Rahe Huda – Ayyame Sulah Book Men Maseehe Maood PBUH Ki Taleem




Rahe Huda – Ayyame Sulah Book Men Maseehe Maood PBUH Ki Taleem

Rah-e-Huda – 8th June 2019 – Ayyame Sulah Book Men Maseehe Maood PBUH Ki Taleem

مسلمانوں کا دن دل سے ہے خودی میں ختم المرسلیں دل سے ہے خدا میں ختم المرسلیں منت بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 2019 ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق اس وقت بچے ہیں اور ناظرین یہ وقت ہم پر ہے خدا کا قادیانیوں سے پروگرام ہے اللہ کی ایک نہیں سیریس کے ساتھ اس وقت ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہے ہمارے پروگرام کے تعلق سے ہماری و خوبی جانتے ہیں کہ یہ پروگرام ہے ڈسکس کرتے ہیں پروگرام ہے یا نہیں ہم اپنے اسٹوڈیو کی گفتگو کے ساتھ ساتھ جو ہمارے مجاہدین ہیں ان کے سوالات کو بھی سنتے ہیں اور ان کے سوالات کے جوابات بھی ہم اپنے اس پروگرام کے ذریعے ان کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ٹیلی فون لائنز ٹیکسٹ میسج پیکج میسج غیرہ کی سہولت موجود ہے جس کے ذریعے ہمارے مشاہدے اپنے سوالات کو ہمارے علماء کرام کے پینل تک پہنچ سکتے ہیں آج کے دور میں اگر آپ ہمارے ساتھ اس پروگرام میں شریک گفتگو ہونا چاہتے ہیں اور اپنے بارے میں پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کرنا چاہتے ہیں ہم چار حصوں پر مشتمل ایک سیریز آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اور ہماری ہی تعامل چلا آرہا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اعلی حضرت غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی تصانیف میں سے کوئی ایک تصنیف منتخب کر لیتے ہیں اور اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو حقائق و معارف کی باتیں بیان فرمائی ہیں اس میں اس کا تعارف پیش کرنے کی حد تک اپنے ناظرین کے سامنے کچھ معلومات ہم پیش کرتے ہیں تاکہ ہمارے ناظرین خود بھی کتب کا مطالعہ کر سکیں اور حقیقی معنوں میں یہ جو روحانی خزائن حضرت اقدس مسیح اسلام کی جو شہزاد ہیں جو تحریرات سے ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی طرف ان کے اندر دلچسپی پیدا ہو سکے تو اس مقصد کی خاطر ہم جنس پرستی اسلام کی کتب کا تعارف دراصل سے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہیں اس کا اس میں حمزہ کا اسلام کی کتاب ایام صلح کے تعلق سے تفاصیل آپ کی خدمت میں پیش کریں گے علماءکرام ہمارے ساتھ شامل کروا دیتا ہوں مولانا محمد کریم صاحب شاہد ہیں اور ان کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں مکرم و محترم مولانا عطاءالمجیب ساحلوں 2000 کو میں پروگرام راہ خدا میں خرم کرتا ہوں جن کے نام یہ سلسلہ عالیہ محمدیہ احمد صاحب قادیانی کے لیے مبعوث فرمایا یعنی اسلام کی کوئی شان کام کو ایک مرتبہ و مقام سے ایک مرتبہ پھر دنیا کو روشناس کرانے کے لیے اللہ تعالی نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایایہ دنیا کے سامنے اعلان کیا کہ اسلام جس خدا کا تصور دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے وہ ایک زندہ خدا ہے وہی و قیود ہے وہ مجھے بتاؤ آج بھی ہے یعنی انسان جب دعا کرتا ہے تو اللہ تعالی ان دعاؤں کو اس کے مناسب حال قبول بھی کرتا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل دنیا کو اور خاص طور پر مسلمانوں کو جو سب سے بڑا انعام ملا ہے وہ دراصل دعا کا نام ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل عنقریب ان کی روایت ہے اس کا حقیقی معنوں میں مسلمانوں پر آشکار کیا گیا ہے جو انہیں اس کا جواب اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے اس کا حقیقی مفہوم دراصل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو سمجھایا ہے جب ہم 1897 کے بعد کی بات کرتے ہیں تو خاص طور پر دنیا میں اور بالخصوص مسلمان مادیت کی طرف جانے لگے اور خدا تعالی کی صفات کو سائنس کے رو سے پرکھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس کے نتیجے میں حضرت علی کی مختلف صفات کے حوالے سے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے تھے ان میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ انسان اور مسلمان قضا و قدر کو صحیح طور پر نہیں سمجھنے کے نتیجے میں یہ گمان کے اندر پیدا ہو گیا کہ اللہ نے تو سب چیزوں کو پہلے سے مقرر کرکے رکھ دیا ہے اب ہماری طرف سے دعا کرنے کے نتیجے میں قضا و قدر میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں پیدا ہونے والی ہے لہذا دعا سے انسان کا اعتقاد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تمام تصانیف میں خدا کی معرفت کے حصول اور اللہ تعالی کی قربت حاصل کرنے کے ذرائع اور اسی طرح دعا کیا جو فلسفہ ہے وہ تقریبا ہر تصنیف میں نے بیان فرمایا ہے خاص طور پر ہے جس میں آپ علیہ السلام نے تفصیل کے ساتھ دعا کے تعلق سے بحث کی کی ہے تو پایا ہے السلام نے دعا تدابیر اور فلسفہ کے تعلق سے پر معروف تاریخ قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں تفصیلی بحث کی ہے اور جب اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو حقیقت سے جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے حقیقت پر جو ہے وہ واضح ہو جاتی ہے کہ دعا کیا تاثیر ہے اور دعاؤں کو قبول کرتا ہے ہے اور انسان کو اسلام نے بخوبی بیان فرمایا ہے اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے خاص طور پر اس کتاب کو پڑھنے کی نصیحت کی ہے جو بھی جنت کی یہ کتاب پہنچتی ہے وہ اس کتاب کو ضرور مطالعہ کریں کیونکہ یہ کتاب ایسی کتاب ہے جو دعا کا جو فلسفہ ہے اسی طرح تازہ خبر جو رکھ دے  حقیقت مسلمانوں پر راج کرنے والی کتاب ہے تو میں اپنی جان سے بھی درخواست کروں گا کہ اگرچہ ہم وقت کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کتاب کے حوالے سے خلاصی کی شکل میں کچھ اہم معلومات آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے لیکن یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کی روحانی خزائن کے ٹائپ کے اندر داخل ہوتے ہیں تو وہاں پر یہ کتاب دستیاب ہے اس کو ڈاؤن لوڈ کرکے آپ اردو میں مطالعہ بھی کر سکتے ہیں اور با آواز بھی اس ویب سائٹ سے سن سکتے ہیں تو میں ناظرین سے درخواست کروں گا کہ ضرور کتاب ایام صلح کا مطالعہ کریں اور اس کتاب کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کتاب میں تقسیم اسلام نے جو حقائق کو مار دیے ہیں ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے آج کے پروگرام میں ہم دعا تدابیر اور سے بات کریں گے تو اس موضوع سے ہٹ آپ کے ذہن میں جو بھی سوالات ہیں وہ آپ ہمارے علماء کرام کے پینل میں پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کرسکتے ہیں ہم سے رابطے کی تفصیل میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس وقت آپ پر ملاحظہ فرما رہے ہیں گفتگو کا آغاز میں مولانا محمد کریم الدین صاحب سے کرنا چاہوں گا کہ حضرت اقدس مسیح اسلام نے اس کتاب کا نام آیا مسئلہ نہیں ہے تو اس میں کیا حکمت ہے اور اس دن آپ نے بیان فرمائی ہیں اور اس کتاب کی اہمیت اور افادیت کے تعلق سے ہمارے نزدیک وہ کچھ تفصیل پیش کریں گے ہم نےکے ممبئی میں اور دوسرے شہروں میں تعاون تو کچھ آرہی ہے لیکن اللہ تعالی نے مجھے خبر دی ہے کہ پنجاب میں بھی عنقریب جو ہے وہ طاعون پھیلے گی چنانچہ وہ بھی اس کا جو کتاب ہے اس کے درمیان میں بھی آپ نے یہ مکمل اشتہار دے دیا ہے جو دوست پڑھنا چاہیے اس کو مکمل پڑھ بھی سکتے ہیں تو اس میں حضور نے اپنا یہ بیان فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ فرشتے باز بدنما اور نہایت سیاہ کے اور ہر قسم کے پودے لگانے ہیں اور میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا فائدے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ تعاون کے پودے مجھے تو اس وقت میرے دل میں خیال ہے کہ عنقریب یہ پنجاب میں بھی تعاون کرنے والی ہے میں نے یہ مناسب سمجھا کہ تعاون کے پھیلنے کے نتیجے میں عام طور پر جیسا کہ قرآن مجید کی پیشکش ہوئی ہے بائبل میں بھی پیش نہیں آتی ہے کہ مسیح موت کے وقت میمری پڑے گی اور قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر آتا ہے کہ وہ مذاق علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الذی لا یؤمنون کے جب یہ عذاب کا اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آئے گا تو اللہ تعالی ایک ایسا کیڑا بھیجے گا جو کہ لوگوں کو کاٹے گا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تعاون پھیلتی ہیں ایک کیڑے سے ہے جو عام طور پر انسان کو زخمی کر کے اس کے جسم کے اندر داخل ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی نے اس کی وضاحت کر دیں کہ ہم کیوں بھیجیں گے اس واسطے کہ یہ لوگوں کو کاٹے گا اللہ تعالی کی باتوں پر یقین نہ کرنے کے نتیجے میں بطور اور ابھی آپ نے فرمایا کہ ان دواؤں کو استعمال کرنے سے یہ سے بچا بھی جا سکتا ہے لیکن جو اللہ تعالی کی مسئلہ تھے وہ تو باہر پوری ہو کر رہنے والی ہے تو شامت اعمال کے نتیجے میں یہ بات دراصل ہو رہی ہے  اس اشتہار کو پڑھنے کے نتیجے میں لوگوں کے دلوں میں خیال پیدا ہوا اور یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ ان دونوں باتوں میں بڑا تضاد ہے دونوں باتیں ایک دوسرے کے بالکل مخالف ہے کہ آپ تو کہتے ہیں کہ شامت اعمال کی وجہ سے جو ہے یہ عذاب نازل ہو رہا ہے اور دوسری طرف تعبیر بتا رہے ہیں کہ یہ دوائی استعمال کرو یہ تدبیر استعمال کرو استعمال کرنی چاہئے وغیرہ کیونکہ گندگی سے یہ مرض زیادہ پھیلتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر جب یہ اعتراض ہوا تو آپ نے مفسر طور پر اس اعتراض کا جواب دینے کے لیے بھی امثلہ کی تصنیف فرمائی اور اس نے خاص طور پر اعتراض کا نہایت خراب اور بسنت کے ساتھ جواب بھی دیا اور فرمایا کہ خدا اور دلاور تقدیر ان دونوں کا فلسفہ آپ نے بڑی وضاحت سے بیان کیا اور ساتھ ہی آپ نے یہ بھی بیان کیا کہ ان دونوں میں میں دعا اور تقدیر اور تدبیر اور تقدیر ان دونوں میں باہمی بڑی موافقت ہے بڑی ہے اس کی حقیقت کیا ہے اور کہا ہے کہ آپ نے بھی افتخار تھے میں اس کا ذکر کیا اور اپنے ساتھ ہیں سورۃ فاتحہ کی بڑی حکیمانہ انداز میں تفصیل بھی فرمائی ہے اور اس میں آپ کے ساتھ رشتہ دار قریبی رشتہ دار شہزادہجب مسیح موت آئے گا تو یہ زہر بہ کہ وہ مذہبی جنگوں کا خاتمہ کردے گا گا جاتا ہے تو حضور فرماتے ہیں اور سلامتی اور امن کے ساتھ حق اور توحید اور صحت اور ایمان کی ترقی ہو گی اور عداوتیں اٹھ جائیں گی عداوتیں کیسے اٹھے گی ایک دوسرے کے باہمی مذاہب کی تعلیمات کو عملی کوئی مذہب ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہے ہم لوگ آپس میں اگر باتوں میں مخالفت کریں تو کریں لیکن مذہبی کتابوں کو کھول کر دیکھیں تو اس کے اندر کوئی مخالفت نہیں تو حضور فرماتے ہیں کہ دعوتی اٹھ جائیں گے اور صلح کے ایام آئیں گے تب دنیا کا ہی رہوں گا کسی وجہ سے ہم نے اس کتاب کا نام بھی آیا مسلہ رکھا ہے کہ آخر کار یہ انجام ہو گا کہ راستے پھیلتی چلی جائے گی اور حقیقت جو ہے اور لوگوں کے دلوں پر غلبہ حاصل کرتی چلی جائے گی اس کے نتیجے میں دلوں سے عداوت مٹ جائیں گی جب عداوت مٹ جائیں گی باہمی موافقت پیدا ہوجائے گی لازمی بات ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھا برتاؤ ہوگا کام وقت پیدا ہوجائے گی اور یہی چیز صلح کے لیے بڑی ضروری ہوتی ہے پھر یہ کہ اس کتاب کی اہمیت کیا ہے اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ میری اس کتاب کو سرسری نظر سے نہ دیکھیں میں نے ان کو وہ پیغام پہنچایا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملا ہے جو پیغام مجھے تمام مخلوق خدا کے لیے دیا ہوا ہے میں نے اس میں لکھا ہے تو سمجھے کہ یہ کام کتاب ہے طاعون کے بارے میں لکھیے ٹھیک ہے دعا کے بارے میں لکھی ہے پہنچایا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے کہ میں نے اس طرح ہر اللہ کا یہی ہوتا ہے کہ اتمام حجت ہو کر دیتے ہیں لوگ مانے یا نا مانے وہ ان کی بات الگ ہے  اس کتاب کے پڑھنے کے نتیجے میں اور میرے دلائل کو سننے کے نتیجے میں اور میرے نشانات کو دیکھنے کے نتیجے میں اللہ تعالی پھر لوگوں کے دلوں میں ایک انقلاب پیدا کر دے گا کہ آہستہ آہستہ دلوں سے دودھ ختم ہوتی چلی جائے گی تلاوت ختم ہوتی چلی جائے گی ایک دوسرے سے پیدا ہونا شروع ہوجائے گی اور اس کے نتیجے میں لوگوں کے اندر امن و امان پیدا ہو جائے گا اور یہی وہ چیز ہے دیکھیے آج ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اللہ جو ہر ملک میں اور بڑے پارلیمنٹ میں جا کے جو پیغام اسلحہ دے رہے ہیں یا امن کا پیغام دے رہے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ آپ دراصل احمدیت کے غلبے کے لیے یا اسلام کے غلبے کے لیے یا دنیا میں صلح و امن اور شانتی کو پھیلانے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر کر رہے ہیں تاکہ وہختم ہوجائے گی اور لوگوں کے اندر ایک صلح اور امن پیدا ہو جائے گی محبت پیدا ہو جائے گی دلوں سے خوبصورتی ختم ہو جائے گی تو اللہ کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو پیغام دیا ہے وہ ہم لوگوں تک پہنچا رہے ہیں اور ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہو وہ اس کتاب کو ضرور پڑھیں اور اس کے حقائق اور معرفت پر غور کریں اور دیکھیں کہ اللہ تعالی دنیا سے کیا چاہتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہم کس طرف جا رہے ہیں اور ہمیں کس طرف جانا چاہیے افادیت اور اس کی وجہ تسمیہ اور اس میں جو مضامین بیان جدا ہے اس کے تعلق سے ہمارے وزیر نے بتایا ہے اور درخواست کریں گے فرمایا ہے کریں اس وقت ہمارے ہیں ان سے میں بات کرنا چاہوں گا اور ان کے سوالات ہم سنیں گے اور ہمارے علماء کرام پر موجود ہیں وہ ان کے جوابات بھی اس پروگرام کے ذریعے سے کریں گے سب سے پہلے ہمارے ساتھ موجود ہیں ہمارے حصے پروگرام کے یحرک الحجر ہیں ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ خان صاحب السلام علیکم آپ کا ٹیلی فون پر پر دوبارہ بات کرنے کی کوشش کریں گے اس سے بات کرتے ہیں انڈیا سے ہی مکرم قریشی عبدالحکیم صاحب قریشی عبدالحکیم صاحب سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ السلام علیکم ہم اپنے دونوں کانوں سے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے اس عرصے میں پروگرام کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں اور محترم مولانا عطاء الرحمن صاحب سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ یہ مسلم ہے ہم نے قرآن کی حفاظت کے تعلق سے جو اللہ کے چار وعدے ہیں اس کے بارے میں بھی تفصیل ذکر فرمایا ہے تو وہ میں آپ سے درخواست کروں گا کہ وہ چار وعدے ہیں اس کے تعلق سے ہماری عظمت کو سلام ہے اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا ہے اس کی ہدایت کا سامان بھی ساتھ ساتھ اللہ تعالی پتہ چلایا ہے قرآن مجید میں بھی ہمیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ہر زمانے اور ہر قوم میں اللہ تعالی نے اپنے پرستاروں کو مایوس کیا ہے اور ان کی کمی ہے ہر ایک پہ اللہ تعالی نے اپنا نظیر اپنا ڈرانے والا نہ فرستادہ بھیجا ہے کرے اور یہ رہے اور باقیوں کے تعلق سے چند ایک کا ذکر ہم نے تمہارے اوپر اتارا ہے اور قرآن مجید میں اس کو محفوظ کیا ہے اس کے علاوہ بھی دنیا کی ہر قوم میں اللہ تعالی نے اپنے فرستادوں بھیجے ہیں اور ان کے ذریعے ہدایات کو اپنی دنیا کے لوگوں کے لئے انسانوں کے لئے بھیجا تاکہ اس ہدایت سے روشنی پاک روح اللہ تعالی کے راستے پر گامزن پھر بالآخر فرمائے اور آپ کو ہر زمانہ اور ہر مقام کی قید سے آزاد کرتے ہوئے آپ کو یہ مقام عطا فرمائے آپ کو تمام اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا آپ کی زبان سے کہا نہیں رسول اللہ الیکم جمیعا کے میں تمہارااور باقی نہیں رہا جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ایسی قرآن مجید کے تعلق سے ہیں اس لئے کامل شریعت کے تعلق سے فرمایا کہ اگر تم دین اسلام میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کیا ہے اور اپنی نعمت کو تمہارے پر پورا کیا ہے اور اس بات کا اعلان اللہ تعالی نے فرمایا کہ آپ جو شریعت نازل ہوئی ہے شریعت ہر لحاظ سے کامل اور مکمل ہے اب اس کے بعد قیامت تک کوئی شریک نہیں آنے والی جبکہ اس سے پہلے بہت ساری خدائی تیرے جیسا کہ میں نے بھی تمہیں کا ذکر کیا اللہ تعالی نے دنیا میں نازل کیں لیکن کسی بھی ہدایت کے تعلق سے ان میں سے کسی بھی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کامل ہے وہ کمال ہے ہر لحاظ سے صرف قرآن مجید کو یہ شرف عطا اللہ تعالی نے عطا فرمایا کہ اس کو  عمل کا ہر لحاظ سے مکمل کہا اور قیامت تک کے لئے قائم رہنے والا تھا اور انیلہ کے میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالی نے چونکہ شریعت کو ہر لحاظ سے کامل کر دیا اور قیامت کے لیے قرار دیا اس لئے یہ بھی ضروری تھا کہ اس کی حفاظت بھی ہو ایسا نہ ہو کہ جیسے کا شکار ہوئیں اور ان کی حفاظت نہیں ہوسکی وہ محفوظ نہیں رہ سکیں ایسا نہ ہو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہو جائے اس لیے اللہ تعالی نے واضح طور پر ان مجید میں کو نصیحت کو قرآن مجید کو اتارا ہے اور ہم ہیں یقینا اس کی حفاظت کرنے والے کے ساتھ کے ساتھ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ہمیں یقین قرآن مجید کی حفاظت کرنے والے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ چونکہ وہ قیامت تک کے لیے ہدایت کا وعدہ نہیں تھا اس لئے وہ زما موری زمانے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئیں اور آج یہ حالات ہیں ان میں سے کسی کے بارے میں کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ اس حالت میں اس وقت دنیا میں موجود ہے جس حالت میں اللہ تعالی نے ان کو نازل کیا تھا لیکن قرآن مجید واحد شریعت کامل مکمل شریعت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی نے وعدہ فرمایا جنت کا اور اس وعدے کو پورا فرمائے اور اللہ تعالی کے فضل سے اپنے اسی انہیں الفاظ کے ساتھ اسی ترتیب کے ساتھ جس طرح کے ساتھ اور اس کے ساتھ قرآن مجید میں اس کو اکٹھا کیا گیا اللہ تعالی کے فضل سے ہمارے بیچ موجود ہیں اور یہ وعدہ جیسے آپ سے سوال بھی پوچھا مختلف ذرائع سے اللہ تعالی نے پورا فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی اس کتاب کے ہم اس سلسلہ میں چار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وعدہ جو اللہ تعالی نے حفاظت کا فرمایا تھا ان کو چار سورتوں میں اللہ تعالٰی علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی کہ اس کے الفاظ کی حفاظت کا وعدہ پورا ہوا اور وہ اس طرح ہوا کی تعداد میں ایسے حافظ زین دنیا میں پیدا ہوئے جنہوں نے قرآن مجید کے الفاظ کو حفظ کیا اور اپنے سینوں میں محفوظ کیا اور قیامت کے لیے یہ سلسلہ جاری ہے اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیںکا وعدہ پورا کیا اور انہوں نے معجزات اور معارف کے انکار کرنے والوں کے سامنے اپنے معجزات اور حقائق و معارف بیان کرکے اس کی حفاظت کا وعدہ پورا فرما یا چمچا ہوگا کہ وہ الفاظ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کتاب ایام صلح میان چار ذریعہ سے قرآن مجید کی حفاظت کے وعدے کی تکمیل کے تعلق سے بیان فرمائیے میں پیش کروں حضور فرماتے ہیں قرآن شریف میں یہ وعدہ تھا کہ خدا تعالی فتن اور خطرات کے وقت میں دین اسلام کی حفاظت کرے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے کرے اس کے چار قسم کی حفاظت کے الفاظ اور ترتیب کو محفوظ رکھا اور ہر ایک صدی میں لاکھوں ایسے انسان پیدا کئے جو اس پاک کلام میں ہنستے ہیں کہ صاحب اگر ایک لفظ پوچھا جائے گا اگلا پچھلا سب بتا سکتے ہیں اور اس طرح پر قرآن کو تحریف لفظی سے ایک زمانہ کے ذریعے سے جن کو ہر ایک صدی میں قرآن آتا ہے جنہوں نے قرآن شریف کے مقامات کی اور تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا تیسرے متکلمین کے ذریعے سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل سے کے ساتھ تکلیف دے کر خدا کے پاک کلام فلسفیوں کے ہے تھے روحانی انعام پانے والوں کے ذریعے سے جنہوں نے خدا کے پاک کلام ہر ایک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے تو یہ وہ چار وعدے ہیں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے خطاب میں فرمایا پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس بات کا علم دیا تھا کہ قرآن مجید اور اسلام کی حفاظت کیسے ہوگی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی نعمت اللہ شاہ ولی اللہ کرے گا میری امت پر کہ ہر صدی کے سر پر ایسے اشخاص کو مبعوث کرے گا اس کو بھیجے گا پیدا کرے گا جو اللہ تعالی کے اس دین کو یہ اسلام کی تجدید کریں گے اس کو محفوظ رکھنے کے وسائل استعمال کرتے ہوئے اس نے نہیں دیں گے قرآن مجید کی حفاظت کریں گے اسلام کی حفاظت کریں اور پھر اسی سلسلے میں ایک بات یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا آخری زمانے میں جب کہ ہر لحاظ سے اسلام پر اور قرآن مجید پر چوطرفہ حملے ہورہے ہونگے اعتراضات کیے جا رہے ہوں گے اس طلاق قرآن مجید کی تعلیمات پر حملے کیے جا رہے ہوں گے تو ایسے زمانے میں اللہ تعالی ایسے لوگوں کو بھیجے گا جس کو مسیح اور مہدی کا نام دیا گیا اور قیام کا کام کریں کا کام کرے گا جیسے کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ یوں دینا نہ رکھیں گے اس دنیا کے سامنے پیش فرمائی جن اس بات کا بھی حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی کتاب الامثلہ عن ذکر فرمایا حضور فرماتے ہیں سوئے پیشگوئی کسی نہ کسی پہلو کی وجہ سے ہر ایک زمانہ میں پوری ہوتی رہی ہےاور غلط ترجمے اور تفسیر کی حضور فرماتے ہیں لہذا اب یہ زمانہ ایسا زمانہ تھا کہ جو طالبان چاہتا تھا کہ جیسا کہ مخالفوں کے فتنہ کا سیلاب بڑے بڑے زور سے چاروں پہلو پر حملہ کرنے کے لئے اٹھا ہے ایسا ہی ہو اور میں بھی ہو گیا اس لئے خدا تعالی نے چودہویں صدی کے سر پر اپنے وعدہ کے موافق ان شاء اللہ ان اللہ کی اصلاح کے لئے ایک عدد بھیجا مگر چونکہ ہر ایک مجدد کا خدا تعالی کے نزدیک ایک خاص نام ہے اور جیسا کہ ایک شخص جو ایک کتاب تالیف کرتا ہے تو اس کے مضامین کے مناسب حال اس کتاب کا نام رکھ دیتا ہے ایسا ہی ہوتا ہے اللہ کرے گا جاتا ہے چنانچہ حضرت علی علیہ الصلاۃ والسلام کی بعثت ہوئی آپ کا آپ نے اپنی بعثت کا مقصد یہ بیان فرمایا کہ مجھے بھیجا ہے تاکہ میں اس بات کا ثبوت دوں کہ زندہ کتاب قرآن ہے اور زندہ دین اسلام ہے اور زندہ رسول محمد صلی اللہ آپ کو پائے تکمیل تک پہنچایا قرآن مجید کا زندہ ہونا اسلام کا زندہ ہونا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زندہ ہونا اور تا قیامت کے لیے فضا ہونا ثابت کرتے رہے اپنی تحریرات کے ذریعے اپنے ملبوسات کے ذریعے اپنی تقاریر کے ذریعے اور آپ کی جتنی بھی کتابیں ہیں 80 سے زائد آپ کی تصنیفات ہیں ان سے پتہ لگتا ہے اسی مشن پر تھے قرآن مجید کے حقائق و معارف کو دنیا میں پیش کرتے رہے اور بڑے ٹیلے کے مخالفین کو اسلام پر قرآن مجید پر قرآن مجید کی تعلیمات پر حملے کرتے تھے ان کے بڑے بڑے چیلنج دیا آپ تو السلام نے قرآن مجید کی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرکے براہین احمدیہ میں اپنی پوری جائیداد جس کی قیمت ہزار تھی وہ پیش کرنے کے لئے میرے دل میں حقائق بیان کر رہا ہوں دلیل بیان کر رہا ہوں ان کا کوئی جواب دے تو اپنی پوری استعداد میں دس ہزار روپے ہے اس کی خدمت میں حاضر کرو ہاں ضرور دوں گا کیا پہلوانی ادا کیا اور پورے ہمت و استقلال کے ساتھ قرآن مجید کے حقائق و معارف کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا جن کے سامنے پیش فرمایا کہ کوئی بھی توڑ پیش نہیں کر سکا ان دلائل کا جواب نہیں دے سکا جہاں آپ نے ایک طرف قرآن مجید کے حقائق ہماری اپنی کتابوں میں بیان کی ہے وہاں قرآن مجید کے خلاف جو اندرونی طور پر بیرونی طور پر اعتراضات ہوتے تھے پیدا کیے تھے جن سے قرآن مجید کا کام کرتا تھا میں نے ان عقائد کی بھینازاقبال شکریہ محترم مولانا محمد زکریا صاحب سے عبدالحکیم صاحب اہم ایام الصلح کیسے گزر رہے ہیں اور آپ برکات دعا میں لے جا رہے ہیں اس واسطے یہ بھی کیوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تدبیر اور دعا تدبیر اور تقدیر کے بارے میں مفصل ذکر کیا ہے ہم سمجھتے ہیں ٹھیک ہے اس لحاظ سے مضمون ملتا جلتا ہے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ قبولیت دعا کے لئے ضروری نہیں ہے کہ امام کے ساتھ اللہ کو پڑتا ہے اس کی دعا کو سنتا ہے تو اس اللہ تعالی نے یہ قید نہیں لگائی کہ کوئی مومن کوئی مسلمان دعا کرے تو میں اس کی دعا کو سنتا ہوں اور اگر کوئی غیر مسلم یا اور کسی مذہب سے تعلق رکھنے والا دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا کون ہوگا ایسی کوئی بات نہیں اس کی مثال ایسی سمجھ لے تو ہمیں اس بات کا ہے کہ کی طرف سے الہام ہو جاتے ہیں اس خواب میں آجایا کرتی ہیں کیونکہ اس واسطے کہ ان کو یہ یقین آ جائے ہا کی طرف سے الہام بھی ہوتے ہیں اللہ تعالی کی طرف سے سچے خواب میں بھی آتی ہیں تو اس لحاظ سے اللہ تعالی ان کو بھی یقین دلانے کے لیے کہ جو رسول یا نیک بندے اللہ تعالی سے ربط رکھنے والے ہیں وہ اپنے عالم سناتے ہیں یا سچی خواب سناتے ہیں تو ان کو یقین ہو جائے کہ ہمیں بھی سچی خواب دیکھی طرح سے جو غیرمسلم بھی اگر کوئی اس طرح غمی اور بے چینی کی حالت میں دعا کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی دعاؤں کو بھی سنتا ہے لیکن اس پر بھی ہے کہ کا اس کی دعائیں اللہ تعالی اس کو بتانے کے لئے کہ میں خدا ہوں میں سنتا ہوں اور میری میں نے تمہاری پکار سن لی ہے اس کو یقین دلانے کے لیے یہ کہ ایسے واقعات بھی ہو جاتے ہیں لیکن یہ کثرت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں وہ نیک بندوں کی ہوتی ہے اس کی دوسری بات جو آپ نے کیا امام وقت کی بات کرنا لازمی ہے تو اللہ تعالی نے قرآن مجید کی سورۃ بقرہ میں فرمایا ہے کہ وہ رسالہ قادیانی جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں کہ خدا کون ہے خدا کیسا ہے خدا خدا ان کو کیا جواب دیں نبیل کو قریب ہو اس کی علامت کیا بتائیں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہوں جب وہ دعا کرتا ہے تو اس کے ساتھ شرط لگائی فلیستجیبوا لی ولیومنوا لیکن دعاؤں کی قبولیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے بھائی تم اللہ سے اپنی بات منوانا چاہتے ہو تو تم خدا کی بات بھی تو مانو تو اللہ تعالی کے خلاف لیتے ہیں میری بات نہیں مانی تو تم لوگ ولیؤمنوا مجھ پر ایمان بھی لاؤ یہ ایسا خدا موجود ہے جو دعاؤں کو سنتا ہے اور وہ ایسی ہستی ہے جو زندہ موجود ہے اور اپنی زندگی کا ثبوت دیتا ہے اس بات پر اگر تمہیں یقین ہے تو پھر بہتر ہے ہیومن ویلا آیا نعت سے قبولیت دعا دن کی ہوتی ہے ہے اس دوا کو حاصل ہوتی ہے وہ ہیں جو اللہ تعالی کی باتوں کو ماننے والے ہوتے ہیں اس پر ایمان لانے والے ہوتے ہیں اور یہ بات اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتی جب تک کہ امام وقت کے ساتھ ان کا رابطہ نہ ہو میں وقت کے ساتھ ان کا تعلق نہ ہو تو یہ دونوں باتوں کو یکجا کرنے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بسا اوقات بعض غیر مسلموں کی دعاؤں کو بھی اللہ تعالی اس طرح رنگ میں جب وہ کہتے ہیں تو وہ سن لیتا ہے تاکہ ان کو یقین ہو جائے کہ موجود ہے جس نے ہماری پکار سن لئے تو یہ ان کو یقین دلانے کے لئے بھی ہوتا ہے لیکن بات یہی ہے کہ جب تک اللہ تعالی کی باتوں کو نہ مانے انسان اور جب تک اس پر یقین نہ کریں اور اس پر ایمان نہ رکھیں تب تک وہ بات پھر سامنے ہمارے نہیں ہوتیڈالی ہے اکثر کتابیں آپ نے پڑھی ہوگی اس میں یہ ہے کہ ہے کہ  ہے کہ بسا اوقات انسان اپنی ایک دوست دوسرے دوست سے سلوک کرتا ہے کبھی اپنی بات منوا آتا ہے کبھی اس کی مان لیتا ہے اللہ تعالی بھی اسی طرح سے انسان کے ساتھ سلوک کرتا ہے بتاؤ کہ انسان ایسی چیز مانگ رہا ہوتا ہے جو اس کے لئے نقصان دہ ہے اور تو جانتا نہیں لیکن اللہ کو معلوم ہے لیتا ہے یہ چیز اس کو دی جائے تو اس کے لئے نقصان کا باعث ہوگی تو وہ نہیں اس کو دیتا تجھے ایک دوست ایک کئی دفعہ اپنی بات منواتے بھی ہے اور کئی دفعہ بات اپنی ہی نہیں مانتا اللہ تعالی کا سلوک ایک دوست کی طرف سے بھی ہوتا ہے دوسرے اپنے سر سید احمد صاحب کا حوالہ دیتے ہوئے دیا ہے ذکر کیا ہے برکات الدعا آپ نے پڑھی ہوں گی اور اگر لوگوں نے نہیں پڑھی وہ ضرور پڑھیں حضور نے فرمایا ہے کہ اگر دعا میں کوئی حقیقت نہیں ہے ہے تو مثال کے طور پر ایک آدمی بیمار ہوا اور اس کے تقدیر میں لکھی ہوئی بات ہے کہ اس نے مر جانا ہے تو پھر حضور نے یہ جواب دیا ہے احمد خان ہے کہ جب تم بیمار ہوتے ہو بخارا جاتا ہے سردی زکام ہو جاتا ہے ڈاکٹر کے پاس حکیم کے پاس کیوں توڑے پھرتے ہو گئی آرام سے بیٹھے رہو تقدیر میں جو ہونا ہے اگر ٹھیک ہونا لکھا ہے تو ٹھیک ہو جاؤ گے تو مر جاؤ گے ہو یا دنیا کا کوئی بھی دہریہ شخص بھی کیوں نہ ہو جب بھی کوئی بیماری ہوتی ہے تو ڈاکٹر کے پاس دوڑتا پھرتا ہے کیوں دیتا ہے بہت دیر ہے تو پھر دعا کی کیا ضرورت ہے تو یہ اللہ تعالی کا قانون قدرت ہے اس نے تقدیر کے ساتھ ساتھ تدبیر کو بھی رکھیں جیسا کہ ان شاء اللہ اگلی بحث میں اس بات کو ڈسکس کریں گے حضرت مصلح میں اس بات پر بھی اس کتاب میں بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ تدبیر اور تقدیر اور یہ دونوں متضاد باتیں نہیں ہے باہم ایک دوسرے کے ساتھ موافقت رکھتی ہیں دعا کے ساتھ بسا اوقات جو تقدیر مبرم کسے کہتے ہیں جو نہ بھولنے والی وہ بھی جایا کرتی ہے ہم نے اپنی زندگی میں میں ان کا بیٹا عبدالرحیم بیمار ہو گیا یہاں تک کہ زندگی کے آثار ختم ہوگئے تو مہر کا اتنا شدید تھا کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا کہ اب یہ بچہ بچے گا نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت نواب محمد علی صاحب کے اخلاص کی وجہ سے اس قدر تڑپ پیدا ہوئی کہ یہ بچے کو اگر نقصان ہوا مر جائے گا تو اس خاندان کو ضرور چکر لگے گا حضور نے دعا کرنی شروع کی تو حضور نے جب دعا کی تو اللہ تعالی کی طرف سے یہ آپ کو سمجھایا گیا کہ تقدیر مبرم یافتہ نہیں سکتی تو حضور نے اسی وقت فرمایا کہ یا اللہ ہمیں اس بچے کے لیے شفاعت کرتا ہوں سفارش کرتا کتا تو اللہ تعالی کی طرف سے پھر الہام ہوا منظر بیان د عالم نے خدا کے حکم کے بغیر تم کیسے جانتے ہو کہ شکر کرو فرماتے ہیں کہ میرے اندر سختی پیدا ہوا کہ یہ میں نے کیا کہہ دیا تو اللہ تعالی نے آپ کی اس طرف کو دیکھتے ہوئے فرمایا فرمایا اب تو مجاز ہے تو اللہ تعالی کی دعا کے نتیجے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ نتیجے میں بسا اوقات وہ تقدیر جو جاری ہو کر رہنے والی تھی وہ بھی چل رہی ہے حضرت سلیمان نے اس کا ذکر کیا ہے تو بہرحال اگر تقدیر اٹل ہے تو دنیا میں سرسید احمد خان ہو یا کوئی بھی ہو وہ ڈاکٹروں کے پاس حکیموں کے پاس کیوں توڑے پھرتے ہیں جگہ بخار آتا ہے تو آتا ہے کینسر ہوا ہے نا ہے کوئی نہیں ڈاکٹر کے پاس دوڑتے پھرتے ہیںکیا سمجھائیں اور یہ یقین کیوں کریں کہ خدا ہمیں سنے گا یہ ان کا سوال میرے بھائی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی تو بڑا مہربان رہے دیکھیے والدین سے بڑھ کر اور کونسی الرحیم ہوتا ہے دنیا میں بچہ ضد کرتا ہے یہ بھی کرتا ہے سب کچھ کرتا ہے تو بڑا مشہور ہے وقت کی رائے میں مختصر بیان کرتا ہوں کہ ایک لڑکا تھا کہ کسی نوجوان لڑکی پر عاشق ہوگیا یا اور اس لڑکی نے یہ شرط رکھی کہ اگر تم اپنی والدہ کا دل لگا کر مجھے دو گے تو پھر میں تم سے شادی کروں گی اگر یہ دیکھیں کتنی بڑی بات ہے وہ بچ گیا اور اس نے جاکر اپنی والدہ کو قتل کیا اس کا دل لے کے جا رہا تھا کہ راستے میں ٹھوکر لگی ہے چوٹ تو نہیں مری ہوئی ماں کے دل سے بھی یہ واضح ہوتی ہے کہ بچے کو کہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے اللہ تعالی تو اس سے کہیں بڑھ کر رہی ہے تو میرے بھائی اگر انسان گناہوں سے بڑا گھرا ہوا ہے گناہوں کو چھوڑ نہیں سکتا تو دیکھئے اس کے لئے تو اللہ تعالی نے بیان کیا ہے کہ اگر وہ پشیمانی سے اللہ تعالی کے حضور آگے جھکے گا تو یقینا اس کی بات کو اللہ تعالی سنے گا چنانچہ حضرت نبی اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کی کہ یارسول اللہ میرے اندر بہت ساری برائیاں ہی میں چھوڑ نہیں سکتا اس کو کوئی ایسی تدبیر بتائے کہ میں گناہوں سے باز آجاؤ تو حضور نے فرمایا اچھا ایسا کرو تم سچ بولا کرو جھوٹ کبھی نہیں بولنا بنا کیا تم اس بات پر میرا مجھ سے بات کرتے ہو یا رسول اللہ مدد کرتا ہوں کہ کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا چنانچہ وہ گیا اور جب بھی کوئی بری بات اس کے ذہن میں آتی کہ اس کو میں کرو اور اس کے دل میں خیال آتا کہ میں حضرت کی خدمت میں جاؤ اور آپ نے پوچھ لیا تو مجھے تو لازم یہ کہنا پڑے گا کہ ان واضح کیا ہے جھوٹ تو نہیں بولوں گا اور میں نے کہہ دیا کہ حضور میں نے یہ کیا تو مجھے سزا ملے گی آہستہ آہستہ وہ تمام ختم ہوگئی تو بات یہی ہے کہ گناہوں گناہ تو انسان کی سرشت میں ہے جب انسان کو یہ احساس ہو جائے لبریز ہو چکا ہوں اور گناہ چھوٹ نہیں رہے ہیں تو اس کا طریقہ بھی یہی ہے کہ خدا سے دعا کرے پشیمانی کا اظہار کرے اور اللہ تعالی سے توبہ کرے کہ یا اللہ میرے اندر اتنی برائیاں موجود ہیں تو اللہ تعالی کے پاس جانے سے کیسے کریں اللہ جانتا ہے کہ میرا بندہ کیسا ہے تو اس واسطے یہ کہنا کہ میں خدا کے سامنے جا کے کیسی دعا کرو یہ بات نہیں اگر اس کے دل کے اندر اس طرح ہے جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ مایوسی مترادف جو ہو کر کے ساتھ اللہ تعالی کو پکارتا ہے یا اللہ ہمیں جھوٹ نہیں سکتا شیطان نے راستے میں ہر دفعہ آ جاتا ہے اس سے چھٹکارا د** تو آخر دیکھئے اس میں ایک بزرگ کا واقعہ بھی آتا ہے انہوں نے کہا کہ میرا پیچھا کرتا ہے تو نے اس کو سمجھایا کہ تم اپنے ایک دوست سے ملنے کے لئے جاتے ہو اس کے گھر میں ایک کتاب ہے اور وہ اس کے گھر میں جانے کے لئے بار بار تم کو جو ہر وقت ہے بھونکتا ہے اور تم پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر تم کیا کرو گے لاٹھی سے بھی نہیں مرے گا پتھر سے بھی نہیں مانے گا تو آخر کیا کرو گے اس نے کہا کہ آخر میں اپنے دوست کو آواز دوں گا کہ اس طرح کتا تیرا اپنے پاس مجھے آنے نہیں دیتا تو اس کو ہٹا لےدل دیاں گلاں صبح ایک اور ٹیلیفون کال رہی بنگلہ دیش سے مکر معروف زمان صاحب ان کا بھی سوال سنتے ہیں اگر وہ ہمارے ساتھ ہونے پر موجود ہیں تو اسلام علیکم ورحمۃ اللہ الرحمٰن صاحب صاحب  نہیں پہنچ رہی ہے ہم آپ سے درخواست کروں گا کہ اپنا سوائے اپنا جو سوال ہے وہ میل کے ذریعے یہاں سے آگے بڑھاتے ہوئے حضرت مولانا محمد قاری طیب صاحب سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ جیسے آپ سے سوال کے جواب میں یہ بات بتائی تھی کہ اس کتاب میں وسلم نے جواب دیا ہے کہ بازوں نے آپ علیہ السلام کے تعلق سے یہ بتایا کہ پہلے اپنے تعاون سے بچنے کے لیے ادویات اور کتابیں تجویز کی دھمال کے لیے سزا کے طور پر ان دونوں بعد میں تناقض ہے اور مسلم نے اس کی کیا وضاحت بیان فرمائی ہے اس بارے میں آپ سے کرنا چاہیے کے ساتھ ذکرکیاہے پیر اور جمعرات کا جو ہے یہ غور و فکر کا جو ہے محتاج ہے اگر کوئی بیماری ہوتی ہے یا کوئی پریشانی ہوتی ہے تو انسان تکبر سے کام لیتا ہے صاحب تنگی بیان کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوتی ہے یہ بھی دعا ہی کا ایک ذریعہ ہے ہے دنیا میں جتنی بھی لے لی دنیا بھی اعتبار سے لے لیں جتنی بھی ایجادات ہوئی ہیں غور و فکر کے نتیجے میں ہوئی ہے اور اس غوروفکر کے نتیجے میں پھر ان کو ایک دفعہ سنائی دیتی ہے تو گویا کہ غوروفکر کا جو وعدہ ہے ہے ہے ہے ہے خدا کے اور کوئی بھی قانون قدرت تو خدا تعالیٰ نے خود بنایا ہے انسان نہیں سکتا تو اللہ تعالی کی طرف رہنمائی کرتا ہے کیسے غور کرتا ہے پھر کرتا ہے کون سی چیز کیسے بنی ہے کیا ہے تو ان تمام غور و خوص کے نتیجے میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ایک رنگ میں وہ دعا ہے کہ دونوں الگ الگ چیزیں نہیں ہے بلکہ ایک قسم دونوں کی ایک ہی قسم ہے ہے ہے کوئی شخص کو دعا نہ کہے لیکن دراصل دیکھا جائے تو اللہ تعالی سے وہ رہنمائی طلب کیا کرتا ہے دوبارہ اس میں ایک بات اور بھی مدرسوں میں جو تفسیر بیان کی ہے اس میں آپ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ دیکھو جو ایسی سے متعلق ہوتی ہیں اللہ تعالی کی طرف سے اگر کوئی عذاب مسلط ہوتا ہے کسی پر تو اس کے لئے اللہ تعالی نے تدبیر کو اختیار کرنا غلط نہیں رکھا یا اختیار نہیں کی جاسکتی ہے جیسے ہم نے پیش گوئیوں کے بارے میں دیکھتے ہیں گویا دعا کے ذریعے صدقہ و خیرات کے ذریعے سے اور اسی طرح نیک چلتی کے ذریعے سے جب انسان گڑگڑاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالی پھر اس بلا کو ٹال بھی دیتا ہے بڑی موٹی مثال ہمارے سامنے ہیں قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر آتا ہے حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں کی بستی والوں کو انہوں نے تبلیغ کی نیم انہوں نے آخر کار اللہ تعالی کی طرف سے ان کو یہ بات بتائی گئی کہ چالیس دن کے اندر کی بستی ہو جائے گییقینا ہم کو ہلاک کردے گی تو نے کیا ایک میدان میں سب کے سب جمع ہو گئے کہ انہوں نے اور لئے اور بچوں کو اور بڑوں کو کھانا بھی نہیں دیا مویشیوں کو چارہ نہیں دیا اور ایک بڑے میدان میں جمع ہو کر وہاں پر بڑا گڑھا کہ انہوں نے اللہ تعالی سے معافی مانگی اور حد تک ایک طرف انسان کی دوسری طرف جانور جو بھوکے تھے ان کے چلانا قیامت برپا ہو گیا وہاں پر اللہ تعالی نے ان کو دیکھ کر ان کے اندر جو تبدیلی تھی ان کو دیکھ کر وہ ہٹا دیا گیا کہ اللہ تعالی کے جو آداب ہیں وہ ایک پاک تبدیلی کے نتیجے میں کل بھی جایا کرتے ہیں اور اللہ چاہتا ہی یہی ہے تو اسی طرح سے جو طاعون کا عذاب ہے یہ بھی بنی اسرائیل میں بھی اللہ تعالی نے تعاون کر دیا تھا اس کے مسلسل ان کی نافرمانی تھی اور اس کے نتیجے میں ای-کتاب دیکھئے کہ وہ تعاون کا اثر اتنا ہے کہ ہم ذہنی طور پر بات بتا دو کہ کشمیر میں ہم کہتے ہیں کہ یہ جو کشمیری بھائی ہمارے یہ سب بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں وہ جو دس قبائل وہاں سے بھاگ گریڈ کر کے آگے تھے افغانستان کے راستے ہوتے ہوئے کشمیر میں آکر آباد ہوگئے تھے تو یہ تمام بنی اسرائیل کے اب ان میں اگر کوئی کسی سے ناراض ہوتا ہے تو میں بچوں کے کشمیر میں رہ چکا ہوں تو ناراضگی حصار میں کسی کو گالی دینی ہو تو کہتا ہوں اور مجھے بیٹھے کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں ان کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ خاوند خدائ توبہ یہ پرانی یادیں ہیں کہ طاعون کا عذاب نازل ہوا تھا بنی اسرائیل پر تو اس بے فکر آخرت کا جب نئی نسل آئی اور ان کے اندر تبدیلی پیدا ہوئی اللہ تعالی نے کہا بھی ڈال دیے تو باہر ترا یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس بات کو نہیں مانتا کہ میں خدا سے دعا کر رہا ہوں لیکن دراصل وہ غور و فکر کرکے خدا سے رہنمائی طلب ہے کہ جب اللہ تعالی جیسا کہ ابھی ذکر امن ہے ذکر اللہ ہو جب بے چینی سے آدمی غور و فکر میں ڈوب جاتا ہے تو اس طرح اس کو سو جاتی ہے تو دنیا میں جتنی بھی ہے ہماری کا بہتر علاج ہو سکتا ہے یہ سب کچھ نہیں ہوا ہے اور یہ تدبیریں دراصل حضرت موسی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا کا قانون قدرت جو ہماری نظر کے سامنے ہے ہمیں رہا ہے کہ سلسلہ تدابیر اور معاشرہ سلسلہ تدابیر اور لاعلاج جادو کا علاج معالجے کا مطلب اور اس ادارے سے وابستہ ہے تیری ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی چیز مل جائے یعنی جب ہم فکر کے ذریعے یا کسی اور طریقے جستجو کے ذریعے سے کسی تدبیر اور علاج کو طلب کرتے ہیں اگر ہم تاریخ کامل کا نہ رکھتے ہوں یا کر اس میں شامل نہ ہو تو مثلا آصف غفور اور فکر کے لیے کسی ڈاکٹر کو منتخب کرتے ہیں اور وہ ہمارے لئے اپنی فکر اور کے وسیلے سے کوئی آسان طریقہ ہماری شفا کا سوچتا ہے تب اس کو قانون قدرت کی حد کے اندر کوئی تاریخ پر جاتا ہے جو کسی درجے تک ہمارے لئے مفید ہوتا ہے تو وہ جو ہم میں آتا ہے اور اور توجہ کا نتیجہ ہوتا ہے جس کو ہم دوسرے لفظوں میں دعا کر سکتے ہیںکہ غیب سے کوئی کامیابی کی بات ان کے دل میں پڑ جائے اور ایک عرف دعا کرنے والا بھی اپنے خدا سے یہی چاہتا ہے کہ کامیابی کی راہ راست پر کھلے لیکن ماں جو خدا تعالیٰ سے رابطے نہیں رکھتا وہ مسجد فیض کو نہیں جانتا اور عرض کی طرح اس کی طبیعت بھی سرگردانی کے وقت ایک اور جگہ سے مدد چاہتی ہے اور اسی مدد کے پانی کے لئے و فکر کرتا ہے عارف عارف کو شہید کرنے والا اس کو دیکھتا ہے وہ صورت کو دیکھتا ہے اور یہ تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں جانتا کہ جو کچھ بہتر ہوئی دل میں پڑھتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے جو غور و خوص کے نتیجے میں جو باتیں انسان کے ذہن میں آتی ہے وہ اچانک اللہ تعالی کے وسیلہ سے آتی ہیں تو یہ بھی خدا تعالیٰ کا قانون کھو گیا کہ دعا وہ نہیں ہے لیکن اس کی پریشانی اور اس کا جو سیر طلب کرنا ہے ایک دعا کا وسیلہ حیدر اسی بات کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے چنانچہ آگے ہی آگے فرماتے ہیں اور جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا یہ طریقہ طلب ہے روشنی اگر بصیرت اور یہ حقیقت تو یہ عارفانہ دعا ہے اور اگر صرف قرآن اور وہ اس کے ذریعہ سے یہ روشنی جو مبداء سے طلب کی جائے اور منورہ کی ذات پر کامل نظر نہ ہو تو وہ مہرباں نہ دعا ہے چاہے اس کو خدا کا نام نہ دو لیکن وہ دراصل اس کی کوشش ہے اور اس کی سرگردانی ہے اور اس کا جو غور و فکر کرنا ہے یہ بھی ایک ہے تو یہ ثابت ہوا کہ مرتبہ دعا کا ہے مقصود کو تب اس پل پر سے گزرنا پڑتا ہے پھر جائے شرم ہیں کہ کوئی ایسا خیال کرے کہ خدا اور میں کوئی لفظ ہے اور دعا کرنے سے کیا مطلب ہوتا ہے یہی تو ہوتا ہے کہ وہ عالم الغیب جس کو دکھ درد شقیقہ بیر معلوم ہے کوئی احسن تکبیر دل میں ڈالے سے پیدا کرے پھر دعا اور تعبیر میں اتنا خوش کیوں ہوا توبہ کے تدبیر کرنا بھی دراصل یہ دعا ہی ہے تو اس لحاظ سے آپ نے فرمایا کہ میں نے جواب نہیں دیا تھا اس میں تعاون کے عذاب کو بار الشامۃ عمل کا نتیجہ ضرور کریں لیکن اس کا علاج جو ہے یہ بھی مختلف ادویات سے کیا جا سکتا یہ تدبیر بھی درس دعائیں کرتی ہے شکریہ کچھ اس سلسلہ میں بیان کردی ہے یہ ہے کہ جو ہے دعا ایسی چیز ہے جو مومنین کے لئے ایک جزو لاینفک کی حیثیت رکھتی ہے بغیر دعا دونگا تو چلا رہا ہے مومن کو کہ مجھ سے مانگو مجھ سے دعا کرو اور پھر یہ بھی بات ہوئی ہے کہ مولانا صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہیں اور وہ کیسے کرتی ہے جب وہ مصیبت زدہ اللہ تعالی کو پکارتا ہے پکارتا ہے جو بھی پریشانی یا تکلیف ہے اس بیان فرمائیںہے اس کا مقصد دعا ہے اگر دعا نہیں تو پھر عبادت کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس زمانے میں جیسا کہ آپ نے بھی اپنی بیان کیا کہ ہر کتاب میں دعا کے بارے میں بات کی ہے دعا کی حقیقت کے بارے میں دعا کی افادیت کے بارے میں آپ کے تعلق سے بڑے جامع انداز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے اور آپ نے فرمایا کہ خدا ایسی چیز ہے جو ہر مشکل سے مشکل چیز کو ممکن سے ناممکن چیز کو ممکن بنا سکتی اور ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے ہو کہ وہ کیا تھا وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعاؤں کا نتیجہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ حضرت اقدس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندھیری راتوں میں جو دعائیں کی ان دعاؤں کے نتیجے میں وہ عظیم الشان انقلاب عرب کے بیابانی ملک میں ہوا جو دنیا نے دیکھا اور تاریخ کا حصہ ہے اور کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتے تو دعا کی اہمیت ہے یہ فلسفہ دعا کا جہاں تک تعلق ہے تو مولانا صاحب نے بڑی تفصیل سے وضاحت کے ساتھ کتاب امثلہ کے حوالے سے اس بات کو بیان فرمایا یہی بنیادی بات حضور علیہ السلام نے دعا اور تقدیر کے تعلق سے بیان کی جو ہے وہ بھی دراصل ایک دعا ہے کہ عارف کی دعا اور بددعا ہے اس کی ذات ہے اور ایک ایسا ہوتا ہے جو اللہ تعالی کی ذات کو شناخت نہیں کرتے اسے تلاش کرتا ہے وہ بھی مانگتا ہے جو تدبیر اس کو چاہیے ہوتی ہے غور و فکر کرتا ہے تو وہ بھی دراصل ایک معلوم مردہ سے کوئی چیز مانگ رہا ہوتا ہے کوئی معلوم مردہ اس کے پاس نہیں ہوتا ہے کسی چیز کو کسی ذریعے کو تلاش کرنے کے لئے تو وہ اگر اس بات کو اقرار نہیں کرتا ہوں اللہ تعالی سے ہی مانگ رہا ہوتا ہے اور اللہ تعالی اس کو آتا بھی کر دیتا ہے جب وہ اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے جس سے اس کو عطا کر دیتا ہے یہ بھی ایک حادثے سے ہی رکھتا ہے اور پھر ذریعہ تلاش کرنے کا اس لیے اس دعا کو تیسری چیز تقدیر کا ہے قضا و قدر کا ہے حضرت مسیح علیہ السلام نے اس تعلق سے بھی اپنی اس کتاب میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ بعض لوگ اس زمانے کے بڑے بڑے فلسفی اور بڑے بڑے علماء اور مسلمانوں سے اچھے لوگ ہیں جو کہتے ہیں دعا کوئی چیز نہیں حاصل صرف خدا کا قہر ہے جو تقدیر میں لکھ دیا گیا وہیں اسلحے سے کوئی چیز نہیں نہیں سکتی تو ایسے لوگوں کو جیسے کہ محترم مثالیں بھی دیں حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو جانتے ہیں اس بات کو کی اور پریکٹیکل  یہ بھی فرمایا کہ میں ضرور دعا کے تعلق سے بیان فرمائیں کہ جس طرح حقوق در پہلے سے قرار پا چکا ہے پانچ کا اسی طرح یہ بھی پہلے سے طے پا چکا ہے یہ بھی قضاوقدر کا حصہ ہے کہ اگر کوئی دعا کرتا ہے تو اسے اس کی اصل فساد اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر پہلے سے ہے چنانچہ یہ کتاب اس دوران کا تین بھائی کے پاس ہے ہےآزماتے ہیں اگرچہ یہ سچ ہے کہ قضا و قدر میں پہلے سب کچھ قرار پا چکا ہے مگر جس طرح یہ قرار پا چکا ہے کہ فلاں شخص بیمار ہو گا اور پھر یہ دوا استعمال کرے گا تو وہ شفاء پا جائے گا اسی طرح یہ بھی قرار پا چکا ہے کہ فلاں مصیبت زدہ اگر دعا کرے گا تو قبولیت دعا کے اسباب نجات اس کے لیے پیدا کیے جائیں گے اور تجربہ گواہی دے رہا ہے کہ جس جگہ خدا تعالی کے فضل سے یہ اتفاق ہو جائے کہ با ہمہ شرائط برائے دعا ظہور میں آوے وہ کام ضرور ہوتا ہے قرآن شریف کی آیت اشارہ فرما رہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے چند ایک لائنوں میں قضا و قدر اور دعا کا مسئلہ حل فرما دیا یہاں پر بڑے ہی اچھے انداز میں میں مقدر اگرچہ ہے تو یہ بھی پتہ ہے کہ دعا بھی قضا و قدر کا ایک حصہ کو ٹالنے کے لئے اور کسی مصیبت کو دور کرنے کے لئے ذریعہ تلاش کرنے کے لیے دعا کرنا یہ بھی قضا و قدر کا حصہ یہ بھی تقدیر کا حصہ ہے تو اس طرح سے حضرت موسی علیہ السلام نے اس حقیقت کو بیان فرمایا اور دعا کی حقیقت اور تدبیر کی حقیقت اور قضا و قدر کی حقیقت تقدیر کی حقیقت اپنی اس کتاب میں حضرت مولانا محمد یونس بٹ صاحب کے ہمراہ یہ سوال ہے کہ کتاب ہے مسلم دنیا سے ہی سامنے سورہ فاتحہ کی تفسیر کیا ہے لالہ موسی علیہ الصلاۃ و سلم نے بڑی وضاحت کے ساتھ اور بڑے اختصار میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر بیان کی ہے اور بڑے ہی عمدہ نظم ہے میرا خیال ہے کہ ایک اچھوتی تفسیر ہے میرا خیال ہے کہ اس سے پہلے کسی اور مفسر نے اس کو بیان نہیں کیا ہوگا اور اسی طرح سے اجازت نصیب ہے جو اپنے مفصل طور پر سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھی وہ بھی ایجاز ہی ہے اس کتاب میں حضرت محمد صل وسلم نے فرمایا اس کا نام مکمل کتاب بھی ہے قرآن شریف کی تمام تعلیم کا دراصل اس میں خلاصہ پایا جاتا ہے چناچہ الحمد اللہ صلی اللہ تعالی نے اس کو شروع کیا کیوں کہ اللہ کا نام ہیں یہ قرآن مجید نے خاص طور پر استعمال کیا اور اس ذات کے لیے یہ استعمال ہوتا ہے جو تمام خوبیوں کا جام ہو اور جو حسن اور احسان میں مکمل ہو چنانچہ اچھے تاریخ تو ایسی ہوتی ہیں جو حسن اور احسان میں مکمل ہو اور ہر قسم کی خوبیاں کا انجام ہو تو اللہ تعالی نے ہر قسم کی تعریف استاد کے لیے جو اللہ کی ذات ہے اس کے سوا اور کوئی حسن و احسان میں نظیر نہیں ہو سکتا آگے فرمایا رحمن یا ربیعۃ ہے یہ پیدا کرنا اور کمال مطلب تک پہنچانا یہ اللہ تعالی کی صفات میں سے ایک تمام سفر ایسی صفت ہے جو تمام عالموں میں جاری ہے صرف ایک عالم نہیں ہے بلکہ دنیا میں جتنے بھی علم ہو سکتے ہیں سب پہیہ محیط ہے کہ ان کو اس نے پیدا کیا کمال تک پہنچایا اور اس کی وہ کر رہا ہے تو اس سے بھی پھر لازمی ہو جائے گی اور دوسرے فرمایا اور رحیم رحمان ہے اور ہر ایک کو جہاں رب العالمین الرحمن رحمانی تعالی کی صفت ہے ہر ایک کو مناسب حال صورت اس نے دی ہے سر تا سر نے دی ہے ہے انسان کے اعضاء اس کے مناسب حال دیے ہیں اور اس کے لئے غذا کا جو یہ اہتمام ہے وہ اس کے مناسبات کیا دوسرے جانوروں کو اب دیکھیں گے ان کے مناسب حال ان کی آواز آئی اور ان کی سیرت اس کے مناسب حال ہے درندے ہیں اسی طرح جنگلی جانور ہو یا عام رہائشی جانور ہو سب کو اللہ تعالی نے دیکھی ہے ہر ایک کو ان کے اعضا کے مطابق ہی صورت بھی ہے اور سیرت بھی ہے اللہ تعالی انکی رحیمیت ہے رحیم ہے یہ صورت میں کہ جب کے لوگوں کی دعا اور عمل صالح کو قبول فرماکر آفات اور بلاؤں اور تجزیہ عمل سے ان کو محفوظ رکھتا ہےکے چوتھا احساس کو فیض احمد فیض سے منسوب کر سکتے ہیں یہ مالک ہیں امیدیں نہیں کہ جو انسان صفت رحیمی خدا اور عبادت کے ذریعہ سے کامیابی کا استحقاق رکھتا ہے اور مالک یوم دین کے ذریعے سے وہ اس کا اجر پاتا ہے اس کا ثمر ہے ہے تو رحیم ہے اور مالک یوم دین سے ہے کہ پھر سے خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتا ہے تو پھر اللہ تعالی کی یہ پانچ باتیں کی ہیں الحمدللہ روایت رہی ہے کہ مالک یوم عید کے دن اللہ تعالی نے پانچ باتیں اور بیان کی ہیں اور حضرت موسی علیہ السلام نے جو قدم ہے اس کے اعتبار سے اس کو بڑے حسین انداز میں بیان کیا کہ یہ اصطلاح ادب میں اس کو کتنے لفظ نشر مرتب ایک بات بیان ہوئی ہے اس کے بالمقابل اسی ترتیب سے جو ہے اگلی باتیں بھی بیوفا صفات اللہ تعالی ان کی باتوں کو اللہ تعالی پھر آگے بیان کیا وہ کیا ہے رحمان ملک میں دیا گیا جب ہر قسم کے حسن میں اللہ تعالی کامل ہے تو عبادت کی طرف انسان کی توجہ پیدا ہو جاتی ہے کہ جو کامل صفات والا ہے کامل حسان والا ہے تو ہی بات ہے کہ ہم اسے یا نہ ہو تو نہیں ہے بات کا جام ہے تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ان کی اللہ تعالی نے فرمایا تو یہ چاہیے کہ ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں ہمارے اندر تو اس سے ثابت نہیں ہے ہاں اگر توفیق دے کے پھر آگے فرمایا اھدنا الصراط المستقیم یہ الرحمن جو صفت ہے اللہ تعالی کی اس کے بالمقابل اللہ تعالی نے فرمایا کہ اس کا وزٹ کرنے والا رحمان کے سرچشمہ پیسے فیس طلب کرتا ہے کیونکہ ہدایت پا نہ کسی کا حق نہیں بلکہ رحمانیت الہی سے یہ دولت حاصل ہوتی ہے تو گیا کہ مستقیم انسان کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب تک رحمانیہ سے فیض اللہ تعالی نے فرمایا آپ نے فرمایا صراط الذین انعمت علیہ یہ الرحیم کے بالمقابل اللہ تعالی نے فرمایا چونکہ رحیم ہیں دعا کو سننے والا ہے اور اس کا ثمرہ عطا کرنے والا ہے اس سے اللہ تعالی نے فرمایا سے کھائی کہ میں اس گروہ میں شامل کرنا ہے اللہ تعالی نے انعامات حاصل کی ہیں ہمیں اس میں شامل کرنا اس واسطے کہ رہی تیری صفت ہے تو اسے دینے والا ہے تو ہی رہنے والا ہے آگے فرمایا کہ ان رسول اور صدیق اور شہید ہو کی راہ میں دیکھا جنہوں نے دعا اور مجاہدات میں مصروف ہو کر تو سے انواع و اقسام کے معارف اور حقائق اور خوشی اور علامات کا انعام پایا اور معرفت امام تک پہنچ گئے تو گیا کہ صراط الذین انعمت علیہم باجاوید کرنے والا ہے یہ چشمہ سے فیض طلب کرنے والا ہوتا ہے آگے غیر المغضوب علیہم والضالین فرمایا اللہ تعالی رکھا کرنے والا ہے وہی ہے جو چاہتا ہوں نہ ہے اس کے مطابق اس کی جگہ اس کو عطا کرتا ہے تو اللہ تعالی سے دعا کی کہ غیر المغضوب علیہم والضالین علی کے جو یہودی مذہب بن گئے ہیں اللہ تعالی نے یہودیوں کو مذہبی انتہا پسندی کے بار بار ہم یہودیوں کے نقش قدم پر چل کر جائیں اور ایسا نہ ہو کہ ہم عیسائیوں کے نقش قدم پر چل کر حق کی راہ سے راہ گم کردی اور اس لحاظ سے اللہ تعالی کے مالک یوم دین سے جو ہے یہ متعلق اللہ تعالی اللہ تعالیاس کے علاوہ بھی اور تفسیر حضرت مسیح علیہ السلام نے جہاں کے ایجنسی کا بھی میں نے حوالہ دیا تو یہ ایسی لاجواب تفسیر ہے کہ ایک آیت کو دوسری آیت کے ساتھ جوڑ کر اس کا نتیجہ نکالا ہے یہ بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ ہے تو اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان قرآن مجید کی آیات کی تفسیر بیان کی ہے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالی سے دعا کرنے کے نتیجے میں انسان کو ہدایت کی بھی توفیق ملتی ہے یہ عبادت کی بھی توفیق ملتی ہے اور پھر اس عبادت کا ثمرہ یہ ہوتا ہے کہ آخر تک اللہ تعالی ہماری کی دین ہے وہ عمرہ ادا کرتے ہوئے یہودیوں کی طرح رزق سے بھی بتائے گا اور عیسائیوں کی طرح جو ہے گرم کرنے سے بھی ہمیں بچائے گا اللہ کرے کہ ہم ان کو سمجھنے والے ناظرین اس کے ساتھ آج کا ہمارا ہی قصور ختم ہو جاتا ہے اور میں اپنے ٹیلی فون کے ذریعے جو ہمارے مشاہدے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو یہ بتانا چاہوں گا کہ آپ کوشش کریں کہ ہمارے پروگرام کے اول وقت میں ہمارے ساتھ رابطہ کریں اور اپنے سوالات کو پیش کریں کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ بعض لوگوں کی طرف سے بالکل پروگرام جب مائنڈ کر رہے ہوتے ہیں اس وقت ان کے سوالات آرہے ہوتے ہیں تو ایسے لوگوں سے ایسے مجاہدین سے میں درخواست کروں گا کہ پروگرام کے اول وقت میں آپ ہمارے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کریں تاہم جو کالرز آج کے سوٹ میں رہ گئے ہیں کوشش کریں گے کہ ہم اپنے آئندہ کے بعد میں ان کے ساتھ رابطہ کریں اور ان کے سوالات کو بھی سنیں اور اس پروگرام کے ذریعے ان کی خدمت میں ان کے سوالات کے جوابات بھی پیش کرنے کی وظیفہ ماپنے اگر آپ کوشش کریں گے آج کے دن کے اختتام پر میں ایک مسلح شخص ہی ایک مرتبہ اسلام کا اعتبار سمجھ ناظرین کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا جس میں حضور فرماتے ہیں قومی خواص پوشیدہ ہیں اور اگر مرض کے مناسب حال کوئی دوا استعمال ہو تو خدا تعالی کے فضل و کرم سے بے شک مریض کو فائدہ ہوتا ہے کے ذریعے ہر ایک کو ماننا پڑا ہے کہ دعا کی قبولیت کے ساتھ ایک رشتہ ہے ہم اس راز کو فوری طور پر دوسروں کے دلوں میں بٹھا سکیں یا نہ بچا سکی مگر کروڑ روپے جاری رکھنے اور خود ہمارے تجربے نے اس کی حقیقت کو ہمیں دکھا دیا ہے کہ ہمارا دعا ہمارا دعا کرنا ایک قوت مقناطیسی رکھتا ہے اور فضل اور رحمت الہی کو اپنی طرف کھینچتا ہے فرمایا مسلہ کے تعلق سے اپنے اس اپنی اسی لئے آئندہ کے پیسوں سے بھی گفتگو کریں گے اور تفاسیر اور معلومات آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے ہماری سیریز کا دوسرا اور اگلا ایپیسوڈ مورخہ 15 جون 2019 ہفتے کے دن انڈین کے مطابق رات کے ساڑھے نو بجے اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے قادیان دارالامان سے ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے تب تک کے لئے اجازت دیجیے گا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ طہو کے لئے ہی نور خدا آباد باو گے تمہیں تار تسلی دے کم بتایا ہے کہ یہ ضرور خود اعتمادی او گے تمہیں پتا تسلی بتایا ہے یا محیط

 39 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: