𝐈𝐬 𝐩𝐥𝐞𝐚𝐬𝐮𝐫𝐞 𝐢𝐧 𝐍𝐚𝐦𝐚𝐳 𝐥𝐢𝐤𝐞 𝐭𝐡𝐞 𝐬𝐞𝐱𝐮𝐚𝐥 𝐩𝐥𝐞𝐚𝐬𝐮𝐫𝐞?




𝐈𝐬 𝐩𝐥𝐞𝐚𝐬𝐮𝐫𝐞 𝐢𝐧 𝐍𝐚𝐦𝐚𝐳 𝐥𝐢𝐤𝐞 𝐭𝐡𝐞 𝐬𝐞𝐱𝐮𝐚𝐥 𝐩𝐥𝐞𝐚𝐬𝐮𝐫𝐞? (کیا نماز کی لذت جنسی تعلق کی لذت کے مشابہ ہے؟)

Uploaded on Aug 28, 2021

ناظرین کرام اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ مخالفین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے علمی جواب لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہیں پروگرام میں خاکسار عبدالوہاب کے ساتھ محترم مولانا حاجی چودھری صاحب شامل ہوں گے ان شاء اللہ آئندہ آزاد کا جواب دیں گے گے حاجی صاحب اگر آج وہ اعتراض ہے مخالفین جو ہیں وہ براہین احمدیہ حصہ پنجم سے ہے وہ کہتے ہیں جن کی تفسیر بیان کرتے ھوئے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں نماز میں اللہ تعالی سے خلوت و خضوع کی جو حالت ہوتی ہے اس کو مرد اور عورت کے مخصوص تعلقات سے تشبیہ دی ہے مثال دی ہے یا نہیں ہے قبول ہے یہ مناسب بات نہیں ہے اور اس بے وفا شاعری بھی کرتے ہیں اس کے بارے میں کچھ بیان کریں اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم وعلی عبدالمسیح مود مودی نے ایک شخص کو یہ اعتراض کرتے سنا ہے اور جس پر اس نے ان تحریرات کو اپنے حفظ کا نشانہ بنایا ہے انتہائی غلیظ زبان استعمال کی تھی اس نے محمد علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ کہ خود کو ثابت کے ہستی فائدے اور اپنے نفس کا اظہار تھا ورنہ یہ ساری تحریر تفسیر جو عنایات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے ہے اس کو پڑھ لیں یہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے تقریبا 150 سے لے کر 220 تک تقریبا سارا ذکر چلتا ہے ہے بیان کئے ہیں اور امیر اور دقیق رموز اور اسرار کھولے ہیں اللہ تعالی کے اس بیان فرمودہ دور کو گے آگے ایک رکوع میں اللہ تعالی انسان کی روحانی پیدائش اور اس کی نشوونما کا ذکر فرماتا ہے اور دوسرے میں اس کی جسمانی پیدائش ان دونوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جس طرح تطبیق کے ساتھ چھٹے درجہ دونوں کے جسمانی اور روحانی بھی اور جب تک بھی فرمائی ہے حیرت انگیز اور میں اسے کہتا ہوں کہ پچھلے پندرہ سالوں میں میں کسی ائمہ سلف میں سے کسی نے قرآن کریم کی ان آیات کی تفسیر میں بیان فرمائی اے موسیٰ علیہ السلام نے بیان فرمائے یہ اس کا انسان ہے انسان کی تیزی پر یا اس پر جس طرح کا ہو گا اس طرح کا نتیجہ اخذ کرے گا لفظ ہے لفظ ہے لفظ کے ہیں نہ تو یہ سارے قرآنی الفاظ ہیں ہے اور انہی الفاظ میں قرآن کریم کو ہم چومتے ہیں ماتھے پر لگاتے ہیں ہیں لیکن خدا تعالیٰ جو شریعت کو قائم فرماتا ہے شریعت میں اس نے قرآن کی صورت میں اور سارے اسرار و رموز بیان فرمائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر یہ اس قدر خوبصورت تفسیر ہے کہ یہ ایک پڑھنی چاہیے اور یہ جو لفظ ہے میں آیا ہے یہ سورہ مومنون کے پہلے دو رکوع ہیں تو یہ جو دوسری اور تیسری آیات ہیں ان میں صلح کا ذکر ہے لفظ کا ذکر ہے ہے تو یہ سلسلہ جو ہے یہ اس کا آسان ترجمہ یا معنی یہ ہے کہ خالص اور مکمل خلاصہ یہ ہے اس کو انگلش میں کہتے ہیں کہ کہ پیور کلیئر اینڈ ایکسیلینٹ ایکسٹریکٹاس کے مقابلے پر جو آئے تھے وہ والا اصلاحی ورک افلح المؤمنون الذین ہم فی صلاتہم خاشعون ہو یہ شروعات ہے دوسروں کی ہیں وہ نمبر ہے تو اس میں یہ جو نماز میں خشوع و خضوع ہے اس کا تعلق یا اس کی ابتدا جو ہے انسان کا خدا سے وصل جو ہے خدا سے ملنا جو ہے وہ خشوع و خضوع کا انتظار تو یہ نماز کے ذریعہ انسان کو نصیب ہوتا ہے اور اس کی روانی پیدا ہوجائے پھر نشوونما پاتی ہیں اور پھر اگلے جہاں صرف سامنے ہر دو آیات کو مقابلے پر رکھ کر ایک تجزیہ پیش کیا اور حیرت انگیز ہیں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جیسا کہ نطفہ اس وقت تک معرض خطر میں ہے جب تک کے رحم سے تعلق نہ پکڑیں میری جان ہو جاتا ہے جب تک گرہن میں جاکر طلاق نہ پڑے ہو اسی طرح خوش و خضوع نماز میں جب تک مکمل طور پر اللہ سے جوڑ نہیں جاتا وہ نماز بھی ضائع ہوتی ہے کہ حضور نے کیا فرمایا جیسا کہ اس وقت تک ہے جب تک رہنے سے تعلق نہ پکڑی ایسا ہی روحانی وجود کی یہ ادا یہ علت یعنی خشوع کی حالت اس وقت تک خطرے سے خالی نہیں جب تک کہ رحیم خدا اسے طلاق نہ پڑے راحیم اور رحیم کا تعلق الرحمن کا تعلق ق میں بھی ہے کہ رحم کا تعلق رحمان سے سے ٹھیک ہے تو یہ جو سلسلہ ہے روحانی اور جسمانی یہ آپس میں بڑا مطابقت رکھتا ہے وہ بولی اس شخص نے یہ الفاظ مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ذھن کا گند نکالنا ہے بس اتنی بات ہے ورنہ یہ انتہائی پاکیزہ تفسیر ہے اور انسان کسی درجے پر بھی ہو تو آکے اور خدا سے تعلق ہے خدا سے وصل کے تعلق میں وہ اپنی حالت زیرو میں دیکھ سکتا ہے یا نہیں ہوا تو میں کہ میں اس وقت کس مقام پر پر تو یہ ایک بہت عظیم الشان تفسیر ہے جو ہمیشہ اس نے بیان فرمائی ہیں لالہ علی جو ہلاک ہونے والے ہیں وہ دھونی کی طرف مائل ہوتے ہیں وہ نور کو چھوڑ دیتے تو یہ فساد کرنے والے بھی اس نور کو چھوڑ کر دوسرے کی طرف گئے ہیں جو ان کے اپنے ذہن میں ورنہ یہ تفسیر براہین احمدیہ حصہ پنجم میں صفحہ 180 سے لے کر 2020 تک اس کو دیکھیں کسی ایک جگہ بھی جنسی تعلق کا ذکر اس طرح نہیں ہے ہاں روحانی پیدائش اور جسمانی پیدائش کا تقابلی جا رہا ہے اب روحانی تعلق میں یعنی کو اصل بلو شخص ہے جو اللہ سے جڑا ہوا ہے ہے وہ خدا سے کس طرح اپنا تعلق گہرا کرتا ہے کرتا چلا جاتا ہے وہ اپنی جان مال عزت نفس وقت ہر عزیز سے عزیز متاع کو کو خدا کے لئے قربان کرتا ہے ہے اور اس قربانی میں جس میں ایک قسم کا یعنی قربان کرنا ہوتا ہے قسم کے دکھ اور تکلیف بھی ہوتی ہے مگر اس میں ایک عظیم الشان لاثانی لذت محسوس کرتا ہے ہے اور پھر جب اس سے تعلق گہرا ہوتا ہے اللہ تعالی سے تو وہ اور مزید آگے بڑھتا ہے ہے تو یہ درجہ بدرجہ وہ تعلق بڑھتا چلا جاتا ہے ہفتہ کہ اس کی کامل تخلیق ہو جاتی ہے روحانی لحاظ سے سے اور جسمانی لحاظ سے سے رسول اللہ ہے ہے انسان کے ہر حصے کا خلاصہ یہ وہ انسان  ان اپنی جسمانی تخلیق کو آگے بڑھانے کے لئے خدا کے قانون کے تحت وہ قانون جس کا ذکر خدا تعالی نے شروع سے لے کر آخر تک قرآن کریم میں ذکر کیا ہے ہے اس میں وہ نعت اللہ نے پیدا کیا ہے ہے تو یہ دونوں سلسلوں کا اصل مذہب سے تعلق ہے جو ایک طرف جسمانی لحاظ سے جس میں ایک انسان اپنے وجود کا ایک شہر کا وجود کے گزرنے کا خالص جوہر پیش کرتا ہے ہے نسل انسانی کی بقا کے لیے ہے خدا کا ہونا اس کا مطلب ہے ہے اور دوسری طرف خدا کا یہ بھی قانون ہے کہ انسان خدا سے اپنا تعلق بند ہےتخلیقی غرض یہ ہے کہ اللہ کا بندہ بننے کا غلام بنے اس کی مدد کرنے والا بندہ بھی انتہائی درجے تک پہنچنے کے لئے آپ نے روح کا روحانی لحاظ سے اپنی روح کا ہر وہ حصہ قربان کرتا ہے جس سے اس کی وابستگی ہے مال و دولت ہو جو بھی ہو وہ قربان کرکے وہ ایک لذت محسوس کرتا ہے ہے تو یہ جو انسان اپنے جوہر کیے اپنے وجود کے روحانی لحاظ سے بھی اور جسمانی لحاظ سے جوہروں کو قربان کر کے آگے بھیجتا ہے کہ وہ اس سے تعلق خدا سے بڑے یا اس کا جسمانی وجود بڑے جسمانی نسل کی بقا و تعلق ان آیات میں اللہ تعالی نے اس سارے سلسلے کو ان آیات میں بیان فرمایا کیا اور میں سمجھتا ہوں ان کا مطالعہ کرے تو انسان درود بھیجتا ہے محمد صل وسلم پر اور آل محمد پر پر جس میں اور آپ کے تمام اہل اسلام کو ایسی پاکیزہ ایسی عظیم الشان تفسیر ہے کہ انسان واقعی ضرورت ہے اس کو ان کے گندے چلانا یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کا ذہنی آ رہی ہے ہے جن کی سوچ ہی گندی ہے ہے تو یہ قرآن کریم میں جو اللہ تعالی نے فرمایا ہے یہ عظیم الشان ہے اور یہ الفاظ وہی ہیں از مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کوئی لفظ باہر سے نہیں لیا سارے وہی الفاظ ہے اور وہ انھیں آیات میں یہ تقریبا سارے تو اس لحاظ سے یہ اعتراض بنتا ہی کوئی نہیں نہیں تو ان آیات کی تفسیر کو پڑھنا چاہیے اور یہ عظیم الشان جو تفسیر ہے حضرت ابراہیم نے احمدیہ حصہ پنجم کے میں نے عرض کی صفائی 180 سے لے کر 2020تک ہیں اور بہت عظیم الشان انسان ہی ملتی ہے اور اپنے معیار کا پتہ چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق میں سنجیدہ ہے امریکا اور پر آگے قدم بڑھا رھا ھے اور کہاں تک جانا چاہیے تو اللہ تعالی ہم سب کو یہ توفیق عطا فرمائے اللہ تعالی نے ہمارے جسمانی تکلیف کو مکمل کیا ہم اپنی روحانی تخلیق کو بھی مکمل کرنے والے ہو اور انہیں ہدایت کی روشنی میں خدا تعالیٰ سے وصل کے اعلیٰ مقام حاصل کرنے والے واخردعوانا صاحب ہم آپ سے درخواست ہے کہ جب بھی آپ کوئی اعتراض سنے یا مولویوں کی طرف سے علماء کی طرف سے سے ہی کوئی اعتراض آپ کے سامنے پیش کیا جائے تو کوشش کریں کہ ہماری آفیشل ویب سائٹ علیہ السلام سے یہ کتاب تلاش کر کے اس کا حوالہ خود بھی پڑھیں اور باقیوں کو بھی دیں اللہ تعالی ہم سب کو اس بات کی توفیق دے انشاء اللہ اگلے پروگرام میں ایک نئے طرز کے جواب کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بہت پانہ آل سونگ عم علم سے دکھایا ہے جماعت اسلامی نشاۃ ثانیہ کے الہی تحریک

 60 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: