9 11 Terrorism, Jihad and Muslims




9 11 Terrorism, Jihad and Muslims

ستمبر گیارہ کا واقعہ، دہشتگردی، مسلمان اور مسئلہ جہاد

Streamed live on Sep 11, 2021

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نام کے ایک اور پروگرام کے ساتھ حادثات احمد آپ کی خدمت میں حاضر ہے جیسا کہ آپ کے علم میں ہیں یہ یہ پروگرام جو ہے ہفتے میں چھ دن پیش کرتے ہیں جمعہ کے دن یہ پروگرام نہیں ہوتا اس کے علاوہ باقی ہر روز تقریباً ساڑھے گیارہ بجے انسان ٹائم کے مطابق ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے جو اسلام اور احمدیت کے متعلق سوالات ہیں ان کے جوابات دیئے جائیں اسی طرح ہم آپ کو جماعت احمدیہ کی جو فیصل ویب سائٹ ہے تب little اسلام کا تعارف کرواتے ہیں اور وقت مجھ سے کوئی حوالہ پڑھ کر آپ کو دکھاتے ہیں یا سناتے ہیں ہیں اور مختلف مواد کی طرف آپ کی رہنمائی کرتے ہیں کہ کون سی چیز ہے وہ کہاں پر موجود ہے پروگرام کے مہمان دو حصے ہوتے ہیں پروگرام کے پہلے حصہ میں ہم کسی موضوع کو لے کر گفتگو کا آغاز کرتے ہیں پہلے دس سے پندرہ منٹ ہے اسی کے متعلق گفتگو ہوتی ہے اور پروگرام کے دوسرے حصے میں جو آپ کے لائق سوالات ہمیں موصول ہونے ہوتے ہیں ان کی طرف آ کر ان کے جوابات دینے کی کوشش کی جاتی ہے یہ سلسلہ جو ہے وہ جاری رہے گا جیسا کہ آپ کے علم میں ہیں کہ آج یہاں ستمبر ہے اس کا نام سنتے ہی پہلی بار جو آجکل ذہن میں آتی ہے وہ حاملہ ہے جو امریکہ میں دو ہزار ایک میں ہوا وہ دہشت گردی کا جو حملہ تھا اس نے ایک لحاظ سے دنیا کا نقشہ ہی بدل دیا اور دوا یار بن گئے ایک دور کو نائن الیون سے پہلے کا دور کہا جاتا ہے اور پھر دوسرے دور کو نائن الیون کے بعد کا دور کہا جاتا ہے ہم جانتے ہیں کہ اس دہشت گردی کے حملے میں کئی ہزار لوگ جو تھے وہ ہلاک ہوئے ام ان سارے لوگوں سے ان کے خاندان سے ان کے پیاروں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں نہ صرف اس وقت ہزاروں لوگوں نے جان دے دی بلکہ اس کے بعد جو دہشت گردی پر جنگ شروع ہوئی اس سے ٹریلین ڈالر کا جو ہے دنیا کو نقصان ہوا اور سب سے زیادہ اس کا جو حشر ہوا وہ مسلمان ممالک میں تھا اور کئی لاکھ افراد جوتے مختلف ممالک میں اس دہشت گردی کی جنگ ہے اس میں آ کر ہلاک ہو چکے ہیں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس کے کئی عوامل ہیں کیا محرکات ہیں یہ دہشت گردی جو ہے اس کا بنیادی اس کی بنیادی وجہ کیا ہے اور اب کیا کیا جائے کہ اسلام جو ہے اس دہشتگردی سے باہر نکلا نکل سکے کیونکہ اس واقعے کے بعد جو ہے اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان ایسے ہیں کہ دہشت پھیلاتے ہیں غیر مسلموں کو جان بوجھ کر قتل کرتے ہیں اور نعوذباللہ اسلام پر حرف آتا ہے اسلام پر حرف آتا ہے کہ یہ مذہبی جو ہے یہ دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے اس کی وجہ جو ہے وہ یہی ہے کہ اسلام میں آج کل کے دور میں جہاد کا جو غلط تصور پیش کیا جارہا ہے مسلمانوں کی طرف سے ان کے علماء کی طرف سے اور عوام الناس کی طرف سے وہ وجہ ہے اس دہشتگردی ہمیں زمانے میں مسیح موعود امام مہدی کے آنے کی بشارت دی تھی اس کے ساتھ آپ نے یہ پیش گوئی بھی فرما دی تھی کہ وہ مسیح موعود جب آئے گاعکس مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب روحانی خزائن جلد نمبر 17 میں سے جو گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ہے وہاں سے ہم کچھ حصہ دیکھیں گے آپ فرماتے ہیں کہ جہاد کے مسئلہ کی فلاسفی اور اس کے اصل حقیقت ایسا پیچیدہ عمل اور حقیقت ہے کہ جس کے نہ سمجھنے کے باعث اس زمانے اور ایسا ہی درمیانی زبانی کے لوگوں نے بڑی بڑی غلطیاں کھائی ہے اور ہمیں نہایت شرمندہ ہو کر قبول کرنا پڑتا ہے ان خطرناک غلطیوں کی وجہ سے اسلام کے مخالفوں کو موقع ملا کہ وہ اسلام جیسے پاک اور مقدس مذہب کو جو سراسر قانون قدرت کا آئینہ اور زندہ خدا کا جلال ظاہر کرنے والا ہے وہ دل سے اتر آتے ہیں ہم ایک جاننا چاہئے کہ جہاد کا لفظ ہے وہ لفظ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کوشش کرنا اور پھر مجاز کے طور پر دینی لڑائیوں کے لیے بولا گیا مسلمان ہیں تو کوشش و جدوجہد کرنا ہے لیکن مجاز کے طور پر جو ہے وہ دین لڑائیوں کے لئے بھی ایک لفظ جو ہے وہ سوال کیا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے آج کے زمانے میں مولویوں نے اس کا جو ہے غلط تصور لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں یاد رہے کہ مسلح جہاد کو جس طرح پر حال کے اسلامی علماء نے جو مولوی کہلاتے ہیں سمجھ رکھا ہے اور جس طرح وہ عوام کے آگے اس مسئلہ کی ضرورت بیان کرتے ہیں ہرگز وہ صحیح نہیں اور اس کا نتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ لوگ اپنے پرجوش بازو سے عوام معاشی صفات کو ایک درندہ صفت بنا رہے ہیں اور بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے اس عقیدے لو ان کو زندگی کی طرف مائل کیا ہے ہے فرمایا اور انسانیت کی تمام خوبیوں سے بے نصیب کردی چنانچہ ایسا ہی ہوا اور میں یقین جانتا ہوں کہ جس قدر ایسے نہ دیکھو نادانوں نادان انسان انسانوں سے ہوتے ہیں جو اس راز سے بےخبر ہیں کہ کیوں اور کس وجہ سے اسلام کو اپنی ابتدائی زمانے میں لڑائیوں کی ضرورت پڑی سب کا گناہ ان مولویوں کی گردن پر ہے ان سب کا گناہ ان مولویوں کی گردن پر ہے کہ جو پوشیدہ طور پر ایسے مسئلے سے کھاتے رہتے ہیں جن کا نتیجہ دردناک انگریزی آہیں بھرتے ہیں یہ لوگ جب مقامی وقت کو ملتے ہیں تو اس وقت سلام کے لیے جھکتے ہیں کہ کوئی ایسا سجدہ کرنے کے لئے تیار ہیں اور جب ہم اور جب آپترجمہ ہوئے ہیں جو شخص خدا کو نہیں مانتا ہوں اور اس کے بر خلاف ہو اس کا نام درجہ رکھتے ہیں اور واجب القتل قرار دیتے ہیں چنانچہ میں بھی مدد سے اس فتوے کے نیچے ہوں اور مجھے اس ملک کے بعض مولویوں نے دجال اور کافر قرار دیا اور گورنمنٹ برطانیہ کے قانون سے بے خوف ہو کر بھی نسبت ایک چھپا ہوا فتویٰ شائع کیا یہ عشق واجب القتل ہے اور اس کا مال لوٹنا بلکہ عورتوں کو نکال کر لے جانا بڑے ثواب کا موجب ہے اس کا سبب کیا تھا یہی تو تھا کہ میرا مسئلہ موجود ہونا ان کے جہادی مسائل کے مخالف وعظ کرنا اور ان کے خون یوسی اور خونی مہدی کے آنے کو جس پر ان کو لوٹ مار کی بڑی بڑی امیدیں تھیں سراسر باطل ٹھہرا نہ ان کی غزلوں اور عداوت کا مجھے ہو گیا مگر وہ یاد رکھیں کہ وہ درحقیقت قدر کی حقیقت یہ جہاد کا مسئلہ جیسا کہ ان کے دلوں میں ہی سہی نہیں ہے اور اس کا پہلا قدم انسانی ہمدردی کا خون کرنا ہے یہ قیامت ان کا ہرگز صحیح نہیں ہے کہ جب پہلے زمانے میں جہاد روا رکھا گیا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ آرام ہو جائے تو ان کے پاس اس کے ہمارے پاس دو جواب دیں ایک یہ کہ یہ پیار یہ خیال قیاس مع الفارق ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کسی پر تلوار نہیں اٹھائیں گے ان لوگوں کے جنہوں نے پہلے تلوار اٹھائی اور صرف بے رحمی سے بے گناہ اور پرہیزگار مردوں اور عورتوں اور بچوں کو قتل کیا اور اسے درد انگیز طریقوں سے مارا کہ ابھی ان پیسوں کو پکڑ کر رونا آتا ہے تو ہم نے جہاد کیا اس وجہ سے اس وقت مسلمانوں کو مذہبی آزادی نہیں کی اور سورہ ہاں جی اگر آپ دیکھیں تو اس نے بھی اللہ تعالی نے یہ ذکر کیا ہے کہ تمہیں اس لیے جہاد کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ تمہارے خلاف جو ہے وہ ظلم کیا گیا اور اگر آج اللہ تعالی تمہیں مقابلے کی اجازت نہ دے تو جو مذہب ہیں اور جو جو مذہبی آزادی ہے وہ ختم ہو جائے گی جو تنہا کہیں وہ تباہ ہو جائیں گے جو خلیفہ ہیں وہ تباہ ہو جائیں گے مساجد سے ہیں وہ تباہ ہو جائیں گے تو جہاد کی مسلمانوں کو اس وجہ سے اجازت دے دی گئی تاکہ مذہبی آزادی قائم ہو اور ایک جو ہے آزاد ہو سکے لیکن آج کے مسلمانوں نے مذہبی آزادی کے بجائے دہشت گردی جو ہے وہ پھیلانے شروع کر دیا اور غلط عقیدہ جہاد کے متعلق جو ہے وہ جا رہے ہیں دوسرا یہ کہ اگر فرض بھی کر لیں کہ اسلام میں ایسا ہی جہاں تھا جیسا کہ مولویوں کا خیال ہے تاہم اس زمانے میں قائم نہیں رہا کیونکہ لکھا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہو جائے گا تو سیاسی جہاد اور مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا کہ مسیحت نہ تلوار اٹھے گا اور نہ کوئی زمینیں ھتھیانے ہاتھ میں پکڑے گا بلکہ اس کی دعا اس کا ہوگا اور اس کی خدمت اس کی تلوار ہوتی وہ صلح کی بنیاد ڈالے گا اور بکری اور شیر کو ایک ہی گھاٹ پر اکٹھا کرے گا اور اس کا زمانہ صلح اور نرمی اور انسانی ہمدردی کا زمانہ ہو گا ہائے افسوس کیوں یہ لوگ اور نہیں کرتے کہ تیرہ سو برس وی کے مسیح موعود کی شان میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کلمہ اللہ جاری ہو چکا جس کے یہ معنی ہیں کہ مسیح موعود جب آئے گا تو لڑائیوں کا خاتمہ کر دے گا اور اسی کی طرف اشارہ اس قرآنی آیت کا ہے یہ تازہ دباؤ زیادہ رہا یعنی اس وقت تک لڑائی کرو جب تک کہ مسیح کا وقت آ جائے یہی تعداد بہت زیادہ ہے دیکھو صحیح بخاری میں موجود ہے جو قرآن شریف کے بعد اصح الکتب مانی گئی ہے اس کو غور سے پڑھو علمائے اسلام کے عالم مولویوں میری بات سنو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاد کا وقت نہیں ہے خدا کے پاک نبی کے نافرمان مت بنو مسیح موعود جو آنے والا تھا آچکا اور اس نے بھی حکم دیا کہ آئندہ مذہبی جنگوں سے جو تلوار اور کشت و خون کے ساتھ ہوتی ہے بعض آجاؤ تو اب بھی خونریزی سے باز نہ آنا اور ایسے الفاظ سے منہ بند کر بند نہ کرنا کلی کا اصل نام نہیں جس نے مجھے کبھی قبول کیا ہے وہ ناصرف ان نمازوں سے منہ بند کرے گا بلکہ اس تحریک کو نہایت برا اور مجھ میں کمال ہی جائے گاغم دنیا بھلانے کو فخر ہے اور باتیں کر رہے تھے کہ پہلے مسلمانوں نے اپنے اچھے اعمال سے اچھے الفاظ سے اپنے کردار سے اپنے نمونے سے جو ہے وہ لوگوں کے دل جیتے تھے فرمایا کہ یہ کہ مسلمانوں کا وقت تھا فرمایا تو یہ کیسی نادانی اور بدبختی اور شامت اعمال ہے یا بالکل اس مضمون کو چھوڑ دیا گیا ہے جاھل مولویوں نے خدا ان کو ہدایت دے عوام کالانعام کو بڑے دھوکے دیے ہیں اور بہشت کی کنجی اسی عمل کو قرار دے دیا ہے کہ سری ظلم اور بے رحمی اور انسانی اخلاق کے برخلاف ہے آج بھی یہ جو نوجوانوں کو بچوں کو درج کیا جاتا ہے یہی کہا جاتا ہے کہ تم فلاح پاؤ قتل کردو تو اس کے نتیجے میں تم جاندار تم جو ہے وہ جہنم سے دور چلے جاؤ اور سیدھے جاؤ ہمیں جاؤ گے تو اسی کے مطابق سو سال پہلے حضورّ نے ذکر کردیا تھا اور ابھی تک جو ہے بد قسمتی سے مسلمانوں میں وہی کام چلا رہا ہے فرمایابالکل یہی ہو رہا ہے کہ کوئی بھی مسلمان آج کل بازار میں جاتا ہے لوگوں کے مجمع میں جاتا ہے چاہ کے ساتھ حملہ کرتا ہے یا پھر ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے اور نہ میں یہ کہتے اللہ اکبر کہہ کے جو اسلام کے نام پر دہشت گردی کی جاتی ہے وہ نعرہ جو کہ اللہ تعالی کی عظمت اور بڑائی کو بیان کرنے والا تھا ان نام نہاد مسلمانوں اور دہشت گردوں کی وجہ سے اب جو ہے اللہ اکبر کا نعرہ جو ہے اس کو دہشت گردی کا نعرہ جو ہے وہ سمجھا جاتا ہے اور جوں ہی قابل کبھی یہ نعرہ لگایا جاتا ہے تو فورا گرنا شروع ہو جاتے ہیں کہ آپ جو ہے وہ دھماکا ہونے والا ہے فائرنگ ہونے والی ہے اسی کا قتل کرنے والا ہے تو یہ نقصان ہے کہ جو نام نہاد مسلمانوں نے اسلام کو جو ہے اس نعرے کی وجہ سے پہنچایا ہے آپ نے مزید فرمایا آپ سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے مگر اپنے نفسوں کے پاک جہاد باقی ہے یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی اور یہ خدا کا یہی ارادہ ہے صحیح بخاری کی اس حدیث کو سوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے کہ یادہانی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کرے گا اس میں حکم دیتا ہوں کہ جو میری فوج میں داخل ہیں وہ خیالات کے مقام سے پیچھے ہٹ جائیں دلوں کو پاک کریں اور اپنی انسانی رحم کو ترقی دے اور درد مندوں کے اندر بنے زمین پر پھیلا میں کسی سے ان کا دین جو ہے وہ پھیلے گا اور یہ وہ اسی کا عادی بن جاؤ پہلے گا تو یہ جٹ جوتی جہاد کا غلط تصور تھا اور اس کا جو ہے جو ہے اس کا جو ہے جس کے لحاظ سے دوبارہ اسلام جب میں عظمت کی طرف آئے گا وہ غلط عقیدے کو چھوڑنا ہے اور مسیح موعود اور امام میں مہدی کو جو ہے وہ قبول کرنا ہے کیونکہ اس کو قبول کئے بغیر اسلام جو ہے اپنی ترقیات کی طرف واپس بس نہیں آسکتا اور اسی کے متعلق حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی کہ آپ دیکھ لیں گزشتہ سال کی تاریخ جو بھی تحریک مذہب کے نام پر جہاد کے نام پر شروع کی گئی ان کا لازمی نتیجہ نکلا ہے کہ یا تو مسلمانوں لڑائی ہارے ہیں یا پھر اس تحریک کو دہشت گردی سے تعبیر کیا گیا ہے ان لوگوں کو جس میں شامل تھی اور ہم ان کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے امام وقت کی جو حکمت اس کا انکار کیا جو کہ آپ حق برادر تھے آپ کا حکم نہ مانا جائے ان کے لیے نقصان کا موجب بنا خواب پاکستان وافغانستان ہو کیا ہوا رات کو جہاں بھی اس جہاد کے نام پر لڑائی ہوئی وہاں مسلمانوں نے جائے وہ شکست کھائی اور جو ہے وہ مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ اشعار پڑھ کر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں جو کہ دراصل ایک پیشگوئی کا بھی نام لکھ سکتے ہیں اگر لوگ اس کو ماننے کے مسلمان گئے تو ترقی کریں گے اگر نہیں مانیں گے تو پھر جو ہے وہ ہلاکت کی طرف ہی جائیں گے آپ فرماتے ہیں اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال اب آگیا ہے بس یہ جو دین کا امام ہے دی گئی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد کا ہے یہ رکھتا ہے کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو جو چھوڑتا ہے چھوڑ دوں تو مجھ کو خبیث کو کیوں بولتے ہو تم یاد آؤ نہ کبھی قبل کہ انہیں دیکھ کر چکا ہے سید کونین مصطفی ایسی جنگوں کا کر دے گا التوامسلمانوں نے اس غلطی کی وجہ سے شکست کھائی عین جہاد کریں لیکن قلم کا جہاد کریں کیونکہ اسلام پر جو ہے جو اعتراضات ہو رہے ہیں قلم کے ذریعے تنازعات کا جواب آتے آئیں ہم نفس کا جہاد کرتے ہیں اپنے آپ کو جوہے بہترین انسان بنائے بہترین جو ہے مسلمان بنائے یہ جہاد ہے جس کو آنحضرت صلی اللہ کے نام سے جو تعبیر کیا ہے اور ایم سی موت کی جو ہے جماعت میں شامل ہو جائیں کیونکہ وہ قرآن کا جہاد کا بھی ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے وجاہدہم بہ جہاداً کبیرا کیا قرآن کریم کی جو اچھی باتیں اس کی تعلیمات ہیں اس کے ذریعہ سے یاد کرتے ہیں اور لوگوں کے جو ہے اسلام کا عالمی پیغام پہنچاتے ہیں اگر یہ جہاد ہوگا تو لازم اسلام غالب آئے گا لیکن اگر دہشت گردی اور جہاد ہے اور نہ ہی اس کی اسلام میں کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ اللہ تعالی کے فتح علی کے بعد ہیں اللہ کرے کہ محمدیہ جائے اس بات کو سمجھے تمام بک کو ماننا اور اس غلط عقیدے کو جو ہے وہ ترک کردے تو یہی ہے جو پروگرام کے پہلے حصے میں بات گزارشات کرنی تھی اب جو ہے آپ کے لائق سوالات کی طرف سے آئے ہیں تباہ ہوگیا لیکن جو کہ ہم مضمون تھا اس لئے ضروری تھا کہ اس مضمون کو سمجھایا جاتا ہے سب لوگ کی خاطر جیسا میں ذکر کیا یہ روحانی خزائن کے والیم 17 بھی یہ کتاب موجودہ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد کا جماعت احمدیہ کے آفیشل ویب سائٹ پر جا کر کے اس کو پڑھ سکتے ہیں کہ محمود صاحب حرفی صدر صاحب نعت طاہر صاحبہ او صاحبہ او صاحبہ ملے اور لوگوں نے بھی السلام علیکم کہا ہے میں آپ سب کو وعلیکم سلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ سب کا بہت بہت شکریہ کہ آجکل ایک پروگرام میں آپ ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں صاحب دبئی سے آپ کا پیغام آ گیا ہے جزاکم اللہ اللہ اللہ کا پہلا سوال طیب محمود صاحب کا ہے کہ صالح tv by country ہے اس کو تفسیر صغیر تفسیر کبیر سے جواب نوٹس لیے گئے ہیں اور اس کی تفصیل سے بھی جنایات کی حضرت ام سلمہ رضی اللہ انہوں نے تشریح کی تھی ان کو خلاصہ جو ہے ساہیوال مٹکمری میں جو ہے وہ شامل کرلیا گیا ہے بعض ایسی آیات ہیں جن کے دور میں تشریح نہیں کی تھی بعض ایسی صورتوںکے نہیں تشریح بھی ان کے اوپر جو علماء کا ایک اور بیٹھا ہوا تھا فلم کی طرف سے جو ہے وہ جماعتیں لیکچر کے تحت جو ہے آیات کی تشریح کے لیے اکثر ایسا عظیم مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے قول سے لیا گیا لیکن جو اس جنوں کے دور میں تشریح نہیں کی تھی اور پھر وہ جو جو علماء کا بولا تھا انہوں نے اس کی یوں تشریح کی ہے ہےشادی سے پوچھتے ہیں خالی اخراج پر مینگل صاحب جمعہ کو الیکشن آفس near ماڈل p65 یہ ہے کہ وہ اس وجہ سے یہ پابندی لگائی جاتی ہے کہ ایسے چیز کو رواج نہ دیا جائے تو جو نہ جانے کا مقصد ہے وہ یہی ہے کہ ان کو بتایا جائے کہ آپ نے نظام جماعت سے باہر جا کر ایسا پھر کیا ہے اس لئے ہم نظام جماعت میں رہتے ہوئے آپ کی خوشی میں جو ہے وہ شامل نہیں ہو سکتے کیونکہ اس سے پہلے لوگوں میں یہ غلط تاثر جائے گا اگر لوگ اس میں شامل ہوگئے تو لوگ سمجھیں گے کہ چاہیے الاؤڈ ہے اس کی اجازت ہے اس لیے کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ بہت زیادہ لوگ اس بات کو کرنا شروع کر دیں گے تو ایسے ہی منٹ سے بچنا چاہئے اور جہاں تک مبارکباد دینے کے مبارک باد اگر آپ چاہیں تو دے سکتے ہیں یہ آپ کا ذاتی فیصلہ ہو گا گا گا درست نہیں ہے کہ ان کے گھروں میں جاکر ان کی عزت کی جائے یا ان کے نظریات کا خیال رکھنا جب وہ آپ کے گھر میں آتے ہیں تو کھا کوئی مہمان آپ کے گھر میں ایک بواسطہ دار اداروں کا کام ہے اس کے لئے جو ہے مجھے اس رشتے کا تعلق نہیں ہے اچھا آپ کی طرف سے دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ فضل کرے اور جو آپ کی فیملی کو مشکل سے گزر گئے ہیں اللہ تعالی کو ٹھیک کردے تے تےاچھا لگے ویسا پوچھتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ نماز جنازہ حاضر ہو یا غائب اللہ اکبر کے بعد کیا پڑھنا چاہیے حاضر و غائب ہو جب اللہ اکبر کہتے ہیں کہ پہلی رکعت میں ثنا پڑھ سکتے ہیں سبحان اللہ وبحمدہ استغفراللہ اللہ اور پھر جیسے ہم نماز میں پڑھتے ہیں سب اللہ کے بعد تعوذ تسمیہ اور سورئہ فاتحہ ہے یہ پہلی تکبیر کے بعد ہوگا پھر جب دوسری ہوتی ہے اس میں ہم درود شریف پڑھتے ہیں اور پنجاب کا دور جو درود ابراہیمی ہے نماز میں پڑھتے ہیں پھر تیسری تکبیر ہوتی ہے اس میں جو نماز جنازہ عصر پڑھا جاتا ہے تو پہلے میں جو ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ سورۃ الفاتحہ دوسرا میں درود شریف تیسری میں ظہر کی نماز جنازہ پڑھا جاتا ہے ہے ہے ہے علی کا سوال ہے کہ جب تک عورت خلع لے لی مرد بچوں کا قرض دینے کا حق دار نہیں جی بالکل حق دار ہے اور خلع کے بعد بھی جو ہے وہ مردہ اس بات کا اس پر فرض ہے کہ جب تک بچے پالک نہیں ہوجاتے ان کا جو ہے وہ خرچہ اٹھائیں تو خفا اکٹھے رہے ہیں خالہ کو گئے ہیں طلاق کی وجہ سے یا اللہ کی وجہ سے جب تک بچے بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچ جاتے ان کے نان نفقہ کا انتظام کرنا جو ہے وہ مرد کی حیثیت کے مطابق لازم ہے کہ علیحدگی ہوگئی ہے پھر بھی وہ رکاوٹ آئے گا اس میں کسی شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے آئے اہیے اہیے پیاز اور لہسن کا چھلکا آگ میں جلانے سے گناہ ہوتا ہے اس حد تک سچ ہے میں نے تو کوئی ایسی روایت نہیں پڑھی جس میں لکھا ہے کہ لہسن اور پیاز کا چھلکا جلانے سے گناہ ملتا ہے یہ لوگوں کی اپنی بنائی ہوئی باتیںاچھا سوال یہ کیا یا کسی نے سوال کیا کہ مسلم کے لیے سب سے اہم کیا ہے میرا جواب تھا خدا کی عبادت دوسرے کا جواب تو نہیں کپڑے یہ کہاں تک سہے کپڑے سے کیا مراد ہے ذرا سی بات ہے کہ اسلام میں دو بنیادی چیزیں ہیں ایک تو اللہ دوسری اقوام کے بعد تو حقوق اللہ تعالی کی عبادت آجاتی ہے نماز آ جاتی ہیں روزے رکھنا جاتا ہے قربانی کرنا وغیرہ جاتا ہے حقوق العباد جو ہے دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اس میں بھی ہوتے ہیں اس میں بہن بھائی بھی ہوتی ہیں میاں بیوی ہوتے ہیں اس میں ہمسائے ہوتے ہیں اس میں جو انسانیت ہے اس میں آ جاتی ہے تو وہ خدا تعالی نے جو احکامات نازل کی ہیں اس میں پردے کا بھی یہی حکم ہے وہ بھی کرنا چاہیے تو اس کے لئے تو یہ دو بنیادی چیزیں مسلمان کا فرض ہے کہ کوئی بات کرے پورا کرے اس بات کو پورا کرے کپڑے کی بات مجھے اس سے آپ کی سمجھ نہیں آئی قیاس سے کیا مراد ہو سکتی ہے ہے بھائی پوچھتے ہیں کہ آپ غائب ہیں جس وقت جی پروگرام ہے لائیو آ رہا ہے ہے ہے یہ پروگرام میں شامل عیب ہوتا ہے صبح آج کل ساڑھے گیارہ بجے تک شروع ہوتا ہے تھوڑا سا لیٹ ہو گیا ہے کسی اور پروگرام میں شامل تھا لیکن اس وجہ سے لیٹ ہو گیا لیکن آج کل ساڑھے گیارہ بجے جو اس ٹائم ہے صبح کے وقت اس وقت کے پروگرامات ان سے دورانیہ پینتیس چالیس منٹ ہے اچھا یہ الطاف احمد ربانی صاحب آگئے ہیں آج پھر جی احتراز کرنے آتے ہیں سوال پوچھنے نہیں آتے آج یہ فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں انگریزوں کے ایجنٹ مرزا قادیانی نے پیسوں کے لالچ میں گیا یہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین جو جھوٹ بولتا ہے اس پر لعنت جتنی انگریزوں انگریز کیا تو اس کے لئے اپنا مذہب عیسائیت لے کر آئے تھے نا ان کا یہی خیال تھا کہ اپنے مذہب کے ذریعہ سے ہندوستان پر ہم جو ہے وہ غالب ہو جائیں گے اور اسے اپنے جو ہیڈکوارٹر ہے وہاں اس کے خط بھیجنے تھے رپورٹ بھیجنے تھے کچھ ہی سالوں میں جو عیسائیت ہے پوری دنیا پر خاص طور پر ہندوستان میں غالب آجائے گی اس وقت خود ایک پہلوان کھڑا ہوا تھا مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام انہوں نے عیسائیت کے ساتھ مقابلے کے آج جو آپ کے مولوی ہیں آپ کے جو روحانی آباؤ اجداد ہیں اس وقت تو یہ عیسائیوں کے مقابلے پر بھی نہیں آتے تھے ایک بڑا ہوتا تھا اور ان کے مقابلے سے باہر جاتے تھے اس وقت خدا کی یہ پہلوان کھڑا ہوا اور ہر میدان میں عیسائیوں کو شکست دی اور کبھی کی حمایت سے بھی ایک اور کتابیں بھی لکھیں عیسائیوں کے خلاف عیسائی جوتے اگر تم پر اعتراض کیا کرتے تھے امہات المومنین پر اعتراض کرتے تھے کہ جہاد کے سلسلے کے شروع میں بات ہوگی اس پر اعتراض کیا کرتے تھے اور ساتھ مسلمانوں کو یہ کہا کرتے تھے دیکھو تمہارا نبی تو مر چکا ہے اور ہمارا نبی یا صحابی زندہ ہے تمہارے عقیدے کے مطابق زندہ ہے تو افضل کون ہوا حضرت عیسی علیہ السلام نے یہ آپ کے نبی تو آپ جیسے مولوی اور آپ کے آبا ؤ اجداد آپ بالکل خاموش ہو جاتے تھے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق یہی درست تھا اس نے کہا کہ نہیں اگر دیسی علیہ السلام بہت ہو چکی ہیں اور تمہارا خدا مضمون خدا کے وہ فوت ہوچکے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ وسلم نبی تھے ہیں اور رہیں گے اور آپ کا روحانی فیض اب تک جاری ہے اور میں اس کا جو ہے ثبوت دینے کے لیے تیار ہوں کون ہے جو میرے مقابلے پر آ قبولیت دعا کے مقابلہ کر لے خوشیوں کا مقابلہ کر لیں تو کوئی نہیں جاتا تھا تو آپ نے تو عیسائیوں کے خدا کو جائز قرار دیا اور اس آیت جو کچھ ہی سالوں میں وہ دعویٰ کررہے تھے وہ جی ہندوستان میں ان کو ہندوستان سے بھاگنا پڑا تو چونکہ آپ کو تعبیر کا علم ہی نہیں جو کہ آپ نے خود بھی مطالعہ کیا ہی نہیں صرف مولوی کی سنی سنائی باتوں پر آپ کے چلتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں اس لیے آپ کی حالت پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے اور ہم دعا ہی کرسکتے ہیں ان کا اصل نام محمد تے تےاچھا گل سن لے لیتے ہیں وہ سب پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم میں سورۃ البقرہ میں ایک زرد گائے کا ذکر ہے جس کا رنگ بہت شوق ہے اس سے کیا مراد ہے دراصل جو ہوتے جو بنی اسرائیل کے ایک لمبے عرصے سے جو ہے وہ مصر میں رہ رہے تھے اور مصر میں جو بیل وغیرہ تھے وہ بات مندروں میں گائے یا بیل منظروں میں رکھے جاتے تو اور ان کی پوجا کی جاتی تھی تو ان کے زیر اثر جوتے بنی اسرائیل میں بھی ایسے عقائد پیدا ہوگئے کہ وہ بھی گائے یا بیل کو بڑی عظمت دینا نہ شروع کر دی اور خدائی کا مرتبہ جو ہے وہ دینا شروع کر دیا ان کو پوچھنا شروع کردیا ایک خاص قسم کی گائے تھی جس کی اللہ تعالی نے وہ صفات کماہی کا رنگ شوق کا جو ہے وہ تین ہیں جو بھی خراب کر ہمیں اس بات کا یہی چاہتا تھا کہ اس گائے کو جو ہے وہ توبہ کریں تاکہ جو اس کے متعلق بحث عقیدہ لوگوں میں پیدا ہو گیا تھا کہ یہ دائرے میں خاص صفات ہیں اس کی عبادت کی پوجا کی طرف لوگوں کے دل پر لگے ہوئے تھے اس گائے کو ذبح کردیا جائے تاکہ آئندہ جو ان کے دل سے نکل جائے لیکن بہانے بہانے سے جو تھے وہ اس گائے کو بچا رہے تھے اگرچہ وہ کون سی کھائی ہے اس کی عمر کیا ہے اس کا رنگ کیا ہے وہ ہل اتی ہے یہ نہیں بار بار جو ہے وہ سوال کیا حالانکہ جانتے تھے ایک خاص مخصوص گائے ہے جس کا اللہ کا ذکر کر رہے ہیں تو پھر بار بار کے سوال و جواب کے بعد جو ہے اللہ تعالی نے بتا دیا کہ وہ خاص گائے ہے اس کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے جس کو انہوں نے غلط نتیجے میں یہ سمجھ لیا تھا کہ اسی طریقے سے ہماری حاجات کو پورا کر دیا اس کا جو ہے اللہ تعالی نے سورۃ البقرہ میں ذکر کیا انہوں نے ذبح کردیا لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ گائے کی خاص رحمت ہے مصریوں کے زیرتحت فرعونیوں کے تحت پیدا ہو چکی تھی اور نہ چاہتا تھا کہ وہ اسم جو ہے وہ ختم کیا جا سکے تو اس کا ذکر ہے بھائی کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کی تشریح کیجئے بیل بھائی پچھلے ہفتے ہی میں نے اس پروگرام کیا تھا کہ وہ ان کے نزدیک خاتم النبیین کی تشریح لا نبی یا بعدی کی تشریح مختصر میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ ہمارے نزدیک کھاتہ جو ہوتا ہے وہ آپ کے ہوتا ہے اور عربی لغت بھی ہیں کہتے ہیں کریم میں لفظ استعمال ہو خاتم النبیین چینی کے انبیاء کا خاتمہ بیانی کے انبیاء میں سے سب سے بہتر اور یہی آنحضرت صلی وسلم تھے اور خاطر ایک لفظ محبت بھی ہوتا ہے یعنی کہ جس پر اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ہوگی وہی جواب نبوت کے مقام پر جہاد فرض ہو گا گزشتہ انبیاء قبر میں آنحضرت صلی اللہ کا احسان ہے کہ اگر آپ نہ آتے تو ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون نے سوچا نہیں تھا یہ کون جھوٹا نبی کو کہ بائبل تو بڑی غلطی سے انبیاء کے متعلق بیان کر دی ہے لیکن آنحضرت صلی وسلم کے لائے ہوئے شہید کی وجہ سے نے مان لیا کہ وہ سچے نبی تھے اور آئندہ بھی اگر کوئی نبی آئے گا تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہوگا شریعت سے باہر نہیں ہوگا اگر شریعت کے تابع ہوگا تو خاتم النبییین ابھی پہلے آپ کے طفیل جو ہے اس شخص کو نبوت کا مرتبہ ملا تو آپ نے خود ہی فرما دیا تھا کہ آخری زمانے میں ایک نبی آئے گا صحابہ کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ حضرت فاطمہ نے بھی چیز ہے لیکن آپ کے بعد نبیہا سکتے ہیں البتہ ایک دفعہ کسی سے کوئی شخص مدینہ کی گلیوں میں کیا تھا کہ ہم آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو آپ نے اس کی تصریح فرمائی کہا کہ قولو انہ خاتم الانبیاء یہ تو کیا حضرت خاتم الانبیاء ہیں لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو ہم تو وہی تشریح کرتے ہیں جس کی قرآنی اجازت دیتا ہے جو احادیث میں بیان ہے اور جس کے صحابہ کا عمل تھے آپ نے آخر کا لفظ ہے وہ دن کہاں سے نکال دیا ہے اگر آپ کا ترجمہ کرنا ہی ہے تو اس کا مطلب ہے آپ آخری شری نبی ہیں کوئی شخص نئی شریعت لے کر نہیں آسکتا جو کہ آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا اس کے متعلق جو کہ پہلے تفصیل سے ایک پروگرام کر چکے ہیں اگر واقعی آپ میں اس دفعہ کو جاننے کی جماعت احمدیہ کے موقف کو سمجھنے کی توفیق پروگرام کو دیکھ لیں یا جماعت احمدیہ کی ویب سائٹ پر جا کے جو ختم نبوت پر بار بار ہم دکھاتے رہتے ہیں کہاں سے آپ کو مور لے گیا وہاں جا کر دیکھ لیں تو امید ہے کہ آپ کا مسئلہ حل ہوجائے اور باپ کی سچائی کی تلاش ہےچینی اور مخالفت کرتے ہیں تو پھر ایسے لوگوں سے جو حد قطع تعلق صرف اس وجہ سے ہم کریں گے کیونکہ خدا تعالیٰ کے نبی کا حکم ہے الحمد للہ والبغض للہ خدا کی خاطر بھی کسی سے محبت کرو اور خدا کی خاطر ہی کسی سے جو ہے وہ زندگی کا اظہار کرو تو چونکہ انہوں نے امام وقار کی اس کو جھوٹا کہتے ہیں اس شخص کو اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس کی تربیت کرنا اور ان کو سلام پہنچانا اب اس کا انکار کرتے ہیں تو دراصل یہ سارے انبیاء کا انکار کرتے ہیں اس وجہ سے ہم سے زیادہ ہوں گے کیونکہ انہوں نے خدا کے نبی کا انکار کیا ہے لیکن اگر وہ اچھا برتاؤ رکھتے ہیں وہ الفت نہیں کرتے تو پھر ایسے لوگوں کے ساتھ جو ہے اس تحریر لکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اچھا یہ بھائی کہتے ہیں میرے نبی نے فرمایا تھا کہ میرے بعد تیس جھوٹے نبی آئیں گے جی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا تھا کہ جھوٹے آئیں گے تو وہ حدیث کی دو گنتی ہے اگر آپ نے کبھی بڑا ہو تو وہ حدیث کی گنتی جو ہے آپ کے علما بھی مانتے ہیں کہ وہ پوری ہو چکی ہے نمبر سے پہلے تو یہ فرمایا کہ جھوٹے نبی آئیں گے تو اس میں یہ بھی اشارہ پنہاں تھا کی کوئی سچا بھی آئے گا یا تو یہ کہتے کہ جو بھی آئے گا وہ جھوٹا ہوگا لیکن تیسری وڈیائی گے سے مراد یہ تھی اس جھوٹے آئیں گے لیکن بعد میں ایک بچہ بھی آئے گا تو تھوڑی سی عقل کریں تھوڑا سا غور و فکر کرے خدا سے دعا کریں تاکہ آپ کی ہدایت کے مسلمانوں سےحضرت محمد کی غلاظت میسنجر جس سے میں نے بتا دیا ہے کیا بات مانو یا نہ مانو میں ہیں کہ آپ کی شریعت جو ہے وہ آخری شدید زمانہ میں امام علیہ السلام کو ختم نبی مانتے اور امت کے کئی بزرگوں کی تشریح ہم نے کیا فرماتے ہیں کہ وہ مسلمان اس لیے نہیں ہے کہ ٹونائٹ بی اور سی جو پاکستانی کانسٹیٹیوشن کے مطابق ہے اس کو مسلمان نہیں ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی ملک کے آئین کو اختیار ہے کہ کسی کو غیر مسلم قرار دے دے اگر تو آپ کہتے ہیں کہ میں جھوٹی نہیں یہ فیصلہ کیا ہے تو میں جوتی کا فیصلہ کرلیا جائے تو یہ تو قرآن و حدیث کے خلاف جاتا ہے میں جھوٹی نے تو اکٹھے ہوکے مقامی یہی فیصلہ کیا تھا کہ حضرت سلیمان اور آپ کے ماننے والوں کو قتل کر دینا چاہیے تو کیا ہم اس میں چھوٹی کا فیصلہ ماننے میں چھوٹی نے تو یہ بھی عین پاس کیا تھا فرعون کے دربار میں کہ موسی اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر دینا چاہیے کیا آپ کی بات مان لیں کہ یہ مثال ثابت کرتی ہیں کہ ضروری نہیں کہ میں جوڑتی جو ہے وہ صحیح ہو ہو ہاں قرآن وحدیث فیصلہ کرتے ہیں اس کے مطابق آپ ہم سے بات کریں قرآن و حدیث کے مطابق جو مسلمان کی تشریح ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کو پتہ ہی نہیں کیا حضرت حسین نے مسلمان کی تشریح کی ہے اس لیے آپ اپنے مولویوں کو بینائی بھی تشریح جائے اس کو فالو کرتے ہیں اگر آپ نے ان کی بنائی ہوئی تشریح کے مطابق کسی کو مسلمان پر رکھنا ہے وہ تشریح ہے انشاءاللہ سالانہ مستقبل اتنا واک العربیہ تنخواہوں میں آپ نے فرمایا کہ جو شخص تمہاری طرح نماز پڑھے جو شیخ ہمارے قبلے کی پیروی کرے اور جو شخص ہمارا ذبیح کر وہ مسلمان ہے اس کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول پر ہے اس لیے اگر آپ دیکھیں تو سارے احمدی مسلمان بنتے ہیں کوئی بھی شخص تین باتوں کو مانتا ہے وہ مسلمان ہیں اب بتائیں میں آپ کے کارٹون انور بیگ معنی آپ کی ماں نے ایک دفعہ ایک جنگ میں حضرت اسامہ ایک شخص سے لڑائی کررہے تھے تو جب آپ نے اس پر قبضہ کرلیا اس دریافت نے کہا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ آپ نے پھر بھی اس کو قتل کردیا واپس آکر آپ نے اس واقعے کا حضرت زکریا کی جنگ میں ایسا ہوا کہ بڑی شدید لڑائی ہوئی میری اس کے ساتھ لیکن جب میں نے تجھے پا لیا اس نے اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کر لیا لیکن پھر بھی میں نے اس کو قتل کر دیا 5قسط ناراض ہوئے آپ نے فرمایا ہلا شققت عن قلبہ اسامہ نے اس کا دل چیر کے دیکھا تھا کہ وہ اوپر سے کلمہ پڑھا تھا یا دل سے مسلمان ہو گیا تھا جب ایک صحابی کو آپ نے اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ لوگوں کے ایمان کا فیصلہ کریں تو مولویوں کی کیا حیثیت ہے کہ وہ لوگ ایمان کا فیصلہ کریں جس پارلیمنٹ کیا بات کرتے ہیں اس کو بنانے والے تو خود ان کی صفات جو ہیں وہ جھوٹے ہیں وہ رشوت لیتے ہیں وہ بد دیانت ہیں نماز روزہ ان کو آتا نہیں قرآن کریم کے تلاوت ان کو آتی نہیں ایسے لوگ اگر فیصلہ کریں گے تو وہ محفل سے اُٹھا تبی شمع نے فیصلہ چلے گا قرآن کا کا فیصلہ چلے گا اعجاز اسلم کا فیصلہ چلے گا آپ کے ساتھ وعدہ ان کے فیصلے کے مطابق مسلمان نے آپ جو مرضی چاہے قبول کرنے آج اگر پاکستان یا کسی اور کا پارلیمنٹ آپ کا ہے کہ جو شیخ صاحب جو ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں تو کیا آپ اپنے آپ کو مسلمان کہنا بند کر دیں گے کہ آپ نماز پڑھنے بند کر دیں گے کہ آپ روزے رکھنا بند کر دیں گے اگر آپ نہیں کریں گے تو وہ یہ تمام ہیں ہم کرتے ہیں کہ ہم کسی کے کہنے پر اپنی شناخت یا کیوں چھوڑیں اگر آپ ان کے کہنے پر یہ ساری چیزیں بند کر دیں گے تو آپ جیسے کمزور ایمان والا اور کوئی شک نہیں ہے اس کے متعلق کچھ دن پہلے ہی ہم نے جو جو وہ پاس ہوا تھا اور اس کے جوابی کارروائی کی مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے پروگرام کیا تھا تو کائنڈلی آپ ہماری ویڈیوز میں جا کے اس واقعے کو بھی دیکھیں وہ سراسر ایک سیاسی فیصلہ تھا دین کا اس کے ساتھ میرے بھائی کوئی تعلق نہیں تھا تا تااچھا کہتے ہیں کہ یوں بیان کر کے جنازے کی دعا ہے جی وہی میں نے کہا اور کیا ہے پہلی ملاقات ہے دوسری میں جو ہے درود شریف تیسری میں جنازہ کی دعا ہے میرے خیال کے مطابق میں نے یہی کہا ہے کہ سکتا ہے بعض دفعہ بات کر رہا ہوتا ہے تو الفاظ اوپر نیچے ہو جاتے ہیں لیکن مضمون سے پتہ چل جاتا ہے کہ بات کیا ہوئی ہے میں اگر غلطی ہوگئی ہے تو اس کے بعد نہیں چاہتا لیکن یہی میں نے کہا کہ تیسری رکعت میں جائیں الگ سے مراد ہے اور تکبیر نعت لیرکس کے نیچے جاتے ہیں لیکن کسی واجب تکبیر کہی جاتی وہ میری مراد تھی کہ کسی کو غلطی لگی ہے تو تصدیق کر لیں اچھا سا پوچھتے ہیں کہ ورلڈ لیسبین سابقہ الفاظ میں آیا کہ سابقہ قول معصوم علیہ السلام کے پیروکار میں کیا مماثلت تھے اصحاب کہف جو ہیں ان کو بھی اپنے دین کی خاطر بہت زیادہ قربانیاں دینی پڑیں بہت زیادہ ان کی مخالفت ہوتی تھی اس کی وجہ سے بعض گھروں میں جاکر کیا بنا لینی پڑتی تھی تو یہ سلسلہ جو وقتن فوقتن جاری رہا اور تقریبا تین سو سال بعد جا کے جو ہے وہ ان کو مکمل جو ہے وہ آزادی بھی حاصل ہوئی جب روم کے بادشاہ نے عیسائیت قبول کر کے پھر جو عیسائیت پھیل گئی اس لحاظ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سلسلے میں ہیں اس لیے آپ نے بیان فرمایا ہے کہ 300 سال کے اندر اندر جوہے جماعت احمدیہ کو اللہ تعالی نے اپنے مخالفین پر بات کرے گا اس دوران سابق آپ کی قربانی بھی دینی پڑے گی مشکلات بھی آئیں گی یہ شرط بھی ہوگا ظلم اور زیادتی بھی ہوگی لیکن انہیں کتنے ہم نے اپنے دین کی حفاظت کرنی ہے اور اس کا نتیجہ جیسے عیسائیت کے تین سو سال بعد ایسے ہی جماعت احمدیہ جو ہے وہ جائے گی جو کہ حقیقت میں اسلام کا حق حاصل ہے بارہ کے علماء کا طلوع ہونا ثابت کیا مطلب ہے یہ مطلب ہے کہ وہ حضرت عیسی کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن قتل نہ کر سکے اور نہ ہی ان کو جو ہے نہ دے سکے صلیب سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ ان کو صلیب پر چڑھا نہیں سکے بلکہ لینے سے مراد یہ ہے کہ ان کو اس لیے قتل نہ کر سکے کیونکہ یہ یہود کے مطابق ان کا یہ عقیدہ تھا کہ جو شخص صلیب پر مر جاتا ہے وہ ایک جھوٹا ہوتا ہے جھوٹا نبی ہوتا ہے جو کہ حضرت عیسیٰ کو سچا نبی نہیں مانتے بھی انہوں نے آپ کو صلیب پر لٹکا دیا اور یہی ثابت کرنا چاہتے اور جھوٹے نبی ہے اس آیت میں فرمایا کہ وہ اپنے مقصد صلیب کو نہیں حاصل کرنا ہے کر سکے صلیب پر توجہ دیں سے لگائے گئے لیکن جو ہے وہ ان کی موت پر واقعہ نہیں بلکہ ان کو بعد میں جو ہے وہ زندہ اتار لیا گیا تھا اور ان کے زخم جو ہے وہ ٹھیک ہوئے اور پھر اس کے بعد جو ہے انہوں نے وہاں سےآزاد کردیا اور کشمیر کے علاقے کی طرف آگے تو سب لوگوں کی مغفرت نہیں تم پر نہیں مرتے اب اگر کوئی قتل نہ ہو اس پر نام اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگ مرتے نہیں اور بیماریوں سے بھی ملتی ہیں لوگ بڑا پیسے بھی ملتے ہیں لوگ جن سے کبھی مرتے ہیں تو ان دو طریقوں سے فرمائے پیسہ جاؤ فوت نہیں ہوئے لیکن طبی طور پر تو ہر نبی اور بہت ہوتا ہے اور جیسے ہی قرآن کریم میں بڑا واضح ہے تیس آیات میں ثابت ہوچکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں ٹھیک ہیں آج ابھی اور کے کمنٹس بھی تو ملا دیں کا میسج بھیجو ہیں وہ میں نہیں دیکھ سکا تو پروگرام کا جو ہے وہ ختم ہوگیا ہے پچاس منٹ ہوگئے ہیں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو آج کے پروگرام کے لئے ہمارے ساتھ شامل ہوئے بہت سارے سوال رہ گئے ہیں آج کی کمی کی وجہ سے ان کو یہ نہیں جا سکتا لیکن کل جب مولانا فضل الرحمن صاحب آئے تو آپ ان سے اہم سوالات پوچھ سکتے ہیں جیسا کہ بتاتے رہتے ہیں کہ پروگرامآپ دوستوں کے پاس کیونکہ ان کی ہدایت کا عورتوں کو ذریعہ ہے مولویوں سے گندی باتیں اور گالیاں اور جھوٹ اور غلط بیانی ہے چینل پی گے تو کم از کم کوئی اچھی باتوں کے کانوں میں پڑ جائے گی تاکہ ان کی ہدایت کے مسلمان ہو چکی ہو سکیں تو ہماری مدد کریں ان کا پروگرام کو ہٹانے میں تاکہ وہ خود اپنے سوالات پوچھیں آپ سب کا ایک بار پھر شکریہ اللہ تعالی آپ سب کو پروگرام تک کی اجازت دے اللہ تعالی آپ سب کے ساتھ ہو آئے میرے ساتھ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کہ خاتم النبیین نے درود پڑھنے میں شامل ہو جائیں اور پھر اس پروگرام کو ختم کرتے ہیں اللھم صلی علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی اِبراھیم وعلٰی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید سلام علیکم ورحمتہ اللہ اللہ

 79 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: