Friday Sermon – Khalifa IV – 14-12-1984




Friday Sermon – Khalifa IV – 14-12-1984

 خطبہ جمعہ خلیفۃ المسیح الخامس مرزا طاہر احمد

Friday Sermon 14-12-1984

لاہور قلندر لا اللہ اکبر اللہ اکبر بھائی اللہ la la la واللہ اعلم اسلام لا لا لا لا الہ الا اللہ اللہ اکبر اللہ اکبر سر لا الہ الا اللہ نان اللہ اللہ محمد بن عبد الوہاب حماد اللہ ساجد عالم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد اللہ رب العالمین رحمٰن الرحیم یار دکھائیں امام حسین لین تالے ہمخوب کمال توازن کھو بیٹھتے ہیں ہیں اور حق کو باطل کی تمیز اٹھا دیتے ہیں ہیں ایسی صورت میں ہم پر دلائل اور مسائل ہیں ہیں طرف سے گھیر لیتے ہیں ہیں کریم نے ان قوموں کا جو نقشہ کھینچا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے ہے کہ زمین بھی ان کو ان ہے اور آسمان سے بھی مسائل ہوتے ہیں قومی دن کے سربراہ کو باطل کی زمین چھوڑ دیں دی اور ضابطہ اخلاق سے عاری ہو چکے ہو ہو اگر وہ قوم ہیں ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ توفیق نہ پا سکی کہ وہ ایسے سربراہوں سے نجات حاصل کر لی علی تو پھر وہ قومیں بھی بد نصیبی سے اپنے سربراہوں کے مقدس باتیں ہیں ہیں کچھ اسی قسم کے خطرناک پاکستان میں پیدا ہو رہے ہیں ہیں اور موجودہ صدر سر معلوم ہو رہا ہے جیسے بالکل توازن ہوتے چلے جا رہے ہیں ہیں اور ساری قوم قوم شدید بے چینی میں مبتلا ہے ہے اور کسی کی کچھ پیش نہیں جا رہی کہ وہ کیا کرے مجھے اور کس طرح نکالے یہاں تک سیاسی حالات کا تعلق ہے ان پر تبصرے یہاں تک سیاسی حالات کا تعلق ہے ان پر تبصرہ سرے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ میں ایک مذہبی رہنما ہوں ہو اور سیاستدان جہاں تک ان کی زبان یا رہتی ہے جہاں تک ک ان کے کلام پر پیروں کے باوجود وہ سارے بیان کرسکتے ہیں ان کا کام ہے ہے لیکن بحیثیت ایک مذہبی رہنما کے کے مذہب میں دخل اندازی ہندی اور مذہبی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جماعت پر نہایت آسان تراشنا اور جھوٹا الزام لگانا گانا ایسے ہیں جن کے متعلق میری ذمہ داری ہے کہ میں ان کو گیا ہے ہے صاحب کا بیان جاری ہوا کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ہو رہا ہے ہے ویسے ہمارے ملک کی صحافت بھی بدقسمتی سے اتنی قابل اعتماد نہیں نہیں الزامات لگانا غلط فہمی دور کرنا یہ تو ان کا کام ہے اس لیے مفید ہوتی ہے تمام تر تمہیں آپ کے سامنے بڑھ کر نہیں سنا تھا لیکن اس کی بنیادی باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ہو پہلا حصہ آپ اس الزام کا جماعت احمدیہ کے متعلق ہے ہے کہ ناول میں جماعت احمدیہ کا گستاخ رسول ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید گستاخی کرتی ہےفلم عشق میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہے ہے وہ جماعت جو تنہا سارے عالم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و شرف کی خاطر ایک عظیم جہاد میں مصروف ہے ہے وہ جماعت ہے جس نے نے گزشتہ ایک سو سال سے سے تمام دنیا میں اسلام کا سر بلند کرنے کے لیے اپنی جان نے اپنی عزتیں اپنے اولاد میں سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر رکھے ہیں ہیں وہ جماعت جس کے متعلق بیان بھی اپنے علاج کے باوجود یہ ضرور تسلیم کر لیتے ہیں ہیں کہ اس سے بڑھ کر اسلام کی تائید میں اسلام کی محبت میں خدمت دین کرنے والی اور کوئی جماعت سارے عالم میں نظر نہیں آتی وہ جماعت کے سربراہ کے متعلق حسین صاحب بٹالوی نے لکھا تو سال میں گذشتہ سو سال میں ہوا ہو جس نے اپنی زبان سے اپنے فعل سے اپنی قربانی سے قربانی سے ابراہیم سے اسلام کی ایسی خدمت کی ہو تو کوئی بتائیں تو سہی وہ کون تھا تھا ہاں اور پھر وہ مزید تاکید لکھتے ہیں ہیں کہ کوئی سے ایشیائی موبائل کا نہ سمجھو مجھے تم پر نگاہ ڈالو اور مرد میدان جو مرزا صاحب کے مقابلے پر جہاں اسلام نے آپ کے برابری کا دعویٰ کرتا ہے آپ کی برابری کا دعویٰ کر سکتا ہوں ہو تو یہ میرے ہیں لیکن ان کے الفاظ تحریر میں خاص شوق رکھتے ہیں تو یاد نہیں لیکن وہ ہر بار پڑھنے سے وہ جو عقائد میں آپ سے مختلف تھے جن کا آپ سے ایک زمانہ تو تھا لیکن وہ قائد نہیں تھا جب خدا کسی نے صرف اللہ سے شکایت کی کہ آپ کو ان کو سینے سے لگاتے ہیں اور یہ تو مرزا صاحب کے مرید ہیں جو ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے ہیں ہیں تو اندر سے وہ گزرے حسنین حال ہیں ہیں اور انہوں نے کہا کہ مجھے اور تو کچھ پتہ نہیں نہیں کسی میں کچھ ذرا سی بھی شرافت ہو تو اس کلام کو پڑھ لیں چلے اس کے بعد جو چاہے عظام لگائے حضرت مرزا صاحب کو برسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنی کا انجام یاد آتا ہے اس سے بڑھ کر عشق رسول میری نظر سے نہیں گزرا یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ سیاست میں شرافت و حیا موجود تھی کی جبکہ شرف انسانی کے تقاضے بھی شرف انسانی کے اقتدار بھی زندہ تھی کی لیکن یہ تو بہت پرانی بات ہے ہے ہے ملکوں میں تبدیلی پیدا ہوئی اور اخلاق میں تبدیلی پیدا ہوئی یورپ میں پیدا ہوئے ایسے مقام پر نکل آئے ہیں ہیں یہاں سیاست کو سیاست مست مست جو ان کے مذہب ان پر عائد کرتے ہیں ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کسی قسم کا کوئی معیار بھی باقی نہیں رہا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اسلام اور جماعت احمدیہ پر یہ الزام کہ نعوذباللہ مل جائے رسول ہیں اس سے زیادہ جھوٹا اور بہیمانہ اور ظالمانہ نظام اور کوئی نہیں لگایا جا سکتا کتا السلام ہی نے تو ہمیں عشق وہ اب بتلائیے کہ کسی سے محبت کی جاتی ہے عادت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کھلائے کہ کس طرح جانے سال کی جاتی ہیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پرخیال محمد چشمہ رواں کہ خلق خدا سے ہم یا قطرے بحری کمال محمد آپ نے ہمیں مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہتر ہے ہے جو درست و نادرست کے ساتھ فیصل آباد آپ نے ہمیں یہ بتایا یا کوئی مقام نہیں مگر یہی کہ میں خاک پائے مصطفی ہوں ہو اور جو کچھ بھی برکتیں تو مجھ پر نازل ہوتے دیکھتے ہو یہ کثرت سے درود کی برکتیں ہیں وہ برستے ہیں محمد مصطفی پر درود کے جواب میں نازل ہوتے ہیں ہیں آپ ہم نے اس سے پایا کیا شاہد ہے تو خدایا کیا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے ہے اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی ہوا ہوں وہ ہے میں ٹھیک جا بس فیصلہ یہی ہے نہیں اردو کلام کو اٹھا کے دیکھیے عربی سلام کو اٹھا کر دیکھیے فارسی کلام کو اٹھا کے دیکھیے یے منظوم کلام کو اٹھا کر دیکھیے نظر کے کلام کو اٹھا کر دیکھیے یے ان مواضعات واقعہ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار کر چکے ہیں ان سب کو اکٹھا کر دیں دی کپل میں ڈال دیں اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کسی ایک کلام کا نمونہ رکھ دیں zx6r علیہ السلام کا عشق رسول کا پڑھا ہے تحریک آزادی کی تقریر کی نظر میں حضرت مسیح علیہ صلاۃ و سلام پیش کے مخالف نہیں تھا کے متعلق نزع اور ان کے ماننے والوں کے متعلق نظام کے ناولز علی آتے ہیں اور پھر اس کے نتیجہ ہے کو گالی دے دیتا ہے ہے کہ ہم یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ کوئی گالیاں دے کر چھوڑ دیں حیرت کی بات ہے کہ اس کے اندر کی بات نہیں ہیں ان پر غور کیجیے حکومت دونوں دونوں حصوں کو تلقین کر رہی ہے قتل و غارت کی کی جو ذمہ دار ہوتی ہے امن و امان کی اس کے سربراہ کی طرف سے ایک طرف طرف نہایت ہی جھوٹا اور ناپاک الزام لگا کر ہم پر مسلط کیا جارہا ہے ہے میں بطور صدر مملکت ہوں الصلاۃ وسلام کو گالیاں دیتے ہیں تمہیں اپنے باپ سے بڑھ کر غیرت نہیں ہے اپنے ایمان کی تو نہیں اور ہمارا پتلو کارٹون جہالت کی بھی حد ہے ہے اور غیر ذمہ داری کی بات ہے دنیا کی تاریخ میں کبھی کسی صدر کے منہ سے ایسے جاہلانہ کلمات آپ نے نہیں سنے ہوں گے جیسے یہ کلمات جاری ہے شاہ رخ خان کی کی اس دنیا کے کسی نے کسی کی رو سے میں نے پہلے بھی نہیں ہےسیاسی اسی زبان کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں ان کے لحاظ سے دیکھ لیجئے مذہبی اقدار تو بہت بلند ہے ہیں عام شرک کے انسانی کے متعلق ایسے انسانوں کا تصور جو خدا پر یقین نہیں رکھتے سے بھی بات میں کوئی روشنی نظر نہیں آئے گی آئی کی پھر آگے یہ کہنا ہے کہ اس وقت سالہ تاریخ میں گالیاں دینے والے ممالک ہیں نہیں ہے کیا کرتی چلی جا رہی ہے مگر تو اسلام کو گالیاں دیتے ہوئے مسترد کر دی ہے اور اس بات پر فخر کر رہی ہے کہ اسلام کی خدمت ہوگی جماعت احمدیہ جماعت کی دوا ہے نہ کبھی جماعت ہوئی نہ کبھی ایسی گلیوں میں ملوث ہوئی نہ اسے قابل قبول سمجھتی ہے سے وابستہ ہے جس رسول سے وابستہ ہے جس کو مولا عشق کرتی ہے ان باتوں کا دھیان کرکے تو یہ بھی نہیں دیتا کسی نبی کو کو کہ وہ گندی گالیوں میں ملوث ہو جائے اور گستاخیوں میں ملوث کوئی آئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی خدا تعالی آپ کی عظمت کی قسم کھا کر ہم کہتے ہیں ہیں خدا کے جتنے بھی مقدس نام ہیں ان سب ناموں کی قسم کھا کر کہتے ہیں ہیں ہیں اور ان مقدس اور جن کی انتہا تک کسی کو کوئی نہیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کیسا قیدی ہے بھیجتے ہیں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اگر یہ سچ ہے تو ہم پر بھی لعنت نازل فرما اور ہماری نسلوں تک مسلمانوں پر قیامت تک لعنت کرتے جائیں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہے اسلام میں کونسی قیمت پر قبول کرنے کے لئے تیار ہے اگر یہ جھوٹ ہے ہے تو پھر قرآن کی زبان سے زیادہ اور کوئی زبان استعمال نہیں کرتا کہ لعنت اللہ علی الکاذبین لعنت اللہ علی الکاذبین لعنت اللہ علی کے گا اور ان کی تاریخ بتائیں کہ کس پر لعنت ہے اور اس پر ہے دینا na20 تو نہیں نہیں مگر اس ملک میں یہ دستور عام ہے جس ملک میں باتیں کی جا رہی ہیں ہیں اس میں کوئی شک نہیں کو گالیاں دینے پر قتل تو دور کی بات رہے گی کسی زمانے میں ہوا کرتے ہیں اب تو ماں بہن کی گندی گالی پاکستان کی گلی گلی میں کیوں نہیں آتی ہو رہی ہیں ان کی بلند آواز سے بلند ہو رہے ہیں ہیں جنگ کے تعاقب میں چلے جائے آئے وہ اپنے جانوروں کو بھی ماں باپ کی گالی دے رہے ہیں اور اپنے ماں باپ کو بھی ماں باپ کو گالی دے رہے ہو اور کچھ نہیں کرتا کسی کو عام دستور ہو گیا ہے ہے جماعت احمدیہ تو گالیوں کے قائل ہی نہیں رہی مگر جو گالیوں کے قائل ہیں ان کا بھی موقع بہت سے معاملات آگے بڑھ چکا ہے ہے اور عجیب بات ہے ہے کہ باوجود اس کے کہ شدید ظلم کیے گئے ہیں جماعت احمدیہ پر اور نہ ہی گندی زبان استعمال کی گئی حضرت محمد مصطفی صل وسلم کے عشق میںپہنچانے میں نے یہ کیا قصور بھی نہیں کیا اس وجہ سے کیوں گالیاں دیتا ہے ہے مگر جن لوگوں کے ہاں یہ تصور ہے جو ان اصولوں کے قائل ہیں ان کے سامنے کھلا امتحان ہے ہے مثلا اچھے تھے اس کے موقع پر پر لاکھوں بریلوی بیٹھے ہوئے ہوئے اور باوجود اس کے کہ حکومت نے ہر طرف سے پہلے بٹھائے ستاروں کو توڑ کر ان سے بے نیاز ہو شادی کی پیشکش نہیں جاسکتی تھی اتنا عظیم مبارک ہو اور اس عظیم میں میں دو قسم کی گالیاں دیں گی گی ہیں اور اتنی شدید گالیاں دی گئی ہیں دیوبندی اور وہابی اور اہل حدیث اور بریلوی مسلک کو کو رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ہیں اصل گندے لوگ بھی ہیں کیونکہ یہ غصہ کریں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہم کسی گستاخی کو قبول نہیں کریں گے اور منظور نہیں کریں گے ایک طرف حکومت کے کارندے یہ حیرانی ہمارے خود لگے ہوئے ہیں کہ ہمیں گستاخ رسول ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالی کی تقدیر اور اس کے فرشتے پاکستان کی اکثریت کو ان کے اوپر لگا کے چلی آ رہی ہے ہے اور وہ سارے ہی خدا کے فرشتے ہیں جو کھا رہے ہیں اور جواب دو میں نے لوکی اور صبر کے پیمانے توڑ دوں اس جواب کی طرف سے جن کو اپنے سر کے دانوں کی حفاظت میں میں نے سینڈ کر دی شان حضرت علی صرف یہی نہیں بلکہ صدر پاکستان کے متعلق اتنی گندی زبان استعمال کی گئی پاکستان کی تاریخ کبھی کسی سے ذکر کے متعلق چھوڑ کر کسی گندے جانور کے متعلق دیسی گندی زبان استعمال نہیں کی گئی تصور بھی نہیں کرسکتے مجھے کہ وہ کیا زبان تھی جو وہ استعمال ہوئی اور میں نہیں چاہتا تھا کہ دنیا کو علم و دنیا کو بتاؤ مجھے اس بات کی ساری میں تو سب مل جاتی ہیں ہیں لیکن مناسب نہیں سمجھتا کتا کیا گیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گستاخ رسول قرار دینا نا ادھر کی کسی چیز کی کی تو میری زبان کا بھی کوئی جواب نہیں دے گی مگر میں ان کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کو یاد کر رہی ہے آپ کے ملک پر اثرات کر رہا ہے ہیں سب کی گلیاں حسن کے بازار اور سندھ کے کھیل اور اور سندھ کے دوران کی آواز میں ان کی زبان میں آپ کا کیا نام ہے نام کرتے ہیں آپ کے خلاف گستاخی کو قتل کر دیتا ہے تو پھر پھر وہ دیوبندی وہابی جواب تو امیر المومنین کہہ رہے ہیں جو آپ کے مقام دے رہے ہیں ان کو پھر یہ تبدیل ہونی چاہیے کہ تقریر ہو تو دنیا میں کوئی کام نہیں کر سکتا میرے خلاف آرٹیکل کی زبان ان کی طاقت آپ کے ساتھ ہے ہے انہی معنوں کی طاقت آپ کے ساتھ ہیں اور جو اپنے اور اپنی دعاؤں کو سچا کر دکھایا جس سے کام لیا جائے اس کے خلاف انسان برداشت نہیں کر سکتا اس وقت آپ چلے گئے آپ کہاں گئی جبکہ لاکھوں کا مجمع نہیں دے رہا تھا اور آپ کو اس وقت کی حکومت کے ادارے کی پکس ہے صرف ان شریف انسانوں پر آپ کا کام چل سکتا ہے جو اس لئے خاموش نہیں ہے کہ وہ دل ہی نہیں جانے فائدہ کرنے کے لیے بے تاب دیکھنے میں میں اس لیے کمیشن کے خلاف نے ان کو خاموشی کا حکم دیا اس لیے صبر دکھا رہے ہیں کہ قرآن اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو سب پر مجبور کر رہا ہےاگر سنت ہے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیش نظر ہوتی تو وہ تو حیرت انگیز سفر اور حیرت انگیز اخلاق کے اعلی معیار پیش کرتی ہے ہے ایسے میں رہا جو اس سے پہلے کبھی کسی انسان نے نہیں دیکھے تھے اور نہ کبھی بعد میں قیامت تک کوئی انسان ایسا نہیں آتے ہیں عظیم پانے والے تھے وہ لوگ جن کو محمد مصطفی صلی اللہ عدت کے دوران اپنے ہاتھ سے دور کر کے چہروں کے سامنے کر دیا کرتے تھے کہ تیرو کوئی چیز آپ کے چہرے کو زندہ کر سکتا ہے اور ان کے ہاتھ لگی ہو جائے تک ان لوگوں نے ایک ہاتھ میں اٹھا ہندوستان کے خلاف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ سب سے بڑا گستاخ رسول عبداللہ بن ابی بن سلول جس نے نعوذ باللہ من ذالک ہائے صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے الفاظ کہے کہ ایک ایک انسان ایک مسلمان کی زبان پر آتے ہی کی کوشش بھی کی جائے اور وہ لکھی گئی ہیں اور کتابوں میں لکھنے بھی پڑھتے ہیں اپر یہ درست ہے ہے کہ باپ کی غیرت نہیں لیکن بات سے بڑھ کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت بے غیرت سیرت میں عبداللہ کے بیٹے کے دل میں جو ہوا اور وہ اور اس نے یار کیا کیا اصول ہیں برداشت سے بڑھ گیا ہے میرے باپ ہی نہیں سکتی اجازت دی جائے اخلاق اور تہذیب زیب اور عظمت اور شر سے انسانی کی وہ عظیم داستانیں ہیں جو کہانیاں نہیں بلکہ ان کی صورت میں ایسے دور میں دیکھیں میں سورج آسمان پر نہیں بلکہ زمین پر اتر آیا تھا تھا لیکن اب نہ وہ رابطہ ہوگیا جسے تمسخر کے پیش کر رہا ہے اس پر خود عمل کرکے دکھاتے اگر یہ بات درست ہے ہے ایکس نے پاکستان اے پاکستان کو اجازت دیتا ہے ہے کہ وہ اپنے باپ کی بےعزتی بھی برداشت نہ کریں اور اپنے محبوب آقا کی بےعزتی کرنے والے کو یا اس پر الزام بھی لگ جائے تو سب سے پہلے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جو لوگ آپ کو امیر المومنین کہتے ہیں ان کو کیوں نہیں اٹھاتے اور آپ کی اپنی اولاد بھی تو ہے ہے کیا ان کو باپ کی غیرت نہیں ہے کہ دوسرے لوگ ہیں بابو کے گھر میں کھانے والے وہ کیوں نہیں تھے اور بریلوی علماء بات کیوں نہیں کرتے جنہوں نے آپ کو گالیاں دی تو اس پر کوئی دعویٰ نہیں بھولتے جو دن رات آپ کو گالیاں دے رہا ہے ہے وہ میں آپ کو ان کی ماؤں کے بچے ہوئے صرف اس لیے کہ انہوں نے سیاست میں آزادی زبیر کا کیا کیا گالیاں دے رہے ہیں ہیں جن کے معصوم ان کے ہاتھوں سے نکل گئے گئے وہ بے وفا ہی گالیاں دے رہی ہیں جن کے خاوند کسی نے گئے گالیاں دے رہے ہیں جو خود طیب رہ گئے اور بے دردی سے اس کے سینے پر گولی چلائی گئی صرف اس لئے کہ وہ آزادی ضمیر کا تقاضا کر رہا ہے یہ کر رہا ہے کہ ہمیں اپنے وطن میں آزادی بلوچستان میں اکثریت اہل سنت ہے اور پاکستان شدید بغض اور عناد میں مبتلا ہے بس نہیں چل رہا تھا کہ کس طرح اس سے چھٹکارا حاصل کریں آپ کی اولاد کو بحال جسمانی اولاد ہے اگر روحانی نہیں جسمانی اللہ تو موجود ہےبریلویوں پر حملہ اللہ بولتے ان کا کاروبار شروع کر دی کہ بلوچستان میں پنجاب کی گلیوں کو خون بہائیں گے پھر ان کے لئے تو لاحعمل ہے بڑا آپ نے پیش کردیا کیا جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے یہ محض ایک ساتھ ملانے والی بات ہے زیادہ کوئی نہیں اس لئے نہ خود ہی عمل کریں گے اس پر لعنت کی اور اس پر عمل کرے اور خود پیش کر رہے ہیں اور اپنے بچے کو لے لیتے ہیں الف خدا نے اپنے ہاتھوں سے قائم کیا ہے اس میں پھیلتی جا رہی ہیں اور کوئی چارہ نہیں ہے خدا کے فضل سے ایک والی رکھتی ہے ہے جماعت احمدیہ کا جملہ اور زمین و آسمان کا خلا ہے بتاتا ہوں کہ تمہارا کوئی معنی ی خدا کی قسم جب ہمارا مولی ہماری پایا نہیں کرتے کپڑے لے جائے ہمیشہ جھوٹا نبی میں نے بھی پڑھ کے آپ کو سنائے ہیں جو نظم و نثر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہزارہا ابھی نہیں کر سکتا اس کے متعلق کیا سر ناپاک حملہ کیا جا سکتا ہے ہے گوگل مقابلے تو وہی دعویٰ کیا ہے جو تمہارا اپنا بھی ایمان ہے کہ ایسا ضرور ہو کر رہے ہے کہ میں امام علی جس کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق زمانے کی جائے اور امام اعظم بھی اس خود دوران بن جایا کرتے ہیں کہ لوگوں کے کہنے سے پہلے ماما بھی بن جاتا تاہیں وہی ہے جس کو خدا کرے جسے خدا خود مقرر فرمائے ہیں کہ مجھے زمانے کا امام کرتا ہے اگر وہ نہیں ہے تو دوسرے اماموں کے منہ پر تھوکا بھی کوئی حیثیت نہیں ون ماموں کی جن کو دنیا والے خود بنا دیا تھا وہ امام حیدر پھیلائے شخص کے لئے جن کو خلیفہ مقرر کیا کرتا ہے امام مہدی کیسے ہوں گے ان کا مقام کیا ہے ان کو خدا خود مقرر فرمائے گا اور جن کا ماننا تمام امت پر لازم قرار دے دے یہ دو سال امام مہدی سے کیا ان خواص کا حامل بھی دنیا میں گرنے نہیں دیتا ہوں ہو سارے مذہب کی تاریخ میں سے ایک نکالو تو دکھا ایسا شخص جس کو خدا نے خود مقرر فرما ma-bimbo.com کو غلط قرار دے دیا یہی تاریخ نبوت کی تم خود یہ دونوں باتیں امام حسین مانتے نہیں ہے خط کے ساتھ ایسے ہی لاجواب سکتی میں ہے کہ روشنی کوئی روشنی کی سکوں اور اندھیرے کو دینا کیسا جب تک تمہارے اندر امام مہدی کے آنے کا تصور موجود ہے ہے تم جھوٹ بولوں گی اگر مرزا صاحب کے متعلق یہ گانا لگاؤ گے کہ نعوذباللہ میں ڈالے وسلم کے مقابلے پر کسی نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو دیکھا کہ مجھے خالی نہ لکھا کرو جب میں نے دیکھا کہ میری استانی شان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے ہونے دیتے ہیں پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ اگر میری اماںجب سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور ظہور پذیر ہوا اس کے بعد سے وہ قبول کیا جائے گا جو محمد مصطفیٰ کے راستے سے آسمان کی بادشاہی میں داخل ہوتا ہے اسی کو وسیلہ کہتے ہیں ہیں ایسے عقیدے رکھنے والے پر یہ الزام کہ وہ مقابلہ کی کسی نبوت کا دعویدار ہے ہے سراسر جھوٹ ہے سر سے پاؤں تک جھوٹ ہے جھوٹ کے معاملے میں کوئی آرہی باقی رہ گئی ہو تو پھر ٹھیک ہے جو تو کیسے چلے گا جھوٹ نہیں بنا کر یہ کہنے کے بعد پھر پھر بھی فرمائی گئی ہے اس بیان میں جو جو صدر پاکستان کی طرف منسوب کیا گیا ہے ہے کہ ہم سے برداشت نہیں کر سکتا اس لیے کبھی رات بیان کی گئی ہیں میں ہم اور سنا کرتے تھے اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی کی لیکن یہ محاورہ تھا ہم نے تو ہر چیز پر غور کوئی ذکر نہ کیا جائے کرتی یہ بیان آج ایسا بھیجنے سے گزرا ہے لوگوں کے باپ کی جاگیر نہیں ملک و قوم کا استعمال ہوتا ہے ملک سے کون بھول سکتا ہے ہے پاکستان ان پاکستان میں احمدیوں کا وطن ہے جنہوں نے پاکستان کیلئے قربانیاں بھی ہیں جن کی آواز میں قربانی جو آج بھی جب پاکستان خطرات سے اس قبرستان کو خطرہ درپیش ہوتے ہیں اور ملکی مجاہدین بنتے ہیں ہیں کوئی ایک بھی ایسی نہیں ہوتا جو غداری کر جانا ان کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ بدن چھوڑ کر تم بولتے کیا اس ملک کو تو سو جاؤ کوئی حیثیت نہیں ثابت کرو کرو بتاؤں کہ تم اس طرح ملک بھر میں جلسے میں کہا تھا کہ اہل وطن کو دل سے نکالنے کہا کرتے تھے اگر وطن سے نکل نکالنے کا کسی کے متعلق کوئی ہے کسی کو کو تو پھر ان لوگوں کو نکالنا چاہیے جو پاکستان کی تیلی بنانا چاہتے تھے جو کہ اعظم کو کافر اعظم کہتے ہیں یہ کہا کرتے تھے کہ کسی ماں نے وہ بچہ نہیں جنا جو پاکستان بنا کے دکھا پاکستان کی پہلی بنا دیتا جو یہ کہا کرتے تھے کہ جو بنے گا پلیز ستان بنے گا پاکستان ہندو کالج کی سربراہی کیا ہے ہندو کانگرس کی غلامی کے اقوال اور یہ انتظار کرتے تھے کہ مسلمان کا طریقہ ناکام ہے کہ سیاست میں قربانی دے اور پھر جو کچھ حاصل کریں جو ملک اس کے نتیجے میں ہاتھ میں آئے وہ ہندو اکثریت کے حضور پیش کریں گے اور یہی اس کا کام ہے اور پھر وہ اللہ اللہ میں منسلک ہو گئے یہ پچھلے چاہتے تھے جو کانگریس کے یہ ان کے اندر نصب العین تھے تھے ان کا تو حق ہے خیر ہے جس کو احمدی نے اپنا خون دے کے بنائے آئے اور ابھی تک نہیں یہ کچھ دن پہلے کوئی کچھ تو عقل کا پاک ہونا چاہیے اتنا تو نہیں کہا بلکہ ایسی چھوٹی ہے یا کہ غریب تو بہت ملے ہر بات کو لوٹ کر دیا ہے ہے اب یہ پاکستانیوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ چھوڑ دو دو اور پھر اگلی بار نہ کلمہ پڑھا پڑنے کے نتیجے میں تمہارے ہے اس جرم میں تو سنائے جا رہا ہے کہ کلمہ پڑھتے ہیں ہیں اسی جرم کی ایک ہی سزا پر اس میں یہ ہے کہ رہا ہو تم تم ہم دیگر کو پڑھتے ہیں ہیں اور سی آئی اے کی حکومت ہے جو پاکستان اسلام کے نام پر قائم تھی کہی تھی اور اسلامی کے نام دل میں آنے پر ہر گھر میں ایسی اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت کے کارندے جن کو حکومت کے افسران نے مجبور کیا ہے وہ کم جاتے ہیں اور بعض ہوتے ہیں وہاں ان کے سامنے مجبور ہوں میں نوکری کا معنی کیا ہےآنے لگ جائے توکل مٹانے والے تو تم کو سینے سے لگانے والے تو ہم ہم میں کون سا ڈالنا پر واقع ہے تمہارا کرم ہے آقا مولانا سلمان روپڑی ہیں ہماری زبان جو اگرچہ ان کی تعداد وال پیپر 2018 کرنے دیتا ہے خدا کی قسم میں برا نہیں مانو تو اوپر والے جھگڑوں میں جھوٹ ہے جھوٹ تو میں کوئی کسر باقی نہیں ہم کیسے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام کی چھاتی کو چھوڑ کر نہیں پڑھی ہے تم پر پر ہے ہے جس قوم سے تمہارا کوئی مزہ نہیں آتا ہے ہے ہے وہ کونسی تین چیزیں ہیں جن کو تم نے جنگ میں کیا کرنے کو بلوچستان میں چل رہا ہے ہے ان کو پنجاب اور صوبہ سرحد میں چلی گئی کیا کیا کیوں کیا کیا کیا وہ کل نہیں پڑتی تھی جو تم سمجھتے ہو کہ تم پڑھتے ہو مجھے کس چور اور اس کے غلام ہیں میں تم نے ان کو یہ مظالم روا رکھے اور باغیوں کو خون سے بھر گیا یا بڑوں کے لیے بچوں کے خون لیے جوانوں کو خون لیے عورتوں کو شدید اذیت ناک مصیبتوں میں مبتلا رکھا اور خود بھی رویا کرے گی اسلامی حکومت میں رہے ہو کلمہ پڑھ کر کلمہ پڑھ کر تو ہم چھاتی پر لگنے ہی نہیں کرتے ہم تو جیلوں کو قابل ہو جاتے ہیں ہیں لیکن جن کے متعلق تو سمجھتے ہو کہ کوئی مذہبی اختلاف نہیں ہے ایک لمحہ ہے ہے ان کی چھٹیوں سے کیوں نہیں لگتے ان کو کبھی اپنے گھروں سے نکل جا ایک دم تو ہنسی بھی ہو ہو تو منہ سے صاف کرتا ہے یہی تاریکی ہے اس بیان میں کی حمایت کیا کرتا ہے ہے خصوصاً مظلوموں کی کی جن کے متعلق خدا کا ہوتا ہے سوائے اس کے کہ میری خاطر یہ دکھائے جا رہے ہیں ہیں اور کوئی نہیں خدا کا کوئی ایمان کو یقین دل میں باقی ہے ہے تو خوف رکھو اور تم کہاں تک پہنچ چکے ہو اور کس حد سے آگے بڑھ رہا ہے ہے لیکن مجھے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی کوئی غیرت ملا کر خوب اچھی طرح اگر غیرت ہوتی تو فرضی طور پر جن کے اوپر الزام لگائے جا رہے ہیں کہ نعوذباللہ من ذالک یہ گستاخ رسول ہیں ان کے اوپر تو تمہارے غصے جو چپ کر رہے ہیں اور روز تک یہ غزل لیکن وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم حضرت محمد مصطفی صل وسلم کو تو وہ ہیں جو خدا کے لئے کھائی ہیں روزہ کھول کے قائل ہیں جو قرآن پیش کرتا ہے ہے جھوٹے خدا ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں انہوں نے بنائے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی فوت ہو جائے تو تیرے کی کے دن سوگ منائے جاتے ہیں ان سے مصافحہ کرنے میں فخر کیا جاتا ہے ہے وہ ایسا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل کس طرح دیتے ہیںمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم غیرت کے حل کے لیے ضروری ہے جو دشمنان رسول ہیں جو کھلم کھلا دیتے ہو جھوٹ اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو ایف آئی آر ان کی چھٹیوں سے قبل کے لگتے ہو وہ چیزیں جو معززین آتے ہیں تو خلا کے حقائق کے پیش نظر مجھے مجھے یہ یقین کرنے کی کوئی بھی ملا نہیں نہیں کہاں سے لوگ رسول کی محبت نہ سکے خوف سے ڈرا اس کے خوف سے جس کا خوف باہر رکھنے کے بعد میں دوبارہ اس کا واسطہ جس کی محبت نے تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں لیکن پھر بھی تم مانو یا نہ مانو نام اور ان کا کلام جس طرح پہلے سوچا تھا اس طرح یہ بھی سچ ہے جس طرح چاہے ان کے مظالم اور بدکردار اور متکبرین کے ملازم کا ذکر کرتے ہیں جو قرآن کریم کی قسم کے کیا بات کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے ایسے لوگوں کو گھیر لیا یا یہ زمینی بھی ٹھیک ہیں اور مالی کسی بھی تھیں جن میں بندوں کا دخل نہیں تھا تھا tx6 ایسی تھیں جن میں بندوں کو بھی دخل تھا اور بندوں کو استعمال کیا گیا یا ان کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم آئندہ کے بارے میں کیسے ہوئے فرماتا ہے ہے جو بہنیں ہیں ان حالات کو بوری لگتی ہے دکھائی دیتی ہے قرآن کریم میں کہلاتا ہے ہے ایک ایسے عذاب سے ڈرتا کتا میں آجائے جس کی شکل صورت کیا ہوگی ابھی کہاں ہلو تم ایک دوسرے کو تمہارے خلاف مدد کے لیے پکارے اتنا اس کو کہتے ہیں جب شور رونا شروع ہو جائے اور وہ لوگ جو جو پاکستان پنجاب کے لحاظ سے مصروف ہیں ہیں ہیں ان کو علم ہے اور پنجگور کے علاقے میں میں اگر آپ کو کوئی بھی ہو جائے آئے تو یا تو واپس پلٹ جائے تو لوگ زمیندار چھٹی پر لکھے جاتے ہیں اور واویلا شروع کر دیتے ہیں ہیں اور ملک کو اپنی مدد کے لیے پکارتے ہیں ہیں ان کے خلاف بچے وہ آواز کہاں پہنچ گئے تھے وہ آگے ہو آجکل پڑتی ہے کہ وہ اس سے آگے نکل پڑتی ہے تو اس سے آگے نکل پڑتی ہے اور جہاں وہ آواز میں پہنچ چکی ہے لوگ گھروں سے نکل کر جو کے ہاتھ میں آتے ہی لے کر نکلتے ہیں ایک مظلوم کی مدد کے لیے چلیں اس کو کہتے ہیں وطن اپنا اتنا معلوم ہوتا ہے یار بھی اس دستور سے واقف تھے تھے کہ عربی محاورہ استعمال کیا گیا ہے ہے ایسا واقعہ کہ کسی فرعون کے زمانے میں تو پیش نہیں آیا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے کبھی کسی فرعون کے زمانے میں یہ واقعہ پیش نہیں آیا نہ ہو زمانے میں آیا ہے اس کے علاوہ کسی اور تاریخ میں ذکر ملتا ہے ہیں اور ہیں بیگم کی بات لازمی پوری ہوئی یوں مت سنا اور تم اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے ہے جو کسی ظالم کے خلاف دوسری قوموں کو اپنی مدد کے لئے پکارنا پر یقین ہو یا نہ جماعت احمدیہ کو فلاں کی ہستی پر اس طرح یقین رکھتی ہے کہ دین کے سورج پر یقین رکھتی ہوں اپنے وجود کی گا ہم جانتے ہیں کہ اگر کوئی قابل یقین کرلیا مانتی تو صرف خدائے وحدہ لاشریک اور اس کے واسطے سامان لایا یا ہوئی ہے واحد ہے موت ہےکرتے ہیں جس کے مقابل پر کوئی چیز غالب نہیں آ سکتا اس لیے تم اس آواز کو سنو یا نہ سنو ہم مساوات کو حل میں پہنچائیں خدا کی تخلیق سے ڈرو جب کہ زمین پر تمہارے خلافت کی سی کیفیت پیدا ہو گئی اور ایک دوسرے کو تمہارے ظلم اور جبر کے خلاف ہونے لگے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر یہ بحث نہ جائے تو میں دوسرے کو اپنے کر بولا ہے ہے یہ تقدیر الہی کو لازماً پوری ہو کر رہے گی آج میچ کل تو اس کا نمونہ دیکھو گے کہ خدا کے ہاں دیر تو ہے اندھیر کوئی نہیں وہ بھی تو دیا کرتا ہے مجھے اسکی پکڑا کرتی ہے تو کھلا کرنا منع ہے اکمل اور نامرادی کے اور کچھ بھی انسان کے قبضہ قدرت میں نہیں ہوتا اس وقت کو یاد کرتا ہے کہ کاش میں اس سے پہلے اس دائرے سے باہر نکل چکا ہوں مگر نکلنے کی کوئی راہ باقی نہیں نہیں ہے ان کاموں پر پر جو ایسے وقت کا انتظار کریں جب خدا کی تردید عقیدہ نہ ہو چکی ہو رہا ہوں کے ساتھ پر بھی خدا کی ناراضگی کا اظہار کیا میں دعا کرنی چاہیے کہ ہمارے پیارے وطن کو جدید مسائل اور مظالم سے نجات پا سکتے ہیں ہیں ہیں ہیں ایک ایسی طاقت پاکستانی پاکستانی کی ہے ہے اور پاکستان کے سب سے زیادہ سچا پیار اگر کسی کو ہے اللہ تعالی ظالموں کے ہاتھوں مزید ظلم سے روک دے کتے اور ایسے دل نہ دکھایا میں کہ ان کا ظلم پھر ساری قوم پر تاریخی بن کر ٹوٹ پڑے اور تاریکی کے کے اندر جو وفات ہوگئی جاتی آسمان کی طرف بلائیں جو باہر نکل کر اپنی نگاہوں سے کوئی بلائے قوم کو گیلی اللہ ہمیں وہ دن دیکھنا نصیب فرمائے اور اگر وہ دن آئے اللہ تعالی اپنے خاص تکلیف سے دماغ کو ہر عمر اور ہر بلا سے محفوظ رکھے مقروض کیا لا الہ الا اللہ وحدہ

 32 total views,  4 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: