Rah-e-Huda – Sadaqate Maseehe Maood pbuh




Rah-e-Huda – Sadaqate Maseehe Maood pbuh

راہ ھدیٰ ۔ صداقت مسیح موعودؑ

Rah-e-Huda | 29th August 2020

سےاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ناظرین کرام اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ جنرل سے ایک بار پھر پروگرام کس چیز کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں آج 29 اگست ہے ایم ٹی وی کے مطابق شام چار بجے ہیں اور یہ آج میں اس وقت شام 6 بجے ہیں ہیں اس سیریز کے پہلے پروگرام کے ساتھ ابھی صداقت میں پھر سے حاضر ہے ہمیشہ کی طرح ہمارا یہ پروگرام لائیو انگلیوں ہے اس لیے آپ ضرور ہم سے رابطہ کریں آپ ایسا کریں کہ مول جواب پیش کرنے کا ایک ذریعہ ہے ایک فون کے ذریعہ پیش کر سکتے ہیں یا پھر واٹس ایپ اور میسج کے ذریعے سے بھی ہمارے اس پروگرام میں ہمارے ساتھ شریک گفتگو ہوں گے ویڈیو لنک کے ذریعے سے مکر مشتاق احمد کمال صاحب اور اس طرح یہ اسٹوڈیو میں خاکسار کے ساتھ مکرم رحمت اللہ بندے سے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ قادیان وہ گناہ بستی ہے جہاں ایک وقت نہ کسی ریل کا آنا جانا تھا نا دیگر مواصلاتی ذرائع موجود تھے وہاں سے اس شخص کی آواز بلند ہوتی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے خدا تعالی اس چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود اور امام مہدی بنا کر بھیجا ہے ہے اور وہ سابق صدر محمد اسلم بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی تھے ہم آتے ہیں کہ میں وہی مہدی وہی معبود کے متعلق تمہارے بزرگ اکابرین علماء سلف صالحین اور سب سے بڑھ کر آقا دوجہاں حضرت محمد مصطفی صل وسلم نے خبر دی تھی کہ وہ شخص جب وہ آئے گا اسی کے لئے سے اسلام اپنی شکستہ حالت سے عصر نو زندہ ہو گا اسلام کو عالمگیر غلبہ نصیب ہوگا اور اس کے وجود کے ساتھ تمام امت سے میں جو بزرگ گزرے ہیں اور اسلام کا درد رکھنے والے ہیں انہوں نے تمام امیدوں وقت کی گئی تھی اسلام کے لیڈر اور مفکرین بارہ بارہ بارہ سو سال قبل بھی ایک رات ہو چکا ہے کہ موجودہ حالت میں جو زمانہ جس میں ہم گزرے ہیں جو حقیقی ایمان ہے وہ فوت ہو چکا ہے حقیقی مسلمان نہیں ملتا اسلام اپنی غربت سے اولیٰ میں واپس مبتلا ہو چکا ہے علامہ اقبال صاحب نے مسلمانوں کی حالت کا نقشہ یوں کھینچا وہ کہتے ہیں کہ غزہ میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو ہو نہ لائن پیشن گوئیوں کے مطابق اللہ تعالی کے فضل سے چودھویں صدی کے سر پر اسلام کی تائید میں آسمان سے یہ آواز مسیح آواز اٹھتی ہے کہ خدا تعالی نے اس وقت میں تھے کر دیا ہے اور اللہ تعالی کے فضل سے اس وقت جو سہی ہوئی تھی وہ والہانہ آسی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے شامل ہوئے اور باوجود سخت مخالفت کے یہ الہی سلسلہ پھیلنا شروع ہو گیا اور مسیح پاک کی حیات میں ہے یہ جو شامل ہیں جن کی تعداد تھی وہ چار لاکھ تک پہنچ چکی آج ہم جس کو قائم ہوئے ایک سو تیس سال کا وقت گزر چکا ہے حق کے مخالفین احمدیت کو قادیانیت کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں اسلام کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیتے ہیں اور عالم اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں اور ان سے سوال ہے کہ اگر آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ احمدیت کی راتوں کی نیندیں حرام ہوتی ہے آپ کو پاکستان اسلام سے یہ حقیقی درد ہے کیوں نہیں آپ خدا تعالی کے حضور جھک تھے اور خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرتے وہ خدا جس نے خود جھوٹے مدعیان نبوت کا ہے خود اٹھایا ہوا ہے اور پاک کلام میں اس بات کی ضمانت دی ہوئی ہے کہ جب کبھی کوئی ایسا شخص کھڑا ہوگا خدا تعالیٰ خود اس کا قلع قمع کرے گا اور اس کے جواب کا سلسلہ میں کام کرے گاسمجھتے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ جھوٹے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کو کیوں چھوڑ دے رہا ہے کہ جان بوجھ کر رہا ہے اور کیوں خدا تعالی سیکس کے بجائے ان کو فتح نصیب کر رہا ہے اور ناکامی کے بجائے ہر وقت ہر آنے والے دنوں میں مزید ترقیات نصیب کرتا ہے تو آپ نے تو اپنی پوری کوشش کر لیں جتنا زور سب لگا دیا ہے جتنا جھوٹ بولنا تھا آپ نے بول دیا ہے کیا کیا جھوٹ بھی آپ نے بولا بلکہ جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے دیا اور آپ کے اکابرین نے بھی پوری کوشش سے گالیاں بھی بتائیں کیا ہم بھی اس کو روک سکے ہیں احمدیت کے حقیقی غلبے کو تحریک کو روکنے کے بجائے یہ دیکھتے ہیں کہ پہلے سے زیادہ ترقی ہے ترقی کی منازل طے کرتی جا رہی ہے تو تو کیوں نہیں اہمیت کے ساتھ وہ شروع ہوا جو مسلمہ کذاب کے ساتھ وہ اس کی مثال مبارکباد دیتے ہیں ہم آپ کے سامنے ایک بہت آسان حل کرنا چاہتے ہیں پہلے بھی اس کو رکھا تھا وہ یہ ہے کہ ہم سب کا یہ متفقہ کی اور ایمان ہے کہ جب اسلام اس حالت زار کو پہنچ جائے گا تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اسلام کی فتح کے لیے اس کی اس کی نصرت کے لئے خدا کے مسیح ہوتا رہے گا آپ کے نزدیک وہ مسیح جو مرضی میں زکوٰۃ زندہ مانتے ہیں اور آسمان پر اس کا انتظار کر رہے ہیں خود دو ہزار سال سے آسمان پر ہے جب کہ آپ کے اکابرین کے بزرگ بھی خود بھی چودھری صدیق کے حوالے سے اس کی آمد کی خبر دے چکے ہیں اور آپ کے لئے سب کچھ موجود ہے تو چوتھی صدی کے بعد تقریبا سو سال گزر چکے ہیں آپ تو نہیں ہوئے بار بار اپنے گھر سے کے تحفظات دور آتے رہیں اور عامۃ المسلمین کو جھوٹ اور فریب کاریوں سے دور رکھنے کی کوشش کریں اور مقاصد اور مصالح لگائیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دعا کرتے کہ خدایا اس فتنے کو اس سے دور کرو اس مسئلہ کو نازل کر جمعہ میں پہلے بھی اس بات کا اعتراف کر چکی ہے اب بھی کہتی ہے کہ اگر آپ کے فرض فرض مسینجر بھی ہوتے ہیں تو ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہم تو ماننے والوں میں سے ہیں جن کو یہ بھی بتا دیں کہ اگر وہ ابھی گئے تو تب بھی آپ کو برا ماننے والے نہیں ہیں کیونکہ آپ کے سر فہرست میں نافرمانی اور نبوت کا انکار شامل ہو چکا ہے وہی سلوک وہی فطرت وحی دل آپ کا ہو چکا ہے جو اس میں جو اس نصیحت کے وقت کا تھا جنہوں نے اس وقت کے مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا تھا تھا احترام پر بات چیت کریں گے مزید آپ کے سوالات بھی لیں گے اس کے ساتھ ہی مکرم صاحب کے ساتھ کی طرف جانا چاہوں گا ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے اور آپ خود دیکھیں گے کہ تنازعات کی نوعیت کیا ہے وہ باتیں جو قرآن مجید کے عرفان سے تعلق رکھتی ہیں وہ باتیں جن کے متعلق وہ بزرگ اور صوفیاء میں گزرے ہیں بصیرت کے ساتھ وہ چیزیں دیکھنی ہیں اور وہ چیزیں پہنچا نہیں ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور وہ چیز بیان کرتے ہیں تو کس طرح مزہ کا فیس پر اس دعا کے ساتھ وہ باتیں اس طرح سے بیان کی جاتی ہیں کہ کوئی شریف انسان کسی محفل میں بھی نہیں اس کو بیان کر سکتا تو شعیب خان صاحب سے آپ سے گفتگو کرنا چاہے گا آپ سے جانا چاہے گا کہ السلام پر جو یہ اعتراض لگایا جاتا ہے اور ایک چیز کو غلط رنگ میں بیان کیا جاتا ہے کہ گویا الرحیم یہ ہے کہ یہ معاملات روحانی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں عام عوام عمومی طور پر ان سے واقف نہیں ہوتے لیکن جو علماء ہیں جو واقعات ہوتے ہیں وہ محض اپنی مخالفت کی وجہ سے عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنے کی بجائے ایسے انداز میں ان کے سامنے چیزیں پیش کرتے ہیں کہ وہ تمسخر اور ہنسی مذاق کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے اور جیسا کہ قرآن کریم میں باقی انبیاء کے بارے میں فرمایا گیا کہ تمام رسولوں کے ساتھ ہنسی اور مذاق کیا گیا آج بھی یہی سنت پر پوری کی جا رہی ہے یہاں تک کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنے آپ کو مریم قرار دینا اور پھر اس پیار اتنا مل کر بنا اور پھر ابن مریم قرار دینے کا تعلق ہے اگر قرآن اور حدیث سے غور کریں تو اس میں ذرا بھی نئی بات نہیں ہے بلکہ تمام باتیں وہی ہیں جو قرآن میں اللہ تعالی کی ذات بیان فرماتی ہے اور حدیث میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان فرماتے ہیں مثال کے طور پہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخاری کتاب التفسیر میں ہے کہ امام الدین جولاء 2019 چاہتا ہوں یا مصروف ہوں کہ جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے شیطان اس کو متاثر کرتا ہے جب وہ پیدا ہوتا ہے تو سارے کم من شیطان اور وہ شیطان کے مکر کرنے کی وجہ سے روکتا ہوا پیدا ہوتا ہے اللہ مری محبوب نہ اب سوائے مریم اور اس کے بیٹے نے ابن مریم کے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس کو ظاہری معنوں میں ہم ملیں گے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابنِ مریم علیہ السلام اور ابن مریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ باقی تو پھر سارے کے سارے ارے نصر شیطان سے پاک نہیں ہیں تو کیا نعوذ باللہ من ذالک انبیاء کرام کے بارے میں بھی یہی عقیدہ رکھیں گے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی ایک ادارہ قائم ہے ہرگز نہیں یہ عمل حضور صلی اللہ علیہ نے صرف اختیارات نہ مریم اور ابن مریم کا ذکر کیا ہے نہ کہ حقیقتا مثال کے طور پر اس کے مظاہرہ کرتے ہوئے77 بیان کرتے ہیں اس حدیث کی تشریح میں کہ اس سے مراد کی مریم اور ابن مریم سے مراد یہ ہے کہ کل من کان فی صفات اما کہ ہر وہ شخص جو مریم اور ابن مریم کے صفات اپنے اندر رکھتا ہے اس سے وہ مراد ہے کیونکہ پھر تمام انبیاء کے اندر بھی اس سے بات آتی ہے لہذا تمام انبیاء تمام صحابہ کرام اور اولیاء کو من شیطان سے پاک ہوتے ہیں اس لیے کہ وہ مریم اور ابن مریم کی اختیار تنگ طبیعت رکھتے ہیں اور اسی طرح سورہ تحریم میں اگر دیکھی یہ بہت تو شور مچاتے ہیں کہ مرزا صاحب کو سنائے عورتوں کے کی مثال دینے نہیں آتی بات یہ ہے کہ جو اللہ تعالی قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے جو خدا کی طرف سے آتا ہے وہ تو وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کا طریقہ وہی خدا کے رسول کا طریقہ ہوتا ہے اب سورہ مریم میں اللہ تعالی نے کافروں کی مثال بھی بیان فرمائی ہے اور مومنوں کی مثال بھی بیان فرمائی ہے لیکن سب کی مثال عورتوں کے ساتھ ہی دی ہے اس کی مثال بھی دو عورتوں سے بھی ہے یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی سے اور حضرت نوح علیہ السلام کے بیوی سے کہا پر ہوتے ہیں وہ ان کی طرح ہوتے ہیں کیونکہ ان کے گھر میں نبوت اللہ تعالی نے ان کو عطا کی تھی ایسا موقع عطا کیا تھا لیکن گھر میں نبوت ہونے کے باوجود اس کو قبول کرنے سے محروماللہ تعالی نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اس نے اللہ تعالی کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور خوف کا نعت من القانتین والقانتات نے فرمایا یہ بھی قابل غور ہے کہ وہ مرد عورت تھی لیکن جو کھانے پینے ہے وہ بھی اس عورت کی طرح ہی ہیں اب یہاں تو اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے کہ مطالعہ اگر کوئی مومن ہے تو وہ یا تو مریم ہے مریم کی فطرت اپنے اندر رکھتا ہے یا پھر ان کی بیوی کی اس وقت اپنے اندر رکھتا ہے اگر ان دونوں میں سے کوئی فتوحات یار اپنے اندر نہیں رکھتا تو یہ آیات بتا رہی ہیں وہ مومن ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ آئیں گے وہ نازل ہوں گے تو پھر اب سوال یہ ہے  ہے کہ کیا اسی طرح ناکام ہوں گے جس طرح کہا گیا ہے یا اس کے نازل ہونے سے مراد کچھ اور ہے اگر تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو پھر تو وہی نازل ہوں گے اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قران وحدیث سے ثابت ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ نازل نہیں ہوں گے تو پھر کون ہوگا اس لئے ایک میدان حضرت عیسی علیہ السلام دے چکے ہیں کہ اس سے پہلے یہودیوں میں یہ تسبیح مسلمانوں کے ساتھ ان میں بھی ایک نبی کے آنے کا عقیدہ تھا اور اب بھی ہے اور وہ بھی حضرت علی علیہ السلام اور اس کی وضاحت خود حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ ایلیا جو آنے والا تھا وہ نہیں ہے یعنی وہ ایلیا کے نام پر آنا تھا نہ کہ لیا نے خود آنا تھا تو یہاں حضرت عیسی علیہ السلام نے خود وضاحت کر دیں کہ کسی کے آنے سے مراد کیا ہوتا ہے اسی طرح اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود نہیں آئیں گے بلکہ ایسی امت میں سے کسی کو ابن مریم بنایا جائے گا اب جیسا کہ میں نے عرض کیا کس سورت تحریم میں اللہ تعالی بیان فرمایا ہے کہ مومن دو ہی قسم کے ہوتے ہیں یا تو وہ فرعون کی بیوی کی طرح ہیں اس طرح دن یا اس طرح بند کمرے میں ہاتھ رکھتے ہیں اب مومنوں میں سے ہیں اللہ نے کسی کو ابن مریم بنانا ہے یہ ذمہ داری سونپی ہے ابن مریم بنا کے وہ اسلام کی تبلیغ کرے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وسلم کے دین کو آگے پھیلائے تو ان دو مومنوں میں سے آپ خود غور کریں کون سا مومن ہونا چاہیے یا پھر ان کی بیوی یا مریم ان پر سی بات ہے کہ اگر ابن مریم بنانا ہے تو پھر مری میں رکھنے والا مومن نہیں بن سکتا ہے اس کی اور بھی وجوہات ہیں اپنے تخیّل میں نہیں جاتا تو یہاں اب اللہ تعالی نے ایک ذمہ داری دینی تھی یہ قیامت کے ایک بندے کی بندے کو جس نے ابن مریم بنا تھا تھا اور آنحضور صلی اللہ کے دین کی اشاعت کرنی تھی اب ذمہ داری کو کیا کہتے ہیں جو عمل کا لفظ استعمال کیا کرنسی الاسلام نے تو حمل کہتے ہیں بوجھ کو مضبوط ظاہری موت بھی ہوسکتا ہے بہت ذمہ داری کا بوجھ بھی ہوتا ہے قرآن کریم میں سورہ بقرہ کی آخری آیات دیکھیں اس نے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ دعا کے جاتا ہے کہ ربنا ولا تحمل علینا اصرا کما حملتہ علی الذین من قبلی نا یہ ایک خدا ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈالنا یعنی ایسی ذمہ داری نہ ڈالنا جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں کے پردے ڈالے اور پھر آگے چل کے پھر فرمایا ربا نہ ملا تو ملنا مالا طاقۃ لنا بہ یہ ایک خدا ہمارے اوپر وہ ذمہ داری نہ ڈالنا جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے وہ ملک سے مراد ذمہ داری کا اٹھانا بھی ہے قرآن کریم سے یہ ظاہر ہو رہا ہے اور روحانیاس کے بعد وہ ابن مریم کو جائے گا وہی ابن مریم کہلائے گا اگر آپ یہی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب میں بیان فرمائی ہے کہ میں مدد سے ابن مریم کی حالت میں تھا تو سے تعلق رکھتا تھا جو مریمی حالت کے مہمان ہوتے ہیں اور پھر اللہ تعالی نے میرے اوپر یہ ذمہ داری ڈالی اور ذمہ داری پھر آہستہ آہستہ آہستہ کا امن خواب دکھاتے رہتے ہیں کچھ یہاں قریب الحق ملنے کا حصہ بنتا ہے اس کو حضور نے اس طرح فرمایا کہ یہ عمل کی وجہ سے ہوتی ہے گویا اس کے بعد پھر مجھے ابن مریم بلاول بھٹو یا آصف قمری مہینے ہفتے میں ابن مریم کا بچہ دیا اب یہ صرف سمجھانے کے لیے حضرت نوح علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ اختیارات تنگ میں مریم بنا یہ قرآن سے ثابت ہے ہر مومن مریم ہے اگر نہیں تو پھر اللہ نے کرنی تھی اس کے اوپر ذمّہ داری ڈالی تھی اس پر عمل دار نہ تھا اس نے مریم بنانا تھا تو اس طرح فرمایا کہ مجھے ہی جیسے آپ مجھے بھی اللہ تعالی نے یہ ذمہ داری ڈالی روحانی طور پر اس پیارا تنگ تو مجھے ہیں خدا تعالیٰ نے اس امت میں اتنے مریم بنا دیا کہ اس کو جو قرآن کا ایک بعد قرآن کی تعلیم ہے اس کو خدا تعالیٰ نے اگر بالکل اسی طرح کر کے دکھایا ہے اس کے ساتھ سمجھ کر کرنا یہ مناسب نہیں ہے اس سے پہلے کوئی اور لوگ بھی اس چیز کو سمجھتے تھے میں صرف ایک حوالہ آپ کی خدمت میں پیش کروں گا اس کراچی سے ایک کتاب چھپی ہے اس کا نام ہے عرفان اور اس کے لکھنے والے ہیں سلطان الفقراء فقیر محمد سروری قادری کلاچی صاحب اس کے بارے میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود میں حکم اسم اللہ ذات نے پھولوں کا کاروبار شروع کیا اور اپنے اپنے اندر نزول بہی کے آثار محسوس کئے یعنی حضرت مریم کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے باطن میں حملے بہی کی بے واسطہ سے کال کو معلوم کیا اب یہ الفاظ وارد فرما لیجئے مولانا فقیر محمد صاحب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھ رہے ہیں جو علماء حضرت مسیح علیہ السلام کے اوپر تمسخر کرتے ہیں نہ وہ یہ الفاظ سن لیں پڑھ لیں اور اس کے بعد پھر جو مرضی کہتے رہے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ یعنی مریم کی طرح آپ صلی اللہ وسلم نے اپنے باطن میں حملے بھی کی بیوہ عورت کو معلوم کیا اور بمقتضائے تاہم ان کا کہنا نہیں مانتی ہے یہ آیت قرآن کریم کی حضرت مریم علیہ السلام کے بارے میں اس کو عمل ہوا پھر وہ اس کو لے کے ایک دور کے مقام پر چلی گئی تو یہ اس آیت کے لکھنے کے بعد ملتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشت و بیابان کا رخ کیا اور آبادی سے دور ایک پہاڑ کے غار میں جسے گارے ہیرا کہتے ہیں جاکر محقق اور گوشہ نشین ہوئے اور بعد میں تو ہم کے سیکھنے اور پھوٹنے اور روحانی ایسی کے بدلے حمل عورت ولد ہونے کے انتظار میں بار بار بار بار بار بار کرتے تھے کہ میں دوبارہ پڑھ دیتا ہوں کہ ایک پہاڑ کے غار میں جس طرح کہتے ہیں جاکر موت کے اور گوشہ نشین ہوئے اور باطنی زخم کے چنے اور پھوٹنے اور روحانی ایسی کے وضع حمل اور دبلا ہونے کے اطباء کو پڑھیں اور پھر سوچیں کہ کیا یہ باقی درست ہے یا نہیں ہے حقیقت میں یہ ہے باقی ہے یہ ہے کہ آپ پر آنے کے لئے مریم اور ابن مریم کو اس طرح کے طور پر یوز کر رہا ہے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں جو میں نے ابھی آپ کے سامنے پیش کی ہے اس میں مریم اور ابن مریم کو اس طرح تنقید کر رہے ہیں سائیکل رکشہ کے تبدیل کر کے اندر اس کی تشریح یہ ہے کہ اس سے مراد ظاہری طور پر مریم نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو مریم ابن مریم کے صفات اپنے اندر رکھتا ہے وہ مراد ہے تو جب قرآن بھی یہ مراد لیتا ہے پیار حدیث میں بھی اتنی ہی مراد ہے اور بزرگان بھی بات جو ہیں وہ یہی مراد لے رہے ہیں تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ میں قرآن اور حدیث کو اس طرح کرنا چاہیے جس کا اللہ ہمیں پکارتا ہے پھر جب بہت بہت شکریہ جزاک اللہ اب اس میں بہت سی بات ہے قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مختلف درجات کا ذکر کیا ہے یہاں پر ایک درجہ ہے پھر ایسا کبھی درجہ ہے اور جس تک حضرت علی علیہ سلام پہنچے ہیں یہ ساری کل ہمیں اور جیسا آپ نے بہت اچھا ہمیں بتایا کہ اس حوالے سے یہ کوئی نیا عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ جو تصویر ہے یہ پہلے بھی امت میں بزرگ و بصیرت رکھنے والے ہیں گزرے ہیں ان میں بھی یہ درجات بیان کیے ہوئے مرزا صاحب کے بیان کرتے ہیں مخالفین پر یہ باتوں کو لے کر پھر اشتعال دلاتے ہیں لوگ گناہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں آپ تک پہنچ رہے ہیں ان صاحب کا سوال آیا ہے عبد الرشید صاحب ابھی ہم سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں ریاض احمد صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں لیکن ان سب سے پہلے ہم ڈاکٹر مظفر صاحب کو لیتے ہیں جو سب سے دور پاکستان سے معاہدہ یا رابطہ پیش کرنا چاہتے ہیں جو ڈاکٹر صاحب سلام علیکم و رحمۃ اللہ و سلام پڑھنے کی بجائے کافی نہیں کہ قرآن کریم پڑھنے اور نبی کریم صل وسلم کی حدیث پر عمل پیرا ہوں اور ہم مطلب اور کسی طرف نہ جائیں آپ کے سفر کو بھی لے لیتے ہیں تو مقرر صاحب آپ نے سن لیا ہے تو بتا دیں جزاک اللہ ڈاکٹر صاحب بات یہ ہے کہ اگر تو ہم نے اپنا مذہب خود بنانا ہو تو پھر تو میں اختیار ہے کہ جس چیز کو ہم چاہیں لے لیں جس چیز کو چاہے نحن اللہ کے رسول نے اللہ نے بتایا ہے وہ ہے کہ اتاکم رسول فخذوہ ہو جو اللہ کا رسول تمہیں بتلائے اس کو لینا ہے جس سے منع کرے اس سے منع ہے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس کے کہ الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی دین مکمل ہو گیا مکمل ہوگئی اس کے باوجود ایک آنے والے مسیح نبیلہ کی خبر دیتے ہیں تو ہم کون ہوتے ہیں ہم نے اس کو نہیں لینا اگر یہ کہا جائے کہ قرآن کریم ہمارے پاس موجود ہے اللہ کے رسول کا اسوہ ہمارے پاس موجود ہے تو ہمیں فرقہ بازی میں پڑنے کی ضرورت ہے جیسی موت کو ماننے یا نہ ماننے کی کیا ضرورت ہے یہی سوال اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور بعض علی رضی اللہ عنہ کے خلافت میں قرآن نے اس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے نبی کا کلام ہمارے پاس موجود ہے اللہ کا کلام کریں ہمارے پاس موجود ہے تو جسصالح میں نواب صدیق حسن خان صاحب کی کتاب ہے جو عقلمند انہوں نے کہا اس نے بغیر تحقیق حدیث لکھی ہے کہ جس نے آنے والے امام مہدی کا انکار کیا تو وہ اس نے کفر کیا ہے اسی طرح جناب المدینہ میں بھی لکھا ہے کہ آنے والے امام مہدی کو ماننا ضروری ہے اور سارے مسلمان اس بات کو مانتے ہیں تو آجائے اسلام احمدیت کے بارے میں غور و فکر کرنے کے اپنے آپ کو بچانے کے لیے یہ پہلو نکالنا کہ میں کیا سوچنے کی یہ بات سنی ہے جو اللہ کے رسول کے اس کو لینا ضروری ہے جس بات سے منع کرے اس سے ملنا بھی ضروری ہے پر یہ عبد السلام علیکم کیسے ہیں اور حضور کی خدمت میں محفل پروگرام سوال یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ میری طرف سے جو بھی سو جاتا ہے اس کے ساتھ سلوک کیا اور مذاق کرتے ہیں کیا یہ کسی چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے آپ تک یہ سوال پوچھ چکے ہیں اس حوالے سے ہمیں بتا دیں جہاں تک اس کا تعلق ہے قرآن کریم سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے جیسا کہ ابھی ہمارے محترم بزرگ نے یہ آیت پڑھی ہے اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ جو سچا نبی ہے اس کے ساتھ دوبارہ آل ہنسی مذاق میں مذکور اس کی مخالفت ہوتی ہے جو جھوٹا ہے اس کے لیے لازمی نہیں ہو سکتی ہے اور نہیں بھی ہوسکتی لیکن قرآن کریم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جو بھی حصہ ہے کیونکہ قرآن کریم بیان فرمایا حضرت العباد ما یاتیھم من رسول اللہ کا نام بھی آتا ہے ہائے افسوس ہے لوگوں پر ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر یہ اس سے تمسخر کرتے ہیں دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ غزالی کالج النبیین ادبن نے کہ ہر نبی کے سامنے دشمن بنائے شیطانوں میں تھے کہ نہیں جو جنّوں اور انسانوں میں سے جو بھی شیطان کی قسم کے لوگ تھے وہ ان کو اپنے دشمن بنایا اب ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سچے نبی کی مخالفت بہرحال ہوتی ہے اس کے ساتھ مذکر مونث مذکر حقیقی اور ٹھنڈا ہوتا ہے جہاں جھوٹ نبی کا معاملہ تو یہ جھوٹے نبی کے ساتھ ہو سکتا ہے تم سید بھی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مذکور نہ ہو اس لئے کہ بعض اوقات تو جھوٹے نبی آتے ہیں وہ باقاعدہ پوری تیاری کے ساتھ صابرہ گرو نے کیا کرتے ہیں مثال کے طور پہ مسلمہ کذاب نے جب دعویٰ کیا ہے تو اس کے کے ساتھ پورا گروہ تھا پوری جماعت کے اس کے ساتھ اور اس کے بارے میں یہ نہیں آتا کہ کبھی اس نے ہمیں کم از کم علم نہیں ہے کہ اس کے ساتھ مذکورہ اسی اکٹھا کیا گیا ہو اس کی اس کے ساتھ جنگ پھر وہی لڑائی ہوئی ہے جس میں بعد میں وہ ہلاک ہوگیا اور تباہ و برباد ہو گیا جوتے کی جو نشانی ہے وہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جھوٹا کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتا تھا یہ قرآن کریم سے فرار ثابت ہوتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں حضرت موسی کے زمانے میں بھی فرمایا کہ دور سے چھپا ہوا آیا اور اس نے یہی کہا کہ تم ایک آدمی کو کیوں اس لیے قتل کرتے ہو مرنا چاہتے ہو کہ وہ صرف ہر بندہ کہہ رہا ہے اور صادق فعال ہیں اور اگر یہ جھوٹ ہے تو اس کا جواب مل جائے گا کامیاب نہیں ہوگا تباہ و برباد ہو جائے گا لیکن اگر یہ سچ ہے توکو ایک بہت بڑی ایک بار کی اہمیت کے خلاف کے گویا وہ ختم نبوت کے خلاف میں اس کو مانتے نہیں تو مجبور ہو جائیں گے وہ لفظ کو استعمال کریں تو یہ بات بار بار اٹھا کر رہا ہے اور اس کے مقام کے بارے میں اور آپ بھی ختم نبوت کے بارے میں وہ کیا ہے طارق صاحب کا تعلق قرارداد مختلف اسمبلیوں سے پاکستان میں بارش ہوئی ہے ان میں لکھا ہے کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھا جا پکارا جائے تو اس کے ساتھ خاتمننبین جائے پر اگر کسی قرارداد کو پاکستان کے پندرہ منٹ کر دیا جائے تو یہ ممکن ہی نہیں جس کی وجہ سے پہلی بار دیکھیں قرآن کریم میں حضور صلی  وسلم کا نام لیکر محمد کلمہ چار دفعہ آیا ہے صرف ایک جگہ اللہ کریم صلی وسلم کے ساتھ خاتم النبیین کا لقب ملا ہے باقی کسی جگہ رقم نہیں ہے جو پاکستان سے نیا گانا کلپ ڈیش ہوگا تو ہر جگہ وہ خاتم النبیین کو ایڈ کریں گے کریں گے کریں گے تو سارے مسلمان جانتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے لیے کلمہ جو اب تک معروف چلا رہا ہے حقیقت پر مبنی ہے وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا انداز سے پاکستان میں کسی کو مسلمان کرنا ہو تو نعوذباللہ میں یہ تصور کریں گے کہ پاکستان کے علماء کو مولویوں کو حکومت کو زیادہ پتا چل گیا کہ سچا مسلمان کیسے کرنا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح پتا نہیں تھا کہ مسلمان کیسے کرنے حضور نے فرمایا تھا کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنے والا مسلمان کے لیے تو میں نے یہ کہا جائے گا کہ لاالہ اللہ محمد خاتم نبی اور رسول اللہ کا درس نہیں ہے اس کو پبلک کرنا ممکن نہیں ہے باقی جہاں تک اس بات کا تعلق ہے شاید اس قانون کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ سبل ختم نبوت کے منکر ہیں یہ بات سو فیصد جھوٹ ہے جس کو پنجابی میں کہتے چپ ہم تو اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کے پاس تصنیفات موجود ہیں آپ کے اشتہارات موجود ہیں مکتوبات موجود ہیں خواجہ موجود ہیں خلفاء کے تحریری اقتباسات موجود ہیں ہزارھا صفحات موجود ہیں تو ہمارا تو چیلنج ہے کہ کسی ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ان کا ہو کہ ہم حال دل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم نبی نہیں مانتے تو پھر کام پہ اعتراض بنتا ہے ہمارا تو آداب ہیں جیسا کہ ہم حقیقی طور پر خاتمنبین حضور صلی اللہ وسلم فرماتے ہیں ہیں اور جو انسان ہمیں اللہ تعالی نے مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی طرف سے دیا ہے وہ ان کو غیروں کو تو کچھ ہے یہ اس لیے اس کا موقع کی مناسبت سے میسج از مسیح موعود علیہ السلام کے دو دن اقتباسات پڑھ کے ساتھ رہتا ہوں تاکہ بانی جماعت احمدیہ کے اپنے الفاظ میں پتہ چل جائے کہ آپ کو سمجھنے والے تھے بے شمار ہیں آپ کی کتاب تک اخبار لاہور میں ایک ہندو کا خط شائع ہوا اس میں بھی ہے مثال کے طور پر شیخ الاسلام نے اپنے خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیا کی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم فضلو توفیق باری تعالیٰ اس عالمی بحران سے کچھ کریں گے یہ ہیں کہ حضرت سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم نبین ہے وہ خیرالمرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہوچکااب بہتر جانتا ہے ادھر صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ عرفان صاحب سے جام پلایا گیا ہے خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی کر ہی نہیں سکتا جو تم لوگوں کے چشمہ سے سیراب ہوتے ہیں حضور کی بہن کو جو خط علیہ السلام کا اخبار عام لاہور میں شائع ہوا اس میں بھی حضور نے ختم نبوت کے بارے میں اپنا عقیدہ واضح لکھا جان حضور کی وفات والدین جو آخری تحریر ہے اس میں فرماتے ہیں یہ جو الزام میرے سر پر لگایا جاتا ہے کہ گویا میسج نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس نے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر آپ نے ایسا بھی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ محاورہ الحکم لابن عطاء ہو اور شریعت اسلام کو منسوب کی طرح کا دیتا ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مطابق سے باہر جاتا ہوں یہ الزام صحیح نہیں نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے اور جس دن آپ کے لاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے کلام سے مشرف ہو میرے ساتھ بکثرت بولتا ہوں کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سے غیب کی باتیں میرے پاس آکر کرتا ہے وہ آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیات کا قرض نہ ہو دوسرے پر وہ اصرار نہیں کھولتا اور انہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرے نام نبی رکھا ہے تو بہت واضح طور پر سامنے اپنا جو بیوقوف ہے اور ختم نبوت کے حوالے سے دوسرا جو اپنے اپنے بارے میں فرمایا کہ مجھے میرا نام بھی لگتا ہے اس میں جو مخالفین ہے وہ تو یہاں پر آتا ہے نہیں تو کسی نبی کی ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ جو ان کے اپنے علماء ہیں وہ مہینہ جس کا رنگ کیا ہے احادیث ہے اس بارے میں بھی آپ کو سینڈ کر دیں تاکہ یہ باتیں صرف ایک ٹیم میں بیان کر دیتا ہوں جہاں تک آنے والے مسیح کے مقام نبی اللہ ہونے کا تعلق ہے ہمارا اور غیر احمدیوں کو کوئی اختلاف نہیں ہے غیر مقلدین کہتے ہیں کہ مسیح نبی اللہ نے خادم اسلام کے طور پر آنا ہے ہم بھی کہتے ہیں نبی اللہ علیہ السلام کے طور پر انہیں بھی ہے وہ آسمان پر ہیں انہوں نے واپس آنا ہم کہتے ہیں کہ ان کا حصہ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں ایک فرد کو خدا نے مسیح کا نام لینا تھا اور اللہ کے رسول نے اس کا نام نبیلا میں رکھا ہے  ہے جس طرح پہلے بھی ایک دوست نے سوال کیا تھا کہ آنے والے ہمیں مارنے کی کیا ضرورت ہے کہ جب قرآن موجود حدیث موجود ہیں تو میں بہترین والے آپ کو پڑھ لیتا ہوں تاکہ پتہ لگ جائے کہ ہم نہیں کہتے بلکہ اللہ کے رسول کہتا ہے کہ آنے والا ہیں جو ہے وہ نبی اللہ ہے ہماری کیا مجال کہ اللہ کے نبی تو کرے وہ آنے والا نبی اللہ ہم نے اس کو مانتے ہیں حدیث کی مشہور کتاب ہے صحیح مسلم اس نے کتاب کتاب کا نام ہے کتاب الفتن باب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے دجال کے بالمقابل جس بندے کے ظہور کی خبر دی ہے اس کا نام نبی اللہ رکھا ہے چار دفعہ اللہ کا صرف ایک دفعہ کہ تمہارے لیے کافی ہے کہ اس نے چار دفعہ خراب ہو جائیں اس اور اس کے ساتھ کو گھیر لیا جائے گا صحابہ والا معاملہ ہوتا ہے میں فی الکعبہ اللہ من اصحابہ معصومہ انورامت کی خبر حضرت موسی علیہ السلام کے سامنے اللہ تعالی نے پیش کی مشہور کتاب خصائص الکبری علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر جب اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کے ساتھ بیان کی موسی علیہ السلام نے اظہار کیا گیا خدا مجھے اس امت کا نبی بنا دے علیہ السلام علیک یا اللہ مجھے حافظ قرآن بنا دے اللہ تعالیٰ جوان بیوہ امن ہے کہ اس امت کا نبی اسی میں سے ہوگا ہر مسلمان پر فرض ہے اس امت کا نبی نہیں بن سکتا ہے تو کم از کم اس امت کا جواب دے اندر نے وہ بات پہلے ہو چکے ہیں تمہاری زبان تمہارا الجلالین جنت میں آپس میں جمع ہو سکتے ہیں صرف ہم نہیں بلکہ جو علمائے سلف ہے جس طرح آپ نے ابھی تک کیا یہ بھی اس بات کا اقرار کرتے رہے ہیں کہ آنے والا مسئلہ ہوگا مثال کے طور پر خود مختیار لکھا ہے کہ آنے والا ہوں انبیاء کے آنے والا بلا شک و شبہ نبی ہوگی علیہ السلام ہمارے اکثر مخالفین جو بڑھاپے اعتراضات کرتے ہیں وہ دیوبندی فرقہ سے بلو تعلق رکھتے ہیں جو بندیوں کے حکیم الامت کے علاقے اشرف علی تھانوی انہوں نے وہیں ایک سربراہ کی روایت پیش کی نظر تیز کرنا بھی الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے ایک کتاب لکھی اس نے اس روایت کو نقل کیا ہے اس کی آس نہ بنا دیا اللہ نے اس مت کرنا بھی اسی میں سے ہوگا اسی طرح ہمارے ایک اور بڑا مخالف فرقہ اہل تشیع و اہل حدیث کو کہتے ہیں وہ صدیق صاحب کا وہ تیرے صدیقہ مسجد بھی کہتے ہیں ان کا بھی یہی قول ہے کہ آنے والا ہر انسان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ نکاح میں سب نبوت کی خلافت کا فرق ماسرہ بہ صوتی نبوت حیات آباد فاتحہ جو شخص سنتا ہے وہ بول سے علیحدہ ہوکر آئینگے وہ کھلا کافر ہے جیسا کہ نام سے کی ہے نصیب 12 النبی ہے جس نے اس قسم کے مسائل پیدا کرنے ہیں ان سے اپنے کلام میں جو کلام ان کے الفاظ محفوظ رکھے ہیں وہ بڑے ہی علیہ السلام نے کہا تھا کہ بات جعلنی نبیا من اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے اللہ تعالیٰ مجھے مبارک بنایا جہاں کہیں بھی ہوں تب بھی مثال کے طور پر نامزد وزیر اعظم ہوگا تو اسٹیٹس نبی کا برقرار رہے گا یہ کا صدر کون ہیں آتا ہے نبی رہتا ہے اللہ کے سونے کا مسئلہ بنا وہ مسیح نبی اللہ کے ہم قائل ہیں حسین رضی اللہ کے بارے میں کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں آج کے لیے اس اسلامی حکومت کے لئے شرط لگائی ہے کہ اللہ کی تلوار کرنے والا ہوں اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کریں تو انبیاء سے دھوکا صالحین میں سے مرتب ہو سکتے ہیں بالکل ٹھیک رہنے سے بہت شکریہ ہمارے مخالفین جتنی مرضی توجیہات کر لیں ان کی موجودگی میں وہ ہرگز اس بات کا انکار نہیں کرسکتے کہ آنے والا جو مسئلہ ہوگا نبی اللہ ہو گا ایک چھوٹی سی دلچسپ باتیں آپ سے شیئر کر لیا آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب ہم حوالہ دیتے ہیں کہ آپ کے بزرگوں نے نبی اللہ یعنی کیا تعریف کی ہے اور آنے والے مسیح کا کیا مقام ہوگا تو اس حوالے سے بہت سے ایسے عالم دین ملتی ہیں جو خود بھی یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ جو آپ نے بیان کی ہے مثلا اساتذہ کا عالمی دن ہے حضرت عربی کے حوالے کے وقت مجھے بہت ہو رہا ہے تو یہ بھی خوش ہونے والے پروگرام میں شامل کر لیں تو عرفان صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ ایک تو ہم باقی کربلا کو شکستہ دیتے ہیں اور دوسرا یہ کہ ہم کس طرح منائیں یہ دو مختلف چیزیں ہیں جہاں تک بات کا بلاک کو دیکھنے کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں ہمارے جذبات کو ہی ہیں جو دوسرے مسلمانوں کے ہیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے بارے میں اور یزید نے جو ظلم اور ستم کربلا کے میدان میں اس کی فوجوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کے اوپر اٹھایا ہے وہ ایک بہت بڑا ظلم ہے جس کا تصور کرکے بھی انسان کا مطلب ہے لیکن سلام پیش کرنا پڑتا ہے اس عظیم امام کو اس عظیم نواسہ رسول کو جس نے صبر و استقامت کے ساتھ بہادری کے ساتھ اس ظلم کا مقابلہ کیا اور ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ جب بھی آپ اس کا ذکر کرتے تھے آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جایا کرتے تھے اگر میاں بشیر احمد صاحب صاحب رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفع حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور فرماتے ہیں کہ میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ کھیل رہے تھے تو آپ نے ہمیں بلایا کہ اب میں تمہیں کہانی سناؤں تو آپ نے ہمیں بڑے دردناک انداز میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ بیان فرمایا اور جب آپ یہ بیان فرما رہے تھے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو رواں تھے اور آپ اپنی انگلیوں کے پوروں سے تو آنسو پونچھتے جاتے تھے اور اس دوران آپ نے فرمایا کہ یزید پلید نے یہ ظلم ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے پر کروایا مگر خدا نے بھی ان ظالموں کو بہت جلد اپنے عذاب سے پکڑ لیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جذبات تھے اور ہمارے جذبات بھی اس سے مختلف نہیں ہیں بالکل اگر اتنی ہی اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سید اس میں فرماتے ہیں ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے اگر گالیاں دیں آپ کی عزت و آبرو پر حملہ کیا وطن سے نکالا اور قسم قسم کے نہ صرف الزایدی بلکہ خدائی ایجاد کی تو کیا اس سے اسلام کی اشاعت میں کوئی وہ کیا ہوگی اسی طرح حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے مقابلے میں یزیدی طاقتوں نے اتنی محبت پکڑی کہ انہوں نے آپ کو شہید کر دیا لیکن جدید آج بھی یہ دید ہے اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ آج بھی امام حسین کہلاتے ہیں ان کا نام لیتے وقت لوگوں نے امام کہتے ہیں اور بادشاہت اور ان کی بادشاہت آج بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن یزید کی بادشاہت ایسی مٹی کی آج کوئی اپنے بچوں کا نام یزید رکھنے کے لیے تیار نہیں یہ ضد کہ اچھا نام ہے اس کے معنی اللہ کرے ہیں کہ اللہ تعالی بڑھاتا چلا جائے ہمارے پنجاب میں لوگ اپنے بچوں کا نام اللہ کاحسین رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر آئے گا تو ہمیں گرم صاحب کو کس طرح برداشت کرنا چاہیے بہادری کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں اور ظلم کے سامنے کھڑے ہونا چاہیے تو یہ اندازہ ہو جائے گا میں تیری یاد کو تازہ کرتے ہیں اور اسی طرح بناتے ہیں لیکن بنانے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے یہ ہم جس طرح ہمارے شیعہ دوست بناتے ہیں ہم اس بہانے بناتے بلکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لڑائیاں بھی ہوئی جنگیں بھی ہوئیں صحابہ شہید بھی ہوئے لیکن آپ نے اس طرح یہ کسی بھی صحابی کی شہادت کو اس انداز میں نہیں بنایا اور آج بھی جماعت احمدیہ کے ہاں شہادتیں ہیں بہت بڑے بڑے سانحات ہوئے ہیں ہم نے بالکل غلط کر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے صبر اور استقامت کے ساتھ ان شہادتوں کو قبول کیا ہے اور یہی دعوت اسلام کا طریقہ ہے اور اسی کے مطابق ہم مناتے ہیں  ہیں ایک حدیث میں آتی ہے کہ جب یوم عاشوراء ہوتا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دن روزہ رکھا کرتے تھے تو ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس دن روزہ رکھا کرتے تھے جیسا کہ حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز میں ہمیں جمعہ میں ارشاد فرمایا اس طرف توجہ دلائی ہے کہ بھارت کے ساتھ درود شریف پڑھیں دعائیں کریں اپنے لیے بھی اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے بھی اور اس راستے پر چلنے والے تمام مومنین کے لیے کہ اللہ تعالی سب کو صبر اور استقامت عطا فرما اور ان کی حفاظت کی توفیق عطا فرماتا ہے کہ صاحب بہت بہت شکریہ انجام ہمارا پروگرام بھی اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے آخر پر آپ سے ایک چھوٹی سی گزارش ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کام کرنا چاہتا ہوں آپ نے گزشتہ پروگرام میں بھی بارہا مخالفین بلکہ یہ دیکھتے رہے ہیں کہ کس طرح سے احمدیت ترقی کر رہی ہے اور اس کو اس رنگ میں وہ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ ترقی کوئی صداقت کی نشانی ہو بلکہ بعض مخالفین نظر آئے جہاں کے بعض اوقات اکثریت بھی ہوتی ہے مسلسل کی سزا کے خلاف لوگ تھے اور مسلمانوں کی تعداد میں کتنی ترقی کی تھی لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معمہ دوسرا ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ وحید بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو خدا کی طرف منسوب کرے خدا کی طرف منسوب کرکے علامات اپنے بیان کرے اور نبوت کا دعوی کرے تو ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ خود کرتا ہے اسلام کا ایک بار آپ کے سامنے آ فرماتے ہیں خدا تعالی نے مجھے بار بار خبر دے گا مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دل میں بٹھائے گا اور تمام زمین میں پھیلائے گا وہ سب سڑکوں پر میرے کو غالب کر دے گا اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اپنے دلائل جو انسانوں کے رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہر  ایک اسٹیشن سے پانی پیے گی اور اس سے زور سے بڑھے گا اور پھیلے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جائے گا کہ پیدا ہوگی اور جلاۓ گئ اور خدا سب کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اپنے وعدے کو پورا کرے گا اور خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ میں تجھے بھلا دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ان باتوں کو یاد رکھو ان کمپنیوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا میں اپنے نفس میں کوئی نہیں دیکھتا میں نے وہ کام نہیں کیا مجھے کرنا چاہیے تھا میں نے تو صرف ایک ملائی کمزور سمجھتا ہوں یہ میرا خدا کا فضل ہے جو میں شامل ہوا اس پر ایک قادر کریم کا ہزار شکر ہے کہ اس مشت خاک کو اس کے باوجود ان تمام بے چینیوں کے قبول کیا تو آپ کے سامنے تمام صورت حال ہے آپ خود دیکھ لیں کہ خدا تعالیٰ ایک ایسے شخص کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے اس جماعت کے ساتھ کیا سلوک کر جو اپنے آپ کو اس منصب پر بٹھا کر رہی ہے جو ایک نبی کے لئے تھا ہم انشاء اللہ آپ کے پروگرام میں پھر آپ صرف سیاست میں حاضر ہوں گے آپ کے سوالات میرے پاس آئے ہیں اسی طرح یہ بھی سچ عمل کریں تو تب تک کے لئے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ ہمارے ہی شکرگزار ہوں

 39 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: