Rah-e-Huda – Sadaqat Maseehe Maood pbuh




Rah-e-Huda – Sadaqat Maseehe Maood pbuh

راہ ھدیٰ ۔ صداقت مسیح و مہدی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام

Rah-e-Huda | 27th March 2021

غلام سے نبھانا دو خدا ہے تو نبھانا لو جان کا بھرم یہ ہے یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ہوتا ہے جو آج 27 مارچ 2019 ہفتے کے روز ایم پی اے انٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے آپ کی خدمت میں براہ راست پیش کیا جا رہا ہے اس وقت سے تقریبا ایک گھنٹے تک کا پروگرام براہ راست جاری رہے گا اور یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ اس پروگرام میں براہ راست ہم سے مخاطب ہو سکتے ہیں اس پروگرام میں سوال کرنے کے دو طریقے ہیں ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ کو پروگرام کے دوران ہمارا لینڈ لائن نمبر اسکرین پر نظر آرہا ہوگا اس کو نوٹ کریں اور براہ راست پروگرام میں کال کرکے ہم سے بات کریں لیکن اگر آپ اپنا تحریری یا وائس میسج کے ذریعے سوال بھجوانا چاہیں تو اس کے لیے ہمارا معروف واٹس ایپ نمبر نوٹ کر لیں ali mp3 ریخ 132 سال سے زائد عرصے کی ہو چکی ہے ہے 23 مارچ 1980 وہ تاریخ تھی جب جماعت احمدیہ کا باقاعدہ آغاز ہوا اور امت محمدیہ میں سلسلہ احمدیہ کا ایک نیا آغاز ایک وہ آغاز جس کی پیشگوئی ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے خبر پاکر اللہ تعالی کے حکم پر اس جماعت کا آغاز فرمایا ایک سو بتیس سال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جماعتیں ابتدا سے اب تک دراصل صحیح اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہے اور دنیا بھر میں شرافت امن اور انہیں تعلیمات کو پھیلا رہی ہے جن کا عملی نمونہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ ہم نے اس دنیا کو دکھایا تھا آج کے پروگرام کی تائید میں خاص طور پر خاکساری ذکر کرنا چاہتا ہے کہ یہ ہمارا چینل ہے انٹرنیشنل اس پر ہر جمعے کے روز سیدنا امام عنہ حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہیں اور ابھی کل جو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اس میں خود حضرت بانی جماعت احمدیہ کی تحریرات پیش کرتے ہوئے اس سے کا مقصد اور کس طرح یہ سلسلہ اللہ تعالی کی تائید و نصرت سے آگے بڑھ رہا ہے اس کا ذکر فرمایا ہے اک سچا ہے جماعت احمدیہ سے نہ ہو آپ سب لوگوں کو اس کی طرف ضرور توجہ دلائے گا کہ کل کا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ کو ملاحظہ فرمائیں آج کے پروگرام کا آغاز کر کرتے ہیں یہاں لندن سٹوڈیو میں خاکسار کے ساتھ موجود ہیں محترم فضل الرحمن ناصر صاحب جب کہ نشریاتی رابطے کے ذریعے ہمارے ساتھ شامل ہوں گے گانا سے ساجد محمود صاحب آپ دونوں مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ناظرین آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں یہ محض آپ لوگوں کی محبت ہے آپ پروگرام شروع ہوتے ہیں جو ہمارے ریگولر سوال کرنے والے ہیں یا کال کرنے والے ہیں ان کے نام میرے سامنے سکرین پر نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں لیکن ایسے لوگ ایسی باتیں ایک طرف درد ہوتا ہے طبیعت میں آپ سے ایک سوال کرنا ہے آپ کو چاہ ہوتی ہے کہ پتا نہیں میرا سوال اس پروگرام میں شامل ہو گا بھی کہ نہیں میرا سوال کوئی اہمیت رکھتا ہے کہ نہیں آپ نے ایسے بھائیوں اور بہنوں سے خاص طور پر درخواست کرنا چاہوں گا کہ بغیر ہچکچاہٹ کے سوال اس پروگرام میں ضرور پیش کریں گے فضل الرحمان صاحبمیں ہی آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق میں چاہوں گا سب سے پہلے ہمارے ناظرین کو یہ بتائیں کہ وہ ارشادات نبویہ وہ احادیث نبویہ میں وہ کیا علامات بیان کی گئی ہیں جو اس زمانے میں پوری ہو گئی ہیں اور وہ اس بات کی صداقت کی دلیل ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام میں وہ سچے نبی ہیں جن کا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا تھا تھا کیا میں میں اللہ تعالی اس عزیز نے اس موضوع پر بڑا اثر حاصل گفتگو فرمائی اور سب دنیا کو یہ بتایا اور احادیث میں جس زمانے کے بارے میں یہ بتایا گیا تھا کہ اسلام جو ہے وہ ایک ترقی کرنے کے بعد پھر گویا اس قدر زوال میں چلا جائے گا کہ صرف اسلام کا نام باقی رہ جائے گا قرآن کا صرف نام باقی رہ جائے گا اس زمانے میں اللہ تعالی دوبارہ ایمان کی ترقی کو ایمان کو اسلام کو ترقی دینے کے لیے ایک خود کو بھیجے گا جس کا نام احادیث میں امام مہدی بھی رکھا گیا مسیح موعود بھی اس کا نام ہے اور ایسی متعدد احادیث ہیں جو اس بات کی گواہی دے رہی ہیں للمہدی الہی کہ دراصل ایک ہی موجود ہے جس کو اسی طرح دیا گیا ہے اور امام مہدی قرار دیا گیا ہے اس کے مختلف حیثیتوں اور مختلف کاموں کو نمایاں کرنے کے لئے اس کے دو مختلف نام ہیں باقی نہیں رہے گا اور اسے صرف نام باقی رہ جائے گا اور لوگ اس پر پھر لوگ بڑے واضح طور پر یہ کہنا شروع کر دیں گے جیسا کہ پہلے ایک سو پینتیس سال پہلے ہندوستان کے علاقے میں اور ساری دنیا میں اسلام کی حالت تھی جس کو کسی نے اپنے شعر میں کہا کہ رہا دین باقی نہ اسلام باقی فقط ہے یا پھر مسلمانوں کے بڑے بڑے رہنماؤں نے یہ کہا کہ وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں کو مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود جب یہ حالت ہوگئی تو اس زمانے میں ایک شخص نے مبعوث ہونا تھا اس کا قرآن کریم میں بھی ذکر ہے اور اس نے بھی اس حوالے سے اس زمانے میں جس شخص نے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے امام مہدی اور مسیح ہونے کا دعوی کیا تو قرآن کریم کے انہی احادیث عن حیاۃ اور بات کو مد نظر رکھتے ہوئے دنیا کو یہ بتایا کہ کیوں ہو جس کی جگہ دی گئی تھی تو میں حضور کے الفاظ ہیں آپ کے سامنے پڑھنا چاہتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ہیں کہ حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر یعنی قرآن کریم میں جو رجم کی آیت آخری نحو کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شاید کی تفسیر کے وقت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ان الایمان والحکمۃ ثریا یعنی پر اٹھایا گیا ہو گا تب بھی ایک فارسی الاصل اس کو واپس لائے گا گااور بہت سے لوگوں کی ایمانی محبت ٹھنڈی ہوجائے گی اور مسیح موعود کا بڑا بھاری کام تجدید دین ہوگا کیونکہ حملہ ایمان پر ہے اور حدیث لو کان الایمان و سے نسبت ہے یہ ثابت ہے کہ وہ فارسی الاصل ایمان کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے آئے گا جس حالت میں مسیح موعود اور فارسی الاصل کا زمانہ بھی ایک ہی ہے اور کام بھی ایک ہی ہے یعنی ایمان کو دوبارہ قائم کرنا اس لئے یقینی طور پر ثابت ہوا کہ مسیح ہے موت ہی فارسی النسل ہے اور اسی کی جماعت کے حق میں یہ آیت ہے جس میں یہی علالت کے بعد ہدایت وحی صحابہ اہل علم نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے سخت تاریکی میں مبتلا تھے اور اس کے خدا کے فضل سے انہوں نے زمانہ نبوی پایا اور معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور پیشگوئیوں کا مشاہدہ کیا اور یقینا ایسی تبدیلی پیدا کی کہ وہ صرف ایک رول گئے دوسرا گروہ وہ جب آئی تو سر پہ بالا صحابہ کی مانند ہے مسیح موعود کا گروہ ہے کیونکہ یہ گروہ بھی صحابہ کی مانند رات کو دیکھنے والا ہے اور ضلالت کے بعد ہدایت پانے والا اور آیت آخرین میں جو اس گروہ کو ملکی دولت سے یعنی صحابہ سے مشابہ ہونے کی نیند سلا دیا گیا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے یعنی جی جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دیکھی اور پیشگوئیاں مشاہدہ کی ایسا ہی وہ بھی مشاہدہ کریں گے اور درمیانی زمانہ اس نے مجھ سے کامل طور پر حصہ نہیں ہوگا کہ بالکل ٹھیک ہے وہ آواز ہے صرف دو لائنوں پڑھنا چاہتا ہوں جس میں وہ فرماتے ہیں کہ آج کل ایسا ہی ہوا کہ تیرہ سو برس بات پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا دروازہ کھل گیا اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ خسوف و کسوف رمضان میں وافر مقدار کتنی اور فتاوی ابن حجر کے ظہور میں آ گیا یعنی چاند گرہن اور سورج گرہن میں ہوا تو یہ وہ علامتیں ہیں جو مختلف احادیث میں ہی بنیادوں پر قرآن کریم ہے اور زمانہ جو قرآن اور حدیث میں بڑا واضح طور پر بتایا گیا اور وہ علامت ہے کی ہے جو بزبان حال ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جبکہ دنیا سے اسلام اور چکا ہے مساجد جو ہیں وہ فساد کی آماجگاہ بن گئی ہیں ہیں مسلماں ہو چکے ہیں ٹھیک ہے میں جو مسلمانوں کو تباہ کرنے والی علامتیں وہ تو ساری پوری ہوچکی بالکل ٹھیک ہے تو اس زمانے میں اللہ تعالی بھی اپنے وعدے کے مطابق امام مہدی کو بھیجنا تھا اور بھیجا اور خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ دوبارہ اسلام اور ایمان اور قرآن کو دنیا میں پھیلانے کا ایک وسیع کام ہے تو جماعت احمدیہ کر رہی ہے صدر جس طرح آپ نے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا بھی حوالہ پڑا ہے اس کو دیکھیں تو اس میں کیا بات بیان ہوئی ہے اس میں وہی انہیں باتوں کا ذکر ہے جن کا دراصل قرآن کریم میں اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ تمام علامات ہیں جو نہ صرف عام دیو کے نزدیک بلکہ پڑھ لکھے غامدی علماء بھی یہ تو مانتے ہیں کہ یہ علامات اس دور میں اس زمانے میں پوری ہو چکی ہیں اور جاتے ہیں اور یہ ہمت کا کام ہے دے اسی کو یہ نصیب ہوتا ہے ہم گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہیں اور میں جاؤں گا کہ میں ساجد محمود بھٹی صاحب کے غم میں بات کرو ساجد صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ابھی جو فضل الرحمن صاحب نے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقتباس کے حوالے سے ذکر کیا ہے دراصل یہ علامات ہیں جو کتب احادیث میں پائی جاتی ہیں میں آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے کی ناظرین ان کا تعلق ہے اہل تشیع حضرات سے اور ان کو باہر ایک معاملہ ہے کہ وہ سنی کتب احادیث کو نہیں مانتے تو میں چاہوں گا کہ چند ایک حوالے شیعہ کتب احادیث سے پیش کریں کہ ان میں کن علاماتہمیں پوری ہوتے ہوئے اپنے سامنے نظر آ رہی ہیں ہیں جزاک اللہ بلال صاحب جہاں تک شیعہ مسلک کا تعلق ہے تو عالم اسلام کا ایک بہت بڑا ہی فرقہ ہے اور ان کی کتابوں میں جب ہم دیکھتے ہیں امام مہدی کے زمانے کی علامات تو بڑی وضاحت کے ساتھ ہمیں عظیم الشان پیش کیا ملتی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی اور آپ کے بعد جو شیعہ کے 12 ایم ہیں ان کی زبان مبارک سے یہ پیش کیا گیا وہ مر بھی ہیں تو تفصیلی علامات ہیں لیکن چونکہ وقت کی مناسبت سے آج میں صرف ایک پہلو ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے اور اپنے اندر کی پیشگوئیوں کو سمیٹے ہوئے ہے وہ میں وقت کی مناسبت سے بیان کرنا چاہوں گا یہ مسئلہ کے چھٹے امام حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت امام باقر رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند تھے اور 114 148 میں ان کی وفات ہوئی ہے ان کے بعض پیشگوئیاں امام مہدی کی صداقت کے حوالے سے امام مہدی کے زمانے کی دوا علامات ہیں وہ بحارالانوار جوشی ازم کی ایک بہت مشہور و معروف کتاب ہے اس کے جلد نمبر 12 جو اردو ترجمہ ہے اس کی بات کر رہا ہوں کہ جو اردو ترجمہ بحارالانوار کی جلد نمبر 12 ہے اس میں بعض علامات بڑی تفصیل کے ساتھ ملتی ہیں اس میں سے ایک ہے جو ہمارا ایم پی اے ہے یا ذرائع مواصلات ہیں کہ وہ والا جو ہیں وہ دکھائیں جو اس سلسلے میں ہمیں ملتا ہے اس میں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یونان کے مناظر اسماعیل علیہ السلام کے ایک منادی ندا کرنے والا پکارنے والا امام قائم علیہ السلام کے نام سے پکارے گا شیعہ فیچر میں امام مہدی جی کا ایک لقمہ جو ہے وہ امام قائم ہے اور یہ اس کی تشریح کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں قائم کا مطلب یہ ہے کہ کھڑا ہونے والا مراد یہ ہے کہ یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ مخالفت ہوگی اس کی اور بہت عظیم لیول پر مخالفت ہوگی عظیم سطح پر عوام بھی مخالفت کریں گے گورنمنٹ مخالفت کریں گے علماء کریں گے لیکن ان تمام تر مخالفتوں کے باوجود اللہ تعالی اس امام مہدی کا نام اس کا پیغام اور اس کی جماعت پوری دنیا کے ہر ملک میں قائم کر کے دکھا دے گا تو لفظ قائم کے اندر ہی عظیم الشان پیشگوئی تھے تو حوالہ ان کا یہ ہے کہ یونان نوح علیہ السلام کے زمانہ آنے والا ہے کہ امام قائم علیہ السلام کے نام سے ایک آدمی جو ہے وہ ندا دے گا آواز دے گا اور امام جعفر صادق سے یہ پوچھا گیا کہ یہ کہ کیا یہ آواز جو ہے امام مہدی کی طرف بلانے کی کیا یہ مخصوص لوگوں کے لیے ہوگی یا عام لوگوں کے لیے ہوگی گیاور موجودہ زمانہ میں ہم دیکھیں حضرت صاحب کے ساتھ ملاقات ہو رہی ہیں جو مغرب میں رہنے والے ہیں وہ مشرق کے رہنے والوں کو دیکھ رہے ہیں جو مشرق کے رہنے والے ہیں وہ مغرب کے رہنے والے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اسی طرح ایک تیسری علامت وہ بھی اسی سے ملتی جلتی ہے اور بہت عظیم شیئرنگ میں جو ہے وہ بھی پوری ہوئی ہے وہ بھی حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ کا فرمان ہے جو اسی کتاب کے صفحہ نمبر 242 میں درج ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں کہ ان کا حامل ایک موت آئیو نادی مناد من فرمائیے کہ امام قائم یعنی امام مہدی علیہ السلام کا ظہور اس وقت تک نہ ہوگا کہ جب تک اسم الفتاۃ فی خدرہا کہ جب وہ آسمان سے دعا کرے گا تو اسے پردہ نشین عورتیں بھی ہیں اس نے دا کو سن رہی ہوں گے وہی آسماں والا مشرک ہے وہ اہل مغرب اور مشرق کے رہنے والے اور مغرب کے رہنے والے ہیں وہ اس آواز کو سن رہے ہوں گے تو یہ ایک اور پہلو کی طرف ہجرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے اشارہ فرمایا کہ اس آواز کو سننے کے لیے مختلف قوموں کا ایک جگہ پر اکٹھے ہونا ضروری نہیں ہے یا ایک جلسے کھٹا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ لوگ گھروں میں ہوں گے یہاں تک کہ جو پردہ نشین عورتیں ہیں پردہ کرنے والی عورتیں اپنے گھروں میں موجود ہوں گی اور اس امام مہدی کے خلیفہ اور اس کے جانشین کی آواز کو جو ہیں وہ سن رہی ہوگی جو امام مہدی کی طرف بُلائے گا اسی طرح جو چوتھی پیشگوئی ہے جو ایم پی اے اور ایم مواصلات کے حوالے سے ہے وہ اسی کتاب کے صفحہ نمبر 346 پے ہے جس کا اردو ترجمہ جو ہے وہ پڑھ کے سنا رہا ہوں اسی کتاب سے حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ھمارے قائم کا ظھور ھوگا تو قائم کے جیسے میں نے پہلے تشریح بیان کر دی ہے قائد سے مراد امام مہدی ہیں وہ ان کا لقب تھا تو فرمایا کہ جب ھمارے قائم کا ظھور ھوگا تو اللہ تعالی ہمارے شیعوں کی قوت سماعت اور قوت بصارت میں اتنا اضافہ فرمائے گا کہ الو لوگوں اور امام قائم کے درمیان قاصد کی ضرورت نہ رہے گی امام پر بیٹھے بیٹھے جو کچھ فرمائیں گے وہ لوگ سنیں گے اور جب نظر اٹھائیں گے تو امام کی زیارت کرلیں گے تو گویا مومنین پوری دنیا میں موجود ہوں گے ایمان کی آواز سن رھے ھونگے اور امام کی زیارت کرنا چاہیں گے تو اس کی زیارت بھی جو ہے وہ کر سکیں گے تو گویا آڈیو بھی آواز بھی آ رہی ہوگی اور امام کے ساتھ ساتھ براہ راست تصویر بھی ہوگی اور ویڈیو سے بھی جو ہے وہ استفادہ کر رہے ہوں گے تو یہ عظیم الشان پیشگوئی یا موجودہ دور میں اگر ہم دیکھ رہے ہیں تو آج اس زمانے میں ایک آدمی ہے جس نے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے اور وہ جماعت احمدیہ کے بانی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام حضرت امام مہدی علیہ السلام اور جیسے کہ شیعہ کی احادیث کی جو پہلا حوالہ میں نے پڑھا تھا اس میں اس بات کا اشارہ تھا کہ اس میں قائم ہے جو بلانے والا ہے وہ خود امام مہدی نہیں ہوگا امام مہدی کے نام کی طرف کوئی اور بھی بلا رہا ہوگا مراد یہ تھی کہ امام مہدی کے اپنے زمانے میں یہ عظیم الشان ایجادات اس لیے نہیں پہنچی ہو گی ہاں امام مھدی کے خلاف کا جو خلافت کا سلسلہ جاری ہوگا خلفاء کے زمانے میں یہ عظیم الشان علامہ پوری ہوگی اور وہ امام مہدی کی طرف جو ہے وہ لوگوں کو بلا رہے ہوں گے اور جب وہ بلائیں گے تو مختلف اقوام اپنی زبان میں اس آواز کو سن رہی ہوگی اور جو پردہ نشیں رہے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں موجود اس آواز کو سن رہے ہوں گے ان پیشگوئیوں کو پڑھتے ہوئے ایک اور ہمارے ذہن میں رہنا چاہیے اور وہ یہ کہ حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ نے آج سے تیرہ سو سال پہلے جیسے میں نے آپ کو بتایا ہے کہ ان کی وفات 148 ہجری میں ہوئی ہے تو گویا آج سے تقریبا تین سو سال سے بھی زیادہ پہلے انہوں نے خدا تعالیٰ سے علم پاکر اتنی عظیم الشان الفاظ میں یہ پیش گوئی کی کہ موجودہ زمانے میں ان کا ایک پہلو ہے رات کو طور پر جو پورا ہو رہا ہے اور یہ ہماری رہنمائی کر رہا ہے کہاور ٹیلی فون کے ذریعے ہم خلیفۃالمسیح خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے خطبات جمعہ سنتے تھے پاکستان میں اس کے بعد پھر ایم پی اے کا دور آیا اور مجھے یاد ہے کہ ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر اگر میں غلطی نہیں کر رہا تو کیونکہ فیکس آ رہی تھی اور مختلف جماعتوں کے اب آپ حضور کی خدمت میں اسلام علیکم سر سر تھے تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع بڑی جذباتی انداز میں ساری دنیا کو مخاطب کر کے فرماتے تھے کہ کیا دنیا میں یہ نظارہ کبھی دیکھا ہے اور جیسے جیسے مزید حوالہ بڑھتے ساجد صاحب میں دیکھ رہا تھا تو ابھی کل ہی ہر ہفتے آتا ہے جس میں کمزور اور ہم اس میں دیکھتے ہیں کہ حضور اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کہیں انڈونیشیا کے ہاتھوں سے ملاقات کر رہے ہیں اور باقاعدہ گفتگو ہو رہی ہوتی ہے یہی آسٹریلیا کیل مہاسے وہاں کی نہ صرف اس سے آپ کی ملاقات ہو رہی ہوتی ہے کہیں افریقہ کے مختلف ممالک میں جا کے لوگوں کی رہنمائی کر ہوتے ہیں اور ان سے بات چیت کر رہے ہوتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ جو جب امام یہ بات فرما رہے تھے تو اللہ تعالی ان کو روحانی طور پر نظارے دکھا رہا تھا اور ہم تو اپنی آنکھوں سے نظارے پورے ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اب جو لوگ جماعت احمدیہ کو نہیں مانتے ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بارے میں سوچیں زیادہ دیر نہیں لگاؤں گا آپ لوگوں کی کثرت کے ساتھ سوالات آرہے ہیں اور سوالات اپنے ممبران کے سامنے پیش کروں گا فضل الرحمان صاحب ہمارے بھائی ہیں شرافت صاحب پاکستان سے سوال پوچھ رہے ہیں بالکل بنیادی نوعیت کا سوال ہے لیکن ہم ضرور اپنے بھائی کی رہنمائی کریں گے وہ یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ میں احمدیت کے بارے میں زیادہ جاننا چاہتا ہوں انہوں نے جو لکھا ہوا ہے کہ یہ مذہب کیا ہے اللہ کا مزہ تو الگ نہیں ہے یہ اسلامی ہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں تو لوگ آپ کو غیر مسلم کہتے ہیں تو میں چاہتا ہوں آپ ہمارے بھائی شرافت صاحب کی رہنمائی کردیں zee5 آرہے ہیں کہ احمدی جماعت احمدیہ اور غیر احمدی مسلمانوں میں کیا فرق ہے پہلی بات تو اس بنیادی بات ہے مجھے میں کہنا چاہتا ہوں کہ بطور مذہب کے خدا کے فضل سے ہم کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کو مانتے مانتے ہیں اور نماز روزہ زکوۃ حج ہم ان سب چیزوں پر ہمارا ایمان ہے اور حقیقی وہ اسلام جس کو آخرت میں بلکہ ہمارے اگر یہ میں کہوں تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانہ میں آکر مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کیا کہ قرآن کا ایک نقطہ واشنگٹن ہیں نہیں جو بات نہیں پیدا ہوئی ہے جو اس زمانے کے لحاظ سے نہیں ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں اسلام پر عمل کیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالی نے پھر وہ جماعت قائم کی جو صحابہ کے رنگ میں صحابہ کی صفات والی تھی اس کے بارے میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا حیات حوالہ پڑھنا چاہتا ہوں کہ دراصل جماعت احمدیہ کے اندر وہ صحابہ کرام پیدا ہوا ہے جو آئے تو ان سے پہلے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے اس زمانے میں صحابہ میں پیدا ہوا کرتے ہیں اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کیوں جو سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے وہ معجزات اور انسانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا وہ خدا تعالی کے نشانوں اور تازہ خبر تعزیت عادات سے نور اور یقین کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے آٹھوے اور ہنسی اور طرح طرح کی زبانی اور رحم نہیں اٹھایا وہ خدا کے کھلے نشانوں اور عثمانی دور حکومت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں یہی وہ تبدیلی ہے جماعت احمدیہ کی نظر یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے کھلے نشانوں اور آسمانی مدد اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کیں یہ بڑی اہم بات ہے ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرنی ہے قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ نماز میں رہتے اور کام کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہ روتے تھے بہت سے ایسے ہیں جن کو سچی باتیںصحابہ رضی اللہ عنہ تھے بہتیرے ان میں سے ایسے ہیں کہ اپنی محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہ پر کرتے تھے ان میں سے ایسے لوگ جو موت کو یاد رکھتے ہیں ہیں اور دلوں کو نرم اور سچی تقوی پر قدم آرہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی وہ خدا کا گروہ ہے جس کو خدا آپ سن رہا ہے اور دن بدن ان کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور ان کے سینوں کو ایمان حکومتوں سے بڑھ رہا ہے تو یہ وہ علامتیں ہیں جو اس زمانے میں جماعت احمدیہ کے علاوہ دنیا میں کسی جگہ نظر نہیں آئی ٹھیک ہے کہ اس زمانے میں جن لوگوں نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مانا اس کے نتیجے میں ان کو ان کے دلوں میں خدا کی محبت کا دعوی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہو اور عبادت سے محبت پیدا ہوئے اور وہ لوگ خدا تعالی سے رویہ کشوف و الہامات بھی باتیں ہیں اور پھر جب یہ نشانات دیکھتے ہیں اس زمانے میں تو خدا کی راہ میں قربانی نہیں کرتے ہیں تو یہ علامت نہیں دراصل جو جماعت احمدیہ کو دوسرے تمام مسلمانوں سے ممتاز کرتی ہیں جو دنیا میں اور کوئی ایسی جماعت نظر آئے گی جو خدا کی خاطر اور محمد رسول اللہ کی خاطر اس طرح کی قربانی دے رہی ہو ہمیں نظر نہیں آتا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے کوئی ایسا دعوی نہیں فرمایا جس کا ذکر خود آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو امت محمدیہ اس زمانے میں اکثریت ابھی بھی ایک آنے والے کا انتظار کر رہی ہے مسیح موعود کا نام اس کو دیا ہوا امام مہدی کا نام دیا ہوا امام غائب کا نام دیا ہوا ہے جماعت احمدیہ بنیادی طور پر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی کے دور میں ہے نشتہ ثانی کے دور ہے اور جس طرح ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مسیح ہم اور امام مہدی آئے گا وہ دراصل ایک ہی موجود ہوگا تو جماعت یا صرف یہ فرق ہے دوسرے مسلمانوں اور جماعت احمدیہ میں میں کہ ہم اس آنے والے کو مان چکے ہیں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام وہیں موجود ہیں جن کا ذکر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہم دنیا یہ سمجھتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ابھی بھی آپ نے جس میں ہاکی کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں جماعتیں آئے نہیں مانتی اور جماعت یا یہ کہتی ہے کہ قرآن کریم میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس کے برخلاف آیات قرآن کریم میں ملتی ہیں جو شرافت سے مجھے امید ہے کہ آپ کو بنیادی باتوں کا علم ہوگیا ہوگا مزید جاننا چاہتے ہیں انٹرنیشنل دیکھتے رہیں کوشش کریں الاسلام ڈاٹ جو مرضی ویب سائٹ ہے اس تک رسائی حاصل کریں وہاں آپ کو جماعت احمدیہ کے عقائد کے بارے میں ساری باتیں مل جائیگی اور جب آپ دیکھیں گے تو آپ کو خود پتہ لگے گا کہ دراصل جماعت احمدیہ اسلامی ہے اور اسلام اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھا رہی ہے اگلا سوال کر میں ساجد صاحب کی طرف چلتا ہوں صاحب ہماری بہن ہی عمدہ ہیں سو صاحبہ یہ لندن سے ہمیں اپنا سوال بھیج رہی ہیں وہ کہتی ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں اور خاتم النبیین کے بارے میں آپ نے دعوت سے پہلے کیا عقیدہ تھا یعنی جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود فرمائی لیا مسیح موعود اور امام مہدی ہونے کا اس سے پہلے ان کا کیا عقیدہ تھا اور اس کی وجہ کیا تھی تےمیں رنگین ہو کر تو آیا ہے گانا بعد اللہ اللہ تو اس الہام کی بنیاد پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو جمہور مسلمانوں کا عقیدہ تھا اس کو چھوڑا اور آپ نے اسلام کے مطابق جب قرآن کریم کو دیکھا تو قرآن کریم میں کثرت کے ساتھ وفات مسیح کی اجازت تھی اور حضور نے اپنی کتاب ازالہ اوہام جو اٹھارہ سو اکانوے میں شائع ہیں اس میں علیہ الصلاۃ والسلام کے مقاصد کے لئے صحیح بخاری سے لیکر آج تک صرف اسلام کی وفات کے گانے صرف میں سے بعض تو ہی وفات مسیح کے قائل تھے ان کا جو ہے وہ حوالہ جات دیئے اور عقل کے مطابق حضرت عیسیٰ کی وفات کو ثابت کیا ہے دوسرا جو ہماری بہن کا سوال ہے ختم نبوت کے حوالے سے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا شروع سے یہی کہنا تھا کہ ایسا نبی کے ہے وہ اب نہیں آ سکتا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کو تبدیل کرنے والا ہوں یعنی ایسا نہیں جو کہے کہ قرآن کریم نے زمین اور منسوخ ہو گیا ہے اور اب اپنی کتاب دی ہے وہ اللہ تعالی نے مجھ پر نازل کی ہے اس طرح کا نبیلہ نہیں آ سکتا اور نہ ہی آسان بھی ہو سکتے ہیں جو براہ راست اللہ تعالی کی طرف سے اس کو نبوت جو ہے وہ عطا کی جائے بلکہ ایسا نبی ایسے مقام اور مرتبے والا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے نتیجے میں یہ مقام پایا اور آپ کی امت میں سے ہو اس وحی نبوت اور اس مقام نبوت کا دروازہ جو ہے وہ امت محمدیہ میں پھیلا ہوا ہے اور اس چیز کا ذکر بھی ہے وہ میں قرآن کریم کی آیت پنسورہ نثار کی حالت میں ملتا ہے اور میں اسے اللہ اور رسول اللہ تعالٰی کا معاملہ دینا انعم اللہ علیہم من النبیین بنیادی درجات بڑے بڑے روحانی بیان کی ہے اور چاروں کے ساتھ شرط لگا دیں اللہ تعالی اور آخرت کا بھی یہی تھا کہ جب بھی کوئی نبی آئے گا وہ آنحضرت صلی وسلم کی پیروی اور اخلاقی کمال کے تحت کے نتیجے میں جہاں وہ آئے گا شکریہ ساجد صاحب صاحب ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ جب بھی جماعت احمدیہ کے بارے میں ہم سے سوال کرتے ہیں ہم جماعت احمدیہ کے بارے میں باتیں سنتے ہیں تو آج کل کیوں کے سوشل میڈیا کا دور ہے بہت زیادہ لوگ مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں خاص طور پر جماعت احمدیہ کے مخالفین ہی وہ جماعت احمدیہ کے بارے میں غلط تصورات اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے بغیر کسی تحقیقات کے وہ آگے سے آگے پھیلاتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایسے لوگ جو جماعت احمدیہ سے کسی بھی طرح کا بغض و عداوت رکھتے ہیں یا کسی بھی وجہ سے جماعت احمدیہ کو چھوڑ کے چلے جاتے ہیں ان کے بیانات نے بھی ایک بات مشترکہ طور پر نظر آتی ہے کہ وہ محض جھوٹ بولتے ہیں جس کا کوئی نہ کوئی جس کا کوئی بھی سچائی سے تعلق نہیں ہوتا احمدیہ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں دیکھیں جماعت احمدیہ کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے ہے ہم نے اپنی ویب سائٹ ساری دنیا کے لیے پیش کی ہے اسلام ہمارا چینل موجود ہے جو ہم نے تعلیمات ہماری ہیں وہیں اپنے چینل پر دکھایا ہے اس سے ہٹ کیوں نہیں دکھانی ہے جو لوگ جماعت احمدیہ کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ خود جماعت احمدیہ کی وجہ سے ان باتوں کو جاننے کی کوشش کریں اور دیکھیں خود بانی جماعت احمدیہ کا اور خلفاء احمدیت اور حرام دی کا ایک گاؤں ہے اور وہ یہ کہ یہ جماعت اللہ تعالی نے کھڑی کی ہے یہ جماعت ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق ہیں اگر آپ نے اس کی سچائی کا پوچھنا ہے تو خدا تعالی سے پوچھیں اور خدا تعالیٰ کبھی جھوٹ نہیں بولتا فضل الرحمان صاحب اگلا سوال جو میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا وہ ہمارے بھائی ہیں دانش احمد آزاد کشمیر سے سوال بھیجا ہے وہ کہتے ہیں جیسے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام امتیازلیکن کیا ان کو ہم امتی نبی کہہ سکتے ہیں یا نہیں کہہ سکتے یہ ایک علیحدہ سوال ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ ہر نبی کو اس زمانے میں اللہ تعالی سے براہ راست نبوت حاصل ہوئی جماعت احمدیہ جب یہ کہتی ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو اللہ نے امتی نبی بنایا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو یوں کہنا چاہیے کہ قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں اور آخرت کی احادیث کی روشنی میں آپ کی اطاعت کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل ہوا ہمارے نزدیک یہ وہ مقام ہے جو دراصل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو بڑھانے والا ہے دنیا میں کوئی خاتون بھی یہ نہیں کہا جائے کہ دراصل وہ شخص ہے جس کے کامل طور پر پیروی کرنے سے نبوت ہوتی ہے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وہ واحد نبی ہیں جن کی پیروی کے نتیجے میں نبوت ملتی ہے اور پھر ہم اس کو یہ جو امتی نبی کی ہم اصطلاح استعمال کرتے ہیں یہ خود بعض احادیث سے استعمال ہوتا ہے مثلا جہاں پے آنے والے مسیح کا حلیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرمایا کہ آنے والا جو مسئلہ ہے فرمایا کیف انتم اذا ظہرت فی قوم کے آنے والا مسیح بن مریم جو ہے وہ اس پر عمل کرنے والا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والا ہوگا اسی طرح متعدد احادیث میں فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دہلی کو تمام مومنین کو تو میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ امتی نبی کے اگر یہ مان لیا جائے کہ کیا کبھی کسی نبی کی پیروی کے نتیجے میں کسی کو نبوت ملی تو ہم کہیں گے نہیں یہ صرف اور صرف محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام ہے جن کو اللہ تعالی نے خاتم النبیین کر دیا ان کے نقشے قدم پر چل کر ان کی محبت میں ڈوب کر اللہ تعالی نے اس زمانے میں ایک شخص کو مسیح کا رتبہ عطا فرمایا اور صرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے اور آپ کی شان سے بلند ہوتی ہے جس طرح آپ نے اس چیز کا ذکر کیا کہ کسی نبی کو خاتمنبین بھی تو نہیں قرار دیا گیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ بھی فرماتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور ہم عوام تیار بنی اسرائیل یعنی جو خصوصیات اور جو یعنی ایسی باتیں جن کا اور امتوں کو جو اعزاز حاصل نہیں تھا سارے مسلمان مانتے ہیں کہ وہ بے شمار اعزازات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو کھلے ہوئے ہیں تو یہ بھی اعزاز ہے جو خاص طور پر امت محمدیہ کو حاصل ہے اور دیکھیں جو لوگ اس عقیدے کو ابھی تک لے کے بیٹھے ہوئے ہیں کہ وہ ایک جو اللہ تعالی کا پیارا نبی اللہ تعالی کا پیارا بندہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام جو بنی اسرائیل کی طرف نبی تھے اور وہ اس دنیا میں آئے اپنا کام کر کے تقریبا 100 سال کی عمر پا کر اس دنیا سے چلے گئے جو لوگ اس کے بھی تک انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سانپ کا نبی کے محتاج نہیں ہیں اور نہ ہی امت محمدیہ کی محتاج ہے ناظرین کرام کافی سارے نام مجھے اسکرین پر نظر آرہے ہیں لیکن اس وقت ساجد صاحب کے پاس جو میں سوار لے کے جانا چاہوں گا وہ یہ سب ہمارے بھائی محمود احمد صاحب نے انڈیا سے بھیجا ہے حوالے پیش کرتے وہ سوال ہے میں بس آپ کے سامنے پڑھتا ہوں تو یہ محمود صاحب کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نےمیں کہ اللہ تعالی تم میں سے جو ایمان لے آئے اور مناسب حال نیک اعمال بجا لائے ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا کا مستقل عادی نہ مل کر لیں ہم عطا کرے گا جیسے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے پہلے ان کو عطا کیا گیا اور یہاں بھی اس کتاب میں جو سوال کرنے والے کر رہے ہیں وہاں بھی حرکت دس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہیں وہ سورہ نور سے وہ اس میں بات کر رہے ہیں تو جیسے حضرت موسی علیہ السلام کی قوم میں خلاف ہائے اور نبی تھے بعض جیسے حضرت داؤد علیہ السلام ہیں ان کو خدا تعالیٰ نے خود قرآن کریم نے فرمایا ہوا ہے کہ وہ خلیفہ فی الارض ہیں یا داؤد و عرض سے زمین میں خلیفہ بنایا ہے مقام ان کا جواب نبی اور خدا تعالیٰ کے رسول کا تھا تو نبی اور رسول کے لیے بھی خلیفہ کا لفظ ہے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں استعمال کی ہے تو جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق امت محمدی انتظار کر رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چوتھی صدی جی میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے آنا ہے حضرت موسی علیہ السلام کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام چودھویں صدی میں آئے تھے تو اسی بات کا استنباط کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چوتھی صدی میں جو وجود آنے والا ہے وہ حضرت عیسی اور رسول اللہ بنی اسرائیل ہیں وہ نہیں ہوں گے بلکہ وہ مسیح ان کے محمدیہ کا مسئلہ ہوگا چنانچہ واضح الفاظ میں یہ وہ قرآن کریم میں استعمال نہیں کئے بلکہ گزشتہ انبیاء کی پیشگوئیوں کی سنت کی طرح اشارے ہیں وہ خدا کی لعنت ہے وہ صرف استعمال کی ہیں اور ایک ہی شعر ذہن میں یہی فرمایا ہے کہ اس امر کے خلاف آتی ہیں وہ اسی عمر میں سے ایک کے کسی اور امت کا رہا ہے وہ خلیفہ اس امت میں نبی کے بجائے صاحب زمان صاحب اگلا سوال ہے راشدہ چوہدری صاحب ہم نے کینیڈا سے ہمیں بھیجا ہے وہ یہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننا نا کیوں ضروری ہے یا ضروری ہے کہ نہیں نہیں کہ جو خدا کی طرف سے زمانے کا امام بن کے آئے کیا کبھی ایسا بھی ہوا کہ اس کو ماننا ضروری نہ ہو ہو اور پھر ایسا شخص جس کے بارے میں احادیث کو ماننا تو بہت ضروری ہے لیکن خاص طور پر رحم کے حوالے سے متعدد ایسی احادیث ملتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم امام مہدی کو دیکھو تو اگر تمہیں گھٹنوں کے بل رینگتے ہوئے وہاں پہنچنا پڑے تو تم اس وقت تک پہنچے اور اس کو میرا سلام پہنچا اس نے میرے سامنے متعدد ایسے حوالے ہیں مثلاً بن حنبل کا ایک والا ہے خدا کے حکم کے بغیر مرگیا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے ہے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مصر کا ایک حوالہ ہے کتاب الفتن کا جب تم دیکھو تو اس کی ضرورت کرنا ہاتھ میں برف کے تودوں پر گھٹنوں کے بل بھی جانا پڑے کیونکہ وہ خدا کے خلیفہ مہدی ہوں گے پھر بحارالانوار شیعوں کی کتاب کا حوالہ ہے کہ اس کے بہار الانوار کے مصنف ہیں وہ لکھتے ہیں کہ جس نے امام مہدی کی اطاعت کی اس نے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے امام مہدی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی تو پھر اسی طرح مسلمانوں کی متعدد کتابوں میں پھول طرح کی ایک بڑی مشہور کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ جس نے امام مہدی کو چھپایا اس نے کفر کیا پھر اسی طرح منصوری کتاب ہے امام سیوطی کی اس میں سے اس میں یہ حدیث لکھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی ایسا بھی مریم کو پائے گا اسے میری طرف سے سلام پہنچائے پھر مسند احمد بن حنبل کی ایک روایت ہے جو عنہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اگر میری عمر لمبی ہوئی تو میں اس ابن مریم سے خود ملوں گا اور اگر مجھے موت آگئی تو تم میں سے جو شخص بھی اسے پائے اسے میری طرف سے سلام ہو جائےایک شخص کو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سلام پہنچا رہے ہیں تو کیا کسی مسلمان کوئی مسلمان یہ گمان بھی کر سکتا ہے کہ ایک شخص جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سلام پہنچا رہے ہیں اس کو نہ صرف یہ کہ انکار کرے اس کا بلکہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائے پھر سمجھ لے کہ وہ میرا ایمان جو ہے وہ مکمل ہے بالکل ٹھیک فضل سے میرے خیال میں اصل بات اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو ارشاد ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس آنے والے کو ماننے کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی ہے آپ خود فیصلہ کرلیں کہ اگر واقعی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام وہیں موجود ہیں جن کا ذکر اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تو آپ خود فیصلہ کریں کہ ان کو نہ ماننا گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی نافرمانی ہے اور یہی جماعت احمدیہ کا موقف ہے اگلا سوال کر میں ساجد صاحب کے پاس جاتا ہوں ساجد صاحب مبشر صاحب ہیں ایسے سوال پوچھ رہے ہیں بار بار جماعت احمدیہ سے سوال کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ ماننے والے لوگوں کو جماعت احمدیہ مسلمان سمجھتی ہے یا مسلمان نہیں سمجھتی جی اس سوال کا جواب عرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں جتنے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہمارے مسلمان بھائی ہیں ان تمام کو بلاتفریق مسلمان سمجھتے ہیں اور کسی کو بھی غیر مسلم کو ہم نہیں سمجھتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی جماعت احمدیہ پر تو خدا تعالیٰ نے الہام کے کیا تھا ان کے آنے کا ایک مقصد یہ ہے مسلمان ام سلمہ باز کردن کہ جو مسلمان ہیں ان کو حقیقی مسلمان بنانے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے ہیں تو یہ آپ کی آمد کا ایک عظیم الشان مقصد ہے وہ بیان ہوا ہے سے ہوئی ہیں اور فضل صاحب نے شروع میں ایک انچ بھی اس میں سے ذکر بھی کر دی تھی امتی علی ثلث مثانہ ملا تھا کہ میری امت جو ہے وہ تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ایک فرقہ صحیح راستے میں ہوگا اور 72 فرقے ہیں وہ غلط رستے پہ ہوں گے تو غلط راستے کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الفاظ استعمال کیے افطاری کو امتی کہ وہ سارے کے سارے فرقہ میری امت میں سے ہوں گے تو باوجود گمراہی کے باوجود غلط کام کرنے کے باوجود غلط عقائد رکھنے کے لئے ان کو دائرہ اسلام سے آج اسی وجہ سے ہم یہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے یہی وہ انہوں نے نہیں ماننا لیکن اس کے باوجود دائرہ اسلام میں داخل ہیں اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یہ لوگ منسوب ہونے والے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اعلی درجہ کا مسلمان تو وہی انسان ہوگا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام احکام پر عمل کرنے والا ہے اگر انسان کہے کہ میں مسلم مسلمان تو ہو لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم بیان کیا ان کا حل نہیں کروں گا تو مسلمان والا رہے گا لیکن حقیقی معنوں میں وہی رنگ مسلمان نہیں ہوگا تو انہیں ایمان اور علماء اسلام ہمارے سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی حکم بیان فرمایا ہے اس کی اطاعت کی جائے امام مہدی کے حوالے سے حضرت علی نے فرمایا کہ جب میرا امام مہدی آئے گا تو مسلمانوں کو نصیحت تیار کی ہے کہ آ رہا تو وہ خواہ ہوں کہ جب تم دیکھو کہ منہ بھی آگئے ہیں تو پھر میرا یہ حکم ہے کہ تم نے جانا ہے اور اس کی بات کرنی ہے وہ خان الثلجی اگر تمہیں راستے میں برف کے پہاڑ بھی ہوں اور تم چل کر نہ جا سکتے ہو گزینوں کے بعد چلنا پڑے تو پھر بھی تم پہنچے ہو ان تمام مشکلات کو عبور کرو ان تمام تکالیف اور مصائب کے باوجود تمہیں میرا یہ حکم ہے کہ امام محمد کی اطاعت اور امامت کی وجہ سے وہ لازماایک طرف سے آواز آرہی ہے اور اب تو دنیا کے ہر کونے سے آواز گونج کر آپ تک پہنچ رہی ہے کہ امام وقت آ چکے ہیں اب تو ان کے خلفاء کا دور ہے اس لیے آپ کے لیے سوچنے کا موقع ہے کہ سوچیں دیکھنے اور جاننے کی کوشش کریں اور اللہ تعالی سے اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کریں خاکسار کو اسکرین پر کی نام نظر آرہے ہیں ہم لوگوں کے سوالات شامل نہیں کر سکے ہیں ایک کا نام جو ہمارے عارف زمان صاحب ہیں ریگولر ہمیں سوال بھیجتے ہیں محمد عبدالرشید صاحب ہیں وہ بھی ہمیں سوال بھیجتے ہیں اور اسی طرح احمد صاحب نے جرمنی سے انہوں نے بھی ہمیں سوال بھیجا ہے انشاءاللہ کوشش کریں گے اگلے پروگرام میں آپ کے سوال کو شامل کر لیں ہم سے اکثر یہ سوال ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ میں داخل کس طرح ہوا جائے لیکن جس طرح کے بار بار ہم اس پروگرام میں ذکر کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ دراصل کوئی الگ جماعت الگ مذہب ایسا نہیں ہے بلکہ یہ وہی جماعت ہے جس کی پیشگوئی یہ خود ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی اس وقت میں آپ کو اسکرین پر وہ بیعت فارم دکھانا چاہتا ہوں کے جس کو پڑھ کے جس کا اقرارکر کے ہم جماعت احمدیہ میں داخل ہو سکتے ہیں میں چاہتا ہوں تمام وہ لوگ جن کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں ہے وہ اس کام کو دیکھیں اور سنیں اور پھر خود فیصلہ کریں کہ رہا ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم یہ خط لکھا جاتا ہے کیونکہ ہمارے اس وقت سیدہ آمنہ حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اسی سے ان کی خدمت میں بیعت کا خط لکھا جاتا ہے السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضور انور کی خدمت میں تحریری طور پر اہل بیت پیش کرتے ہوئے آزادانہ درخواست ہے ہے کہ احمدیہ مسلم جماعت میں میری یا ہماری شمولیت منظور فرمائے نیز دعا کی درخواست ہے اب وہ بیعت کے الفاظ دیکھ لیں اشھد اللہ الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسول و اشھد الا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشہد ان محمد عبدہ و رسول و عجمی منصور کے ہاتھ پر بیعت کرکے جماعت احمدیہ مسلمہ میں داخل ہوتا ہوں میرا پختہ اور کامل ایمان ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کو وہی امام مہدی اور مسیح موعود تسلیم کرتا ہوں جس کی خوشخبری حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمائی تھی میں وعدہ کرتا ہوں کہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقرر کردہ پابندی رہنے کی کوشش کروں گا دین کو دنیا پر ہوگا خلافت احمدیہ کے ساتھ ہمیشہ وفا کا تعلق رکھو گا اور بحثیت پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا استغفراللہ ربی من کلی ذنبن و اتوبو الیہ استغفر اللہ ربی من کل ذنب و اتوب الی اللہ تو غفور اللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ ربی انی ظلمت نفسی و طرف تو بذنبی فاغفرلی ذنوبی فانہ لایغفرالذنوب اعلان اے میرے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں تو میرے گناہ بخش دے تیرے سوا کوئی پوچھنے والا نہیں آمین کے لئے اجازت دیجئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ طہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا قدیم دل پہ ہی ختم

 133 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: