Rah-e-Huda – Watan Ki Muhabbat aor Deen




Rah-e-Huda – Watan Ki Muhabbat aor Deen

راہ ھدیٰ ۔ وطن کی محبت اور دین

Rah-e-Huda | 24th October 2020

ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دے دل سے ہے خودی میں تم سے دل سے ہے خدا میں ختم المرسلیں مانتے تھے اعوذ باللہ من شیطان الرجیم بسم اللہ رحمان رحیم ناظرین کرام اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آج 24 اکتوبر دوہزار بیس ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق اس وقت سہ پہر چار بجے ہیں اور ناظرین وقت کا پروگرام بن رہا ہے خدا کا قادیانی دارالامان سے ایک مرتبہ پھر پروگرام ہے اللہ کی ایک سیریس لے کر اس وقت ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہے اک مرحلہ کے تعلق سے ہمارے مجاہدین یہ جانتے ہیں کہ یہ ایک لائیو پروگرام ہے اور انٹرویو بھی ہے اور اس کے رسول مشتمل ایک سیریز قادیان دارالامان سے بھی آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں یہ پروگرام لائیو اور ہم صرف اپنے مجاہدین کے لئے منعقد کرتے ہیں تاکہ ہمارے مشاہدے بھی ہمارے ساتھ اس پروگرام میں جوڑ سکتے ہیں اور آپ نے صحابہ کرام کے بارے میں پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کرسکیں تو آج کا ہمارا یہ پروگرام بھی لائیو ہے اور ایکٹیو ہے اور ہم سے رابطہ کرنے کے لیے مختلف سہولیات ہمارے مشاہدے کے لیے مقدس دستیاب ہیں جس میں ٹیلیفون لائن سے جس کے ذریعہ سے آپ ہمارے ساتھیوں کے ساتھ کنیکٹ ہو سکتے ہیں اور اپنا سوال ہمارے علماء کرام کے بارے میں پیش کر سکتے ہیں اسی طرح ٹیکس میسیج 27 میسجز اور ای میلز کی سہولت موجود ہے جس کے ذریعے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اپنے سوالات ہم تک پہنچا سکتے ہیں ہمارے ساتھ شریک ہونا چاہتے ہیں اور ہمارے ساتھ اس پروگرام میں جاننا چاہتے ہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ ہم سے رابطہ کی تفصیل اس وقت آپ اپنی ٹیلی ویژن سکرین پر ملاحظہ فرما رہے ہوں گے قادیان دارالامان سے چار حصوں پر مشتمل سیریز اس وقت ہم آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ہیں جس کا یہ پہلا ایپیسوڈ ہے جس وقت ہم آپ کی خدمت میں بسر کر رہے ہیں اس ایپیسوڈ میں ہم حب الوطنی کے تعلق سے بات کریں گے کہ اسلام وطن سے محبت کا کیا حکم دیتا ہے اور ایک مسلمان سے حب الوطنی کا کیا تقاضا کرتا ہے حکومتی قوانین کی پاسداری کے تعلق سے یہ حکمرانوں کے احترام اور ان کی اطاعت کرو کرنے کے حوالے سے اسلام کی کیا تعلیمات ہیں یہ آج ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے کیونکہ میں نہ صرف یہ کہ ہم دنیا میں امن قائم کرسکتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے کا بھی یہ ایک اہم ذریعہ ہے اس کی تمہید کی طرف جانے سے پہلے آج کے اس پروگرام میں جو علمائے کرام نے اس حملے میں موجود ہیں ان کا تعارف آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں مولانا محمد کریم خان صاحب ہیں اور ان کے ساتھ شفقت و مکرم و محترم مجاہدہ میں سب سے آخری دونوں حضرات آپ جانتے ہیں کہ قادیان کے پروگرام رہی ہیں اور ہم گفتگو آپ کے ساتھ کرتے ہیں اور آپ کے سوالات کے بھی تسلی بخش جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں آپ دونوں حضرات کا پروگرام میں پرفارم کرتا ہوں دنیا کی حالت کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ دنیا بڑی تباہی کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ جا رہی ہےحکمران بجائے اس کے کہ عوام کے حقوق ادا کریں وہ ان پر ظلم کرنا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا میں ایک بد امنی کی کیفیت اس وقت پیدا ہوئی ہے لیکن دنیا میں تمام مسائل کا حل ہمارے عقیدے کے مطابق اسلامی تعلیمات میں موجود ہیں جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید بنیادی طور پر جو حکمران ہے جو حق میں وقت ہے ان کی اطاعت کی تعلیم دیتا ہے ان کے ساتھ وفاداری کا ہمیں اصل سکھاتا ہے اور جو ملکی قوانین ہے اس کی پاسداری کا ہمیں حکم دیتا ہے نہ صرف یہ بلکہ وہ ہیں تو وہاں پر ہمیں نظر آتا ہے کہ کس طرح انبیائے کرام کے اندر بھی اللہ تعالی نے اپنے وطن کے ساتھ جو محبت ہے وہ ودیعت کر رکھی تھی جس میں جب ان کی ہجرت ہوتی ہے تو وہ اپنے وطن سے مخلص نہیں گزاری اور محبت کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں جس کو قرآن مجید نے بھی رقم کیا ہوا ہے اور جب ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بالوطن الایمان کے وطن سے محبت انسان کا ایک ایمان تقاضہ ہے کہ جو حقیقی مسلمان ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ تم سے محبت کرے خدا سے محبت اور وطن سے محبت میں کسی قسم کا ٹکراؤ نہیں ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص وطن سے کامل محبت کرتا ہے اور اس کے ساتھ وفاداری کرتا ہے اور اس کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اس کے احکام کی تعداد کرتا ہے تو یہ دراصل قرب الہی کے حصول کا ایک ذریعہ ہے چنانچہ اسلامی تعلیمات کو جب ہم پڑھتے ہیں تو مختلف مواقع پر اسلام نے ہمیں یہ باتیں سکھائی ہیں کہ کس طرح ہم نے ایک وطن میں رہتے ہوئے اس وطن کے حقوق ہے اس کو ادا کرنا ہے اور انہیں اس کی پاسداری کرنی ہے اور اس پر عمل کر کے پورا کرنا ہے اور ان دونوں کو لے کر ہم نے چلنا ہے جس کے نتیجے میں ہم دنیا میں امن قائم کر سکتے ہیں یہ ساری تعلیمات اسلام نے بہت ہی خوبصورت پیرائے میں ہمارے سامنے پیش کی ہیں اگر خلاصۃ ہم اس بات کا ذکر ہے کہ کس طرح ہم وطن کے ساتھ محبت کر سکتے ہیں اور کس طرح ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام حکمرانوں کے لئے عوام کے ساتھ انصاف کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور عوام کو اپنے حکمرانوں کی حالت میں آزاد کرنے کا حکم دیتا ہے اور جب اس پر عمل کرتے ہیں کبھی امن کا گہوارا بنا سکتے ہیں اور دنیا میں بھی امن کے قیام کے حوالے سے ہم اپنی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں اس مختصر سی تمہید کے بعد آج کے سوالات کی طرف جاتا ہوں اور ایک مرتبہ پھر اپنے مجاہدین کو یاد دلانا چاہوں گا کہ آج کے پی سوڈ میں ہم بات کر رہے ہیں بل وطن کے تعلق سے کہ کس طرح بیان کر سکتے ہیں اور کس طرح کے نتیجے میں ہم کو حاصل کر سکتے ہیں اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں اس کے حوالے سے اگر آپ کے ذہن میں سوالات ہیں تو ہمارے لیے فون لائن صاحب کے لیے ٹوئٹر ہیں آپ فون کر سکتے ہیں اور اپنے سوالات ہمارے علماء کرام کے بارے میں پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کر سکتے ہیں ہیں میں گفتگو کا آغاز محترم مولانا محمد کریم خان صاحب شاہد سے کرنا چاہتا ہوں سب سے پہلے میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ وطن سے محبت کے تعلق سے اسلام میں کیا حکم ہے قرآن مجید اور احادیث کا جب ہم منصب کو پڑھتے ہیں تو اس میں کیا کیا احکامات ملتے ہیں اس کے بارے میں ہمارے نزدیک کچھ تفصیل بتائیں ایک ایسا مذہب ہے جو ان بالکل فطرت کے عین مطابق تعلیم دیتا ہےسارے دن میں وہ جہاں کہیں بھی غذا کی تلاش میں دانوں کی تلاش میں پھرتے ہیں لیکن شام کے وقت روح آ کر اپنے گھونسلے میں پائے جاتے ہیں تو اتنا ان کو احساس ہوتا ہے کوئی ہو وہ جس جگہ پر رہتا ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا چاہتا ہے اس کو زیادہ سے زیادہ آرام دے بنانا چاہتا ہے کہ جس سے اس کی زندگی آسانی سے کر سکیں ان سے کٹ سکے تو یہ جانوروں میں بھی خوبی پائی جاتی ہے کہ انسان دوبارہ بیان کیا جس گھر میں انسان پیدا ہوتا ہے وہاں پر پر آپ نے سب سے پہلے ماں سے اس کا تعلق ہوتا ہے بڑی محبت ہوتی ہے پھر اس کے بعد دیگر رشتہ دار ہے بہن بھائی ہیں ان سب سے محبت کا سلوک بھی رکھتا ہے اور اس کے ارد گرد کے لوگ ہوتے ہیں وہ شہر کے لوگ ہیں ان سے مل جل کر رہنا پسند کرتا ہے اور یہ بھی انسان کا یہ خاصہ ہے یہ فطرتی طور پر انسان جو ہے وہ معاشرہ پسند اس کی طبیعت ہے ہے تمہارا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وطن سے محبت جیسا کہ آپ نے بیان کیا مشہور حدیث کی کہ بل وطن یم لالی انسان جس عقیدے میں بھی رہتا ہوں اس کے دل کے اندر اپنے وطن کی محبت ہوتی ہے اور کبھی اپنے وطن کو رکھنا نہیں چاہتا اس لیے میں نے یہ خاص طور پر فرمایا ہے کہ آپس میں رشتہ داری ہو یا حکومت کی پالیسیاں ہو یا معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کے کیا حقوق ہے ہے ماں باپ کے کیا حقوق ہے بہن بھائیوں کے کیا حقوق ہے پھر یہ کہ پڑوسیوں کے کیا حقوق ہے تو ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے امن و امان کبھی ہم قائم کر سکتے ہیں جب کہ ہم ان تمام کے حقوق وہاں سنت طریقہ ادا کر سکتے ہیں کے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جیسا کہ آپ نے بھی شعر کا ذکر کیا ہے کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جو ہے وہ عدل و انصاف سے کام نہیں لیتے اور ڈکٹیٹر شپ یہاں پر قائم ہے اور پھر اب جمہوریت کا دور ہے اس میں بھی آپ کی بہت بڑی خرابیاں ہیں ہیں ایک ہی جاتے ہیں وہ یہ دیکھ کر نہیں جاتے کہ بھائی یہ ہمارے تمام سماجی صحیح طریقے سے اس کو ہینڈل کر کے اس کی فلاح و بہبود کا کام نہیں کر سکتا ہے اس کے اندر وہ قابلیت ہے کہ نہیں ہے اگر اس کا ہی نہیں بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون زیادہ جو ہے وہ ہمارا سپورٹ کرے گا یا یہ ہے کہ کون زیادہ ہمیں فائدہ پہنچا سکتا ہے لیاقت کی طرف دھیان نہیں دیا جاتا بلکہ پیسے کی طرف اور اس کے اسٹیٹس ہے اس کی طرف زیادہ دھیان دیا جاتا ہے تو یہ چیز اسلام نے خاص طور پر قرآن مجید کی تعلیم نے ہمیں سکھایا ہے کہ جیسا کہ آپ نے بھی شعر ترکیا جو غلام ہے ان کو یہ شکایت ہے کہ عدل و انصاف سے کام لیا جائے تو ان اللہ یحب المقسطین دیکھیں اگر صحیح رنگ میں عدل و انصاف سے فیصلہ کریں گے اگر کے ساتھ فیصلہ کرے تو بہت ساری خرابیاں دور ہوجاتی ہے انسان بعض دفعہ رشتہ داروں کی طرف جاتا ہے دوستوں کی طرف جاتا ہے پھر وہ حضرت انصاف قائم نہیں رہتا ہے بلکہ وہاں پر بدامنی پیدا ہو جاتی ہے اور دوسری طرف آیا کوئی اور کون ہے جو اللہ اور رسول ہوں حل عمران کو اللہ کی اطاعت کرنی ہے جو اللہ نے اچھا کام کیا اس کی پابندی کرو ابھی تو میں رہ سکتے ہو واطیعو رسول اللہ کے جو نمائندے کے طور پر اللہ تعالی نے تمہاری اصلاح کے لئے نبی یا پیغمبر یار شرم نہیں جو ان کی ہدایت پر عمل کرو گے کہ تم امن و امان میں رہو گے تمہارا معاشرہ اچھا رہے گا اور دنیا کے اندرابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں کہ اس کی مخالفت کی ہو یا احکام میں جو ہم کہیں گے کہ ملا عمر کے جو احکام ہے یا بادشاہ کے جو احکام ہے اور جو قانون بنایا ہے اس کی پابندی نہ کی ہو اس کی پابندی انہوں نے کی ہے حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر دیکھیں کہ فرعون یہ بھی ایک ایسا بادشاہ تھا جو خود سر تھا لیکن جب اس کے دربار میں گئے ہیں تو انہوں نے ان کی فرمابرداری بھی اختیار کیا بلکہ اپنا من چاہا تھا وہاں پر لیا اور اس کے بازار میں انہوں نے کام کیا ہے دہ اور اسی طرح سے ہم دیکھیں موسیٰ علیہ السلام فرعون کے آگے مت میں یہ آئے ہیں فرعون کے احکام کی پابندی انہوں نے ضرور کی ہے لیکن یہ کہ یہ مطالبہ بھی ان کے سامنے رکھا کہ بنی اسرائیل کا حملہ جانا چاہتے آخر وہ نہیں مانا تو اللہ کے حکم سے ملنے جانا پڑا آخر یہ بھی ایک معاملہ ہے کہ جب انسان انسان کی زندگی کی حکومت میں ملک میں ہو جائے تو پھر اس کو وہاں سے نکل جانا چاہیے ان شاء اللہ آگے بحث آئیں گی اس کی تو اسی طرح سے حضرت عیسی علیہ السلام رومن حکومت تھی لوگوں نے ان کو بد نام کرنے کے لیے کہا تھا کہ یہ رومن حکومت کا مخالف ہے اور کسی نے سوال کیا کہ ہم جو پیسے خرچ کرتے ہیں یا چندہ دیتے ہیں یہ کس کو دے خدا کو دیں یا رومن امپائر کو دے یہ سوال تھا کہ خدا کو دو تو ہم کہیں گے کہ یہ کی باغی حکومت کا حضرت عیسی نے جواب دیا جو خدا کا ہے خدا کو دو اور جو شخص چاہے وہ شخص جو کی سرکاری فیس بک کو دے دو اب اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ رت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے احکام کے میں 13 سال تک موت کے بعد آپ رہے ہیں ہیں اگرچہ وہاں پر کوئی اسٹوری گورنمنٹ نہیں تھی وہاں پر ہو یا قبائلی حکومت تھی جو کبھی نہ کہتا تھا اس کے مطابق کام چلتا تھا ان کے احکام اپنے ہوا کرتے تھے لیکن پھر بھی ہم کے میں جو بھی کبھی لیے حکومتی اس کی آپ نے پابندی کی بلکہ آپ نے یہ بھی اس کا ذکر آتا ہے عبداللہ بن جدعان اس نے دیکھا کہ لوگ مرتے ہیں سر پھٹول کرتے ہیں بدامنی پیدا ہو جاتی ہے اور دلوں کے اندر نفرت اور کدورت پیدا ہو رہی ہے تو اس نے پھر ایک تو ایسی تنظیم بنائی جس کا نام رکھا جاتا ہے حلف الفضول کہا جاتا ہے کہ یہ فضلنا میں جو ہے اس کے اندر دو تین آدمی تھے اس کی وجہ سے اس کا معاہدہ سمجھا جاتا ہے آپ نے اس میں کچھ لکھ کر ان کا معاملہ یہ تھا کہ ظالم کے ہاتھ احکام روپے گے اور امن و امان قائم کریں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے دور میں اپنے وقت کی جو حکومتیں اس وقت کی تھی اس کی پابندی کے باوجود اس کے کہ آپ نے بڑی تکلیف اٹھائی ہے ہوئے ہیں عوام پر کیا گیا خون آپ کا بنایا گیا لیکن تیرا ساتھ کمرے میں موجود ان تمام تکالیف کے ملک کو نہیں چھوڑا بلکہ یہاں تک آتا ہے کہ جب آپ کو مجبوراً کو چھوڑ کر ہجرت کر کے مدینہ جانا پڑا تو اس وقت کہتے ہیں کہ مدینہ مکہ سے باہر آپ نے کل کے لڑکے کی طرف منہ کر کے کھڑے درد کے نہ درد کے انداز میں آپ نے فرمایا کے کیسز میں تو مجھے بہت پیاری ہے لیکن کیا کروں کے رہنے والے مجھے رہنے نہیں دیتے آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے تو یہ وطن کی محبت ہے جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہے کہ  کہ سید میں اللہ تعالی نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور یہاں کے ہر شخص کو شروع ہوا جو شخص تمہارے مشکلات کو حل کرنے والا ہوں تمہاری تکلیف کو دور کرنے والا امن و امان قائم کرنے والا ہو تو یہ سب ایسی باتیں بحث کو میں زیادہ علم ہونا کرتا ہوا اس سلسلے میں بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے چند اقتباسات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوںرہے ہو تو تم خدا کا شکر ادا نہیں کیا حال ہیں اسی طرح آپ نے فرمایا تبلیغ رسالت میں کہ خدا تعالیٰ نے جس گورنمنٹ کے ماتحت پھینک کر دیا ہے اس کی فرمانبرداری کرنا ہمارا فرض ہے یہ امن و امان قائم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے اب دیکھیے انگریزی کی تعریف کی ہے نعوذ باللہ من ذالک گورنمنٹ انگریزی کے اپڈیٹ تھے اب بتائیے کہ جس سے گورنمنٹ نے ایسی ظالم حکومتوں سے ہمیں نجات دی جو کہ میں نماز پڑھنے دیتے تھے جو قرآن پڑھنے دیتے تھے اسلام کی تبلیغ نہیں کرنے دیتے تھے ایسے لوگوں سے نجات دے کے یہاں پر امن و امان قائم کیا اور مذہبی رواداری قائم کی اور اس کے ساتھ ہی مذہبی آزادی ہے ملی اس کا شکریہ ادا کرنے کا حق تھا اور آپ کو حق ادا کیا ہے یہ نہیں کیا آفرین ہے کہ ان کی حکومت کے ہمارے پاس جا رہے ہیں موجودہ دور میں کرونا کا بڑا کیڑا ہے ایسی صورت میں ہم نے حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح سے رہنمائی چاہی تو حضور نے فرمایا کہ وہاں کی گورنمنٹ جو تمہیں جو تمہیں ہدایت دی تھی اس کی مدد کرو اور اس کی پابندی عطا اللہ کے فضل سے زیادہ حکومت کی پابندی کر رہے ہیں دوبارہ آگے میں مختلف نوعیت کے قیدی تھے اس کے بعد پیش کرتا ہوں جماعت کے دوسرے خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں ہمارا اصل یہ ہے کہ جو حکومت جس ملک میں قائم ہو گئی ہو ہمیں اس کے ساتھ وفادار رہنا چاہئے اور اگر اس میں کچھ خرابی آ ہو تو اس کے ساتھ مل کر کر کے ذرائع سے ان کی اصلاح کی کوشش بھی چاہیے ہے بس ہم آپ کو کہیں گے کہ وہ اپنے ملک کی خیر خواہی کرے اگر ہمارا اصل دنیا میں قائم ہو جائے تو دنیا لڑ دنیا سے لڑائی بند ہوجائے تو امن و امان قائم کرنے کے لیے حکومت کی ذمہ داری بہت ضروری ہے ورنہ یہاں پر فساد شروع ہو جائے گا اور بات ہے کہ حکومت کے مخالف بن جاتے ہیں اس کی خاطر اس کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ بھی ہے کہ ان کی بات تو ایسی ہے جیسے ایک شخص سائیکل پر بیٹھا ہوا ہے اسی ڈھول کو کاٹ رہا ہے تو خود بھی کرے گا اور دوسروں کو بھی اس سے تکلیف ہو جائے گا اسی طرح فرماتے ہیں خلیفۃ المسیح الثانی کا حوالہ تھا  ہے اور فرماتے وفات حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے لے کر آج تک ہمارا یہی اصول رہا ہے کہ جو احمدی جس حکومت کے ماتحت تو اس کی فرمانبرداری کریں کہ وہ انگلستان کا احمدی ہوں کہ امریکہ کا احمدی ہوں ہر کسی کو احمدی ہوں ان کے رہنے والے احمدی انڈین یونین کی حکومت کی پوری پوری تابعداری کریں گے اسی طرح سے ہمارے اصول کے جو جرمنی میں ہم جماعت ہیں وہ جرمنی سوائے اس کے پابند ہیں جو یوکے میں رہنے والے ہیں وہ یوکے کی حکومت کے پابند ہیں اسی طرح سے ہر ملک میں جہاں جہاں بھی جماعت احمدیہ میں یہ قرآن مجید کی تعلیمات کے عین مطابق ہر حکومت کی پابندی کرتے ہیں ہر حکومت کی فرمانبرداری کرنا ان کا شیوہ ہے اور بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں جیسے کہ ہمارے ملک میں ہم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے ہمارے ملک کے دشمن ہیں حالانکہ احمد یوسفی پڑھا کر دنیا میں اپنے ملک کا وفادار اور کوئی شخص ہو نہیں سکتا ہے اس کی فرمابرداری نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ آپس میں خود لہولہان ہو رہے ہیں دست و گریبان ہو رہے ہیں کیوں کہ انہوں نے اس کو چھوڑ دیا ہے تو وہ اکثر مختصر یہ کہ اسلام نے امن و امان قائم رکھنے رہنے کے لئے یہ ہمیں تعلیم دی ہے ہے کہ اپنے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرو ان کے آرام کا خیال رکھو امن وامان بحال کرو اگر یہ قرآن مجید یہ بھی کہتا ہے کہ من قتل نفسا بغیر نفس کو قتل کرتا ہے تو یہ سمجھو کہ ایک آدمی کو اس وقت لکھی ہے بلکہ پوری انسانیت کا قتل ہےاس کے ساتھ امن کے ساتھ رہتے ہو وہ تمہارے ساتھ امن میں رہتا ہے کبھی پورے معاشرے میں امن قائم ہوگا چنانچہ آپ کی ایک حدیث ہے اس میں آپ فرماتے ہیں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید کی ہے کہ میں نے یہ سمجھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک پڑوسی دوسرے سے کے جو جائیداد ہے اس کے اندر جو ہے وہ راستہ حق نہ مانگنا شروع کر دے سکتا ہے اور یہاں تک کہ رسول اللہ نے فرمایا اگر تمہارا پڑوسی بھوکا ہے ایسی صورت میں تم کو اللہ تعالی پوچھے گا کہ میرا پڑوسی پڑوسی بیمار تھا تم نے اس کی تیمار داری نہیں کی ان کی روحیں نہیں کی تو یہ اللہ تعالی سے پوچھے گا گا احمدی کسی اسٹرایک پر کسی ایڈیشن میں شامل نہیں ہوگا اگر اپنے حقوق منوانے ہیں تو اس نیرنگ میں جو حضرت نے دیے ہیں ان کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کے سامنے اپنے مطالبات رکھو امن کے ساتھ رکھو لیکن یہ نہیں ہے کہ حضرت الکردی کس کا ہے آسان ہوتا ہے اس سے جماعت احمدیہ کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ حکومت وقت کی وفاداری کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ ہم ہم کسی اسٹرایک میجیشنز میں اس میں حصہ لیں کیونکہ اسے امن و امان بگڑ جاتا ہے اقتصادی لحاظ سے نقصانات ہوتے ہیں پھر مارکیٹ ہوتی ہے ابھی آپ دیکھیں گے کہ ہندوستان میں بھی بہت سی جگہ پر ڈی آئی جی آپریشنز ہوتے ہیں ابھی آپ دیکھیں گے کہ ایک قانون جو حضرات کا ہے وہ مرکزی حکومت کے پاس کیا اور اس کے بالمقابل صوبائی حکومتیں جو ہڑتال کر رہی ہیں پٹریوں پر بیٹھے ہوئے ہیں دن ہو گئے ہیں بلکہ بیس پچیس دن سے جو ہے گاڑیاں بند ہے جس کا نقصان ہے یہ سارا ریلوے کا نقصان ہورہا ہے ہوائی جہازوں کا تو پھر ان کے پاس پیسہ ہے وہ سفر کر سکتے ہیں عوام کا ہے پابند ہونے کے نتیجے میں عوام کو پریشانی ہے اور جو گورنمنٹ کی حامل ہوتی تھی ریل گاڑیوں سے وہ بھی بند ہوگئی یہ نقصان پہنچتا ہے بلکہ نقصان ہے تو ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام ہمیں یہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ امن و امان کے ساتھ رہو حکومت وقت کی پابندی کرو اپنے الامر کی اطاعت کرو اور اس کے ساتھ ساتھ تمہارے اندر انسانی ہمدردی سب سے زیادہ ہونی چاہیے اور کوئی ایسا کام تمہارے ہاتھ سے یا منہ سے یا پھر سے نہیں ہونا چاہیے کہ جس کے نتیجے میں کسی قسم کا کسی انسان کو نقصان پہنچے یا حکومت کو نقصان پہنچے یا ہمیں نقصان پہنچے ہمارے پڑوسیوں کو نقصان پہنچے تو یہ والی تعلیم ہے کہ جس کو اگر مدنظر رکھا جائے تو دنیا میں امن و امان قائم رہ سکتا ہے اور سب سے بڑی بات اس میں جیسا کہ ہمارے پیارے امام بھی ہر ملک میں جا کے امن کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عدل اور احسان کو ختم کرنا ہے اور پھر یہ کہ گواہی کو چھپانا نہیں ہے جو سچی بات ہے بیان کرو ورنہ جھوٹے گواہ پیش کر کے مقدمہ کے جیت بھی لیا تو اس کا کیا اثر ہوتا ہے پھر آپس میں دشمنی شروع ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی نے فرمایا شوکت ہمارے ساتھ فون پر موجود ہیں اسلام علیکم رحمت اللہ منصور صاحب جو نہایت تکلیف کا دور تھا بڑے صبر سے اپنے صحابہ کے ساتھ گزارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی نہیں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الہی ہجرت کرنی پڑی اس پر ذرا روشنی ڈالیں صاحب حضرت کے تعلق سے جواب کا سوال ہے وہ ہمارا پروگرام کا بھی حصہ ہے انشاء اللہ تعالیٰ پروگرام کے حصے میں جب اس سوال کی باری آئے گی تو اس موقع پر آپ کو اس کا تفصیلی جواب جو ہے وہ دے دیا جائے گا ایک اور ٹیلیفون کالز اس وقت ہمارے ساتھ ہے ماسٹر شوکت علی صاحب پاکستان سے اس وقت داخل ہونا ہی پڑے ہیں ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نعت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر کی جگہ ہے وہ مختلف مواقع پر مختلف بیان فرمائی ہے اس طرح کی بات میں آزاد ہوں شکریہ آپ کا سوال مل گیا ہے محترم مولانا محمد کریم صاحب سے درخواست کروں گا مکمل نہیں ہوئی تھی تب تک جہاں نشاندہی کی گئی مسیح موعود علیہ السلام نے ان جگہوں کا نام دیا گیا تھا کے طور پر حضرت موسی علیہ السلام کو جب خیریت سے اتارا گیا اور زخموں سے اپنے راستے بے ہوشی کا عالم طاری تھا ایسے وقت میں ان کا علاج معالجہ کرنے کے لیے جیسا کہ جن سے بھی ثابت ہے آپ کو روکنے میں رکھا گیا تھا اور اس کا نام بھی ایک اور مثال کے طور پر یاد کیا کرتے ہیں جو یروشلم میں اس لحاظ سے ان کا وہاں پر آتا ہے پھر ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا کہ وہاں پر بھی مسیح علیہ السلام کی خبر ہونے کا ثبوت با لوگوں نے پیش کیا تھا تو اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ جیسے لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ وہاں پر مسیح علیہ السلام کی خبر ہے اور آخر کار آپ کی تحقیق آگے مسیح ہندوستان میں جو آپ کے کتاب لکھی ہے اس میں آپ نے فرمایا آیا کہ آپ کی اصل جو ہے وہ میں موجود ہے اس واسطے قرآن مجید سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عید علیہ السلام کو اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ آپ اور آپ کی والدہ کو متنازع قرار ہے کہ ایسی جگہ پر اللہ تعالی نے ان کو پناہ دی جو چشم والی تھی اور اونچی جگہ پر تھی تو اس سے جو ہے ایک قرینہ ہے ملا پٹھان افغانستان کے جو لوگ ہیں اور کشمیر کے جو قبائل ہیں یہ ان دس قبائل سے تعلق رکھتے ہیں جن کو قابو کر بادشاہ نے جلاوطن وہاں سے کر دیا تھا یہ لوگ سفر کرتے کچھ ہو گئے افغانستان میں اور کچھ آباد ہوگئے کشمیر میں آکے چنانچہ ان کا رہن سہن کا کھانا پینا ان کے بول چال وغیرہ سب کچھ جو ہے آپ دیکھیں گے یہ بہت حد تک جو ہے وہ بنی اسرائیل کے ان دس قبائل کے حالات سے ملتے جلتے ہیں چنانچہ اس ضمن میں حضرت عیسی علیہ السلام کے لیے بھی یہ حکم تھا کہ لوگوں نے سوال کیا کہ آپ جو ہے وہ کیا ہے کے اللہ تعالی نے قرآن مجید پارہ نمبر 16 بنی اسرائیل تو انہوں نے کہا کہ میری اور بھی پڑے ہیں جن کا نہ میرے لئے ضروری ہے اور ان کا اشارہ اسی طرح تھا کہ جو دس قبائل بُک نظر بادشاہ نے یہاں سے جلا وطن کر دیے تھے ان کی طرف مجھے بھیجا گیا کیونکہ وہ بھی بنی اسرائیل کے قبائل تھے اور شواہد یہ بتاتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی تمام علامات ان کے اندر پائی جاتی ہیں یہاں پر بھی آئیں اور اس کے علاوہ بعض اعظم کی کتابوں میں اور دوسری کتابوں میں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ ان کاسوال ہے کہ جس طرح کہ وہ سب نے بھی تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ اسلام کی کیا تعلیمات ہیں تو میں آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ حکومتی قوانین کی پابندی اور اس کی پاسداری کے حوالے سے اسلام کی کیا تعلیمات ہیں یہ آپ کو بتائیں ہیں کہ قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے انسان کی قومی اور انفرادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے قیامت تک کے لیے تعلیمات پیش کی ہے ہے آج کے اس سوال کے حوالے سے دو باتیں بہت اہم ہیں اسلامی نقطہ نظر سے حکومت کے کیا فرائض ہیں دوسری یہ کہ عوام کو حکومت کی پابندی کس رنگ میں کرنی چاہیے اور اس کے قوانین کو کس طرح پورا کرنا چاہیے کے ساتھ مولانا صاحب نے یہ بتا دیا اسلام کے نزدیک حکومت جو ایک امانت ہے جن کے لیے حمایت کی جاتی ہے ان کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ امانت کا حق ادا کرتے چنانچہ جہاں قرآن مجید نے حکومت کا ذکر کیا اس کے ساتھ یہ بتا دیا کہ حاکموں کا اولین فرض یہ ہے کہ عدل اور انصاف کے ساتھ کام کرے چنانچہ سورہ نساء میں اللہ تعالی نے تفسیر کے ساتھ بتا دیا ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامانات الی اھلھا واضح حکم بین الناس ان تحکموا بالعدل لوگوں کو یہ بتایا کہ جب تم کسی کو منتخب کروا کے طور پر تو یہ دیکھو کہ وہ امید ہے کہ نہیں وہ امانت کے ساتھ اس کی کیا کوالٹی ہے نہ کہ روس کے ساتھ معاشرے میں اس کے کیا اثرات ہیں یا آج کا سوال ہے کہ حکومتی قوانین کی پاسداری کے حوالے سے بتا دیا کہ وہ لوگ جو کہ مسلمان ہیں ان کو بتایا الذین امنو اطیعواللہ و اطیعوالرسول و اولی الامر منکم تفسیر تفسیر کے ساتھ مولانا صاحب نے بتائی کہ اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت کے ساتھ ان دنوں میں بھی بہت ضروری ہے اور مسیح موعود علیہ السلام کا اعجاز ہے کہ ہمارے سامنے بیان کی دیگر مسلمان اس کو نہیں کرسکے مسلمانوں میں سے ایک طبقہ ایسا ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ اول الامر سے مراد اگر مسلمان حاکم ہو تو اس کی اطاعت کی جائے آئے اگر غیر مسلم ہو تو وہ کہتے ہیں اس کی اطاعت نہیں کرنی کہ یہ عقیدہ ہے اپنی ذات میں غلط ہو جاتا ہے دنیا کے حالات ہیں بہت سارے مسلم ممالک سے لوگ مسلمان یورپ اور امریکہ میں ہجرت کر تو اگر وہ اس عقیدہ کو ماننے اور ان کی اس بات کو مانے تو کیا وہ ان ممالک میں جانے کے بعد وہاں کے حکومت کے قوانین کے پابند نہیں کریں گے بلکہ وہ جا کے تو وہ زیادہ پابند ہو جاتے ہیں راستوں کے جو حقوق ہیں جن کے بارے میں دیگر ہے یا جو کچھ بھی وہاں کے قوانین اس کی بنائی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اولی الامر منکم سے مراد صرف مسلمان حاکم ہے غیر مسلم تھے وہ نہیں یہ غلط ہے امام زمان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وجہ سے میں نے عرض کیا وضاحت کے ساتھ تفسیر بیان کی ہے چنانچہ حضور کے الفاظ میں بیان فرماتے ہیں حضور اکرم پر بیان فرماتے ہیں قرآن میں حکم ہے اطیعواللہ و اطیعوالرسول و اولی الامر منکم کم اب غلام نہیں انگریزی تھی اس حوالے سے بھی ہے کہ غیر تو یہ اس کی آخری غلطی ہے گورمنٹ جو بات شریعت کے موافق کرتی ہے وہ ملک میں داخل ہے جو ہماری مخالفت نہیں کرتا وہ میں داخل ہے اسی طرح فرمایا پھر اشارت النص کے طور پر قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہیے یعنی صاف طور پر ظاہر ہے قرآن کریم سے بڑا واضح ہے کہ اشارہ اس آیت میں ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہیے وہ بنیادی بات ہے جو قرآن مجید نے ایک مسلمان کے سامنے رکھی ہے اور اس کو بتایا ہے کہ اس کو اپنے اطاعت کے معیار کو اتنا بلند کرنا ہے اور اتنا موٹا کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنی حکومت کے قوانین کی پابندی کرنے والا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے ہے کہ آپ مکہ میں رہےپیارے امام سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بار بار ساری دنیا میں مسلمانوں کو سمجھا رہے ہیں کہ اگر اس نے تعلیم کو اختیار کر لے تو اس کے نتیجے میں ملک کے اندر جو آج مسلم ممالک میں فساد آپ دیکھ رہے ہیں کہ عوام اپنے حکومت کے خلاف ہے راستے بند کیے جارہے ہیں ملٹی حمل ضائع کیا جارہا ہے اس کا خاتمہ اسی وقت ہے کہ جب ہم اس بات کو سمجھیں کہ الامر کی اطاعت کرنی حضور کے الفاظ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس لحاظ سے بھی جو حاکم ہے معاملات میں اطاعت ضروری ہے کسی بھی حکومتی معاملات چلانے کے لئے جو ملکی قانون بنائے ہوئے ہیں ان کی پابندی ضروری ہے آپ اس ملک میں رہ رہے ہیں یہاں کے قوانین کی پابندی ضروری ہے بشرطیکہ قوانین مذہب سے کھیلنے والے نہ ہوں اس سے براہ راست پہ لانے والے نہ ہو پھر اسی طرح آج یہ سنہری تعلیم جماعت احمدیہ کے علاوہ اور مسلمان ہیں وہ بھی اس کو چھوڑ چکے ہیں اور دیگر مذاہب کے بھی ہم جب دیکھتے ہیں تو وہ دیکھ ذرا سی کوئی بات ہو جائے حکومت کے خلاف کوئی بات ان کے اپنے منشا کے خلاف جو سمجھتے ہیں خیال رہے کہ حکومت نے غلط کر دیا تو راستے بند کر نہ جا دل لوٹ لینا اور فساد پھیلانا ایک عام بات ہوگی امام زمان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک احمدی کے لئے جو شرائط مقرر فرمائی اس میں ایک اہم آپ نے شرط رکھی کہ جھوٹ اور بد نظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا احمدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی عمل صحیح اور سچا احمدی بنے گا جب اس بات پر عمل بھی کر رہا ہوں غالب کے طریقوں سے بچتے ہوئے قوانین کی مکمل پابندی کر رہے ہو گا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا امن کے ساتھ رہو فتروں میں حصہ مطلوب اسے فکر پریشانی تمام مسلمانوں کو توفیق دے کہ جس ملک میں رہ رہے ہیں اسلامی تعلیم کے مطابق اس ملک کے قوانین کی پابندی کرنے والے جزاک اللہ تعالیٰ پروگرام کے اگلے سوال کی طرف جاتے ہیں محترم مولانا محمد کریم صاحب سے میرا یہ سوال ہے کہ جس طرح کے آپ نے بھی پہلے سوال کے جواب میں بتایا کہ اسلام وطن سے محبت کے حوالے سے مختلف تعلیم دیتا ہے اور ایک سچے مسلمان سے یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ وہ اپنے وطن کے ساتھ مخلصانہ محبت رکھے لیکن اس سے پیدا ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں بعض شرائط کے ساتھ اسلام ہجرت کی بھی اجازت جو ہے وہ دیتا ہے اور انبیائے کرام کی مثالیں موجود ہیں کہ وہ بھی اپنے وطن چھوڑ کر دوسرے وطن کی طرف ہجرت کر کے گئے ہیں تو وہ کیا شرائط ہیں جس کے تحت اسلام ہجرت کی اجازت دیتا ہے  ہے کہ جیسا کہ ابھی ذکر ہوتا رہا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا دعویٰ فرمایا ہے اور اس سے کام کیا ردعمل نہیں دیا چنانچہ احادیث میں ذکر آتا ہے ایک دفعہ آئے از وسلم خان صاحب نے اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو انہوں نے آتے ہی سوال کیا یارسول اللہ پاکستان سے اللہ فلا تعتدوھا یارسول اللہ اتنی مسائل اور مشکلات ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں کہ آپ اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے ہمارے لئے کہ وہ ان مصائب و مشکلات کو دور کر دے اور پھر یہ کہ اللہ تعالی سے دعا نہیں کرتے کہ یہ دور ہمارا ختم ہوجائے تو حلال ہے جو ٹیک لگائے بیٹھے تھے کے سیدھے بیٹھ گئے اور بڑے جلال کے ساتھ فرمایا کہ دیکھو تم لوگ جلدی کرتے ہو تم سے پہلے جو قومیں تھیں انہوں نے دین کو اختیار کرنے کے نتیجے میں ایسی تکالیف برداشت کیے کہ خود آ جاتا تھا اس کے اندر آدمی کو دیا جاتا اور مجھے اپنے دین سے برگشتہ نہیں ہوتا پھر یہ تھا کہ لوہے کی کیل لائی جاتی تھیں اور اس دین کو اختیار کرنے والے شخص کا گوشت اتنا نوازا جاتا کہ اس کی ہڈی اور اعصاب پر ظاہر ہوجاتے لیکن پھر بھی وہ دین سے نہیں ہوتے تھے لیکن تماور دکھایا تم کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ جب ظلم حد سے گزر جائے تو ایسی صورت میں پھر اللہ تعالی کی طرف سے ایک دن ہوتا ہے کہ تم اگر اس طرح کے عمل سے نہیں رہ سکتے تو پھر تمہارے لئے بہتر یہ ہے کہ کسی اور جگہ چلے جائیں جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ عرب کا اور ہر شخص جسے ایسی بھی کہتے ہیں یہ بھی کہتے ہیں وہاں کا بادشاہ بڑا ہی ہے اور وہ ایک بڑا خیال رکھنے والا ہے تم لوگوں کو ہجرت کر جاؤ چنانچہ پہلے قافلے میں گیارہ مرد اور عورتیں تھیں اس گیا ہے تو اچھی لیکن عام طور سے امن و امان ہوا تو دوسری طرف جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا کہ آپ ہجرت کر جاؤ تو اس وقت اللہ تعالی نے فرمایا کہ ہجرت کرنے کی کیا ضرورت ہے کیوں غلط کریں جیسا کہ ابھی ہمارے بھائی کے سوال بھی کیا تھا تھا کہ والذین ھاجرو فی اللہ من موہن سنگھ کی 41 میں آئے تھے تو ترجمہ اس کا یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالی کی خاطر ظلم کرنے کے بعد ہجرت اختیار کی ہے ان کو ہم ہیں دنیا میں بہترین جگہ عطا کریں گے تو یہ ایک بات تو یہ سامنے آگئی کہ جب ظلم حد سے گزر جائے ان کا رہنما پر مشکل ہوجائے تو ایسی صورت میں وہاں سے ہجرت کر جانا بہتر ہے الفت کریں بلکہ ہمارا یہ نہیں کہ ہم یہاں سے چلے جانا چاہیے دوسری آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا ان ربک الذی نہ ہو پھر اس کے بعد پھر عرب للزینہ لوگوں نے ہجرت کی ہے جبکہ ان کے ظلم و زیادتی اور ہر طرح کی تکلیف جو دی جاتی ہیں اس کے نتیجے میں پھر اگر تمہارا جینا وہاں پر مشکل ہو تو وہاں سے ہجرت کر گئے لیکن پھر بھی یہ حکم نہیں دیا کہ تم اس کے خلاف ڈٹ گیا بلکہ ہمیشہ معاہدوں کی پاسداری کی ہے اور جو قبائل کے قانون ہوتے تھے ان کی پاسداری کی ہے تو یہ وجوہات ہوتی ہیں کہ جب ظلم سے حد جب ظلم حد سے گزر جائے تو ایسی صورت میں جب تمہارا جینا ناممکن ہوجائے تو ایسی صورت میں تو یہی بات کرکے کسی اور جگہ جانا چاہیے جان تمہیں نصیب ہو اور اللہ تعالی نے ایک اور جگہ اس کا حال سورۃ النساء میں بھی اس کا ذکر کیا ہے کہ جو لوگ ہجرت کر کے جاتے ہیں اللہ تعالی ان کو بڑی وسعت عطا کرتا ہے تو پھر خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہے کسی صورت میں بھی حکومت کی مخالفت نہیں کرنی ہے داری کرنی ہے اگر تمہارا جینا مشکل ہو جائے تو ٹھیک ہے پر آسان ہے یا یہ کہ ہجرت کرنے کی ضرورت ہے وہ یہی ہے کہ ظلم ہو جاتی ہوں پھر تو فساد مچایا جا رہا تھا کہ ہمارے پڑوسی ملک میں ایسا ہوا اور پھر وہاں سے بہت سارے احمدیوں نے کوئی جرم نہیں چلے گی اب کوئی آئے چلا گیا کوئی اور نہیں اور ہماری قرآن مجید کے ذریعے ہے کہ پھر بھی حکومت وقت کی تم نے فرمانبرداری کرنی ہے نہیں کر سکتے تمہارے لئے عبادت کرنا مشکل ہو گیا ہے تمہارے لئے اپنے عقائد کو بیان کرنا مشکل ہوگیا تبلیغ کرنا مشکل ہو گیا ہے ایسی صورت میں پھر ہم نے مخالفت نہیں کرنی بلکہ وہاں سے ہجرت کر کے آتا ہوں میں محترم مجاہد مثبت سیاسی سے یہ پوچھنا چاہوں گا جیسے کہ ہم بات کر رہے ہیں کہ حکمران کی اطاعت ضروری ہے اور جو ملکی قوانین ہے اس کی پاسداری بھی ضروری ہے تو ایسی صورت میں اگر کسی کا کوئی انفرادی حقوق کا مطالبہ بالکل اختصار کے ساتھ اپنی بات کو سامنے رکھوں گا سب سے پہلی بات تو اسلام نے یہ کہا ہے کہ انسان کا جو حق حقوق مانگنے کا مطالبہ ہے اس کو تسلیم کیا ہے کہ کوئی بھی انسان اپنا حقوق جو ہے وہ مانگ سکتا ہے حکومت سے ہاں جو اس وقت مروجہ حقوق مانگنے کا طریقہ کار ہے یعنی معروف طریقے میں اگر اس کو کہا جائے کہ تشدد کا سہارا لیا جاتا ہے ملک کا نقصان ہو جاتا ہے ان طریقوں سے اسلام کا اختلاف ہے بنیادی چیز اسلام نے حق مانگنے کا جو حق ہے مطالبہ اس کو قبول کیا ہے ہاں جو طریقہ کار ہے اس سے اختلاف کیا ہے پھر وہ کیا طریقہ کار ہے اسلام نے پیش کیا ہے امام زمان سید نہ جائے جس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں جو ہمارے سامنے پیش کیا ہے وہ میں رکھنا ہوگا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سورہ النحل آیت کی تفسیر بیان فرمائی ہے اسلامی اصول کی فلاسفی میں اس کے اندر اللہ تعالی ایک عام ہے کہ ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتاء اس کے رشتہ داروں سے کرتے ہو پھر بتایا کہ منع کیا ہے اللہ تعالی بے حیائی کے ساتھ اور ناپسندیدہ باتوں سے اور بغاوت سے حضرت مسیح علیہ سلام روحانی خزائن اسلامی اصول کی فلاسفی میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ بغض کسے کہا جاتا ہے عربی زبان کا لفظ ہے اسلام کے الفاظ ہے حق کے واجب میں کمی رکھنے کو بغیر کہتے اور یا حق کے واجب سے افروز نی یعنی زیادتی کرنے کو بھی کہتے ایسا لفظ جو قرآن مجید نے استعمال کیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنے حق سے بڑھ جا رہے ہیں تو وہ ہے جو آپ کے حقوق ادا کرنے کی ذمہ داری اگر اس میں کمی کر رہے ہیں یعنی اس آیت میں یہ بتا دیا کہ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کلی طور پر جو اس کے ذمہ امانت سپرد کی گئی ہے وہ اس کا حق کی ادائیگی کرے کرے اگر وہ نہیں کر رہے ہیں وہ بھی بغاوت میں شامل ہو رہے ہیں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مطالبات کرنے کا اس کو حق ہے لیکن ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے حق تو مانگتے ہیں لیکن ان کے اوپر جو ان کے فرائض ہیں اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں یعنی وہ حق کے واجب ہے اس میں نظر نہیں ہوتے اور یہ صرف اعلان ہو رہا ہوتا ہے کہ قدم راہ پہ تھے اس نے مجھے دیا جائے پھر اس میں اور بھی سمجھ لے ہم کہتے ہیں سچائی کو سچائی کے میں نے جو بات ثابت شدہ مسلم ہوں نہ اس میں کمی کی جائے نہ ہی اس کی زیادتی کی جائے پس اگر ہم یہ مان لے کہ میرا حق مجھے دیا جائے تو پھر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں اپنے فرائض ادا کرنی پڑے گی مثلا ایک مثال دیتا کے بعد اور واضح ہو جائے اور منٹ کی طرف سے عائد ہوتی ہے کہ انکم ٹیکس دیا جائے اگر ایک شخص انکم ٹیکس کی چوری کرتا ہے تو وہ انکم ٹیکس کی چوری کر رہا ہے تو وہ دیگر لوگوں کے حقوق کو مار رہا ہے ہے کہاں سے انکم ٹیکس کے پیسوں سے وہ دیگر لوگوں کے اوپر وہ فلاح و بہبود کے کام ہونے تھے لہذا اس نے جہاں اپنے حق میں ادائیگی میں کمی کر دی وہ اس میں دوسروں نے بیان فرمائی وہ یہ تھی کہ اس کے مشہور حدیث ہے کہ حکمرانوں کو علم میں سے ہر ایک شخص کرائی ہے نگران ہے اور اس سے اپنے غیب کے بارے میں پوچھا جائے گا نہیں ہوتا کہ اگر حاکموں کی طرف سے حقوق نہیں دیے جا رہے ہو تو پھر کیا کیا جائے گا آج علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخاری کتاب الفتن کی حدیث کا ترجمہ ہے کہ تم میرے بعد دیکھو گے کہ تمہاری حق تلفی کر کے دوسروں کو ترجیح دی جارہی ہے نیز ایسی باتیں دیکھو گے جن کو تم برا سمجھو گے یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ پر ایسے وقت میں آپ کا کیا حکم ہے اس وقت کے حاکم ہاتھ سے نہ اور کسی طرح سے فصیح جماعت احمدیہ کا ایک اعزاز ہے کہ ماموں زبان کی تعلیم کو خلیفۃ المسیح کی رہنمائی میں آج ساری دنیا میں پیش کر رہی ہے اور آج اگر حقیقی امن قائم ہو کوئی کر سکتا ہے تو وہ یہی اسلامی تعلیم ہے جس پر مسلمانوں کو بھی بہترین طریقے پر اور صرف دل سے عمل پیرا ہونا چاہیے تھا لہٰذا آج کے پاس ورڈ کا آخری سوال ہے جو کہ محترم مولانا محمد نعمان صاحب شاہد سے کرنا چاہوں گا کہ جیسے کہ ابھی ہم نے بات کی کہ جب ظلم کی انتہا ہوتی ہے تو ہجرت بھی کر سکتے ہیں تو جب حاکم ظلم میں حد سے تجاوز کر جاتا ہے تو احادیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ انصر اخاک ظالما او مظلوما کا بھی ذکر ملتا ہے جو شرعی طور پر کیا اجازت حاصل ہے کس طرح انسان جو ہے اپنے رد عمل کا اظہار کر سکتا ہے اس کے بارے میں ہمارے ناظرین کو کچھ تفصیل بتائیں کہ اس فلم میں جو فرمائے ان سفاک اور ظالم اور مظلوم ہے اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے اس پر ظلم ہو رہا ہوں یا ظلم کرنے والا کوئی ظالم ہو یا مظلوم وہ دونوں کو جو حق کی مدد کرو ایک صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ مظلوم کی تو ہم مدد کر سکتے ہیں لیکن ظالم کی مدد ہم کیسے کریں گے ظالم تو خود ظلم کر رہا ہے تو نے فرمایا کہ ظلم کے ہاتھ کو دھو رہی ہیں جو ہے اس کی مدد ہے تو اس سلسلے میں اسلام کی تعلیم یہ قرآن مجید کی سورۃ الحجرات کی آیت 10 ہے جس میں اللہ تعالی نے واضح طور پر یہ بتایا ہے کہ وہ ان میں ترجمہ کر دیتا ہوں کہ اگر مسلمانوں کے دو فریق آپس میں جھگڑا کرکے لڑائی کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے ہم درجنگ ہو جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ فاصلے ہوئے دونوں کے درمیان صلح کروا دو ان کا حق بنتا ہے ظالم کی کوئی بھی سمجھا اور مظلوم کو بھی سمجھاؤ اور آگے فرمایا کہ مفاد عامہ الا اگر ایک شخص ایک تو مانتا کہ اچھا جی ٹھیک ہے انشاء اللہ کو راضی رکھتاہے میں نہیں رضی اللہ تعالی فرماتا ہے اگر کوئی نافرمانی کرتا ہے بغاوت اختیار کرتا ہے فقاتلوا التی تبغی جو نافرمانی کرکے وہاں پر آمادہ نہیں ہے اس کے ساتھ سارے مل کے دوسرے مسلمان جنگ کریگا اس کے طرف آ جائے تو گیا کہ جب تک کہ وہ لڑائی سے رک نہ جائے تب تک تمام مسلمان معاشرے کو حکمران کے خلاف جنگ کرو تو یہی وہ چیز ہے جو امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے ظالم کو ظالم کے ہاتھ سے روکنا ہے بہت بڑی چیز ہے چنانچہ آپ دیکھیں گے دنیا کے اندر جو لڑائی ہو رہی ہیں اس میں ظالم کا ساتھ دیا جاتا ہے اور یہ دیوانوں بنی ہوئی ہے ہماری یا لیگ آف نیشنز تھی وہ بھی فیل ہوگئی ہیں اسی وجہ سے بعض طاقتور کے پاس ویٹو پاور ہے اور بعض نے اس کی طرفداری کرکے اس کی حمایت کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کے نتیجے میں یہ سارا عمل برباد ہو جاتا ہے تو سوال یہ ہے کہ جو آئی سی یو این او ہمارے ہونی چاہیے کہ ظالم کو اس کے ظلم سے روکنے والی ہو نہ یہ کہ اس کی ہے اس کا ہاتھ روکنا یہی اس کی مدد ہے اور یہی منشا ہے آپ کا اور یہی ایسا سوال ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے اندر غریب ہوں سب کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے اور اگر کسی کے اندر بغاوت کا مادہ پایا جاتا ہے تو اس کو روکنے کا حکم دے دیا ہے قرآن مجید نے دیا ہے اور یہ ہے کہ جس نے بغاوت کا طریقہ کار کیا ہے فرمانے کا طریقہ کار کیا ہے اس کے خلاف سارے جتنے بھی معاشرے کے لوگ ہیں اس کے خلاف آجائے تو اس کو خود عقل آئے گیبولو کہ یہ نور جہاں خدا آباد باو کے لوگ تمہیں پتا تسلی بتایا ہے کہ یہ نور خدا کے بتایا ہےعمل کرتے ہیں تو ہم اپنے اس ملک کو بھی امن کا گہوارہ بنا سکتا ہے

 63 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: