Rahe Huda – Maseehe Maood pbuh Par Aiterazaat K Jawab




Rahe Huda – Maseehe Maood pbuh Par Aiterazaat K Jawab

Rah-e-Huda | 5th September 2020 – Frankfurt Germany


غلام سے نبھایا خدا نہیں ہے نگہبان جا شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اینٹیلیجنس سٹوڈیو سے ہم پروگرام راجہ قسط احمد آج پانچ ستمبر ہے جی ایم ٹی وی کے نہیں دیں گے آپ چھوٹی باتوں پر ڈال بلاک کریں گ یہ بات آپ نے اپنے سارے صحابہ کے بارے میں نہیں بلکہ بعض کے بارے میں ان کی بھی تربیت نہیں ہوئی تو اس طرح کے طبیعت رکھتے تھے ان کے بارے میں فرمائی تھیے تو پھر تو فائدہ نہیں ہے مطابق کی طرح شام چار بجے اور جنگ میں سے ہیں جو پروگرام شروع ہے یہ اس وقت شام کے چھ بجے پروگرام رہے ہیں دیکھتے آرہے ہیں ہمیشہ کی طرح لائف نیوز اس لیے ایک پروگرام کے دوران آپ کے لیے سہولت ہے بلکہ ضرورت ہم سے رابطہ کریں اپنا سوال بھیجیں نا آپ اپنا فون کسی سے بھی یہاں بھی سکتے ہیں یا پھر واٹس ایپ کے لیے سے جو کسی صورت میں بھی یا پھر میسج کس کو ملی میں آج میرے ساتھ یہاں شریک گیم میں اس ویڈیو میں مکرمہ فضل الرحمان صاحب اور اسی طرح ویڈیو لنک کے لیے سعید احمد قمر صاحب اسلام علیکم رحمت اللہ وبرکاتہ زرین ہمارا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے اللہ تعالی کے فضل سے یہ وہی جماعت ہے جس کی بنیاد اس وقت کی مسیح مہدی حضرت مسیح علیہ السلام حضرت غلام علی قادیانی نے خدا تعالیٰ کے اذن سے رکھی ہے آپ وہ موجود ہیں جن کا عمل سے جو بزرگ صرف گجرات صالحین اور امت کی پیشنگوئی کے مطابق ہمیشہ انتظار کرتے آ رہے تھے لوگ کہ وہ کب مسیح موعود امام مہدی آئیں گے جن کے زیر سے اشاعت اسلام اپنی تکمیل کو پہنچی تھی اللہ کے فضل سے آپ عین اس وقت جب وہ تمام علامات جن کا اس نے بھی ہے قرآن مجید میں بھی وہ سب پوری ہوتی لوگوں کو دکھائی جاتی رہی آپ ہی نے چوتھی صدی کے سر پر دعویٰ کیا کہ آپ کو مجھ سے بہت امیدیں ہیں آپ کے ساتھ وہی سلوک ہوا جو ہمیشہ سے انڈیا کے ساتھ ہوتا ہے آرہا تھا کہ وہ جو شخص جوان فطرتی پاک ہی نیک ہیں جن کی قسمت میں خدا تعالیٰ نے ایمان لکھا ہوا ہے ان کو یہ سعادت نصیب ہوتی رہیں اور اس کے بالمقابل ایک گروہ ہوتا رہا ہے جو ہمیشہ سے مخالفت کرتا آیا ہے آرہا ہے اور آگے بھی کرتا رہے گا آپ کے سر میں خاک ساتھ بانی جماعت احمدیہ کی اس سے دیکھا جاتا ہے جو میں آپ فرماتے ہیں میری طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ قرآن اور حدیث کے مطابق اور اس الہام کے مطابق کہتا ہوں جو خدا نے مجھے کہا آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں جس کے کان ہوں وہ سنی اور جس وہ دیکھے حدیث میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ حضرت ہوگئے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کی گواہی تھی دونوں باتیں ہوتی ہیں اور سیل یا اللہ تعالی کا قول اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال موجود ہے نیازی صاحب کو دیگچہ انڈیا کے درمیان دیکھ اردو شعر تو کے بعد تم اور کیا چاہتے ہو صدا نشانات سے تائید کی طالب حق کو اور خوف خدا رکھتا ہو اس کے سامنے کے واسطے کافی سامان جمع ہو گیا ہے پہلی پیش گوئی کے مطابق قال اللہ وقال رسول کے مطابق آئندہ چند روز کے بعد دعویٰ کرتا ہے یہ وہ وقت ہے کہ عیسائیت اسلام کو کھا رہی ہے خدا تعالیٰ نے اسلام کی حمایت کے بعد سے جو بات پیش کی ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور بات نہیں انیس سو سال سے سایوں کا یہ اے خدا ہے اور معبود ہے اور 40 کروڑ عیسائی اس وقت اس پر پھر مسلمانوں کی طرف سے ان کی تائید کی جاتی ہے کہ بے شک اسے اب تک زندہ ہے نہ کھانے کا محتاج نہ پینے کا محتاج سب نبی مر گیا پر وہ زندہ آسمان پر بہتر ہے اب آپ ہی بتائیں کہ اس سے عیسائیوں پر کیا اثر ہوگا یہاں پہ ایک خاص طور پر آپ یہ ذکر کر رہے ہیں کہ آپ کی موت بن کر آئے ہیں اور جو ایسا جن کا ذکر جو بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے جس حال میں فوت ہوچکے ہیں اور یہ امت محمد یہ جو غیر فطری نعمت ہے خیر اللہ ہے اللہ کی قسم کے اس حدیث کے مطابق بھی اس شخص نے موت سنا تھا جس کو اس مشابہت کی وجہ سے ابن مریم کا نام اسی کا نام دیا گیا ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سال بعد ہی سے علیہ السلام مبعوث ہوئے اس وقت جوگیوں کا حال تھا بال پری تو پتہ چلتا ہے وہ کس طرح سے کیا غیر قوموں کے دباؤ کے نیچے مسلسل تغیر قانون کو مسلط ہوئی ہیں دوسرا جو ان کے علماء ہیں ان کی اپنی حالت ہے ان کے متعلق حضرت کی اپنی گواہی پر وہی لوگ جو اس وقت مذہبی لیڈر ہوتے ہیں وہی اپنا سارا زور لگا لیتے ہیں کہ کا نام و نشان مٹا دیں یہاں تک کہ سولی پر چڑھا دے 2019 السلام تشریف لاتے ہیں پھر ایک گروہ ایمان لے آتا ہے پھر آج پھر یہ سلسلہ بڑھتا ہے اور 30 سال سے گزرتے اس آیت کا ایک اکثریت ہوتی ہے کہ جو شخص ایمان لے آتی ہوں کہ زہر بھی ہو جاتا ہے تمام جماعتوں کے صدر روس نے قسم کی کا یہ اشارہ ہے اور دیکھئے قرآن مجید حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ مسلم ہو سکتا ہے کی طرف اس رسولوں کو بھیجا جس کے فرعون کی طرف مسلسل تو آپ مسیر موسی پھر آپ کا جو سلسلہ ہے اس میں بھی مشاعرے ہی فیصلہ اور محمد اسلامی اور حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ عجب ہوتے ہیں توایم چودہ سو سال بعد میں پڑھ سکتے ہیں تو آپ کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا ہے اللہ کی قسم ایک طرف ان علماء کو یہود کے ساتھ مشابہت دیتے ہیں جو اس دور میں ہوں گے وہ جو شروع کرتے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے ہے کہ کسی طرح سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ختم کر دیا جائے گا نا ہم نے تک بھی کیے گئے کہنے لگے گی کفر کے فتوے لیے کہ دنیا بھر میں ہر جگہ پھر جھوٹ اور تربیت کے ذریعے نتیجہ ہے کہ آپ کے سامنے ہے اللہ تعالی کے فضل سے تب بھی جب جب آپ کی حیات میں بھی جو نیک لوگ تھے جو پاکستان رکھتے تھے اس لیے شور رکھتے تھے اسلام کا درد رکھتے تھے آپ کے پیغام کی طرف توجہ کرتے تھے ٹویٹ سے کام لیتے تھے اللہ لیکن بعد میں بھی اب بھی جماعت احمدیہ پھیلی ہے تو اندر سے تو لوگ نہیں آئے گا ایسے ہی لوگوں نے اس طرف اور کیا تو ہم بھی آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ اس کام کی طرف غور کریں اور جو مخالفت یا خدا تعالیٰ کے سوا کسی ہوتی آرہی ہے ان کی باتیں آپ کو سنتے ہیں آپ بے شک سنی اور یہاں وہ سوالات جو پیدا ہوتا ہے ہمارے پاس لے کر میں نے اعتراض ہے کوئی ایسی بات ہے جس سے کوئی بھی یا ہمارے اس پروگرام میں بھی ہم انہیں ترازو کے بارے میں اور آپ پھر خود ہی ان کی نوعیت کا اندازہ لگا لیجئے گیا خاکسار بیب ہمارے جو اس مکان سے اسے کسی ایک اعتراض کے بعد سے بات کرنا چاہے گا شہزادہ آصف آپ کے علم میں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح طرح کے اعتراضات ہوتے ہیں ہم سے کہتے آرہے ہیں کہ دیکھے ہیں برائے کرم جو بات آپ پڑھتے ہیں آپ اسی طرح کو کھولیں گے مضمون بھائی آپ کے سامنے واضح ہوجائے گا اسی طرح کا ایک قابل اعتراض ہے جو کچھ عرصہ پہلے کیا گیا جہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارت میں رکھی گئی جس میں آپ فرماتے ہیں یہ روحانی خزائن کی جلد ہی یہ ہے کہ شیعہ قرآن ہیں آپ فرماتے ہیں کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو سب سے اچھا ہے تو وہ جو محترم ہیں جو اپنے آپ کو اہل اسلام کا نمائندہ قرار دیتے ہیں 12 یہ تو آپ کی سوچ ہے جو سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ الفاظ مرزا صاحب کے بارے میں کہہ رہے ہیں جن کے درمیان اب رہتے ہیں اور جنہیں آپ احمدی لوگ صحابہ کہتے ہیں یہاں پر یہ بات وہ میں سمجھانے کی کوشش کر لوگوں کو بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے صحابہ کے بارے میں ایسے کلمات کیا تو ایک نبی کے اصحاب ہیں ان کے لئے تو ہم جانتے ہیں کہ تعریف بیان ہوئی ہے تو یہ باتیں درست معلوم نہیں ہوتی چاچا آپ اس کی حقیقت ہے گیم باللہ من شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم بہت شکریہ طارق صاحب یہ ہے کہ نبی علیہ السلام پر جب قوم میں سے کچھ لوگ ابتداء میں ایمان لاتے ہیں تو وہ آغاز میں ہی تربیت یافتہ نہیں ہوتے اگر وہ تربیت یافتہ ہو تو پھر تو میسیج بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی اس کے آنے کی ضرورت ہی تب ہوتی ہے کہ لوگوں کی تربیت نہیں رہتی تعالیٰ نے ان کو جواب کا مار دیے ہوتے ہیں ان پر پوری طرح عمل نہیں کر پا رہے تھے اس کے بعد ان کی قبر نبی کے پاس رہنے سے نبی کے ساتھ رہنے سے ان کی سطح پر تربیت ہوتی ہے تو وہی لوگ اللہ تعالی کے فضل سے روحانی طور پر پہلے مرد ہوتے ہیں تو نبی ان کے لئے ایک نئی روح بن کر آتا ہے کی جاتی ہے تو وہ زندہ ہو جاتے ہیں تو یہ زندگی کے آپ باہر ہوتے ہوتے اس ٹائم لگتا ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسی اسلام اپنے ماننے والوں کے متعلق کے الفاظ بیان فرمائیے تاکہ الفاظ تو ہم میں اور انبیاء علیہم السلام کے بارے میں بھی ملتے ہیں خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس صحابہ کے بارے میں جو نماز پڑھنے نہیں آتے تھے فرمایا کہ میرا کردار ہوتا ہے کہ لڑکیوں کا گھنٹہ گھر اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں تو نماز کے لیے نہیں آئے کیا اس بات کو لے کے کوئی عیسائی یا یہودی اگر یہ ترک کر دے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے بارے یاری مانگتے ہیں تو کیا ایسے صاحب ہوتے تھے غلط ہوگا نہیں ہوگا اس لئے کہ یہ سارے صحابہ تو ایسے نہیں تھے یہ صرف چند ایک ایسے ہوتے ہیں جو ان کی تربیت میں کوئی کمی رہ جاتی ہے یہ ہر دور میں کچھ نہیں عباس اسلام نے بھی بعض صحابہ اور ابھی جماعت کو قائم ہوئے 2324 ہوئے ہوں گے یعنی 8889 میں ہوئی ہے پہلی بات جماعت قائم ہوئے انیس سو اکانوے میں پہلا جلسہ ہوا ہے اور یہ جو الفاظ آپ نے بی لوگوں کے لئے تو جلسے کے لیے آئے تھے مجھے جلسے منعقد کر کے اندھیروں کی طرح اپنی شان و شوکت کا اظہار کرنا مطلب اور یہاں آنے والے اگر اپنے اخلاق کا نمونہ نہیں دکھائیں گے اپنے آرام کو اپنے بھائی کے نام پر انہیں اپنے بھائی کے نام یار میں جس کا انہوں نے حوالہ دیا ہے ایسی میں آپ فرماتے ہیں کہ اکثریت جو جماعت کی ہے والا بہت اچھی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اگرچہ نجیب اور سید بھی ہماری جماعت میں بہت بلکہ یہ ہیں جن پر اللہ تعالی کا فضل ہے جو نصیحتوں کو سن کر روتے اور عاقبت کو مقدم رکھتے ہیں ہیلو پر نفرتوں کا عجیب اثر ہوتا ہے لیکن میں اس وقت جن لوگوں کا ذکر کر رہا ہے یعنی اس میں کچھ دن لوگ مراد ایک تو وہ ان کی تربیت وہ بھی ہو سکتے ہیں جو ملاقات اور پھر آپ فرماتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر میں درندوں میں رنگٹون بنی  بلکہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لا چکے تھے آپ کی قوم کے تھے کیا جواب دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خان صاحب ان کتابوں کا پہلا گناہ القاعدون من کجا تو اور تیرا رب جاکے لڑو بیٹھے ہم سے جنگ نہیں ہوتی اسلام آباد کے حضور عرض کرتے ہیں رب العالمین نہیں باقی کہ اے میرے رب میرا اختیار تو صرف اپنے لفظوں میں ہیں اور میرے بھائی پر ہے دونوں کے علاوہ میرا کسی پر اختیار نہیں ہے دوسروں کو بیننا وبین القوم الفاسقین درمیان اور اس کے درمیان تعلق پیدا کردے حضرت موسی علیہ السلام کی دعا کیا کر رہی ہے کہ آپ کے ماننے والے سارے ہی ایسے تھے کہ نہیں آغاز میں تھے ان کی تربیت نہیں ہوئی تھی تو یہ اس طرح ہوتا ہے جن کی تربیت نہیں ہوتی ان کے بارے مین بیان کیآدم سے زیادہ بہتر ہے کیوں پھر آپ فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ فرمایا میں اپنے ساتھ لوگوں کو کیا سمجھیں جن کے دل اور جو اس کو نہیں پہچانتے جس کو میں نے پہچانا ہے درحقیقت وہ ایسے ہیں جن کو شیطانی راہ چھوڑنا منظور نہیں یاد رہے جو میری رنگ پر چلنا نہیں چاہتا وہ مجھ سے نہیں ہے میں آپ کے سامنے مختلف انبیاء کے بارے میں مجھے حضور فرماتے ہیں جو میری راہ پر چلنا نہیں جاتا وہ مجھ سے نہیں ہے اور پھر اس کے ساتھ آپ نے فرمایا کہ میں بار بار کہتا ہوں بات کرو ان کو روحانیت کے طور سے اچھا روشن کرو جیسا کہ وہ ظاہری طور پر روشن ہیں ظاہری روئے تو حیوانات میں بھی موجود ہے مگر انسان اس وقت سوجا کہلاتا ہے جبکہ باطنی روی بیان اس کو حصہ ملے خوبصورت جو خوب سوچ لو کہ غیر سستی پارٹی بھی ایمانی اور اخلاقی اور عملی اسی طرح آئی نہیں اپنے ہی مسلمان سمجھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو نہیں بلکہ وہ اپنے ہی دھوکا دیتا ہے کیا کام جو سچے دل سے دین یہ کام اپنے سر پر اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک گلے کے نیچے تھکے دل سے اپنی گردن نہیں رکھتے ہیں تو یہ الفاظ ہے حضور کے اس میں سے ایک فقرہ پر لینا اور باقی انتہائی اعلی درجے کی تحریر کو اورنگزیب یہ اب مخالفین کا طریقہ رہا ہے جیسا کہ میں نے آج میں بھی عرض کیا کہ نبی پر ایمان لانے والے ہوتے ہیں کرنے میں ٹائم لگتا ہے اب لیکن باقی انبیاء کے بارے میں قرآن کریم پر غور کریں تو میں بھی آپ کو اس طرح کے الفاظ ملتے ہیں جیسا کہ نہیں اس کے دل میں رہتا نہیں ہے میں کیا کروں میرے ساتھ نہیں ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول دیکھیں سورہ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی یہی فرماتے ہیں کہ مانتا نہیں ومن عصانی فانک نہ کا بول رہی تھی کہ میرے ساتھ تو اس کا تعلق ہے جو میری پیروی کرتا ہے اور جو میری نافرمانی کرتا ہے کشمالہ ہے بار بار رحم کرنے والا ہے حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں آپ کو پتہ ہے کیا ہوا ہے کہ آپ نے اپنے ماننے والوں کو خدا تعالیٰ کے اس بابے کی طرف توجہ دلائی کہ اس لیکن اس کے لیے لیکن آپ کی قوم نے جنگ کرنے سے انکار کر دیا کریم میں اللہ تعالی بیان فرماتا ہے کہ کون نے جواب دیا یہ کوئی جواب دینے والے وہ نہیں جو انہوں نے آپ پر اس کے الفاظ استعمال کرتے ہیں پھر ان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی آپ دیکھیں قرآن کریم میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا ہے کہ جو ایمان لانے والے ہیں ستارے اس پر فدا ہیں ان کے اندر منافقین بھی ہیں قرآن کریم میں اللہ فرماتے ہیں وہ امن انعام کے لی جب سورہ جمعہ کے اجتماع سے باہر جا رہا ہوںے قولوا آمنا باللہ وبالیوم الآخر علی اللہ ان کو صحت عطا فرمائے نبی ہیں جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لوگوں کے بارے میں اگر نبی آسرا کا سکتا اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ساری جماعتیں اس بات کی ہے بلکہ رسول پاک صلی اللہ تعالی نے تو اپنے بعد آنے والے اپنی امت کے علماء کے بارے میں علامہ کے بارے میں کی طرح ہوں گے اور وہ آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے تو کیا اس ماہ رمضان الوداع کیا جاسکتا ہے بالکل نہیں تو یہ اس طرح کی اور بہت ساری مثالیں ہیں کہ اسلام کے صحابہ میں بعض ایسے تربیت یافتہ لاتے ہیں لیکن وہ دارالایمان وہ اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں دھوکہ دینا چاہتے ہیں وہ اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے بلکہ اپنے نفسوں کو دھوکا دے رہے ہیں یہی بات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو بندہ رکھنا مسلمان سمجھتے ہیں وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہا ہے وہ خدا کو دھوکا نہیں دے رہے یہ بات تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے یہ قرآن کریم باقی انبیاء کی تعلیمات کے بالکل مطابق ہے باقی اب میں بھی ایسے ہوتے رہے ہیں اگر آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں منافقین جن کی تربیت یافتہ ہونے کیلئے طبیعت کے سامان سے موجود تھے لیکن پھر بھی وہ تربیت کا اثر نہیں کرتے اسلام کے اس میں جماعت میں قربان ہوتے ہیں آپ کی بات نہیں اگر فرما یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ منافق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ منافق ہوتے ہیں جن کو خود پتہ ہوتا ہے کہ ہم کو آتے ہیں اس لئے ہیں کہ اسلام کو یا دن کو نقصان پہنچایا جائے جس نے داخل ہوتے ہیں قسم کے ملاقات ہوتے ہیں دراصل وہ آپ کے سہی ہیں لیکن پوری طرح بھی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت ہے ہے جن کے بارے میں فرمایا کہ جب روشنی ہوتی ہے توجہ کرتے ھیں اور جب اندھیرا ہوتا ہے تو وہ رک جاتے ہیں ابھی وہ بظاہر معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ بھی پاک کا رنگ ان کے اندر پایا جاتا ہے اور کوئی پتہ نہیں کب تک آ جائیں تو یہ ٹی وی تو دراصل ہر نبی کے دور میں رہی ہیں ہر نبی کے دور میں دونوں قسم کے مناقب ایک وہ بھی نہیں ہیں جو نقصان پہنچانے آتے تھے وہ بھی ہوتے تھے لوگوں کو نقصان پہنچانے نہیں آتے تھے بظاہر وہ اپنے پاس ایمان رکھتے تھے لیکن پوری طرح ایمان کا رنگ بھی ان کے دلوں میں نہیں ہوتا میں پوری سورہ منافقین ہے اس سے پڑھ کے دیکھ لیں اس قسم کی نشانیاں اللہ تعالی نے بیان فرمائی ہیں پھر ان حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منافق کی نشانیاں حدیث میں بیان فرمائی ہیں کہ ایسے لوگوں پر بات کرے تو جھوٹ بولے میں تو مانگ میں بیان تم فرمایا کہ یہ ملاقات آج تک اس طرح کی امت میں ہوں لیکن اس کے اندر پاک کی یہ نشانیاں پائی جاتی ہیں وقار کو قائم اس کی شان نزول بیان کی گئی ہے تاکہ ان کو کا قافلہ آیا تھا اور اس وقت اگر نماز کا ٹائم تھا اور وہ دیکھنے کے قابل ہے تھوڑے سے چند صحابہ کے باقی وہ ذرا بھی بیان کرتے ہیں سارے کے سارے کر چلے گئے تو یہ آیات نازل کیوں چلے گئے تھے ابھی تربیت نہیں ہوئی تھی تو اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسے ہی لوگوں کے بارے میں تھا اور یہ فرمان حضرت علی جماعت کے بارے میں نہیں تھا اس لئے اس سے یہ نتیجہ کے ماننے والے آٹھ افراد تھے اس طرح کریں گے تو پھر آپ کو سارے انبیاء کے پردے لگانا پڑے گا جو کراچی کے شعبہ شکریہ جزاکم اللہ احسن الجزاء احسن یہ کہ یہ بھارت ہے یہ شروع کی عبارت ہے جب بھی صاحب حضرت تربیت تھے کچھ عرصہ ہوا تھا آپ نے دعویٰ کیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ جب لوگ پہلے سے ہی باکمال ہونگے ان کو تربیت پہلے وہ چکی ہوگی تو پھر بھی کی کیا ضرورت ہے تیزابیت کے جب امت سے اور افراد کے دل ڈر جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کی اصلاح کرکے پھر سے ان کے ساتھ ایک قوم بننا چاہئے جو خود کو اس قابل بنانا چاہتا ہے کہ وہی روحانی پرواز کر سکے جزاک اللہ صاحب بہت بہت شکریہ آپ ہمارے پاس سوالات کا سلسلہ شروع ہوچکے ہیں ایم ایم بلکہ ہمارے میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان سے مثال بھی ہیں اس موقع پر منوا لیتے ہیں آپ سے سوال کرنا چاہے گا تو ڈاکٹر مدثر حسین صاحب نے پاکستان سے جی مدرسہ جی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ڈاکٹر مدثر اکرم بطور پاکستان سے میرا یہ سوال تھا کہ دوست اپنے گھر میں بھی دیکھتے تھے ان کا یہ سوال تھا حضرت کلام نے جس طرح جماعت احمدیہ کو میری اور بیٹی میں فرق کیا ہے اگر یہ اتنا اچھا کانٹیکٹ تو لائن سلم نے اس طرح کا کوئی منصوبہ اسلام میں کیوں نہیں ٹھیک ہے اردو میں یہ بھی کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ یہ منصوبہ ٹھیک ہے تو وہ حضرت وسلم کا فرمان تو کے متعلق تھا اس زمانے میں اس کو تو ہم نے کیسے بنا دیا سوال پوچھا جا رہا ہے کہ سورۃ توبہ سے پہلے بسم اللہ کیوں نہیں ہے قیاس جی یہ پہلے ہے کہ آزادی کا یہ تین باتیں آپ کے خلیفہ صاحب ان باتوں سے انشاءاللہ آپ کی طرف آؤں گا تو اس سے پہلے بسم اللہ کال کرنا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ ابھی لکھی ہے جو صاحب کے جواب سے اچھے خاصے تو چکی ہے کہ کس طرح سے مخالفین اسلام کے طریقوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دہی کے ذریعے سے باتیں اور ٹوکن ٹیکس پیش کر کے کیا کیا فائدے کے سامنے دکھانے کی کوشش کرتے ہیں یہ بھی کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ احمدی لوگ آپ اپنی کتابیں پر ہو یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں تو یہ ہم تو شروع سے پڑھ کے آگے آگے بڑھتے رہیں گے ان کتابوں میں تو وہ حقیقی زندگی اور سرائیکی سونگ کی تعلیم کی وضاحت تفسیر ہے بلکہ آپ لوگوں نے وہ کتاب پائی ہوئی ہے لوگوں کو اب تو بس ایک رات 12 سے آگے دے رہے ہو تو آپ سے خاکسار ایک ا سابق سوال کے ساتھ جی السلام علیکم ورحمۃ اللہور بات ہے جو اس کی طرف منسوب کی جاتی ہے کہ آپ نے بیان فرمائی ہے لیکن اس کو پھر بالکل لیاقت گورنمنٹ السلفیہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن نے ایجاد ہے کہ میرے معجزات کہ حضور کی قسم کی موجاں تین ہزار کے قریب تین ہزار سے ساڑھے تین لاکھ سے بھی زائد ہو جاتا یہ بات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ابھی اس کے پیچھے کنٹیکٹ نہ بتاؤ تو یہ سمجھے کہ آپ نے مجھ سے زیادہ کہہ دیا تو یہ تو حسن کی شان کے خلاف ہے تو اس بارے میں بتائیں اللہ رحمان رحیم شکریہ طارق صاحب جیسا کہ آپ نے کہا ہے یہی ہے کہ حضرت مسیح السلام کی تحریروں کو اگر توڑ کے اگر کوئی پیش کرنا جیسا کہ یہ کر رہے ہیں اللہ کی اگر غور سے دیکھیں تو ان تمام اعتراضات اٹھاتے ہیں ان کے جوابات حضرت مسیح علیہ السلام کی کتب اور ان کی تحریر سے مل جاتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہونے کا دعوی حقیقی سراسر بے بنیاد الزام ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت آپ نے اور آپ کے مقام کے بارے میں جو نظم اور نثر اور ادبی زبان اور فارسی زبان میں جو ذکر فرمایا ہے حقیقت میں کسی شخص کیوں تیری رات میں وہ محبت اور عشق اس مقام کا نہیں ملتا جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کی تحریرات میں ملتا ہے ایک ایسا شخص جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ڈوبا ہوا ہوں کیا یہ عقل تصور نہیں کرتی کہ اسے کس طرح کی توقع کی جا سکتی ہو کہ وہ اور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو نواز بلاگ تھا اور اپنا بنا رہا ہوں حضرت مسیح علیہ السلام از اور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم آتے ہیں آپ فرماتے ہیں کل وبراکاتہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر قسم کی برکت ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ وابستہ ہے جنات کے ساتھ ہر برکت وابستہ ہو اور جو شخص یہ کہہ رہا ہے وہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں کیا کہ میں ان سے زیادہ افضل ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور اپنا مقام بیان کرتے وقت نصیرمستانہ ہے اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ان کے ایسے آپ کا خوبصورت کلام ہے اس کلام کے ہوتے ہوئے کوئی انسان ذی شعور انسان کوئی تصور نہیں کر سکتا کسی بھی جگہ اپنے مقام جو ہے وہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہو جیسا کہ میں نے بتایا اسلام نے متعدد جگہ پر حضرت معاذ اور صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت اور فضیلت کا ذکر فرمایا ہے اسی کو نصیب میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ایک جلسہ کرو اور ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سنو اور ہمارے گواہوں کی شہادت رؤیۃ النحل فی شہادۃ ہوگی کل بند کرتے جاؤ اور پھر اگر آپ کے لئے ممکن ہو تو وہ استثناء ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں پیش کرو اب یہاں حضرت مسیح علیہ السلام از السلام کے معجزات استثناء فرما رہے ہیں آپ ایک جگہ مزید فرماتے ہیں کہ اس نے میرا دعوی ثابت کرنے کے لئے اس قدر مجھ سا دکھائی ہے کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں کہ جنہوں نے اس قدر موجرا دیکھائے ہو تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے جب کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت قطعی اور یقینی طور پر محال ہے تحریروں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے معجزات بیان ماریہ اعظم کے مزار سے استثنیٰ فرما رہے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہوا کہ آپ کی تو کوئی مماثلت ہی نہیں کی صاحب کے ساتھ اسی طرح آپ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ جس سے اس قدر مضبوط سات ظاہر نہیں ہوئے جس طرح ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باقی انبیاء کے فوت ہونے کے ساتھ ان کے معجزات بھی مر گئے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات آج بھی ظاہر ہو رہے ہیں اور قیامت کے دن تک کسان ہوتے رہیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اب بھی ظاہر ہو رہے ہیں اور قیامت کے دن تک حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ تعریف تو بتا رہی ہے کیا اس وسلم کے معجزات و شمار ہی نہیں کیے جا سکتے ان کو تو کرنا ہی محال ہے کی طرح آپ نے اپنے تمام معجزات کو اور نشانات کو اور سلم کے موضوع قرار دیا ہے آپ نے ایک جگہ فرمایا جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب کا سب اور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں تو آپ کا تو کچھ بھی نہیں ہے آپ فرماتے ہیں کہ جتنے اگر وہ تین لاکھ 10 لاکھ بھی آپ کی صداقت کے لیے ہزاروں میں تو تمہارے یہ تمام انسان صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہیں حضرت مسیح علیہ اسلام نے یہ تین ہزار وسلم کی طرح معجزات کا ذکر کرنے کی وج پاک سعودی عرب کی طرف آئے گاہ کیا ہے تو نہیں اس کا بھی خود جواب دیا ہے حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تو چاروں طرف سے چمک رہے ہیں کیونکہ کیوں کر چھپ سکتے ہیں صرف وہ معجزات جو صحابہ کی شہادت شہادت سے ثابت ہے وہ تین ہزار میں سے ہیں اور پیشگوئیاں تو دس ہزار سے بھی زیادہ ہوں گی جو اپنے وقت پر پوری ہوتی رہتی ہے تین ہزار بچے جو ان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی صبح کے سامنے ظاہر ہوئے وہ تین ہزار ہے رہے باقی معجزات تو قیامت کے دن تک حضرت موسیٰ علیہ وسلم کے معجزات جاری ہوتے رہیں گے اور ظاہر ہوتے رہیں گے اسی اس تصدیق میں حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کرامات اولیاء سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مجھ سے ہیں سعد کا سلسلہ حقیقت میں حضور صلی اللہ وسلم کے معجزات ہیں یہ جو اعتراضات منصور صاف کیا جاتا ہے آپ کی تحریرات اس کے بالکل برعکس بعض اعلان فرمارہی ہیں کہ جو کچھ حضرت مسیح علیہ السلام کو بلایا وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ کے سال کے طور پر ہیں آپ کو ملے شاکلہ بہت شکریہ بالکل واضح ہے اس وجہ سے تو اصل حقیقی زندان بی تو سوچ سمجھ نہیں ہے تو نظریہ نزد اسلام کا کلام ہے آپ خود ھی دیکھ لیں جو جس سے آپ نے باتیں بیان فرمائی نہیں ہے اور آپ کی طرف سے یہ باتیں منسوب کرنا کتنی بڑی ناانصافی اور جھوٹ ہے تو شاہ صاحب بھی ہمارے پاس نہیں آئی ہے ہم ان کوالسلام علیکم السلام علیکم غالبن کالج وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ السلام علیکم اپنا سوال پیش کریں ملکی قانون کا تجزیہ ٹھیک ہے یعنی ملکی قانون یا آئین اور شریعت میں کیا فرق ہے تو میں دوسرا بھی سا نہیں دیتا تو باہر یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ بزرگان دین کی قبریں الگ بنائی گئی ہیں کیا ان کو الگ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ پارٹیوں کو نعوذباللہ کو دوست سمجھتے ہیں ہرگز نہیں ایک اور بات نہیں ہے یہ درست ہے کہ باقیوں میں بھی پوری دنیا کرنے و گوجرانوالہ گؤں کو قبروں کو دیکھ کر جانے والے کو ایک قربانی کا جذبہ ہےالے ہیں معمولی طور پر قربانی اور جن کی باقاعدہ تصدیق ہوتی ہے کہ میں مر بھی جاؤں تو میری جان آپ کا اتنا حصہ دین کے لیے آپ نے زندگی میں کبھی وہ دیکھتے رہتے ہیں اور صرف پیسے کی بات نہیں بین کے اوپر عمل کرنا بھی ہے اگر کسی کے بارے میں یہ رپورٹ مل جائے کہ یہ صحیح طریقہ پر بھی دین پر عمل نہیں کرتا تو پیسے وہ جتنے مرضی اس کے بعد آتی ہے کوبانی میں دفن کیا جاتا ہے صرف یہ ہے کہ دیکھیں آغاز سے ہی یہ چیزیں چلی آ رہی ہیں علیحدہ مزار اللہ خان سے بھلا کب بنے ہوئے تھے فرق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو ایک نظام مصطفی کے ایک نظام کا نام ہے کہ بجائے اس کے کہ ایک قربانی کرنے والے اور اس طرح زندگی گزارنے والے علی حیدر کے دوران ہیں کل ڈاکٹر کیا جائے ان کو ایک ہی جگہ ایک ایسا قبرستان بنا دیا جائے جہاں تمام بزرگوں کی قبر انہوں نے حضرت موسیٰ یہ عہد کیا ہو کہ ہم اپنی زندگی دین اسلام کے مطابق یہ کمپنی کے مطابق گزاریں گے اور خدا کی خاطر اپنے کم از کم احمد کا اتنا حصہ جو ہے وہ ضرور دیں گے تو ہر احمدی تعالی کے فضل ہمارا نبی کے بارے میں یہ تو اللہ تعالی کی ذات سے امید کرتے ہیں کہ وہ جنتی ہیں قربانی کرنے والے ہیں یہ ان کے لیے صرف ایک نظام قائم کیا گیا ہے قربانی کرتے ہیں لہٰذا بجائے اس کے کہ ان کے علیحدہ علیحدہ تو اس نظام کے تحت اگر وہ آتا ہے تو اس کے مطابق اس کی قبریں علیحدہ بنا دی جاتی ہیں تو یہ کام باقی مسلمان بھی کر فرق صرف اتنا ہے کہ وہ الزام کوئی نہیں ہے اور ہمارے ہی اللہ تعالی کے فضل سے ایک نظام قائم ہے قائم کرنا یہ کوئی غلط بات نہیں تھی آپ حضور صل وسلم کے دوست سے یہ چلا رہا ہے صرف نظام کا مطلب ہے کہ اس وقت نظام نہیں تھا اللہ اکبر بنا دی جاتی تھی حضرت مسیح علیہ اسلام کے آنے کے بعد باقاعدہ ایک نظام کے تحت ایک قبرستان بنا دیا گیا اس کا فائدہ یہ ہے اپنے عزیز کے لیے گوارا نہیں کرتے وہ وہاں پر موجود بہادر تین شدہ تمام جو بزرگ ہیں وہ سب کے لیےتھ آپ سے درخواست کرے گا جی وعلیکم السلام جی ڈاکٹر صاحب آپ نے سنا ہے وہ بہت ماں کے بارے میں ساتھ ہوتے ہیں کیا ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ہے یہ جاننا چاہتے تھے کہ کافروں کا بیان کے مطابق تھا اب دیکھتے ہیں کہ رب ہمیں بھی ایسے قبرستان ہے جن کے بارے میں کہتے ہیں مقبرہ ہے اور توبہ کے بارے میں مختصر بتا دیں کہ لکھی گئی آج یاد ہی ہے کہ دیکھیں کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خدا تعالیٰ کے ایک شریعت واقعہ میں عطا فرما دی ہے بشریات کی آشا کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ارشاد ہے مفت کا غلبہ ہے جو اس کی تکمیل ایک دور میں ہوگی اور اس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے ماما بیبی ان کے ذریعے اس بار جب وہ راستہ ہوگا جب اسلام بظاہر کمزور ہوچکا ہے اسلام دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اسلام کا غلبہ اس دور میں ان شاء اللہ العزیز ہوگا یہ بات کیا حضور صلی اللہ وسلم کے دور میں یہ چیز نہیں تھی اور اب کیوں ہوئی ہے دیکھیں دنیا تو اسی دور سے بنی ہے کیا ہے بنیاد قبر نہیں ہے بنیاد پر بنی ہے اور یہ دیکھنا کہ میں نے رقیہ کے ان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہیں یہ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ بنگلہ دیش الوداع مدینہ کے والی مدینے بلا لو کے وہی ذات ہے جس نے جس نے اپنے رسول کو بھیجا ہے اور اپنے حق دے کر تاکہ اس کو تمام دوسرے عطا فرما دے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تو ابھی یا پھر بھی نہیں ہوئی تھی خدا یہ اب اس وقت یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ آج کوئی اعتراض کرے کے رسول پاک صل وسلم نہیں ہوا تو امام مہدی کے دور میں کیوں ہورہا ہے تو یہ احساس ہی نہیں ظہیر دوسری بات کے لئے 20 نمبر اس وقت کیوں نہیں بنایا کہ آپ کو بنایا گیا اس یار قبر بنانا نہیں آتا بنیاد رکھی جو ہے قربانی جو اس کے پیچھے پیش کی جاتی ہے قربانی تو ہر مومن کرتا ہے بیٹھے اور ہر مومن آباد جو بات آپ سے کرتا ہے لیکن اعلی درجے کے منہ کی نشانی بنیادی چیز کہ نماز ادا تعالی کی عبادت اور وقار دینا اور وقار یہ نیم میں آرہا ہے اس کے علاوہ طبقات خیرات یتیموں کی خبر گیری بابا کی قبر پر قرآن کریم میں جگہ جگہ واضح طور پر ذکر تو جو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور دوسرا خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کو بناتا ہے وہ جنتی ہے لیکن ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو قربانی کرتے ہیں کہ وہ ہوتے ہیں جو اعلیٰ درجے کی قربانی کرتے اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کے آغاز سے ہی اب تک اس قسم کے جو بزرگان آتے رہے ہیں اولیا کر رہے ہیں ان کو میں دفن نہیں کیا جاتا رہا ان کو الگ سے زخم کیا جاتا تھا کیوں اس لیے کہ ان کے بارے میں یہ خیال ہوتا تھا کہ انہوں نے جو اسلام باقی لوگوں پر ممتاز ہے ان کی قبر بھی الگ بنائی جائے میں آپ کو آغاز اسلام سے ہی مختلف اللہ تعالی کل باقاعدہ ایک نظام نہیں تھا پاکستان میں صرف آپ دیکھ لیں اکیلے ملتان شہر کے اندر کہا جاتا ہے کہ 300 کے قریب دار ہیں اور اگر میں 300 کے قریب نظر آ رہی اور اسی طرح ہمارے ملک کے اندر ہر شہر کے اندر موجود ہیں انہوں نے جنت اور دوزخ بنا لیں جو پیسے دیتا ہے اس کو جنت آپی نے اسلام پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے وہاں آنے والوں کی دعائیں ان سب کو پہنچ رہی ہوتی ہیں تو دونوں ایک دوسرے کے بغیر یہ فائدہ ہے اور دوسری بات نہیں ہے کہ ان کے لئے آخرت میں شمولیت کا اعلان فرمایا تھا باقی دنیا کے لیے سے باہر کیوں ہیں یہ بات یہ درست ہے کہ آغاز کا بیان سے ہوا ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ سب یہ یوٹیوب نہیں ہے اب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو پوری دنیا کے لئے آئے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اسلام آباد انڈیا کے جو تم دیکھو گے جو اس میں یہ نظام مسجد میں حصہ لیں گے وہ سارے کے سارے قادیان میں دفن ہو سکتے ہیں ممکن ہی نہیں ہیں یہ جماعت اللہ تعالی کے فضل سے ترقی کر سے آگے بڑھتا جائے گا ویسے یہ نظام بھی ترقی کرتا جائے گا اور اس نظام میں پھر اللہ تعالی نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جانشین مقرر کی ہیں ہوں گے ان کی منظوری کے ہر ملک میں وقت کے ساتھ ساتھ بیٹھے مقبرے کے آگے ان کے اسی قبرستان اصلاح کے بنتے چلے جائیں گے اور اس کی شاخیں آگے سے آگے بڑھتی چلی جائے قادیان ایک آگاہی واک سے لیکن یہ نہیں ہے کہ سارے کے سارے اسی ایک پل بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ سے آغاز ہوا ہے پھر وقت کے ساتھ اس کی شاخیں ہر ملک میں قائم ہو سکتی ہیں وہ خلیفہ صاحب کے حکم کے مطابق اور بہترین بھی پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ شاید اگر یہ بندہ پورا ہوتا ہے بیعت عقبہ کی اور اسی طرح معنی قربانی کی سروس میں دفن کردیا جاتا ہے سبب شکریہ سورۃ توبہ کے بارے میں تو مختصر بتا دیں تاکہ میں آگے جانا ہے مختلف جی میں یارب کر کرم کرنا چاہتا کہ دراصل اس سے پہلے جو صورت ہے سورۃ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہوتی ہے اور ہم یہ سمجھ جو کے اندر کوئی بھی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں میرے بھائیوں میں سے تیری مانند دیکھنا بھی برپا کرونگا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالنا کہے گا اس میں یہ تھا کہ وہ میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کے کہے گا نہیں مانے گا تو اس کو یعنی اس کا مطلب ہے کہ اللہ کا نام لے کر وہ کب علی کا پیغام پہنچ جائے گا بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اور سورہ توبہ میں اس لیے نہیں آئی باقی ہر سورت کے آغاز میں بسم اللہ آئی ہے کہ سورہ توبہ دراصل اس سے پچھلی سورت کا ہی حصہ ہے عمل اردو مضامین ہیں اس کو آپ کس سورت کے مضامین سے آپ کمپئر کر کے دیکھیں گے تو آپ کو ہی مضمون اور آگے چلتا ہوا نظر آئے گا کیوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا ہے اپنا بیاں کیسے کروں گا شروع میں بسم اللہ شاہ صاحب بہت شکریہ مثال میں دیکھ رہا ہوں کہ اس وقت ہمارے ساتھ ایک کال بھی ہیں علیکم ابھی ان کی طرف آتے ہیں اس سے پہلے معراج التاریخ آپ براہ مہربانی بتا دیں کہ صحت اور آئین میں فرق کیا تھا ان کا سوال واضح نہیں ہے لیکن جہاں تک میں سمجھا ہوں وہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں شریعت تو ہے یہ اصطلاحی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا شروع عربی زبان میں راستے کو کہتے ہیں اور اصطلاحی معنوں میں اللہ تعالی کی طرف سے جو قانون و ضوابط اترتی ہے انبیاء کے ذریعے جو انسانوں کے لیے لازمی قرار دی جاتی ہے ان کی ہدایت کے سامان جو ڈرتے ہیں وہ شریعت ہوتی ہے یا کے ذریعے اللہ تعالی اس نظام کو قائم کرتا ہے اس کو انسان کے اوپر فرض قرار دیتا ہے کہ اس میرے نظام کے مطابق آپ اپنی زندگی بسر کریں اور اس سے انسان کے اوپر جب وہ تعلیم فرض ہوتی ہے تو پھر اس کا تعلق خدا تعالی کے ساتھ ہوتا ہے یہ شریعت باقی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو جزاک اللہ کا جائے گا اگر اس خدا تعالی کی شریعت اور اس نظام کو توڑے گا تو خدا تعالیٰ اس کو سزا دے گا تو جزا اور سزا کا شریعت کے ساتھ تعلق خدا تعالی کے ساتھ ہے یا قانون تو دنیا بناتی ہے کہ کوئی ملک آپ کو انسان بناتا ہے وہ ایک عام دنیا دار کے رہن سہن کے لیے کافر بھی اسی طرح اس قانون کا پابند ہے ایک مومن کون ہے اس میں اس کا رہن سہن کس طرح رہتا ہے کہاں رہ سکتا ہے کہاں چل سکتا ہے کا نہیں چل سکتا یہ ایک دنیا بھی قوانین ہے دنیا کا قانون ہے وہ اس کے مطابق انسان اپنی زندگی دے تو شریعت کا قانون ہے وہ انسان لاگو نہیں کر سکتا اس طرح ہوئی کام دنیا کا قانون اپنے ملک میں ایک انسان جو یا ایک ایک کابینہ جوس کو لاگو کرتی ہے خدا کرنے کو خدا ہی لاگو کرتا ہے نبی کے ذریعے انسانوں کے اوپر وہ لاگو کرتا ہے کافر ہر انسان جواب دے بھی خدا کے لیکن جو دنیاوی قانون ہے جس طرح انسان کی پچاس سالہ زندگی سال اس طرح سے وہ اس کے مطابق اس ملک میں رہتے ہوئے وہ قانون کی پاسداری کرتا ہے جو اس سے ملک سے نکلتا ہے وہ دوسرے قانون کی پابندی کرتا ہے تو اسی طرح اللہ تعالی کا یہ قانون ہے اس میں انسان کا عمل دخل نہیں ہے وہ انسان خود اللہ کے سامنے سزا اور جزا دونوں نے جواب دیا نصر صاحب جزاک اللہ ماشاء اللہ بہت سارے سوالات آئے ہیں کال بھی ہیں ابھی ان کی طرف فرماتے ہیں ایک بلکہ ایک دوست بھی کر رہے ہیں اور آپ بھی کرنا چاہتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ گائیڈ کر مجھے تم سے پیار ہے مختصر ہے کہ آپ نے بات کرنی ہے بہت اچھی بات ہے اللہ تعالی یہ جذبہ آپ کا قبول فرمائے اور یہ سعادت نصیب ہو رہی ہے اس وقت امام مہدی کو مارنے کی تو آپ بہت آسان طریقہ ہے آپ ہمارے امیر المومنین خلیفتہ المسیح الخامس الحلقہ37 کو ڈائریکٹ یہ خط کے ذریعے سے بھی آپ کی طرف اپنا نکاح دے سکتے ہیں تو پھر کہو گے وہ پھر ضرورت ہوگی تو واپس آکر کے سامنے جو حالات ہیں آپ جانتے ہیں کہ صورت حال ہے اور کیا کیا پابندیاں ہیں اور کس طرح سے جماعت احمدیہ کی مخالفت اس لئے ہم پر آپ کے ساتھ ایسا سے براہ راست رابطہ کرنا اس کو یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتے کال پر ہے مجھے خان صاحب السلام علیکم رحمت اللہ ہیں خان صاحب السلام علیکم رحمت اللہ اواز نہیں آ رہی جی فرمائے چھوٹ یہ میں کہتا ہوں کہ میرے منہ میں ڈالتا ہے یہ بات کر میرے منہ میں ڈالتا ہے نعت شریف پشتو اسٹیٹس آپ کو کس نے بتائی ہیں ہاں جی بتائیں کیا بات کریں آپ بات کر لیں کوئی نہیں بات کر لیجئے فرمائیں اب آپ کو کیا ہوا آپ بتا بات کر رہے ہیں شاہ خان صاحب پانچ سو رہے ہیں آپ بات کرنے سے خان صاحب حاجی سے کہہ رہا ہوں کہ آپ سے بات کرنا چاہ رہے ہیں وہ سب ہمارے پاس ہے تو اب مختصر آپ کے جس سے پڑھ کر سنا رہے ہیں وہ بھی ہم سمجھ گئے ہیں آپ کی بات سے پہلے خاکسار بھی آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے یہ ہے کہ آپ کے جو سوالات ہیں تو ہمارے پاس پہنچے ہیں آپ نے پروگرام فون کیا تھا وہ رابطہ کیا تھا اپنا سوال بھیجا تھا تو آپ نے ان کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا کہ آپ بھول گئے ہیں یا مجھے نہیں پتا تو اس کے بارے میں کیا لکھا کچھ گزارش کرنا چاہے گا اگر یہاں ہمارے کنٹرول میں وہ خان صاحب دکھا سکے ذرا اس پر اچھی بات چیت ہوچکی ہے نے خان صاحب دیکھیں یہ آپ نے ہمیں جس سے خطاب میں سے نکال کے بھیجے ہیں آپ کے سامنے آپ دیکھ رہے ہیں آپ اس کے بارے میں آپ سے گفتگو نہیں کر یہ 22 بصری جو نہایت تکلیف ہو جاتے ہیں اور کیا ایک مسلمان کو ذبح ہے اس وجہ سے کسی دوسرے کے مذہبی پیشوا کو جس کو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں اور ان کے لیے دل میں احترام کے جذبات رکھتے ہیں اس طرح بات کرنا کہ درست ہے یا نہیں ہے یہ بات بھی آپ کا کیا حال ہے ٹھیک ہیں آپ کیا کرتے ہیں خان صاحب یہ چیز ہے اسے کہتے ہیں آپ کے پاس اہمیت کی مخالفت میں کچھ کتابیں موجود ہیں آپ ان کے ان کتابوں میں اب دیکھتے ہیں اچھا یہ اعتراض یاب ہوئے ہیں اور بغیر تحقیق کے بغیر پڑھے بغیر مذہب کی کتابوں کو غور سے دیکھے بغیر نہ والوں کو چیک کی ہے اور وہ سوالات بھیجتے ہیں اور پھر جواب بھی نہیں سنتے میں جو بات کہہ رہا ہوں کہ آپ جواب نہیں سنتے یہ آپ کو میں ثابت بھی کر سکتا ہوں بارہ جو سوالات آپ نے بھیجے ہیں 10 میں گیارہ غم از کم گیارہ سوالات آپ نے بھیج دیا آپ بتائیں کیا یہ پریس کانفرنس سے کیا کوئی شخص تحقیق کی رو سے باز نہیں دیکھنا چاہتا میرا بھی بنتا ہے کہ وہ آپ جیسے کون سا اعتراض آپ کو ان میں سے سب سے زیادہ لگتا ہے وہ باتیں پیش کرتے ہم اس سے بات کرتے پھر آپ دیکھتے کہ ہماری بات معقول ہے کہ حقائق پر مبنی ہے بحوالہ بھی چیک کرتے تو اس طرح سے ایک اس کا جلتا ہے انسان آگے بڑھتا ہے آپ کو ہی اپنا مرزا صاحب کی کتابیں پڑھنی ہے آپ نے بس مخالفت میں لکھی گئی ہو ہی دیکھتے ہیں کو پیس کر دیا میں سنی کی فلاح و آپ جو ہمیں جو فوٹو بھیجتے ہیں وہ مخالفین کی کتابیں بھی نہیں ہے اور جب تک عمر کا سوال ہے یہی سوال بہت تفصیل کے ساتھ ہم نے شام کی طرف سے آیا ہو یا کسی اور کی طرف سے ہم نے ہمارے اس پر اوکے کیا جائے اس کی اسلامتاریخ کرتا ہے اس لیے خان صاحب سے میری عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ بار بار کہتے ہیں میری تسلی نہیں ہوتیوگرام کو ڈسکس کیا ہوا ہے اور اس کا بہت مفصل جواب دیا ہوا ہے کیونکہ اس کا ذکر کیا ہے عمر کے حوالے سے حضرت آدم علیہ السلام نے کی تھی جو بات سامنے مخالفین پیش کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے مختلف موقع پر اپنی عمر فرق ہے کتنے ہے تو اس بارے میں آپ کو شرم آنا چاہیے تو فرما لیں اور پھر مزید دونگا عمر کا سوال ہے آپ اس بارے میں براہ کرم کچھ روشنی ڈال دیں گوشت سے بات ہوئی ہے لیکن اس سوال کا تعلق ہے اصل میں سوال کرنے کا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے اسلام نے سوال کو کنڈم بھی کیا ہے وہ سوال کی تعریف بھی کی ہے قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے ہم تریدون ان پاکستان کیا تم بھی اسی طرح سوال کرنا چاہتا ہوں جس کا موسی سے سوال کئے گئے تھے اللہ نے اس طریقہ سے سوال کرنے کو پسند نہیں فرمایا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کثرت سے سوال سے بچو اس لیے کہ تم سے پہلے بعد میں تین قسم کے سوال کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں اور لیکن دوسری طرف ان حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اچھا سوال آدھا علم ہے لیکن سوال تین قسم کے ہوتے ہیں ایک سوال بہت ہے جو علم حاصل کرنا کے لیے کیا جاتا ہے یہ بہت اچھی چیز ہے تو دوسرے کا علم جاننے کے لیے کیا یہ کیا جاتا ہے یہ تکبر کی علامت ہوتا ہے اور تیسرا سوال ہوتے ہیں جو محاذ کا بیٹری کی وجہ سے ایک دوسرے کو کسی نہ کسی طریقے سے کلیجی بار کی وجہ سے یہ بھی تکبر کی علامت ہے موسم اور کبھی برکت پیدا نہیں کیا کرتے اور وہ صبح جو واقعہ تنگ علم حاصل کرنے کے لئے اتار کے کرتے ہیں اس کا مطلب ہے آپ اصل کتابیں دیکھتے نہیں ہیں صرف آپ کا انتظار مخالفین کی کتاب اگر مکالمے کی کتابیں پڑھنی ہے تو پھر عہد و صلی اللہ وسلم کے مخالفین نے ان کی کتابیں اور پھر دیکھیں کہ کیا آپ کو اسلام کی سمجھ آ جائے گی ہرگز نہیں آئے گی ایسے تو آمیز کرنا اللہ کے ذکر کے ساتھ دلوں کو اطمینان ملتا ہے اور اللہ کا ذکر جو ہے یہ اللہ کا حکم ہے کہ سے اللہ کے ذکر سے اسے اطمینان ملے گا اور اللہ کا ذکر ایک عبادت الہی 1 اس خدا کی خاطر کرتے ہیں ابھی نکل آئی ہے اس لئے میری در بار بار کرتے ہیںخواست ہے کہ ٹیکس دیں اگر پیشگوئی کی بات کہی تھی وہ پیشگوئی ہم حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ کچھ زیادہ تفصیل کرتے ہیں پہلے بیان کر چکے ہیں ٹائم پورا نہیں کرتے میں صرف آپ کے مخالفین کی آپ کے مخالفین کے اردو ترجمہ ان کی گواہی آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی صا اس سے آپ کے سامنے رکھا ہے آخری گزارش ہے پروگرام کے ختم ہونے پر خاتمہ کر دیتا ہے آپ کا نمبر میرے پاس ہے آپ کے اس سوال کو بہت تفصیل سے شمشاد صاحب نے یہ اس کا جواب دیا ہوا ہے اور ہم واٹس اپ بھیج دیں گے آپ سے گزارش ہے کرم وہ سوال اس کا وہ جواب آپ باہر ایک بات سن لیںحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں زیادہ ہے اور آپ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں سو سال بعد آئیں گے کہ آپ کی عمر کم ہے حالانکہ مولوی محمد حسین بٹالوی موجودہ منظر صاحب موجود تھے ان کا رسالہ ہے اشعار تو سنا 1893 کا یہ رسالہ ہے جلد نمبر 16 اور نمبر ہے اس کا پانی اس کا صفحہ نمبر 141 مولوی محمد ایاز مالکی محمد حسین یہ لکھتے ہیں کہ میری عمر اس وقت سالہ اشاعت رسالہ نشانہ عثمانی قادیانی میں متجاوز ہے تو قادیانی کی عمر ضرور سے متجاوز ہوگی یعنی کیا مطلب ہے کہ جب ان شان عثمان حضرت مسیح علیہ السلام کی کتاب اس وقت وہ کہتے ہیں کہ میری عمر یعنی محمد حسین بٹالوی صاحب کی عمر 50 اور حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر ان سے متجاوز ہے پاکستان سے متجاوز کتنی متجاوز ہو گی چلے ایک سال لگانے کس سال ہوئی اب میں نے اس کے حق میں اگر اٹھارہ سو بانوے میں حضرت عمر پھول بنتی ہے تو انیس سو آٹھ میں آپ کی وفات ہوتی ہے اس میں 16 کال نہ کریں تو بنتی ہے کہ ان پر یہ مولوی محمد حسین بٹالوی کی یہ بلاگ تحریر آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اس تحریر کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر پھول بن رہی ہے اور پھر ایک اور سوال ہو تو بتا دو یا پلاسٹک کرنا پڑے گا آپ کا بہت بہت شکریہ خان صاحب آپ نے دیکھا ہے ہمیں پتا تھا آپ نے یہ سوال کرنے والے پہلے بھی تم نے وہ تحریر آپ کے لئے اس کا آپ کرتے ہیں سوال نہیں کرتے کے ساتھ تحقیق کی نظر سے ہونا چاہیے ہم آپ کی نیت پر شک کرنے کے مجاز نہیں ہیں لیکن آپ جو تصویریں بھیجتے ہیں وہ ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ پھر ہمیں یہ شعر پڑھا اٹلی سے لگتا ہے کہ آپ کی بات مگر تحقیق نہیں ہوتی صرف اعتراض برائے اعتراض ہوتا ہے میں آپ سے بات کروں گا مشورہ کرنا پڑے گا مجھے ایک تو بات کرنے کی اجازت دیں خان صاحب نے فرمایا ہے کہ ماں نے یہ مرزا صاحب نے کہا کہ میں اللہ کی محبت سے بولتا ہوں ٹھیک ہے صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نمائندے کو ان اللہ و ان ھو الا وحی یوحیٰ اپنی طرف سے نہیں بولتے بلکہ جو کچھ وہی ہوتی ہے اسی کے مطابق بولتے ہیں لیکن باغ جب استفسار کرتے ہیں تو وہاں اور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس قسم کے مفتی صاحب نے آتی ہیں جو دنیاوی معاملات ہیں ان کے بارے میں رسول پاک صلی اللہ وسلم نے فرمایا انتم اعلم بامور دنیاکم تم مجھ سے بہتر سمجھتے ہو اور جہاں تک دینی معاملات ہیں ان کے بارے میں اللہ کے بجائے چلتے ہیں دینی معاملات میں خدا تعالی کی رہنمائی کے بغیر اپنے گھر اور یہی مرزا خان کا بھی مطلب بیان بھی ہمیشہ یہی کرتا ہے کہ 14 وہ اللہ کے چلائے ہی چلتا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں کوئی عقیدہ بناتا تک دنیاوی معاملات ہیں کہ تاریخ پیدائش کیا ہے یہ کیا وہ کیا ہے کیا حال ہے آپ کا مطلب وہاں سے نکلتا ہے جو کتنے ہی مقامات پر حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی کتاب میں بیان کئے ہیں ہم وہ آپ چھوڑ جاتے ہیں اب کیونکہ ٹائم تھوڑا ہی میسر فہد بزم علیہ السلام کے وہ تمام حوالے نہیں دوں گا جس میں آپ نے اپنی عمر بیان فرمایا ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ان کی تاریخ پیدائش کا پتہ نہیں وہ پہلے رسول پاک صلی وسلم کی تو دیکھ لیا حضور صلی وسلم کی دعا عامر بیان کرتے ہیں لکین وہ بھی اس میں بھی اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ الہ آباد اتر پردیش میں اب ضرور فون کریں اور خوشی سے آپ کا فون لیتے ہیں آپ کے سوالات ہم ان کا جواب دینے کی بھی کوشش نہ کی ہوئی ہیں باہر آپ نے نہیں سنی تو تمہارا قصور نہیں ہے لیکن اب وہ خواب جو دیکھے گا پھر اس کے بعد بہت بہت شکریہ یہ اکثر آپ نے جو پہلے سب کا بہت شکریہ ادا کرتے ہیں آپ کا بھی آپ کے سوالات بھی ہمارے پاس آئے ہیں تو انشاءاللہ ہماری کوشش ہوگی ہم کر سکے تو کچھ لے لوں گا میں شامل کرلیں گے نہیں تو اپنے ظلم اثرات خدا کے لیے اگلے ہفتے تک ہماری طرف سے اسلام علیکم رحمت اللہ وبرکاتہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں 99 دل سے حضرت عمر صلی

 47 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: