Rah-e-Huda – Khilafat Taaruf aor Ahmiyyat




Rah-e-Huda – Khilafat Taaruf aor Ahmiyyat

راہ ھدیٰ ۔ خلافت تعارف اور اھمیت

Rah-e-Huda | 22nd May 2021

منزل نہ بالا دعا ایس مس اللہ الرحمن الرحیم اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے ساتھ ہمیں ان کی خدمت میں حاضر ہیں نظریں ہمارا پروگرام ہمیشہ کی طرح لائف کرسکتے ہیں جاتی رہے گی آپ سے رابطہ کر سکتے ہیں انشاءاللہ کوشش کریں گے کہ آپ کو واپس کال کرکے آپ کو شامل کریں اسی طرح واٹس ایپ جیسے بھی ہم آپ کے سوالات کر رہے ہیں ان کے ساتھ آج ہمارے ساتھ گفتگو اسطرح سے ہیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں پروگرام راحت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہمارے ناظرین کو انٹرویو کریں جس پر آپ سے رابطہ کرسکے جماعت احمدیہ کا بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق آپ کے بارے میں سوال کیا حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو ہم سے جماعت احمدیہ جماعت ہے جس کی بنیاد کسی اور نے نہیں بلکہ اللہ تعالی کی نصیحت امام مہدی نے خود جو اس وقت اور اس سے پہلے خدا تعالی نے خود اس جماعت کی بنیاد رکھی یہ ہم بھی ہوا کہ رسول اللہ کا بیان رحمتیں اور قدرتی پودے کو یعنی جماعت ہے خدا تعالیٰ نے آپ کے لئے اپنے ہاتھوں سے اپنی رحمت اور قدرت کے نشان کے ساتھ قدرت کے ذریعہ سے اس کو لگایا ہے اور خدا تعالیٰ نے خود اس کی ذمہ داری لی ہے کہ اس موضوع پر ایک مضبوط درخت بن جائے تو اللہ تعالی کے فضل سے آج جیسے آپ دیکھتے ہیں ایک سے زیادہ گزر چکا ہے جماعت احمدیہ دنیا کے 120 سے زائد ممالک میں قائم ہے اور وہ کام سرانجام دے رہی ہے جس مرض کے لئے اللہ تعالی نے اپنے مسلمان خود کیا تھا جو آپ کی زندگی کے بعد مرتبہ قائم ہوئی کچھ عرصے کے لیے رہی اور جس کے نہ ہونے کی وجہ سے رفتہ رفتہ کسی میں پہنچ گئی ہے جو اس کا ہے اور سب لوگ یہ جانتے ہیں کہ حقیقت تھا خلافت کے فقدان کی وجہ سے امت میں یہ گار اور اور یہ حالت ہے اپنی تعریف کے مطابق ہمارے اس پروگرام میں انشاء اللہ بات کریں گے خلافت کا ہے کیا اور جماعت احمدیہ کو جو خدا تعالیٰ کے راستے میں قدرت ملی ہے وہ کسی عظیم نعمت ہے جس کی ہے اور وہ تمام برکات جماعت احمدیہ کو آگے ملتی جا رہی ہیں جو نبی کے وجود سے وابستہ ہوتی ہیں جو خلافت کے ذریعے سے جاری و ساری رہتی ہیں تو الحمدللہ آج جماعت احمدیہ حضرت مرزا مسرور احمد عبداللہ بن عبدالعزیز کی مبارک سیاست پانچویں خلافت کی قیادت میں آج دنیا بھر میں خدمت انسانیت کی خدمت اسلام ہے اور یہ پروگرام بھی اسی مقصد کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جس میں اسلام رحمت اورامراض کے لیتے ہیں کیا معنی ہیں سیاست کی کیونکہ قرآن مجید میں کئی مختلف جگہوں پر خلیفہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے مختلف ٹیکسوں میں استعمال ہوتا ہے لوگوں کے دل میں مختلف نظریات ہیں اس کے متعلق تو جسے سن کر آپ ہمیں اس بات کا تذکرہ کیا وہ معلوم ہوتا ہے تو وہ کس قسم کی خلافتیں ہیں پہلے ہم خلافت خلیفہ ہیں وہ جانشین موجود بھی ہو سکتا ہے وقتی طور پر غیر حاضر ہوتا ہے اگر وہ مستقل طور پر وفات کی شکل میں خرابی اور ایک قوم کے دوسری جگہ جانشین ہونے کے معنوں میں بھی استعمال مال ہوئے ہیں عربی زبان کی معروف کتاب ہے اور مستند عربی لغت قرآن کریم کے حوالے سے اس میں لکھا ہوا کہ خلیفہ کہتے ہیں یا خلاف وغیرہ ہو ایوب مقام عجم جو کسی دوسرے کے جگہ پر اس کی جگہ لینے کے لیے اس کے جانشین کے طور پر کھڑا ہوں اس کو خلیفہ کہتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر عقل ماند آدمی ہیں معروف ہمارے شریف کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ شارع الامام الزیلعی ساہوکا امامت کے ایسا واجب الاطاعت امام جس کے اوپر کوئی اور دنیوی لحاظ سے امام نہ ہو اس کو خلیفہ کہتے ہیں تو جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو قرآن کریم میں تین قسم کی کم ازکم خلافت کا تذکرہ ملتا ہے ایک نبی کو بھی خلیفہ کہا گیا ہے دوسرا نبی کے بعد اس کی قائم مقامی میں جو جانشین ہے اس کی قوم فیصلہ کرنے والا ہے اس کو بھی خلیفہ کہا گیا ہے تیسرا بعض اقوام جو دوسری قوم کی جگہ لے لیتے ہیں ان کو بھی خلیفہ کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے اسی طرح کیا اور اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو مخاطب کرکے عورتوں کا تذکرہ کرنا شروع کر کے آغاز میں فرماتا ہے ان نجعلوک فی الارض خلیفہ میں تو زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں نبیلہ تھے نبیلہ ہونے کے ساتھ ساتھ خلیفہ بھی پتا چلا کہ جو بھی نبی ہوتا ہے وہ بھی خلیفہ اللہ ہی ہوتا ہے ہے ہم نے تجھے دنیا میں خلیفہ بنایا ہے اللہ کے ہم معنیٰ بھی خلیفہ کے لفظ کو استعمال کیا ہے اس کے لئے ایک کون جو دوسری قوم کی جگہ لیتی ہے اس کی جانشین بنتی ہے اس کے لیے بھی خلیفہ کا خلفاء کا لفظ استعمال کیا کیا ہے مثال کے طور پر اپنی قوم کو کہتے ہیں کہ فلاں امام بارگاہ میں نوحے ن ساکن و ماں کو یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا ہے صالح نے بھی اپنے قوم کو کہا کہ اس کو ایک دفعہ میں نے تمہیں زمین میں ان کی جگہ قائم کر کے بعد آتی ہے اس کو خلیفہ کہا گیا نبی کی وفات کے بعد اس کی قوم کی رہنمائی کے لیے قائم مقامی کے لیے جواب نہیں دیا میں ان کے لئے بھی خلیفہ کا لفظ استعمال ہوا ہوا اسلام کوہ طور پر تشریف لے گئے ہیں اور آپ کی ہیں اپنے بھائی سے کہا کہ خلیفہ کون ہے کہ میرے بعد عمل موجود نہیں ہے موت کی شکل ہے آجا ویسے کوئی اور ہے تو اس کا جانشین ہے اس کو بھی خلیفہ کہتے ہیں ان کا ناول یا اس قسم کے لوگوں کے لیے بھی خلیفہ کا لفظ استعمال ہوا اللہ کریم محمد انا انزلنا التوراۃ فیھا خدا وال ہم نے بنی اسرائیل کو تورات دی تھی اس میں ہدایت بھی تھی نور بھی تھا یہاں کون بھیجو نہ جی نا سلام اللہ علیہا ہم تو وہ ہیں جو ہدایت یافتہ تھےآپ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے جو بیعت کے فیوز تھے ان کو قوم تک پہنچاتے رہے بلکہ موسی علیہ السلام کی جانشینی کے طور پر عیسی علیہ السلام کا تذکرہ ہوا وہ بھی ایک خلیفہ کے طور پر آئے گا تو میں اس کا تذکرہ موجود ہے وقفہ لیا ہے کہ نہیں دیا تو رات کو پورا کرنے آیا ہوں تو جب اس قسم کے خلاف تو کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امت محمدیہ میں کس قسم کے خلاف قائم ہوگی تو جب اس کا سوال پیدا ہونا اس کا جواب خود خدا تعالیٰ نے ہمیں سورہ نور جن میں بیان کر دیا ہے کہ جو بھی اقسام خلافت کی ممکن ہے ان سب اقسام کا امت محمدیہ میں پیدا ہونا موجودہ میں آنا ممکن ہے ہے پہلے کون نبی تھے جس میں نے مثال دی اس داؤد علیہ السلام کی حضرت آدم علیہ السلام کی تو آنے والے امت محمدیہ میں آنے والے مسیح موعود کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں چار دفعہ نبی اللہ کہتا ہے ابوداؤد میں اللہ تعالی کے نبی کہتا ہے کہ جلالی صاحب حیدرآباد انہوں نے بھی ان کے درمیان کوئی نبی نہیں دیا بلکہ اسلامی روایت نقل کی ہے ہے کہ جب امت محمدیہ کے فضائل کا توصیات کا علیہ السلام کو علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ خدا مجھے علیہ السلام کا خدا مجھے کافر بنا دیا اس عمر میں بھی بنا دے یا اللہ صل اللہ نبی وہ میرا نبی ہے وہ امت محمدیہ میں نبی اللہ کے معنی ہم معنیٰ بھی خلیفہ کا تذکرہ موجود ہی ہی ہی ہی ہی ہی نہ کے لیے بھی موجود ہوں گے میں نے عرض کیا کے بعد اس کے خلاف ہوتے تھے نبی رسول اللہ صلی وسلم بخاری شریف بنی اسرائیل کے آخری نبی کے علاوہ دیگر خلاف ہیں جس کے حیات میں دیکھ عمر عثمان علی رضی اللہ ہی اس کے دوسرے آخرین کے دور میں مسیح موعود کے دور میں خلیفہ ہیں وہ بھی موجود ہیں ہم تو لفظ 1908 کم ازکم خلاف اہل نبی اللہ کے معنوں میں شروع ہے وہ جاری و ساری ہے جو ان کے ساتھ وابستہ ہے اسی کے ساتھ ساتھ رکھیا بستا ہے جو انسانوں کے جانشیں نہیں ہے یہ سمجھنے والی ہے کوئی مستقبل نہیں ہے جب آپ نے کیا دیا ہے اور آپ خلافت بھی قائم کی جائے اس میں اس کی تعریف ہوتی ہے اس پر آگے آگے دیکھ لیں تو اس حوالے سے خاکسار خادم صاحب آپ سے درخواست کرے گا کہ ہمارے کا وعدہ تھا اور وہ وعدہ جو خلافت کے ساتھ بسر تھا اور بعد میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے وہ خلافت قائم ہوئی تو اس کے تاریخی لحاظ سے والد صاحب کچھ گفتگو فرما دیں جزاک اللہ یہ ہے کہ نبی کی موجودگی میں تو کسی کا طرف سے حال ہی نہیں آتاآپ کا پیار محبت اور اس کا ہوتا ہے اس کے صحابہ کو کہ وہ اس کی وفات کا تصور ہی نہیں کرتے لیکن جب نبی کی وفات ہوتی ہے تو اس وقت یہ فکر دامن گیر ہوتا ہے کہ اس کے بعد آپ مومنین کی جماعت کا کیا ہوگا یہی کہتی ہے کچھ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھی کیا آپ کی زندگی میں تو کسی کو یہ تصور نہیں تھا کہ آپ سو جائیں گے لیکن جب آپ کی وفات ہوئی ہے ہے اس وقت صحابہ کے اندر ایک دیوانگی کا عالم تھا اس لحاظ سے صدمے کے لے کے کی وجہ سے اور مسجد نبوی میں جمع ہو رہے تھے ایک طرف اور دوسرا ایک ہی جگہ تھی وہ سادہ تھی جو حضرت ساتھ نبھاتا چلا تھا کہ دوسرا بنانا تھا وہاں بیٹھ کے معاشرے میں رہتے تھے تو وہاں بھی لوگ جمع ہو رہے تھے تھے مسجد نبوی میں زیادہ کر مہاجرین تھے کیونکہ ادھر مہاجرین کے گھر سے اور جو انسان سے وہ زیادہ تر اس علاقے میں رہتے تھے جو سٹی کا علاقہ تھا اس وقت مسجد نبوی میں جو کہتی تھی صحابہ کی ہوئی تھی کہ ان کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حالت تھی کہ آپ تلوار لے کر کھڑے ہوئے ہیں کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ حضور صلی وسلم فوت ہوگئے ہیں تو میں کلمات کی گردن اڑا دوں گا ایسی حالت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے فیصلے اور اپنے قرآن کریم کی آیات کے طریقے سے سمجھایا کیا اور اس وقت جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ آیت پڑھی کہ ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل تو مجھے یہ محسوس ہوا کہ جیسے آج ہی نازل ہوئی ہے اور یعنی اس کا مطلب اس سے پہلے مجھے اس بات کا خیال ہی نہیں تھا کہ اس آیت کے اندر آنحضور صلی اللہ انہوں نے اس وقت اس معاملے کو سنبھالا اور جب صحابہ کو یہ یقین ہو گیا کہ حضور صلی ہے تو اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حضرت علی اور دیگر صحابہ سے میں مصروف ہوگئے گئے اب دوسری طرف نیفہ میں میں بہت زیادہ تعداد جمع ہو رہی تھی جن میں اکثریت ہو انصار کی سیاست کا حاضری بھی ہوں گے لیکن زیادہ تر بھائی وہاں پہنچے تھے اب وہاں بھی جب یہ کہتی ہے اس یقین ہوگیا کہ یہ خبر پہنچی کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ایک سوال پیدا ہوا کہ آپ آئندہ کیا ہوگا تو وہاں پر یہ باتیں ہونے لگیں کہ آئندہ کوئی جانشین ہونا چاہیے کوئی خلیفہ ہونا چاہیے ورنہ تو جماعت منتقل ہو جائے گی اس کو نہیں پتہ ہونا چاہیے مدینے کے اندر جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ انسان کی تعداد زیادہ تھی اور مہاجرین کی تعداد کم تھی اس وقت پھر وہاں سے جو نثار تعداد میں بھی زیادہ سے انہوں نے یہ مشورے میں بیان کیا کہ ہم چونکہ تعداد میں زیادہ ہیں اور بعد میں یہ ذکر کیا کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے اور ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید و نصرت کی لہذا انسان کا یہ حق ہے کہ خلیفہ ہونا چاہیےحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بات کی اور پھر ان کو سمجھانے کی کوشش کی تو پھر وہاں یہ بات بھی کے چلے گھر لے کے ایک خلیفہ بننے سے ایک ہم ہیں کسی ایک انسان سے سمجھایا گیا کہ یہ طریقہ نہیں خلیفہ پہلے کیوں نہیں یہ خیال رکھنا اور احادیث بیان فرمائیں گے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہاجرین کو یہ کہا گیا کہ ان کا خیال رکھنا جائز ہے انسان کو نہیں فرمایا کہ آپ مہاجرین کا خیال رکھیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ وسلم کی منشا یہ کی کہ خلیفہ ہجری میں سے ہونا چاہیے آئے تو پھر اس کے بعد کافی سارے جوہر انصار صحابہ تھے انہوں نے اس بات سے لیکن کیا یہ بات درست ہے اور حضرت بشیر بن نعمان رضی اللہ تعالی عنہ کو کھڑے ہوئے تو انہوں نے پھر انصار کو مخاطب کر کے کہا کہ دیکھیں ہم لوگوں نے یہ درست ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بھی کیا پر ایمان لائے اور آپ کی تائید و نصرت بھی دیکھنی ہے جو ہم ایمان لائے ہیں ان میں اسلام قبول کیا ہے اور آنحضور صلی علیہ وسلم کی تائید و نصرت کرنے کا میں شرف حاصل ہوا ہے یہ ہم نے کسی عمارت یا خلافت کے لالچ میں تو نہیں کیا تھا یہ تو ہم نے اس لیے کیا تھا کہ اللہ تعالی ان سے راضی ہو جائے اس لئے آج ہمیں اس بات کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے اس کے بدلے میں اسے اس طرح انصار صحابہ تھے ان پر اس کا اثر ہوا اور وہ اس سے راضی ہو گئے انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹھیک ہے خلیفہ حاضری میں سے ہونا چاہیے تو اس سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابوبکر کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں آپ کے اندر موجود ہیں ان میں سے جس کو چاہیں آپ کرلیں تو اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں فرمایا کہ نہیں ابوبکر تم ہی وہ زیادہ افضل ہے یا حضور صلی وسلم کے ساتھ ہی رہے ہیں اور بہت سارے کام میں آپ کے ساتھ شامل رہے ہیں اور ہماری نظر میں حضرت ابوبکر سے بڑھ کے کوئی نہیں ہوگا طرح جب ان دونوں صحابہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا نام پیش کیا تو تمام انسانیت کو قتل کیا اور پھر اٹھا کر سر اٹھا کے چاروں طرف سے اس نے وہاں پر موجود تھے سب دوڑے بیعت کرنے کے لئے اور اس کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی متفقہ طور پر بیعت کر لی گئیں تو وہاں سے موجود تھے یہ سب رس کے اقتباسات سے باہر پھیلی باہر نکلیں اور دوسرے صحابہ کو جو مسجد نبوی میں یا دیگر علاقوں میں موجود سے پتہ چلا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ منتخب کرلیا گیا ہے وہ سارے کے سارے پیسے بھی جوق در جوق آنے لگے اور اللہ تعالی عنہ کی بیعت کر لی اور اس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو متفقہ طور پر پہلا خلیفہ منتخب کر لیا گیا اور یہ اللہ تعالی نے ایک بنیاد مقرر کی اجرت محمد مصطفی صلی اللہ وسلم کی وفات کے بعد کے تین کی سلطنت کے لئے آپ کی مضبوطی کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ پر تمام صحابہ کو جمع کردیا اور اس تنظیم کی مضبوطی کی بنیاد خدا تعالی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے خبر تھی اور یہ یقین بھی تھا کہ ایک ایسی جماعت چھوڑ کے جا رہے ہیں جن کو خدا تعالی قیامت سے نوازے گا بلکہ کچھ آپ کے دور خلافت کرے گا تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعد میں ہمارے دیگر خلفائے راشدین کا انتخاب عمل میں آتا رہاکی جماعت منتخب کرتی ہے لیکن مرضی خدا تعالیٰ کی چلتی ہے انسان کی نہیں چلتی لوگوں کی نہیں چلتی خدا جس کو چاہتا ہے لوگوں کے ذریعے المومنین کے جماعت کے ذریعہ خلیفہ کا انتخاب کرواتا ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے یستخلفنھم فی زمین میں خلیفہ بنائے گے اور اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وہ خود زمین میں خلیفہ منتخب کرتا ہے اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بھی وہ بھی بالکل واضح بتاتی ہیں کہ خلیفہ کے انتخاب کی مرضی سے ہوتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث حضرت عائشہ سے مروی ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آیا کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں ابوبکر اور ان کے بیٹے کے متعلق کچھ خلافت کے بارے میں لکھ دوں تاکہ دوسرے ارادہ کرنے والے یہ تو منع کرنے والے خلافت کے ان کے دل میں یہ بات نہ جائے لیکن پھر میں نے اس خیال میں یہ خیال اپنا اس وجہ سے ترک کر دیا کہ اللہ تعالی ابوبکر کے سوا کسی کی خلافت پر راضی نہیں ہوگا اور مومنین کی جماعت خلافت ابوبکر کے خلاف علاوہ کسی کے ہاتھ پر اٹکی ہوئی نہیں سکتی تھا کہ عشق کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے خدا تعالیٰ ظالم ہے وہ خود ہی کرے گا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں آتا ہے کتاب ہے تفسیر ہے اس میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بکری یلی الخلافۃ آبادی کا فالتو منبع کے اذا قال رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے العلیم الخبیر کے بعد ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت نے پوچھا کہ آپ کو یہ کس نے بتایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے خدا نے مجھے یہ بتایا ہے اسی طرح حضرت عثمان کے بارے میں روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان اللہ تعالی آپ کو ایک میز پر آئے گا اور منافقین کوشش کریں گے کہ وہ تجھ سے وہ کمیز اتروا دیں لیکن اس کو کبھی نہ اٹھانا یہاں تک کہ تم مجھ سے اکیلے نہیں مرتے دم تک اس تمیز کو نہ پہنچتا اتارنا اور وہ در حقیقت خلافت کی ہی کمی تھی یہ تمام احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہے وہ خلافت کے منصب کے متعلق یقین رکھتے تھے کہ آپ کی وفات کے بعد اس منصب جو ہے یہ منصب یہ اللہ تعالی نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور وہ جس کو اس منصب کا اہل سمجھا تھا اس کو پیس کر دے گا اور ایک بات جو قدر مشترک ہمیں تمام حضرات یہ وہ ہے مشورہ تمام خلفاء کے انتخاب میں مشورہ بحال کیا گیا ہے ایک از حضرت عمر سے روایت کہ خلافت کا اعلان مشورہ دیا لیکن انتخابات مختلف انداز میں کیے گئے جیسے عباس شاہ رب رب کر کے انتخاب کے بارے میں فرمایا حضرت عمر کا انتخاب ہے حضرت ابوبکر نے صابرہ نے صحابہ کو جمع کیا اور ان سے حضرت عمر کی خلافت کے متعلق پوچھا جب دیکھا کہ تمام صحابہ کا اس پر اتفاق ہے اور انہوں نے اتفاق کیا کہ حضرت عمر کی خلافت کے ایک چھوٹے سے ان کے ظلم نہ کرے حضرت ابوبکر نے فرمایا تو اس مشورے کے بعد حضرت ابوبکر نے اپنی زندگی میں حضرت عمر کی خلافت کا اعلان فرمایا جس پر تمام مسلمان جو ہیں انہوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی اسی طرح جب حضرت عمر کی آخری ایام آئے ہوئے اور آپ کو یقین ہوا کہ اب آپ کی موت قریب ہے تو قریب ہے تو آپ نے اس شعبہ کے بعد صحابہ کی چھ رکنی کمیٹی تجویز کی گئی جس میں حضرت عثمان حضرت علی حضرت طلحہ حضرت سعد بن ابی وقاص یہ چھ صحابہ جو ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور فرمایا کہ ان میں سے جس پر اتفاق ہوا اور اگر ان میں سے ہوجائیں تو اپنے بیٹے کو کہا کہ آپ کے حق دار تو نہیں لیکن جس طرح آپ یہ نہ کہے کہ یہ خلافت ہے تو آپ نے اس بات کی نفی فرمائی ہوا حضرت عبدالرحمن بن عوف جواب امیر مقرر ہوئے تمام صحابہ کرام کے حق میں اپنے والد صاحبحضرت علی حضرت عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عثمان کی خلافت کا اعلان کیا اور اس طرح تمام مسلمان حضرت عثمان کے ہاتھ میں اکٹھے ہو گئے جب حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا اور مدینہ میں ایک انتہائی اصرار یہ حالت تھی کہ منافقین بہت سارے جمع تھے جو صحابہ تھے جو اسلام کا درد رکھنے والے تھے ان کے اندر ایک کے سرائیکی فیقیر تھی کہ اب ہم اسلام اور مسلمانوں کا کیا ہوگا تو ان کو سارا جمع ہوئے اور حضرت علی کو فرمایا کہ آپ بیٹھے تھے آپ کے ساتھ تھے ہم اکٹھا ہونا چاہتے ہیں تو حضرت علی یہ نہیں چاہتے تھے لیکن جب اتنا زیادہ مسلمان اکٹھے اور تمام کا یہ اصرار تھا کہ حضرت علی کوہی بیت لینی چاہیے اس طرح حضرت علی جو ہے تو ہم ان تمام انتخابات کو دیکھتے ہیں کہ خلافت راشدہ میں یہ جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں یہ تمام کے تمام درست اندازہ لگانے کے لئے ہمارے لئے ایک راستہ ایک سبق ہے ان میں سے حضرت عثمان حضرت ابوبکر کو تھوڑی سی بحث و تمحیص کے بعد تمام مسلمانوں نے اتفاق کیا وہاں پر بیٹھ کر لیں اسی طرح ایک خلیفہ اپنی زندگی میں دوسرے خلیفہ کا انتخاب کر سکتا ہے مشرف کے ساتھ جیسے حضرت ابوبکر نے فرمایا اسی طرح حضرت عمر نے جس طرح ایک کمیٹی بنائی کہ ایک کمیٹی کے ذریعے اپنی زندگی میں اس طرح بھی ہو سکتا ہے اور جس طرح حضرت عثمان کا انتخاب ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتخاب تھا کہ جس مسلمانوں کے اتفاق کرے وہ بھی خلیفہ منتخب ہو سکتا ہے اور اللہ تعالی کے فضل سے جماعت احمدیہ میں یہی طریقہ رائج ہے کہ باقاعدہ کمیٹی کے ذریعے اس انتخاب خلافت کا انتخاب ہوتا ہے اور اللہ تعالی جس کو منتخب کرتا ہے اس کو خلیفہ بنا دیا جاتا ہے اس طرف کوئی خود اپنے آپ کو نہیں کرتا اور ایک ہیں جو بعد میں بدقسمتی سے میں جو راست کا سلسلہ ہوا وہ حضرت عمر کی عمر میں نظر آتا ہے کہ وہ بالکل ناجائز خلاف توقع نہیں ہے جملہ بہت ہو چکی ہے یہاں پر ہمارے پاس آنے شروع ہوگئے ناظرین کے کچھ سوالات ہیں جو بنگلہ دیش سے ہیں اللہ اپنی ٹیلی ویژن کے بعد بند کر دیا سر فون پر بات کریں آپ کو کال کرتے رہتے ہیں آپ کو تو پتا ہونا چاہیے تو یہاں پر بھی سوال کے ساتھ رابطہ بھی آئے گا تو اللہ اور خلیفۃ المسیح میں کیا فرق ہے اور اگر آپ اس بارے میں آپ کے پاس میسج آیا ہے وہ خاک چاہے گا کہ ہم سب اس کے بارے میں بتائیں یہ ہمارے دو دوست ہیں پاکستان سے احمد رفیق صاحب ہیں وہ پوچھنے کے اگر خلیفہ خدا بناتا ہے تو خلافت کمیٹی جیسے جماعت میں بھی رائج ہے ابھی ہم نے دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تھی تو جنت میں جانے کا انتخاب کیا تو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالی نے خلافت کو قائم کیا ہے اور جب کہ یہ انسان ہے جو اصل میں مسئلہ بن رہے ہیں جس میں یہ ذکر ہے کہ جس طرح پہلے بتایا کہ براہ راست لوگوں کو منتخب کر لیتا ہے وہ انبیاء کے آتے ہی باغات انبیاء کے ذریعے مومنین کے ذریعے کوئی کام کرواتا ہے اور اس کے گھر سے کیا ہوا کام اپنی طرف منسوب کر لیتا ہے اور یہ بات اہم نہیں کر رہے بلکہ قرآن کریم خود کہہ رہا ہوں کئی بار کی طرف پھینکی اور متحدہ اماراتعزت افزائی کے لئے بھیجے کام کرتا ہوں تم سے بچے پیدا ہوتے ہیں مگر خود گانے میں کہتا ہے یہ گلی میں شام جس کو میں چاہتا ہوں دیتا ہوں بات کرو نا عورتیں دیتا ہوں بچے دیتا ہوں تو بعض احکام خدا خود کرتا ہے لیکن عمل وہ خدا تعالیٰ کے کام انسانوں کی طرف انسانوں کے توسط سے ہوتے ہیں آپ نے بھی اس افسر نے بتایا کہ حضور صلی اللہ وسلم کے بعد خلافت کس طرح قائم ہوئی تو کیا جب خلیفہ بنے ہوئے سے خلافت قائم ہوگی تو صحابہ یہ کہتے تھے کہ ہم نے حضرت ابوبکر صدیق کو خلیفہ بنایا ہے یہاں سب کا ساقی خود کہتے تھے کہ اچھا آپ لوگوں نے مذاق میں انہوں نے مجھے خلیفہ بنا دیں میں آپ کو بڑا ہی مشکور ہوں نے جب یہ ہیں کے بعد بات کرتے ہیں اسے امریکہ کے بارے میں کسی کو اعتراض ہوا تو انہوں نے دائیں بائیں باتیں کی جبار عمر بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے کہ اللہ نے مجھے اس کو تقسیم کرنے والا وقاص مانو قسط کو بانٹنے والا بنائے نے کہا کہ مجھے آپ لوگوں نے معطل کردیا کیا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل بعض لوگ کھڑے ہوں گے جن کو لوگوں نے خلیفہ بنایا وہ بیچارے ان لوگوں کی غلامی میں رہتے ہیں پھر انہیں پڑھ رہے تھے مثال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ بخاری میں موجود ہیں ان کا کیا نظریہ ہے کہ بھیا سقیفہ بنو ساعدہ میں وقت دیا گیا ہے پیش گوئی تھا کہ انتخاب ہوا سا تھا وہ چیئرمین کمیٹی نے کیا اللہ کا انتخاب پلایا کا انتخاب ہوا ہے لیکن وہ بھی اللہ کا انتخاب کریں آیا تو اسی طرح اجماعانوشکا سکتا ہے کمیٹی منتخب کر سکتی ہے جس طرح عمر رضی اللہ انہوں نے ایک میڈیکل سٹور کی تکلیف نہ کریں ماسی نے منع برسے مجلس شوریٰ کی مشاورت و برگ ان کے مشاورتی کمیٹی جس کو انتخاب خلافت کمیٹی کہتے ہیں ڈیوٹی ہے ان کا انتخاب کا انتخاب کہلاتا ہے جس نے اشارہ کیا کہ جب خدا کا انتخاب ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور یہ حرکت دیتے ہیں وہ اس جماعت احمدیہ میں جہاں جب خلافت دوسری خلافت سے ہی مسلسل مخالفین کی طرف سے یہ شور اور کوشش رہی کہ خلافت کو ختم کردیا جائے کیونکہ مجھے پتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے گھر جانا ہے تو خلافت کی وجہ سے یہ نظام ہے جو کوئٹہ کرتے رہو گے دوبارہ دنیا میں سوچ کے حامل ہیں خدا تعالی اپنے فضل سے رہنمائی کرتا ہے یہ ہے اور ہم اللہ کے فضل سے خلافت میں وہ تمام آثار پر قادر ہوتے ہیں نبی کی نعتیں نبی کے ذریعے سے آگے متحدہوکر مقابلہ پہنچتے ہیں تو جزاکم اللہ احسن الجزاء تاریخ زمان صاحب کا آیا تھا تو وہ خاکسار بھی اس کی طرف آپ آئے گا آپ کے پاس سب سے پہلے یہ درخواست کروں گا کہ شاہ صاحب یہ جو ان سے سوال کیا کہ اللہ اور رسول میں کیا فرق ہے تو اس حوالے سے اگر آپ یہ ہے کہ ہے کہ لفظی معنی کے لحاظ سے خلیفہ کا مطلب ہے اللہ کا جانشین یا اللہ کا خلیفہ خلیفہ المسیح کا مطلب ہے علیہ السلام کا خلیفہ خلیفہ جیسا کہ اس سے پہلے مقرر رحمت اللہ صاحب وضاحت سے بیان کر چکے ہیں کہ خلیفہ کا مطلب ہوتا ہے جانشین اور جس کا مقصد ہوتا ہے اس کے احکامات کے کانوں کو شریف کو آگے دنیا میں وہ کرتا ہے یا اس کا مطلب ہے ہے اس کی نگرانی کرتا ہے ہے تو اللہ ہی سکتے ہیں کہ ہر نبی جو ہے وہ بھی خلیفہ اللہ ہے اور نبی کا آگے جو خلیفہ ہیں وہ بھی دراصل فاصلہ ہے اور قرآن کریم میں بھی اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو بھی خلیفہ قرار دیا تھا ایک اللہ کو کال ملائیں کالم کی تعریف حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں بیان فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں بیان فرمایا ہے وہ دراصل اللہ تعالی کی صفات کا مظہر ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی صفات ہیں وہ ان کو دنیا میں ظاہر کرتا ہے اور پھر جو اللہ تعالی ان کو صحت عطا فرماتا ہے کہ دنیا میں پیش کرتے ہیں دنیا کے سامنے اور لاگو کرتے ہیں اور ان کی نگرانی کرتا ہے ہے جب جو نبی اور رسول ہوتا ہے یعنی نبی کا آگے خلیفہ کام وہ بھی وہی کرتا ہے جو نبی کو ملے ہوتے ہیں ہیں جو شریعت نبی کے اوپر ہوتی ہیں جو ایک نبی کی اللہ تعالی نے لگائی ہوتی ہے کہ نبی کے کی وفات کے بعد جب نبی اس کا انقلاب خلیفہ بن خیاط تاریخ خلیفۃ بن خیاط کوئی بھی اس نبی کا تو وہ انہی کاموں کو آگے بڑھاتا ہے اب جو انبیاء ہوتے ہیں وہ براہ راست اللہ تعالی کو چودتا ہے ہے اس میں کسی کمیٹی کا سیاست کا دخل نہیں ہوتا لیکن جب نبی کے ذریعے سے مومنین کی ایک جماعت قائم ہو جاتی ہے ایسے مومنین کے اللہ کا رنگ اختیار کرنے والے ہوتے ہیں اور وہ نبی جو خلیفہ اللہ تاوہ بنائے گا خود بنائے گا رسول یا نبی ہونے کی صورت میں کسی کو اپنا خلیفہ بنائے یا رسول کا آگے کوئی خلیفہ مقرر کرے صرف یہ ہے کہ جو رسول ہوتا ہے وہ ڈائریکٹ براہ راست خلیفہ حاصل ہوتا ہے لیکن جو ہوتا ہے وہ بھی اللہ کا خلیفہ لیکن وہ رسول کے واسطے سے ہوتا ہے کہ اس کے انتخاب میں پھر مومنین جو اس رسول پر ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس کے اندر شامل ہوجاتے ہیں لہذا اس کو خلیفہ الرسول کہا جاتا ہے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں آنے والے مہدی کے بارے میں یہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ اس وقت آسمان سے آواز آئے گی کہ از خلیفہ المہدی یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے کیا مطلب کے آسمان سے ایسی نشانی ظاہر ہوں گے جو خدا کی عبادت بن جائیں گے جو ایک اعلان کر رہے ہوں گے کہ یہ اللہ کا خلیفہ مانتی ہے تو مہدی علیہ السلام کو یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ نے اپنا خلیفہ قرار دیا کیونکہ براہ راست خدا تعالیٰ نے ان کو جتنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد جو خلافت چلنے کی و خلافت بھی اللہ ہی کے خلاف ہیں اللہ ہی اس صفحہ کو بھی بناتا ہے لیکن اس میں مومنین کو بھی شامل کر لیتے ہیں وہ مومنین جو اللہ کا رنگ اختیار کر چکے تھے اس لیے اس صفحہ کو حضرت خلیفہ المسیح کہا جاتا ہے لیکن عملاً وہ بھی اللہ ہی کر لیتا ہے خدا جانتا ہے یا نہیں دیا اور وہ بھی اللہ کو بھی پتا ہے کہ نام سے منسوب کی طرح یہ آگے بڑھتے ہیں سوالات بھی لے کے آ رہے ہیں لیکن جیسے ہی اچھا ہوتا ہے آپ سارے سوالات نہیں سکتے لیکن اس کا جوشاندہ ہے جو کسی لیڈر ہے میری کوشش ہے کہ بہتر عمل کرو لیکن عطا الرحمان صاحب انڈیا سے ہیں مثلا حضرت امام صاحب بھی ایسے ہی بشیر احمد صاحب میں بھی ایسے ہی خالد محمود صاحب ہیں پھر اس ملک پاکستان سے اور محمد صاحب جنید دیکھیں گے ہم اگر تو کچھ بچا تو شاید ایک دوسرا تھام لے سکے لیکن اس وقت رستہ دکھاتا ہے جو سب آپ کی طرف جو یہ سوال سامنے بھی پیش ہوا تھا کہ ہر خلیفہ بیکری لازمی ہے آپ ہی نے بھی تاریخ یہ بھی بتایا کہ صحابہ نے بیعت کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تو ہمیں یہی ملتا ہے کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ اسلام لے آئے تو آپ سے بہت لیتے تھے اس کے علاوہ قرآن کریم میں بیعت رضوان کا بھی ذکر آتا ہے جو بھی مسلمان ہوتا تھا وہ اور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرتا تھا اس کے بعد جب وفات کے بعد خلافت کا قیام ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ میں تمام مسلمانوں نے بیعت کی اور مختلف گروہ جیسے شخص نے پہلے ذکر کیا تھا انصار و مہاجرین کے گروہ اور اس کے بعد جو باہر رہنے والے دوسرے علاقوں کے لوگ تھے وہ آتے تھے اور حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کیا کرتے تھے اسی طرح جب حضرت عمر کا انتخاب ہوا تو اس وقت بھی صحابہ ہیں آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر اس طرح دوبارہ خلافت کے نظام میں شامل ہوئے حضرت عثمان اور حضرت علی کی ہڈی آئی تو اس وقت بھی تمام لوگوں نے حضرت علی کو درخواست کی عرض کیا کہ آپ ہمارے خلیفہ ہیں اور تمام اس کے بعد حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت ہوئی بٹتا اور پھر جب بھی باہر سے آتے تھے یا بار بار صحابہ جو باہر تھی اور بعد میں مختلف ادوار میں تاریخ سے ملتا کہ وہ بھی آگے حضرت خلیفہ کے عہد میں بات کرتے تھے جو جماعت اللہ تعالی کے فضل سے جماعتیں آج بھی اسی سنت پر قائم ہے اس لیے ہوئے ہے کہ جو خلاف آج بھی یہ خلیفہ بنتا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت ہوتی ہے جب کوئی احمدیت میں داخل ہوتا ہے وہ بھی بات کرتا ہے کہ اصل میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جاری کردہ ہے یہی وہ سنت ہے جو حضور صل وسلم نے جاری کی جو خلافت راشدہ میں جاری رہی پھر حضرت مسیح علیہ السلام ہی انہوں نے کسی سنت کو زندہ رکھا اور پھر آپ کے جانشین جو خلاف ہیں جو آج ہم پانی کا خلیفہ کے زمانہ میں ہے اسی طرح جاری ہے اور اللہ تعالی کے فضل سے ہر ایک مسلمان اور ایک سعادت ہے کہ خدا تعالی کے اس خلیفہ کے ہاتھ کے اوپر ایک جدید ایک انسان دلی جذبات کا اظہارکیا اس نکتے کو انسان سمجھ لے کہ جو خلیفہ ہے وہ اس رسول کے جانشین ہے اور وہ سب ایک ماں جو صورت حوالے سے چلاتے ہیں وہیں اس کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں تو جب فرمائیے فرمائیے وہ اس کی بیعت کرنا تو صرف کام بھی بہتر ہوئی ہے آپ نے اور یہ ہماری سعادت ہے یقینی طور پر اس کو ہم اپنی جماعت میں کرتے ہیں اور پھر ہر ایک ایسا مجموعہ ہے اس پر تو دل کرتا ہے انسان باتیں کرتا ہے لیکن سوالات کی طرف سے آگے جانا ہے ہمارے پاس عبدالرشید صاحب ہیں وہ دن سے ہی خاکسار یعنی مجھے غلطی لگی ہے اس وقت نہ صرف راجپوت صاحب آج ہم ایسا لمحے عبدالرشید صاحب آپ کی کال نہیں ملی کوشش کریں گے جیسا وقت ہوا لیکن اس راشد صاحب سے ہماری اس کو ملی ہے نہ سراج صاحب کو اپنی تصویر میں شامل کر لیتے ہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ اسلام کی کتب میں نے ایک لفظ پڑھا تھا کہ ہماری غیرت کو جماعت کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی تو انہوں نے کہا کہ آپ کے مرزا صاحب نے اپنے آپ کو خاتم الاولاد لکھا ہے اس سے کیا مراد ہے مہربانی کرکے ہمارے بچوں کے اعتراضات بھی لیتے ہیں مقصد یہ بھی ہے تو میں اچھی بات ہے اس ٹائم ملے تو ہم کہتے ہیں خاتم النبیین کا مطلب سلسلہ ختم ہے یہ بات سنی ہے یا مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کا روحانی فیض جاری ہے ان سے موسی علیہ السلام کو لگتا نہیں بلکہ امن کا تھا یا ربنا ابق بعید من کنت مولا الفین جو ہونگے انکی نسلوں کر رہی ہے تیرے خاندان میں سے تیرے منافقین جو ہے تیرے ساتھ قربت رکھنے والے ان کا سلسلہ جاری ہے آج مسیح موعود علیہ السلام کی نسل جگہ جگہ موجود ہے تو وہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے باقی دیگر سارے جو وقت یاد تھے قوم کے قریہ قریہ کے بیان کا فیضان ختم کرکے ان کو جاری کیا جس کا تذکرہ اور اللہ اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسی کو ملے گا دیا ہے میرے ساتھ وابستہ ہو گا وہ تو بچایا جائے گا ورنہ یوں نقاب یومین اب ایک باقی جو ہے جو ہے وہ آئے گی تجھے سرا مسیح موعود علیہ السلام کے سپرد ہوئی ہے تقریبا 70 کے قریب مسیح موعود علیہ السلام کے کزن اور دیگر احباب موجود تھے لیکن اب وہ موجود ہیں محمد علیہ السلام کو قبول کیا جائے اور دیگر جتنے بھی بحث کرکے کر دیے ہیں محلہ اسلام اپنے والدین کی بہترین اولاد بھی تھے وہ اپنے والدین کے جو ہیں اپنے اپنے والدین اور خاندان کے جوہر کو اپنی نسل میں آغاز کرنے والے تھے یہ صورتحال میں نے خواب میں نبی ہونے کے حساب سے بھی ہے آپ کا ذکر کیا تھا تو آپ لازمی کوشش کرتے ہیں لگتا ہے کوئی نبی نہیں ہوا کے چلتے ہی ہیں آپ سے درخواست ہے کہ اس کے فضل سے خلافت ختم نہیں ہونا تھا اور امت مصطفی پوری کوشش ہے کیونکہ وبرکاتہ تو نے دیکھی ہی خلافت کے ساتھ سب جانتے ہیں کہ خلافت ہوگئی تو کچھ کر سکیں گے بندہ نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے یہ قدرت سہانیاں ظہور میں آئی کے بارے میں فرمایا ہے لوگ کہتے ہیں ایک شخص سے اس کے علاوہ بھی زندگی کے بعد بھی بات بتا رہا ہے تو وہ یقینی طور پر بھی آئے تو اگر آپ ہمیں وہ الفاظ جو اپنی ذات میں کتنے تفسیر ہیں وہ ہمیں بتائیں کہ اس نے اپنے بعد خلافت کے متعلق خبر تھی یہی حقیقت ہے یہ اجالاثم تکون خلافۃ علیٰ منہاج النبوہ اور دوسرا اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماما نبوت منقطع اللہ کا بیعت خلیفہ کہ اگر ہم حضرت مسیح علیہ السلام اور ہمارا ایمان ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نبی تھے تو یقین نہیں ہے عمر تھا اور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے مطابق کے آپ کے بعد خلافت کا نظام قائم ہو تو اللہ تعالی نے آپ کو خبر دی اور آپ نے اپنی زندگی میں بتایا کہ ہم نے اپنی زندگی میں بتایا کہ پاکستان سے آج تک ہم اس کے گواہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس پیش گوئی کو کس طرح فرمایا اور ہر آنے والا چڑھنے والا دن اس بات کی گواہی دے رہا ہے یہ پیشگوئی جماعت احمدیہ میں من وعن پوری ہو رہی ہے حضرت مسیح علیہ السلام نے اس کے بارے میں فرمایا میں وہی الفاظ آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں آپ اپنے رسالہ الوصیت میں فرماتے ہیں ہیں کہ غرض خدا تعالیٰ دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے اور خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن دور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کیا گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ یہ جماعت نابود ہوجائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمر ٹوٹ جاتی ہیں اور کی بدقسمت مرتد ہونے کی راہ اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالی دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے بس وہ جو قید تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کی ذات کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا کے عزیزوں جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتی دکھلاتا ہے تو چھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دیکھ لاوے اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کردے ے اس لئے تو میری بات تم تو میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی ہے کم قیمت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیوںکہ تمھارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائم ہے جس کا سلسلہ قیامت تک مرتے نہیں ہوگا میں خدا کی طرف سے قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور خدا کی ایک مجسم قدرتوں اور میرے بعد بعض اور موجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہو گے تو تم خدا کی قدرت سے ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہوکر دعائیں کرتے رہو اور چاہیے کہ ہر ایک اور چاہیے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیں تو دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھا دے کہ تمہارا خدا خدا ایسا قادری خدا ہے کتنے عظیم الشان الفاظ ہے اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خاص فضل و احسان ہے کہ اس نے مجھے دائمی قدرت دکھائی اور وحدانی واضح دن پورا ہوا اور نہ صرف ایک مرتبہ پھر یہ سلسلہ جماعت احمدیہ میں مسلسل جاری و ساری ہے اور یہ ایک باتیں بھی وہ ثبوت اس بات کا کہ وہ جماعت اسلامی قائم کیا تھا وہ اللہ تعالی کی نگاہ میں ایمان اور عمل صالح کے تقاضوں کو پورا کرنے والی ہے تو ہماری یہ اللہ تعالی ہماری امید ہے یقین ہے کہ خلافت کے سائے کے نیچے انشاللہ خلافت تقریبا کونسی ہمیشہ میں ان معیاروں کو پورا تک پہنچنے کی ہمیں ہدایت کرتے رہیں گے جب کبھی بھی کہیں کوئی لفظ شفٹ ہوگئی تو مسیح ہماری توجہ کرتے ہیں روحانیت بڑھانے کی کوشش میں ہر طرح سے ہماری دیکھ بھال کے لئے خصوصی کوشش کریں جو تاریخ میں توسیع کے ساتھ ہے گفتگو کریں گے اور خدا تعالیٰ سلامت رکھے خلافت کی وہ کس طرح سے یہاں پر روز روشن کی طرح ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں اور ظاہر مخالفین کو دیکھتے ہیں اور پھر اس سے کہا ہوتا ہے کون کس کے ساتھ ساتھ اللہ کا ہاتھ ہے تو یہ مضمون چلایا جائے گی اکثر اپنے شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہے آپ کا بھی تو دھوکا نہیں ہو سکا انشاء اللہ علیہ السلام علیکم ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیںسخت مرض صلی صلی

 136 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: