعد ایک اور گانوں کا سلسلہ اللہ گالیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا کریں تو ہم ایسی سزا نہیں دیتے ہم تو حضرت حافظ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نقالی کرتے ہیں ہیں آپ کی نقالی سے متنفر ہے کراتی ہے یہ بتائیں آپ نے اختیار کرلی ہیں ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صل وسلم سے کوئی تعلق نہیں ہےکوئی بات نہیں کی کی شادیاں ہوتی ہیں نہ بینڈ باجے ڈھول دھکے نہ دکھاوے نمائشی نے اندر ڈالنا نا آپ کیسی ہیں جس سے آپ کو تکلیف ہو رہی ہے ہے ہمارے ہاں بھی لوگ مرتے ہیں نہ ہم کھانے تقسیم کرتے ہیں نہ روینا چالیسویں جو رسمیں ہیں آپ کی ہم نے تو کبھی بھی اختیار کی اس لیے یہ بالکل جھوٹ کا الزام ہے کہ ہم آپ جیسا بننا چاہتے ہیں ہیں آپ ہم سے ناراض ہوتے ہیں ان سے کیوں نہیں بنتے بھول گئے ہیں اس بات کو طبیعت ہے آپ کی جس طرح چاہیں موڑ نے اپنے آپ کو کل تک تو یہ نظام کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہماری طرف نہیں کرتے تو ہاتھ اٹھاتے نماز کے بعد چالیس گیارہویں کیوں مناتے نہیں کرتے کیوں نہیں کرتے تے اور یہ ناراضگی تھی کل تک کہ ہمارے جیسے نہیں بنتے اور ایسا کرتے ہیں کہ دماغ الٹ گیا بالکل یہ تھا کہ ہمارے جیسے کیوں بنتے ہو جھوٹ ہے بالکل ہم تو آپ جیسا نام بنتے ہیں نہ بننا پسند کرتے ہیں ہیں ہم تو وہ بننا چاہتے ہیں جس کو اللہ تعالی نے تمام دنیا کے لیے نمونہ بنایا تھا یا ان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں اور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ کے ساتھیوں کی کی اس لیے اگر آپ کریں نام کا تو سارا الزام جھوٹا ہے ہے اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں سے کون سا دنیا کا قانون ن ی ا شریعت اسلامیہ کا قانون روک سکتا ہے یہ روکتا ہے ہے اور کس حد تک غلامی شروع ہوتا ہے ہے اور کس کو روکتا ہے ہے سارے قرآن کریم میں میں تمام حدیث میں نہ کوئی آیا نہ کوئی قرآن پر عمل کرنے سے منع کیے جارہے ہیں ہیں بلکہ قدر مشترک ہے کہ غیروں کو بلایا جا رہا ہے تالا ہم تو قدرمشترک سے مشرق کی طرف بلانے والے لوگ ہیں ہیں جو تم مانتے ہو ہماری باتیں وہ تو اس پیار کرلو آلو جن میں اختلاف رکھتے ہو تو ہمارا حق ہے جو چاہو سو آپ کرو اپنے منہ سے کہتے ہو کہ یہ تمہاری باتیں اچھی ہے وہ پیار نہیں کرتے اس عظیم الشان مذہب ہے ہیں ساری دنیا کو اس طرح کی دعوت دے رہا ہے ہے اس کا حلیہ بگاڑ کر یہ کہا جارہا ہے کہ یہ قدر اشتراک پسند نہیں کرتا کتا ہے اگر کوئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کرے اور آپ کے پیچھے چلے تے تمہارے لیے اللہ کے رسول نے نہ رکھ دیا گیا ہے ہے کہ اب جو کوئی بھی اللہ کو چاہتا ہے ہے اور جو یوم آخر کی خواہش رکھتا ہے کہ یوم آخر میں وہ نجات دہندہ شمار ہو اس کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے کی پہلی کڑی کریں یہاں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کے لیے نہ مسلمان ہونا شرط قرار دیا گیا نہ کسی فرقے کی شرط رکھی گئی گیا کی قدر مشترک جو ہے وہ بیان فرمائی گئی ایسا عظیم کلام ہے کوئی پہلو نہیں چھوڑتا ہےاللہ کو چاہتا ہے اور یوم آخر چاہتے ہیں اس کے لئے چارہ نہیں ہے اس کے سوا کے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے تو جب تک یہ قانون بنائیں کہ اللہ کو چاہنا جرم ہے ہے اور آخرت کے یوم آخرت میں اپنی نجات پانا نجات گھومنا جرم ہے ہے جب تک دوکان پر سیاست نہ کریں پہلے نہ بنایا جائے اس وقت تک حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے کوئی روک نہیں سکتا کسی کو آیات پر تبصرہ کر آپ جو چاہیں کریں کریں لیکن ہماری کزن سے کاٹنے سے پہلے آیات کی گردن کاٹ نہیں پڑے گی قرآن کریم میں بیان کرنی پڑے گی گی پھر فرماتا ہے ان لوگوں کا ذکر کرکے النبی الامی الذی zaib929 پیروی کرتے ہیں رسول نبی کی یعنی ہیں اپنی کتابوں میں میں پھر تورات و انجیل میں بھی والذین یتخذون من دون اللہ سے مراد صاف پتہ چل رہا ہے کہ اہل کتاب ہیں ہیں کیونکہ مسلمانوں کی دو کتابیں تو نہیں ہے ہے اس سے مراد کون ہیں وہ کون لوگ ہیں جو پیروی کرتے ہیں ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے میں محمد کا نام لکھا ہوا دیکھتے ہیں اور پیشتر اس کے کہ وہ مسلمان ہو جائیں بھائی ان کے دل میں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر وہ آپ کی پیروی کرتے ہیں ہیں اور اس کے نتیجے میں پھر ہم ان کو نصیب ہوتا ہے ہے اور ان لوگوں سے کیا سلوک کرتے ہیں ہیں کیا کہتے ہیں ان کو قرآن کریم میں چھٹی کام بتائے جو کوئی بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے لگے آگے اور اپنے آپ کو آپ کے حضور پیش کر دے امر بالمعروف کرتے ہیں اچھے نیک کاموں کا حکم دیتے ہیں ہیں اور نہی عن المنکر کرتے ہیں ہیں برے کاموں سے روکتے ہیں ہیں اور طیبات کو حلال کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ اچھی چیزیں پاکیزہ چیزیں کھایا کرو اور اس کو گندگی اور فرماتے ہیں جو بات تم نے اپنے اوپر رکھے ہیں ہیں اور گردنوں کے تو کاٹ کے دور کر دیتے ہیں ہیں کے احسانات ہیں ان کے جواب میں ملتے ہیں ہیں فرمایا پھر ایمان لے آؤ او ایسے شخص پر پر ایمان لانا ضروری ہے کیونکہ آخر پر ان ساری باتوں کو بیان کرنے کے بعد فرمایا وہ آمنوا آمنوا باللہ ورسولہ چل رہا تھا اس لئے فرمایا ایسا رسول ہیں سب سے بڑا تمہارا محسن ہے ایسے اچھے کام کر رہا ہے ایسی پاکیزہ تبدیلی میں تمہارے اندر پیدا کرے آمین اللہ ہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ او یومین کلمات ہی مرتبہ والا للہ اس رسول نبی پر ایمان لاؤ جو اللہ پر ایمان لاتا ہے ہے اور اس کے کلام پر ایمان لاتا ہے جب تب ہو اس کی پیروی کرو لعلکم تعقلون تاکہ تم ہدایت آجاؤ او یہ قرآن کریم کا حکم حکم اور بعض حکومتوں کا حکم یہ ہے کہ اس کی پیروی نہ کروآپ کی پیروی کرتے ہیں پہلے نہ میں کوڑی کی پرواہ ہے اپ کی پیروی کی کی ہم تو جس کی پیروی کرتے ہیں قرآن میں حکم ہے کہ اس کی پیروی کرو کرو اس لیے لیے یہ دیکھنا پڑے گا کہ اگر پیروی منع ہے تو کس کس جگہ منع ہے کون کون سی جگہ منع نہیں ہے ہے آنا ہے صلی اللہ علیہ وسلم جب معروف کا حکم دیتے ہیں اگر یہ حضرت علی ہے اور اس سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے تو ایم ریڈیو کے لیے پھر یہ جرم ہونا چاہیے کہ وہ سچ بولیں بلی کے لئے جو ہونا چاہیے انہوں نے ان پر فرماتے ہیں علم کہ وہ اگر چوری نہ کریں جو میں میں جتنی کیا اسلام میں لکھی ہوئی ہیں حضرت محمد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت کے کر کے دکھائیں ہیں ہیں وہ ساری ان میں سے کون سی ہے جنت علی نہیں ہے ہے اور جتنی برائیاں منع فرمائیں ہیں ہیں ان سے بچنا نکالی ہے ہے تو پہلے یہ تو قانون بناؤ کہ پاکستان میں اگر کسی نے کسی کو گالی نہ دیں تو جرم ہوگا اور اگر کسی نے چوری نہیں ہوگا اگر ختم نہیں کرے گا تو جرم ہوگا google.com جو ہوگا اگر غریبوں کی حد تک نہیں کرے گا جو ہوگا اگر شراب نہیں دے گا تو جرم ہوگا اگر سور نہیں کھائے گا تو جرم ہوگا google وہ لوگوں کو حرام نہیں کھلائے گا تو جرم ہوگا ہر نیکی کو قانون اٹھانا پڑے گا یہ نیکی ہم نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وسلم سے سیکھی ہیں اور قرآن فرماتا ہے کہ آپ کیسی ہو تم تم آئندہ کے لیے ہر خیر کا پیمانہ آنحضور کی قسم کھانے سے ملے گا گا نہیں تو نقالی کے بغیر چارہ کوئی نہیں ہے ہے کون سی دنیا کی قوم ہے جو حضور اکرم کی نقالی کے بغیر بھی دنیا میں پہنچ سکتی اور قریب لے سکتی ہے قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ ہر قسم کی تہذیب ہر قسم کی حالات زندگی کی بات ہوئی ان سے وابستہ فرما دیں گی اگر آپ کہتے ہیں اس سے ہمیں تکلیف پہنچتی ہے ہے تو پھر قانون تصویر بنائے آئے کہ جو بھی کہیں گے غیر مسلم ہے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات میں الٹا چلنا ہوگا تب ہمارے دل کو ٹھنڈک پڑے گی گی کرو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولتے تھے اور ہم نے تو تمہیں کافی سمجھ لیا ہے تمہارا حق ہے رسول اکرم کی پہلی کا بولا کرو اور اگر سچ بولو گے تو کانوں میں تین سال کے اندر کر دیا صلی اللہ علیہ وسلم اپنا حق چھوڑ کے غیروں کے لئے لیے تم لوگوں کے حق ماروں تم کون ہوتے ہو کی پیروی کرنے والے ہیں ہیں جب تک ہمارے حقوق نہیں طرف کرو گے ہم تمہیں سمجھائیں گے اللہ علیہ وسلم جان اور عزت کی حرمت ٹائم فرماتے تھے اس لیے تم کون ہوتے ہو کہ جان اور عزت کی حرمت قائم کرو کرو یہ شکلیں ہیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کام پھر آپ کیا کرتے ہیں ہیں کدھر لوگوں کو بلاتے تھے تھے تو سارا اسلام توڑ کر آپ کہاں سے نظر آ گئی ہے ہے یا مسلمان کہلانا کہاں سے آ گیا کہ گیا ہی تو چیزیں ہیں وہ اسلام کی کی وجہ بتاتا ہوں کیوں باقی سے بھول گئی اس لیے کہ نہیں کرتے ہیں وہ تو آپ نے کیا ہو رہا ہے ایک مولوی نے اذان دی اور جماعت کھڑی کردی اور مسلمان قیدی اپنے آپ کو جب کوئی فائدہ نہ ہو اس میں کون سا مشکل کام ہے ہے تو مشکل کام تھے ان سے ہمیں نہیں وہ کرایا نہیں ہوتے ہو وہ خود کرے تو پھر کہنا ہے کہ مانتا نہیں کرتے ہو سے باز نہ آئے تو پھر کہنا ہے کہ ہماری نقالی کرتے ہواور قتل و غارت اور چوری اور ڈاکے کی سارے کام ہو رہے ہیں تو ان سب کاموں میں ہمیں کیسے روکیں گے آگے اگر وہ کہیں گے تو آپ تو کرنی ہے کام ہے اس میں بڑی آسانی کے ساتھ نظام لگ سکتا تھا کہ نقالی کرتے ہو گھر میں اذان ہوتی ہے ہے اور ہر مسلمان جو مسلمان کہنا چاہتا ہے اور وہ شاہ شاہ رخ خان ہو یا نہ ہو ساری زندگی اس نے کبھی نماز پڑھی ہو یا نہ پڑی بدکاریوں میں مبتلا ہو چور ہو چکا ہوں ہو کم انیس سو چکا ہوں اسلام پڑھتا ہوں اس کے لئے مسلمان کہنا تو مشکل کام ہے ہے اور اس کے دل میں کوئی تعلق ہی نہیں ہے تو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا انکار کرنا اس کے لیے کون سا مشکل ہے اللہ کے وہ دو شرطیں پوری کرے گا گا بچوں کے معاملے میں اس کو کہہ رہا ہوں چھوڑ دی ہے ہے اور ہمیں تبلیغ کرتے ہیں کہ اس میں اس کے نتیجے میں تمام دنیا میں احمدیوں کے خلاف ہو جائے گا وہ تو براہ راست کرتی ہے تو یہ اس لیے یہ مشکل بنی ہوئی ہے ورنہ کوئی بھی تکلیف ہے بیٹھے ہیں ہیں عام تصور یہ ہے کہ جو خود چور بیٹھے ہیں اور نہ مانے کیا یا جو خود کرنا آسان تھا وہ منع کر دیا ایک تیسری چیز تبلیغ ہے وہ کیوں پر کیا گیا ہوں نہ بتا رہا ہوں ہو تم کو تبلیغ کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یقین کو اجازت دی گئی اس تحریک کے ساتھ جماعت ہیلتھی جائے گی کہ ایک ہماری اکثریت اقلیت میں تبدیل ہوجائے گی اور ان کی اقلیت کی حیثیت میں تبدیل ہوجائے گی اس کی مجبوری ہے ہے فرماتا ہے ہے کہ جو لوگ کام کرتے ہیں ان محمد رسول اللہ سلم کی نقالی کرتے ہیں ایک ہی مسئلہ ہو ہو جو لوگ اللہ سے پیار کرتے ہیں اللہ کو چاہتے ہیں وہ لوگ ہیں جنہیں جو لوگ آخرت کے دن سرخرو ہونا چاہتے ہیں وہ نجات دیتا ہے ہیں تو یہ سارے قانون بنانے پڑیں گے گے اللہ کو چاہا جرم ہے اس ملک میں میں یوم آخرت میں سرخرو ہونا جرم ہے ہے حوصلہ کی نیک باتوں میں پیروی جرم ہے اور پھر ایک باتوں کی تفصیل بتائی جائیں اور جتنی بڑی کی اتنی بڑی سزا ملنی چاہیے اتنا بڑا ہوگا اگر سچائی سب سے بڑی بیٹی ہے تو سب سے بڑی انتظار چائے بھی نہیں چاہیے اور یہ کہ یہ ایسی باتیں ہیں جو ہو نہیں سکتی کچھ ہو بھی چکی ہیں ان میں سے اس وقت پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سچائی کے جرم میں مکمل ہو چکی ہے ہے مسئلہ جو عملی کو کہتے ہیں کہ تم اپنے آپ کو غیر مسلم ہو تو وہ شخص جو دل پہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں اور قرآن کو تعلیم کے قابل بالتامین کتاب سمجھتا اور اس کے سارے ایمان کی بنیادیں وہی ہو جو قرآن کریم میں مقرر فرمائی ہیں نہیں ہوں ایک ہی ملک کے فائدے یا میں یہاں جھوٹ ہے یہ جھوٹ کی نماز مقرر ہوئی ہے ہے اور اس پر سلام ہو گی تو میں نے جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا تھا قرآن کریم کی تعلیم ایسی عظیم الشان کی تعلیم ہے کہ جب اس کو آپ چھوڑ دیتے ہیں آپ کے اندر کردیا پیدا ہوجاتی ہے ہے طبیعت آپ کی ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہے آپ کے لیے چارہ نہیں رہتا کہ قرآن کی تعلیم کو چھوڑنے کے باوجود بعد کریں قرآنی تعلیم کے خلاف حکم دیا تھا اس کی لغویت خود بخود ظاہر ہونا شروع ہوگئی کیا ملا یہ پہلا قدم اٹھا لیا گیا ہے ملک میں کس بولنے کی سزا تین سال قید بامشقت اور انہیں بھی ہو سکتی ہےیہ نہیں ہے کہ واقعی یہ بات درست ہے کہ نہیں نہیں سچ یہ ہے کہ جو میں نے دیکھا اور میں نے سمجھا اس کو بیان کرو و مثلا بدلنے سے مختلف نہیں کی جاتی ہے ہے ایک انسان کی آنکھ میں بیماری ہے وہ سب دیکھتا ہے ہے اور وہ ڈاکٹر کے پاس جائیں اور وہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میں نے کالے کو صبر دیکھتا ہے سب کو صرف دیکھتا ہے اس کی بیماریاں ہوتی ہیں آپ کی گانا چاہیے کہ سبز رنگ نہیں دیکھ سکتا صرف کالی سب کو دیکھتا ہے ہے کہتے ہیں سکتا نہیں دیکھ سکتا وہ دونوں بلیک اینڈ وائٹ یا ان کے شیر نظر آتے ہیں ہیں تو یہ جو شکل ہے اس میں ایک آدمی ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے وہ کہتا ہے کہ بتاؤ کیا دیکھ رہے ہو تم تم اور اس کو سبز رنگ میں کیا نظر آ رہا ہوں ہو اگر وہ یہ کہے کہ مجھے سب نظر آ رہا ہے بول رہا ہے واقعہ غزوہ بدر اس لیے سچ اور جھوٹ کا تعلق کہاں سے ہے جب تک نہیں تھی اس بات کا تعلق ہے اور سب سے زیادہ حقیقی علم اللہ رہتا ہے ہے لیکن جہاں تک انسان کا تعلق ہے اس کو کہتے ہیں جو سمجھ رہا ہے جو وہ دیکھ رہا ہے اگر اس کے خلاف بیان کرے گا تو جھوٹا ہے ہے اگر ہم اسلام کو سچا سمجھ رہے ہیں ہیں اس کے برخلاف بیان کرنے سے لازمی چھوٹے ثابت ہوں گے ایک خرابی کو یہ تیار کرنی پڑتی ہے ہے دوسرے یہ کہ نہ صرف جھوٹا بنانا چاہتے ہیں بلکہ مقصد بنا رہے ہیں ہیں جب کہتے ہیں تم کو ہم غیر مسلم ہیں تو غیر مسلم بغیر تعریف کے تو کوئی چیز نہیں ہے نہ کسی مذہب کا نام ہے ہے غیر مسلم مصنفین ہے جس کے نتائج بھی محنتی ہیں یہی کہنا تو اور بات ہے لیکن جب غیر مسلم کہتے ہیں تو یہ ایک منفی مذہب ہے جس کا مطلب ہے کہ مسلم نہیں ہوں ہو اسلام کی تقریب کرنے والے ہو ہو اسے کہتے ہیں تو اپنے آپ کو غیر مسلم کا ہو یعنی انکار کرو خدا ہے ہے اس کے بغیر رہ نہیں سکتا یہ کہہ رہا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ اے تھے تھے اور جب قرآن کی طرف سے بنا دیا تھا کے فرشتوں کا کوئی وجود نہیں ہے نہ جنت جہنم ہی لوگوں کی باتیں ہیں ہیں اور یہ کہ قرآن کی اہمیت رکھتا ہے کچھ بھی اس کے بارے میں یہ ساری باتیں کہو ہو اور جب وہ کہتے ہیں غیر مسلم کو اپنے منہ سے تو صرف یہ نہیں کہتے کہ تم جھوٹ بول کر اپنے لئے ہے بچوں کی تقریر نہیں کرتا مہک ملک کیسے ممکن ہے کہ وہ جھوٹ بولے اور پھر بھی بن جائیں لیکن کہتے ہیں کہ میں تکلیف ہوتی ہے ہے ہے تو مگر کہاں میں مسلمان ہوں تو عوام الناس سے یہ نتیجہ نکالیں گے غلطی سے بیچارے ارے یہ تم کیا کر رہے ہو اللہ ایک ہے ہے اور تمہارا یہ کہنا کہ اللہ ایک ہے کتنی تکلیف دے کر لوگوں کو ہمارے ساتھ لگ جاتی ہے ہمارا کتنا ہوں اتنی ہوتی ہے کہ یہ ہے کہ اپنی نوکیا گی تو گھروں میں منتقل کر دیں دی اور پھر کرتی ہیں ہیں کہ یہ سجدہ کہتے ہیں دیکھ لو ہم سارے پاکستان میں تقریر کرنے کے گھروں کو آگ لگا دوں جب تک کی اپنے آپ کو غیر مسلم نہ دیں تم نے بھلا دیا ہے اللہ کو ایک کر سر اس وقت تک تمہارے گھروں کو آگ لگا دی تم کہتے ہو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہیں اور باجی تعمیل ہیں ہیں ان کی پیروی کرنا ضروری ہے کتنا بڑا ظلم فلم میں کوئی تکلیف ہوتی ہے کہ کوئی شخص کے رسول تھے اس میں جب تک جھوٹ نہیں ہوں گے ہمارے دل کو ٹھنڈ پڑ گئیجو پہلے تم سے ملی تھی تو کرانے کے لئے ان کو چھوڑ کر جب آپ کوئی طریقہ اختیار کرتے ہیں تو ہر چیز مٹ جایا کرتی ہیں اس کو کہتے ہیں کہ کتاب کا کمال کال دے دی ہے آپ نے کھیلنے کی کوشش کریں گے جس سے بڑی طاقت کی بجلی ہو اس کا غلط استعمال کر دیتا ہے پہلا کر دیتا ہے ہے اس کے قانون کے مطابق استعمال کریں تو ایک عظیم نعمت ہے اس کے اندرونی قانون کے برعکس جب بھی اس کو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے ہلاک کردے گی آپ آپ کی دنیا کی حیثیت رکھتی ہے اس کے مقابلے پر جو غلام ہے اگر کریں اور بڑی بڑی دنیا کی عظمتوں کے پہاڑ بھی ہوں بڑی قومیں ہوں ان کو بھی یہ قرآن پڑھا کر سکتا ہے ایک جھٹکے میں اگر غلط استعمال کریں گے تو یہ ہو رہا ہے قرآن کریم کی تعلیم کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں ہر بات بھول چکی ہے ہر بات بے معنی اور رنگ ہوگئی ہے اور جو چیزیں اچھی لگی چاہیے وہ بری لگنے لگی ہے جو بری لگنی چاہیے اسی رل گے قرآن کریم کی کتاب ہے ہے کمال کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا بھی ذکر فرمائی ہے اس آیت میں فرمایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یہ کام کرتے ہیں اور یہی ہے جو ہدایت یافتہ ہیں یا نجات یافتہ ہیں یہ سوال اٹھایا گیا ہے اور میں بس کر چکا ہوں کہ یہ ساری چیزیں مسلمانوں کے لیے ہیں ہیں غیر مسلموں کو کوئی حق نہیں ہیں عزت کی پیروی کرنے کا نافرمانی کریں گی تو میں ٹھنڈ پڑے گی اگلی آیت میں قرآن کریم ان ہی علماء کو مخاطب ہے نہیں فرماتا ہے ایسی کوئی بات نہیں ہیں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں نہ کسی ایک مذہب کے لئے ہیں بلکہ ساری کائنات کے لئے خدا نے ان کو بنا کے بھیجا ہے ہے اور یہی معاملہ فرمایا بلکہ فرمایا صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کر دے مجھے اور ان کے دماغوں کی پیدا کردہ ہر قسم کی غلط فہمی دور کر دی تم سب کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے ہے اور نہ ہو اس لئے آیا ہوں ان کا بھی خدا ہے اور آسمانوں کو بھی بلائیں بھائی اس ساری کائنات کا مالک ہے ہے اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے ہے زندگی کے ہاں میری طرف آؤ او اور اے موت سے ڈرنے والو تم بھی میری طرف آؤ او خدا کے ملک میں تقسیم کر رہا ہوں اس کی ملکیت میں تقسیم کر رہا ہوں زندگی اور موت کا ہوتا ہے ہے یہ اعلان ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو تمام بنی نوع انسان کے لئے خیر میں شامل کر رہا ہے کسی کو بھی اپنے خیر کے کسی حصے سے بھی باہر نہیں نکلا اگر کوئی تم سا بھی کوئی باقی بھی تھا کہ یہ ساری اچھی باتیں ان لوگوں کے لیے ہیں جن کو ہم مسلمان سمجھتے ہیں ہیں اللہ نے فرمایا نہیں نہیں تو سارے انسانوں کے لیے لیے فرمایا وقت بحول اللہ اگر تم ہدایت چاہتے ہو تو اس رسول کی پیروی کے سوا اے بنی نوع انسان تو ہمارا گزارا نہیں ہے ہے اس پر ایمان لاؤ اللہ پر ایمان لاؤ اس کے کلمات پر ایمان لاؤ جیسا کہ یہ کرتا ہے مطلباور یہاں ہاں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ پر ایمان بتا کر خدا سے وسیلہ ہونا بھی بتا دیا گیا یا اللہ پر حقیقی ایمان لانے والا تو ہی ہے ہے اگر تم اللہ پر ایمان لانا چاہتے ہو تو اس کے واسطے اس کے وسیلے سے بناؤ گے جس خدا کو یہ سمجھا خدا کو اس نے دیکھا اس پر ایمان لاؤ سب خدا پر ایمان ہوگا اس طرح کاٹتے رہیں گے مجھے محمد یا سے اس شخص کو جو بنی نوع انسان کا ایک جز ہے ہے اگر وہ چاہے یہ فیصلہ کریں کہ اس طرح ان کو سن کر لبیک کہے تو ہے کون جو راستے میں روک ڈال دیا اور کھڑا ہو جائے گا نہیں میں نے رسول اللہ کی پیروی نہ کرنے دینا دلہن اس کا نتیجہ ضرور نکلے گا ہر بات جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا قرآن کے خلاف جاتی ہے کہ برکتیں بھی پیدا کر دیتی ہے ہے یہ چاہتے تھے ہمارے حقوق پر قدغن لگانا کھانا ہمارے حقوق کو محدود کرنا اور یہ نکالا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق پر پرکھنا لگادی اور آپ کی حکومت خود کر دیا اگر وہ ہمارے لئے رسول نہیں ہیں تو قرآن کو کہتا ہے بنو انسان کے لیے رسول ہیں ہیں اگر وہ احمدیوں کے لئے رسول نہیں ہیں تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جن کے لیے بھیجے گئے تھے ان میں سے ایک باپ سے نکال کر ایک طرف رکھ دیا اور حضرت محمد مصطفیٰ کا دائرہ کار وسیع کر دیا اپنی طرف سے قرآن کریم کی نافرمانی تو آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑے گی گی ہے جیسے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں قدم کسی اور طرف لے جاتے ہیں اور تڑپ جاتا ہے ہو جاتے ہیں وہ لوگ جو قرآن کریم کی تعلیم اور چوروں کو چھوڑ کر پھر کوئی اقدام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہیں ہیں ملازمت پڑے گا اگر قرآنی تعلیم کو چھوڑ دیں گے گے ہے قرآن کہہ رہا ہے انسان تم سب کے لئے رسول ہے اور تم سے پہلے اس کی اطاعت کرو اور اس کی پیروی کرو اور یہ کہہ رہے ہیں سب کے لیے اصول نہیں نہیں جن کو ہم غیرمسلم قرار دیا ان کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ سولنگی ہے ہے اور اگر وہ پیر بھی کریں گے اور ان کے بیان کے مطابق جمعہ کو قتل کریں گے کریں کہ کچھ قتل کرنے والے اس جرم میں قتل ہورہے ہونگے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر رہے ہیں ہیں اور یہ سارے جرم قرار دینے پڑیں گے گے تیرے اوپر پہلے مضمون تیار ہوگا یہ یہ باتیں ہیں جو سیرت کا اصطلاحی اور اول سے آخر تک سارے جرائم بن جائیں گے ان کے لئے جن کو ہم سمجھتے ہیں ان کی روش بن جائیں گی وزیر بالکل بنی نوع انسان کے حقوق سے تعلق رکھنے والی چیز ہے سر سے لیکر بالوں کے لیے سے بھی کوئی عقل کی بات ایسی نظر نہیں آتی جس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں قرآن کریم کی ایک آیت میں ان لوگوں کے حال کا نقشہ کھینچتے اللہ سب ٹھیک ہو دیکھتے ہیں مگر کہہ رہے ہیں ہیں بارہ جان پر جماعت احمدیہ کا تعلق ہے ہے وہ تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن نہ چھوڑیں گے ے اور یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ میں بار بار کہتا ہوں بڑی شدت و قوت کے ساتھ کہ نہ من ہم جیتیں گے گے نہیں کرتے ہیں اور ان کی تعلیم ہے ہے جس نطفے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اور یہ وہ دو ایسی چیزیں ہیں جن کی خلاصۃ نعرہ لگتا ہے ہے ہے ہے کہ قرآن پر حملہ کرنے خدا ان کو دیکھا نہیں عورت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے دے اور بات پسند فرمائے اس کا معاملہ تو اب براہ راست خدا سے ٹکر کا معاملہ بن چکا ہے جہالت کی حد ہے کہ قرآنی تعلیمات پر عمل کرکے دکھائے گامارو نہ کرنے ہمارا اتنا ٹھنڈا نہیں ہوگا google حالت ہے کہ بہت خطرناک ہے ہے اور مظالم میں بڑھتے چلے جاتے ہیں رکتے نہیں کسی طرح میں نے آپ کو بتایا تھا باجوا صاحب غیرہ قست21 کے جرم ہوا ہوا گزر گیا ہوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ہوئے اس میں ان کو پکڑ کے گھروں سے نکالا گیا کہ آپ ایک مولوی کو اغوا کرنے کی کوشش میں شامل تھے ہے ان کی عمر کا خیال رکھتے ہیں لیکن ایک طرح سے انصاف کی کہ شاید عدالتوں میں انصاف مل جائے آئیے اب ان کی حالت یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے کل ضمانت یہ کہہ کر مسترد کی ہے ہے کہ حکومت کی طرف سے حکم ہے ہے کہ ہم نے اس مقدمے کو تم سے لے کر فوجی عدالت میں دینا چاہتے ہیں اس لیے تم بس پیار ہی نہیں ہے کسی زبان کو کال کریں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے ہے لیکن یہ فیصلہ کر چکے ہیں ان سے باز نہیں آنا اس لیے کب تک بھلا ان کو جن کی اجازت دیتے ہیں یہ تو نہیں کہہ سکتے لیکن ہر قدم صفا کی طرف بڑھ رہی ہے ہم کہہ سکتے ہیں ہیں اور کب اللہ تعالی کی طرف سے وہ تقریر ظاہر ہوگی جو مجرموں کے حق میں ہمیشہ دعا کرتی ہے یہ بھی کہتے ہیں لیکن یہ جانتے ہیں کہ جب تک اللہ ہمیں آزمائے کہ ہم صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں گے اور مسلمین کہتے ہوئے جاتے ہیں ہیں نا رہتے ہوئے اپنے سب کچھ کھائیں گے ایک بھی ایسا ہم بھی نہیں ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ جو خدا تعالیٰ پر شکوہ کرتا ہوں ہم رہا وہ مالک ہیلو ملک السموات والارض r29 پر ایمان لائیں اس لیے جب تک جب بھی اپنے بندوں کو آزمائے گا ہم انشاء اللہ تعالی غلامی کی ساری شرطیں پوری کریں کریں یہ بات کبھی نہ چھوڑیں اپنے ہاتھ سے صبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وسلم سے سیکھی ہیں اور جس طرح اس نے صبر کیا ہے ویسا صبر کریں کریں اس کے دوران ان لوگ ہیں جو ان لوگوں کی حالت میں مرے تھے تھے کتنے اچھے تھے جو تکلیفیں برداشت کرکے جان دیے گئے اشتہارات کے فتح مکہ ہوتی ہے واقعہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے تقریبا تمام دینی سفر میں گزرے ہیں ہیں پتہ مکہ کے بعد تو ایک سال صرف زندہ رہے اس دنیا میں اور پھر جب سال ہوگیا کیا اور مدینہ کا دور بھی تو میتھی کا دور ہوئے حملے ہو رہا ہے غیروں کی طرف سے گزرتے کرتے تھے کہیں زیادہ جاتا تھا کی چکی کے پاٹ دیئے جاتے تھے اوپر تھے مسلمان عورتوں کی بےعزتی کی جاتی تھی اور نکل جاتا تھا اور اس کو ساری زندگی کی دھوپ میں بیٹھیں جو ایک سال یا ڈیڑھ سال کی زندگی ہے وہ ہے جس کو آپ کیا سکتے ہیں کہ ان کا دور آیا تھا لیکن کل یہ کام ہے وہ بھی نہیں تھا کیونکہ بہت سے باغ نماز کے بعد ہوئے ہیں ہیں اور ہر طرف سے بے اطمینانی کی خبریں بھی ملتی تھی اگر آپ اسے پکڑ لیا انہیں بڑی مضبوطی کے ساتھ پر کاربند ہو جائیں تو پھر آپ کا کوئی دیوان لکھے ان میں سے بعض ایسے بھی ہوں گے یہ بیچارے فتح کی تمنا لیے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے مرتے وقت ان کو راضی برضا رہنا چاہیے چاہیے اور ان کی ان نیکیوں کے بدلے میرے بھائیوں کے صدقے ایسی نسلیں آنے والی ہیں ہے جو خط میں آنکھیں کھولیں گے اور وہ سوچ بھی نہیں سکیں گے کہ ہمارے ماں باپ نے کی سیکسی دردناک قربانیاں دی تھیں اس وقت کے لئے اس لیے یہ تو بہرحال ہوگا کہ جس نے قرآن پر ہاتھ ڈالا ہے وہ لازم نہ کاٹا جائے گا اس میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیر کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے اس میں کوئی شک نہیں کرتا اتنی گرمی حسرت ناکام ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے یقین حد تک تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے ایسا ہی ہوگاکہہ سکتا ہوں کہ آپ بھی مرتے وقت تک ایم جی کا ناشکری کا نہیں ہونا چاہیے آہیں بھرتے ہوئے ہنستے ہوئے اپنے رب سے مخاطب کرتے ہوئے جان دے یا خدا میرے بندوں کی طرح رہا تیرے بندوں کی طرح جان دے رہا ہوں میں اپنے بندوں میں لکھ لے پر آج سے وہ پیار کا سلوک فرما جس کا تو نے قرآن میں فرمایا تھا تھا ہے ہے محمد

 38 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: