Rah-e-Huda – Khatme Nabuwwat Ki Haqeeqat




Rah-e-Huda – Khatme Nabuwwat Ki Haqeeqat

راہ ھدیٰ ۔ ختم نبوت کی حقیقت اور خاتم النبیین

Rah-e-Huda | 8th May 2021

نابھا گئے ہیں ہے سوچنے والوں جانا گرم ہای ہی ہے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم کا عبادی عنی فانی قریب اجیب نمبر 187 ہے جس میں اللہ تعالی نے ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جب کبھی بھی میرے بندے تم سے میرے متعلق پوچھیں تو یقینا میں غریب ہوں اور میں دعا کرنے کی دعا کرتا ہوں میں پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں چنانچہ وہ یہ وہ بنیادی اصول ہے جو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں قیامت امت مسلمہ کو سکھا دیا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ ہو جب بھی کوئی مشکل ہو یا جب بھی کوئی سوال ہو اور اس کا جواب دینا مقصود ہو تو ہمیں اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا چاہیے اس بات کا یہاں ذکر کرنا ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ اور خاص طور پر بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام تو اسلام کا بنیادی دعوت تو صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے مبعوث ہو کہ اس دنیا میں آئے ہیں اور وہی مسیح موعود اور امام مہدی ہیں جن کے بارے میں ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی وہ لوگ جو مرزا صاحب کو نہیں مانتے ان کو چاہئے کہ اس قرآنی حکم پر عمل کرے اور اللہ تعالی سے پوچھے کہ جو دعویدار ہے جو یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے وہ اپنے دعوے میں سچا ہے کہ نہیں جماعت احمدیہ ابتدا سے اسی طرف لوگوں کی طرف بلا رہی ہے آج کا یہ پروگرام بھی ہم اسی طرح کی ایک موضوع کے بارے میں کریں گے جو ہے فیضان ختم نبوت اور اس کی برکات کے بارے میں آج کے پروگرام میں ہالینڈ اسٹوڈیو میں خاکسار کے ساتھ موجود ہیں فضل الرحمن ناصر صاحب جب کہ انشاءاللہ گانہ سے ہمارے ساتھ ہوں گے اکرم ساجد محمود صاحب صاحب جس طرح کے معنی عرس کیا ہے دیکھیں دو میدان ہوتے ہیں ایک میدان اور اللہ تعالی کے فضل و کرم کے ساتھ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرآن اور احادیث کی روشنی میں ابتدا سے ہی وہ والے دکھا رہی ہے وہ دراصل دکھا رہی ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس آنے والے کی خبر دی تھی وہ دراصل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام ہے اس کو جاری رکھیں گے اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے آنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ومرتبہ میں میں بھی کمی واقع نہیں ہوتی ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ تو مزید بڑھتا چلا جاتا ہے محترم فضل الرحمان صاحب ہمارے مخالفین ہیں وہ تو سورہ احزاب کی آیت نمبر 40 سے یہ مطلب نکال کے بیٹھے ہوئے ہیں کہ خاتم النبیین سے یہ مراد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا میں چاہوں گا کہ آج کے پروگرام کے آغاز میں ہی ہمارے نزدیک تو قرآن کریم کی کئی آیات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت کے بعد بھی دنیا میں بھی ہو سکتے ہیں تو میں چاہوں گا آنا یا کم از کم ایک آیت کی روشنی میں آپ ہمارے ناظرین کے سامنے یہ مضمون بیان کریں کہ قرآن کریم کس طرح نبوت کا مضمون اس زمانے میں بھی بیان فرماتا ہے ہےبلکہ اس کے مقابلے پر قرآن کریم میں اس کے مقابلے میں آج ہی کہ دوسرا کا مضمون ہے قرآن کریم کے اندر وہ بڑی کثرت کے ساتھ ہیں کہ اللہ تعالی نے دنیا میں بھیجتا رہا اور ایک آیت کے سامنے پیش کرتا ہوں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے یہ سورہ حج کی آیت ہے اللہ کا رسول ان اس ان اللہ سمیع بصیر اللہ تعالی فرشتوں میں سے اپنے رسول منتخب کرتا ہے ہے اور اسی طرح انسانوں میں سے اللہ تعالی بہت دعائیں سننے والا اور حالات کو بہت دیکھنے والا ہے یہ سورت آیت نمبر 86 ہے اب اس آیت میں اللہ تعالی امت محمدیہ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے قرآن کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا اور نہ ہی ہیں آپ کے ذریعے جو لوگ ایک نیا دین کہیں یا اسلام آباد میں آیا اور مسلمان دنیا میں ایک جماعت بنائی اور ان کو اللہ تعالی مخاطب کرکے فرماتا ہے اللہ ہی جانتا ہے اسے بھی ہے اور لوگوں میں سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اللہ یصطفی یہ فعل مضارعے ہیں جس کا ایک تو یہ مطلب ہے کہ یہ اللہ تعالی کی کیا صورت ہے اللہ جانتا ہے اور یہ بھی مضمون شامل ہوتا ہے جب بھی استعمال ہو رہا ہو تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس میں مستقبل کا زمانہ بھی پایا جاتا ہے ظاہر ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے اس کا مطلب ہے بنے گا کہ اللہ تعالی نے نہ صرف یہ کہ ملائکہ میں سے رسول چنتا ہے گا وہ منہ سے اور لوگوں میں سے بھی رسول چلتا ہے اور چلتا رہے گا وہی اللہ تعالی کی جاری و ساری سنت ہے اور یہ تو میرا ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی کی کوئی صفت ہے مول نہیں ہوسکتے اللہ تعالی ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اس کی تمام سے فائدے ہیں اسی طرح جاری و ساری ہے کوئی تعلق نہیں آتا تو قرآن کریم کی یہ آیت واضح طور پر اس بات پر روشنی ڈالی ہے کے بعد بھی اللہ تعالی کی ہے جو صفحے پلٹنے والی یہ ہمیشہ قائم رہے گی تو ہمارے نزدیک یہ ایک ثابت کرتی ہے کہ جب ضرورت پڑے گی اللہ تعالی آپ بھی دنیا میں کسی نبی کو یا کسی رسول کو مبعوث کرسکتا ہے گا ہے جو قرآن کریم کی عظمت کو بڑھاتا ہے اور آتا ہے سب کی دعا مانگتے رہتے ہیں اور یہ جو صراط مستقیم کا جو معاملہ ہے اس کا خود ذکر اللہ تعالی نے قرآن کریم میں جن حماد کے ساتھ جوڑا ہے ان میں انبیاء کا ذکر ہے ہم ایسا کرتے ہیں کہ اپنا اگلا سوال لے کر ساجد محمود بھٹی صاحب کے پاس چلتے ہیں ساجد صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ طہ مجھے آپ کا کیا عقیدہ رہا اور پھر وہ خاص طور پر بیان کرتے ہیں پوچھنا چاہتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام جب امت مسلمہ سے ہی تھے تو انہوں نے جو نبوت کا دعوی کیا ہے ہمارے ناظرین کے عقل یہ بتا دیں کہ کس قسم کی نبوت کا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا یاایم حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری زمانے میں اسلام کی خدمت کے لیے مفید نبی اللہ کے آنے کی بشارت دی تھی اور حضور کی حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ ایک ہی ہے میں وہی حضور نے فرمایا ہے نبی کی حقیقت ہے کیا جب قرآن کریم دیکھتے ہیں تو عملہ نبی کا لفظ ہے وہ عربی زبان کا ہے اور یہ نبوت سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے کہ معمولی اہم خبر جو نبی اور مبالغہ کا صیغہ ہے جیسے علیم بہت زیادہ زیادہ جاننے والے اور نہ جاننے والا کبیر والا بہت زیادہ ہمت والا اسی طرح نبی کا مطلب ہے بہت زیادہ غیر معمولی اور غیر کی کثرت کے ساتھ خبریں دینے والا ہو گا اس کو قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق ہے وہ نبی کہیں گے اور جب وہ خدا سے کپڑے پائے گا تو اسے تھی اس کے رسول کے آگے آگے جو قرآن کریم کے نام دیا کے حالات بیان کئے ہیں ان سے ہماری رہنمائی ہوتی ہے کہ حالات کے مطابق انڈیا کے دوران ہی تھے جو خدا کی طرف سے نیچریت لے کے آئے ہیں جیسے حضرت آدم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عرض موسی ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے تو یہ اپنے اپنے زمانے میں خدا کی طرف سے زمانے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی شریعت لے کے آئے کبھی تھی جو نئی شریعت لے کے نہیں آئی لیکن انہیں لوگوں کی ہدایت اور راہ راست پر لانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہے ان کی تربیت اور ان کی تبلیغ کرتے رہے تھے حضرت ابراہیم علیہ صلاۃ و سلام کے بعد جو ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں پھر اسی زمانے میں ہر چیز خارج ہیں ہر طرح کے بعد ان کے بیٹے یعقوب علیہ السلام ہیں اور بہت ساری غلطیاں ہیں جیسے رہی ہیں اور نظریات کیا تھا جو خدا کی طرف سے نئی شریعت لے کے نہیں آئے اور یہ پڑھ لیتی تھیں انہی کے احکام کے مطابق اپنے لوگوں کی تعلیم و تربیت کا ذکر کرتے رہے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذمہ داران کو ہم دیکھتے ہیں تو آپ کے بارے میں دو باتیں بہت نمایاں ہیں ہیں پہلی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کوئی شک نہیں چلے گی نہیں آئے آپ نے کسی جگہ نہیں فرمایا کہ نعوذ باللہ قرآن کریم کی شریعت منسوخ ہوچکی ہے اور نہیں دیتی ہے بلکہ حضور کا دعوی ہی طرح یہ قرآن کریم کے اوقات میں فوت ہوگئے اور اب تک 12 شہری نقطہ کی جمع ہے وہ تبلیغ میں کیسے تبدیل نہیں ہوگا جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے بہت کم ہی کوئی نہیں شیر خدا کی طرف سے نہیں لے کے آئے بلکہ قرآن کریم میں اقلیتیں اور قرآن کریم کی طرف سے اپنے لوگوں کو بلایا اور یہی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حدیث میں ان کے محمدیہ میں آنے والے مہدی کے متعلق بیان کی فرمایا ان راہوں پہ ہنسی آتی ہے جو مرضی آنے والا ہے میری امت کے وہ میرا خلیفہ ہے یعنی وہ میرا جان چیز ہے اور میرے ہی کام اور میری تعلیم کو آگے پھیلائے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کو یہ مکان صرف اور صرف اجرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قابل پیروی آپ کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کے نتیجے میں بھلا ہے کہ وجود خدا کا پہلا نے اعلان کیا کہ کل وبرکاتہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کتنی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں ان کے مقام اور مرتبہ مجھے ہرگز کو حاصل نہیں ہوسکتا اور اسی بات کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں صورت میں بیان کیا ہے مایوس اللہ ورسولہ کے تمام پر آدمی وہاں حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں بھی نظر آتی ہیں نمبر1 یہ کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے قرآن کریم میں اکثریت ہے اور قرآن کریم کے پیغام کو ہی نہیں پوری دنیا میں پھیلانے کے لئے حرکت پذیرییہ تمام مقام اور مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی میں حاصل ہوا ہے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ زمانے کی امامت کو زمانے کا امام آیا محمد کی غلامی میں محمد کا غلام آیا اور کامران حضرت کرماں بہت خوب ساجد صاحب محمد کی غلامی میں محمد کا غلام آیا ہے جو آج 28 2019 ہفتے کے روز ایم پی اے انٹرنیشنل اسٹوڈیو سے آپ کی خدمت میں براہ راست پیش کیا جا رہا ہے اور یہاں میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ آپ لوگ جو بھی اہمیت دیتے ہیں وہ ہم ان کا بہت احترام کرتے ہیں اور ان کو اپنے سامنے رکھے اس پروگرام کو ہم بناتے ہیں اس پروگرام کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ بھی آرام ملی کہ پروگرام کا موضوع شروع میں تو بتا دیا جاتا ہے ہے یہ طوفان ہمارا موضوع ہے لیکن ہمارا ٹائم آپ کے لیے کھلا ہوا ہے خاص طور پر ایسے ہمارے دوست احباب جن کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں ہے اور وہ جماعت احمدیہ کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتے ہیں آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہے جماعت احمدیہ کے عقائد کے بارے میں بلا تکلف ہم سے اس پروگرام میں پوچھے یہ آجکل ایک پروگرام سے تقریبا 40 منٹ تک جاری رہے گا اگر آپ ان سوال نہ پوچھ سکے تو اگلے ہفتے بھی اسی وقت استعمال کرسکتے ہیں سوال کرنے کے دو طریقے ہیں ایک ہمارا لینڈ لائن نمبر ہے آپ کو اس پر نظر آرہا ہوگا ہم سے رابطہ کریں میں آپ کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ کال بیک کرکے آپ کا سوال اس پروگرام میں شامل کریں گے اور دوسرا ہمارا معروف واٹس ایپ نمبر ہے جس پر آپ اپنا تحریری یا وائس میسج کے ذریعے سوال بھجوا سکتے ہیں فضل الرحمن صاحب سوالات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ہمارے بھائی ہیں ڈاکٹر خالد محمود صاحب اکثر ہمیں سوال بھیجتے ہیں کینیڈا سے دلچسپ سوال بھیجا ہے میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے آپ کے آنے سے ہم احمدیوں کو بے شمار فوائد ہوئے ہیں کیا ان مسلمانوں کو بھی کوئی فائدہ ہوا ہے جنہوں نے آپ کا انتظار کیا ہے ہے جنہوں نے آپ کا انکار کیا ہے ان کو اگر توانوں میں آپ یہ کہیں کہ کوئی ایسا فائدہ ان کو حاصل ہوا کہ ان کی دنیا اور آخرت سنور گئی تھی ظاہر ہے انبیاء کے ماننے والے جو مخالف مخالفت پر اترتے ہیں ان کی دنیا بھی ہوتی ہے اور آخرت بھی تباہ ہوتی ہے اس کو مذاق میں کہہ دیتے ہیں کہ بہت سارے ہمارے مخالف مولویوں کی جوڑی ہے وہ ہماری مخالفت کی وجہ سے لگی ہوئی ہے لیکن اس سوال کو میرا دوسرا پہلو سے کر لو تو اصل میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے بعد مسلمانوں کو امت مسلمہ کو اتنے فوائد حاصل ہوئے اور اگر آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے امت مسلمہ کی حیات مسیح کے حوالے سے جہاد کے موضوع کے حوالے سے سے اور مسلمانوں کے اندر جو بڑی آج کل دہشت گردی پھیلی ہوئی ہے اس حوالے سے جو رہنمائی کی اس کے علاوہ بے شمار موضوعات ہیں روحانی موضوعات کے فرشتے ہیں پھر میں عالم آخرت کی زندگی ہے اس کے ہر موضوع پر لکھا ہے کہ اگر اس کو نکال دیا جائے تو مسلمانوں کے ہاتھ میں سوائے دقیانوس باتوں کے اور کچھ باقی نہیں بچتا اور وہ ایسی باتیں جس کا ایک جہالت کی وجہ سے تو لوگ اپنے طور پر اگر ان کا ذکر کرتے رہے تو آج دنیا کے سامنے پیش کرنے کے قابل نہیں بلکہ حیات مسیح کا عقیدہ یہ دنیا میں کسی جگہ کھل کے پیش نہیں کرتےجو مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں تھے آپ کے فورا بعد آئے ان لوگوں نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کیسے دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں مرزا حیرت دہلوی ایک احمدی تو نہیں تھے انہوں نے جو بات کہی وہ ایک جگہ لکھتے ہیں ان کی ایک اخبار تھا رزلٹ دہلی وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد میں لکھا کہ مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آر یو اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی ہیں وہ واقعی بہت تعریف کی مستحق ہیں اس نے مناظرہ کا بالکل بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دیں میں ہار کے یہ کہتا چلا جاؤں کے آج جماعت احمدیہ کے مخالف مسلمان بھی وہی باتیں وہی دلائل اسلام کی صداقت کے پیش کرتے ہیں اس میں غلطی سے بہت آسان کا نام نکال دیتے ہیں لیکن ان کو یہ ضرور پتہ چل جاتا ہے کہ دراصل جماعت احمدیہ کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان کردہ دلائل ہیں جس کے ذریعے ہو دنیا میں کہ ہر مذہب کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور آج بھی جو ذمہ دار طبقہ ہے مسلمانوں کا بڑا لگتا ہے وہ اس دلیل سے فائدہ اٹھاتا ہے نام نہیں اس طرح لیتے ہیں راجہ صاحب کتابیں روحانی خزائن ہے پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی تفسیر بھی ہے ہماری پرائیویٹ محفلوں میں اظہار کرتے ہیں ڈاکٹر اسرار کا نام بڑا مشہور ہے اس میں برا کیا ہوا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اسلام نے جو دلائل دیے ہیں وہ ایسے تھے کہ دنیا کا کوئی اور مذہب کا مقابلہ نہیں کر سکتا آگے چلتا وہ لکھتے ہیں کہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ ایک محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور باد بدری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا کیا یہ اس بات کا فائدہ ستم اور مسلمانوں کو نہیں پہنچا خوابوں مسلم احمدیہ کے حامی تھے یا پھر ایک اور حوالہ میں پڑھتا ہوں میرے سامنے چوہدری افضل حق صاحب ہر اک رات کا وعدہ ہے لیکن میں ایک ابوالکلام آزاد کا حوالہ پڑھنا چاہتا ہوں اس سے کچھ عرصہ انہوں نے ایسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو ان کے اندر سے انہوں نے حضرت موسیٰ میں کتابیں پڑھی ہوئی تھی اور آپ کی جماعت کو جانتے تھے تھے انہوں نے یہ لکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں کہ ان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس سے احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا کہ ان تحریکوں جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک اور پامال بنائے رکھا آئندہ بھی جاری رہے مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گراں بار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھوڑا جو اس وقت تک جو اس وقت کے مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون ہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے اشارے قومی کا عنوان رائے قائم رہے گا تو حضرت مسیح علیہ السلام کا نتیجہ تو احمدیہ احمدی ہو یا غیر احمدی ان کو استعمال کرنا ہی پڑتا ہے اس کے بغیر چارہ نہیں ہے جس طرح آپ نے ذکر کیا آج بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا چاہے منظوم کلام ہو چکی ہیں جہاں آپ نے فرمائی ہے تو ہمارے مخالفین بھی اس کو پڑھنے جھوم اٹھتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ جو کلمات ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان فرمانے کے وہ اپنی ذات میں بہت اعلیٰ ہے اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے علاوہ کسی نے اس طرح کے کلمات نہیں بیان کیے ہیں سوالات کے سلسلہ کیونکہ کافی دیر سے جاری ہو چکا ہے اس لیے میں اگلا سوال لے کرساجد صاحب اس میں عرض ہے کہ جو حضرت خواجہ محکم الدین صاحب ہیں یا محمد علی صاحب ہیں یا دیگر بعد دوسرے وہ کہاں ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں حضور کو نہیں مان رہے تھے کہ ان کی اپنی تحریر ہے جو اس زمانے کی ہیں یا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرما رہے تھے تو جیسے باقی جماعت احمدیہ کا عقیدہ کیا تھا اسی طرح ان کا بھی تھا تو حضور کی زندگی میں حضور کی نبوت سے انکار نہیں ہ انکار کیا کیونکہ اصل اختلاف ہوا ہے وہ خلاف تھا کہ خلافت کا سسٹم نہیں ہونا چاہیے برتر ہے کہ کوئی موت آتی ہے تو اس کی پیروی اس کی جان نشینی میں خلافت کا نظام ہے کیونکہ انہوں نے خلافت کا انکار کیا اب اگر حقیقت تسلیم کرکے تو لازمی ان کو خلافت قائم کرنی پڑتی تھی تھی بہرحال میں جاکے انہوں نے اس ترقی دیکھنی ہے وہ انکار کیا ہے ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں جو ہے وہ حضرت موسی علیہ السلام کو یہ نبی کریم کر رہے تھے کیونکہ والے کم ازکم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جس مسیح کے آنے کا ذکر ہے وہ مصیبت حضرت بانی جماعت احمدیہ نے قرآن میں اس کا کون سا بیان ہوا ہے وہ نبی اللہ کا حکم بیان ہوا ہے اور تمہیں الصلاۃ والسلام نے دعوی کیا ہے کہ میں وہی مٹی میں موجود کی امت امت محمدیہ کے وہ انتظار کر رہی ہے اس بات کا تعلق خلاف کیوں ہو رہا ہے گھر میں نظر آرہا ہے جبکہ مسلمان پر کیا اثر نے تو جو رفع یدین کرنے والے ہیں وہ بھی اس بات کو محسوس اب تک لے جاتے ہیں کہ ان کا کیا فائدہ نہیں کرتے تھے بلا کر کیسے بلاک کر دے تو انہوں نے ایک لڑکی کو دیکھا جو نہیں کرتے وہ عورتیں پیش کرتے ہیں اور وہ صحابہ کی طرف لے کے جا رہے ہیں جو ہاتھ باندھ کے نماز پڑھتے ہیں وہ بھی ساتھ لے کے جاتے ہیں اور جو ہاتھ کھول کے کے نماز پڑھتے ہیں وہ بھی ساتھ لے کے جا رہے ہوتے ہیں اس کے علاوہ بھی بات کی ہے وہ حکومت میں پیدا ہونا یا نبی کے پیروکاروں پیدا ہونا یہ نبی کے دور میں جو ہے وہ اس طرف نظر آرہا ہے اور یہ کوئی خلافت کیوں شروع ہوئی تھی بالکل ٹھیک ساجد صاحب جزاک اللہ اور ناظرین اس وقت ہمارے ساتھ ایک کال موجود ہیں آئیے ہم اس سے بات کرتے ہیں یہ امریکہ سے مبارک ہو رانا صاحب ہمارے ساتھ کال پر موجود ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مبارک ہو رانا صاحب صاحب خان صاحب آپ کے کال کرنے کا آپ کے سوال کا فضل الرحمان سے میرے بھائی جو مبارک ہو رانا صاحب ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیش گوئی تھی پانچ سالوں کے بارے میں اس کے بارے میں رہنمائی چاہتے ہیں کہ وہ جلایا چکے ہیں اب بھی آرہے ہیں وہ پوری ہو گئی ہے کہ نہیں تم نے جو پانچ کے بارے میں پیشگوئی فرمائی اس کے بعد اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا بھی کی ان کو اس وقت والا ڈال دے اور میں بھی ملتا ہے وہ آپ کو یاد ہوگا کہ آ رہا ہوں کہ اللہ تعالی اس کو میں اس کی دعاؤں کے نتیجے میں تاخیر ڈال دیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے کہ اللہ تعالی دنیا کو موقع دیتا ہے کہ وہ صلاحیت کی طرف لوٹ آئے تو جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ پیشگوئی پوری ہوئی یا نہیں ہوئی اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پیشگوئی کے بعد سے پورے ہوچکے ہیں اور بعض سے آئندہ مستقبل میں پورے ہوں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش گوئی ہے اس کے بعد اسے منظم شکل میں ہے وہ بتاتے ہیں کہ وہ ظاہری سلسلہ اس سے مراد نہیںلگتا ہے اور اب اس معمول کی مخالفت کی وجہ سے دنیا میں طرح طرح کے عذاب طرح طرح کی انتظار کر رہے ہیں اور اکثر اللہ تعالی کی طرف سے جو دنیا میں عذاب نازل ہوتا ہے اس میں یہ ضرور ہوتا ہے کہ اللہ تعالی دنیا کا موقع بھی دیتا ہے ایک طرف مار پڑتی ہے پھر اللہ تعالی موقع دیتا تھا اب اگر دنیا خدا کی طرف متوجہ ہوں جیسا کہ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جماعت احمدیہ میں ایک سکول میں داخل ہوئے کی ہوئی ہے جنگ عظیم دوم ہوئی اس کے بعد جس طرح دنیا میں جماعت کے پھیلاؤ کے مناسب آپ پیدا ہوئے وہ سارے بتا رہے تھے کہ یہ نصیحت بہت اسلام کو اللہ تعالی نے جو خریدی تھی تھی کہ وہ جنگ کی شکل میں ہو گا اس میں ظاہری زلزلے کے آثار بھی ہوں گے اس کے نتیجے میں دنیا میں بڑے بڑے عظیم الشان انقلاب آۓ گے تو اس کے بارے میں حتمی طور پر تو باہر والا حصہ ہی بتا سکتے ہیں لیکن ہمیں اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا سے بڑے نمایاں طور پر پورے ہو چکے ہیں اس انسان کی زندگی میں پورے ہوئے اور کچھ آپ ہمارا اگلا سوال ہے وہ ہمیں ابرار احمد صاحب کی طرف سے ڈیرہ غازی خان سے موصول ہوا ہے اور یہ سوال پیش کرنا چاہوں گا ساجد محمود صاحب کے سامنے ہمارے بھائی ابرار احمد یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ انہوں نے تفسیر صغیر میں یاجوج سے مراد روسی ویشیا اور ماجوج سے مراد انگلستانی انگلینڈ قرار دیا ہے اس حوالے سے رہنمائی کردیں z100 مون کو بیان کیا ہے کہ یاجوج سے مراد میں رکھی ہے اور موجوں سے مراد انگلستان ہے تو حضور نے وہاں پے بائبل کے حوالے سے اس بات کا ذکر کیا ہوا ہے چنانچہ سب سے پہلے تو وہ یاجوج ماجوج کے حوالے سے میں قرآن کریم کا بتاتا ہوں کہ قرآن کریم مکمل تیاری کر رہے ہیں ان میں ایک اشارہ نے بتایا کہ رابطے کا یا جوج وماجوج ہو بہو من کل حدب ینسلون یا تک کہ جب جواب موجود کو کھولا جائے گا اور وہاں کون سی جگہ سے دوڑے چلے آئیں گے تو یہاں پر لفظ ہوتے ہیں جو ہے کہ یاجود ماجود کو کھولا جائے گا یہ ہماری رہنمائی کر رہا ہے کہ قرآن کریم کے نزول سے بہت لمبا عرصہ پہلے یاجوج ماجوج دنیا میں موجود تھے اور ان کو بند رکھا گیا ہے اور آخری زمانے میں وجود کو کھولا جانا ہے جو ہوتے ہیں اور بعد میں جو ہے وہ ہماری رہنمائی اس بات کی طرف علی جو بائبل کے بیان ہے اس میں جو کہ قرآن کریم نے وضاحت نہیں کی کہ یاجوج ماجوج کس ملک میں ہے یا اس علاقے میں ہے اور نہ ہی حدیث میں اس بات کا تفصیلی ذکر ہے وہاں ناپ بابر یا دیگر تاریخی کتابوں کی طرف دیکھنا ہوگا کہ جب ہم پڑھتے ہیں تو وہاں بے حد کین نامی ایک کتاب ہے اس کے باپ نے پر 39 نے یہ لکھا ہوا ہے کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے ایک ایک کرکے فرما میں تیرا مخالفوں اور یہاں پر جو شخص کو روز کہا گیا کہ موجودہ زمانے میں اشیاء اور آگے مزید وضاحت کے لیے مت کا لفظ استعمال کیا جو کیپیٹل ہیں موصوف تو گویا ان علاقوں میں رہنے والے لوگ ہیں ان کو بائبل میں یاجوج کے الفاظ سے یاد کیا تو سہی جھوٹ پکڑاگیا ماجوج کے متعلق اسی جو زندگی ہے اس میں کوئی تعریف اسی میں آگے یہ لکھا ہوا ہے ہے یہ میں موجود پر اور ان پر جو بیرونی ممالک میں امن سے غلط کرتے ہیں آپ کو بھیج دوں گا اور وہ جان ہی گئے کہ ہمیں خداوند خدا ہو تو گویا آپ برطانیہ جو تھے اور جو اس کے ارد گرد کے علاقے ہیں وہ بیرونی ممالک کے حوالے سے جو ہو موجود کے حکم کے رہ جاتے ہیں مگر آج میں لندن میں ایک جگہ ہے کہ آل وہاں پے جھوٹ اور موجود کے مجسمے نصب وہاں سے مجسمے نصب منایا جارہا ہے کہ یہ قوم ان لوگوں کی نسل میں ہونا اپنے لئے باعثِ عار محسوس نہیں کرتے بلکہ ان کی نسل میں سے اپنے آپ کو جو ہے وہ تقسیم کر رہے ہیں اور یہ بائبل کے اس بیان کی دعوت دی کر رہے ہیں اور اس میں ایک مضمون ساتھ مزید یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ واقعات اللہ والوں جاو جاو من کل حدب ینسلون صحیح مسلم میں فرمایا جہاں کے امام مہدی کا ذکر قرآن مجید میں اللہ نے جس کا ذکر ہےاور وہ عمران کی جگہ سے پھیلتی میں جو ہے وہ چلے آئیں گے تو گویا امام مہدی کا زمانہ بتایا کہ یاجوج اور ماجوج کے عروج کا زمانہ ہے یا امام مہدی آئے گا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے ہیں تو ایک طرف رکھ دیا ہے وہ بہت بڑی طاقت ہے اور دوسری طرف ٹانگیں ایک بہت بڑی طاقت تھا اور قرآن کریم کے ان اشاروں اور بائبل کے بیانات کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جو موجود ہیں اور یہ کام بھی بالکل ٹھیک ساجد صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ محترم فضل الرحمان صاحب ہمارے پچھلے پروگرام میں ہم یہ سوال موصول ہوا تھا وقت کی کمی کی وجہ سے اس کا جواب نہیں دے سکے لیکن میں چاہوں گا قدرے تفصیل سے اس بارے میں روشنی ڈالی صاحب انڈیا سے وہ پوچھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے دعوی نبوت سے پہلے خاتم النبیین سورۃ کی آیت نمبر 40 ہے جس میں لفظ خاتم النبیین آتا ہے اس کے کیا معنی کیا کرتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کو پڑھے اس میں خاتم النبیین کے دراصل وہی مانے ہمیں ہر جگہ نظر آتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان میں خاتم ہیں ہیں کہ سے بڑھ کر کبھی دنیا میں کوئی نہیں آ سکتا آپ نے اپنی ابتدائی کتابوں میں بسا میں ابتدائی کتابوں سے پہلے میں یہ بھی عرض کروں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو تاویل کرتے رہے اس کا ذکر آئے گا جب میں آپ کے پاس آؤں گا میاں صاحب کے ساتھ میں دودھ والے پڑھنا چاہوں گا اس میں یہ بات کھل جاتی ہے ہے فرمایا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے معنی ہے ہے ہاں ایسا نبی جو مشقات نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوت میں نہیں رکھتا جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں وہ اس حدیث سے باہر ہے کیونکہ وہ بائیس اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے پھر ایک جگہ فرماتے ہیں کہ جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول خدا سے باطنی خضوع حاصل کرکے اپنے لیے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب آیا ہے ہے رسول اور نبی ہیں مگر جدید شریعت کے آنے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا اب یہ فقرہ بتاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی اس بات سے انکار نہیں کیا ہوا لے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اور آپ کی محبت میں فنا ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی نے آپ کو نبوت کا مقام بھی دیا ہے لیکن ان معنوں میں ہمیشہ انکار کیا ہے کہ میں کوئی نئی شریعت لے کے آیا یا صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام دنیا میں دے رہا ہوں فرماتے ہیں ہیں اس دور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہیں معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہےفرمایا کہ سو مکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں بس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ مخاطب رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت رکھتا ہوں والے کل والا اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس ہے اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے یہ اس لیے ضروری ہے سوائے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس نے میرا نام نبی رکھا ہے تو آپ کا نام تو ہنسی ہمیں ابراہیم آپ کا دعویٰ نبوت تو براہین احمدیہ کے وقت سے موجود ہے اسلام نے مضمون بیان فرمایا ہے بلکہ امت مسلمہ میں کئی ایسے علماء گزر گزرے جو خود اس بات کے قائل اور وہ اس بات کا ذکر کرتے رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی پیروی میں اگر کوئی نبی آجاتا ہے تو اس سے ہرگز ہرگز ان پر کوئی حرف نہیں آتا اگلا سوال ہم لیتے ہیں محمد عبدالرشید صاحب سے مجھے سامنے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ہمارے ساتھ کال پر موجود ہیں کہ ان کا سوالی ہاں مجھے بتایا گیا ہے کہ عبدالرشید صاحب کال پر موجود ہے ہے جیسا ملے تو محمد رشید صاحب کی مخالفت شروع کی گئی تھی کہ تم مالک کے لوگ اب کچھ تبدیلی لا رہے ہیں ابھی بھی سوئے ہوئے ہیں براہ کرم وضاحت فرما دیں جزاک اللہ احسن الجزا بہت بہت شکریہ محمد عبدالرشید صاحب آپ کے سوالات ہمیشہ پوائنٹ ہوتے ہیں اور اس طرح کے ہوتے ہیں کہ جن سے ہمارے دیگر ناظرین و سامعین کو بھی یقینی فائدہ ہوتا ہوگا ساجد محمود صاحب کیا آپ نے ہمارے محترم عبدالرشید صاحب کا سوال سن لیا ہے آپ کا تعلق ہے تو عبدالرشید صاحب کی عرض ہے کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت ہوئی ہے تو ایک سے ایک بات کرنی ہے سارے کے سارے بھائیوں کو دیکھیں تو وہ اپنے مسلک پر استدلال کرتے ہیں کہ ہم جماعت احمدیہ کی مخالفت کی ہے اس کو دیکھیں وہ اپنی لعنت کر دیتی ہیں بریلویوں کو دیکھیں تو اپنی طرف سے شدت کے ساتھ مخالفت کر رہے ہوتے ہیں تو انہیں یہ کون ہے تو یہ ہے کہ ان سب نے مخالفت کی اور یہ ترین کر رہے ہیں اور اپنی صحت کے متعلق تحاریک متفقہ طور پر علاج کریں کہ اپنے زمانے میں جماعت احمدیہ کو مٹانے کے لیے اور ملا تھا آپ کے پیغام کو ختم کرنے کے لیے زور لگا لیا ہے لیکن نتیجہ کیا ہے نتیجہ یہ دیکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جنم ہوا ہے میں حضور کا پتہ چلا ہے اور انیس سو اکتر کی وفات ہوئی ہے تو چند سال کے اندر اندر وہ تمام تر علماء کے دن رات کی کوششوں کے باوجود چار لاکھ سے زائد لوگ دیکھ چکے تھے حضور کی اطاعت میں چار لاکھ کے قریب لوگوں کا حمل ہونا یہ بتا رہا ہے کہ ان پارٹیاں کی شخصیتوں نے حضور اس کی مخالفت کی عوام نے مخالفت کی بڑے پیمانے پر مخالفت ہوئی لیکن اگر خدا کی ضرورت نہیں تھی خدا کی مدد کے ساتھ نہیں تھی تو پھر اتنا عظیم الشان کل آپ نے ہندوستان میں کیا سے کیا ہو گیا تو یہ انقلاب اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل بنتا ہے تو سب سے پہلے کا نہیں ہے سوال یہ ہے کہ اس کا رزلٹ کیا نکلا ہے مخالفت کے اسباب قائل ہیں رزلٹ کے نکلے کہ خدا نے ان کو نقصان کیا اور ان کا وعدہ کیا کریں ان سے اس کو کامیاب کر کے بتا دیا کہ یہ میرے ہاتھ کا لگایا ہوا ہے اور کوئی طاقت کو دنیا کی اس پودے کو پانی پتیانڈیا کے بارے میں تحقیق کرنا جماعت احمدیہ کے بارے میں جاننا جماعت احمدیہ کو پرکھنا بہت آسان کام ہے اگر آپ کر سکتے تو کم از کم ایک کام ضرور کریں اور وہ کام یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے امام سیدنا و عمامہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہر جمعہ کے روز پوری دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس وقت نکال کر دنیا کی بے شمار خوشیاں دیتے رہتے ہیں جو لوگ تحقیق کرنا چاہتے ہو تھوڑا سا وقت نکال کر اس خطبہ جمعہ کو ضرور سنیں اور اگر اور کچھ نہیں تو ہیں جو گزشتہ روز کا خطبہ جمعہ تھا اس کو ضرور سنیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے ہر خطبہ جمعہ میں ایک طرف جماعت احمدیہ کو دوسری طرف امت مسلمہ کو اور تمام انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے دراصل توحید باری تعالیٰ کا درس دیتے ہیں اور اللہ تعالی کے سامنے جھکنے کا درس دیتے ہیں اللہ تعالی ہم سب کو ان روشنی سے تیز روشنی کے میناروں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا کرے اور جب ان سے ہمارے بھائی ہیں شیخ ہمایوں صاحب انڈیا سے انہوں نے سوال کیا ہے اور یہ سوال خلافت احمدیہ سے اس کا تعلق ہے وہ حاجی کرتے ہیں جیسا کہ ہمیں خلافت احمدیہ کی نعمت حاصل ہے کہ اسی طرح خلافت کسی اور مذہب میں اس سے پہلے بھی تھی اور مزید پوچھنا چاہتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں یہ جو ان کے سوال کا حصہ اس کے اوپر تو کی پروگرام پیش کیے جا چکے لیکن مختصر ذکر کریں اور خلافت کا بنیادی فائدہ کیا ہے وہ یہ جاننا چاہتے ہیں ہیں تو یہ ہے کہ جہاں کا اور مذہب میں ہے قرآن اور حدیث پر اگر غور کیا جائے تو اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کے مابین بوتا تو اللہ تعالیٰ حفاظت مہر نبوت کے بعد کوئی نہ کوئی ان کا قائم مقام خلیفہ ہوتا ہے تو ان معنوں میں دوسرے مذاہب میں اگر دیکھا جائے تو حضرت موسی علیہ سلام کے بعد بھی ایک سلسلہ قائم رہا حضرت عیسی علیہ سلام کے بعد بھی ایک سلسلہ قائم رہا اور اس کی ایک حد تک سایوں میں ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں ایک بگڑی ہوئی شکل ہے یا موجود ہے جس کا ایک براہ راست فائدہ عوام کو یہ ہوتا ہے کہ ایک ہاتھ پٹھان کی کوشش کرتے ہیں ظاہر ہے اس وقت جب کہ آخری زمانے میں خدا کے مسیح نے آنا تھا تمام مذاہب کا چکے ہیں اس زمانے میں جماعت احمدیہ کے اندر ہی خلافت کا وہ سلسلہ قائم ہے دنیا میں خاص طور پر مسلمان بڑی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح وہ ان کے اندر بھی کوئی اخلاقیات کا شروع ہو جائے عیسائیوں بھی کوشش ہوتی رہی ہے آپ کی مخالفت میں بھی بعض لوگوں نے اس طرح کے دعوے کیے آئے لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ خلیفہ یا وہ خلافت جس کے ساتھ اللہ تعالی کی تائید و نصرت شامل ہے اور جو دراصل اللہ تعالی کے اس وعدہ کے ساتھ درس جڑی ہوئی ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وعد اللہ الذین اٰمنوا وعملوا الصالحات کانت لھم دینھم الذی لا الہ الا اللہ تعالی نے مومنوں سے وعدہ کرتا ہے ایسے مومنوں سے جو اعمال صالحہ بجالانے والے ہوں گے کہ اللہ تعالی خود ضرور یہ تاکید کی سیاہی استخلف نہ حلال رزق خدا تعالیٰ ان کے اندر ضرور خلافت قائم کرے گا اللہ دین امن کا پھل ہے جس سے پہلے لوگوں میں خلافت عثمانیہ کی کی اب یوتوب پاکستان اور ہندوستان میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جن کے آگے خلیفوں کے نام سے بڑی عید کس دن کی بھی ہوتی ہے ایسے بھی لوگ کسی دعوے دار کا آغاز میں پڑھتے ہیں نہ وہ انکار سنت پر چلتے ہیں قرآن کریم نے اس مضمون کو مکمل شکل میں بیان کیا ہے آگے اس کی خلافت کی علامتیں بیان کی ہیں جو اجتماعی جماعت احمدیہ کے اور کسی کے اندر وہ علامت نظر آتی ہیں بلکہ ان کا یہ دعویٰ نہیں کہ ہمارے اندر جیسی علامتیں ہیں وہ علامتیں یہ ہیں والا یوم کے ننھو دینہ ملازم ہوں کہ خدا کی طرف سے جو دین ہوگا اللہ تعالی کی توحید کے قیام کے لئے اللہ تعالی کی عبادت کے لیے وہ اس خلافت کے ذریعے دنیا میں مضبوط ہوگا یہ دل نہ ہو میں ملاقات ہوگی اس میں مومنوںاللہ بڑی کامیابی کے ساتھ ملوں کی جماعت کو آگے لے جائے گا یا وہ نہیں ہونا بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک کریں گے دنیا میں جس میں شرکت پھیلا ہوا ہے دنیا میں کوئی بھی اور مذہب ایسا نہیں ہے جماعت احمدیہ کے علاوہ جس کے بارے میں یہ نہ کہا جاسکے کہ شرک کی کوئی نہ کوئی شکل بلکہ انتہائی بری شکل ان کے اندر موجود ہے وہ من کفن آباد وفاقی حکومت تو یہ علامتیں تو ہے آج صرف اور صرف جماعت احمدیہ میں جو خلافت قائم ہے جو دن رات دنیا میں اللہ کے دین کی اشاعت کے لئے کوشش کر رہے ہیں اللہ تعالی کی توحید کو دنیا میں پھیلانے کے لئے کوشش کر رہی ہے ایک پورا نظام ہے جو دن بدن ترقی کرتا چلا جارہا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ اور پھر اس کے ساتھ اللہ تعالی کے وعدے بھی ہوتے ہیں خوابوں کے ذریعے کشف کے ذریعے علامات کے ذریعے وہ آئے دن پورے ہوتے ہیں ہیں جاری عطائے خلافت ندائے فلک ہے ندائے خلافت جو بنیادی فائدے کا ذکر انہوں نے کیا ہے سورہ نور کی آیت نمبر 56 میں جو بنیادی فوائد خلافت خلافت کے اللہ تعالی نے گنوائے ہیں وہ آج اللہ تعالی کے فضل و کرم کے ساتھ جماعت احمدیہ کو نصیب ہیں ہمارے ساتھ اس وقت ایک کال موجود ہیں میں نے فرمایا ہے اور جب پرست عورتوں پر فضیلت بخشی ہے اسے کیا مطلب اردو ہے کہ ہم نے اسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ وہ رحمت اللعالمین تو تب ہم ہیں کہ حضور ہر وقت اور تمام جہانوں کے لئے پانی ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے ان کے لئے رحمت دے تو میرا سوال یہ ہے کہ وہ تمام حضرت سلامت رہے ہو مجھے سمجھ میں آ گیا ہے اور آپ محمود صاحب کی طرف چلتا ہوں صاحب اسلام علیکم ہماری بہن مریم صاحبہ انہوں نے یہاں برطانیہ سے سوال کیا ہے میں اس سوال آپ کے سامنے دوبارہ پیش کر دیتا ہوں تاکہ ہمارے ناظرین کو بھی وہ سوال سمجھ میں آجائے ہماری بہن نے دراصل سورہ آل عمران کی آیت نمبر 43 کے حوالے سے سوال کیا ہے جس میں حضرت مریم کو تمام جہانوں کی عورتوں میں سے فضیلت کا بیان کیا گیا ہے اور پھر بنی اسرائیل کے بارے میں قرآن کریم میں ذکر آتا ہے تو ہماری بہن سوالیہ کر رہی ہیں کہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے لئے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا ہے تو یہ جو حضرت مریم کو جو فضیلت دی گئی ہے اس فضیلت سے کیا مراد ہے برائے مہربانی ہے میری بہن کے اس سوال کا جواب دے دیں آپ کا بھی ذکر ہے کہ ہم العالمین تو اگر بنی اسرائیل کے متعلق ہمیں یہ عقیدہ بنائیں کہ وہ دنیا کے تمام جہانوں اور ہر زمانے کے موجودہ لوگوں میں اعلیٰ اور افضل ہیں جو قرآن کریم کی دوسری آیات کی تلاوت قرآن ٹیچر ہوتا پر فرض ہے ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے کون کہ رہا ہے محسن کو کرار کے سب سے بہترین امت تو تم ہو جو لوگوں کے فائدے کے لئے جو ہے بنائی گئی ہو نیکی کا حکم دیتے ہو بدی سے روکتے ہو اور اس کی وجوہات بیان کی ہیں تو اگر بنی اسرائیل کو ہر زمانے کے انسانوں پر یہ قوموں پر امتوں پر فضیلت ملی جائے تو قرآن کریم میں خود اس بات کا فیصلہ تعداد میں نظر آتا ہے تو مرادنہیں ہے بلکہ اس زمانے میں جو لوگ تھے قومی آباد کے علاقے میں وہاں کے سب سے اعلیٰ اور افضل بنی اسرائیل کے لوگ تھے ہم دیا کی آواز سننے کے نتیجے میں اولیاء بھی تھے ان میں ربانی الہ آبادی تھے اور بہت سارے لوگ تھے جو خدا سا لگے طرف لوگوں کو بلاتے تھے حضرت مریم علیہ الصلاۃ والسلام میں ان کو تقویت مل رہی ہے وہ نبی کی والدہ ہونے کی بنا پر ہے اپنی ذاتی خوبیاں بھی ہیں اور ساتھ یہ خدا کی راہ میں کچھ جان لیا کہ اس زمانے میں جو عظیم الشان دی حضرت یوسف علیہ الصلاۃ والسلام دیکھنی ہیں اس ندی کی والدہ ہونے کا اعزاز اور فضیلت ہے مگر مریم علیہ السلام کو عطا کی جاتی ہے تاکہ ان میں موجود ہیں لیکن ان میں سے سب سے زیادہ خدا اللہ کی نظر اس پر پڑی شرکت کی رحمت کی بدلی کی وہ حضرت آمنہ جو ہمارے پیارے نبی کی بات مانیں تو ان پر پڑی ہیں اور ان کو آزادی ملا کہ ان کے بطن مبارک سے علاج تمام جہانوں کی عورتوں پر نہیں ہے بلکہ اس زمانے کی جو عورتیں ہیں ان میں سب سے اعلی اور حضرت مریم علیہ السلام بہت بہت شکریہ ساجد صاحب آپ نے مجھے امید ہے کہ ہماری بہن کو ان کے سوال کا جواب مل گیا ہوگا ناظرین کرام جس طرح کے بار بار اس پروگرام میں ہم یہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ پروگرام دراصل آپ کے سوالات پر مشتمل ہوتا ہے اور آپ کے سوالات کی اس پروگرام میں بڑی اہمیت ہے اس لئے سب سے پہلے تو میں ان تمام بہنوں اور بھائیوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس پروگرام میں سوال پیش کئے جس پروگرام کو بڑی دلچسپی کے ساتھ دیکھتے ہیں اور وہ لوگ جو کسی وجہ سے اپنا سوال پیش کریں میں ان کو بھی چاہوں گا ہر ہفتے کے روز ایم پی اے انٹرنیشنل پر جی ایس ٹی وقت کے مطابق شام چار بجے آتا ہے آپ ضرور اپنے سوالات سوچ کے رکھا کریں اور ضرور اس پروگرام میں اپنے سوالات پیش کیا کریں کریں میں اپنے فون نمبر ان کا بھی شکرگزار ہوں فضل الرحمن صاحب کا اور اسی طرح ساجد محمود بھٹی صاحب کا بھی جنہوں نے گانا سے ہمارے ساتھ اس پروگرام میں شامل ہوئے ہیں جن کا نام پروگرام کے آغاز میں میں نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 187 کے حوالے سے یہ گزارش پیش کی تھی کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں جگہ جگہ اور خاص طور پر اس آیت میں بھی ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ میں پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں میں دعا کرنے والے کی دعا کو سنتا ہوں اس بات کی ہے کہ جب ایک طرف جماعت احمدیہ بانی جماعت احمدیہ اور خلفاء احمدیت دنیا کو اس وقت کا امام آگیا ہے اس کی بات پر لبیک کرو اور اس کے سلسلے میں شامل ہو تو اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر رمضان کے مہینے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ تعالی سے صداقت آمدید کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنا چاہیے اللہ تعالی ہر کسی کو اس کی توفیق عطا کرے آخر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہوں گا جس میں آپ نے خاص طور پر جو خاتم الانبیا خاتم النبیین کا مضمون ہے یہ کھول کر بیان فرمایا ہے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں جس کا عمل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا اس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام قاری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا بلکہ کیا بات ہے زبان اور کیا بات ہے مکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی اس لیے قدرت کی تجلیات کا پورا اور کامل ہے صاف کو ملا اور وہ خاتم الانبیاء بنے مگر انسانوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطب الہی کا دروازہ کبھی بند نہ ہو گا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب ختم نہیں ایک وہی ہے جس کی بہت سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لیے امتی ہونا لازمی ہے آئندہ پروگرام تک کے لئے اجازت دیجئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں

 56 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: