Rah-e-Huda – Maseeho Mahdi Ki Nishanian




Rah-e-Huda – Maseeho Mahdi Ki Nishanian

راہ ھدیٰ ۔ مسیح و مہدی علیہ السلام کی نشانیاں

Rah-e-Huda | 6th February 2021

سے تانبا باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ یہ اجنبی سے ہم پروگرام رہتا کی وجہ سے پروگرام کس طرح کی خدمت میں حاضر ہیں آج چھٹی ہے جی ہم ٹی وی کے مطابق شام چار بجے ہیں اور ہمیشہ کی طرح لائف اور انٹر پروگرام کے دوران آپ ہم سے رابطہ کریں آپ کے ہم دیکھتے آرہے ہیں اور آپ حصہ بھی لیتی آرہے ہیں آپ چاہیں تو ہمیں اگر کال کر سکتے ہیں ان شاء اللہ کوشش کریں گے کہ آپ کو واپس کال کرکے شامل کریں یا پھر واٹس ایپ کے ذریعے سے آپ اپنا میسج بھی منگوا سکتے ہیں تو ہماری کوشش ہوگی کہ ان شاء اللہ آپ کے سوال کو ہمارے پروگراموں کے ساتھ شامل کریں نظرین ہمارے ساتھ ہمارے آج کے پروگرام میں ہمارے ساتھ شریک گفتگو ہوں گے آپ کے سوالات کے جواب دیں گے مکرمہ اور اس طرح سے مقرر رحمۃ اللہ علیہ صاحب اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ رابطہ پروگرام کے دوران ٹرین کے ذریعے سے رہے گا ہمارے اس سیریز میں جس کا آغاز چیز کا پروگرام کب ہوا ہم نے مودی اقوام عالم کے بارے میں بات کی جس کی آمد اسلام نہیں ہونی تھی اس دین کے تحت جو سوال کیا تھا جو آخری دین ہے جو قیامت تک رہنے والا ہے اور آپ ہے اور آپ کے وقت کے حوالے سے نبی کا ذکر کیا تھا جو کہ دراصل مختلف کاموں صاف کے اعتبار سے اپنے لئے ہماری اس گفتگو کو ہم نے پھر آگے بڑھایا اور اس حوالے سے بھی بات چیت کی اس کی آمد کا وقت کونسا تھا کہ زمانے میں اس نے آنا تھا قرآن مجید احادیث کے اعتبار سے ہمیں زمانے کا تعین کیا جو کہ تیرہویں صدی کے آخر اور چوہدری صدیق کی ابتدا بنتی ہے اس کے سامنے ان علامات کو بھی رکھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے آنے والے مسیح کے بارے میں فرمایا کہ وہ یعنی یوسف مسیح کی آمد خود بھی قرب قیامت کی علامت ہے تو کل قیامت سے کیا مراد ہے اس اس سے کیا مراد ہے ہمارے پروگرام میں بڑی تفصیل ہم اس بارے میں گفتگو کی کہ وہ قیامت کے بارے میں عام طور پر تصور کیا جاتا ہے تمام سہولیات دی جائیں گی کہ ہم کو جس کا نام لیا جاتا ہے قیامت ہے جو روحانی انقلاب ہے ایک دنیا میں بھی ایک انقلاب آنے والے موعود اور نبی کا فرق ہوتا ہے قرآن نے حشر ہوتا ہے روحانی طور پر لوگوں کو زندہ کیا جاتا ہے یہ وہ آئے وہ انقلاب کی گئی ہے جس کی طرف نشاندہی کرتا ہے اور وہ تمام علامات ہیں خود کو حالات کا تقاضا کرتی ہیں کہ دنیا کا نظام بھی ہو اور دنیا میں جو بیان دیا ہے وہ رونما ہو سکے تو یہ وہ قیامت ہے جو ایک نبی کی آمد کے ساتھ ہوتی ہے آج ہماری گفتگوکتاب الفتن میں بھی مذکور ہے اس کا ترجمہ پاکستان کو سامنے رکھتا ہے یہ مذکور ہے کہ وہ فرما رہے ہیں کہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی فلائے اور آپ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ اس سے پہلے دس نشاندہی نہ ہو پھر آپ صلی وسلم نے دوکان دجال مغرب سے سورج کے طلوع ہونے اور اسی ابن مریم کے ظہور یا جوج ماجوج کی آمد اور تین قسم کے خسوف یعنی خبر مشرق سے مغرب کی طرف سے جزیرہ عرب میں یوسف خان کا ذکر کیا اور علامت یہ ہے کہ ایک آنکھ کا آپ نے ذکر کیا جو چمن سے نکل گیا لوگ ان کے معاشروں نے کی جگہ کی طرف آنکھیں بھی نظریے یہ علامات ان کے علاوہ اور بھی بہت ساری علامات جن کا رسول ہی پسند کرتے ہیں اس کے بارے میں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب یہ علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی تو جیسا کہ تم آج ٹوٹتی ہے تو اس کے سارے جوڑ ہوتے ہیں یا کے بعد گرنا شروع ہو جاتے ہیں اس طرح سے ان علامات کا بھی ظہور دنیا میں ہوتا چلا جائے گا علامات ایک کے بعد دوسری سورت شروع ہوتی جائیں گی تو ایک تسلسل کے ساتھ بھی تو ان علامات میں جو علامت خاص طور پر مسیح کی آمد کے ساتھ وابستہ ہے اور کیسے ہیں بعض احادیث میں بھی مسیح کی آمد کے ساتھ ذکرکیاہے کی علامت ہے اس کے بارے میں اگر ہمارے مسلمان بھائیوں سے بات چیت کرتے ہیں تو ایک عجیب وغریب تصور ہے جو پیدا ہوا ہے مسلمانوں میں ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک برا ہیں جن کے جسم کا ایک وجود ہے اور جو ایسے کام کرے گا جو خود ہی کام ہوتے ہیں جو انسان ویسے تو پھر بھی نہیں سکتا اور اس کی ایسی کا نام ہے جو خدا تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ میں بھی نہیں ہے دوبارہ لحاظ سے یہ کلمات دجال کے متعلق احادیث نبوی آثار ملتے ہیں جو تشریح طلب ہے اور اس سے درخواست کریں کہ ہمارے ناظرین کو بتائیں کہ دجال کے متعلق قانون کی باتیں بیان فرمائی ہیں اس کی کیا حقیقت ہے اور مسیح کے ساتھ اس کا تعلق تھا مسیح ماعود امام مہدی علیہ السلام تشریف لے آئے ہیں تو وہ جلوہ کہاں پر ہے اور اس سے جا کے ساتھ تھے کیا ہوا اللہ الرحمٰن الرحیم نے زمانے میں امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے ایک مسیح اور مہدی کے آنے کی پیش گوئی فرمائی اور جیسا کہ ابھی آپ نے ذکر کیا اس کے ظہور کی علامات میں ایک خاص جو علامت تھی کو دجال کے ظہور کی علامات ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ حقیقت یہی ہے کہ عوام الناس میں عجیب و غریب قسم کی دجال کے متعلق کہانیاں مشہور ہے کہ وہ عجیب الخلقت غیر معمولی قوتوں اور طاقتوں کا مالک ایک شخص ہو گا لیکن حقیقت اگر دیکھی جائے اس دعا کے متعلق جو انہوں نے پیشگوئی فرمائی ہیں وہ آپ کے رویا اور مکاشفات پر مشتمل ہیں جیسا کہ بخاری میں ان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ این ہمہ آنہا ٹو بلکہ آتے تھے کہ میں سویا ہوا تھا کہ دیکھتا ہوں کہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہوں اب رویا مکاشفات اور جو پیش گوئیاں ہوتی ہیں اصل میں اکثر اس میں سے جو ہے وہ تعبیر طلب ہوتی ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ صلاۃ و سلام کی کتاب کا ذکر ہے ستارے چاند اور سورج دیکھنے کا اور اس کی تعبیر فرمائی اسی طرح اس وقت ہے فرعون کا جو گالی جو اس نے خواب دیکھیں تو اس کی تعبیر کا ذکر قرآن کریم ہے حقیقت یہ ہےآپ سے بات نہیں ہو جائے یہ نتیجہ نکلتا ہے ان معنوں کا وہ اس طرح بنتا ہے کہ دجال کے لفظی معنی معجم میں نے ہی لکھے ہوئے ہیں کہ ایک کثیر تعداد جماعت جو تاجر پیشہ ہو اپنا تجارتی سامان دنیا میں لیے پھرتے نہایت مالدار گھرانوں والی دنیا میں سیر و سیاحت کثرت سے کرنے والی ہر جگہ پر پہنچنے والی کوئل کی کوئی جگہ ان کی دسترس سے خالی نہ ہو اور مذہب ایک غلط اور جھوٹے عقیدے پر قائم ہوں اگر ان تمام علامات کو جو ان معنوں کے حساب سے دیکھا جائے تو حقیقت میں یہ نصیحت تمام مغربی اقوام میں پائی جاتی ہیں اوران سے بچنے کے لئے فرمایا کہ سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات کا مطالعہ کیا جائے جو قرآن کریم میں سورۃ کہف کی دس آیات ہے اس میں عیسائیت کا رد ہے اللہ تعالی فرماتا ہے حتیٰ کہ گویا  ان کا فتنہ اور نصیحت کا فتنہ ایک ہے کیونکہ جیسی بیماری ہے اس کا ویسے ہی علاج کیا جاتا ہے پھر احادیث میں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دجال کا فتنہ سب سے بڑا فتنہ ہے اور خطرناک کتنا ہے اور تمام انبیاء اس فتنہ سے اپنی قوم کو ڈراتے گئے ہیں قرآن کریم سے بھی انہیں یہ پتہ چلتا ہے جب قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو سب سے خطرناک جو فتنہ ہے وہ نصیحت نصیب کا بیٹا قرار دینا اس فتنہ کو اللہ تعالی نے سب سے خطرناک قرار دیا ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کتاب اسلام اور صوفیاء کا خطرناک ترین شخص الارض و الجبال ہدا ان دونوں باتوں کا موازنہ کیا جائے تو وہ حقیقت میں جو مسیحیت ہے جو عیسائی مذہب ہے جس کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اور قرآن اور حدیث کو اکٹھا کیا میں نے تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ دراصل یہی وہ بڑا فتنہ ہے جو دجالیت اپنے اندر رکھتا ہے پھر مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کس صحابی کو بیداری نے صلی اللہ انہوں نے بنگال کو ایک مغربی جزیرے کے درجے میں مقید دیکھا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دجال سے مغربی عیسائی اقوام ہیں جن کا تعلق گرجنے سے خاص طور پر ہے اور یہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شکایت عوام جو مذہبی طور پر عیسائیت کا عقیدہ رکھتی ہیں یہ دجال کا اس کے ساتھ گہرا تعلق ہے ہم نے دیدار کی بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہے ان تمام علامات کا ذکر نہیں کیا جا سکتا میں مختصر کلام عطا فرمائے اور کس طرح وہ پوری ہو سکتی ہیں ان کی تاویل کی جاسکتی ہے اور یہ حقیقت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا کہ یہ علامت بیان فرمائی کہ وہ دائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور بائیں آنکھ کی خوب روشن گویا کہ آپ موٹی ہو گئی اب اس کی ظاہری علامت نہیں بنتی ہے اس میں اگر یہ دیکھا جائے اور اس کی تعمیر کی جائے کہ وہ دینی آپ سے مراد دینی علوم ہے وہ دینی علوم سے بے بہرہ ہو گا اس کو کچھ حاصل نہیں ہوگا لیکن یہ بھی آپ کی بہت تیز ہو گئی وہ زمین اور آسمان اور تمام اس کی معلومات اور قائد حزب اختلاف پائے گا یہ بھی آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں پھر اللہ نے فرمایا کہ اس کے دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا ان کے ہر پڑھا لکھا اور ان پر اس کو جان لے گا مراد یہ ہے کہ اس جال کا جز ہے جو کفر ہے اور ظاہر و باہر کو کا پڑھا لکھا جا چکا ہے اس کے اوپر کو ایک شخص جائے گا جو آج الوہیت کا عقیدہ ہے کہ ہر مسلمان پر آیا اور اس نے دھوکے میں نہیں آ سکتا پھرتمام کی تمام علامات اگرچہ ظاہری طور پر دیکھیں تو اسلام میں بغیر کے خلاف ہے تو خدا تعالی کی ہدایت کی علامات ہیں ایک آدمی کی جمع ہو جانا بالکل ناممکن ہے کہ اگر ہم ان کو دیکھیں کہ آج دیکھ لیں کہ پہاڑوں پر بھی مغربی اقوام کی دسترس ہے دریاؤں پر بھی ان کی دسترس ہے آج اقتصادی لحاظ سے اس قدر ترقی کر چکی ہیں اقوام جس کو چاہے ان کے اقتصادی حصار بنا دیتی ہے جن پر چاہیں تو ان پر اپنے انعام و اکرام اس کی بارش کرتی ہیں جو ان کی بات کو مانتا ہے ان پر اپنی نوازشات کر دیتی ہیں آج یہ تمام چیزیں ہیں ان کی بنیاد رکھی جو پھول بنتے ہیں دسترس میں ہیں اس وقت بھی ہوگی اور آپ بھی ہوگی اور جس سے میں جنت ہے حقیقت میں وہ آپ ہوگی اگر کے معنی قبول کیا جائے جو کہ ناممکن ہے یہ خلاف ہے کیونکہ جنت اور دوزخ کا تعلق تو خدا تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہے ہے تو میں سارے بخاری علامہ ابن حجر نے جو اس کی تشریح بیان فرمائے وہی بیان کر دیتا ہوں آپ فرماتے ہیں کہ دجال کے نام اکرام اور سزا پر قادر ہو گا جو اس کی اطاعت کرے گا اس پر انعام و اکرام کرے گا تو وہ اسے اپنی جنت میں داخل کرے گا لیکن حقیقت یہ جہنم ہوگی اور جو اس کی نافرمانی کرے گا وہ اس کی دنیا جہنم بنا دے گا مگر ایسے لوگ بھی جنت کے وارث ہوں گے یہ صفات بھی آ جائیں تمام میں بدرجہ اتم ہمیں نظر آتی ہیں پھر ایک علامت یہ بھی بتائیں کہ دجال کے دونوں کانوں ہیں تیس ہاتھ ہو گئے ان کی لمبائی اس سے مراد یہ تھا کہ یہ عوام ایسی ایجادات کرے گی جس سے پیغام رسانی کا کام آسان ہو جائے گا آج ہم دیکھتے ہیں فون ٹیکس کی تمام چیزوں سے یہ مغربی اقوام نے کی ہے آج آپ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے آپ تمام دنیا سے رابطہ رکھ سکتے ہیں یہاں سے مراد تھی پھر یہ ہے کہ دجال خانہ کعبہ کا طواف کرے گا اب اس کی تشریح جو علامہ تورپشتی ہے انہوں نے جو کیا ہے میں ابھی آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں یہ حدیث حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور مکاشفات میں سے ہے اور حضرت عیسی کے خانہ کعبہ کے گرد طواف کا مطلب یہ ہے کہ آپ دل کی اصلاح اور اسے قائم کرنے کے لیے دین کے گرد طواف کریں گے اور جال میں فساد پیدا کرنے کے لیے دین کے گرد چکر لگائے گا تو مراد یہ ہے اور اسی طرح مولوی عبدالحق صاحب نے فرمایا کہ اس نے ڈالا تھا خانہ کعبہ کا طواف سے مراد یہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کی ویرانی و تباہی کے درپے ہو گا اور حضرت عیسیٰ المسیح وہ اس کو بتائے گا تو آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ مغربی اقوام اس طرح مسلمانوں کو کپور تقسیم در تقسیم کرتی جا رہی ہیں ان کی جو تخت اس کو کمزور سے کمزور کرتی جارہی ہیں آج ہم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے مسلمان آج مغربی اقوام کے ہاتھوں سے اٹھا رہے ہیں پھر کلام فرمایا کہ مسیح موعود کو دیکھ کر دجال نمک کی طرح پگھل جائے گا اس کے سامنے پھر نہ سکے گا پھر آپ نے فرمایا کہ دجال مشرق سے نکلے گا اور وہ زمانہ انتہائی اختلافات اور فرقہ بندی کا ہوگا اور مسلمان دنیا پر غالب آجائے گا پھر مومن خان مومن سخت تکلیف محسوس کریں گے اس وقت حضرت عیسیٰ کا نزول ہوگا لوگوں کی امامت کرائیں گے اور جب وہ سجدہ رکوع سے اٹھ گئے تو ان کو قتل کر دے اور مسلمان غالب آ جائیں گے یہ بھی بتاتی ہے کہ اس درجہ غلبہ ہوگا وہ مسیح کی جماعت ہے اس کے ذریعے دعائیں اور دلائل کے ذریعے اس پر غلبہ ہوگا نہ کہ تلوار کے ذریعے اس کا مقابلہ کیا جا سکے گا جبکہ السلام نے فرمایا اور آخرت کی ایک اور علامت کے مسیح موعود رضا کو باب لد پر قتل کرے گا اب لوٹ کا مطلب ہے عربی زبان میں بحث و تکرار کرنے والا کرنے والا قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے اور بے حس قوم نہیں ہیں تو اس کے ذریعے بیٹھ کرجو اتنی واضح طور پر اپنی تمام علامات کے ساتھ جیسے کے رؤیا و کشوف کی تعبیر ہوتی ہے وہ ابھی فی الحال سائن اپ کے سامنے سب کچھ رکھا وہ پوری ہو چکی ہیں اور جان کا احترام سے قتل ہونا بھی اور مسیح کے مقابل کھڑا ہونا بھی ہمارے مخالفین خود کرتے ہیں کہ ہندوستان میں مثال کے طور پر عیسائی پوری طرح سے تبلیغ کر رہے تھے اور مسلمانوں کو انہوں نے اس آیت کی طرف بھی بہت بڑی تعداد میں سب نا لیں بنا لیا تھا تاہم ان کے خلاف کھڑے ہونے والے یہ مرزا غلام احمد قادیانی تھے جنہوں نے اس رنگ میں اسلام کی حقیقت اور رسول اکرم صل وسلم کی سچائی اور صداقت سامنے رکھیں اور دوسری طرف ان کے خدا کو مردہ ڈیلیٹ کیا اور ثابت بھی کیا قرآن مجید سے بھی ان کی اپنی کتب سے بھی اور پھر دوسری طرف مخالفین کہتے ہیں کہ یہ نعوذ باللہ کے ایجنٹ ہیں تو سوال یہ ہے کہ عجز والے کام اہمیت جماعت کے بانی کرنے والے ہیں یا خود جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ زندہ آسمان پر ہے اور خدائی صفات کے متعلق ملی تو ہمیں آگے چلتے ہیں اور بہت بڑی بات جاری رکھی کانٹیکٹ میں حضرت صاحب سے بھی آپ کی طرح پھر آئے گا وہ گدھا ہے جو ہوئی ہے لیکن اس سے قبل ہمارے ساتھ اس وقت ایک الرحمان صاحب ہیں ہماری کوئی سوال اپنی بھیجتے ہیں اس سے قبل بھی آیا تھا جس نے پوچھا تھا کہ جا کے حوالے سے آیا ہے کہ اس کی پیشانی پہ قاف اور راہ پر لکھا ہوا تو اس کی تفصیل بھی آپ کو مل چکی ہے سب کے جواب میں کچھ پوچھنا چاہیں تو پوچھ لیں سوال ہے انبیاء کے نام پر آیات میں ہیں اللہ تعالی فرماتا ہے جبیں اس موضوع کو چھوڑ دیا جائے گا وہ بھی زیادہ تر بہہ جائے گا ایسا کیا سمندر کی لہروں کے اوپر سے بھی اس کی تصویر چاہیے مجھے جی ٹھیک ہے جزاک اللہ بہت شکریہ آپ کے لئے بھی کی ہے جس کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں یاجوج ماجوج کے حوالے سے ابھی حدیث میں رسول اللہ کی قسم میں اس کا ذکر کیا اور اس کا خروج ہو گا اس حوالے سے بھی ایک عجیب وغریب تصور ہے جو ہوچکا ہے ایسی مخلوق ہے جو کہ ہمارے سمجھی جاتی ہے جس کے متعلق نہ پہلے کبھی دنیا نے دیکھا نہ سنا نہ آئندہ کبھی ایسے کوئی عجیب الخلقت مخلوق سامنے آ سکتی ہے آپ کو کس میں سچ میں ایسا دیکھنے کو ملتی ہے اس کی کیا حقیقت ہے اور اس کی کیا علامات کے حوالے سے ہم جماعت احمدیہ  یہ مقبول تبدیل کرتے ہیں تو ہم رحمت اللہ صاحب سے پوچھتے ہیں تو سب ابھی آپ نے کبھی سنا اور مزید یاجوج ماجوج کے متعلق اپنے ہو مکمل طور پر بھی کسی حد تک ہمارے سامنے اس کی وضاحت ہے اس کی علامات ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں اطلاع دی اور وہ ظاہری طور پر بہت بڑا فتنہ ہوگا ایک ہی وقت میں دوست نہیں ہو سکتے یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک فتنے کا ایک رنگ وہ اس کو ایک خاص نام دے دیا جائے اور اسی طرح کے دوسرے رنگ کے لیے کوئی خاص نام دے دیا جائے تو عمل ایسا ہی ہے مجھے حدیث عربی زبان میں ہے اور اس میں یاجوج ماجوج کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ بھی عربی میں ہے تو پہلے ہم اس لفظ کے معنی سمجھ لیتے ہیں یاجوج ماجوج سے مشتق ہے اور جہاں کہتے ہیں جو عربی لغت کی سب سے بڑی کتاب ہے اس میں لکھا ہوا ہے کل ہیں جو ہمارے کے آگ کا شعلہ مارناا کا پھڑکنا ساتھ موٹا ہمیں پتا چلا کے طور پر کے باوجود وہ ہیں جن کا آپ کے ساتھ تعلق ہے اور وہاں کو استعمال کر رہے ہیں وہ ایک ایسی ہے کند ذہن ہے اور احادیث میں جب اس کی تفصیل پڑھیں گے ابھی سننے کے لئے اور وہ بہرحال پتہ چلے گا کہ ایسی تمام ہیں جو نہ صرف آگ ہوگی آگ سے کام لیتی ہو گی بلکہ اپنے ہیںآواز دوست نے انبیاء کی آیت نمبر97 کی طرف اشارہ کیا اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ پہلے 96 نمبر میں کیا حرام نال نے جو فوت ہو جائے تو وہ واپس دنیا میں نہیں آیا کرتے تھے تو نہیں لیکن کب آ سکتے ہیں بظاہر ایسا لگتا ہے جب کو کھول دیا آ جائے گا وہ ہر اونچائیاں سے بڑے مقابلے ہونگے والے خونی کھیل مراد ہیں کہ ان کے مسائل دنیا میں اس وقت آئیں گے جب یا جوج وماجوج کا دنیا میں دور دورہ ہوگا جو ہر میچ ایسے کیسے آئیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ تعالی نے سورۃ کا حکم دیا ہے کہ حضرت القرنین کا تذکرہ ہے کہ ذوالقرنین کے پاس ایک قوم ایونیو کا جو مقصد نہیں اجود ماجود دنیا میں فساد برپا کیا ہے تو ہماری مدد کیجئے ہمارے لئے ایک دیوار بنا دیں اللہ تعالی نے حضرت ذوالقرنین کے ذریعے اس کی حفاظت فرمائی تھی جو بظاہر ایک ہے یاجوج ماجوج کے حملوں سے ہمیشہ قائم رہ سکتی بلکہ ایک وقت آتا ہے ایک وقت آئے گا جب ہم جو موج در موج ایک دوسرے کے اوپر اوپر سے گزرتے ہوئے اس دیوار کو پھلانگ جائیں گے تو اس وقت اس دیوار کی ظاہری حقیقت کچھ نہیں رہے گی تو پہلے ہی بتا دیا ہے کہ جو موجود ہے جب وہ آئیں گے وہ دنیا میں ضرور کریں گے وہ سمندر کی طرف سے بھی لوگوں پر ہم لوگوں پر آئیں گے محسن بن کر اوپر سے بھی نیچے سے بھی دائیں سے بھی باہر سے ہر طرف سے ابے ان کی فساد پھیلانے کی آغاز کی ہوگی جو سمندر ہے موت کی طرف سے ہدایت کی طرف سے مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں علامات پوری ہوئی بلکہ جوج ماجوج کے بارے میں بتائیں کوشش کرتے ہیں کنفرم کرنے کی کون سی اقسام ہیں مسلمانوں نے بنی اسرائیل ہے وہ اگر تمہیں روایت بیان کریں اس کو بھی بیان کیا جاسکتا ہے اور نبی پاک صلی وسلم کا اپنا عمل بھی ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملے میں جس کے بارے میں جدید احکامات نازل ہوا کرتے تھے اہل کتاب کی تعلیمات کی موافقت کیا کرتے تھے ہم نے کے مسلمانوں یحدثہ عن اہل کتاب ہیں ان کی روایات بیان کیا کرو اس میں کوئی حرج نہیں سوائے اس کے کہ وہ عقل عقل غلط ہوں جب یا جوج وماجوج کا علم حاصل کرنے کے لیے بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں تو حضرت حزقیل علیہ السلام کی کتاب میں اس کا تذکرہ موجود ہے کہ عوام کہاں آباد ہیں مثلا حزقیل نبی کی کتاب ہے اس کا باپ ہے سرچ آیت نمبر ہے 13 اس میں لکھا ہے کہ جب سے مخاطبایک بار میں بیان ہوا تھا یہ نوجوان اس کا بھی تذکرہ ہوا ہے اور ماجوج پر ان پر جو بحرین ممالک جزائر میں رہتے ہیں امن سے سکونت کرتے ہیں اگر بھیجوں گا یا ایک نے بتا دیا کہ روس ہے اور اس کے بالمقابل جزائر میں رہنے والے ہیں ان والوں کو دوسرے نام دے دیا گیا تو وہ یورپی ممالک اور ان کے سامنے دونوں ہیں یعنی روس کے سامنے بالمقابل مال جو ہے وہ موجود ہیں جو آج ہیں بائبل سے مجھے پتا چلا کہ یاجوج اور ماجوج روس اور مغربی اقوام ہیں جن کا ظہور مسیح موعود علیہ السلام کے علامات میں سے ایک بیان کیا گیا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کے بارے میں جو مکاشفات ہیں ان میں مکاشفہ میں دو وقت بھی بتایا گیا ہے کہ وقت کب ہے کس وقت اس روش اور موجودہ نکلنا ہے کہ میں لکھا ہے کہ جس بطور پیش گوئی کیا بیان کیا تھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو نور آیا ہے سب سے پہلی صدی اس کے بعد دوسری صدی اس کے بعد بیسویں صدی ہو گی اور نہ اس کے بعد یہ فلم زبردست ہٹ کر جائے گا جو جھوٹ کا زمانہ کتنا ہے جس کا نام رک جاتا ہے مفتی ومن کان مقدارہ الف سنۃ 1962 کے برابر اس کی مقدار ہے تو وہی مکاشفہ میں جو کہا گیا تھا کہ یاجوج و ماجوج ایک ہزار سال کے بعد آئیں گے وہ جب تین صدیاں بہترین سبزیوں کے بعد ہزار سال 12 13 ویں صدیآج کے دور کے بعض علامات کا تذکرہ ہوا تو حضور صلی وسلم بطور پیشہ بھی فرما دیا تھا کہ یہ ایسا خطرناک ہے نہ للہ الذی ھدانا لھذا دن کہ کوئی بھی دو ہاتھ ایسے نہیں ہیں جو ان سے ظاہری طور پر مقابلہ کر سکیں گے اس وقت کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرے گا کہ نون لیگ میں نے ایسے بندے دنیا میں نکالے ہیں ان کے لیے کسی کے پاس دو ہاتھ نہیں ہیں میں پھر کیا کرنا ہے حضور بعد بھی میرے بندوں کو لے جائے تو رکے طرف جانا من کی طرف اور دعاؤں کی طرف امن اور دعاؤں کے ذریعے ہی اس مسیح موعود نے جاجوج ماجوج کا مقابلہ کرنا تھا ظاہری ہاتھوں سے اس کا مقابلہ ہو نہیں سکتا تھا مجھے ایسے خطرناک تھے انہوں نے آسمان کی طرف بھی چلانے سے دنیوی علوم حاصل کرنے ہیں تھے روحانی علوم بھی حاصل کرنے کا نمبر نے فرمایا گے تجھے ظہور پذیر ہوئے ہمارے ہاں برصغیر میں علامہ اقبال نے شاعر مشرق کے نام سے مشہور ہیں ان کا قاعدہ طور پر میں شاعر نے لکھا ہوا ہے کہ یہ تو اب کھل گئے مثال کے طور پر ان کے مشہور شعر ہے کہ کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام ہے اور موجود ہے اس کے سارے لشکر گئے ہیں چشمش دوسرا اس کا یہ ہے چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف ینسلون کے سامنے آ گئی ہے وہ دور بھی کھل گیا موجود بھی کھل گیا اس کے علامات بھی ظاہر ہوگی تو جب علامات ظاہر ہوئی ظہیرآباد کے بالمقابل آنے والے موعود کا بھی تذکرہ تھا اور وہ یہ حقیقت ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام انہوں نے کا مقابلہ کیا دعاؤں کے ہتھیار سے اور بھی ہیں جس طرح پہلے بتایا گیا سجنڑ نے لایا نے خود بتادیا کہ اصل مقابلہ ہوتا ہے زندگی اور موت کے لئے دلیل کم دلیل کا مقابلہ جاری ہے انشاللہ ظاہری طور پر نصرت فتح دے گا لیکن دلائل کے ذریعے آج احمدی ہر جگہ پہنچ رہی ہے ہر ایک کے سامنے کھڑی ہے ٹھیک ہے رزاق میرا بہت بہت شکریہ آپ کا تو اسی طرح سے ہی ہے جیسا آپ نے فرمایا ہے کہ ایک ہی قوم ہے جن کے مختلف پہلوؤں مختلف کا نام میں مختلف کاموں کی اتباع رسول کے سامنے یہ نام درج الاؤ روشن رکھے ہیں اور خاص طور پر یاجوج ماجوج میں جو آج جو اک کو اپنے پسندیدہ کام میں لا کر موت پر جو اوپر یہ یہ حکمران اور تمام دیگر تمام دکھ ہے یہی انڈسٹریل خاص طور پر سے ملی ہے ہے یہ باتیں بہت ہی واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہیں ایک اور پہلو جو اسی کوشش میں ہے بہت دلچسپ ہے وہ جالندھری کے حوالے سے دوسرے کی کال کا گدھا اس کا بھی ذکر کیا ہے اور اس کی حقیقت حافظہ سے ہو جانا چاہیے یہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ دجال کا ذکر ہے وہاں اس نے دجال کی سواری کا بھی ذکر کیا ایک گدھے کا ذکر فرمایا کہ وہ گال اس پر سوار ہو گا اور اس کی مختلف دجال کی الغوزے کی علامات بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہم ان علامات کو دیکھتے ہیں یقینا نے یہ ایک ہی جانور نما چیز ہمیں نظر نہیں آتی بلکہ اس میں بڑی عظیم الشان پیشگویئ تھی جو آج موسم کی طرح کی پیشگوئی پوری ہو چکی ہےشکریہ ہو سر وقار وطن کے اس کے اندر کے دروازے ہوں گے اور اس کے اندر دینے کی نشستیں ہو گئی ہوگی یہ تمام اگر دیکھا جائے تو ایک جانور کے اندر سے علامات نہیں مل سکتی آج ہم جس زمانے میں رہ رہے ہیں یہ تمام کی تمام اجوان مغربی اقوام کی ایجادات ہیں جو وسائل النقل ہر انسان استعمال کر رہا ہے اب وہ زمینی ہے کہ وہ سمندر ہے تو وہ افغانی ہیں یہ تمام کی تمام سواریاں اعجاز ہوئی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی پر مرتب کر رہی ہیں جو ان کو آزاد کرنے والا ہے اور اصل میں وہی دجال ہے اور جس نے ان کو ایجاد کیا یہی بھول کرتا ہے تو آج دیکھیں کہ ایک ہوائی جہاز ہے وہ اس کو ایک ایئرپورٹ سے اٹھتا ہے تو مغرب میں جا کے لینڈ دوسرا پانچ کام ہوتا ہے آپ نے فرمایا کہ اس کی گردن ہوگی آج لکھنے کے ہوائی جہاز سے ہیں وہ بادلوں کے اوپر خرچ کرتے ہیں پھر سمندری جہاز سمندر میں اتنی بھاری سامان اٹھا کر کے آدھا اصل میں وہ جلانے کے کام آتا ہے وہ کھانے کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پر لے جانے کے کام آتا ہے آج دیکھنے کے سمندروں کے اندر جو ہوائی جہاز ہے اس کی پردہ شمار سامان لاد کر انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ پر اس کو منتقل کرتا ہے اور وہ ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ کبھی بھی اس کا جو مجھے سکھاتا ہے وہاں اس پر نظر آرہا ہوتا ہے اگر ہم ان تمام مختصر یہ ہے کہ ان تمام ایجادات کو دیکھیں تو حقیقت میں یہی دجال کا گدھا ہے جو کہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے کہ آدم علیہ وسلم کی اس سے کیوں پروموٹ کر رہا ہے اور اس کا جو آج میری آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جزاک اللہ بہت بہت شکریہ آپ صلی اللہ وسلم جس رنگ میں آپ کے متعلق پیشین گوئی فرمائی اور جو علامات آپ میں بیان فرمائی پھر آگے کے متعلق کو جس تفصیل کے ساتھ سے کافی دور اپنے اس بیان کی ہے تو یہاں بھی خراب ہے کیا بات بڑی یاد آتی ہے وہ حضور سے بھی سوال کیا کرتے تھے کہ دجال کا گدھا کیا ہے تو حضور وہ تمام تفصیلات بیان کرتے تھے بلکہ جو سامنے بیٹھے ہوتے تھے ان سے پوچھتے تھے کہ یہ ساری باتیں میں نے آپ کو بتائیں گے تمام علامات میں نے آپ کو بتایا تو اب یہ سوال کھل گیا ہے کہ یہاں سے کیا مراد ہے فرماتے تھے آپ کے باقی سب نے اس کو پہچان لیا ہوگا یا جس کو اپنی پہچان سکتا تو حقیقت میں ایسی ہے جیسے علامات آپ نے بیان کی ہیں یہ وہ ماڈرن سپورٹ ون ماڈل زمانے میں جو ٹرانسپورٹ کی دھونی نے اہم ذرائع پیدا ہوئے ہیں اور آزاد کشمیر جنگ میں کس طرح سے مستقبل میں سب کچھ دیکھ رہے تھے تو ظاہر فرماتے تھے ایک جہاز ہوگا یا ایک طرف ہوگی وہ اور کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی یہ تھا کہ ٹرانسپورٹ کے لئے استعمال ہوتا ہے آپ نے  استعمال کو بیان کیا اور اسی حوالے سے تمام خصوصیات اپنے بیان کر دیں تو بہت بہت شکریہ یہ باتیں بالکل روز روشن کی طرح واضح ہیں وہ زمانہ جو قرب قیامت کا زمانہ تھا جس میں یہ تمام باتیں جو ہونی تھی وہ ہمارے سامنے نظر آ رہی ہیں تو اسی زمانے میں جس مسیح موعود امام مہدی نے آنا تھا وہ بھی اللہ تعالی کے فضل سے عین وقت پر تشریف لے آئے ہیں اور جو خدا تعالیٰ نے ان سے کام لینا تھا وہ اپنے کام کیا اور اسی کام کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ کے جانشین اور خلفاء اس کام کو آگے بڑھا رہے ہیں اور دنیا میں ہر جگہ پر اسلام کے غلبے کے سامان ہے جو خدا چاہے پیدا کرتا جا رہا ہوں کہ جیسے ہمیں اپنی گفتگو کو آگے بڑھائیں گے ہمارے پاس والا ہے سید مبشر شریف صاحبہ کا انڈیا سے پوچھتی ہیں کہ اللہ تعالی نے مسیح ثانی کو مسیح بن مریم کے نام سے کیوں بلایا غلام احمد صاحب قادیانی الہ سلام ہے ان کو مسیح ابن مریم کا نام کیوں دیادنیا میں آکر انسان کے اندر جذب ہو گیا ہے کہ خصوصی افراد ہوتی ہیں بڑا کتنا عیسائیت کا فتنہ تھا اسی لیے اس آیت کے فتنے کو ٹھیک کرنے کے لیے اللہ تعالی نے مسیح بن مریم کے ہمراہ ایک دیوانہ تھا اس کی خصوصیات کو خاص طور پر بیان کرنے کے لیے وسیع کا لقب دیا گیا ہے اور ہر قسم کی پیش گوئی بھی کی ہے کہ جب میں مریم کو بطور مثال بیان کیا جائے گا تو لوگ پھر قسم کی باتیں بھی کریں گے عمر بھر جن کو بطور مثال لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جہاں قوموں کا منہ زور و شور مچانا شروع کر دیتی ہیں امریکی امریکی عدالت نے مریم آیا ہے قرآن کی تلاوت کی نشانی ہے تحریک لبیک یا چکا تھا کہ سا کی نشانیوں میں سے یہ ابن مریم کا ظہور ہے اور ابن مریم کا ظہور اس کی صفاتی اعتبار سے ہے نا کہ جسمانی طور پر معذور صاحب آپ نے بالکل درست فرمایا کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا جیسے پہلے بھی دعا میں آپ اس بات کو ڈسکس کیا تھا کہ خدا تعالی کے کلام میں کسی اور نبی کے نام کے حوالے سے اداکارہ پیروی کرتا ہے کھانے والے کی اسی حوالے سے ہمیں پتا ہے کہ ڈیل یا نبی نے دوبارہ آنا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تھے سب منتظر تھے تو پوچھتے ہیں لیکن بی کام پر ہے کہ یہی ہے کیا وہ شخص ہے جس کے متعلق آپ جس کے نام پر خدا نے پیش گوئی کی تھی اس نے اس مسئلے کا حل کر دیا بھائی بات یہ ہے کہ کسی اور نبی کو اس کی مشابہت کی وجہ سے اس کے کاموں کی وجہ سے اس کی بوسیدہ علامات جو پر بھی چسپاں ہو رہی ہیں ان تمام وجوہات کی بنا پر پر وہی نام دے دینا خدا تعالیٰ کی سنّت ہے تو ہمیں اور آگے چلتے ہیں شیخ ہمایوں کبیر صاحب ہیں انڈیا سے وہ سوال کرتے ہیں فیض صاحب کا سر آپ سے درخواست کرے گا وہ فرما رہے ہیں کہ آپ لوگ سورہ نساء کی آیت نمبر 70 کا حوالہ دے کر نبی کا دروازہ کھول دیتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے غیر ذمہ دوست ہیں کہ آپ کا حوالہ دے کر نبی کا جواز نبوت کو جاری کر دیتے ہیں دوسرے لفظوں میں تو کیا آپ کے نزدیک پھر مستقبل میں کوئی اور بھی ہو سکتا ہے کہ دروازہ بھی کھلا ہے ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیا ہیں اور بزرگان پیشگوئیوں کو ان احادیث کی تشریح فرمائی ہے تمام لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ مسیح ابن مریم سے محمدیہ کی اصلاح کے لئے آئے گا وہ بہرحال نہیں ہوگا یہ سب اس بات پر متفق ہے کہ اس کے بعد نبی بن کر آئیں گے تو پھر نبوت کا دروازہ کیسے بند ہوگیا اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور جو اللہ تعالی کے پاس گئے انہوں نے اسی ان کی تشریحات میں بیان فرمائے حضرت امام محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں اور نبوت و ساری تعالیٰ یوم القیامۃ فی المنام تو اصل میں قیامت کے دن تک مخلوق میں جاری ہے اگرچہ اس آیت میں جن بھوتہم نے تو اس کو نبی ماننا ہے اب جو اعتراض کرنے والے ہیں اگر وہ اور دکھا دیں کسی اور نبی کی پیشگوئی بھی موجود ہے اس کو بھی مان لیں گے فالن یہ کہنا کہ صرف ایک ہی دروازہ کھلا یہ درست نہیں ہے ایک کے لیے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی کا لفظ استعمال کیا ہے اور وہ مسیح ابن مریم کے لیے استعمال کیا ہے اور مختلف گانے پرانے دیا ہے اس کے علاوہ اگر احادیث کا نام نبی رکھا گیا تو وہ ہمیں بھی دکھا دیں ہم اس پر بھی ایمان لے آئیں گے ٹھیک ہے بالکل صحیح فرمایا آپ نے ہم تو ایمان لانے والوں میں سے ہے بلکہ قرآن مجید میں ایک خاص ایک انسان کے اندر جو فطرت انسانی فطرت ہے خواص پیدا ہوتی ہیں اللہ تعالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ان لوگوں نے اپنے وقت کے نبی کا اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اس سے قبل انکار کردیا تھا تو کسی نبی کا انکار کرنا لازمی ہے انسان کی سرشت پر انسان کی روحانی طور پر کیا اثر ہوتا ہے دل سخت ہو جاتے ہیں لوگ جو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی عزت ہے اور جو نور ہے عقل ہے اس کو استعمال نہیں تو وہ لگ جاتی ہیں تو ہم تو الگ طرح کے ماننے والے ہیں تو اللہ تعالی سے امید رکھتے ہیں کہ اگر بیوی سے کوئی فیصلہ ہوا جس کا ہمیں علم نہیں ہے تو اللہ تعالی بہتر جانتا ہے وہ آئے گا تو وہ خود ہی بتائے گا تو ہم آگے چلتے ہیں رحمت اللہ صاحب مبارک عطاری صاحب ہیں آپ نے پچھلے ماہ کے پروگرام میں حضرت نوح علیہ السلام کی آمد کے متعلق جو رسول کس نے پیشن گوئی فرمائی تھی کہ سورج اور چاند کو گرہن لگے گا جو کہ دارقطنی کتاب حدیث میں موجود بھی ہے تو وہ پوچھتی ہیں بال کاٹنے کے علاوہ بھی کسی اور کتب حدیث میں کیا یہ حدیث ہے صاحب یہ دیس ہے چاند اور سورج گرہن کو لگنے والی اس کے رسول کریم ہے دونوں جمع ہو جائیں گے اسی کی تشریح وسلم بیان فرمائی ہے یہ شیعہ سنی دونوں کی فکر میں موجود ہیں مختلف گروہ ہیں پھر بھی موجود ہیں مثال کے طور پر ہمارے برصغیر میں بڑا ہی معروف فرقہ اہل حدیث ہے کہ نواب صدیق حسن خان صاحب انہوں نے اس کو ہجراں میں لکھا ہے اسی طرح نواب نورالحسن خان صاحب انہوں نے اس کو ایک خط لکھا ہے جو شاہ محمد اسماعیل شہید ہیں ان شاء اللہ محدث دہلوی کے پوتے انہوں نے اربعین فی احوال المہدی میں اس کو لکھا ہے عام جو بریلوی مکتب فکر کو خاص روایت موجود ہے پھر اس کو کیا ہے کہ مہدی کے دور میں ہی میں جو تفسیر صافی ہے روایت موجود ہے اسی طرح کافی اس میں موجود ہے اور کتاب ہے اس میں جو روایتیں موجود ہیں اسی طرح امام ابن حجر نے اس کو نوٹ کیا ہے علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے الحاوی للفتاوی فی الناس کو لوٹ گیا ہے جو چوبیس سے زائد کتابیں ہیں جن میں دیر باہر موجود ہے اس لیے اتنی معروف روایت تھی وہ لوگ پوچھتے تھے تو نے روایت یہ ہے کہ پہلی دفعہ دار موجود نہیں تھی یہ شیعہ روایات میں ان دونوں فرقوں کے ذیلی فرقے ہیں اس کا بتا دیا ہے جو ہیں وہ ہم لال محدث دہلوی کو بڑا ہی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہو ان کی روایات میں موجود ہے اس کا جوابلیکن جہاں تک علامات کی بات ہے ہمارا یہ چوتھا پروگرام پہلے پروگرام سے ان علامات کا ذکر کر رہے ہیں قرآن کریم کے اندر بہت ساری علامات بیان ہوئیں ہیں جو ہم بیان کر کے آیا وہ تو پوری ہوتی ہیں اسی طرح احادیث نبویہ میں جو علامات بیان کی ہیں آج بھی ہم ملامات کے اوپر ذکر کر رہے ہیں اور اس کی تھی جو آج آپ نے علامات بیان فرمائی حضرت عیسی کے نزول کے ساتھ لازم تھی یہ علامت بھی پوری ہو گئی تو حضرت عیسیٰ کا نزول بھی ہوگا ہوتے ہیں جو اللہ تعالی کے ماہر ہوتے ہیں علامات وہ یہ نہیں ہے کہ تمام کی تمام علامات میں اسی وقت پوری ہو کبھی ایسا نہیں ہوا صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے نبی تھے لیکن آپ نے مسلم اسلام میں نکلا تو ایک مخالفت کے کہہ دیتا ہے کہ یہ کیسے تمام رحمۃ اللہ علیہ نے ہے کہ آپ کی وفات پر اسلامی پہلے ہی نہیں ہے پھر خلافت راشدہ کو بھی لے لیں اس کی خلافت راشدہ کے زمانہ میں تمام دنیا میں اسلام کیونکر پھیلا کر آج تک جو علامات جو نیا کلام پیش گوئیاں ہیں وہ آج تک پوری ہو رہی ہیں اس لیے یہ انتظار کرتے رہنا کہ فلاں علامات ہے علامت ہے اور اس کا ذمہ داری پوری ہونا یہ بالکل درست بات نہیں ہے اب حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام جب آئے تشریف لے آئیں یہ خود بھی اسی وجہ سے آپ کا ایمان نہیں لے آئے ایک تو ان کی یہ تھی کہ تورات میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کے اس وقت تک نسیان سکتا جب تک کہ میں آسمان سے نہ آئے اگر تم نے فرمایا کہ وہ ایریا جس نے آنا تھا وہ یا نبی کی صورت میں اگر آپ کسی اور نے آسمان پر لیا نا لیکن یہ دوسری تورات میں جمع کرکے ان کی ایک مملکت بادشاہت عطا ہو گئی ہے انہوں نے کہا اگر تو ہمیں بادشاہ نہیں تھا کہ اس لئے خدا کی طرف سے نہیں ہے پھر اس کے بعد اس نے کہا کہ تمام دنیا میں عالمی تعلیم کو پھیلانا تھا حضرت عیسی نے پھیلائی ہے آج تک ایمان نہیں لے کے آئے اس لیے ایک علامت کو اپنا انسان اپنی مرضی کے مطابق اس کو دیکھتا ہے اور اس کی تشریح کرتا ہے یہ ایسا ممکن نہیں ہے خدا کا جو مقصد ہوتا ہے اس کے دعوی کو دیکھا جاتا ہے وہ کہتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہو خدا کے ساتھ وہ علامات اور نشانات کے دکھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تائید میں وہ نشانات کو پورا کرتا ہے لیکن یہ آخری علامت تک اس کا انتظار کرتے رہنا یہ سانسوں کی علامت نہیں ہوتیں اس لیے ابوبکر نے کوئی ایسی علامت نہیں دیکھی تھی کوئی ایسا نہیں مانگا تھا آج اس کے ایمان کا مرے لیے سن رہا ہے تو اس نبی کی دعوت کرنے والا تھا اس کی زندگی کو دیکھتی ہے تو حضرت مسیح علیہ السلام کو اگر دیکھیں تو میں یہ موبائل کا ہرگز نہیں ہوگا اس لئے پیش کی گئی ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور پوری ہو چکی ہیں اور کیا ہے کہ اس سے زیادہ اور تبدیلیاں پیشگوئیاں یا علامات اور کہاں سے دی جاسکتی ہیں یہ تمام کے تمام علامات پیش ہوا پوری ہو رہی ہیں اور چکی ہیں اور اگر ہم اسلام کے زمانے میں بلکہ آپ نے تو ہزاروں اپنی پیشگوئیاں بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالی نے یہ بیان فرمائی اور کتنے نشانات ہیں جو فرمائے اور آپ کی زندگی میں ان نشانات کو اللہ تعالی نے آپ کی صداقت کے لیے نکل آیا اور آپ کی زندگی میں وہ پوری ہوئی باقی رہا ایمان کی بات یہ من شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر یہ کسی کے ساتھ اسلام میں تو ہے نہیں دینے سے زیادہ ہے نہیں ہے یہ تو اللہ تعالی کا جس کو ہدایت دے کوہدایت دے یہ سب اللہ کا کرم ہے ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے یہ بالکل ٹھیک ہے بالکل درست فرمایا فلاں ہمارے پروگرام کے اختتام کو پہنچ گئے ہیں ناظرین کا سایہ ہم پر ہمارے جو شرکاء ہیں ان کا بہت بہت شکریہ رونے لگا تو اللہ تعالی نے الہام کے ذریعے مجھے خبر دی تو اس صدی کا مجدد ہے میں اس خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں اور بے حیائی کا جھوٹا اس طرح سے خدا تعالیٰ کو کی قسم کھا کر اس کو بطور گواہ کے پیش نہیں کر سکتا آپ سے 2019 فرماتے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ خدا تااللہ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ میں وہی مسیح موعود ہو جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام نے خبر دی ہے جو صحیح بخاری اور مسلم اور دوسرے حصہ میں درج ہے اللہ ہی دہ تو خدا تعالیٰ آپ کی گواہی اور کھول کر دیکھے ہیں ہم ہمارے رہنما دوستوں کو یہی کہتے ہیں کہ جس بنا پر خدا تعالی گزشتہ انبیاء اور ان کی صداقتیں خدا تعالیٰ ثابت ہو ظاہر کرتا ہے وہ تمام جو معاملات اپنے نبیوں سے کرتا آ رہا ہے اس کسوٹی پر پرکھ کر دیکھیں کہ کیا یہ آنے والا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نہیں یا خدا تعالیٰ کا اس کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہے یا نہیں نہیں کہ اس کی جماعت کے ساتھ خدا کا بہت شوق ہے یا نہیں جو خدا تعالیٰ کی الہی جماعت ہوتا ہے تو یہی ایک بات ہے جو ایک اس معاملے کو بہت آسانی سے حل کر دینے والی ہے آپ کبھی ہمارے پاس سوال آیا کہ ایمان نہیں لائے تو اس کا موازنہ کریں کہ پچھلی جو جو بنی اسرائیل میں جو مسئلہ بن کر آئے تھے وہاں پر کتنا عرصہ گزرا تھا تو اللہ تعالی کے فضل سے جماعت احمدیہ اس راستے پر گامزن ہے اور ترقیات کی منازل طے کرتی جارہی ہے صحیح ہیں وہ بھی تو ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں تو انشاءاللہ اگلے ہفتے آپ کسی اور سے رابطہ کریں گے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں سے

 80 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: