Rahe Huda – Sadaqat Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad pbuh – Taoon




Rahe Huda – Sadaqat Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad pbuh – Taoon

Rah-e-Huda – 9th May 2020 – Frankfurt Germany

جاں کا موسم بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کی خدمت میں ہم آج 24 مئی دو میں ہے پنجابی سے پروگرام کے مطابق شدت نہیں رہی ہے نظریہ جنسی پیش کی جانے والی سیریز کا یہ دوسرا پروگرام ہے حسنین محمود لائف ہے انٹریکٹ کا مقصد یہ ہے کہ آپ پروگرام کے دوران ماں سے رابطہ کر سکتے ہیں سکیم جس کا انشاءاللہ ہم یہ کوشش کریں گے ہمارے علماء کے لئے آپ کو ان کا جواب دیں کی جو تفصیل ہے وہ سارے پروگرام کے دوران اور ہمیشہ کی طرح ہی دکھائی جاتی رہے گی نظریں جس سے آپ نے پچھلے پروگرام بھی دیکھا موجودہ حالات کے پیش نظر ہمارے اس پروگرام کا دورانیہ 1 گھنٹہ ہے جو ہمارے علماء ہیں پیر کو سامنے رکھتے ہوئے ہم انشاءاللہ ویڈیو لنک کے ذریعے سے ان کے ختم ہوں گے تو اس سے آپ پروگرام چلائیں گے تو آج کے اس پروگرام میں ہمارے ساتھ ہمارے شگفتگو ہمارے پیارے اس کرم شمشاد احمد قمر صاحب ہیں اسی طرح سے مقررہ مطلب ندیم شاہ صاحب سر دکھائی دے رہے ہیں جی السلام علیکم ورحمۃ اللہ ورحمۃ اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نہیں جیسا کہ آپ ہمارا پروگرام پہلے بھی اور اس پروگرام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہمارے بھی اس کو ایک موقع دیں جماعت احمدیہ کے مطالعے کے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے متعلق ابتدائی کے متعلق آپ کی تعلیمات کے بارے میں تو آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو آپ رہا ہوں یہاں ہم سے براہ راست سوال کر سکتے ہیں ہمارے پورہ میں آپ کو دینے کی کوشش کرتے ہیں تو اس طرح سے آپ کے لئے ایک موقع ہے کہ آپ براہ راست احمدیوں سے ان کے متعلق دریافت کر سکتے ہیں بجائے اس کے کہ دوسروں سے سنی سنائی باتوں پر چلے تو ہم بھی مسلمان ہیں اللہ تعالی کے فضل سے عمارہ یہ یقین ہے کہ لاہور وسلم کی پیشن گوئیاں جو آخری زمانے کے متعلق تھے جہاں پر آپ نے بہت ساری علامات کا ذکر کیا ہے وہاں پر اس دور میں مسلمانوں میں مسیح اور امام مہدی کی آمد کے متعلق بیان اور وہ وجود از غلام قادیانی علیہ السلام کی ہے جن کے یقین رکھتے ہیں کہ آپ استعمال میں اللہ تعالی کے فیصلے ہیں اللہ تعالی کی طرف سے اس منصب پر فائز ہو کر اس عظیم الشان کام کے لئے موزوں ہیں جو اللہ تعالی نے شروع سے آپ کے لیے مقرر کیا تھا اور امت کہیں آفردی اور اس قسم کے غلام کی حثیت میں آپ کے دین کی خدمت میں اللہ تعالی نے آپ کو توفیق یہ سارے کام سے انجام دیں تو ہمارے پچھلے پروگرام میں ہم سوئے تھے کے وہ علامات جو آخر زمانہ سے متعلق ہیں وہ نشانیاں وہ کیا کیا تھی وہ کیا زمانہ ہے زمانے سے مراد کیا ہے ہم اس کے متعلق کیا سمجھ سکتے ہیں پھر کیا علامات ہے کیا نشانی ہے اس زمانے میں ہم نے بیان فرمائی ہیں حدیث میں وہ ساری علامات ملتی ہیں اس طرح سے دیگر میں بہت سی علامات ہیں یہ سب باتیں زبان سے متعلق ہے اور خاص طور پر الزامات میں آج کا بھی ذکر آتا ہے کہ یاجوج ماجوج کے متعلق یہ تو اس کی حقیقت کے مطابق یہ حملہ اور سب سے بڑھ کر آخری زمانے کے علماء پر پہلے بھی خاص عرض کی کہ وہ ہی تھی وہ ہے کہ اس زمانے میں اس نے بولا تھا اور مہدی کے القابات سے رسول کی مجلس میں معصوم کیا تھا تو اللہ تعالی کے فضل سے ہم نے اس زمانے کو پایا اور ہم نے پہچانا اور آپ کے بیچ میں شامل ہو کر رہ کے ستم کی اطاعت میں ہم خدمت میں لگے ہیں جو کہ آپ کے کے مقصد کے ساتھ جو وابستہ ہے جو اسلام کی خدمت ہے تو ناظرین حضرت علی علیہ السلام کا وہ شعر وہ اپنے زمانے کے متعلق فرمایا ہے بہت بہت ایس متعلق فرماتے ہیں کہ فلحال کسی اور کا وقت میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا تو حقیقت جیسے آپ اس پروگرام میں بھی آپ نے دیکھا ہے کہ اس زمانے کی کیا علامات ہیں وہ روز روشن کی طرح واضح ہے اور اس کے بعد جماعت احمدیہ میں کس کا ذکر ہوتا ہے بغیر جماعت کے پروگرام میں سوشل میڈیا پھنس کر اس کے متعلق بحث شروع کر دی ہے کیا ہوا کرتی ہیں اور خاص طور پر ان علامات میں ایسی علامات بھی تھی جو زمینی اور آسمانی آفات سے متعلق تھی کا ذکر بابو سے ملتا ہے اور اب جس دور سے ہم گزر رہے ہیں ابھی دنیا کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے تو بہت سے لوگوں کا ذرا سا بھی منتقل ہوتا کے کیا یہی کیا یہ ہیں وہیں ان علامات میں سے نہیں ہے علامت تو وہ منتظر جو پہلے سے الگ دوسری علامات کی ویسے بھی بلکہ لوگ اسے امام مہدی اور مسیح کے منتظر ہوتے نظر آرہے ہیں ہم آج بھی اسی طرح کی ایک علامت تفصیل کے ساتھ آپ کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں وہ علامت یہ ہے کہ وعلیکم السلام نے فرمایا تھا کہ جب نصیب میں بھی مضبوط ہوں گے تو اس زمانے میں طاعون پھیلے کی زندگی ہے مری کے مطالعہ میں خبریں ملتی ہیں اس کے متعلق تو اسے مبارک کی جو حقیقت ہے وہ ہم آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں السلام ابّو سوئے آپ کے زمانے میں نشان آپ کی تائید نے ظاہر کی اس نشان کے نتیجے میں جو آپ کے ہم عصر لوگ تھے جن کا پیغام پہنچا بہت بھاری اور کثیر تعداد میں ہوں جمعہ میں شامل ہوئے اب بھی اگر اس اور کیا جائے اس کے تمام پہلو پر نظر ڈالی جائے تو یہ نشان ابھی بھی آپ اس اردو کی طرح ثابت ظاہر ہے بلکہ حافظہ کے لیے سجایا بھی دیتا ہے تو آج ہم اس کی ہیں کیا بات کریں گے تو خاکسار سب سے پہلے ہمارے جو پہلے اس ٹائم کرم رحمت اللہ صاحب ان سے درخواست کرے گا کہ آپ ہمارے نظریے کو جو طاعون کے متعلق جو جو خبریں موصول ہوئی جس سے ظاہر ہوئی ابے تو برائے کرم مذاق ملا طارق صاحب آج باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم آپ نے ابھی تک ذکر کیا کہ سابقہ انبیاء نے بھی کے ظہور کے وقت جو علامات بیان کی تھی طاعون کا پھیلنا تھا انجیل میں کے نام سے یاد کیا گیا ہے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعاون کا تذکرہ کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں ظاہر ہوئے تو ظاہر ہے کہ جب مرزا غلام احمد مولانا ماریہ محمود ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بیان کردہ یہ علامت بھی پوری اور درحقیقت یہ علامت پوری ہوئی ہے اور یہ نہ صرف انجیل کی صداقت کی دلیل بنی فاطمہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی صداقت کی دلیل بنیں جو کہ مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں ہم شروع کرتے ہیں بات کے چھوری 1898ءکو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کچھ دیکھا میں آپ نے دیکھا کہ کچھ فرشتے ہیں جو پنجاب میں کچھ پودے لگا رہے ہیں پودے لگا رہے ہیں اس کا حضور نے پوچھا کہ یہ کس قسم کے سیاہ رنگ کے پودے لگانے سے کس چیز کے لیے ہیں نمودار بعد شکریہ تو ان فرشتوں نے کہا کہ جی پودہ لگا رہے ہیں یا تعاون کے درخت ہیں جو عنقریب اس جھاڑی میں نیت والے جاڑے میں وہ کہتے ہیں تجھے اس دنیا میں ظاہر ہوگی علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے یہ پودا سے علامہ اقبال ایئرپورٹ کی گئی ہے کہ ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم اور اس کے علاوہ انھوں الکریم اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلا کرتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت نہ بدل لینا میرا دل آپ کے جو عذاب آئے گا اس میں شکریہ کے آپ کے قریہ کو اور مصیبت کے بعد مکمل طور پر حفاظت دی جائے گی بلکہ اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ نے مجھے الہام دیا کہ انہوں حافظ والا منفی کردار کے مسیح موعود تیرے گھر میں جو بھی داخل ہوگا وہ اس مری مرض سے محفوظ رکھا جائے گا اس کے علاوہ کشتیوں میں تشریف فرما ہے زھری گھر بھی مراد لیا جاسکتا ہے لیکن اصل مراد ہے جو روحانی تعلیم ہے آپ لے کر آئے اس میں جو داخل ہوگا وہ محفوظ رکھا جائے گا اللہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا کہ حافظوں کا خاصہ بن جو بیماری آئی ہے جس کا پیشگوئی میں تذکرہ موجود تھا اس سے میں تو کور پر آپ نے مسیح موعود کو محفوظ رکھ پنجاب میں اس پیشگوئی کا اس کا تجزیہ کرتے ہیں تو اس میں کئی ذیلی پیش کرنا شامل ہیں نمبر ایک مثال کے طور پر اس وقت بھی ظاہر نہیں ہوا تھا کہ اللہ نے آپ کو بتایا کہ طاعون پھیلے گا 7 جنون کا جو ہے وہ زیادہ تر پنجاب کے علاقے میں ہوگا جانب سے پیش کی گئی تھی اسلام کے لئے اس میں آیا تھا کہ انھوں اول کریا کرو قادیان ہے اور یہ کیا ہے جب وہ ہے اس کو کچھ مصیبت کے بعد بالعموم بالمقابل باقی لوگوں کے محفوظ رکھا جائے گا جس طرح کریم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آواز لفظ استعمال کیا ہے یہ المجتمع اس بات کا یقین پاکر تھوڑی بہت مشکلات میں سے پا کر پھر آپ کی حفاظت کی حفاظت میں لے لیا ہے آپ نے قادیان میں تھوڑی بہت ون آئے گی لیکن تم نے جارف نہیں آئے گی تو نہیں جا رہے ہیں وہ ٹاؤن جو جھاڑو کی طرح پھیلتی جائے اور لوگوں کی بک اسلام باد ہوں اس سے اگلی پیشگوئی سے چوتھے نمبر یہ ہے کہ نہیں کدال کے جواد آرمی اور مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں آپ علیہ السلام کی تعلیم میں داخل ہو گا اس کو بھی خدا تعالیٰ محفوظ رکھے گا اور خاص حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے اہل و عیال کے معنی حافظوں کا خاصہ تھا محمود کریمی تیری خاص طور پر حفاظت کروں گا تجھے اس کو حجاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اٹھارہ سو اٹھانوے کی حسب عادت مخالفین نے اس پر اسی قسم کے تنگ اسی قسم کے استہزاء کا رویہ اختیار کیا جو مخالفین انبیاء ہمیشہ کیا کرتے ہیں پیسہ اخبار نے لکھا کہ مرزا صاحب جو ہیں جو لوگوں کو ڈراتے رہتے ہیں پہلے بھی اب ڈرامے ہی نہیں آئے گی لیکن اگر آئے تو بہرحال مرزا صاحب اور ان کی فیملی کو ضرورت پڑے گی قسم کا اسلحہ ہے جس طرح خدا نے سیاسی نے کہا ہے کہ یا حسرۃ علی العباد ما یاتیھم من رسول اللہ کا قانون سازی کے انبیاء ہمیشہ جب دنیا میں آئے ہیں مسئلہ ہی نہیں جب بھی دنیا میں آئے ہیں ان کے مخالفین ان کی باتوں پر ان لوگوں نے استفسار کیا کہ مختلف استحصال کیا سال پہلے ایک میں پہلا شروع ہوئی اس کا دور ہوا اور نظروں میں کثرت سے اموات ہونا شروع ہوگئی گویان پہلا حصہ کے جو کہتے تھے کہ دیتا ہوں میرے ساتھ ڈرانے کے لئے پیش کر رہے ہیں وہ خدا تعالیٰ نے عمل ظاہر کر دیا کہ اس کا ذہن تو پہلے کوئی تذکرہ بھی نہیں تھا لیکن اچانک وہ بیماری شروع ہوگئی اس کا پنجاب میں ہوا اور جلندر وغیرہ سے شروع ہوئی ہو اور کثرت سے آوازدی خاندانوں کے خاندان نے ہی کو خالی ہوگئے ہیں مس حضور نے حضرت علی سے علم پاکر کہا تھا کہ انھوں او لکڑیاں کے قادیان میں کچھ حد تک اس کا اثر ہوگا لیکن خدا تعالیٰ اس کو محفوظ رکھے گا جناب آپ فوت ہوئے ہیں وہاں مدفون ہیں تیرے ہند وغیرہ تھے لیکن بکثرت جیسے باقی جگہ پر تجارتی جاری رہنے والی تعاون کی لوگوں کی بک سے بات ہو رہی تھی اس دھیان نہیں ہو تو وہ پیسے نہیں ہوگی کہ نہ آؤ لکڑیاں کے قادیان کچھ مشکلات آئیں لیکن خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو محفوظ رکھا حضور نے یہ دراصل پاگل بنایا تھا کہ ان میں وہ اس وقت منفی کردار کے خدا نے وعدہ کیا ہے کہ تمام وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کی چار دیواری کے اندر ہوں گے خدا کی لعنت سے محفوظ رکھے گا والے عمل محفوظ رکھ کے دکھا دیا کہ خدا تعالیٰ جس کو دے سکتا ہے جس کو چاہے حیات دے سکتا ہے حضور کے گھر میں کسی قسم کی کوئی موت نہیں ہوئی اس سے بڑھ کر حضور نے جو قاتل حسین پاک کا بیان کیا تھا کہ حافظ وقاص حسین کے خلاف نہیں کہا کہ میں تجھے خاص طور پر ایسی ہی موت محفوظ رکھوں گا محفوظ آپ خود آپ کی فیملی کے تمام ممبران کو اللہ تعالی کے فضل سے اس کام میں جانب سے محفوظ رہے ہیں جوہر ٹاؤن ایل رہی تھی تو اس وقت سے باز شریف قسم کے علم آج وہی لوگ تھے انہوں نے پھیلانا شروع کیا کیونکہ ابھی تو دور ہے مرزا صاحب اپنے آپ کو بار بار اشتہارات کے ذریعے اخبارات کے ذریعے اعلان کروا رہے ہیں کے قادیان محفوظ رہ گیا ایک مولوی صاحب کے ہمراہ کے انہوں نے کیونکہ ان کے تقریبا بھی نہیں ہے ٹاؤن اس لئے قادیان کے محفوظ رکھے جانے کا اعلان کیا جا رہا ہے قادیان سے جو دو سو کلو میٹر سے اندر آ چکی ہے راول امروہا سے ابھی جو اردو ہے تو میں اگر آپ یہ اعلان کرتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ قادیان محفوظ نہیں رہے گا نہ جملہ قادیان سے دور ہے تو ہمارے قریب پہنچ چکی ہے قادیان کے تعاون قادیان تو محفوظ رکھ لیکن اس کے مقابل جسے کہاں پر رہتے ہیں وہ باہر حال کی جائے گی اس وجہ سے امام علیہ السلام نے باقاعدہ طور پر اپنی کتاب داخلا میں یہ بیان کیا ہمیں پڑھ کر سناتا ہوں آپ کو کیسے چودے جا لکھا ہوا میرا یہی شان ہے کہ ہمارے مخالف روح لگاتا ہے اور خام رسر میں دلی میں کلکتہ میں کا لاہور میں بولنا میں عبداللہ نے قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا پہلا مقام لازمی طور پر تعاون سے پاک رہے گا تو وہ مقام لازمی طور پر تعاون کی زد میں آئے گا کابل قادیان انشاءاللہ محفوظ رہے گا ہم اس کی وجہ ہے یہ اللہ کی طرف سے جو میری جان ہے سونے خدا کے ایک مسلہ کے بالمقابل استہزاء کرنے کا اختیار کیا ہے اور یہ تمام مقامات قادیان کے علاوہ اس میں بٹالہ لاہور ڈیلی کرکت ہر جگہ طاعون پھیلے ہر علاقے میں طاعون پھیلے مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے کہ ان اولیاء کے قادیان کو محفوظ رکھا جائے گا بلکہ ممکن جانب سے محافظوں کا خاصہ تھا اس کی خاص طور پر اس میں حفاظت کی جائے گی کلام اقبال ہر وہ بندہ جو مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم میں اور مسیح موعود علیہ السلام کا گھر ہے اس میں ہوگا اس کو حفاظت دی جائے گی تو یہ عظیم الشان شان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے لیے زندہ جاوید نشانِ ہمیشہ کے لئے قائم ہوگیا کہ جب نبی کہتا ہے کہ فلاں کام ہوگا اس وقت وہ کام ہوتا ہے وہ جب نبی کہتے ہے خدا نے مجھے الہام نکاح غیب کی خبر دی ہے کہ وہ خبر عمل پوری ہوجاتی ہے تو وہی صداقت کا نشان ہے مجھے تو ہنسی ہی موت علیہ السلام کے ساتھ نشان ہے اور اس سے جماعت میں کثیر تعداد میں اس دور میں احمدی لوگ شامل ہوئے ہیں جناب بہت بہت شکریہ آپ کا تو نہیں دے سکتے آپ نے دیکھا اس ایک نشان میں یہ لیں ایک نشان نہیں بلکہ کئی پہلو ہیں جو اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ نشان کوئی نام و نشان نہیں ہے بلکہ کیا کرتا ہے ایک خدا ہے کہ قادر خدا ہے تو یہ خبر دے رہا ہے اس کی جگہ اس کی حفاظت کے متعلق کچھ کہ عثمان جو بظاہر میں بھی نہیں ہے ان کے بغیر ایک حفاظت کرنا یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ہم سے اسلام کی ہر وقت آپ کے ساتھ شامل حال کا کرایہ دار تھی باتیں ہیں تو ابھی جیسا کہ ذکر کیا شخص آپ سے یہ جانا چاہے گا کہ یہ ایک طرف سے اللہ تعالی نے اس کے مطابق آپ کو خبر دیتا آئے گی وہ پھیلیں گی اور ساتھ یہ بھی فرمایا جیسے کبیرہ صاحب کے طاعون کے متعلق کے آپ کی جماعت حفاظت میں رہیں گے پھر جب حضرت سلام کی زندگی کی طرح نظر آتے ہیں کیا جاتا ہے مخالفین کی طرف سے کیا آپ نے پھر اسی طرح بھی اختیار کیا مسئلہ ہے یہ ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم گدھے کا گوشت بہت پسند تھا پھر بندے کا گوشت بہت پسند اپنے بیٹے کھانا چھوڑ دیا کہ اس میں انہیں مادہ ہوتا ہے پھر ان دنوں میں خاص طور پر صفائی کا خیال رکھا کرتے تھے بلکہ فینائل کی قسم کی کوئی دوائی ہے جو آپ نالیوں میں بھی ووٹ اسدالین کے جراثیم ہے وہ ختم ہو مریم گھر میں میں بہت صاحب کا ڈھیر کا جو آیا کرتے تھے مجھے پتہ چلا کہ چوہوں کے سیلفی تبدیلیوں کا بھی تعمیر کے مطابق چلتا ہے کہ بلیاں اگر آپ نے ایسا آسمان کی بجلی گھر میں موجود ہو تاکہ وہ تو یہ خاصی تعداد بھی ہمیں نظر آرہی ہے تو موت ہی کہتے ہیں کہ اگر خدا کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حفاظت کرے گا تو یہ تعبیر کیا ہے عوذباللہ من الشیطان رحیم بہت شکریہ ملک صاحب عربی ہے یہ کہاں اصول بیان ہوا ہے اگر اللہ تعالی کسی چیز کا وعدہ کرتا ہے اس چیز کے بارے میں پھر انسانی جگہ اب تک تعبیر اختیار کرنی چاہیے وہ چھوڑ دینی چاہیے ہمیں نہ تو کوئی پرانے ملتی ہے بات نہ حدیث میں کوئی ایسی ہدایت ہے قرآن نے ہمیں دی ہے یہ تو ایسے ہی ہے جیسے اگر اللہ تعالی کسی سے یہ وعدہ کریں کہ میں تجھے امتحان میں کامیاب کروں گا وہ طالب علم یہ سمجھتے ہیں کہ میرے ساتھ ساتھ انھوں نے وعدہ کیا میں نے تو کامیاب ہو نہ امتحان لینے ہیں نہ جائے کامیاب ہوگا اس کا مطلب یہ ہوا اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے تو اس کے لئے انسانی ذرائع ہیں جو تعبیر اس نے تعبیر کو اختیار کرنا ضروری ہے پاکستان میں بات کرنے کا وعدہ کیا ہے تو امتحان دینا اس کے مناسب اور یہ اللہ تعالی اس وعدے کو پورا کرے گا قرآن کریم سے تو ہمیں اس کے الٹ معلوم ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے وعدہ کرے کباب تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو وہ باہر جایا کرتے ہیں مثال کے طور پر قرآن کریم میں اسلام اور آپ کی قوم کے بارے میں یہ بیان فرماتا ہے مقدس کا وعدہ دیا گیا تھا کہ یہ آپ کو دی جائے گی حضرت موسی علیہ السلام نے جب اپنی قوم سے کہا کہ اس ارض مقدس میرے ساتھ انہوں نے یہ آگے سے جواب دیا قرآن بیان فرماتا ہے اس کے بھی اس نے اس بستی میں تو جنگجو لوگ ہیں حمزہ کیسے جا سکتے ہیں زبان اتلان 92 علم جا کر لڑو ہم سے تو نہیں لڑائیوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں ٹھیک ہے اگر خدا تعالی نے وہ بادہ کیا تھا تو اس کے لیے جنگ کرنا آج پیر کی توبہ کرنی تھی کرنی چاہیے تھی نہیں کی جب حضرت موسی علیہ السلام کی قوم نے وہ تدبیر اختیار کرنے سے انکار کر دیا اللہ نے بھی وہ زمین چلی سال کے لیے حرام قرار دے دیں میں وعدہ کر گیا پورا نہیں ہوا کی طرح اور بہت سارے میں ایسی ملتی ہیں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف کتاب بھیج دیں کے تدابیر کرنی ضروری ہوا کرتی ہیں نہیں ہوتے اللہ بروسلی اور میرے رسول رول بن گئی یہ لکھ دیا اللہ تعالی نے لیکن تمام انبیاء کے بارے میں یہ رسول اللہ نے کرم فرمایا ہے اور وعدہ فرمایا ہے بشمول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ خدا کا وعدہ تھا غالب آئیں گے تبلیغ کیوں کی تبلیغ بھی نہ صرف یہ بلکہ تبلیغ کے راستے میں انہوں نے شدید تکالیف اٹھائیں کو جنگ لڑنی پڑیں پرانے کپڑے کیوں اس لئے کہ خدا کا وعدہ تھا لیکن اس کے بابے کے پورا کرنے کے لئے فرماتا ہے یہ علم یہ اشعار ملاحظہ پورہ جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا فرمائے گا جس کو خدا کرے عطا فرماتا ہے جانتی ہے کہ اللہ کا فرمان ہے اولاد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس کے لئے انسان بھی کوشش کرتا ہے کہ نہیں کرتا پاکستان کوشش نہ کرے تو پھر اللہ عطا فرماتا ہے کی طرح عھدو صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا تعالی نے یہ بات اللہ ھو یا رحمن انداز مجھے لوگوں سے محفوظ رکھے گا لیکن تاریخ بتاتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسلام آباد کیا کرتے تھے جنگوں میں بھی آف استعمال کیا کرتے تھے بعض دفعہ آپ نے اور میں پہلے کا بھی انتظام کیا تو یہ فار جو ایک استعمال ہوتے تھے فتاوی رضویہ تیار کرتے تھے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں کی آرزو کو میں نے تمہیں بھول بھی اللہ بہترین رزق دینے والوں میں سے جب رزق دینا اللہ کا وعدہ ہے نہ کوئی نہ کوئی تدبیر کرتا ہے اگر میں بیٹھے رہیں گے گھر بیٹھے تو نہ گندم کی بوریاں برین چاول کی کے ٹوٹ گیا یہ کچھ نہیں آئے گا یہ روزی اختیار کرنے کے لیے جو اللہ نے پیدا کیا ہے سن رہا ہے کہ مزدوری کرتا ہے تو تیاری کرنا ہے اس کے لئے تدابیر ہے وہ کتابیں بھی کا اختیار کرتا ہے مجھے تو کچھ بھی نہیں وہ شفا عطا فرماتا ہے بات تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ مجھ سے پاک کو حاصل کرنے کے لئے انسان بھی کوشش کرتا ہے کہ نہیں دوائی انسان لیتا ہے کہ نہیں مختلف انسان جاتے ہیں کہ نہیں جاتے آپ نے کیا کیا معنی ہے کیا کر رہے ہو آپ کو قرآن کریم کا مطالعہ کریں آپ اس کا مطالعہ کریں گے مر جائیں گے اللہ کے وعدے خدا نہ کرے کہ یہ اللہ تعالی تمہیں یہ چیزیں عطا فرمائے گا ان باتوں کو حاصل کرنے کے لئے جو انسانی تدابیر ہیں ان کا اگر ہم اسلام کے ساتھ یہ وعدہ تھا کہ اللہ تعالی تم میں گا محفوظ رہنے کیلئے حفاظتی تدابیر ہیں وہ تیار کرنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ ضروری ہوتا ہے اس لیے کہ وہ اس سے کیا الفاظ استعمال وہ بھی تو اللہ تعالی نے پیدا فرمائے ہیں مولا استعمال نہ کرنا یہ بھی ناشکری ہے اور خدا کی آزمائش کرنے والی بات ہے کرئے خدا تعالی نے جو ذرائع پیدا کیے ہیں ان ذرائع سے پیدا کرکے انسان کوشش ضرور کرنی چاہیے اور اس کے بعد میں جو خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اللہ تعالی کرے گا یہ یہ کہنا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا تو آپ نے کوشش کی تو پھر یہ قرآن کریم کی آیات پڑھ لیں اور ان پر غور کر لیں پاکستان کوشش کیوں کرتا ہے کیا یہ ساری ناجائز کون سے ہیں نہیں ہے بالکل جائز ہے اس ضروری ہے وعدہ ہو اس بات کو پورا کرنے کے لیے جو خدا نے ظاہری سامان پیدا فرمائے ہیں سے کام لینا چاہیے اور پوری کوشش کرنی چاہیے کہ اللہ تعالی وہ وعدہ پورا کریں اور یہی اگر پیچھے مل اسلام نے کیا ہے ان کے خلاف ہے نہ خدا کی تعلیم کے خلاف ہے نہ اس کے رسول کی تعلیم کے خلاف کیسا صاحب بہت بہت شکریہ آپ کا تو ہم آگے چلتے ہیں آپ کو بتاتا چلوں نازاقبل آپ کے حالات موصول ہو رہے ہیں تو جیسے کہ آپ ہمارے اس پروگرام کے موضوع سے آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم یہاں سے اوپر لائیں نشان کے متعلق بات کرنا چاہ رہے ہیں اس کا کوئی پہلو ہے جس میں تعلیم جاری رکھ سکوں ان کا ذکر ہو جائے تو اس لئے اگر آپ ہمیں کوئی سوال کریں تو ہماری کوشش ہوگی کہ پرائیویٹ ہونے والوں کو دیں جو اس موضوع سے ہمارے اگلے پروگرام میں انشاءاللہ ہم پھر بالکل والوں کی طرف سے رجوع کریں گے اور میں آپ کا انشاءاللہ کا جواب بھی آپ مصروف کریں گے تو ہم آگے چلتے ہیں آپ انتخاب کرے گا مخالفین کی طرف سے یہ اعتراض پیش کیا جاتا ہے جو کہ وہ حوالہ دیا جاتا ہے اسلام کی تعریف کی خیرات میں ہے وہاں پہ لکھا ہے کہ ان کے متعلق بابا کو وہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ فورا اس جگہ کو ورنہ خدا سے لڑائی کرنے والے پہلے تو یہ اعتراض ہے جو کسی ممبر نے کیا ہے اور ظاہر ہے ہم سب اس وقت بھی جس دور سے گزر رہے ہیں ہم سب کو گرم ایسے حالات میں کبھی دیکھے بھی نہیں تھے تو یہاں پر تو جو بنیادی میسج جو آج کے حالات یہ کے گھروں میں رہے طالبان پہلے سے یہاں پر جو لکھا جا رہا ہے اس حوالے سے ظاہر ہے کہ فورا اس جگہ کو چھوڑ دیں ورنہ خدا سے لڑائی کرنے والے تھے آگے تویتر لگتا ہے تو اس کے متعلق اس کی حقیقت پر روشنی ڈال دیں جزاک اللہ طارق صاحب ہے کہ کوئی بھی عبارت ہو اگر اس کا پیش منظر اور پس منظر کاٹ کر اس میں سے کوئی اور مفہوم نکالنا چاہے تو ہر بات میں سے دیکھنے والی بات ہی ہوتے ہیں کہ بیان کیا گیا پورا جملہ کیا ہے پورا اقتباس کیا ہے اس کا اصل مفہوم کیا ہے ورنہ صرف کچھ حصہ لے کر جہاد کرنا ہو ہر جگہ ہو سکتا ہے اسی قسم کے غیر مسلم قرآن کریم پر بھی کیا کرتے ہیں گھر کے طور پر قرآن کریم میں سورہ ماعون میں عطا فرماتا ہے کہ فوائد العلم پوری آیت ہے تو اگر ہم اس کا مقابلہ امابعد مولانا بڑے اسے یہی پڑھ لیا میں نے پوری پڑھی ہے کہ ہلاکت ہے نماز پڑھنے والوں کی ہرگز نہیں پڑھتے لاتقربوالصلوۃ نماز کے قریب نہ جاؤ اگلا حصہ پڑھنا ہی بات مسکارا ناجائز اور نامناسب بات ہوگی جو مشکل کریم نے یوتھ کی ہو دخلت انسانوں کی بیان کی ہے جو ان کے طرز عمل پر چلتے ہیں آپ نے دیکھی ہے ہم اس کا آج کل سوشل میڈیا سن رہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تعاون کے ایام میں اپنے مریدوں کے لیے ہدایات پر مبنی ایک اشتہار شائع کیا تھا اس اشتہار میں از مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اگر تعاون کسی علاقے میں پھیل جائیں تو اس علاقے کے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے اس میں ایک حصہ یہ بھی تھا جو آپ نے بھی پڑھ کر سنایا ہے اور اس میں فرماتے ہیں میں آپ کو پورا اقبال کیا سمجھتے ہیں کہ وہ حق بات ہے کیا جب کسی گاؤں یا شہر کے کسی محلہ میں تعاون پیدا ہو گرین علاج ہے کہ اس گاؤں جہاں اس شہر کے اس محلہ کے لوگ محلہ تعاون سے آلودہ ہے فلفور بلا توقف اپنے اپنے مقام کو چھوڑ دے اور باہر جنگل میں کسی ایسی زمین میں اس سے پاک ہے رہائش اختیار کرلی ارے اس میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا اس بارے میں عمل بیان کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ انہوں نے یہی چیز بیان کی تھی میں حضور نے کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ جو تعاون والا علاقہ ہے یا ٹاؤن والا شہر ہے اس شہر کو اس علاقے کو چھوڑیں اور ایسے علاقے میں چلے جائیں جنگ نہ ٹاؤن پہلے ہی نہ کوئی اور قسم یاد آگئے اس بات کا تعلق ہے کیا یہ حدیث میں یہ تذکرہ ملتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے صحابہ نے آپ کے خلاف نصیحت کی ہوتی ہے آسیہ ترمذی میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی ہے وعلیکم السلام نعتیں وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین ممنوعہ مسلمانوں تمہارے لیے میری سنت پر عمل کرنا ضروری ہے اس طرح میرے حضور ہدایت یافتہ ان کی سنت پر عمل کرنا ضروری ہے عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا دور خلافت کا دوسرے ملک شام میں طاعون پھیلا رہی تھی پنجاب ٹاؤن پھیلی اس وقت مسلمانوں کا ایک لشکر رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت نے شام میں موجود تھا ایک گھٹی میں موجود تھا وہ جب طاعون پھیل رہی اس وقت عمر فلسطین سے شام کے علاقے میں آئے اور اس میں آپ کو بتایا گیا کہ آگے جو علاقہ ہے وہاں طاعون پھیل چکی ہے مسٹر سے ہی واپس مدینہ کی طرف پڑھنے کا ارشاد فرمایا اللہ انہوں نے یہ سوال کیا کے افراد لطیف المسلمین اللہ تعالی کی تقدیر سے فرار اختیار کر رہے ہیں اس پر حضرت ابوبکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رومن قادر اللہ علاقہ حالانکہ ہم اللہ کی ایک تصویر سے اس کے دوست جا رہے ہیں دوہزار رضی اللہ انہوں نے اس علاقے کو چھوڑا اور مدینہ کی طرف آ گئے اس وقت عمر بن العاص رضی اللہ انہوں نے یہ حدیث بیان فرمائی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تو ہے آئینہ ہورن آنا جانا ادھر تو نہیں سونگ تمہاری ہے حد ہے کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے تو اس علاقے کو خلاف اور چھوڑ دو وادیوں میں اور مافیہا ضلع بہاولنگر پنجاب دی ہے اور جو پہاڑ ہیں یہ پورا علاقہ ہے جو کھلاؤ سے چلے جاؤ اسلم نے جہاں یہ بالکل بات درست ہے یہ فرمایا تھا کہ جس جگہ کوئی وبا پھیل جائے اس علاقے کے رہنے والے غیر علاقے میں آ جائے جہاں بابا نہیں ہے جی علاقے میں نہائے جاؤں باہر نکلنے کی بنیادی وجہ ہے کہ لا تلقوا بایدیکم لاتعلق اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سمائی ہے لیکن جو ہنسی ہے وہ السلام نے فرمایا حضور نے یہ ہرگز ہرگز نہیں فرمایا کہ آپ اپنے شہر کو اپنے پاؤں کو چھوڑو اور ساتھ والا شہر ہے سات سو والے بوہے بند کر لے جاؤ کیا ہے کہ اپنا گھر چھوڑ دیا آپ نے جس جگہ رہائش پذیر ہیں وہاں سے ساتھ یہ جو خلا کیا ہے اس میں مجھے وہ صاف ہے تاثیر تو عجوبوں میں ہدایات دے رہے ہیں آج بھی دور میں یہ دعا دے رہی ہے اپنے گھروں کو صاف رکھیں کھلی فضا میں رہی بند رہی اس چیز کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا میں مسلم شریف کی شرح ہے جو حضرت امام شرف الدین نووی رحمہ اللہ نے لکھی ہے المنہاج میں باقاعدہ طور پر لکھا ہے کہ اگر کسی جگہ اون ہو تو پھر جو ساتھ کھلا لگتا ہے وہاں جانے میں فلا حرج ہے کسی قسم کا کوئی ممانعت نہیں ہے جو ساتھ پنجاب ہمارے بزرگ ان سے کہتے آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو سمجھنے کے باوجود ہے عمر رضی اللہ انہوں نے بتایا ہے کتنی ہونی چاہیے عمر رضی اللہ عنہو بسیدنا عبید بن جراح سے واپس مدینہ تشریف لائے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور نے ایک خط لکھا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اب میں آپ نے فرمایا ہے کہ آپ نے ان جو مسلمانوں کا لشکر ہے اس کو ایک ٹانگ گھٹی میں اتارا ہے طور پر جو روز ہر جگہ کھلی جگہ ہے اس پر منتقل ہو جانا میں نے کہا کیا وہاں سے شام کو چھوڑیں اور جسے چاہتا ہوں نہیں ہے جسے کا چلے جائیں بلکہ فرمایا جس جگہ عطا ہو میں لوگوں کو شہر کا احترام کا علاقہ ہے وہاں چلے جائیں وہاں رہائش ہے کہ پولیس ان میں ممکنہ طور پر جراثیم کام ہوں گے اور کسی ایسا نہیں ہوں گے اور مسیح علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی وسلم کی احادیث سے ثابت ہے جو آپ نے مسلمانوں کو ہدایت دی تھی کہ تعاون کے دنوں میں اپنے اپنے گھروں کی صفائی رکھی باہر نکلیں فضا میں عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے قول سے ثابت ہے تو اس میں کسی قسم کی اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اگر ایک لفظ پکڑ کر اس کا سیاق و سباق میں بیان کیا جائے تو پھر نہ صرف مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کے ہر تحریر پر اعتراض ہو سکتا ہے بتایا آپ کو کہا شہزاد غیر مسلم میں وہ کرنے کا کیا کرتے ہیں جس طرح میں نے ایک آیت بھی بتائیں کہ قرآن کہتا ہے والمسلین اگر اس کو سیاق و سباق میں نہ پڑھا جائے تو اس کے بالکل الٹ بندے ہو جاتے ہیں ان کی نماز ہوا ہے ان الصلوۃ تنہا عن الفحشاء والمنکر والبغی آج کا ناگن ماجوکے ہلا کر جو کسی قسم کی بات درست نہیں ہوسکتی اس قسم کی مثالیں قرآن کریم میں بے شمار موجود ہیں کہ جب تک پوری بات کو نہ سمجھا جائے بات درست نہیں ہو سکتی پرانے کتنے دن کا ہوتا ہے اسی طرح آپ کو اشارہ کر دیتا ہوں باقی تفصیل کرلیں گے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہم نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو ظالم آیا ہے ہلکانو جمیل ایمانی کر دے کے آپ گمراہ دے نے ہرگز نہیں محبت الہی میں سر شاہ گانا کیسے ہوتی ہے جس میں لکھا تھا کہ معاذ اللہ صاحب کو معاف گواہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی گوا عمر ہوئی ہے نا کسی قسم کے رابطے ہیں تو ہر جو لفظ ہے ہر نقطہ مقام مداریت حملے کا ہر لفظ کا اصل مقام ہے اس مقام پر ہم نہیں رہیں گے تو ابھی پڑھ سکتے ہیں تو سب بہت خوش بلال آپ کی باتوں میں ہمیں بہت اچھی کلیئر ہو چکی ہے ہم آگے چلتے ہیں شاہ رخ خان سر آپ سے درخواست کرے گا یہ جہاں تعاون کا ذکر ہوتا ہے وہاں بھی اپنے فارسی بات چیت کی کے سنت نبوی میں سے شامل ہے بلکہ یہ چیزیں ملازم چیزیں تیار کرنی چاہیے کہا ابو یہ بھی آپ ہمیں فرما دیں کہ جو ہم سے وعدہ تھا کہ عزت میں رکھے گا آپ کو رات کے ماننے والوں کو وہاں دیکھنے کو ملا ہے کہ وہاں کچھ تو اس کے متعلق اپنے دوستوں کو بھی بتائیں کیا لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ اس سے پہلے جو ایک سوال ملے تھے اور اس کے ساتھ اس کا ذکر کر دینا پلیز اس سال سے آیا محمد انور صاحب بیان وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ پاکستان میں احمدیوں کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے مثال کو آسانی سے لیتے ہیں پھر اس کے بعد میں اکاؤنٹ کے متعلق شکریہ یہاں تک کہ پاکستان میں احمدیوں کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے میرے مخالفت نہ کی جاتی تو ان کا اخراج بنتا تھا اگر مخالفت کی جارہی ہے اور یہ اسلام کے علاوہ نبوت سے لے کے اب تک مخالفت ہو رہی ہے تو نہ تو سچائی کی علامت ہے اس لئے کہ مخالفت اور اس مخالفت کے اندر اللہ تعالی کامیابی سے اپنی جگہ کے لے جائے یہ اس کے سچا ہونے کی علامت ہے بلکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ تمام انبیاء کے ساتھ یہی کچھ ہوا ہے العباد ما یاتیھم یا رسول اللہ کا نام بھی استاد مضمون کے اوپر ان کے پاس کوئی ایک بھی ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انھوں نے حقیقت اور اس سے زیادہ نہیں کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا کا علاج نہ کروانا اللہ اس قوم یہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے جو اس نے کھا لیا ہے امریکہ کی مخالفت ہوئی ہے تاکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہوئی ہے ان کو کافر اور ان کے ساتھی کا استعمال کیا گیا ہے اور ساتھ ہی اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ماں کا بھی لحاظ سے ملے گا کہ تجھے بھی وہی کچھ کہا جائے گا جو اس کو کہا گیا ہے یہ سلوک کیا جا رہا ہے میں پہلے انبیاء کے ساتھ کیا سلوک ہوتا تھا یا نہیں ہوتا تھا تھا تو یہ تو سوچو کی نشانی ہے ان کی مخالفت ہوتی ہے اور مخالفت کے باوجود لالٹین کو کامیاب نہیں کرتا چھوٹی بے بس ماں کو جس کے پاس داری کا سامان بھی کوئی نہیں ہوتے مسلمان نہ ہونے کے باوجود اور مقالات بینک کے باوجود کہتے ہیں کمزور ہونے کے باوجود کامیاب ہوتی ہے کیوں پیچھے خدا ہوتا ہے اور وہ خدا کی تمام طاقت سے زیادہ طاقت اور یہ لوگ کہتے کا بھی ثبوت ہوتا ہے یہ سچائی کا بھی ہوتا ہے جماعت احمدیہ کی مخالفت ہوتی ہے اللہ تعالی ہمیں بچاتا رہا ہے اور کامیاب کرتا رہا ہے اعتراض کی بات نہیں ہے مخالف تو بڑی خوشی کے ساتھ قبول کرتے ہیں یہ تمام انبیا کی سنّت ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور اسی پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے کامیابی و کامرانی عطا فرمائے آپ کے دوسرے سوال کا تعلق ہے آپ کے سے بات ہوئی ہے اس سلسلے میں میں عرض کروں گا اس کا دھوکا کی فضا نہ بالکل اور بات ہوتی ہے اور جس طرح پیش ہوئے بھی میں نے بیان فرما دیا ہے خالی ہو جانا اور خاندانوں کے خاندان کو چھوڑ جانا یہ بالکل اور چیز ہوتی ہے جب پیشگوئی کا ذکر ہم اسلام نے پیش گوئی کی ہے فرمائی تھی اگر آپ اجازت نہ توڑے تھے حضور کی حفاظت کے متعلق فرماتے ہیں مثبت مقابلہ تعاون کے حملے سے بچا رہے گا آنٹی جو ان میں پائی جائے گی اس کی نصیب کسی اور گروپ میں قائم نہیں ہوگی لنگرے کہ اگر شاذونادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بذریعہ ٹاؤن کیوں موسی علیہ السلام اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہا تھا تلوار اٹھائی اور ان کو تلوار سے ہی قتل کیا جائے یہ نبیوں کی طرف سے ایک نشان تھا جس کے بعد دھاندلی ہوئی مقابل مجرمین کے بھی ان کی تلوار سے قتل ہوتے تھے مگر بہت کم شاذونادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بعض کو بعض ایسے عشق پہ مجبور ہو جائے نہیں میں نہیں ہوگی اسلام نے تو خود فرمایا تھا کہ اگر اس کا دوپٹہ کیسے سو جائیں ایک بار اللہ تعالی ہمارے درمیان اور ہمارے مخالفین کے اس ٹائم کے ذریعے کرکے دکھائے گا مخالفین کا اعتراض میں اس وقت اخبار کب سے آگے تھا اور پاکستان کبھی ان کو بڑا اس بات کی خواہش ہے کہ کاش قادیان کے اندر بھی ہو قادیان میں طاعون آ گئی ہے اور آمدنی بھی اس کا شکار ہوگیا انہوں نے افراد کی لسٹ دیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نزول المسیح اس کا مطلب یہ ہے لگائے تھے میں اس اخبار نے جو الزامات لگائے کہ بھی احمدیوں کو بھی تو نہ ہو گی یا ہلاک ہو گئے اس میں تین قسم کی غلط بیانی ہونے کی وجہ سے ان کا ذکر حضور نے زندگی میں فرمایا ہے علی تو یہ بھی کے نام لکھے ان میں بعض افراد کو بے موجود تھے ان کو ٹاؤن ہوئی نہ کو فوت ہوئے لیکن ان کا نام لکھ دیا گیا علامہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں لکھا گیا کہ یہ ان کی اہلیہ اور لکھا کہ ان کی کون سے بات ہوگی ہوئی اور نہ وہ بات ہوئی ذرا ایک دوست سے ملا چوکیدار ان کے بارے میں لکھا گیا کہ ان کی بیوی تو ان سے بات ہو گئی ہے حضور نے تمہیں کہا آ کے دیکھ لو جو بھی آ گیا ایسے افراد کے نام دیے گئے جو قادیان میں کبھی بھی نہیں نام و نشان نہیں کہ وہ قادیانی رہتے ہیں نہیں تھے انڈے کہاں سے یہاں کلک کریں باقی بھی کے نہیں تھے اگر تھے کو ابھی ہوگا تو ہم سا ہوگا کا بند ہونا لیکن مجھے ہی لی اس طرح یہ کہ بعض ایسے افراد ہیں جو باقی خود تو ہوئے لیکن وہ تعاون سے خوف نہیں ہوئے تھے کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ایک گدھا پیلی نام کا ایک شخص تھا فتویٰ اور وہ پاگل کتے کے کاٹنے کے واقعات کتے کے کاٹنے سے جب بیماری پیدا ہو جاتی ہے اس کی اقسام نہیں ہے کے لوگوں سے پوچھا جا سکتا ہے کل میں اب بچہ کے تھا نہ کہ کون تھے پھر ایک اور نوجوان پیداوار تھا وہ ہمارا آدمی تھا اس کو بخار کو بخار کی وجہ کبھی ساون کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے اللہ کے ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ موجود تھا کہ وہ تعاون سے نہیں بلکہ عام بخار سے بہت ہوا ہے کیا انہوں نے چالاکی کیا کر میں یہ مخالفین کے ہرے ہوتے ہیں لوگوں کی توجہ کو اٹھایا جائے لوگ سچائی کی طرف نہیں بولا جاتا بولی اس بعد میں بھی ایک بار پیار کیا دوسرے میں نے بھی طریقہ اختیار کیا لیکن اس کی پیش ہوا بھی ہو تو یہ اس میں ان کے خلاف بنتا ہی نہیں اس کا نتیجہ کیا نکلا اس میں کی گئی تھی ایک لاکھ تاریخ اٹھا کر دیکھ میں جماعت احمدیہ کی کہ اس سے پہلے کبھی جماعت احمدیہ کے اندر کتنے لوگ شامل نہیں ہوئے تھے جتنے تعاون کے دنوں میں ہوئے کی تعداد ہے جو بیٹھے ہیں وہاں کوئی ہیں اور اس وقت جو جماعتیں ایک بار تھا اس میں لفٹ شائع ہوا کرتی تھی جو نئی نئی بات کر اور تعاون کے دور میں اس قدر کثرت کے ساتھ رہتے ہوۓ کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ اس اتنی زیادہ تعداد میں بیٹھتے ہو رہی ہیں نام بتایا نہیں کر سکتے لہذا اس اخبار نے انہوں نے یہ لکھایا کرنی بند کر تھا کہ ایک طرف وہی تعاون دوسروں کو گھٹا رہی تھی جماعت احمدیہ کی تعداد میں اضافہ کر رہی ہو چیزوں کو لے کے آ گردش میں کہتا ہے کہ یہ کیا کیا یہ سب کوئی حقیقت نہیں ہے اگر ہوا بھی ہے تو وہ جہاں اسلام کو مٹانے اور پیچھے مولانا مکی اس کو کم نہیں کرتا بلکہ اس میں اضافہ کر رہا ہے کہ آپ کے مرنے والوں کی تعداد کا ذکر بھی لیکن آپ کی جماعت میں شامل ہونے کی تعداد لاکھوں میں تھی اگر یہ صورتحال پیدا ہو اس یہ عمل اس کو کامیاب قرار دیا گیا جزاک اللہ بہت شکریہ بلکہ کیا میرے حضور سے محبت کے حوالے سے صرف تم سے کے حوالے سے پڑھائی کی جن میں پانچ پانچ سو کے قریب میں تو خود ہی کرتے تھے تو یہ دن خاص تھے تاہم جیتنے ترقی ہوئی اللہ تعالی کا نشان لوگوں پر ظاہر ہوا تو ہم آگے چلتے ہیں سب سے پہلے رسالہ مشہور ہے وہ سوالات کی نوعیت کے سوال آتا ہے تو آپ سے یہ درخواست ہے کہ ہم پر یہ الزام ہے کہ ہمارے بھی اس کے ساتھ یہ طریقہ سے مناسب جواب نہ دیا کریں تو فیمس آج کا پروگرام پیش کیا جاتا ہے تو برائے کرم آپ اس پروگرام میں حالات پیش کریں تو انشاءاللہ انڈیا بھی جا چکا ہے اور اسی طرح ہمارے پاس جو سوالات منصور ہوئے نہ صرف اس کتابچہ میں شاہ صاحب ہیں نادیہ خان صاحب ہیں محمد اکرم صاحب ہیں ندیم صاحب ہیں رانا صاحب ہیں طاہر محمود صاحب ہیں اسلام احمد گل صاحب ہیں تو انشاءاللہ ہم بچوں کے پروگرام کا دورانیہ ایک گھنٹہ ہو چکے ہو گیا ہے اور ہم پہنچ رہے ہیں اگر جن کے حالات بدل جائیں گے ان شاء اللہ اگلی پروگراموں کو بالخصوص شامل کریں گے آپ کے سوالوں کا جواب دیں گے تو ہم آگے چلتے ہیں یہ بہت ہی عجیب قسم کا اعتراض ہے جو جب کھلی ہوئی ہے جماعت احمدیہ پر کیا جاتا ہے بلکہ جو مخالفین ہیں وہ تو ایک چیز جو قابل تحسین ہے اس کو بھی عوام پر بھی زکوٰۃ ہوتی ہے اور ان پر اعتراضات الزامات لگانے کی وہ ان چیزوں کو کبھی نہیں چھوڑتے پھر بھی اسی نوعیت کا ایک اعتراض ہے اللہ تعالی کے فضل سے جماعت احمدیہ کے پاس وہ کیا الہی کی عادت ہے جی کو خلافت حقہ کہتے ہیں فرقہ جو جس کے فقدان کی وجہ سے آج امت مسلمہ میں کاجو سامنے امت مسلمہ کو کرنا پڑ رہا ہے تو ہمارے پاس جو ہمارے پیارے خلیفہ ہمارے امام حضرت یوسف میں نے صرف 20 رنز کی الہی قیادت کے تحت جماعت احمدیہ کو جہاں آپ کو کالا باغ میں جانے کی طرف جو مختلف ذرائع طریقے ایم کی طرف توجہ دلاتے ہیں وہاں حقوق العباد کی طرف بھی تجمل آتے ہیں اور خلافت کی نعمت کے ذریعہ سے ایک جماعت 13 منتظم صاحب کی طرف سے جیسے ارشاد ہدایات ملتی ہے آپ دنیا بھر میں ان کو دیکھتے ہیں کس طرح سے وہ سرگرم ہوجاتے ہیں اور وہ ہدایات اور رہنمائی کو عملی جامہ پہنانے کی پوری طرح سے کوشش کر جاتے ہیں اسی طرح سے ان دنوں میں بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمارے خلیفہ نے جماعت احمدیہ کو جہاں کی بھی وہی ہے انسان کی اپنی خدمت کرنی ہے انبار کے دن میں بھیجو احتیاطی تدابیر ہیں ان کو محفوظ رکھتے ہیں کرنی ہے کہ جہاں کہیں بھی ہو سکے آپ حضرات بجا لائیں اور بالخصوص جو عظیم ہے کیسے دنیا میں ہر جگہ جہاں کہیں بھی یہ تنظیم قائم ہے جماعت احمدیہ کے اثرات صرف انسانیت میں پوری طرح سے سرگرم نظر آتی یہاں پر بھی جو مرضی ہے وہ یہ اعتراض کرتے ہیں جماعت احمدی آ اس تنظیم کے ذریعے سے مخفی طور پر خفیہ طور پر اپنا منہ بتاتے ہوئے گویا دوسرے رنگ میں اپنی تبریزی کام کر رہے ہیں اور اس کے آر تاکہ جماعت اسلام احمدیت کے جو کام ہے وہ رہی ہیں کیا جاتا ہے یہ بھی کیا احمدی لوگ ہیں بلکہ ہمیں فرصت کے نام سے لوگوں کو امداد پہنچا رہے ہیں لوگ ان سے متاثر ہو جاتے ہیں اور انہیں پتہ ہی نہیں ہوتا معصوم لوگوں کو کہ یہ لوگ تو ہم بھی ہیں بس ہم نے جانا ہرگز ہرگز نہیں سب ممنوع ہے میں نہیں جانا چاہیے ان کی بات نہیں سنی اس حوالے سے ایم این اے صاحب آپ سے خاص درخواست کرے گا کچھ وقت تو شاید آپ برائے کرم اس بارے میں کچھ فرما دیجئے گا کہ یہ جو الزام ہے کہ چوری چوری مسلمانوں کے مال پر اس طرح سے ڈاکہ ڈالا جارہا ہے ویڈیو دیکھنے کو ملی ہے کہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور محتاط رہیں کہ میری فرسٹ ٹائم بھی ہیں تو اس متعلق آپ ہمیں جزاک اللہ طارق صاحب چند ایسی ویڈیو دیکھی ہے جن میں خاص طور پر ایک سن کر رہے تھے کہ آمدی پہنچ رہے ہیں اور میوزک البم لگا کر آزاد کر رہے ہیں ساتھ تبلیغ کر رہے ہیں عوام نے یاد آیا کہ جو مشہور شرح فارسی کا کے دروغ گورا حافظہ نبا شد جھوٹ بولنے والا ہے اس کا حافظہ کبھی بھی استعمال ہوا کرتا ہے اگر جماعت کی تبلیغ ساتھ کر رہی ہے یہ کہنا کہ جو مکھی کر رہی ہے اور لوگوں کو پتہ نہیں چل رہا ہے بات جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انسانیت کی خدمت کرنا منع ہے ہرگز نہیں ہے بلکہ ایسے یا میں جب جیسے کہ آج کل کے حالات ہی نہیں یا میں تو خاص طور پر اسی طرح توجہ دینی چاہیے کسی قسم کے لوگ ہیں جنہوں نے جو غیر مسلموں کو موقع دیا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قسم کے اعتراض کریں اور اسی طرح پر اعتراضات کی مثال کے طور پر قرآن سے توبہ میں کہتا ہے صرف آٹھ سو بیانوے ہیں زکوۃ کے سارک میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ جمع ہوں گے وہ مولفہ قلوب جو ہوتی ہے لوگوں کو قریب کرنے کے لیے لوگوں میں الفت پیدا کرنے کے لیے اپنے قریب کر اس بار حاجت کے مسلم اتحاد کرتے رہتے ہیں لیکن اسلام کا لوگوں کو اپنے پاس کر رہا ہے حدیث میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے مجھے یاد بڑا ہے دفعہ ایک بدی حضور صل وسلم کے پاس آیا اور اس نے آکر حضور سے کہا کہ مجھے حضور کچھ ایسا کیجئے اس بہانے فتح مکہ کے بعد کرنا کیا ہے وہ اس حدیث میں کے دو پہاڑیوں کے درمیان اتنا بڑا ریٹ تھا جو موجود تھا تو حضور مہجوری اور جا کر خود بھی کھاؤ اپنی قوم کو ملا وئ گم بندہ واپس گیا اس نے جاکر اپنی قوم کو اطلاع دی کہ لوگوں کو مسلمان ہو جائے اسلام قبول کر لو اسلام قبول کر لو تو کیا ہوگا نہ صرف آپ لوگوں کو بلکہ سات معلوم تھا بھی ملے گا تو ہم اللہ کے فضل سے خدا تعالیٰ کے جس طرح خدا تعالیٰ نے سورۃ الماعون میں فرمایا ہے کہ مومن وہ ہیں جو مسلمان وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی نمازیں پڑھتے ہیں ان لوگوں کے نیک کام کرتے ہیں تھوڑی چیز مصروف تھے نہایت اللہ عابد القاضی والدین از العزیز اور جملہ میں مسکین کہ جو نیک نہیں ہے کی خصوصیات ہے مومن کی خصوصیات بہرحال اس کے برعکس ہیں توصیات ہے جو ایسے لوگ ہیں جو لوگوں کو دینے سے روکتے ہیں یتیم بچوں کو کسی قسم کی معلومات اس کی مدد کرنے سے روکتے ہیں پھر لوگوں کو بھلائی ہو صورت حال مسکین لوگوں کو کھانے پر تنقید نہیں دیتے ان کو ہی نہیں کرتے بلکہ جو مہیا کیا جا رہا ہے اس میں فراڈ کر لیتے ہیں قلب المؤمن کون ہوں گے منظور ہوں گے جو پر ایسے یا میں جب جوتا موجودہ ومساکین موجود وغربا موجود ہیں ان کی خدمت کرنے والے ہو تو جماعت وہ میں نے ٹیسٹ کے لیے جماعت کی تنظیم کا نام ہے بہرحال سے خالی ہے میرا مقصود و مطلوب و تمنا خدمت خلق است اگر کسی کو ہم نفس کے نام کا نہیں تو اس کا نام کا نام نہاد ملزم جو ہے وہ آدم شہباز نہیں آتا تو باقی ہمارا کام ہے لوگوں کی خدمت کرنا ہم کسی کے اعتراض سے ڈر کر یہ خلق سے باز نہیں آ سکتے جماعت کا طرہ امتیاز ہے ہر احمدی فخر محسوس کرتا ہے اور جب ہم خدمت خلق کرتے ہیں تو پھر ہم جنگ نسل مذہب و ملت کچھ نہیں دیکھتے ہم انسانیت کی بنا پر خدمت کرتے ہیں اسی لیے ہماری وہ اس کا نام ہے ہم tv بہت بہت شکریہ یہاں پر مسح دائیں کولہے رضوان صاحب بنگلہ دیش سے ہم کا سہارا لیتے ہیں ویسے تمہارا پورا بالکل تو کیونکہ کال پر آئے تو آپ فارم لے لیتے ہیں صرف زبان سے تین سال کا جواب ہے مجھ کو اپنے پروگرام میں شرکت مشکوک السلام علیکم قاری رضوان صاحب سلام علیکم و رحمۃ اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علیکم زیدی میرا اکاؤنٹ ایکٹیویٹ پر گزر گیا آپ اس کا غرور تھا اسی وجہ سے مجھے چاہیے ہے یعنی دس سال گزر گئی ہے تو اس کا غلبہ کب آئے گا اور ایک سو تیس سال میں جو نشانات اور سچائی کے حوالے سے بھی آپ نے اس کو اگر پروگرام ملیں گے اس ساری گفتگو کریں گے میرے پاس دو منٹ لے گئے ہیں تو احساس کرے گا اس موضوع پر رحمت تو اس میں ایک بہت بڑا پہلے بھی تو ہے نہ کہ یہ جو کام ہے صرف تم تعلیم ہے جو کچھ نہیں کرتے ہیں اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کی ہمیں بتا دیں کیا کروں گا جو آپ نے بھی فرمایا احمدی مجھے بتاتے کیا جماعت احمدیہ ہے اور خفیہ طور پر ہونے کی تبلیغ بھی کرتے ہیں حیرت یہ جو ہے نا تو اس بات پے اپنا نام نہیں بتاتے اس کا نام کا مطلب پاکستان کے وہ چوری چوری کام کرتے ہیں تکلیف ہوتی ہے تبلیغ کرتے ہیں تو تکلیف تو ہوتی ہی تعمیر کیا اپنا بندہ بتاتا ہے اس کا نام پر لی گئی ہے اس مولوی صاحب کیا کر تبلیغ کرتے ہیں مطلب ہے کہ وہ جو میں نے ابھی تک بھی بتاتے ہیں کہ میں نے کئی بار تمہاری گلی میں کمپاؤنڈ لوگ ہیں لیگ نہیں کرتے بتاتے ہیں اگر وہ تبلیغ بنتی نہیں ہیں متضاد چیزیں ہیں کہ میں نے بھی بس بتاتے یہ بھی کہنا ہے کہ وہ تبلیغ کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے پڑھ لی ایک دن میں نے بات کی ہے تم نے دیکھی بھی رحمت اللہ صاحب بیان کرنا ہے عقبہ کے اوپر کرنا بہت ضروری ہے انسان کے لیے لیکن خطرناک بتایا کہ تم نے کیا اعمال یوم الجمعۃ بعد ایسا دن جب دیکھا جائے یہ ایک دن کا آزاد کرنا ہے مٹی میں مل گئے ہیں ان کے پاس دریا کوئی اس کو دل میں قیام امن ناممکن ہے جو قریبی حکیم ہے اس کو بھی اس کے اوپر عمل کرنا جائز ہو گیا کھانا کھلانا شروع یا کرنا یہ ضروری ہے یہ تو ان کا ہوتا ہے ان کے مجرم کہہ رہے ہیں کہ میں جو خدا کا حکم ہے تو ایسے تیمور مسکینوں کو جو لوگ نہیں دیتے وہ خدا کی کر رہے ہیں میں تیرے عشق میں اضافہ والی کیا بات ہے شہرت ہم کو محبت کی کتاب کرتے ہوئے ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں خدمت کر رہے ہیں انشاءاللہ کرتے جائیں گے یہ خدا کا حکم ہے اور خدا کے حکم کے میں کیسے جاتا بہت شکریہ ناظرین کرام ہم اپنے پیغمبر اسلام کو پہنچ چکے ہیں تو انشاءاللہ اگلے دو پروگرام بھی ہم یہاں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے آپ بھی یہ عمل ناراض ہے اور ہم یہ کہتے اڑان دیکھے گیا تو تب تک یہ اسلام علیکم ورحمۃ اللہ مسلمۃ مسلمانوں کا قدیم دور رکھتے کہہ دینا صلی

 34 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: