واقعات کربلا، شہادت امام حسینؓ، محرم الحرام، عاشورہ




واقعات کربلا، شہادت امام حسینؓ، محرم الحرام، عاشورہ

Streamed live on Aug 19, 2021

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ پتہ چلا لیا لا الہ الا اللہ وحدہٗ لاشریک لہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم سامعین کرام خاکسار آج آپ کی خدمت میں جماعت احمدیہ مسلمہ کی مرکزی ویب سائٹ www.ubqre.org حاضر ہوا ہے اس کا نام ہے اس کے نام اردو کا نام پر مبنی ایک سلسلہ ہے ہمارا یہ پروگرام ہفتے کی چھٹی عنایت کرتا ہے تین خان صاحب پیش کرتا ہے تین دن مولانا حنان صاحب اس پروگرام کو لے کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتی ہیں ہے آج آج جو ہے ہمارے اس پروگرام کا اس کا تعلق دسویں محرم کے ساتھ ہے اس سے متعلق ہے جو سوالات وغیرہ پچھلے کچھ عرصے سے ہمیں ہماری ای میل کے اوپر موصول ہوئے ہمارا ای میل ایڈریس ہے اردو اس کا اسلام آباد بورڈ ان سوالات کو اور خاص طور پر واقعہ کربلا کے کربلا کے میدان میں واقع کیا رونما ہوا تھا تھا اس سے متعلقہ حقائق آپ کی خدمت میں آج پیش کرنا میرا مقصد ہوگا گا آج کی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں ایک جمعہ کے خطبے سے جو 23 نومبر 2012 کو جمع تین دیا کہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا 2012 کو وہاں سے ایک اقتباس سب سے پہلے تو خود آپ کی خدمت میں پڑھ کے سنائے گا وہ احباب جن کو موقع ملے اس خطبے کو ضرور ایک دفعہ پڑھے یا اس کو سن لے آپ ہماری ویب سائٹ سے جا کے اس خطبے کو پڑھ بھی سکتے ہیں اور اس خطبہ کو واپس نہیں سکتے ہیں یہاں پے ہمارے امام کا یہ بتائیں آپ کو اس کا حق مل جائے گا  آئیے اب میں اس میں سے اس خطبے میں سے ایک اقتباس آپ کی خدمت میں پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں یہ وہ کتاب ہے جو ہمارے امام نے یعنی ہمارے خلیفہ نے دنیا کے سامنے پڑھ کے سنایا اپنے جمعہ کے خطبے میں یہ درحقیقت باعث جماعت احمدیہ کے بانی حضرت امام مہدی و مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کا اقتباس ہے جو میں آپ کی خدمت میں بھی پڑھ کر سنا ہوگا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ہیں کہ مجھے علی اور حسین رضی اللہ عنہما سے ایک لطیف مشابہت ہے اور اس پیج کو مشرق اور مغرب کے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یقینا میں علی رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے دونوں بیٹوں سے محبت رکھتا ہوں اور اس سے دشمنی کرتا ہوں جو ان دونوں سے دشمنی رکھتا ہے کتاب کا نام ہے سر الخلافہ یہ عربی زبان کی کتاب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہیں فرمائی تھی روحانی خزائن کی جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 359 میں یا آپ کو کتاب ہے یہ مل جائے گی گئی اب اس بنیادی اقتباس کے پڑھنے کے بعد حادثہ آپ کی خدمت میں واقعات کربلا جو ہیں وہ پیش کرتا ہے ہے جو حضرت علی علیہ السلام کی بیٹی تھی تھی وہ ایک روایت پیش کرتی ہیں کہ جب محرم کا مہینہ شروع ہوا تو ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر پر تشریف فرما تھےمیرا مزار مبارک کے مسائل آپ دونوں بہن بھائی کھیل رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سیدنا امام مہدی علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے ان دونوں بچوں کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ او بچو محرم کا مہینہ چل رہا ہے تو میں ایک کہانی سناؤ ایک داستان سنا اور آپ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا واقعہ یہ جو ہے وہ آپ علیہ السلام نے اپنے بچوں کو سنایا کیا آپ ساتھ ساتھ واقعہ سناتے جاتے ہیں اور آپ کی آنکھوں سے سے آنسو رواں تھے اور اپنی آنکھوں سے آنسو کو پوچھتے جاتے مجھے یہ ثابت کرتی ہے کہ ہمارے پیارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل سے کس قدر محبت تھی جو اقتباس میں نے جمعے کے خطبے 23 نومبر 2012 کو دبئی سے جو آپ کے سامنے پڑھ کے سنایا وہ بھی اسی بات کا ثبوت ہے کہ غیر احمدی حضرات جو ہمارے پیارے امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام علیہ السلام کی ذات پر جو اعتراض کرتے ہیں کہ آپ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں اپنے بیوگرافی کی کیونکہ وہ سیاق و سباق سے ہمیشہ ہٹا کے مضامین دیکھا کرتے ہیں غیر احمدی علماءکی ہیں اسی لئے وہ جھوٹ کا سہارا لینا ان کو پتا ہے کوئی بھی شخص مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کو شروع سے لے کر آخر تک پڑھ کے اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ پچھلے چودہ سو سالوں میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت کا ایسا عاشق دنیا میں پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی ہو سکتا ہے ہے آئیے اب میں آپ کی خدمت میں وہ واقعات کربلا کے جو ہے میں آپ کی خدمت میں پڑھ کر سناتا ہوں واقعہ کربلا جو ہے اس کی تعریف درحقیقت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے شروع ہوتی ہے ہے جن کے نتیجے میں بالآخر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے 20 افراد کو ایک ہی دن میں شہید کردیا گیا یعنی واقعہ کربلا اس کی بنیاد رکھی کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پڑ چکی تھی اور بڑی ان لوگوں کے ذریعے سے جن کو قرآن میں احادیث میں منافقین کہا گیا تھا جو اس بات کی ہمیشہ کوشش میں ہوتا تھا کہ کسی طریقے سے اسلام کو نقصان پہنچایا جائے آئے اور یہی وہ تھا جنہوں نے بالآخر سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ کو شہید کیا اور پھر بالآخر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت میں نے جو ہے وہ کردار ادا کیا کیا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد آپ کے بڑے بیٹے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مسلمانوں کے لیڈر مسلمانوں کے خلیفہ منتخب ہوئے لیکن تقریبا چھ ماہ کے اندر اندر کا حصہ تھا جس میں آپ نے مصالحت کی خاطر اپنا حق ولایت جو تھا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور صحابی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ و ان کے حق میں اپنا حق ملے جو ہے وہ چھوڑ دیا دیا اور اس طرح پے امیرمعاویہ تھے وہ مسلمانوں کے لیڈر بن گئے سلطنت اسلامیہ کی بھاگ دوڑ حضرت امیر معاویہ کے پاس آگئی اور آپ آپ جو ہے وہ سامنے بستے تھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنا جو دارالحکومت تھا اس کو مدینہ سے کوفہ منتقل کردیا تھا اور اس کی ڈیفنس جمہوری ڈیفنس پاک جو ہے وہ بن چکی تھی ڈفرنٹ کمیٹی جو ہیں وہ ثابت ہو چکی تھی ہیلو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے کیونکہ حضرت علی وہ اپنے دور خلافت میں وہ ہو چکے تھے وہ تباہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ایک نظر میں کا اور پیار کا ایک ان کے دلوں میں شروع شروع میں ایک مضبوط جال تھا یہ کہ ایلیمنٹ پایا جاتا تھا بہرحال حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد جس نے بتایا حضرت امام حسین امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مسلمانوں کے لیڈر منتخب ہوئے اور انہوں نے حضرت امیر معاویہ کے حق میں اپنا حق بلاوجہ چھوڑ دیاآپ نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیٹے یزید بن معاویہ کے متعلق مسلمانوں میں منادی کی کے میرے بعد میرا لڑکا و یزید ہے وہ مسلمانوں کا لیڈر ہوگا اور اس کو ولی عہد قرار دے دیا اور کہا کہ اس کی بات کریں کریں آپ یہاں سے وہ واقعات جو ہیں وہ شروع ہوتے ہیں میں بتاتا چلوں کہ سن 60 ہجری دس محرم الحرام کو دور یزید میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ شہید کئے گئے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تھے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بطن سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر میں آپ کی پیدائش ہوئی اور آپ کی شہادت ہوئی تو شہادت کے کچھ حصے کے اندر اللہ تعالی نے ظالموں کو اپنے عذاب کے ذریعے سے پکڑ لیا یا آپ کی پیدائش یعنی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش شعبان کے مہینے میں سن 41 ہجری میں ہوئی اس بات کی کہ آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں اللہ تعالی نے ایک خوبصورت بیٹا عطا فرمایا ہے کہ یہ خبر سننے کے بعد ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی بیٹی کے گھر تشریف لے گئے بچے کو اپنی گود میں لیا اور بڑے پیار سے اس بچے کا نام حسین رکھا da7y احسن کا ٹکڑا حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل بیت میں سب سے زیادہ عزیز تھے تھے ان کی وفات ہوئی اس وقت حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر 79 برس تھی تھی یہ وسلم کی روایت ہے آپ نے فرمایا جس نے میرے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا  کالا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق آتا ہے کہ صدقہ و خیرات کی آپ بہت کثرت کیا کرتے تھے اور آپ راتوں کو اٹھ کر تہجد کی نماز نوافل وغیرہ پڑھتے اور اپنے رب کی عبادت کیا کرتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جناب آپ نے دیکھا ان سے یہ روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ تھے میں امیر معاویہ نے یزید کو اپنا ولی عہد اپنے بیٹے کو ولی عہد مقرر کیا کہ وہ ان کی وفات کے بعد شام کا حکم ہوگا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد میں یزید کی بیعت کر لی علی جو آئے تین کے بعد صحابہ کے جن کا نام ہے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ و اور اسی طرح بے جان ہونا اور اسی طرح سے حضرت امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ان بزرگان کا موقف یہ تھا کہ یزید اپنی فسق و فجور کی حالت میں اس لائق نہیں کہ خلیفۃ المسلمین کے لقب سے اس کو نوازا جائے آئے کی وفات کے بعد حاکم بن کر یزید نے امیر مدینہ کو ایک پیغام بھجوایا ہدایت کی کہ ان تینوں حضرات سے ان دنوں کے بعد صحابہ سے یزید کے نام پر بیٹھ جائے اس پر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ مکہ تشریف لے گئے گئے وہاں اہل کوفہ نے کثرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو خط جوانی شروع کر دیے اور ان خطوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی یاد رکھیے کہ وہ مقام تھا جہاں پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو نے اپنے دور خلافت میں جو مرکز تھا یا جو دارالحکومت تھا اس کو منتقل کر دیا تھا تھے جنہوں نے توبہ والے تھے جنہوں نے حضرت امام حسین کی خدمت میں ہزاروں کی تعداد میں خط جائے بہرحال وہ کے حالات پتہ کرنے کے لئے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے چچا زاد بھائی کو جن کا نام حضرت مسلم بن عقیل تھا ان کو بھجوایا گیا جنھوں نے وہاں جا کر پیغام بھجوایا کہ اٹھارہ ہزار لوگ تھے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر بزرگان کے اس کے خلاف رائے یہ تھی کہ ان کی اس کے خلاف رہی تھی اور اور ان کو یہ مشورہ دیا کہ آپ نہ جائیں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی آپ کو یہ مشورہ دیا کہ آپ غصہ نہ جائیں اور اگر جانا ہے تو اکیلے جائیں خاندان کے لوگوں کو ساتھ نہ لے جائے اپنے بیوی بچوں کو ساتھ ملانے کی جائیں آئی لیکن باہر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے یہ فرمایا کہ میں استخارہ کرنے کے بعد فیصلہ کروں گا کو جب پتہ چلا کہ حضرت مسلم بن عقیل کوفہ والوں سے حضرت امام حسین کے نام پر بیعت لے چکے ہیں تو اس نے بصرہ کے حاکم ابن زیاد کو کوفہ پہنچ گیا جنہوں نے وہاں جاکر چارج سنبھال لیا کو پیسوں کا لالچ دے کر ولابیع اور حضرت مسلم بن عقیل کو گرفتار کر لیا یہ وہ مقام تھا جہاں پر اہل کوفہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ جو ہے وہ باباجی کی ان کو دھوکہ دیا کیا حضرت مسلم بن عقیل کو جب یہ معلوم ہوا کہ آپ کو شہید کردیا جائے گا آپ نے پیغام بھجوایا کہ اہل وفا عہد شکنی کر چکی ہیں آپ رضی اللہ تعالی عنہ بیان حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ یہاں تشریف لے کر آئے لیکن بہرحال اس پیغام کے پہنچنے میں تاخیر ہو گئی ابھی تین ذوالحجہ کو حضرت مسلم بن عقیل کو شہید کر دیا گیا اور یہی وہ دینا ہے جب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو کوفہ کے لیے مکہ سے روانہ ہوئے بے نوا کلومیٹر کا سفر یہ بنتا ہے مکہ سے کربلا تک کا اور یہ تقریبا ایک ماہ کی مسافت میں تحریر کیا جاتا ہے ہے نہ مقام پر حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ تک پہنچی حضرت مسلم بن عقیل کے بھائیوں نے کہا یعنی کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے ان چچازاد بھائیوں نے کہا کہ اب چل کر اہل کوفہ سے حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کا بدلہ لینا چاہیے حسین رویا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس کے بعد آپ نے یہ طے کیا کہ جو چائے ہو جائے لیکن اب واپسی محال ہے البتہ جو واپس جانا چاہتے ہیں انہیں اجازت دے دیں بعض لوگ آپ کے ساتھ جو اس وقت شامل تھے وہاں سے واپس مرجائے مکے کی طرف چلے گئے گئے اب صرف اہل بیت اور احباب جن کی تعداد کل ملا کر بہتر لوگ تھی آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ رہ گئے گئے مکہ سے کربلا کے درمیان اشرف مقام پر حاکمیت کو حاکم کوفہ کے حکم سے اس کا ایک سال ہر بن یزید ایک ہزار لوگوں کا لشکر لے کر امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے آگیا اور کہا کہ یہ ہدایت اس کو ہے کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو وہ گرفتار کر کے کپڑے لے کر آ جائے یہ دونوں گروہ قدم کا قتل کے مقام پر مبنی مقاتل کے مقام پر پہنچے مجھے وہاں آپ نیند سے بیدار ہو کر ایک نظارہ دیکھا یعنی امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے نیند سے بیدار ہونے کے بعد ایک تسبیح روزانہ دیکھا جس میں آپ کو یہ دکھا یہ دکھایا گیا کہ یہ قوم ہلاکت کی طرف بڑھ رہی ہے یعنی آپ کے مخالفین جو ہیں وہ ایک ہلاکت کی طرف بڑھ رہی ہیں پھر مقام کپتان یہاں پہ ایک اور نظارہ آپ کو کسی بھی طور پر دکھایا گیا جس سے آپ سمجھ گئے کہ آپ کو شہید کردیا جائے گاکے ساتھ حاکم کوفہ کے حکم پر چار ہزار کا لشکر لے کر سامنے آیا اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے یہاں آنے کی وجہ پوچھی جس پر آپ نے اہل کوفہ کی طرف سے خود کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اگر ان کی رائے بدل گئی ہے تو ہم واپس چلے جاتے ہیں تاکہ میں کوفہ کو جب ائیرپورٹ پہنچی تو اس نے اطمینان کا اظہار کیا لیکن شمر زلجوشن یہ مخالفین کی جو آرہی تھی اس کا ایک کمانڈر تھا تھا اور رشتے میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے ایک رنگ میں یہ معمول تھا ایک رنگ ہے دور کی رشتہ داری تھی اس نے کہا کہ یہی موقع ہے امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو قابو کرنے کا اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے آئیے 4 محرم کو کہا کہ میں کوفہ نے ابن زیاد بن زیاد نے ایک اور خط اپنے سال ابن سعد کو بتایا کہ امام حسین اور ان کے اصحاب پہلے بات کریں پھر ان سے کوئی بات جو ہے وہ کی جائے گی نیز حاکم نے مسجد کوفہ میں لوگوں کو روپئے کی لالچ دے کر مزید ان کو امام حسین کے خلاف لڑائی کے لیے بھرا اور اس طرح پندرہ ہزار کا لشکر سے اس طرف روانہ کر دیا گیا یا پانچ محرم کوئی لشکر روانہ ہوا اور چھ محرم کو کربلا کے میدان میں پہنچ گیا ابن سعد نے چھے ابن سعد نے محرم کو عمر بن حجاج کی کمان میں 500 لوگ دریائے فرات پر بھیجے تاکہ وہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے قافلے کو پانی سے روکتے تھے سات محرم کو امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے پچاس لوگ دریائے فرات بھجوائے جو لشکر کے لیے یا اس قافلے کے لیے امام رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ تھے ان کے لئے لے کر آ گئے اسی شام کو گھر کو بلا کر اس سے گفتگو کی کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل سے جنگ کرنے سے باز رہو حاکمیت کو جب پتہ چلا تو اس نے شمر زلجوشن کو کمان کے لیے بھیجا اس نے آ کر کہا کہ یہ یا تو ہم سے جنگ کرو یا سالاری میرے سپرد کر دوں ہم نے 9 محرم کو جنگ شروع کی تو امام حسین نے ایک رات کی مہلت مانگی علی اکبر جو امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے تھے پچاس احباب کے ساتھ خیمے کے پیچھے خندق کھودنے گے اور 10 محرم جو آخری رات تھی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے ہتھیار تیار کروائے اور نماز میں دعائیں کی خواب میں آپ نے دیکھا کہ کتے ہیں جو آپ علیہ السلام آپ رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے ساتھیوں پر حملہ آور ہوئے ہیں حضرت زینب بنت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت امام حسین کی بہن تھی تھی وہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے بات کرنے لگی کچھ باتیں دونوں بہن بھائیوں نے ہوئی ہوئی ہے نبی اس بات کو جان چکی تھی کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت ہونے والی ہے ہے جنگ پر جانے سے پہلے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کام اپنے سر پر رکھا پھر ایک طویل تقریر کی جس میں آپ نے اپنا تعارف تو پھر حالات بیان کئے کہ کس طرح پر آپ اس جگہ پہنچے کیوں نہیں پڑھی تھی جو یزید کے نام پر ہے آپ سے بات کرے گا اور اس کے بعد آپ سے کوئی بھی بات ہو ہر حکم کی جائے گی ورنہ آپ کو شہید کیا جائے گا اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اس وقت کہا کہ مجھے خدا کی راہ میں اپنی جان دینا منظور ہے لیکن میں ایک فاسق فاجر انسان کی بیعت نہیں کر سکتا کتا جب امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے میدان کربلا میں جنگ سے پہلے ایک طویل تقریر کی اور اپنا تعارف اور حالات بیان کیے جن کے نتیجے میں آ پہنچے تھے یہ مقام کربلا میں تو ہر جگہ دوسری فوج کا مخالف فوج کا ایک کمانڈر تھا اس کی غیرت جاگ اٹھی اور وہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آگیا اور پھر آپ کی طرف سے لڑنے کی یعنی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدمقابل فوج سے لڑنے کی کے لشکر سے لڑنے کی اجازت چاہی حضرت امام حسین نے رضی اللہ تعالی عنہ نے دعا کی اور پھر میدان میں نکلیں گے اور مخالفین کو مارگرایا اور اسی اثنا میں آپ خود بھی شہید ہو گئے گئے کر کے بعد 15 وفا شاعری گئے اور مخالفوں کو مار کر خود بھی شہید ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ دور کی نماز کا وقت ہوا تو مخالفین نے انکار کردیا اور کہا کہ آپ کی نماز قبول نہیں لہذا آپ نماز آپ نماز ادا نہیں کر سکتے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے ساتھیوں نے اس وقت نماز خوف خدا کی کی مزید کتابیں شائع شدہ و گئے پھر حضرت علی اکبر امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے تھے آپ میدان میں اترے اور آپ کو بھی شہید کر دیا گیا یا حضرت علی اکبر کے چھوٹے بھائی بھی شہید کر دیئے گئے السلام کے خاندان کے افراد کو یکے بعد دیگرے ہے ان لوگوں نے شہید کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک دن کے اگر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے 20 افراد کو شہید کر دیا گیا یا آخر پر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اکیلے رہ گئے آپ کو دیں جو آپ کے ساتھی آپ کے گھر کے افراد آپ کے بچے جو شہید ہوئے آپ خود ہی ان کی نوکوں کو اٹھا کر لے کر آتے اور دفناتے یہ جو بھی آپ کر سکتے مجھے اور ایک طرف دشمن کا مقابلہ بھی کرتے رہے ہے آپ پانی لینے کے لئے دریا کی طرف گئے تو وہاں پے دشمن کی فوج نے آپ کے اوپر تیروں کی بوچھاڑ کر دی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے ڈالنے لگا جس سے آپ کی کال سے خون کا ایک فوارہ نکلتا بڑا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی پیشانی مبارک پر آکر لگا لگا ایک جو زہر آلود تھا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے سینے میں آنے لگا ایک ظالم نے آپ کے سر پہ اعتبار کیا اور ایک نے نیزہ مار کر آپ کو منہ کے بل گرا دیا ایک نے کہا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا سر گردن سے جدا کر دیا جائے آئے نے اپنے شروع کر دیئے یہاں تک کہ یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی خواتین مبارکہ کے سروں کی چادریں بھی کھینچ لی عمر بن سعد نے منادی کرائی کہ کون ہے جو امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی نعش مبارک کو پامال کرے گا دس لوگ دس لوگ گھوڑوں پر آئے اور انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی نعش مبارک کو گھوڑوں کی ٹاپوں کے نیچے دیا گیا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے سر کو تن سے جدا کردیا گیا اور جبکو دیکھا گیا تو اس کے اوپر زخم پیروں کے آپ کے جسم پر تھے 33 زخمی تھے اور ترتالیس تلواروں کی وجہ سے آپ کے بدن پر زخم آئے تھے تے یہ ہے واقعہ کربلا کہتے ہیں ان کی اولاد میں سے یعنی امام حسین کے بیٹے جن کا نام زین العابدین بھی آتا ہے آپ جو ہیں کیونکہ بیمار تھے اور چھوٹی عمر کے تھے آپ کی شہادت نہیں ہوئی اور آپ کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس موقع پر بلا لیا اس کے بعد جب روایات سے پتہ چلتا ہے تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ امام حسین کے اہل خاندان والے تھے ان کو یزید کے دربار میں پیش کیا گیا اور یزید نے اس وقت کہا کہ یہ بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے اور اس نے ماتم کروایا جو پہلا ماتم امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی کیا گیا وہ یزید نے کروایا تھا اور قیامت تک جو یہ ماتم ہوتا ہے یہ یزید کے طریقے پر عمل کرکے ہوتا ہے ورنہ تو خود رسول پاک صل وسلم نے کبھی ماتم نہ کیا نہ کبھی آپ کے صحابہ نے کیا نہ کبھی ان کے خلاف آنے کی عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کیانی کبھی کسی کا اعلان پر نے کیا ہے تو یہ وہ واقعہ کربلا کا جو دس محرم کو رونما ہوا اب میں واقعہ کربلا سے متعلق جو بات سوالات وغیرہ ہے جو موصول ہوتے ہیں اور اکثر یہ سوال ہے جو بار بار آتے ہیں میں آج ان سوالات کو بھی اس پروگرام میں لے کے ان کا ذکر کرنا چاہوں گا آج کے اس پروگرام میں صرف انہی سوالات کو لوں گا جن کا تعلق ق محرم کے مہینے سے واقعات کربلا کے ساتھ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے ساتھ ہے تاکہ یہ پروگرام خاص طور پر آج کا جو ہے یہ صرف امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت اور محرم کے مہینے سے ہے تعلق رکھنے والے سوالات پر ہی مبنی ہوں ایک سوال یہ آتا ہے کہ دسویں محرم کو روزہ رکھنا جائز ہے کہ نہیں اور اس کو عاشورہ کا روزہ بھی کہتے ہیں تو ایسے میں پہلے بھی ایک دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے روزے ہجرت کے دوسرے سال میں فرض ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے جب مکہ میں تشریف فرما تھے اور ہجرت کرنے کے بعد شروع کے دو سال جب مدینے میں آپ تشریف فرما تھے تو اس دوران آپ عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے یعنی دسویں محرم کا کا اس کی وجہ یہ تھی کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ تاریخ تھی دسویں محرم کی وہ تاریخ تھی جب اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات بخشی تھی اور اس کے شکرانے کے طور پر قوم بنی اسرائیل یہودی جو ہیں وہ روزہ رکھا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ ہم زیادہ اس بات کے حقدار ہیں کہ ہم اس دن کو روزہ رکھا کریں لیکن جب اللہ تعالی نے اس رمضان کے روزے فرض کردئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد سے عاشورہ کا روزہ رکھنا ترک کر دیا لیکن لوگوں کو منع بھی نہیں فرمایا کہ اگر کوئی رہنا چاہیے آشورہ کا روزہ رکھ لیں لیکن ہمارے لئے میں جو روزے ہیں وہ بہرام جان کے روزے جو اللہ تعالی نے ہمارے پر خرچ کیےکی بورڈ ان کے نام پہ سبیلیں اور تھانے تقسیم کرنے جائز ہیں یہی سوال حضرت امام مہدی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا گیا جن کے متعلق رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے کہ جب امام مہدی آئیں گے تو وہ حق دار ہوگےوہ فیصلہ کریں گے کہ کیا چیز اس دور میں صحیح ہوگی کیا چیز غلط ہوگیا یعنی کہ اسلام تو نہیں بدلے گا لیکن اسلام کی طرف کی غلط تعلیمات منسوخ کردی گئی ہوگی اور امام مہدی علیہ السلام کے ان غلط چیزوں کو اسلام کی خاص تعلیمات سے الگ کر کے رکھ دیں گے اور پتہ چل جائے گا کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کیا ہے لہذا دسویں محرم کو شربت اور چاول وغیرہ کی تقسیم کے متعلق یہ اخبار بدر جماعت کا اخبار ہے 14 مارچ 1907 صفحہ نمبر 5 vs سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں کیا گیا  یا سوال ہے کہ قاضی ظہور الدین صاحب مکمل نے سوال کیا کہ محرم دسویں کو جو شربتوں چاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اگر یہ لیلا بنیت ایصال ثواب ہو یعنی اللہ کی خاطر ثواب حاصل کرنے کے لیے وہ تو اس کے متعلق حضور علیہ السلام کا کیا ارشاد ہے سیدنا امام مہدی و مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ایسے کاموں کے لیے یعنی اللہ تعالی کی خاطر اگر کسی کو کوئی کھانا بنانا وغیرہ کا کام ہو فرمایا ایسے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کر دینا ایک رسم میں بہتر ہے اور آہستہ آہستہ ایسی رسمیں شرک کی طرف لے جاتی ہیں بس اس سے پرہیز کرنا چاہیئے کیونکہ ایسی رسموں کا انجام اچھا نہیں ابتدا میں اسی خیال سے ہوں مگر اب تو اس نے شرک اور غیر اللہ کے نام کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس لیے ہم اسے ناجائز قرار دیتے ہیں جب تک ایسی رسوم کا قلع قمع ہو قائدآباد بلا دور نہیں ہوتے یہ سیدنا امام مہدی علیہ السلام کا قصہ ہے جو آپ کی خدمت میں خان صاحب نے اس ضمن میں پڑھ کے سنا دیا یا پھر ایک سوال یہ موصول ہوا کہ محرم کے مہینے میں شادی بیاہ کے متعلق کیا ہے یہ ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس کے واقعات جس میں رونما ہونے والے واقعات ایسے درد نہ کہیں کہ انسان جس کو آج وسلم مراد کے خاندان سے محبت ہے وہ لازمی طور پر اس مہینے میں ایک رنج و غم کی حالت میں ہوتا ہے اور اس لیے اس مہینے میں لوگوں کے دوسرے لوگوں کے بھی جس میں شیعہ حضرات بھی شامل ہیں ان کے بھی احساسات کا خیال رکھتے ہوئے اس مہینے میں بہتر یہی ہوتا ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات ہیں وہ اس طرح سے اباؤٹ کی جائیں بھائی آپ کے پاس سال کے باقی گیارہ مہینے ہیں جن میں آپ کسی بھی وقت شادی بیاہ کا وہ موقف جو ہوتا ہے وہ اس کو تقریب کو رکھ سکتے ہیں کوشش کر کے اس مہینے میں کیا کرنا چاہیے پھر ایک سوال جو آیا وہ یہ تھا کہ جماعت احمدیہ محرم الحرام کو کس طرح بناتی ہے تو اس ضمن میں جماعت احمدیہ کے چوتھے خلیفہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کا ایک اقتباس آپ کی خدمت میں پڑھ کر سناتا ہوں آپ نے فرمایا آج کل محرم کے دن ہیں اس سلسلے میں ایک بڑی ضروری بات میں جماعت کو یاد کرانا چاہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے ساتھ ہر عشق کو ایک روحانی تعلق ہونا چاہیے یہ جو اختلافی مسائل ہیں یہ بالکل اور بات ہے لیکن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہل بیت سے عشق یہ بالکل اور معاملہ ہے یہ ایک لافانی میں مسئلہ ہے جس میں کبھی کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوسکتی اس لئے جماعت احمدیہ اس طرف خاص توجہ کرے اور انپیچھے نہیں ہیں یہ بات جمعرات کو نہیں بنانی چاہیے یہی بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر جگہ لکھی فرمایا جان و دلم فدائے جمال محمد است شاعر پوچھا آل محمد ص کے میرا جان میری جان میرا دل تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال پر فدائی اور خاکم نثار میرے وجود کا زہر رہا ہے محمد اصغر کے اندر صلی اللہ وسلم کی آل کا جو پوچھا ہے اس پر قربان اور نثار ہے یہ ہے تاریخ جس کے ذریعے دودھ وغیرہ بھیجیں ہم جو ہر مسلمان ہیں ان دنوں میں سے گزرتے ہیں جو محرم کے دن ہیں پھر یزید کے متعلق ایک سوال آیا کہ یزید کے متعلق جماعت احمدیہ کا کیا موقف ہے تو اس بارے میں خاص کر چلے کہ ہماری جماعت کے بانی سیدنا امام مہدی و مسیح موعود مرزا غلام احمد کتاب یعنی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یزید پلید آپ نے یزید کو پلید کے لفظ کے ساتھ یاد کیا ہے یزید پلی ہے پھر ایک سوال جو موصول ہوا کیا کربلا واقعہ کربلا نے اسلام کو زندگی بخشی ہیں اگر واقعہ کربلا نے اسلام کو زندگی بخشی ہے تو کیا وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کی مجالس میں اس بات کا ذکر زوروشور کے ساتھ اس طرح سے نہیں ملتا یہی سوال ہمارے پیارے امام خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ جماعت انڈیا کے جو چوتھے خلیفہ تھے ان کی زندگی میں بھی کیا گیا اور اس سوال کا جواب ہمارے پیارے امام خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے دیا میں نے وہ آپ کی خدمت میں اسی جماعت کو یہاں پہ لے کر کے سنا دیتا ہوں  ہو اسلام میں اہل بیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور واقعہ کربلا کے بارے میں ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ اگر یہ نہیں ہوتا تو اسلام زندہ نہیں ہوتا ہے لیکن جماعت احمدیہ کی کتابیں لکھیں جن میں تو اس بات کا ذکر ہوگا اس وقت ہو چکا تھا تھا جب قرآن تکلیف پہنچے ہیں جن کو نبی کے طور پر ہمیشہ کے لئے دنیا کے لوگوں نے بنا دیا گیا اس لیے واقعہ کربلا نے اسلام خان پہنچایا ہے یا نقصان پہنچایا گیا ہے انسان کو چاہیے کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے سب سے بڑے موسم کے ساتھ احسان فراموشی کا اظہار کیا آگئے ہیں اور آپ کی اولاد سے محبت اور عزت سے پیش آنے کی بجائے اس کی بے حرمتی کی گئی ہے اللہ تعالی اس طرح ہے کہ نہیں ہے اسلام کی زندگی کا تعلق رسول اور قرآن کریم اور وہ صحابہ جو آپ نے پیدا کیے ان کے اخلاق ان کی آنکھیں ہمارے سناتے ہیں اور یہ کسی واقعہ کربلا کا مختار نہیں واقعہ کربلا سے پہلے بھی میدان جنگ میں مسلمانوں کو قربانی دینی پڑی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمصلی اللہ علیہ وسلم کی قریبی شہادت سے کتنا نقصان پہنچا تھا کہ قرآن کریم میں اس کا ذکر کیا ہے اور اپنے فن کا اظہار فرمایا ہے کہ خدا کا فضل نہ ہوتا تو اس میں ہوتے ہو گیا ہے واقعہ کربلا میرے نزدیک انتہائی دردناک واقعہ جس پر مسلمانوں کو استعمال کرنا چاہیے اور پھلوں کے لیے بھی استعمال جائز ہے آئندہ نسلوں کے لیے بھی استعمال جائز ہے دیتا ہے کہ اپنے آباؤ اجداد کے لئے استغفار کروں تو یہ ہے کہ جب میں اس سے پیار کرتا ہوں ان لوگوں کے لئے بھی ظلم کیا ہے اگر وہ آنکھیں کھول کے ظلم کرنے والے ہیں تو میرا یہ فائدہ ہے کہ ایسے لوگوں کو سزا کے بغیر چلا جائے گا لیکن اگر غلطی ہوئی ہے یا دونوں طرف سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہے تو اس معاملے میں ہمیں بحث نہیں کرنی چاہیے کیونکہ انھوں نے ہمارے سامنے نہیں بھیجوں گا اور اس لئے بھی کہ تاریخ پر اتنے بہہ گئے ہیں کہ شیعہ روایت پسندی روایت یا ان کے اندر اور اپنا اس وقت ہے جب کہ ہمارے پیسے پر بھی نہیں پڑھنا اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگی گی اور اگر اسلام کی طرف کہیں سے کہیں پہنچ جانی نقصان اسلامی تاریخ میں شیعہ اور سنی اختلاف کے نتیجے میں ہوئے کہا کہ حملہ ہوا اور بہت سے ایسے نقصانات جو چیزیں جن پر گواہ ہے اس کی بنیادی وجہ سے شیعہ سنی اختلاف تھا اس لئے میں مغرب کے ساتھ نہیں کرتا کہ اس واقعہ سے اسلام زندہ ہوئے ہیں ہے کہ اسے اسلام کی زندگی کو بلند سطح تک پہنچا ہے اور اس کے نقصانات کہیں ملی ابھی دیکھ رہے ہیں ناظرین جیسا کہ آپ نے جماعت احمدیہ کے چوتھے خلیفہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی زبانی اس سوال کا جواب سن لیا کہ واقعہ کربلا نے اسلام کو زندہ نہیں کیا بلکہ نقصان پہنچایا ہے میں یہ کہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا تھا تو اسی دوران بعض لوگوں کے سوالات کی طرف قومی ایکشن میں نظر ڈالنے کی کا موقع ملا جس میں ایک صاحب نے سوال کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن اس قسم کی بات کی تھی کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی کی طرف سے یہ بات منسوب کی ہے کہ حضرت علقمہ رضی اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ یہ جتنے بھی جو ہے وہ اسلام کی کوئی خدمت وغیرہ کی تو اس ضمن میں آپ کی خدمت میں ایک اقتباس پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں اسی خطبے آج خطبہ جمعہ دنیا کے پانچویں خلیفہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا 30 نومبر کا سن 2019 کا جمعہ کا خطبہ ہے یہاں سے اقتباس میں نے پڑھ کر سنایا تھا وہیں سے اسی سوال کا جواب موجود ہے بات یہ کہ اگر کوئی پڑھنا چاہیے کوئی ہدایت ریسرچ کرنا چاہیے صرف کے ساتھ دوست کے لئے بکثرت نشان موجود ہیں لیکن جس طرح اللہ تعالی فرماتا ہے کہ قرآن پاک سے ہدایت حاصل کرتے ہیں جو نیوٹرل ہو کر قرآن کے پاس ایک وہ جو اس نیت کے ساتھ آتی ہے کہ قرآن کے اندر غلطیاں نکالنے اعتراض کی جگہ تلاش کریں وہ قرآن سے ہدایت حاصل نہیں کر سکتے اسی طرح پے جو صرف اس نیت کے ساتھ آتے ہیں کہ کسی طریقے سے اعتراض کریں اور جواب سنے بغیر ہی چلے گئے وہ ان کا مقصد تحقیق نہیں ہوا کرتا ہوں تم مجھے صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ کسی تعریف پر اعتراض پیش کر دیں اور اپنا اعتراض پیش کرکے کوئی غلط بات کر کے دل دکھا کے فوری طور پر واپس چلے جائیں گے جتنا اس وقت کون سیکشن میں بھیانہیں حضرت امام مہدی علیہ الصلاۃ وسلام کا اقتباس میں یہ آپ کو اسی خطبے سے پڑھ کے سنا دیتا ہوں ہو ایک بات جو ہے وہ یہاں سے پورا اقتباس پڑھ کے سنا تھا کہ آپ اس کو پورے طور پر وہ اس قدر کر سکیں یہ وہ ہے میں نے ایڈ کر دیا ہے بعض دفعہ انٹرنیٹ سلو کام کرواتا ہے جس کی وجہ سے اس تبدیلی کے ساتھ آپ کے سامنے آتی ہے کہ رات باقی ہے کہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں ہے کہ دونوں کے اپنے کارنامے تھے کام تھے اور اپنا ایک مقام تھا ان کے بارے میں فرماتے ہیں یعنی مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے میری دانش میں بہت اچھا کام کیا کہ خلافت سے الگ ہوگئے پہلے ہی ہزاروں خون ہو چکے تھے انہوں نے پسند نہ کیا کہ اور کون ہوں اس لئے معاویہ سے گزارا لیا کیونکہ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے اس فعل سے شیعہ پر زد ہوتی ہے اس لیے امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ پر پورے رازی نہیں ہوئے یعنی اگر شیعہ حضرت علی کی اولاد ہیں کے بارے میں کہتے ہیں تو حضرت حسن کے بارے میں اتنا زیادہ ظلم سے کام نہیں لیا جاتا جتنا حضرت حسین کے بارے میں لیا جاتا ہے اسی لئے فرمایا کہ اس سے خوش نہیں ہوئے فرمایا حضرت مسیح علیہ السلام نے ہم تو دونوں کے ثنا خواں ہیں یعنی ہم تو دونوں کی تعریف کرتی ہیں یعنی امام حسن کی بیویاں مومنین کی بھی فرمایا اصلی بات یہ ہے کہ ہر شخص کے جدا جدا قبا معلوم ہوتی ہیں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے پسند نہ کیا کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی بڑے اور کون ہوں انہوں نے امن پسندی کو مدنظر کا اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے پسند نہ کیا کہ فاسق فاجر کے ہاتھ پر بیعت کرو کیونکہ اس سے دین میں خرابی پیدا ہوتی ہے دونوں کی نیک نیت تھی ان مل اعمال بنیات یہ الگ ہے کہ یزید کے ہاتھ سے بھی اسلامی ترقی ہوئی یہ معسکر ہے یہ الگ الگ ہے کہ یزید کے ہاتھ سے بھی اسلامی ترقی ہوئی یہ خدا تعالی کا فضل اور اگر پھر بھی ہے یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے وہ چاہے تو وہ اس کے ہاتھ سے بھی ترقی ہو جاتی ہے وہ چاہے خدا چاہے تو اس کے ہاتھ سے بھی ترقی ہو جاتی ہے یہ یزید کا بیٹا نیک بخت تھا یعنی نیک آدمی تھا حوالہ ملفوظات جلد 4 صفحہ نمبر 579 203 مطبوعہ مکتبہ تو ہم نے اس بحث ابھی جو ہے وہ حل نکال کے بتا دیا کہ یزید کے بارے میں ہمارا کیا مؤقف ہے یزید کو یزید پلید کہتے ہیں تھے حضرت امام مہدی علیہ السلام نے سیدنا مسیح موعود علیہ السلام نے یزید کو یزید پلید کہا ہے اور اس کے اعمال کی وجہ سے آتا ہے تو میرے پاس جو یہاں پر سوال ایک سوال یہ بھی کمنٹس میں میں نے دیکھا ہے جس کا تعلق کسی پروگرام کے ساتھ ہے سوال یہ تھا کہ یزید نے پہلا ماتم کیوں کروایا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا معلوم ہوتا ہے یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ اس زمانے کی تاریخ اتنی الجھی ہوئی ہے کہ حقیقت تک پہنچنا بہت مشکل امر بن گیا ہے میں ہر جگہ روایات کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یزید ذاتی طور پر یہ نہیں چاہتا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور خاندان خاندان رسول کے افراد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے افراد نے ان کو شہید کیا جائے اسے چاہتا تھا کہ ان کو گرفتار کر لیا جائے اور ان سے بہت ہی جائے لیکن اس کی فوج کے سپہ سالاروں نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر کے ان کا سر اگر یزید کے دربار میں پیش کیا جائے گا تو یہ خوش ہو گا اور ان کو کوئی نام وغیرہ دے گا لیکن یزید کو جب پتہ چلا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے تو اس بات پر اس نے جو ہے وہ یہ پہلا جمعہ مبارک ہو اس نے کروایا تو ہم غیر طبعی و یزید کی کوئی نیکی ثابت نہیں ہوتی ہے اس کے واجب ہونے کے بارے میں کسی کو شک ہے خود تاریخ میں اس کے جو عمل سے ان کے متعلق اچھی باتیں لکھی لہذا وقتی طور پر اس کے دل میں اس قسم کی بات کا پیدا ہوجانا کے غلطی ہوگئی اس میں اس کا کیا مطلب ہے اس کا کوئی فرق نہیں ہے اور اس کے متعلق حضرت امام مہدی علیہ صلاۃ و سلام کے الفاظ رہتی دنیا تک رہیں گے سید پلیت دنیا کے 13 آپ کے سامنے پیش کردیئے نئے انشاء اللہ تعالی کیونکہ آپ میں سے کئی دوستوں کے مزید سوالات اس موضوع سے متعلق ہیں ان شاء اللہ اگلے چند دنوں میں آپ لوگوں کو دوبارہ موقع ملے گا کہ آپ لائیو پروگرام میں اور ریاضی میں بھی آپ ہمیں اپنے سوالات وغیرہ بھیجیں ہم ان کے جواب دیں گے ہمارے پروگرام کا عمومی طور پر دورانیہ صرف تیس سے چالیس منٹ ہوا کرتا ہے لیکن آج کے پروگرام کی یہ تھی کہ جس کی وجہ سے خان صاحب نے یہی کیا کہ آج کا پروگرام جو ہے اس کو تھوڑا لمبا کر دیا جائے تاکہ اس موضوع سے متعلق حادثہ سے متعلقہ اکثر مورا کی خدمت میں پیش کردی جائیں واقعات کربلا پیش کر دیے جائیں میں جو سوالات ہے ان کو بھی پیش کردیا جائے آئے تو یہ خاصہ کی آج کی اس کا مقصد تھا جو خاندانی آج کے پروگرام سے امید کرتا ہوں کے آپ کے سامنے پیش کیا ہے کمنٹس میں بعض کی طرف سے جو غالباً پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں وہ جس طرح کہ ان کی ایک فطرت میں ہے کہ محرم کے مہینے میں بھی جس قسم کی حرکات کرتے ہیں گالیاں دینی گندی زبان استعمال کرنی اور اسی طرح جماعت یا کے بانی جماعت کے خلاف حملوں کے خلاف گندی زبان استعمال کرنا وہ بھی محرم الحرام کے مہینے میں اس کے علاوہ خود پاکستان میں آج کل جو ہو رہا ہے جو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں سوشل میڈیا کے اوپر ٹریس کریں آپ کے سامنے آجاتی ہیں آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں بسنے والے بہت سے مسلمانوں کی روحانی گراوٹ کس حد تک پہنچ چکی ہے لہذا ایسی کون سے انسان اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں ایسے لوگوں سے نہیں کہتا کہ پاکستان کی اکثریت خراب ہے ہرگز نہیں اللہ تعالی ہمارے پاکستان کو ہمیشہ قائم رکھے زندہ رکھے آباد رکھے لیکن اسی قوم میں بسنے والے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو نہ تو اسلام کا استعمال کرتے ہیں رسول اللہ صلی وسلم کے نعرے لگاتے ہیں نعرہ تکبیر لگاتے ہیں لیکن ایک زبان سے نعرے لگاتے ہیں تو اس کی زبان سے اگلے ہفتے میں گالیاں بھی دیتے گندی گالیاں دیتے گندے فعل کرتے ہیں تو یہ اگر آپ کا سلام آپ کو سکھاتا ہے تو آپ کو اپنے اسلام پر غور کرنے کی ضرورت ہے ہمیں تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اسلام کے عاشق اور پیروکار ہے جب یہ سکھاتا ہے کہ اگر دشمن گالی بھی دے تو اس کی گاڑی کو سن کر اس کے لیے دعا کرتے یہ وہ اعلی اخلاق سے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں قائم فرمانے کے لئے آپ شاید بھول گئے ہیں واقعہ جو طائف میں رونما ہوا جب رسول پاک صل وسلم کو اتنے پتھر مارے گئے کہ آپ کا بدلہ وہاں ہوگیا اور خدا تعالی نے جو پہاڑوں کا فرشتہ تھا اس کو حضور صل وسلم کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ اگر محمد مصطفی صلی وسلم چاہیں تو ان پہاڑوں کے درمیان طائف کی بستی کو کچل دیا جائے گا سربراہ کی اجازت دی گئی ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں یہ میری کو جانتی نہیں کہ یہ کیا کر رہے ہیں لیکن ایک دن آئے گا کہ نیک فطرت لوگ اسلام کو قبول کر لیں گے میرے پیغام کو قبول کر لیں گے تو یہی بات ہمارے پیارے آقا حضرت امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا آپ نے فرمایا امروز قوم ناشناس بمقام من وقت اس طرح آج میری قوم میرے پیارے نگران تو نہیں جانتی لیکن ایک دن آئے گا جب میرے وقت تم کو یاد کر کے رویا کرے ہمیں اس دن کا انتظار ہے اور یہ بتاتا چلوں کہ لاکھوں کی تعداد میں ہر سال آپ ہی میں سے لوگ نکل کے ہمارے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں یہ ہے صداقت امام مہدی و مسیح موعود علیہ السلام کی بہت بڑی دلیل نہیں پیاز کے پروگرام کو ختم کرتے ہیں درود شریف کے ساتھ اللہ ہمہ صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم وعلی ال محمد کمابارکت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم

 70 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: