Rah-e-Huda – Sadaqate Maseehe Maood pbuh




Rah-e-Huda – Sadaqate Maseehe Maood pbuh

Rah-e-Huda | 5th September 2020

اس سے نبھا گویا اس نے جانا بسم اللہ الرحمن الرحیم ناظرین کرام اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ انٹرنیشنل سٹوڈیو سے ہم پروگرام 5ستمبر ہے جی ایم ٹی وی کے مطابق ہمیشہ کی طرح شام 4 بجے اور جنگ سے پروگرام ہو رہا ہے یہاں سے دیکھتے ہیں ہمیشہ کی طرح لائیں فرنٹ ہوتا ہے اس لیے اس پروگرام کے دوران آپ کے لئے سورت ہے بلکہ ضروری ہے ہم سے رابطہ کریں اپنا سوال بھیجیں نا آپ اپنا فون کسی سے بھی یہاں بھی سکتے ہیں یا پھر واٹس ایپ کے ذریعے سے اردو کی صورت میں بھی یا پھر میسج کی صورت میں بھی ہمارے اس پروگرام میں آج میرے ساتھ یہاں شگفتگو ہوں گے یہ اس ویڈیو میں مکرمہ فضل الرحمان صاحب اور اسی طرح ویڈیو لنک کے ذریعے سے مکرم شمشاد احمد کمال ہے اسلام علیکم ہمارا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے اللہ تعالی کے فضل سے یہ وہی جماعت ہے جس کی بنیاد اس وقت کی مسیح مہدی حضرت مسیح علیہ السلام حضرت غلام علی قادیانی نے خدا تعالیٰ کے اذن سے رکھی ہے آپ وہاں موجود ہیں جن کا امت میں سے جو بزرگ گزر چکے ہیں اور امت میں حقیقی اسلام کی پیشنگوئی کے مطابق ہمیشہ انتظار کرتے تھے لوگ وہ کب مسیح موعود امام مہدی آئیں گے جن کے زیر سائے ان شاء اسلام اپنی تکمیل کو پہنچی تھی تو اللہ تعالی کے فضل سے آپ عین اس وقت تشریف لائے جب وہ تمام علامات جن کا ذکر احادیث میں بھی ہے قرآن مجید میں بھی ہے وہ سب لوگوں کو دکھائی جاتی رہی آپ ہی نے مجھے صرف دعویٰ کیا کہ آپ کو مجھ سے بہت امیدیں ہیں آپ کے ساتھ وہی سلوک ہوا جو ہمیشہ سے انڈیا کے ساتھ ہوتا ہے آرہا تھا کہ وہ جو شخص جو ان کی ہی نیک ہیں جن کی قسمت میں خدا تعالیٰ نے ایمان لکھا ہوا ہے ان کو یہ سعادت نصیب ہوتی رہیں اور اس کے بالمقابل اگر وہ پتھر ہوتا رہا ہے جو ہمیشہ سے مخالفت کرتا آیا ہے آرہا ہے اور آگے بھی کرتا رہے گا آپ کے سر میں خاک ساتھ بانی جماعت احمدیہ کی اس مختصر سی تحریر جاتا ہے جو میں آپ فرماتے ہیں میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ قرآن اور حدیث کے مطابق اور اس الہام کے مطابق کہتا ہوں جو خدا نے مجھے کہا جو آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں جس کے کان ہوں وہ سنی اور اس کی آنکھوں دیکھے قرآن شریف میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ حضرت اس فوت ہوگئے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی روایت کی گواہی تھی دونوں باتیں ہوتی ہیں کا قول اور ان کا حل موجود ہے دیکھا دو شہادتوں کے بعد تم اور کیا چاہتے ہو جاتا ہے صدا نشانات سے تائید کی جو جگہ تھی اور خوف خدا رکھتا ہو اس کے واسطے کافی سامان جمع ہوگیا ہے ایک شخص پہلی پیش گوئی کے مطابق قال اللہ وقال رسول کے مطابق آئندہ رات کے وقت دعویٰ کرتا ہے یہ وہ وقت ہے کہ عیسائیت اسلام کو کھا رہی ہے خدا تعالیٰ نے اسلام کی حمایت کے پاس جو بات پیش کی ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور بات نہیں ہو سکتی ہیں حقیقت یہ ہے کہ اسے خدا ہے اور معبود ہے اور 40 کروڑ عیسائی اس وقت موجود ہے مسلمانوں کی طرف سے ان کی تائید کی جاتی ہے کہ بے شک اسے اب تک زندہ ہے نہ کھانے کا محتاج نہ پینے کا محتاج سب نبی مر گیا پر وہ زندہ آسمان پر بیٹھا ہے اب آپ ہی بتائیں کہ اس سے عیسائیوں پر کیا اثر ہوگا تو یہاں پر تومریم کا نام اسی کا نام دیا گیا ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودہ سو سال بعد ہی سے علیہ السلام مبعوث ہوئے اس وقت جو دیو کا ہاتھ تھا بال پری تو پتہ چلتا ہے وہ کس طرح سے ایک طرف غیر قوموں کے دباؤ کے نیچے غسل تو غیر قانون کو مسلط ہوئی ہیں دوسرا جو ان کے علماء ہیں ان کی اپنی حالت ہے ان کے مطابق ہیں پھر وہی لوگ جو اس وقت مذہبی لیڈر ہوتے ہیں وہی اپنا سارا زور لگا لیتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا نام و نشان مٹا دیں یہاں تک کہ سولی پر چڑھا دے تو تشریف لاتے ہیں پھر ایک گروہ ملے آتا ہے پھر ایسا سلسلہ بڑھتا ہے اور سو سال نہیں کرتے اس آیت کا ایک اکثریت ہوتی ہے کہ جو چاہے ایمان لے آتی ہوں کہ زہر بھی ہو جاتا ہے ان تمام مسافتوں کی صرف اللہ کی قسم کی کا یہ اشارہ ہے اور دیکھئے قرآن مجید حضرت محمد فرماتے کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ مسلم نہیں ہیں ہم نے تمہاری طرف اس اصول کو بھیجا ہے جس طرح کہ فرعون کی طرف جاتا ہے تو آپ مسیر موسی پھر آپ کا جو سلسلہ ہے اس میں بھی مشاعرے ہی فیصلہ اور محمد اسلامی اور حضرت مسیح علیہ السلام پر یہ عجب ہوتے ہیں توایم چودہ سو سال بعد میں پڑھ سکتے ہیں ہیں تو آپ کے ساتھ ہیں وہی سلوک ہوتا ہے رسول کے سب ایک طرف ان علماء کو یہود کے ساتھ مشابہت دیتے ہیں جو اس دور میں ہوں گے وہ جو شروع کرتے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے کیا کوشش نہیں کی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ختم کر دیا جائے گا یہ کفر کے فتوے لیے کہ دنیا بھر میں ہر جگہ پھر جھوٹ اور تربیت کے ذریعے آپ کی حیات میں بھی جو نیک لوگ تھے جو پاک فیڈرل رکھتے تھے اس دور رکھتے تھے اسلام کا درد رکھتے تھے آپ کے پیغام کی طرف توجہ کرتے تھے ٹویٹ سے کام لیتے تھے ان کو توفیق بھی ایمان لانے کی بعد میں بھی جماعت احمدیہ پھیلی ہے تو اندر سے لوگ نہیں آئے گا ایسے ہی لوگوں نے اس پر غور کیا تو ہم بھی آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ اس پیغام کی طرف غور کریں اور جو مخالف قوتیں ہمیشہ سے خدا تعالیٰ کے سوا کسی ہوتی آرہی ہے ان کی باتیں آپ سنتے ہیں آپ بھی سنیں اور یہاں وہ سوالات جو پیدا ہوتا ہے ہمارے پاس لے کر دیکھیں گے ایسے نہیں کہ کوئی نہیں کریں گے اور پھر خود ہی ان کی نوعیت کا اندازہ لگا لیجئے گا تو یہاں پر خاکسار بھی ہمارے جو پیلس شادی ہال صاحب ہیں ان سے احتراز کے والد سے بات کرنا چاہے گا تو شاہ صاحب آپ کے علم میں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی تحریرات پر بھی طرح طرح کے اعتراضات ہوتے ہیں جو بات آپ پڑھتے ہیں آپ اس کتاب کو کھولیں اور پیچھے پلے مضمون بھائی آپ کے سامنے واضح ہوجائے گا تو اسی طرح کا ایک اور اعتراض ہے جو کچھ عرصہ پہلے کیا گیا جہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بھارت میں رکھی گئی جس میں آپ فرماتے ہیں یہ روحانی خزائن کی جلد یہ ہے کہ شاید القرآن ہیں آپ فرماتے ہیں کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے تو وہ جو محترم ہیں جو اپنے آپ کو اہل اسلام کا نمائندہ قرار دیتے ہیں بارہ یہ تو آپ کی سوچ ہے جو سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ الفاظ صاحب خود ان لوگوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں جن کے درمیان اب رہتے ہیں اور جنہیں آپ احمدی لوگ صحابہ کہتے ہیں تو گویا یہ بات ہمیں سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیںپھر نبی کے پاس رہنے سے نبی کے ساتھ رہنے سے ان کی سطح تربیت ہوتی ہے تو وہی لوگ اللہ تعالی کے فضل سے جو روحانی طور پر پہلے مرد ہوتے ہیں تو نبی ان کے لئے ایک نئی روح بن کر آتا ہے وہ ان کے اندر کی جاتی ہے تو وہ زندہ ہو جاتے ہیں تو یہ زندگی کے آثار ظاہر ہوتے ہوتے کچھ ٹائم لگتا ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کے متعلق الفاظ بیان فرمائیے اس طرح کے الفاظ تو ہمیں اور انبیاء علیہم السلام کے بارے میں بھی ملتے ہیں خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے باپ کے بارے میں جو نماز پڑھنے نہیں آتے تھے فرمایا کہ میرا ڈرتا ہے کہ لڑکیوں کا گٹھا دے کر جاؤں اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں تو نماز کے لیے نہیں آ رہے تھے تو کیا اس بات کو لے کے کوئی عیسائی یا یہودی اگر یہ ترک کردے کیا حضور صلی اللہ وسلم نے اپنے صحابہ کے  بارے میں یہ ریمارکس دیے تو کیا ایسے تھے تو یہ اعتراض غلط ہوگا اگر اس نے ہوگا اس لئے کہ یہ سارے صحابہ تو ایسے نہیں تھے یہ صرف چند ایک ایسے ہوتے ہیں جو تربیت یافتہ نہیں ہوتے جن کی تربیت میں کوئی کمی رہ جاتی ہے یہ ہر دور میں کچھ نہ کچھ اس نے بھی بعض صحابہ کے بارے میں فرمایا سارے صحابہ کے بارے میں کوئی نہیں فرمایا اور ابھی جماعت کو قائم ہوئے 2324 ہوئے ہوں گے یعنی اٹھارہ سو نواسی میں ہوئی ہے پہلی بات جماعت قائم ہوئے پیدا اور 1991 میں پہلا جلسہ ہوا ہے اور یہ جو الفاظ آپ نے بیان فرمائی گئی ان لوگوں کے لئے تھے جو جلسے کے لیے آئے تھے اور آپ نے فرمایا کہ مجھے جلسے منعقد کرکے ان پیروں کی طرح اپنی شان و شوکت کا اظہار کرنا مقصد نہیں بلکہ تربیت متحد ہے اور یہاں آنے والے اگر اپنے اخلاق کا نمونہ نہیں دکھائیں گے مجھے اپنے آرام کو اپنے بھائی کے نام پر اپنے بھائی کے نام کو اپنے اوپر ترجیح نہیں دیں گے اور دوسروں کی باتوں پر گالم گلوچ کریں گے تو پھر فائدہ نہیں ہے اس لیے یہ بات آپ نے اپنے سارے صحابہ کے بارے میں نہیں بلکہ بعض صرف چند کے بارے میں جوتیاں بھی طبیعت نہیں ہوئی جو اس طرح کی تعبیر کرتے تھے ان کے بارے میں فرمائی تھی اس تہوار میں جس کا انہوں نے حوالہ دیا ہے ایسی میں آپ فرماتے ہیں کہ اکثریت جماعت کی ہے وہ اللہ تعالی کے فضل سے بہت اچھی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اگرچہ نجیب اور شہید بھی ہماری جماعت میں بہت بلکہ یقینا 200 سے زیادہ ہی ہیں جن پر اللہ تعالی کا فضل ہے جو نصیحتوں کو سن کر روتے اور عاقبت کو مقدم رکھتے ہیں ان کے دلوں پر نصیحتوں کا عجیب اثر ہوتا ہے پھر فرماتے ہیں لیکن میں اس وقت جن لوگوں کا ذکر کر رہا میں یعنی اس میں کچھ دن لوگ مراد ایک تو وہ ان کی تربیت نہیں ہوئی یا وہ بھی ہو سکتے ہیں جو ہلاکت سے آ جاتے ہیں اور پھر آپ فرماتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر میں درندوں میں رنگ ٹون بنی آدم سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ پھر آپ فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ فرمایا میں اپنے ساتھ لوگوں کو کیا سمجھوں جن کے دل میں رہتا نہیں ہیں اور اس کو نہیں پہچانتے جس کو میں نے پہچانا ہے درحقیقت وہ ایسے ہیں جن کو شیطانی راہ چھوڑنا منظور نہیں یاد رہے جو میری راہ پر چلنا نہیں چاہتا وہ مجھ سے نہیں ہے اب یہ وہ تمام میں بعد میں آپ کو سامنے رکھوں گا مختلف انبیاء کے بارے میں یہ انہوں نے یہی الفاظ بیان کئے ہیں کہ حضور فرماتے ہیں جو میری راہ پر چلنا نہیں جانتا وہ مجھ سے نہیں ہے اور پھر اس کے ساتھ آپ نے فرمایا کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ آنکھوں کو پاک کرو ان کو روحانیت کے طور سے ایسے روشن کرو جیسا کہ وہ ظاہری طور پر روشن ہیں ظاہری روئے تو حیوانات میں بھی موجود ہے مگر انسان اس وقت سوجا کہلاتا ہے جبکہ باطنی رویا نے نیک اور بد کی شناخت کا اس کو حصہ ملےتو آپ کو اس طرح کے الفاظ ملتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جو دل کے دل میں رہتا نہیں ہے میں کیا کروں میرے ساتھ نہیں ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول دیکھیں سورہ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی یہی فرماتے ہیں کہ مانتا بانہوں میں نئی بنا نیند نہیں آ رہی کہ میرے ساتھ تو اس کا تعلق ہے جو میری پیروی کرتا ہے اور جو میری نافرمانی کرتا ہے تو پھر تو ان کو بخشنے والا ہے بار بار رحم کرنے والا ہے حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں آپ کو پتہ ہے کہ قرآن کریم میں واقعہ بیان ہوا ہے کہ آپ نے اپنے ماننے والوں کو خدا تعالیٰ کے اس بابے کی طرف توجہ دلائی کہ اس طرح یہ ملک جو ہے یا آپ کو ملے گا لیکن اس کے لیے جنگ کرنی پڑے گی لیکن آپ کی قوم نے جنگ کرنے سے انکار کر دیا اور قرآن کریم میں اس کو اللہ تعالی بیان فرماتا ہے کہ کون نے جواب دیا یہ کوئی جواب دینے والے ہے وہ نہیں جو انہوں نے آپ پر ایمان نہیں لائے تھے بلکہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لا چکے تھے آپ کی قوم کے تھے کیا جواب دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ فراز صاحب ان کتابوں کا پہلا عنہا کا اردو نقشہ جات تو اور تیرا رب جاکے لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہم سے جنگ نہیں ہوتی اور اس پر حضرت موسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حضور عرض کرتے ہیں دعا کرتے ہیں کہ اللہ رب العالمین نے کہا اے میرے رب میرا اختیار تو صرف اپنے لفظ پہ ہیں اور میرے بھائی پر ہے ان دونوں کے علاوہ میرا کسی پارٹی سے پیار نہیں ہے کافروں کو بینہ وبین القوم الفاسقین پاک تو ہمارے درمیان اور اسپاٹ کے درمیان فرق پیدا کردے تو یہ حضرت موسی علیہ السلام کی دعا کیا یہ ظاہر کر رہی ہے کہ آپ کے ماننے والے سارے ہی ایسے تھے جنہیں جو کی تربیت نہیں ہوئی تھی تو یہ اس طرح ہوتا چاہے دل کی تربیت نہیں ہوتی ان کے بارے میں نبی ان کی تربیت کی خاطر اس قسم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں پھر ان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی آپ دیکھیں قرآن کریم میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا کہ جو ایمان لانے والے ہیں سارے پیسے نہیں ہیں کہ جو حضرات پر فدا ہیں ان کے اندر منافقین بھی ہیں اور قرآن کریم میں اللہ فرماتے ہیں نانا کے میں قولوا آمنا باللہ وبالیوم الآخر وماہم پھلی اللہ الذین آمنوا معہ احسن العلوم کے لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں لیکن وہ دراصل ایمان نہیں لائے وہ اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں دھوکہ دینا چاہتے ہیں لیکن وہ اللہ کو دھوکا نہیں دے سکتے بلکہ اپنے نفسوں کو دھوکہ دے رہے ہیں لیکن ان کو شعور نہیں ہے یہی بات حضرت عیسی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو بندہ رکھ دیں مسلمان سمجھتے ہیں وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے وہ خدا کے دو دھوکہ نہیں دے رہا تو یہ بات تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے یہ قرآن کریم کی تعلیمات پر باقی انبیاء کی تعلیمات کے بالکل مطابق ہے باقی امی بھی آتے جاتے رہے ہیں اگر آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں منافقین ہو سکتے ہیں اور اس طرح کے دن کی چھٹی کی تربیت یافتہ ہونے یا ان کے لیے تربیت کے سامان سے موجود تھے لیکن پھر بھی وہ تربیت کا اثر نہیں کرتے تھے تو حضرت مسیح علیہ السلام کی اس میں جماعت میں برباد کرتے ہیں کی بات کر رہے ہیں سب کی بات نہیں اگر فرما رہے ہیں یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ منافق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ منافق ہوتے ہیں جن کو خود پتہ ہوتا ہے کہ ہم منافق ہیں اور وہ آتے ہیں اس لیے ہیں کہ اسلام کوئی اور دین کو نقصان پہنچایا جائے جس میں داخل ہوتے ہیں اور دوسری قسم کے خلاف ہوتے ہیں دراصل وہ آپ سے تو نیک نیتی سے ہی ہیں لیکن پوری طرح بھی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت ایسی درمیانی کی ہوتی ہے امانت میں خیانت کرے تو فرمایا کہ یہ منافقت کر بے شک وہ حضور صل وسلم کی امت میں ہوں لیکن اس کے اندر پاک کی یہ نشانیاں پائی جاتی ہیں لوگوں کے بارے میں اگر نبی آسرا کا سخت لفظ استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ساری جماعت اسلامی کی ہے بند کر دیتے ہیں بلکہ رسول پاک صلی اللہ وسلم نے تو اپنے بعد آنے والے اپنی امت کے علماء کے بارے علماء کے بارے میں فرمایا کہ وہ بندروں کی طرح ہوں گے اور وہ آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے تو کیا اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر دیا جا سکتا ہے بالکل نہیں تو یہ اس سے کہ بہت ساری مثالیں ہیں کہ ان کے صحابہ میں بعض ایسے غیر تربیت یافتہ ہوتے تھے اور مثال کے طور پر حدیث میں آتا ہے جب سورہ جمعہ کے اجتماعات اور جارحانہ اننگز وہ یہاں یہ بتانا کو قائم کی شان نزول بیان کی گئی اس میں یہ تھا کہ اونٹوں کا اک قافلہ آیا تھا اور اس وقت ادھر نماز کا ٹائم تھا اور وہ دیکھ کے قابل ہے منافع کمانے کی خاطر تھوڑے سے چند صحابہ کے باقی ہے ذرا بھی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے مستقبل کی طرف چلے گئے تو یہ آیات نازل ہے کیوں چلے گئے تھے ابھی تربیت نہیں ہوئی تھی تو اس لیے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان نبی ایسے ہی لوگوں کے بارے میں تھا اور یہ فرمانا قاری جماعت کے بارے میں نہیں تھا اس لیے اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے والے کو کیا تھا اس طرح کے تھے یہ درست نہیں ہے اگر اس طرح کریں گے تو پھر آپ کو سارے انبیاء کے پروگرام بنانا پڑے گا جو یہ بات نہیں کرنی ہے کہ یہ بات ہے یہ شروع کیا بات ہے جب بھی صحابہ زیر تربیت تھے کچھ عرصہ ہوا تھا آپ نے دعویٰ کیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ جب لوگ پہلے سے ہی باکمال ہونگے ان کو تربیت پہلے ہو چکی ہوگی تو پھر بھی کیا بات ہوئی تھی یہی سبب ہے کہ جب امت افراد کے دل ڈر جاتے ہیں ہیں اور خدا تعالیٰ ان کی اصلاح کرکے پھر سے ان کے ساتھ ایک قوم بننا چاہئے جو خود کو اس قابل بنانا چاہتا ہے کہ وہی روحانی پرواز کر سکیں جزاک اللہ بہت شکریہ آپ ہمارے سوالات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے لیکن اس سے پہلے بلکہ ہمارے میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان سے مثال بھی ہیں اس موقع پر منوا لیتے ہیں آپ سے ایک سوال کرنا چاہے گا تو ڈاکٹر مدثر حسین صاحب پاکستان سے جی مدرسہ سلام علیکم رحمۃ اللہ برکاتہ اور پاکستان سے میرا یہ سوال تھا کہ میرے دوست اپنے گھر میں ہی دیکھتے تھے ان کا یہ حال تھا کہ حضرت عزیر علیہ السلام نے جس طرح جماعت احمدیہ کو سامنے رکھئے اور بھی مضبوط ہے اگر یہ اتنا اچھا کانٹیکٹ اتوار 23 سلم نے اس طرح کا کوئی منصوبہ اسلام میں کیوں نہیں کیا  یہ بھی مان لیا جائے کہ یہ منصوبہ ٹھیک ہے تو وہ السلام کا فرمان تو کا بیان کتاب کے متعلق تھا اسے زبان میں اس کو تم نے کیسے بنا دیا یہ دراصل ان کا سایہ ہمارے گھر سے ایک مٹی کا ایک چھوٹا سا سوال پوچھا جا رہا ہے کہ سورۃ توبہ سے پہلے بسم اللہ کیوں نہیں ہے باقی ہے اور تو ہی ہے کہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ بھی باتوں سے ان شاء اللہ آپ کی طرف آؤں گا تو اس سے پہلے بھی فیصلہ واپس حاصل کرنا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ اچھے خاصے تو بات واضح ہو چکی ہے کہ کس طرح سے مخالفین اسلام کے ترجمہ کے ساتھ کھیلتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دہی کے ذریعے سے باتیں اور ٹوکن ٹیکس پیش کر کے کیا کیا فائدے کے سامنے دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیںرحمان رحیم شکریہ طارق صاحب جیسا کہ آپ نے کہا ہے حقیقت یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی تحریروں کو اگر توڑ کے اگر کوئی پیش کرنا چاہے جیسا کہ یہ کر رہے ہیں اگر غور سے دیکھیں تو ان تمام اعتراضات اٹھاتے ہیں ان کے جوابات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور ان کی تحریر سے مل جاتے ہیں ہیں اور صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہونے کا دعوی حقیقت میں سراسر بے بنیاد الزام ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق میں اور آپ کے مقام کے بارے میں جو نظم اور نثر اور ادبی زبان اور فارسی زبان میں جو ذکر فرمایا ہے حقیقت میں کسی شخص کی تحریرات میں وہ محبت اور عشق اس مقام کا نہیں ملتا جیسے النصر سلام کی تحریرات میں ملتا ہے ایک ایسا شخص جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ڈوبا ہوا ہوں اسے کس طرح یہ عقل تصور نہیں کرتی کہ اسے کس طرح کی توقع کی جاسکتی ہے ہو کہ وہ اور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو نعوذباللہ گٹار اور اپنا بنا رہا ہوں وہ حضرت مسیح علیہ السلام اور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیا فرماتے ہیں و برکاتہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قسم کی برکت ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ وابستہ ہے تو جس ذات کے ساتھ ہر برکت وابستہ ہو اور جو شخص یہ کہہ رہا ہے وہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں کیا کہ میں ان سے زیادہ افضل ہوں پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور اپنا مقام بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے کہ ان کے ایسے آپ کا خوبصورت کلام ہے اس کلام کے ہوتے ہوئے کوئی انسان ذی شعور انسان کوئی تصور نہیں کر سکتا ہوں سلام نے کہیں بھی کسی بھی جگہ اپنے مقام جو ہے وہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہو جیسے میں نے بتایا کیا حضرت موسی علیہ السلام نے متعدد جگہ حضرت موسیٰ اور صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت اور فضیلت کا ذکر فرمایا ہے اسی کو نصیب میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ایک جلسہ کرو اور ہمارے اور پیشگوئیاں سنو اور ہمارے گواہوں کی شہادت رؤیۃ النحل فی شہادۃ ہوگی کل بند کرتے جاؤ اور پھر اگر آپ کے لئے ممکن ہو تو اس تشنہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں ان کے مقابل پیش کروں یا حضرت مسیح علیہ السلام علیہ السلام کے معجزات استثناء فرما رہے ہیں آپ ایک جگہ مزید فرماتے ہیں کہ اس نے میرا دعوی ثابت کرنے کے لئے اس قدر موجرا دیکھائے ہے کہ بہت ہی کم نبی سے آئے ہیں کہ جنہوں نے اس قدر موسیٰ دکھائے ہوں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کردیا ہے جب کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی تمام الانبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اب دونوں تحریروں میں حضرت مسیح علیہ السلام اپنے معجزات بیان فرما رہے ہیں اعظم کے مزار سے استثنیٰ فرما رہے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہوا کہ آپ کی تو کوئی مماثلت نہیں ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ کسی نبی سے اس قدر موت سات ظاہر نہیں ہوئے جس طرح ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باقی انبیاء کے فوت ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے گھر گئے اور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات آج بھی ظاہر ہو رہے ہیں اور قیامت کے دن تک کسان ہوتے رہیں گے اگر آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ابدی ظاہر ہورہے ہیں اور قیامت کے دن تک حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ تعریف تو بتا رہی ہے کہ آج وسلم کے معجزات و شمار نہیں کیے جا سکتے ان کو تو گناہیم حال ہے ہے اسی طرح کے تمام معجزات اور نشانات کو السلام کے معجزات قرار دیا ہے آپ نے ایک جگہ فرمایا جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب کا سب اور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ ہیں تو آپ کا تو کچھ بھی نہیں ہے آپ فرماتے ہیں کہ جتنے اگر وہ تین لاکھ 10 لاکھ بھی آپ کی صداقت کے لیے ظاہر ہوئی تو ہمارے یہ تمام انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تین ہزار وسلم کی طرح معجزات کا ذکر کرنے کی وجہ سے آئے تو نہیں اس کا بھی خود جواب دیا ہے حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تو چاروں طرف سے چمک رہے ہیں کیونکہ کیوںکہ چھپ سکتے ہیں صرف وہ معجزات جو صحابہ کی شہادت شہادت سے ثابت ہے وہ تین ہزار میں سے ہیں اور پیش گوئیاں تو دس ہزار سے بھی زیادہ ہوں گی جو اپنے وقت پر پوری ہوتی رہتی ہےآپ کے صحابہ کے سامنے ظاہر ہوئے وہ تین ہزار ہی رہے باقی معجزات تو قیامت کے دن تک حضرت موسیٰ علیہ وسلم کے معجزات جاری ہوتے رہیں گے اور ظاہر ہوتے رہیں گے اسی وقت صدیق میں حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کرامات اولیاء سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مجھ سے ہیں یہ ان کا سلسلہ حقیقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہے اس لئے جو اعتراضات موسی علیہ السلام کی ذات کیا جاتا ہے آپ کی تحریرات اس کے بالکل برعکس بعض علان فرما رہے ہیں کہ جو کچھ حضرت مسیح علیہ السلام کو بلایا وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ کے سر کے طور پے ہیں آپ کو ملایا بہت شکریہ ویسے تو دیتے ہیں کہ اصل حقیقی زندگی تو نہیں ہے تو نظریہ اسلام کا کلام ہے جس سے آپ نے باتیں بیان فرمائی ہے اور آپ کی یہ باتیں منسوب کرنا کتنی انصافی اور جھوٹ ہے تو وہ بھی ہمارے پاس نہیں بلکہ آپ بھی ایک اور کال آئی ہے ہم ان کا سہارا لیتے ہیں پھر اس پہ صحرا کی طرف آئے گا ڈاکٹر مظہر حسین صاحب کے ساتھ جی السلام علیکم ورحمۃ اللہ السلام علیکم آواز نہیں آرہی اسلام علیکم علیکم اسماعیل پیش کریں کریں نیا آئین اور شریعت میں کیا فرق ہے تو میں نے سنا ہے وہ بہت محنت کے بارے میں ساتھ ہوتے ہیں کیا ایسی کوئی مثال سو کے چلتی ہے تو صحیح جاننا چاہتے تھے کہ کافروں کا بیان کے مطابق تھا اب دیکھتے ہیں کہ ہر بار میں بھی دیگر ممالک میں بھی ایسے قبرستان ہیں جن کے بارے میں کہتے ہیں معتبر ہے اور توبہ کے بارے میں مختصر شادی کے بعد بسم اللہ کیوں نہیں ہے دیکھیں یہ ہے کہ دیکھیں کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خدا تعالیٰ سے ایک شریعت پاک ہمیں عطا فرما دی ہے اب اس بات کی شاہد ہے کہ مفت غلبہ جو اس کی تکمیل آنے والے ایک دور میں ہوگی اور اس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے ماما بھی ہوں گے اور ان کے ذریعے اس گا وہ راستہ ہوگا جب اسلام بظاہر کمزور ہوچکا ہوگا لیکن ان کے ذریعے اسلام کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اسلام کا غلبہ اس دور میں ان شاء اللہ العزیز ہوگا اور میں یہ چیز نہیں تھی اور وہ اور اب کیوں ہوئی ہے دیکھیں دنیا تو اسی دور سے بنی ہے بنیاد کیا ہے بنیاد پر نہیں ہے بنیاد پر قربانی ہے اور یہ کہ میں نے رکھی ہے آکے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہیں یہ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ بندہ زیادہ رسولہ بالھدیٰ و دین کے لۓ وظیفہ والدین لے کہ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق دے کر تاکہ اس کو تمام دوسرے دنوں پر غلبہ عطا فرما دے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اگر پوری دنیا دریافت بھی نہیں ہوئی تھی کہ پورا غلبہ ہوتا اب اس وقت بھی غلبہ ہو نہیں سکتا تھا کہ آج کوئی اعتراض کریں گے رسول پاک صل وسلم کے دور میں تجربہ نہیں ہوا کہ امام مہدی کے دور میں کیوں ہو رہے ہیں تو یہ دوسری بات ہے کہ اس وقت کیوں نہیں بنایا کہ آپ کو بنایا گیا اس مرتبہ کی بنیاد پر قبر بنانا نہیں آتا بنیاد رکھی جو ہے وہ ہے قربانی جو اس کے پیچھے پیش کی جاتی ہے قربانی تو ہر مومن کرتا ہے ویسے اور ہر مومنیہ نیم میں آرہا ہے اس کے علاوہ صدقات خیرات یتیموں کی خبر گیری بیواؤں کی خبرگیری گزرا کی خبرگیری قرآن کریم میں جگہ جگہ بعد طور پر ذکر آتا ہے تو جو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور دوسرا خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنے اخلاق کو بناتا ہے تو یقیناً وہ جنتی ہے لیکن ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو قربانی کرتے ہیں کہ وہ ہوتے ہیں جو اعلی درجے کی قربانی کرتے ہیں اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کے آغاز سے ہی اب تک اس قسم کی آیات جو بزرگانہ دے رہے ہیں اولیا کر رہے ہیں ان کو عام قبرستانوں میں دفن نہیں کیا جاتا رہا ان کو الگ سے دفن کیا جاتا تھا کیوں اس لیے کہ ان کے بارے میں یہ خیال ہوتا تھا کہ انہوں نے جو اسلام کی خدمت کی ہے وہ باقی لوگوں سے ممتاز ہے لہٰذا ان کی قبر بھی الگ بنائی جائے اور یہ ہر ملک میں آپ کو مختلف خبریں ملیں گی علیحدہ علیحدہ الگ نہیں تھا پاکستان میں اکیلے ملتان شہر کے اندر کہا جاتا ہے کہ 300 کے قریب دار ہیں اور اگر تین سو کے قریب نظر آرہی ہیں اور اسی طرح ہمارے ملک کے اندر ہر شہر کے اندر موجود ہیں جو ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے جنت اور دوزخ بنا لیں جو پیسے دیتا ہے اس کو جنت نصیب کر دیتے ہیں جو نیت اس کو باہر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ دوکان کی قبریں الگ بنائی گئی ہیں کہ تم دار بنائے گئے ہیں کیا ان کو الگ صوبہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ باقیوں کو بلاک دوست سمجھتے ہیں ہر گز نہیں ایسا نہیں ہے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ باقیوں میں بھی پوری دنیا کرنے والے ہیں لیکن یہ بتاؤ کہ غیر معمولی طور پر قربانی کرتے ہیں اور جن کی باقاعدہ طور پر یہ ہے کہ میں مر بھی جاؤں تو میری جان آپ کا اتنا حصہ دین کے لئے اور اپنی زندگی میں  میں بھی وہ دیتے رہتے ہیں اور صرف پیسے کی بات نہیں اس کے ساتھ ساتھ دین کے اوپر عمل کرنا بھی ہے اگر کسی کے بارے میں یہ رپورٹ مل جائے کہ یہ صحیح طریقہ پر بھی دین پر عمل نہیں کرتا تو پیسے وہ کتنے معصوم تھے کیا سے کیا جاتا ہے کہ آنکھیں دیا ہے نظام ہستی ہے ایک نظام کا نام ہے کہ بجائے ایک ایسی قربانی کرنے والے اور اس طرح زندگی گزارنے والے اعلی درجے کے جو ہم نہیں لگتا نہیں ان کو الگ الگ دفن کیا جائے ان کو ایک ہی جگہ ایک ایسا قبرستان بنا دیا جائے جہاں تمام اور بزرگوں کی قبروں میں ہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ یہ عہد کیا ہو کہ ہم اپنی زندگی دین اسلام کے مطابق اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے مطابق گزاریں گے اور خدا کی خاطر اپنی کم از کم عمر کا اتنا حصہ جو ہے وہ ضرور دیں گے تو ہر احمدی دیتا ہے اللہ تعالی کے فضل سے اور خدا ہمارا نبی کے بارے میں یہ تعالی کی دعا کر سکتے ہیں کہ وہ چلتی ہیں لیکن جو غیر معمولی قربانی کرنے والے ہیں یہ ان کے لیے صرف ایک نظام قائم کیا گیا ہے کہ وہ غیر معمولی قربانی کرتے ہیں لہٰذا بجائے اس کے کہ ان کی علیحدہ علیحدہ قبر بنائی جائیں تو اس نظام کے تحت اگر وہ آتے ہیں تو اس کے مطابق اس کی قبریں علیحدہ بنا دی جاتی ہیں تو یہ کام باقی مسلمان بھی کر رہے ہیں ہم بھی کر رہے ہیں پھر اتنا ہے کہ وہ اس نظام کو نہیں ہے اور ہمارے ہیں اللہ تعالی کے فضل سے ایک نظام قائم ہے اس لیے اس نظام کو قائم کرنا یہ کوئی غلط بات نہیں تھی ان کے دوست سے یہ چلا رہا ہے صرف نظام کا مطلب ہے کہ اس وقت نظام نہیں تھا اللہ اکبر بنا دی جاتی تھی روز جلاتی جا کے مطابق بنا دیے جاتے تھے اب حضرت مسیح علیہ السلام کے آنے کے بعد باقاعدہ ایک نظام کے تحتتو کیا پوری دنیا کے جواب ہم دیں گے جو اس نے اس نظام میں مسجد میں حصہ لیں گے وہ سارے کے سارے قادیان میں دفن ہو سکتے ہیں ممکن ہی نہیں ہیں کہ جیسے جیسے یہ جماعت اللہ تعالی کے فضل سے ترقی کرتی جائے گی جیسے جیسے آگے بڑھتا جائے گا ویسے یہ نظام بھی ترقی کرتا جائے گا اور اس نظام میں پھر اللہ تعالی نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جانشین مقرر کی ہیں جو بھی خلیفہ ہوں گے ان کی منظوری سے ہر ملک میں وقت کے ساتھ ساتھ بیٹھ کے مقبرے کے آگے ان کے اسی طرح کے مطابق اس مرتبہ اس طرح کے بنتے چلے جائیں گے اور اس کی شاخیں آگے سے آگے بڑھتی چلی جائے گی قادیان ایک آغاز ہے لیکن یہ نہیں ہے کہ سارے کے سارے اسی ایک قبرستان میں دفن ہوں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ سے آغاز ہوا ہے پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شاخیں ہر ملک میں قائم ہو سکتی ہیں وہ خلیفہ کے حکم کے مطابق آپ کی اجازت ہے قائم ہوگی اور بہت تین بھی پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ شاید اگر یہ بندہ پورا اترتا ہے اس کی اور اسی طرح مالی قربانی کی تو اس میں دفن کردیا جاتا ہے میں نے جانا ہے کہ دراصل اس سے پہلے جو صورت ہے اس سورت کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہوتی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو بائبل کے اندر پیش گوئی تھی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہ میرے بھائیوں میں سے تیری مانند دیکھنا بھی برپا کرونگا اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا آپ کو بتاؤں گا اور پھر اس میں یہ تھا کہ وہ میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کے گانے مانے گا تو اس کو اس کا مطلب ہے کہ اللہ کا نام لے کر وہ کالا کا پیغام پہنچ جائے گا تو اس لئے ان کے نزدیک الرحیم ہر سورت کا حصہ ہے اور سورہ توبہ میں اس لیے نہیں آئی باقی ہر سورت کے آغاز میں بسم اللہ ہی ہے کہ سورہ توبہ دراصل اس سے پچھلی سورت کا ہی حصہ ہے عملی طور پر مضامین ہیں اس کو آپ کس سورت کے مضامین سے آپ کمپئر کر کے دیکھیں گے تو آپ کو ہی مضمون اور آگے چلتا ہوا نظر آئے گا لیکن اس کو ایک کیونکہ حضرت محمد مصطفی صل وسلم نے کس سورت میں آیا ہے اس لیے اس کو الگ صوبہ بنا دیا گیا کہ شروع شروع میں بسم اللہ نہ دین سے سیاست میں دیکھ رہا ہوں کہ ساتھ ایک کال بھی ہیں علیکم آپ کی طرف آتے ہیں اس سے پہلے جو سوال تاریخ ہے لیکن جہاں تک میں سمجھا ہوں وہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں تو ہے یہ اصطلاحیں اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے شرم عربی زبان میں اس پتھر کو کہتے ہیں اور اصطلاحی معنوں میں اللہ تعالی کی طرف سے جو قانون و ضوابط جو تعلیم اترتی ہے انبیاء کے ذریعے جو انسانوں کے لیے لازمی قرار دی جاتی ہے ان کی ہدایت کے سامان جلتے ہیں وہ شریعت ہوتی ہے اور انبیاء کے ذریعے اللہ تعالی اس نظام کو قائم کرتا ہے اور پھر اس کو انسان کے اوپر فرض قرار دیتا ہے کہ اس میرے نظام کے مطابق آپ اپنی زندگی بسر کریں اور اس سے انسان کے اوپر جب وہ تعریف ہوتی ہے تو پھر اس کا تعلق خدا تعالی کے ساتھ ہوتا ہے یہ شریعت نہیں کرے گا اگر اس خدا کی شریعت اور اس نظام کو توڑے گا تو خدا تعالیٰ اس کو سزا دے گا تو جزا اور سزا کا شریعت کے ساتھ تعلق خدا تعالی کے ساتھ ہے جو آئین یا قانون جو دنیا بناتی ہے کوئی ملک بناتا ہے یا کوئی انسان بناتا ہے وہ ایک عام دنیا دار کے رہن سہن کے لئے اس پر بھی اسی طرح اس قانون کا پابند ہے ایک محبت کافی ہے ہے چل سکتا یہ دنیا بھی قوانین ہے تو جو دنیا کا قانون ہے وہ اس کے مطابق انسان اپنی زندگی بسر کرتا ہے تو شریعت کا قانون ہے وہ انسان لاگو نہیں کر سکتا جس طرح وہ ایک عام دنیا کا قانون اپنے ملک میں ایک انسان جو یا ایک حکومتی ایک قبیلہ جو اس کو لاگو کرتی ہے خدا تعالیٰ کا جو کام ہے وہ خدا ہی لاگو کرتا ہے وہ خدا ہی نبی کے ذریعے انسانوں کے اوپر وہ لاگو کرتا ہے اور اس کا پھر ہر انسان جواب دے دیں خدا کے سامنے ہے لیکن جو دنیاوی قانون ہے جس طرح انسان کی پچاس سالہ زندگی سال اس طرح سے وہ اس کے مطابق اس ملک میں رہتے ہوئے اس قانون کی پاسداری کرتا ہے ماشاءاللہ بہت سارے سوالات آئے ہیں پھول بھی ہیں ان کی طرف فرماتے ہیں ایک دوست بھی کر رہے ہیں اور آپ بھی کرنا چاہتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ گائیڈ کر مجھے تم سے پیار ہے سر عرض ہے کہ آپ بہت آسان طریقہ ہے آپ ہمارے امیر المومنین خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو ڈائریکٹ یہ خط کسی بھی آپ ان کی طرف اپنا سکتے ہیں تو پھر باقی جو بات ہوگی وہ پھر ضرورت ہوگی تو واپس آ کر لیں گے پاکستان میں جو حالات ہیں آپ جانتے ہیں کیا صورتحال ہے اور کیا کیا پابندیاں ہیں اور کس طرح سے جماعت احمدیہ کی مخالفت ہو رہی ہے اس لیے ہم پر آپ کے سر براہ راست رابطہ کرنا مناسب نہیں سمجھتے اس وقت خان صاحب کدھر ہیں جی خان صاحب السلام علیکم رحمت اللہ اللہ نہیں آ رہی کوئی نئی بات کر لیجئے فرمائیں آپ کو کہہ رہا ہوں آپ بات کر رہے ہیں کہ خان صاحب ٹائم ہو رہے ہیں آپ بات کرنے سے حاجی سے کہہ رہا ہوں کہ آپ جو بات کرنا چاہ رہے ہیں وہ سب ہمارے پاس ہے تو اب مختصر آپ آپ جس سے پڑھ کر اس وقت سنا رہے ہیں وہ بھی ہم سمجھ گئے ہیں آپ کی بات سے پہلے خاکسار بھی آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ کے جو سوالات ہیں تو ہمارے پاس پہنچے ہیں آپ نے پروگرام فون کیا تھا وہ رابطہ کیا تھا اس لیے بھیجا تھا تو آپ نے ان کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا اگر آپ بھول گئے ہیں یا مجھے نہیں پتا تو اس کے بارے میں کیا لکھا کچھ گزارش کرنا چاہے گا اگر یہ ہمارے کنٹرول میں وہ خان صاحب نے بھیجے تھے وہ اب دکھا سکے ذرا تو اس سے اچھی بات چیت ہو چکی ہو سکے گی یہ آپ ہمیں یہ نکال کے بھیجے ہیں آپ کے سامنے ہیں آپ کے اوپر ہے تمہارا اس کے بارے میں آپ سے گفتگو نہیں کرنا چاہتا لیے بہرحال تبصرے ہیں جو نہایت تکلیف پہنچاتے ہیں اور کیا ایک مسلمان کو ذبح ہے اس سے کسی دوسرے کے مذہبی پیشوا کو جس کو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں اور ان کے لئے دل میں احترام پر جذبات رکھتے ہیں اس طرح سے بات کرنا درست ہے یا نہیں ہےآگے بڑھتا ہے لیکن پچھلے کئی سالوں سے ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں آپ کو ہی اپنا مرزا صاحب کی کتابیں پڑھنی ہے آپ نے بس اپنی کتابوں کی مخالفت میں لکھی گئی یوں ہی دیکھتے ہی پیش کرتی ہے اور جہاں تک عمر کا سوال ہے یہی سوال بہت تفصیل کے ساتھ ہم نے شاید آپ کی طرف سے آیا ہو یا کسی اور کی طرف سے ہم نے ہمارے اس پروگرام کو ڈسکس کیا ہوا ہے اور اس کا بہت مفصل جواب دیا ہوا ہے تو پھر اس کا ذکر کیا ہے عمر کے حوالے سے کہ مختلف عمر علیہ السلام کی تحریرات میں جو بات سمجھنے مخالفین پیش کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے مختلف موقعوں پر اپنی عمر کے فرق کو بیان کیا گیا ہے اور پھر کوئی بھی ہے یہ چیز پروگرام ہے آپ جا کر رہا ہے کو جو اس کی صفت ہے اس کا پریکٹیکل بھی سکتے ہیں ہم اس کو دیکھ سکتے ہیں لیکن یہاں اس نوع کے بنگلہ مختصر مختصر رابطہ کر لیتے ہیں صاحب آپ نے بھی سنا ہے خان صاحب کی گفتگو آپ کے سامنے خان صاحب کے سوالات بھی ہیں آپ نے ان سے ان کے طریقے بھی آپ کے سامنے ہے تو اس بارے میں آپ کو شرم آنا چاہیے تو فرما لیں اور پھر مزید دونگا عمر کا سوال ہے آپ اس بارے میں کچھ روشنی ڈال دیں گولیاں تفصیل سے بات ہوئی ہے لیکن مجھے بتا دینا جہاں تک ان کے سوال کا تعلق ہے اصل میں ہوتا ہے اسلام نے سوال کو کنڈم بھی کیا ہے وہ سوال کی تعریف بھی کی ہے قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے ہم تریدون ان تسئلوا رسولکم البرص والجذام وسیء کیا تم بھی اسی طرح سوال کرنا چاہتا ہے جس کا موسی سے سوال کئے گئے تھے تو یہ اللہ تعالی نے اس طریقہ سے سوال کرنے کو پسند نہیں فرمایا اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ کثرت سوال سے بچو اس لیے کہ تم سے پہلے بعد میں تین قسم کے سوال کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں اور لیکن دوسری طرف ان حضور صلی اللہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اچھا سوال آدھا علم ہے اس سے ثابت کیا ہوا ہے کہ دیکھیں سوال تین قسم کے ہوتے ہیں ایک سمال وہ ہے جو علم حاصل کرنے کے لیے تحقیق کے لیے کیا جاتا ہے یہ بہت اچھی چیز ہے اور دوسرا سوال ہوتا ہے جو دوسرے کا علم جاننے کے لیے کہ اپنا علم ظاہر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یہ تکبر کی علامت ہوتا ہے اور تیسرا سوال ہوتے ہیں جو محاذ بیٹری کی غزل وجہ سے تمام تر آنے کی وجہ سے ایک دوسرے کو کسی نہ کسی طریقے سے بہت لاجواب کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ بھی تکبر کی علامت ہے تو بہت سا مال جو تک بالکل ساکت بیٹھے ہیں یا تو سچ ہے وہ کبھی برکت پیدا نہیں کیا کرتے اور وہ جو اہل علم حاصل کرنے کے لئے ٹی آئی کی طرف سے نیوٹرل ہو کے کیا جائے اس کی اصل تعریف کرتا ہے اس لیے خان صاحب سے میری عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ بار بار کہتے ہیں میری تسلی نہیں ہوتی تسلی کی اصلاح ہو اپ جو امید جو فوٹو بھیجتے ہیں وہ مخالفین کی کتابوں کے فوٹو کو اتار کے میں بھی تمہارے ہیں اس کا مطلب حاصل کی تعبیر دیکھتے نہیں صرف آپ کا انتظار مخالفین کی کتابوں کے اوپر ہے تو اگر مخالفوں کی کتابیں پڑھنی ہے تو پھر عہد و صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے ان کی کتابیں پڑھے اور پھر دیکھیں کہ کیا آپ کو اسلام کی سمجھ آ جائے گی ہرگز نہیں آئے گی ایسے تو الا بذکر اللہ تطمئن القلوب اللہ کے ذکر کے ساتھ دلوں کو اطمینان ملتا ہے اور اللہ کا ذکر جو ہے یہ اللہ کا حکم ہے کہ خدا کے حکم سے اللہ کے ذکر تھے اس سے اطمینان ملے گا اور اللہ کا ذکر ایک عبادت الہی ایکس دکھائیں جس کو عام طور پر کہا جاتا ہے اس کے علاوہ ہر وہ کام جو آپ خدا کی خاطر کرتے ہیں وہ بھی ذکر الہی ہے اس لئے میری درخواست ہے کہ چیک کرلیں اگر آپ کرتے ہیں تو ہم بھی کرتے ہیں تو دیانتداری کے ساتھ تحقیق کی نظر سے ہونا چاہیے ہم آپ کی نیت پر شک کرنے کے مجاز نہیں ہیں لیکن آپ جو تصویریں بھیجتے ہیں وہ ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ پھر ہمیں یہ سبق پڑھنا شروع ہو جاتا ہے آخر انسان ہیںمرزا صاحب نے کہا کہ میں اللہ کی محبت سے بولتا ہوں ٹھیک ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کے نمائندے کو ان اللہ و ان ھو الا وحی یوحیٰ کے نبی پاک صلی اللہ وسلم اپنے گھر چلی بولتے بلکہ جو کچھ نہیں ہوتی ہے اسی کے مطابق ہوتے ہیں لیکن بعض معاملات میں جب استفسار کرتے ہیں تو وہاں آ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اسی قسم کے خیالات سے غلیظ سامنے آتی ہیں جو دنیاوی معاملات ہیں ان کے بارے میں رسول پاک صلی اللہ وسلم نے فرمایا عدل تمام امور دنیا کو کہ جو دنیاوی امور ہیں وہ تم مجھ سے بہتر سمجھتے ہو اور جہاں تک دینی معاملات ہیں ان کے بارے میں ضرور ہے کہ آپ اللہ کے بلوائے چلتے ہیں دینی معاملات میں اللہ تعالی کی رہنمائی کے بغیر اپنی کرتے تھے اور یہی مرزا خان کا مطلب نبی ہمیشہ ہی کرتا ہے کہ جو دینی معاملات ہیں وہ اللہ کے چلائے ہی چلتا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں کوئی عقیدہ بناتا اور جہاں تک دنیاوی معاملات ہیں کہ تاریخ پیدائش کیا ہے یہ کیا وہ کیا ہے اب آپ نے 1848میں بیان کئے کے آپ کا مطلب وہاں سے نکلتا ہے اور باقی جو کتنے مقامات پر حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی کتاب میں بیان کئے ہیں ہم پر پیچھے بیان کر چکے تھے وہ آپ چھوڑ جاتے ہیں کیونکہ ٹائم تھوڑا ہی میں سرفراز کر کے وہ تمام حوالے نہیں دوں گا اس میں آپ نے اپنی عمر کا فرق بیان فرمایا ہے اور جہاں تک اس کا تعلق کی تاریخ پیدائش کا پتہ نہیں وہ پہلے رسول پاک صلی اللہ وسلم کی تو دیکھ لیا حضور صل وسلم کی دعا کرتے ہیں اس تعلیم پر بیان کرتے ہیں مفسرین اور موبائل جو ہیں وہ بھی اس میں بھی اختلاف ہے عباس صاحب بیان کرتے ہیں کہ رسول بادشاہ سونگ بیان کرتے ہیں تو اس سے تو فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی آپ کی پیش گوئی کی بات کہوں وہ پیشگوئی ہم حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اسی سال یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ ہی پٹھان کرکے میں تفصیل میں نہیں جاتا اسے ادا کرتا ہوں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ آپ کی عمر زیادہ ہے اور آپ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں سو سال قبل طالبان کا کہ آپ کی عمر کم ہے حالانکہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب اس وقت موجود تھے جب حضرت آدم اردو تھے اور ان کا رسالہ ہے اشعار سے سننا 1893 کا رسالہ ہے جلد نمبر 16 اور نمبر ہے اس کا پانچ اس کا صفحہ نمبر 141 مولوی محمد ریاض علوی محمد حسین بٹالوی صاحب لکھتے ہیں کہ میری عمر اس وقت صالحات الانشاء  جانی قادیانی میں پچاس سے متجاوز ہے تو قادیانی کی عمر ضرور سے متجاوز ہو گی یعنی کیا مطلب ہے کہ جب ان شان عثمان حضرت مسیح علیہ السلام کی کتاب شبی ہے اس وقت لوگ کہتے ہیں کہ میری عمر یعنی محمد حسین بٹالوی صاحب کی عمر پچاس سے متجاوز من اور حضرت مسیح علیہ السلام قیامت سے متجاوز ہے اگر سے متجاوز کتنی متجاوز ہو گئی چلی کا لگانا کس سال ہوئی اب جانے ہی اٹھارہ سو بانوے میں اگر اٹھارہ سو بانوے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر 18 سال بنتی ہے تو انیس سو آٹھ میں آپ کی بات ہوتی ہے اس میں 16 سال نہ کریں تو دس سال بنتی ہے کہ ان پر یہ مولوی محمد حسین بٹالوی کی یہ تحریر آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اس تحریر کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر سو گئی ہے اور پھراسلام علیکم  ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں

 68 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: