“Twafa” ka asal mafhoom “Wafat” توفٰی کا اصل مطلب وفات ۔ قرآن و حدیث سے ثبوت




“Twafa” ka asal mafhoom “Wafat” توفٰی کا اصل مطلب وفات ۔ قرآن و حدیث سے ثبوت

Apr 6, 2021

پھول عزم بسم اللہ الرحمن الرحیم علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ناظرین کرام حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے ان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جوابات کا سلسلہ جاری ہے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الصلاۃ والسلام کا فوت ہونا لیٹر دلائل سے اپنی کتابوں میں درج فرمایا ہے ایک دلیل قرآن کریم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دی قرآن کی آیت نمبر 56 ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم عیسیٰ انی متوفیک کا مرغیوں کا علیہ قصہ وفات دوں گا اور اپنی طرف تیرا پروگرام میں جواب دینے کے لیے محترم مولانا حاجی چودھری صاحب آگے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ قاری صاحب جو لفظ ہے متوفیکا جی اس کے موسی علیہ السلام نے وفات یا قتل کئے تھے مگر مخالفین کہتے ہیں کہ آپ کا ترجمہ غلط کرتے ہیں اور اپنا عقیدہ بھی بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو چمکا آسمان پر زندہ اٹھالیا مؤلف کا خاص طور پر ترجمہ کرتے ہیں اپنی طرف اٹھا لینا آپ نے یہ اور دلیل کے طور پر وہ براہ لیا جس میں ہم آج کل بات کر رہے ہیں پیش کرتے ہیں جس میں اسلام نے انہیں متوفیکا کہ جو مال کی ہیں وہ خود میں ایک جگہ ذرا فرمایا کہ میں تو اس کو خود ہی نام دوں گا مہنگائی کے دور میں اسی کا ترجمہ کیا دنیا سے منکر ہو اور پھر اسی نوعیت کا ترجمہ مکتوبات احمد میں ہے کے میں تیرے پے اہتمام مت کروں گا مجھے زیادہ میں کیا نظر آتا ہے یہ تضاد نہیں ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم و علی عبدالمسیح مود یہ ایک مروجہ ترجمہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنا یا اپنی کتاب معرکہ آرا کتاب براہین احمدیہ پہلے ذکر ہو چکا ہے انعام دیا اٹھارہ سو بیاسی سے لے کر 884 مرتب ہوئے اس کے حصے تو ایک مکتوبی 1883 کا ہے یعنی اسی عرصے کا یہ تو اس میں جو مروجہ ترجمہ تھا جو علماء کرتے تھے یا وہ منع کرتے تھے جو بھی تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے رسماً لیا ہے اب ان کا خیال یہ ہے کہ اگر وہ ترجمہ حضرت موسی علیہ السلام نے غلط لیا ہے اور وہ ترجمہ غلط تھا تو عمران آسی صاحب اچھی بات ہے اور اگر حضرت مسیح موعود یعنی ان کا خیال یہ ہے مطالبہ یہ لگتا ہے اس کے اندر اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اسی ترجمے کو اپنا ہی رکھتے جو غلط تھا یہ مان لیتے زہری نبی تو ایسا نہیں ہوتا اگر تو یہ انبیاء کی جو باتیں ہوتی ہیں یا ان کے جو تعلیمات ہوتی ہیں ان میں یہ ارتقائی کے جاتے ہیں کا سفر کرتے ہیں محمد الصلاۃ والسلام جب راہی مرتب فرمائی تو بیچارے سے تو یہ پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ اس وقت آپ مامور نہیں تھے اور نہ آپ مسیحیت اور مہدویت کے منصب پر فائز تھے نہ ہی اللہ تعالی نے آپ کو رسول اکرم صلی اللہ وسلم کی وجہ سے امت نبی قرار دیا تھا وہ ترجمہ جو تھا وہ نہیں تھا جو ہوتا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے بارے میں کئی دفعہ وضاحت فرمائی ہے اور ہم پہلے پروگراموں میں بھی وہ بیان کر چکے ہیں یہ خاص طور پر میں اس پہلو سے بھی اور حوالے پیش کر دیتا ہوں یہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جو 1905 میں لکھی گئی بات ہے یاد رہے کہ ابراہیم اتحیات کا ترجمہ ہے وہ 22 قبل از وقت ہونے کے کسی جگہ مجمل ہے ضبط ہونے کے اور کسی جگہ کلیرنگ کے لحاظ سے کوئی لفظ حقیقت سے پھیر آگیا ہے حقیقت سے پھر آ گیا ہے تو وہ حقیقت نہیں تھی صرف انہیں ظاہر کیا گیا ہے عورتوں کے اسلامی نام ہی موجود ہے اس کے چاہیے کہ کسی ایسی تاویل کی پرواہ نہ کریں یہ عزم اسلام نے یا معذرت کے طور پر پیش ہونا نہ کریں وہ درست نہیں تھا پڑھنے والوں کو چاہیے کہ کسی ایسی تاویل کی پرواہ نہ کریں جو پیشگوئی کے ظہور سے پہلے کی گئی ہو اجتہادی غلطی سمجھ لے پیشگوئی کی حقیقی تفسیر کا وہ وقت ہوتا ہے جس وقت وہ پیشگوئی ظاہر ہو اور ہاں یہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 93 اور پھر اس اردو میں تینوں میں آپ نے بیان فرمایا خدا نے براہین احمدیہ کے وقت میں اس سے مخفی کی مجھے خبر نہ دی توثیق حالانکہ وہ سب خدا کی وحی جو اس راز پر مشتمل تھی میرے پر نازل ہوئی اور براہین میں درج ہوئی مگر مجھے اس کے مانو اور اس دھرتی پر اطلاع نہ دی گئی واسطے میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا مسلمانوں کا رسمی عقیدہ لکھتے ہیں میری سادگی اورعدم بناوٹ پر وہ گواہ ہوں لکھنا جو الہامی نہ تھا محض رسمی تھا یہ قابل استناد نہیں کیونکہ مجھے خود بخود غیب کا دعوی نہیں تو یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وضاحت فرمائیں اب یہ جو ہوتی ہیں کہ نبی نے کچھ بات کہہ دی اور وہ نہیں کر سکتا یہ تو منکروں کا وطیرہ ہے ان کی عادت ہے جبکہ نبی خود ایک سادگی کے ساتھ جب بھی ہوتا ہے اپنی غلطی کو دور کرتا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بی رحمان بابا شیرون سروں کو کمار سانو سونا ہو جس طرح تم اور یہ عنصر وسلم کی زندگی کا اگر مطالعہ کریں تو کئی مواقع پر ایسا ہوا ہے جو جادو والے ہیں روایت ہے اس میں بھی ایسا ہوتا ہے بھول جاتے تھے اور اسی طرح اور جگہوں پر بھی بخاری کتاب الصلاۃ باب توجہ ناول کے بھلا اس میں یہ روایت ہے کہ ہمارا مانا باہر کام آتا ہے مجھ کو تم بولتے ہو اس طرح میں بھی اور یہ جو کہنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پہلے غلط لکھا تھا اور پھر اس کو درست کیوں کیا یہ درست بات نہیں ہے جو ہوتے ہیں ان کا ایک عام سنت ہے اللہ تعالی ماموں نہیں فرماتا اس وقت وہ پہلے انبیاء کی امتوں کے ساتھ مل کر چلتے ہیں ان کے رسم و رواج تعلیم وغیرہ وہ سر یا رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے بارے میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ا یہ بو فقط اہل کتاب ہے فیملی میں ومربی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب سے موافقت فرمایا کرتے تھے موسم کے بارے میں جن کے بارے میں آپ پر حکمران نہیں ہوتا تھا ان تعلیمات کے بارے میں جن کے بارے میں آپ پر تعلیم نازل نہیں ہوتی تھی یہ مسلم کتاب الفضائل باب وسدے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شاعری تو ان کے اپنے عقائد میں یہ موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ان نام انہوں شناختی اسی میں ایک بشر ہوں اور میں خطاب نہیں کرتا ہوں اور سے پاس کرتا ہوں خدا کرتا ہوں اور اکثر ٹھیک ہوتا لیکن ساتھ یہ بات کئی ماہ دستوں کو مان اللٰہ سبحان ہو واقعہ کہ جو میں اللہ تعالی کی طرف سے کہتا ہوں وہ حق ہے مما کل تو کیبل نفسی جو میں اپنی طرف سے کہوں بات نہ ماننا تو اس میں غلطی والی بات نبی کے لیے اس کی حیثیت نہیں ہوتی جب اللہ تعالی اپنے منشا سے اس پر سربستہ راز کسی بھی عمر کے بارے میں کون سا ہے تو وہ اپنے پرانے عمل کو منسوخ کرکے نئے کی طرف آ جاتا ہے حضرت سے انسان بالکل ہم نے پہلے پروگرام میں تفصیل سے اس کو بیان کیا ہے یہ بات ہے توفیقی صوفی قرآن کریم میں یعنی یہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے ٹھیک ہے پورا پورا لے لینا پورا پورا دے دینا درست نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم میں توفی کا لفظ انی متوفیک عاصم آگے سے اس باب میں اور اس منظر میں خدا فائل ہے اور بندہ مفہوم ہے اس میں دو آیات حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں ہے 28 جو ہے ان میں سب مایا ہے ٹھیک ٹھیک ہے تو یہ 25 اکتوبر کو کہا کریں گے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے 22 آیت رسول السلام علیکم صائمہ نورین کا بازار ہوں اور طوفان کا وہاں نہیں کہتے کہ انسان وسلم کو پورا پورا اللہ تعالیٰ اٹھا لے گا اور باقی جگہ بھی درگاہ یا طوفان موت تو وہ عورت جن کو الگ ہو جاتی ہے اللہ تعالی ان کو پورا پورا اٹھا لیتا ہے تو آج یہ جو باتیں ہیں یہ درست نہیں ہے قرآن کریم کے منشا کے اس کے حقیقی معنوں کے اور مقصد کے خلاف ہے تو اس کا معنی یہ کرنا کے پورا پورا اٹھا لیا یہ لفظ سینکڑوں دفعہ آیا ہے سینکڑوں دفعہ کہ اللہ فائل ہی بند ہم پھول ہیں اور باب تفاعل میں ہے معنی قبض روح مانا موت سینکڑوں دفعہ بار بار دیکھیں گے جیسے مرض میں عظمت صلی علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی مرضی طوفاں کتاب الجنائز میرے لیے وہاں بھی بیسیوں دفعہ یہ تو اس کا لفظ ہوتا ہے اور کسی جگہ آپ بھی عمل یہ ہے جس کے پاس زیادہ ہوتی ہے یا وراثت کی تقسیم و طوفاں لیتے ہیں یہ ہماری کتابوں پر جو بزرگوں نے لکھی ہیں ایمان نے لکھی ہیں ان میں المتوفیٰ لکھا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ آسمان پر لے گیا مطلب یہ ہے کہ معنی جھوٹا ہے کتنے ائمہ نے یعنی صحابہ نے یا نہیں فکر اسلامی کی خود بول رہا ہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس نے پورا پورا لینے کیا اور یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہیں دیا کے اگر یہ توفی کا لفظ باب تفاعل میں ہو اللہ فائز ہوں بندہ ماحول ہوں ہیرو کو یو وہ محفل ہو اور وہ رات اور نیند کا قرینہ نہ ہو تو سوئم نے قبضہ کرکے وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں ایک ہزار روپے کا چالان دیا ہے اس موقع پر پیش کیا جائے گا اب مصر ہے وہاں کا یونیورسٹی کے مفتی ہیں وائس چانسلر ہیں یا مصر کے مفتی ہیں ان میں استاد محمود سلطان مراد آبادی استاد احمد الجواسیس استاد عبد الوہاب النجار علامہ رشید رضا مفتی محمد عبدہ و غیرہ چند سال ہوئے ہیں پندرہ بیس سالہ سادہ مطلبی تھے رات کے ساتھ کئی ملکوں کی یونیورسٹی میں آگ لگ گئی ہیں اور توصیف کے معنی موت کے کیے تجھے ایک نبی کی اس مامور من اللہ کے جس کو اللہ تعالی نے مسیح اور مہدی بنا کر بھیجا اس کے قائم کردہ معنوں کو جھٹلانے کے لیے ایک ضد ہے اس کے علاوہ کوئی نہیں جو کہتے ہیں کہ توفی کے معنی ہے بلکہ پورا پورا لینے کے میں حضرت نوح علیہ السلام کا چیلنج جو ہے وہ بھی پڑھ دیتا ہوں خواب میں یہ فرمایا بعض علماء وقت بعض علمائے وقت کو اس بات پر سخت گلو ہے ابن مریم فوت نہیں ہوا آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور حیات جسمانی دنیاوی کے ساتھ آسمان پر موجود ہے اور نہایت باقی اور خیرات کسے کہتے ہیں صوفی کا لفظ قرآن کریم میں حضرت مسیح کی نسبت آیا ہے اس کے معنی وفات دینا نہیں ہے بلکہ پورا لینا ہے یعنی یہ کہ روح کے ساتھ جسم کو بھی لے لینا اگر ایسے میں نے کرنا ان کا سراسر اترا ہے قرآن کریم کا عموم التزام کے ساتھ اس لفظ کے بارے میں یہ محاورہ ہے کہ وہ لفظ قبضہ روح اور مادے دینے کے معنوں پر ہر ایک جگہ اس کو استعمال کرتا ہے کریم اور تمام حدیثوں کے میں اقوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پایا جاتا ہے دنیا میں عرب کا جزیرہ آباد ہوا ہے اور زبان عربی جاری ہوئی ہے یہ قدیم یا جدید سے ثابت نہیں ہوتا کہ توسی کا لفظ کبھی قبض جسم کے مثبت استعمال کیا گیا ہو یہ دیکھو کتنا اس میں جلال ہے اس بھارت میں اور کوئی اس کے آگے نہیں ٹھہر سکتا ہے سوائے اس کے کہ وہ مل کرو بلکہ جہاں کہیں توفی کے لفظ کو خدا تعالی کا فرق ہرا کر انسان کے مثبت استعمال کیا گیا ہے وہ صرف وفات دینے اور قبضہ گروہ کے معنی میں آیا ہے پاکستان کے معنوں میں کوئی کتا بلوغت کی کوئی کتاب لغت کے اس کے مخالف نہیں کوئی مثل اور قول اہل زبان کا اس کے بغیر نہیں یعنی اس سے غیر نہیں غرض ایک ذرہ احتمال مخالف کے گنجائش نہیں اگر کوئی شخص قرآن کریم یا کسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا اشعار و قصائد و نظم و نثر قدیم و جدید عرب سے ثبوت پیش کریں کہ کسی جگہ توفی کا لفظ مطالعہ کا فیل ہونے کی حالت میں جو ذی روح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بزنس قبضہ ہو اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پا گیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہٗ کی قسم کھا کر میں اللہ جلاشانہ ہو کی قسم کھا کر اقرار کرتا ہوں کیسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا اس کی کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کر لوں گا محمد صفحہ 603 روحانی خزائن جلد 3 کون سا چاند کے سامنے 18 ہے یا پھر سکتا ہے ایک دنیا ہے جو ادھر ہی رٹ لگائی ہوئی ہے آنکھوں میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ پیغام دینا چاہتا ہوں آپ فرماتے ہیں یا حسرۃ علی العباد ما یاتیھم من رسول اللہ کا نبی اللہ کہ اس کا ترجمہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ حسرت ہے مجھے بندوں پر کہ جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو اس کا احساس تو ہمارے پاس خدا کی طرف سے یہ نشانی ہے کہ ہر ایک نبی سے اکٹھا کیا جاتا ہے آدمی جو تمام لوگوں کے روبرو آسمان سے اترے اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں ٹھا کرے گا دلیل سے بھی عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا آسمان سے اترنا محض جھوٹا خیال ہے یاد رکھو کے کوئی آسمان سے نہیں یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا ہمارے سب مخالف جواب زندہ ہیں زندہ موجود ہیں وہ تمام رہیں گے اور کوئی ان میں سے عیسیٰ بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا مامور من اللہ کی آواز ہے اس شخص کی آواز جس کی زبان سے خدا بول رہا ہے یہ خدا کی طرف سے پیش گوئی تھی سر چڑھ کر بول رہی ہے جادو کی طرح سر چڑھ کر بولے ہاں فرماتے ہیں ہمارے ساتھ مخالف جواب زندہ موجود ہیں وہ تمام ماریں گے اور کوئی ان میں سے اس ابن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مارے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی اس ابن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اولاد کی اولاد ملے گی اور وہ بھی مریم کے آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی دعا ان کے دلوں میں گھبراہٹ پر گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غریبوں کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آ گئی مگر مریم کا بیٹا ایسا اب تک آسمان سے نہ اترا ایک دفعہ ایسا عقیدہ سے بیزار ہوجائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ ایسا کا انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومی اور بد دل ہوکر جھوٹ عقیدے کو چھوڑ دیں گے نیکی مذہبوں کا ایک پیشوا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام پر مائع میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں میرے ہاتھ سے وہ کھویا گیا اور اب وہ پڑھے گا اور بولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے شہادت ہے فرسٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس پیشگوئی سے نسل آگے گزر چکی ہیں تین کے بجائے پانچویں چھٹی نسل جارہی ہے کسی نے مسیح کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھا مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اترتے کوئی نہیں دیکھ سکتا لیکن دوسری طرف ہم یہ نظارہ بھی دیکھتے ہیں قدر الصلاۃ والسلام نے جو بیج بویا تھا وہ ساری دنیا میں پھیل رہا ہے اور کثرت کے ساتھ پھیل رہا ہے دوسری طرف ان کے علماء پڑھے لکھے الاماں یوٹیوب پر نظر آتے ہیں جو کہتے ہیں تو وفا کے معنی موت دینے کے ہیں خدا کا خوف کرو تو یہ بھی کر رہے ہیں کہ خدا کا خوف کرو اور صحیح معنے کرو یہ خدا کی تقدیر ہے جو نافذ ہو کر رہے گی اس گمراہ اور نور محمدی کی وجہ سے بجلی پیدا ہوئی ہے جو ان کے اپنے عقیدوں سے تو ہر وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اعتراض کرتا ہے اس پہلو سے میں اس کی خدمت میں یہ عرض کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے کے علاوہ ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں کو قبول کرو وہ راہ نجات ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے در سے انسان کو خدا تک پہنچاتی ہے جنتوں کی وارث کرتی ہے یہ وہ مسئلہ ہے جس کو قبول کرنا ہے ان کے لئے بھی جنہوں نے ان کو مانا اور وہ ان کے لئے بھی جنہوں نے ان کو نہیں مانا کوئی راہ نہیں آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین جزاک اللہ حاجی صاحب اللہ تعالیٰ کے نام نعت سید ناظم حسین علیہ السلام کی کتب پر ان کا سلسلہ بھی جاری ہے ان شاء اللہ اگلے پروگرام میں جو آخرت میں حاضر ہوں گے السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صفدر بہوت احمدیہ مسلم جماعت اسلامی تحریک

#TrueIslam#Islam#Messiah#Islam#Ahmadiyyat#Jesus#Urdu اس ویڈیو میں لفظ توفی پر دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ اس کے معانی وفات یافتہ اور موت کے ثابت کئے گئے ہیں۔ اہلِ علم اور حق کے متلاشی اس ویڈیو کے ذریعہ حضرت مسیح موعودؑ کے کئے معانی کی حکمت سے آگاہ ہوں گے اور ساتھ ہی اس غلط فہمی اور الزام کا بھی جواب ملے گا جو مخالفین کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی کتب میں دو علیحدہ معانی کئے ہیں۔ تمام حوالہ جات اس ویڈیو میں پیش کئے گئے ہیں، نیز ہماری ویب سائٹ www.TrueIslam.ca پر بھی موجود ہیں۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے بیان کردہ اصول کی 4 شرائط یہ ہیں۔ 1۔ خدا تعالیٰ فاعل ہو2۔ ذی روح (انسان) مفعول ہو3۔ و ف یٰ کا باب تفعل ہو4۔ نوم اور لیل کا قرینہ موجود نہ ہو لفظ’ توفی‘ قرآنِ کریم میں 25 مرتبہ آیا ہے اور ایک ہی معانی میں استعمال ہوا ہے! حدیث: عبداللہ ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے نماز پڑھی، ابراہیم (اِس حدیث کے ایک راوی) کہتے ہیں مُجھے یاد نہیں کہ آپؐ نے اِس میں کُچھ کمی بیشی کر دی، جب سلام پھیرا تو لوگوں نے عرض کیا کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا؟ آپؐ نے فرمایا کیا ہوا؟ کہا گیا کہ آپؐ نے اتنی رکعتیں پڑھیں، یہ سُن کر آپؐ اپنے پاوْں پھیر کر قبلہ رُو ہو گئے اور دو سجدے کئے۔ پِھر ہماری طرگ متوجہ ہو کر فرمایا اگر نماز میں نیا حکم ہوتا تو میں تمھیں بتا دیتا ، میں بھی تمھاری طرح انسان ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں، لہٰذا جب مُجھ سے سہو ہو جائے تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور جب تم میں سے کسی شخص کو اپنی نماز میں شک پڑ جائے تو اِسے درست کرنے کی کوشش کرے اور اُسی پر نماز ختم کرے، پِھر سلام پھیر کر (سہو کے) دو سجدے کر لے۔ صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب التوجہ نحو القبلہ صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري, حقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي – الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي. فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية، القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427هـ. وقالت عائشة رضي الله عنها: كان إذا اشتكى نفث على نفسه بالمعوذات ومسح عنه بيده، فلما اشتكى وجعه الذي توفي فيه طفقت أنفث على نفسه بالمعوذات التي كان ينفث، وأمسح بيد النبي صلى الله عليه وسلم عنه. [البخاري (4439)، مسلم (2192)]. عن أم سلمة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول في مرضه الذي توفي فيه: ((الصلاةَ وما ملكت أيمانكم))، فما زال يقولها حتى ما يفيض بها لسانه. [ابن ماجه (1625)]. عن أنس بن مالك الأنصاري أن أبا بكر كان يصلي لهم في وجع النبي صلى الله عليه وسلم الذي توفي فيه، حتى إذا كان يوم الاثنين وهم صفوف في الصلاة، فكشف النبي صلى الله عليه وسلم ستر الحجرة ينظر إلينا، وهو قائم كأن وجهه ورقة مصحف، ثم تبسم يضحك، فهممنا أن نفتتن من الفرح برؤية النبي صلى الله عليه وسلم، فنكص أبو بكر على عقبيه ليصل الصف، وظن أن النبي صلى الله عليه وسلم خارج إلى الصلاة، فأشار إلينا النبي صلى الله عليه وسلم أن أتموا صلاتكم وأرخى الستر، فتوفي من يومه. [البخاري (680)، مسلم (419)]، وفي رواية أخرى: وتوفي من آخر ذلك اليوم. [البخاري (754)].SHOW LESSAllLiveRecently uploadedWatched

 57 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: