Rahe Huda – Sabar Aor Dua Par Bharosa – Muhammad pbuh Qabal Az Dawa




Rahe Huda – Sabar Aor Dua Par Bharosa – Muhammad pbuh Qabal Az Dawa

Rah-e-Huda – 11th March 2020 – London UK

اس سے لعنت اسے دل سے نہ بھلا گیا خدا یہی نہیں ہے سوچ نبانا لو جان ہم سوری یہی بسم اللہ الرحمن الرحیم وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ قرآن کریم کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں وہاں سے سنت یا یہ معلوم ہوتی ہے کہ مختلف انداز میں مختلف اوقات میں انبیاء اللہ تعالی کی جناب میں سروس سروس ہوتے ہوئے اپنی ابتدائی پیش کرتے رہے ہیں حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام نظر آتے ہیں جو وہ اللہ تعالی کے حضور گزارشات پیش کرتے ہیں کہ ربانہ ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین اور پھر حضرت موسی علیہ السلام جب پیاس بھی تھے بھوکے بھی تھے اور گھر بار بھی نہیں تھا تو آپ یہ احساس کرتے ہوئے ہمیں قرآن کریم میں نظر آتے ہیں کہ ربی انی لما انزلت الیہ من خیر فقیر اور پھر حضرت زکریا علیہ السلام کی وہ دعا ربی لاتذرنی فردا وانت خیر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی ہی مجسمہ آ رہی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف دعائیں ہیں جن میں سے ایک دعا یا حفیظ و یا عزیز و یا رفیق برحمتک استغیث ہ کےے یہ پروگرام راہ خدا ہے جو آج 11 اپریل سن 2020 ہفتے کے روز جی ایس ٹی وقت کے مطابق ایم پی اے انٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے شام 4 بجے پیش کیا جارہا ہے جبکہ برطانیہ میں اس وقت شام کے پانچ بج چکے ہیں اب سے اگلے ایک گھنٹے تک تقریبا آٹھ منٹ تک یہ پروگرام جاری رہے گا اور موجودہ حالات کے پیش نظر ہم نے آج کے پروگرام اور گزشتہ پروگرام میں بھیجو موضوع رکھا ہے اور دعا پر بھروسے کا ہے ابو کا سلسلہ وہیں سے جاری رکھیں گے خاکساری آپ سے بات چیت کرے گا جبکہ سعد اسکائپ کے ذریعے اس وقت محترم فضل الرحمن صاحب اور اسی طرح ٹیلیفون لائن کے ذریعے ہمارے ساتھ ہو گئے نصیر احمد قمر صاحب ناظرین کرام آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی شعبہ ہمارے لئے اسوہ کامل ہے لاہو علیہ وسلم قرآن کریم کی عملی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر ہی نگاہ ڈالیں گے لیکن میں یہ عرض کرتا چلوں کہ پروگرام راہ خدا اور سا میں آپ لوگوں کا پروگرام ہے آپ اس پروگرام میں کس طرح شامل ہو سکتے ہیں اس کے دو طریقے ہیں ایک ہمارا واٹس ایپ نمبر ہے وٹس ایپ نمبر پر آپ اپنا میسج کے ذریعے سوال بھی سکتے ہیں وہ وائس میسج بھی ہو سکتا ہے اور تحریری سوال بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ ہم سے براہ راست بات کرنا چاہیں تو اس کے لیے آپ ہمارے لۓ نمبر سے رابطہ کر سکتے حمل کے دوران یہ دونوں نمبر آپ کو اسکرین پر آگے ان ابتدائی تعلیمات کے ساتھ محترم نصیر احمد قمر صاحب کی طرف جاتا ہوں نصیر قمر صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سید قمر صاحب جس طرح کل کے خطبہ جمعہ میں سیدنا ابو امامہ نہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت احمدیہ کو اگر دیکھا جائے تو ساری دنیا کو دعا کی طرف توجہ دلائی ہے میں چاہتا ہوں کہ ہم اسی پہلو سے اپنی گفتگو کا آغاز کریں اور آقا و مولا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نگاہ ڈالی کیوں ویڈیو فی کامل ہیں تو آپ ہمارے سامین کو اس پروگرام کے آغاز میں یہ بتائیں کہ ہمارے پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے قبل کی جو زندگی تھی اس میں کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صبر کرتے ہوئے اور دعا پر بھروسہ کرتے ہوئے نظر آئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ زندگی جو آپ کی دعوت سے پہلے کی زندگی تھی بلال موت کے بعد کی زندگی اور ساری کی ساری تمام بنی نوع انسان کے لیے عظیم الشان نمونہ ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دیکھتے ہیں آپ ابھی چند ماہ کے تھے والد محترم ہوگی اور آپ یتیم ہوگئے آپ 60 سال کی عمر میں آپ کی والدہ کی وفات ہوگئی اور آپ کی کفالت آپ کے دادا نے لے لی ابوجو اللہ کے ساتھ آپ نے وقت گزارا ہے وقت معلوم ہوتا ہے کہ بالکل بچپن میں ہیں حلیمہ سعدیہ جو آپ کی دعائیں ان کے ساتھ اور آپ مکہ حضرت حلیمہ کے قبیلے میں رہے اور جب وہ کچھ عرصے کے بعد 2000 کے بعد تقریبا آپ واپس لے کے آئیں تو اس بارے میں کہتے ہیں کہ میں پھیلی ہوئی تھی اور آپ کی والدہ محترمہ نے فرمایا کہ ابھی آپ ان کو پھر واپس لے جائیں آتا ہے اس میں سے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ سے بھی الگ جدائی میں اپنی رضاعی والدہ کے ساتھ گزارا اور پھر والدہ کی وفات ہوئی ہے یہ اگر آپ 7 بنا کے واپس تشریف لا رہی تھی اور بےبسی کی کیفیت میں اس حالت میں آپ کا بچپن گزرا ہے کے یتیمی پر دادا نے کفالت لیاقت سال کے ہوئے تھے کہ دادا کی وفات ہوگئی اپنے بیٹے اور حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب سے فرمایا کہ آپ ان کی کمان سنبھال لی کیا خیال رکھا کرتے تھے نیک نیتی میں کی ایک عجیب کیفیت تھی میں مکمل طور پر دوسروں پر ہنسنا تھا اس زمانے سے متعلق بہت کم واقعات ملتے ہیں لیکن جو ملتے ہیں ان میں یہ ذکر ہے حضرت ابو طالب کی یا بچوں کو کھانا ہمارا کوئی دیتے ہیں تو آپ میں ایک ایسا صبر اور تنہا تھی آپ نے کوئی مسئلہ جب بھی نہیں آئی ہے وقار تھا حضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں بھی آپ کا یہی تو نہ تھا اگر کسی اور کو چیز مل رہی ہے تو مل رہی ہے بڑے صبر کے ساتھ انتظار کیا کرتے تھے اور جب آپ کو کوئی چیز دے جاتی کا استعمال کرتے قرآن مجید میں جو اللہ تعالی نے یہ وہ اس لاہور کے خوبصورت عکاسی کرتا ہے الہی میں تجھ سے دعا کیا اس نے تجھے یتیم نہیں پایا اور پھر مجھے پناہ دی بہت تکلیف کے حالات میں گزری جب جوان ہوئے ایسے صادق اور امین کے طور پر معروف ہوئے لڑائی جھگڑے میں نہیں ہمیشہ خدمت خلق سب سے بڑا لینے والے پر جو ایک مشہور معاہدہ حلف الفضول کے نام سے معروف ہے اس میں کچھ لوگوں نے کیا کہ ہم کی مدد کیا کریں گے جو جس قسم کی بھی خدمت کی جاسکتی ہے مخلوق خدا کی قسم ان کا ہاتھ بٹائیں گے اس میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکت فرمائی موت کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ والدہ کی طرف بلائے تو میں اس میں شامل ہوگا صبر اور قراءت اور تحمل اور برداشت یہ ہے وہ آپ کا سارا ٹبر چور ہے یا اس کا نمونہ اس وقت خاص طور پر نظر آتا ہے کیا اللہ تعالی نے آپ کو نبوت کے مقام پر فرمایا کراچی مکہ نے آپ کی مخالفت میں بہت زور لگایا اور یہ کہا کہ آپ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہیں تو ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خلع کی طرف سے توحید کے قیام کے لئے کھڑا ہے آپ نے ان کی باتوں کو بالکل نہیں مانا اور جو مشن توحید کے قیام کا آپ کے سپرد تھا اس پر قائم رہے اس طرح سے کیا کوئی چال سازش کوشش انہوں نے یہاں تک کا اگر آپ کو دولت کی خواہش ہے ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں اگر عرب کی خوبصورت ترین عورت سے شادی کرنا چاہتے ہیں اس کے ساتھ شادی کروا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں کو تیار ہے لیکن اسلام کا پیغام لے کے آرہے ہیں عورتوں کے خلاف یہاں تک کہ آپ نے اس کو نہیں مانتا پھر جب وہ سب طالب کے پاس گئے جو آپ ناظرین کرام ہمیں لگتا ہے کہ کچھ ہمارے رابطے میں اس وقت خرابی پیش آئی ہے اور نصیر قمر صاحب کی آواز جو ہے وہ نہیں سنتے ہم ان سے یقینا دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن جو موضوع محترم نصیر قمر صاحب بیان کر رہے تھے بہت دل کو چھولینے والا موضوع ہے کیونکہ جماعت احمدیہ کے بنیادی عقائد مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر ہے شریعت ہے جو قرآن کریم کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالی نے نازل فرمائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی نمونہ ہے جو عملی طور پر آپ نے اپنی زندگی میں اپنا ہمیں دکھایا ہے مجھے لگتا ہے کہ محترم نصیر قمر صاحب سے رابطہ دوبارہ بحال ہوگیا نصیر قمر صاحب آپ کے ہاں میں سن سکتے ہیں اسلام علیکم نصیر قمر صاحب نہیں چلیں کوئی بات نہیں ہم اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور ایسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم اس وقت محترم فضل الرحمن ناصر صاحب کی طرف چلیں گے اسلام علیکم فضل الرحمان صاحب اسلام علیکم السلام کا بیان سید قمر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پہلو کا ذکر فرما رہے تھے کہ جو آپ کے دعوی نبوت سے پہلے کی زندگی تھی اور یقینا اس دور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی مشکلات سے گزرنا پڑا ایک تیتی میں کبھی غم تھا اور پھر آپ کے دادا جو آپ بہت پیارے تھے جنہیں آپ کا بہت خیال رکھا وہ بھی وفات پا گئے والدہ بھی وفات پا گئیں تو میں اس گفتگو کو آگے بڑھا کے میں آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ کچھ ان حالات کے بارے میں بتائیں کہ جب دعوی نبوت آپ نے فرمایا اور ابتدائی دور میں آپ کو جن مشکلات سے گزرنا پڑا السلام علیکم خان صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ شادی میں میرے خیال میں کوشش کرتا ہوں کہ وہ موسم کی خبر بیان کریں تھے وہیں سے آگے اور اس عظیم الشان واقعہ ہے آپ کی مخالفت اس دن سے شروع ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق میں یہ اعلان کیا تھا کہ گانے کھانا بنا سکتا ہے دنیا کی طرف اور بیوی کی اصلاح کے لیے کوئی آپ کو پہلے سے اندازہ نہیں تھی اس دن آپ پر وحی نازل ہوئی اب آپ کو آپ کے پاس لے کر علم ایک نہایت ہے تم پر وار کرتے ہوئے کہا کہ محمد کے ایسے لگتا ہے کہ کچھ آتا ہے جب اسلام پر آتا ہے بات ہوئی لیکن اس کے فورا بعد اس نے کہا کہ ایک وقت آئے گا کہ ہماری قوم تمہیں یہاں سے نکال دے ہماری مدد کرو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اب قوم اپنے وطن سے نکال دے گی اور سادہ کی بھی کہتے ہیں ان کے حلیفوں کے ساتھ ہے کے ساتھ ان کے ساتھ ہوں کو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کیا آپ نے ان کو اٹھایا اور ان کی بغاوت کی جب آپ نے ان کا کام ہے یہ بات رکھیں کے مجھے خدا نے بھیجا ہے وہ آپ سے پیار کرتے تھے بڑی محبت کرتے ہیں آپ کو اردو میں کیا کہتے تھے ہو چلے گئے میں لکھا کیا آپ بات تو تیرا دنیا میں آتے ہیں میپ پھر آپ کے اور بے شمار واقعات آگیا اب آپ رات کو اللہ تعالی کی عبادت کی طرف آیا آیات اللہ محمد اس کو پھانسی نہیں لگتی پر پتھر پھینکنے سے کبھی غروب ہوتا اب آپ کی آواز نہیں آرہی ان کے بڑے بڑے سردار تھے آپ سے جو شخص مر گیا خان صاحب مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کی آواز بھی سننے میں ہمیں کچھ دقت معلوم ہو رہی ہے ہم آپ سے بھی دوبارہ اپنا رابطہ بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ناظرین کرام جس طرح ہم نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے اور ہم آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے سیرت طیبہ سے اور صبر کے واقعات آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی ہمیں اس طرح نظر آتی ہے کہ ایک طرف تو آپ نے دعا پر ساری زندگی گزاری ہے اور دوسری طرف صبر کرتے ہوئے دعا پر بھروسہ رکھتا ہے اسی کے نتیجے میں اللہ تعالی نے آپ کو تمام کامیابیاں نصیب فرمائیں ہیں صاحب سے ہمارا رابطہ بحال ہوچکی اسلام علیکم نصیر قمر وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ بس اگر آپ اپنی گفتگو دیکھنا چاہیں جو میں نے پہلے آپ کی خدمت میں کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے قبل کی زندگی میں آپ نے کس طرح صبر کرتے ہوئے اور دعا پر بھروسہ کرتے ہوئے زندگی گزاری تو آپ کچھ تو ضرور آپ کی بات مکمل کر یہ ذکر کر رہا تھا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم دے ڈرامہ نبوت سے پہلے کی زندگی کو دیکھیں تو بہت مشکل حالات میں گزاری ہے بچپن میں والد کی وفات پر والدہ کی وفات پر بھی خدا کی وفات جان سے بہت پیار کرتے تھے بہت چچا کی کفالت میں آئے اور جب اس دوران اللہ تعالی نے آپ کو نبوت کے مقام پر سرفراز فرمایا آپ کی مخالفت یا سے کیا فضل الرحمان صاحب ذکر فرما رہے تھے بڑے شدومد سے شروع ہوگی نہیں کبھی اگر آج وہی فارغ ہوگئے انہوں نے آپ کو ہر طرف سے لالچ دینے کی کوشش کی اس کو ٹھکرا دیا کیوں کے آپ کو نہ دنیا بھی ہموار سے دولت سے اس کی آپ تو اللہ کی محبت میں فنا تے سابق مرتبہ پر فائز فرمائے اس کو واپس لے کے کھڑے ہو گئے انہوں نے پھر آپ کے چچا کے ذریعہ اپنے دباؤ ڈالا جائیں اس کو آباد رکھے گا یہ ہمارے بتوں کے خلاف پرچار نہ کریں حضرت ابوطالب نے ایک دن حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور کہا کے بھتیجے مجھ پر بہت زیادہ دباؤ ہے آپ کچھ ایسی اختیار کریں گے ان کے خلاف زیادہ بڑا انفرادی اور کتوں کے خلاف ن دعاؤںہ بھولیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند ہمتی اور نظمیں صبر اور برداشت محمد علی کا ایک جواب تھا جو آپ نے دیا مایا یہ اگر یہ چاند اور سورج بھی میرے دائیں سورج اور چاند کو بھی میرے دائیں اور بائیں لاکر تو بھی میں اس مشن سے روک نہیں سکتا جو اللہ نے میرے ساتھ فرمایا اس پیغام کو بتاتا چلا جاؤں گا واقعہ یہ بتاتا ہے اس قدر ملازم تھے اگر آپ نے صبر و تحمل اور برداشت تھی اور کس طرح آپ کا اللہ تعالی کی ذات پر توکل تھا اس سے پہلے کہ اگر یہ سارے میری مخالفت میں تمام تر دور میں لگا دیں پھر بھی میرا خدا جس نے مجھے اس کھڑا کیا اور یہ ذمہ داری مجھے سونپی ہے وہ میرے ساتھ ہے اور اس کے صبر اور دعا اور کے نتیجے میں وہ مجھے کامیابیوں سے ہمکنار کرے گا اور یہ وہ نمونہ ہے صلی اللہ علیہ وسلم کا آگے کی دنیا میں بازی تیم ہوتے ہیں ان میں بیسیوں قسم کے نفسیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں والدہ کا کلام البنک العربی ظاہر ہے کہ دوسرے کتنا بھی خیال رکھنے والے ہو تو پھر بھی جو والدین کی تربیت ہوتی ہے ان کی صحبت کا اثر ہوتا ہے وہ اس کا اپنا ایک ہوتا ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باؤجی میں کے ہر قسم کے نفسیاتی کسی قسم کی نفسیاتی الجھنوں کا کوئی شکار نہیں ہوئے صبر کا مظاہرہ نہیں کیا غرور اور تکبر نہیں آیا کبھی کسی قسم کی اس کا رویہ نہیں آیا تھا کہ ہمیشہ صبر کے ساتھ دوستوں کے ساتھ وقار کے ساتھ کوئی بھی میں کے دور کو بھی گزارا ہے اور یہاں تک کہ آپ اپنی بلوغت کو پہنچے اخلاق اور نمونہ کے صادق اور امین اور ہمارے معاشرے میں آپ کا ایک عزت اور مقام تھا وہ جو یتیم تھا وہ یتیم کا ولی بن گیا پھر یتیموں کا سہارا بن گیا یہ تھے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن کے متعلق اللہ تعالی نے خود یہ فرمایا شکایتیں مناواں اللہ دا لمبہ دہ وچہ دہ تن وینہ کے کیا اس نے تجھے یتیم نہیں پایا اور پھر تو اس نے تجھے پناہ دی اپنی پناہ میں لے لیا اور آپ کو عیالدار پایا تو آپ کو مارنا ہی کردیا وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ کے اپنی نبوت سے پہلے کی زندگی میں بھیجو بھی مشکلات اور مصائب آپ کے سامنے آئے جو بھی ہزاروں کی وفات کے بعد میں آپ کو برداشت کرنے پڑے عورت صبر کے ساتھ ہم اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے برداشت کیا اور اس کمر اور وقار اور دعا کے نتیجے میں پھر اللہ تعالی نے کس طرح آپ کی غیر معمولی مدد فرمائی اور آپ کا عظیم الشان کامیابیوں سے نوازا اسی لئے تو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم انسان کامل اور آپ کا اسوہ انسان کامل ہے یعنی کوئی بھی شخص اس طرح کی بات نہیں کرسکتا کہ دیکھو مجھے تو یہ والا دکھ ملا ہے جس کا کوئی نمونہ نہیں ملتا ہم یا نہیں زندگی میں ایک عام انسان کی زندگی میں آنے والی تمام مشکلات ملتی ہیں اور ان مشکلات کو کس طرح آپ نے گزارا ہے وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کا مل رہا ہے جو ہمارے لئے رہنما ہے زندگی میں انسان مختلف قسم کے حالات سے گزرتا ہے دنیا بھی اس وقت بہت سخت حالات سے گزر رہی ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں لینا ہے اور دعا پر بھروسہ رکھنا محترم نصیر قمر صاحب میں آپ سے ہی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنا چاہوں گا اور ہمارے بھائیوں نے اپنے ایک غیر جماعتی اور احمدی بھائی کے سوال ہمارے سامنے پیش کیا ان کا نام بھی انھوں نے بتایا کہ ان کا نام ہے سوال ان کا بہت بہت طویل ہے سوال تحریر کیا ہے میں کوشش کرتا ہوں تھوڑا سا وہی آپ کے سامنے پر دو اور پھر جس کا اصل سوال ہے وہ میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ ہمارے بھائی لکھتے ہیں کہ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ مذہبی نظریہ کے حامل لوگ دنیا میں ایسے رستے کی تعیین کرتے ہیں جو کسی بھی لحاظ سے آگے بڑھنے کا راستہ نہیں یعنی ان کے نزدیک مذہبی لوگ جو راستہ دکھاتے ہیں وہ عقل از عقل کے لحاظ سے آگے بڑھنے کا راستہ نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ کوئی ذی شعور اس کو تسلیم نہیں کر سکتا یہ ہمارے بھائی نے جس طرح سوال کیے ہیں اسی طرح نس ہے آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور ہمارے وہ بھائی ایران اور پاکستان کی مثال بھی پیش کرنے اور خاص طور پر آج کل کے حالات میں کہ وہاں کے لوگ جذبات سے مغلوب ہو کر حکومت کی بات کو نگلے کرتے ہوئے اس کی نفی کرتے ہوئے مساجد جانے پر اصرار کر رہے ہیں اور مل جل کر باجماعت نماز ادا کرنے کا اصرار کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ مذہبی خیالات کی وجہ سے ہے تو وہ مزید لکھتے ہیں کیا مذہب ایک ذاتی عمر نہیں ہے اور اس کو ذاتی عمر ہی رہنا چاہیے ان کے نزدیک کیونکہ جب بھی انسان پر اثر ڈالتا ہے اس سے ادا کرتا ہے اور یوں دنیا میں امن کے بجائے فتنہ و فساد پیدا ہو رہا ہے تو وہ پوچھنا یہ چار ہیں یہ ان کا نظریہ ہے مذہب کے بارے میں کہ مذہب سے دو یا گویا حکومت سے اختلاف پیدا ہو جاتا ہے کلاس پیدا ہوتا ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ اس بارے میں آپ اپنی رائے کو بتا دیں کہ کیا مذہب کو ذاتی نوعیت ہی ہونا چاہیے کہ مذہب کا معاشرے پر اور پورے عالم پر اطلاق ہونا کہہ رہا ہے بہت ساری باتیں اس میں کاٹی کردی ہیں کا جو سوال ہے وہ جو میں سمجھ سکتا ہوں وہ بالکل اپنی ہے اور لیکن ایک بات سے ان کی ایک بات سے مجھے اتفاق نہیں کہ جن کو وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان حالات میں وہ ہر قسم کی احتیاط و کو بالائے طاق رکھنا کی تعلیم دے رہے ہیں اور حکومت آیات جو پر مبنی ہیں ان کے خلاف چلنے کی تعلیم دے رہے ہیں وہ مذہبی لوگ ہیں اگر آپ جائزہ لیں تو یہ لوگ حقیقت میں مذہب سے دوری اور یہ فارسی یونیورسٹی مسلمانوں کے ساتھ میں ہی نہیں دوسرے مذاہب میں بھی پائی جاتی ہے آپ سندھی کل کو پوچھ لیا تھا جواب دے دینا اور دانشمندی کو چھوڑ دینا جو کائنات کی حقیقت یہی ان کو نظر انداز کر دینا یہ پاکستا غیر مذہبی رویہ کہ ہم بھی اللہ کے فضل سے کام پر صرف یہ کہ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں بلکہ اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ دین اسلام پر عمل پیرا ہیں کیا مطلب کیا ہے یہ ہے اور فتح ایمان ہے اس اسلام کی حقیقی تعلیم کی علمبردار ہے کیا بات ہے جو مومنین اور اعمال صالحہ بجالانے والوں کی جماعت ہے جس کے حق میں خدا کے وعدے پورے ہوتے ہیں اور انہی باتوں میں سے ایک عظیم الشان وعدہ خلافت کے قیام کا ہے اس جماعت میں پورا ہو رہا ہے ارے امام نے جو ہدایات دی ہیں اس قسم کی وبا کی صورت میں ان پر کوئی اعتراض کرکے دکھائے اور جو ہے وہ غیر دانشمندانہ ہے یا جون معاشرے میں نقصان پھیلانے والا ہے یا ابا کو ہوا دینے والا ہے ہمارے یہ ہے جو مذہب ہے تو بات ہے جو ہم کہہ رہے ہیں اور اس پروگرام کا مقصد بھی ہے اب افراد نے مسلمہ کو خاص طور پر آپ سمجھیں جن لوگوں کو آمدنی سمجھتے ہیں ان کے پیچھے چل رہے ہیں ان کے طرز عمل غیر مذہبی ہیں اور یہ عمل خدا اور رسول کی ان کے طرز عمل الادارسۃ کراتے ہیں وجہ سے لوگ اسلام سے متاثر اس طرح انسان نے جو سوال کیا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں انہوں نے یہ بات اپنے ذہن میں رکھ کے سوال اٹھایا کہ یہ مذہبی لوگ ہیں تو پھر یہ تو انسانوں کو ہلاک کی طرف لے کے جانا چاہتے ہیں لوگ مرتے ہیں تو مری جی ہم تو جمع کریں گے یہ ہرگز ہرگز اسلامی تعلیم کے عمل نہیں ہے یہ ہرگز مذہب کا منشا نہیں ہے رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی چند یہ سب آپ کے ساتھ ہیں جو آپ پر نازل ہوا اس کی تعلیمات کو سامنے رکھیں قرآن اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق اسلامی طرز عمل اور ان موجودہ حالات میں وفاؤں کے مطابق پاک کے مقابلے کے لئے اگر دیکھنا ہے اور جماعت احمدیہ مسلمہ کو دیکھیں کہ جماعت احمدیہ کے امام نے ان کو کیا کہا دو تین ممالک سے کال می عامدی افراد دیکھتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے کی کوشش کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جو بھی ہدایات حکومت کی طرف سے دی جارہی ہے ان کی پوری طرح پابندی کریں جو حضور اللہ نے اس پر عمل کرکے دکھایا ہے کے متعلق اور نمازوں سے متعلق جو گورنمنٹ کی ہدایات بیان کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے اور ساری دنیا میں لوگ اس پر عمل کر رہے ہیں ہم ہم پہ بھی اعتراض نہیں ہو سکتا 7 یہ بھی فرمایا کہ آپ نے اس کے ساتھ ہمدردی بھی کرنی ہے بلکہ اپنا اپنے بچاؤ کا حفاظتی تدابیر کا اہتمام کرتے ہوئے مخلوق خدا کی جو مشکلات میں ان کی مدد بھی کرنی ہے اور اس کے مطابق اپنے آقا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ساری جماعت کر رہی ہے یہ بات ہمارے ان بھائیوں کو سمجھ نہیں چاہیے کہ یہ اسی سے اندازہ لگا رہے ہیں کون مذہبی اور غیر مذہبی کون دین اسلام پر عمل کر رہا ہے عمل اور عقیدہ کا دین ہے اور اگر ہو بھی چل رہا ہے اور کون اسلام کا نام لے کے کیا کر رہا ہے جس میں سلامتی نہیں بلکہ ہلاکتیں خیالات بھی اس قوم کو بلاک کر رہی اور آخر میں ڈال رہے ہیں اور اہم سوال ہے باقی کال اٹھائے میں اتنا جواب چلے کافی ہے لیکن مذہب کے دو حصے ہیں مختصر اس کو بھی ایڈ کر دیتا ہوں ایک حصہ ہے تقاضات کا ڈاکٹر خدا کے بارے میں عبادت کا ایک حصہ ہے اللہ کے حقوق ہے اس طرح پہلو ہے جو بنی نوع انسان کے حقوق جس کو وہ بات بھی کہتے ہیں تین دونوں باتوں پر مشتمل ہے اور جماعت احمدیہ ان دونوں پہلوؤں پر اللہ تعالی کے فضل سے قرآن اور سنت کی روشنی میں ہدایات کے مطابق عمل کرنا ہمہ تن گوش ہے اور یہ بات ساری دنیا اور وہ جو طرز عمل ہے وہ صرف مسلمانوں میں نہیں یہ مسلمانوں میں نے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں میں بھی ہے میں اور دنیا میں اس قسم کے مذہب کے لوگوں سے نفرت پیدا ہو رہی ہے اور لوگ پھر کہتے ہیں کہ یہ مذہبی ہے یا مذہب سے ہٹے ہوئے ہیں مذہب کہتے ہوئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پہلے خبر دے دی تھی ان کی مسجد ہے تو آباد ہوگی لیکن ہدایت سے خالی ہو گئی ہو تو معاف میری طبیعت خراب ہے میرا دا ہدایت کی بات نہیں لوگوں کے نقصان کی باتیں کر رہے ہیں جذبات سے کھیل رہے ہیں یہ ہرگز ہرگز اسلام نہیں ہے ہرگز دین نہیں ہے دین وہی ہے جو قرآن مجید میں ہے اس وقت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل کے دکھایا اپنے ارشادات سے بتایا اور آج اس زمانے میں دین کے احیاء کے لیے اللہ تعالی نے مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا اور آپ کے بعد قائم کرکے ہمیں ان لوگوں پر مسرت ایک نظام میں باندھ کر چلا گیا ہے اور اللہ کے فضل سے ہمارے اس طرز عمل پر کوئی دنیا کا شخص اعتراض نہیں کر سکتا اگر یہی دین ہے تو پھر واقعی ہی اسلام ہے جس میں ساری دنیا کی ٹیکن سید قمر صاحب جس طرح آپ نے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے تو ہمارے بھائی ذیشان جنہوں نے یہ سوال کیا تھا ان کو یہ باتیں مدنظر رکھی جاتی ہیں ایک تو یہ کہ جو سوال آپ کے ذہن میں پیدا ہو رہا ہے جس مذہب کو آپ نے دیکھا ہی اپنے اردگرد کے ماحول میں دیکھا ہے اس مذہب کو فالو کرنے کی وجہ سے آپ کے ذہن میں دور ورنہ اگر حقیقی مذہب اسلام کو دیکھا جائے تو وہ تو ہمیں ایک صرف اللہ تعالی سے زیادہ قریب لے جاتا ہے اور دوسری طرف مخلوق کی ہمدردی پر مبنی ہوتا ہے کائنات بنائی ہے اور قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے اس کائنات میں اور قرآن کریم میں تصادم نہیں ہوسکتا لیکن یہ تصادم اس وقت ہوتا ہے جب اس پر عمل کرنے والے یہ تصادم پیدا کرتے ہیں ہیں کہ جماعت احمدیہ تو آپ کے پیچھے ہوں کہ چلتی ہے کہ ہمیں یہ یاد آیت ملتی ہے کہ حکومت وقت کی بات کو مانا جائے یہ جو وبا پھیلی ہوئی ہے اس سے متعلق تمام احتیاطی تدابیر و کو بجا لایا جائے اور یہی دراصل مذہب ہے جو ہمیں سیدھے راستے کی طرف لے کے جاتا ہے یہ بات درست ہے کہ مذہب ہر کسی کا انفرادی فعل بھی ہے لیکن مذہب کا ایک رول عالمی سطح پر بھی پایا جاتا ہے میں آپ سے بھی گزارش کروں گا خاص طور پر میرے ایسے بھائی اور ایسی بہن جن کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں ہے اختلاف ہو سکتا ہے آپ کو ہو سکتا ہے ہماری بے شمار باتوں سے اتفاق نہ ہو لیکن آپ ایک دفعہ ایم پی اے انٹرنیشنل کو دیکھیں ضرور اور خاص طور پر اگر کوئی پروگرام نہیں دیکھنا تو کوئی ایسی بات نہیں ہے آپ جمعہ والے دن جی ایس ٹی وقت کے مطابق جو تقریبا بارہ میں آج کل 12 بجے اور ویسے ایک بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ جو نشر ہوتا ہے اس کو ضرور سنیں کیا کہ اس زمانے میں بھی اگر کوئی مسلمان بھی نظر صحیح رہنمائی کرنے والا ہے تو وہ امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز یہی ہم اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں محترم فضل الرحمان صاحب سے بات کرنا چاہوں گا اسلام علیکم فضل الرحمان صاحب سلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس جو میں نے آپ سے پہلے سوال کیا تھا وہ تو یقینا وقت جاتا ہے اور میں چاہوں گا کہ میں پھر وقت ملے تو آپ ضرور اس کو تفصیل سے ہمیں بتائیں کہ ابتدائی زمانہ نبوت کا جوتا کس طرح صبر کرتے ہوئے دعا پر بھروسہ کیا ہے لیکن ہمارے پروگرام کا نصف سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور میں اسکرین پر دیکھ رہا ہوں عارف زمان صاحب کے سوالات بھی ہیں معروف صاحب کے سوالات بھی ہیں اور محمد احسان صاحب کے سوالات بھی ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ ان سوالات کی طرف آزادی اور پہلا سوال جو میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا یہ محمد احسان صاحب ہیں بس آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا کہ وہ اس سوال کا تعلق کس حد تک کہ اسے بھی ہے لیکن میں چاہوں گا آج کل لوگ اس طرح کی باتیں پوچھتے ہیں تو آپ کے جواب مختصر دے دیں وہ پوچھ رہے ہیں کہ جب نماز پڑھتے ہیں معروف صاحب برطانیہ سے سوال کر رہے ہیں تو سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جب ہم نے دیگر سورتوں کی تلاوت کرنی ہوتی ہے تو کیا اس میں ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ سورت فاتحہ کے بعد کرنی چاہیے کیا بات ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ لا صلاۃ الا بفاتحۃ خط میں سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ہم کوئی نہ کوئی سورت پڑھتے ہیں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے یہ تو ضروری ہے کہ کوئی نہ کوئی لیکن یہ ضروری سمجھنا کے ہمیں اس میں لازمن خیال رکھنا چاہیے کوئی ایسا ثبوت ہمارے پاس نہیں ملتا کہ جس کی وجہ سے ہم کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو لازمی ہے سورۃ پڑھنی چاہیے تم ایک ہی سورت پڑھ رہے ہیں مثلا سورہ بقرہ ہے کچھ سے شروع کے کسی حصے میں سے کچھ آپ نے پڑھا ہے یہ ہے کہ اگر دوسری رکعت میں سورہ بقرہ پڑھنا ہے تو کوئی ایسا حصہ پڑھے جو اس کے بعد آنے والا ہوں یہ کہوں گا کہ اگر باہر اس میں یہ کہوں یہ لازمی امر ہے کہ آپ نے اور دوسری طاقت میں صورتوں کا جو بنا ہے اس کی ترتیب لازمی ہونی چاہیے واضع کتی طور پر ایسی شہادت میرے علم میں ایسی بات نہیں ہے ایک ہی رات میں آپ کو سورتیں پڑھ رہے ہیں ترتیب کا خیال رکھیں شکریہ فضل الرحمان صاحب سوالات کا سلسلہ جیسے کہ میں نے عرض کیا ہے کہ شروع ہو گیا ہے اور ہم کوشش کریں گے کہ آپ لوگوں کے جو سوالات ہیں جو اس پروگرام کو دیکھ رہے ہیں انہی کو ہم اپنے دل میں طوفان کے سامنے پیش کریں لیکن جو بعد میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ تمام ناظرین اور سامعین کے لئے بہت ضروری ہے جس کی طرف محترم نصیر قمر صاحب نے بھی توجہ دلائی تھی اور اگلا سوال لے کر بھی محترم سید قمر صاحب کے پاس ہی جاؤں گا نصیر قمر صاحب نے اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ہم جماعت احمدیہ کو ماننے والے ہیں ہم تو اللہ تعالی کے جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں امام وقت کو ماننے کی توفیق دے قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام مسیح موعود امام مہدی ہیں خلافت کا سلسلہ جاری ہے ہم وہ خوش نصیب ہیں کہ ہمیں جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا ہے ہم اپنے امام کی خدمت میں دعا کا لکھتے ہیں پھر بھی دعا میں لگ جاتے ہیں اور پھر یہ معجزات دیکھتے ہیں کہ وہ دعائیں قبول ہوتی ہیں اور یہی اللہ تعالی کا منشا ہے اور یہی اللہ تعالی کی روایت ہے محترم نصیر قمر صاحب ہمارے بھائی ہیں محمد احسان صاحب وہ فرانس سے ایک سوال انہوں نے کیا ہے اسلام علیکم نصیر قمر صاحب ورحمتہ اللہ وبرکاتہ انیس کے مرثیے محمد احسان صاحب فرانسی یہ پوچھنا تاکہ اللہ تعالی اپنے بندے پر پاک کا دروازہ کب بند کرتا ہے اب تو کیوں نہ سوال اسی طرح پوچھا انہوں نے عزم کر لیا ہے کہ توبہ کا دروازہ بند ہوتا ہے وہ سوال میں نے آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے اور میں چاہوں گا کہ آپ ان کی رہنمائی کر دیں لکھیں زبان نہیں کرتا وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے انسان خود اپنے ہاتھ سے دروازہ بند کر لے تو یہ اس کی بستی کیا سورج چمک رہا ہے پریڈ لڑکیاں دروازے روشندان سب بند کر کے پردے ادھر آ گئے اور اندھیرے میں بیٹھنے دے کو پسند کر لے لیکن اللہ تعالی کی توحید کا آفتاب چمکتا ہے ہے بہت پیار کرتا ہے وہ تو اب ہے وہ توبہ قبول کرنے والے کو تو بہت بڑھ کر قبول کرتا ہے اللہ نے فرمایا اگر کوئی آتا ہے تو وہ دو قدم آتا ہے اگر پیدل چل کے آتا ہے تو دور کی طرف آتا ہے کرپارہے کی رحمتیں بے انتہا ہیں ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کی معافی مانگ رہا تھا انڈیا ہوا تو اللہ تعالی نے اپنا رخ دوسری طرف پھیر لیا اور پھر دوسری طرف اٹھا کر پھر خدا کے حضور چلایا اور گرایا اور اب اس پر رحم کا طالب ہوا تو اللہ تعالی نے اپنے پشتو میرے مجھے اپنے بندے کی ایک رات سے قبل اس سے اس کی آہ و زاری سے شرم آتی ہے میں نے اسے بخش دیا وہ رحیم و کریم اور تو اب اپنے ہاتھ سے توبہ کا دروازہ خود بند کرتا ہے اگر اس کی طرف تھوڑی سی کوشش کریں کرامت دستگیر یہ کبھی نہیں سوچنا چاہئے کہ خدا کی طرف سے توبہ کا دروازہ بند ہوگیا ہے توبہ کا دروازہ کھلا ہے جب بھی انسان کوشش کرے علیہ وسلم کی نئی کا ایک مشہور پہلی دفعہ سنی ہوگی کہ ہمارے جماعت میں تو اکثر اداس درس میں بار ہا یہ ذکر آتا رہتا ہے کہ ایک شخص نے ننانوے قتل کئے تھے کسی کے پاس گیا کہ میں توبہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ تو ہو گیا تھا اس نے کیا دیا کہ نہیں نہیں تونے کی طرح گنہگار ہے لیکن تمرانی بک جاسکتے کے جلوے ہے ایک اور سیاسی لیکن اس کے دل میں تڑپ تھی کہ میں توبہ کرو اللہ مجھے بخش دے یہ بات کیا اس نے کہا اب رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے توبہ کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا تم فلاں علاقے میں چلے جاؤ اور جگہ پر جاؤ اور اسے ملو کیا بات ہے کہ اس علاقے کی طرف چل پڑا اب رستے میں تھا کہ اسے موت نے آ لیا میں آتا ہے کہ اس وقت اس سے بھی آ گئے اور دونوں کے داروغے جو اللہ تعالی کی طرف سے مقرر ہے وہ بھی آگئے اور ان میں یہ اختلاف ہو گیا وہ کہتے تھے یہ گناہ گار ہے ہم اس کو جہنم کی طرف لے جانا چاہتے ہیں اور جو دوسرے فرشتے جنت کے ذمہ دار تھے انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ کرچکا تھا توبہ کی سرزمین کی طرف جا رہا تھا اس لیے امداد اللہ فیصلہ کیا کہ زمین کو معاف لیتے ہیں کہ کس علاقے کے قریب ہے ٹرانسلیٹ ہیں کہ اللہ تعالی نے قریب تر کر دیا جس طرح وہ توبہ کے لئے جا رہا تھا اور یوں اللہ تعالی نے اس کی بخشش خدا کی نعمتوں بہانے روکتی ہے کبھی توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا تو وہ کتنا بھی گناہ گار ہوں ہاں توبہ توبہ النصوح ہونی چاہیے مخلصانہ طور پر ہونی چاہیے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید کے حوالے سے احادیث کی روشنی میں یہ بتائیں سب سے پہلے گناہ کے دل میں نفرت پیدا ہو اس حلالہ کیا جائے خالص اللہ کی طرف رجوع کریں پر عمل تیار کیا جائے یہ نہیں کہ توبہ کی پھر توبہ کی توبہ کی پھر توڑ دی میری توبہ میری توبہ توبہ توبہ بول اٹھیں یہ معاملہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ خالصتاً اللہ کی خوشیاں تو کی عظمت کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے عادت سے بہرطور کی جائے وہ بہت کم اور رحیم ہے اللہ تعالی ہم سب کو اس بات کی توفیق دے کہ ہمیشہ خدا کی طرف جھکنے والے اور لعنت پانے والے نصیر قمر صاحب اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بھیجو فرماتا ہے کہ ان اللہ یحب التوابین آ اللہ تعالی توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اللہ تعالی ہم سب کو افریقہ افریقہ ہم بہت گنہگار ہیں سنا ہے کہ گناہوں میں گزرتا ہے لیکن اللہ تعالی جو تواب رحیم ہے اس کی سے ہمیں بھی یاسر ہوتا ہے کہ اللہ تعالی یقینا ہمارے بھی گناہ معاف فرما دے گا آپ نے نصرت صاحب جس طرح ذکر کر دیا ہے ہمارے یہ محمد احسان صاحب تھے جن کا سوال تھا محترم فضل الرحمان صاحب کے چند اور سوالات بھی آئے ہیں ہماری ایک بہن ہے اس نے بیگم صاحبہ انڈیا سے اور ہمارے بھائی ہیں بلال کیونکہ دونوں سوالات غزل لفظ میرے سامنے ایک ہی طرح کے سوالات ہیں تو کے سامنے پیش کر دیتا ہوں یہ دونوں ہماری بہن اور ہمارے بھائی پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی وبا آئی تھی محترم فضل الرحمان صاحب جہاں تک میرا علم ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی ایسی بات کا ذکر نہیں ملتا یہ ذکر ملتا ہے کہ جب المراۃ صحابہ کر کے مدینہ آئے تھے صبح کو بہت زیادہ بخار رہنا اور بخار کی شدت ہو جایا کرتی تھی اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر دیا مسلم کی دعوت کے نتیجے میں پھر وہ بخار والی کیفیت جو کہ وہ صرف ایک مدینہ اور مکہ کی آب و ہوا کے فرق کی وجہ سے نہیں یہ تکلیف تھی اور وہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھر وہ اللہ تعالی نے اس کو دور کر دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین زمانے میں کا ذکر ملتا ہے باقاعدہ حدیث میں اس طرح ملتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں ایک علاقے میں جب کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک اہم مقام کے لئے میں او شام کے علاقے میں جا رہے تھے اگنا میں ایک مقام پر جب آپ ہو چکے تھے اور وہ بہت قریب پہنچ چکے تھے جہاں آپ نے جانا شام کے علاقے ہیں کے آگے اس علاقے میں آپ جاننا چاہتے ہیں وہاں پر طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے واقعہ ملتا ہے اور اس کا علاج پہلے آپ کے بعد صحابہ کو بلایا آپ اس کے بعد پھر اور وہ صحابہ جو نسبت اور فتح مکہ کے قریب ایمان لائے تھے ان کو بلایا کل انہوں نے باقاعدہ مشورہ کیا کہ مجھے آگے جانا چاہیے یا نہیں جاتا اردو کا قاعدہ سمجھے کے بعد صحابہ کا یہ خیال تھا کہ نہیں ہے تم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک لمبا سفر اور ان کو شام کے علاقے میں جانا چاہیے جو بعد میں فیصلہ ہوا اور حریت نے یا جن کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے مشورہ قبول کیا وہ یہ ہے کل انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بعض علاقے میں اور اس پر انہیں کچھ نہیں اور اس دن یا اس سے اگلے دن حضرت عبدالرحمن بن عوف جو اس وقت وہاں پر موجود نہیں تھے جب یہ مشورہ ہوا تھا وہاں پہنچے تو انہوں نے آ کر بتایا کہ میں ایک میرے پاس ایک اس بارے میں علم ہے آتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس علاقے میں واقع ہوئی ہو تو میں اس میں نہیں جانا چاہیے اور تم اس علاقے میں موجود ہو صبا پہلی ہوئی ہے وہاں سے تمہیں باہر نہیں جانا چاہیے الصحابہ کی وہاں پر شادی ہوئی انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تعمیر میں وہ نہیں گئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اختیار کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں اس کا واضح طور پر ذکر ملتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم علاقے میں وبا پھیلی ہوئی ہو وہاں پر کسی کو نہیں جانا چاہیے واپس آ جائے وہاں سے باہر نہیں جانا چاہیے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بارے میں تعلیم پائی تھی مجھے لگتا ہے کہ ہمارے جو سوال کرنے والے تھے ان کا بھی مقصد یہ تھا کہ وہ اس امر کو جانے ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رہنمائی ہے اس صورت حال میں کہ اگر کوئی بندہ معاشرے میں یا کسی بھی بستی میں پھیلی ہوئی ہوں محترم نصیر قمر صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اور رحمتہ اللہ و برکاتہ پروگرام کا وقت کیوں کہ بہت تو میں اگلا سوال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں وصی احمد صاحب ہمارے بھائی جرمنی سے پوچھنا چاہ رہے ہیں شفاعت سے کیا مراد ہے بڑا زیادہ گہرا مضمون ہے مختصر اس کے بارے میں یہ عرض کر دیتا ہوں کہ شفا کے معنی ہوتے ہیں ملانا ٹور کے ساتھ ملتی ہے جو اس کے ساتھ کے ساتھ ملانے سے ہی شروع ہوتا ہے مجرہ قرآن مجید میں آج کا یہ مضمون ہے اس رنگ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کو اللہ تعالی کے تک پہنچانے والا جو وجود ہوتا ہے وہ شادی کہلاتا ہے کا نہیں ہوتا اپنی نیکی کی وجہ سے یا اپنے اصول حالت میں نہیں ہوتا کہ وہ براہ راست خدا تعالی تک پہنچ سکے اللہ تعالی انبیا کو بھیجتا ہے خدا اور اس کی مخلوق کے درمیان ایک شفیق بنتے ہیں ان کو پاک اور صاف کرتے ہیں اللہ سے علم پاکر اس کی بھی اور الہام اور جماعت پر عمل کروا کے اور دعاؤں کے ذریعہ سے کر کے انہیں اس قابل بناتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی کے ایک کو حاصل کرسکیں گویا خدا کے نبی جو ہیں کے درمیان جو خط ہوتی ہے اس کو دور کرکے ایک شخص بن کر ان کو بلا کے ملانے کے لئے آیا کرتے ہیں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے کامل اور بڑے شفیع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں پہلے تو ہر نبی اپنی قوم کی طرف آتا رہا اور وہ ان کے لئے شکریہ بنتا رہا وہ دائرہ کا تھا وہ ایک محدود زمانے کے لیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو سے بھی سب سے افضلیت رکھتے تھے اور کہتے ہیں کہ آپ قیامت تک کے لیے انسان کے لئے قیامت تک کے لئے آپ کا دائرہ بحث ہے اور تمام بنی نوع انسان کو دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں ان وہ آپ کے مخالف ہیں اور درمیان ایک رسول اور نبی بن کر آئے ہیں یہ فرمایا انا للہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو اللہ کی محبت کو میری پیروی کرو اس محبت کرے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ہیں جن کے اصول پر عمل کرنے کے نتیجے میں ان کے اخلاق عالیہ کو اپنانے کے نتیجے میں ان کے نمونے پر چلنے کے نتیجے اللہ کی محبت کو پا سکتے ہیں یہ وہ ہے جو شفاعت کا صرف مفہوم ہے میں پایا جاتا ہے کہ ہم جو چاہے گناہ کرتے پھریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبی ان کے ہم امتی نعت معاف کروا دیں گے اختلاف ہے قرآن کریم اسپورٹ فرماتا ہے بلکہ بڑی وضاحت سے اس کے برعکس یہ اعلان فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو مایوت رسول اللہ پڑو نماز نہ عظیمہ میں فوجی عظیم لے گیا سونگ اللہ کی محبت ملے گی اور تمہارے پردہ پوشی ہوگی کی مغفرت ہوگی لیکن کچھ ضرورت اس بات کی ہے کہ جب نبی کی شفاعت کو حاصل کرنے کے لیے ہوجائے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نصیر صاحب ہمارے پروگرام کا وقت بالکل اپنے آخری منٹوں میں چلے گئے ہیں اگلا سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان صاحب کی طرف سے لوں گا فضل الرحمان صاحب ہمارے بھائی پاکستان سے پوچھ رہے ہیں کیا حضرت ابو طالب نے اسلام قبول کیا تھا جہاں تک روایات کا تعلق ہے جماعت احمدیہ ہے باقاعدہ اونچا کے قبول اسلام کا واقعہ ذکر نہیں ملتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اور ان کو انہوں نے اس کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی اللہ پڑھ لیں یہی لگتا ہے کہ انہوں نے کلمہ پڑھ کر اس رنگ میں انہوں نے اسلام قبول کرنے کی کوئی ایسی روایت نہیں ملتی روزنامہ صاحب محترم سید قمر صاحب کیا ہوگا ہمارے بھائی عارف و زمان اس سے بڑی محبت کے ساتھ ہمیشہ سوالات بھیجتے ہیں وہ ہیں اور دعا میں کیا فرق ہے نماز اور دعا میں الصلاۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ اب پتہ چلا تو پھر دعاؤں یہ ہے کہ دعاؤں خلابا دعا ہے اور دوسری طرف فرمایا کہ دعا عبادت کا مغز ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے موت پر بیان فرمایا ہے جو اللہ تعالی کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے وہ ہے جو حقیقت میں دعا عبادت کا مغز ہے ہر قسم کی دعا ہم کرتے ہیں نماز جو اللہ تعالی کی محبت کے حصول کے لیے وہ کی رضا کے حصول کے میں اصل دعا ہے اور وہی عبادت کا مغز ہے اس سلسلے میں کا مطالعہ بہت مفید ہے بالکل ٹھیک محسن سید قمر صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ میں اسکرین پر دیکھ رہا ہوں خواجہ عبدالمومن صاحب کبھی نویس ہمیں پیغام مل گیا اللہ زمانے میں سب کے سب کا بھی سوال ہمارے سامنے ہے لیکن وقت کی کمی کی باعث ہم بھی یہ سوال ابھی تک تو نہیں سکیں گے مجھے امید ہے کہ آئندہ پروگرام میں بھی آپ لوگ ہمارے ساتھ ضرور شامل ہوں گے لیکن اصل بات یہ ہے کہ آج کل کے دنوں میں ہم نے کرنا کیا ہے اور اس بارے میں ہماری رہنمائی سیدنا ابوامامہ نہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کا ایک حصہ سمجھتے ہیں میں کہوں گا اللہ تعالی جماعت کو ہر لحاظ سے آپ کو ہر لحاظ سے اور مجموعی طور پر جماعت کرلیا سے آرزو مند رکھے اللہ تعالی کوئی بھی اور آپ کو بھی وہی کرنے اور دعاؤں کی کی توفیق عطا فرمائے ہندی یہ بات میں کہنا چاہتا ہوں باز لوگوں کے لیے جو احمدی کسی کاروبار میں ہے وہ ان دنوں میں اپنی چیزوں پر غیر ضروری بنانے کی کوشش نہ کریں بغیر ممبر بنانے کے بجائے خاص طور پر کھانے پینے کی چیزوں میں اور زور ہیں لازمی اشیاء میں یہ غیر ضروری بنانے کے بجائے ان چیزوں کو کم از کم عمر بچی اور یہی الیکشن کے دن ہے حضرت موسی علیہ اسلام نے بھی کی یہ ہمدردی کا جذبہ پیدا کریں حقوق العباد کی ادائیگی کے اور اس طریقے سے ہے حضرت علی کا قول پانے کے لیے اللہ تعالی جو بھی کاروباری لوگ ہیں توفیق عطا فرمائے کیوں منافقوں کے ایک مدت کے جذبے کے تحت کاروباروں کو بعد میں چلائیں غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے اے میرے فلسفیو زور دعا دیکھو تو اللہ تعالی ہم سب کو امام وقت کے ساتھ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ہمیں اس قابل بنائے کے ماموں کی دعائیں ہمارے حق میں قبول ہو تمام ناظرین و سامعین کا بہت بہت شکریہ اگلے پروگرام تک کے لئے السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں دل سے ہے خدا میں ختم رمضان سلیم

 92 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: