Ibn Maryam – Muqam Maryami say Muqam Esa tak – ابنِ مریم ؛ مقامِ مریمیت سے مقامِ عیسویت تک




Ibn Maryam – Muqam Maryami say Muqam Esa tak – ابنِ مریم ؛ مقامِ مریمیت سے مقامِ عیسویت تک

Apr 13, 2021

پھول الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اکرام سیدنا حضرت موسی الصلاۃ والسلام کی کتابوں پر کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جوابات کا سلسلہ جاری ہے اعراب کے ساتھ محترم مولانا حنیف چودھری صاحب اسٹوڈیو میں تشریف فرما ہیں انشاءاللہ آپ کے اعتراضات کے جواب دیں گے اہم بادشاہ براہین احمدیہ پر ہمارے پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے آج میں آپ کے سامنے پیش کرنے جا رہا ہوں اس پر مخالفین کی طرف سے ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کا ایک انعام ابراہیم احمدیہ میں شامل ہے مجھے مریم سکون تا وضو چلڈرن اسلام کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کشتیوں میں بھی فرمائی ہے مجھے جو لمبی عبارت ہے جس میں سے جوائن حصہ ہے وہ یہ بنتا ہے کہ میری عیسوی حیثیت اپنی حیثیت میں خدا کے نفس سے نفس مجھے پھر آگے کہتے ہیں خدا نے مجھے مریم سے ایسا بنایا دے اس بارے میں ہمارے مخالفین کو کچھ زیب ایک یہ جو آپ نے بات کی تھی نہ شروع میں کہ طوفان بدتمیزی کیا ہوا ہے یہ ابھی پتہ چلے گا کہ کس وقت میں یہ اعتراض کرنا بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم و علی عبدالمسیح مود یہ جو مریم سے حصہ بننا ایک قانون ہے اللہ تعالی کا جو خالص طن خالصتن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور تاثیر رحمانیہ کا نتیجہ ہے اور اس کا جو وہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں سورۃ تحریم کے آخری دو آیات میں بیان فرمایا اس سے پہلے جو آیا تھا اس میں دو کافر عورتوں کی مثال دی ہے ان دو آیات میں دو مومن عورتوں کی مثال دی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے اور باللہ من الشیطان الرجیم اللھم صلی علی سیدنا عمر عطا فرمانا عربی بن علی رضا کا بیان توکل جنتی ورجینیا من فرعون وعملہ ہیں ونجینہ من القوم الظالمین شکریہ جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی مثال دی ہے اور اللہ نے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے پھر ان کی بیوی کی مثال دی ہے کہا ہے میرے رب میرے لیے اپنے حضور جنت میں گھر بنا دے اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا لیں اور مجھے ان لوگوں سے نجات دی یہ لیا تھا اور اس میں مومنوں کی مثال ایک عورت سے دی ہے دوسری جو اگلی آیت ہے اور یہ سورت تحریم کی آخری آیت ہے وہ مریم ابنت عمران وہی کی مثال دوسری عورت ومریم ابنۃ عمران اللہ کی اس نعمت پر جہاں وفا خان فنا فی ہے میں روہینا وصدقت بکلمات ربہا کانت من القانتین اور مریم کی بیٹی اور عمران کی بیٹی مریم کی مثال دی ہے جس نے اپنی قسمت کو رکھا پلے اس بچے میں اپنی ویسے کچھ پھونکا اس کی ماں بچے میں بچے بریکٹ میں ہے اس کی ماں نے اپنے رب کے کلمات کی تصدیق کی اور اس کی کتابوں کی بھی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی اب یہ جو یہاں پہ اللہ تعالی نے امت مسلمہ کے لیے ایک خاص روحانی کا الزام دیا ہے حیات میں اور حضرت مریم علیہ السلام کا ذکر آتا ہے سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر 92 میں وہ انفکشن فیہ من روحنا ہے یہاں فنفخنا فیہ من روحنا یہ مذکر کی علامت ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ مومنوں کی دو عورتوں سے کسی چیز کی کسی سے بھی دی جاسکتی ہے ٹھیک ہے نہ انسان کی جانور بھی امن شہاب الدین سہروردی کا پڑھا تھا شیطان سراج الحق خیر ملک کی اور آدمی کی اور اس طرح دی جاتی ہے یہاں مومنوں کی مثال جو ہے وہ غلط دی اور نفل فی ہے اور وہ نعوذ بکلمات ربہا یہاں وہ پھر وہ جو مریم ہے مقام وامہ صدیقہ نہ مریم تھی وہ حضرت عیسیٰ کی ماں ہیں تو وہ صدقہ کے طور پر وہ انہوں نے اپنے رب کے کلمات کو ثابت کیا یہ عورت ہے وقار اطمینان کا روح اور جسم کو کال تو میں تھی مردوں میں تھی وہ مرد جو ہے وہ منفی ہے میں آجاتا ہے کہ اس سے جب ایک روحانی ولادت ہوتی ہے تو وہ بچہ جو ہے وہ ایسا ہے رومن مسیحا بنا ابن مریم الا رسول صدیقہ ذرا اس کے بعد کل اس کے بعد جو ہے وہ محمد صدیق تو یہ مریم کا بیٹا جو مقام صدیقیت سے مقام نبوت کی طرف جاتا ہے وہ حصہ ہے افغانی ولادت ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جب مریم قرار دیا اللہ تعالی نے تو آپ نے اس کی وضاحت فرمائیں پہلے انبیاء میں بھی اس کی تفصیل موجود ہے مگر براہین احمدیہ کے حوالے ساتھ موجود ہیں اس لیے یہ ایک بار کافی ہے اس کے لئے وہ بھارت میں برطانوی مصنف نے خود اس کی کیا ہے اب یہ آیت ذہن میں رہنی چاہیے کہ کس طرح اللہ تعالی قانون کو کہ مری حالت سے ایسی حالت کی طرف کیسے حضور لکھتے ہیں کشتی علوم میں یہ انیسویں جلد روحانی خزائن کی صفحہ 48 کسی کی طرف نزول فرماتے ہیں سحری میں بھی اشارہ کیا ہے کہ بعض افراد اور کیا ہے کہ وہ مریم صدیقہ یاد رکھیں گے جس نے پارسائی اختیار کی طلب اس کے رحم میں ایسا کی روح پھونکی گئی اور ایسی اس سے پیدا ہوا اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس امت میں ایک شخص ہوگا کہ پہلے مریم کا رقبہ اس کو ملے گا پھر اس میں ایسی کی روح پھونکی جائے گی تم میری ممی سے ایسی نکل آئے گا یہ صفات سے عیسوی صفات کی طرف منتقل ہو جائے گا پہلے کسی فتنے کسی فتنے ایسی ہونے کا بچہ دیا آتی ہے سارا وہاں پر وہ ابن مریم کہلائے گا یہ صفات حضرت سیدہ لکھا ہوا صفات ہے کوئی فزیکل اور ظاہری چیز نہیں ہے جیسا کہ براہین احمدیہ میں اور میرا نام مریم رکھا گیا اور اسی کی طرف اشارہ ہے الہام 02 اور وہ یہ ہے کہ ان الاکا ہذا اگر یہ مریم عورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں جو ہونا تھا اسلام کو اللہ تعالی مریم بنا رہا ہے علاقہ ہذا العام میں یعنی ہے مریم تو نے یہ نام کہاں سے پائی اور اسی کی طرف اشارہ ہے صفحہ 226 میں یعنی اس الہام میں کہہ زالہ کے حفظہ اللہ کا بی بی سی زندہ جلاتے غزالہ کے بھی زندہ ہے یہاں ذکر کے لئے جان یہ مریم کھجور کے تنے کو بلا ون خلافی ہے اس میں ہے وہ مذکر والا سارا ہے پھر اس کے بعد 496 براہین احمدیہ میں یہ ہمیں یا مریم سکرانۃ عزوجل جنتا نفت توفیق ملنا جانی ہے مریم تو ماں اپنے دوستوں کے بہشت میں داخل ہوں میں تجھ میں اپنے پاس سے صدقے کی روح پھونک دی میں نے اپنے پاس سے کھولیں خدا نے اس آیت میں میرا نام رہو روح حق اس عید کے موقع پر ہے کہ نفی ہے مل رہے نا نفخت فیہ من روحی استخارہ کے رنگ میں استعارہ ہے صفاتی تھا جہاں بات بالکل واضح ہے انہیں ظاہری ہے نی اس جگہ گویا استخارہ کے رنگ میں مریم کے پیٹ میں حصہ کی روح جا پڑی جس کا نام روح سندھ ہے کیا کر صفح 556 ابراہیم دیا میں وہ ایسی پیٹ میں تھا اس کے پیدا ہونے کے بارے میں یہ الہام ہوا یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی حاج الذین اتبعوک آپ کو کالا کافر جزاک اللہ اب بھی اور پڑھنے کی عادت بھی ہے میں جگہ میرا نام رکھا گیا اور اسے الہام نے ظاہر کیا کہ وہ ایسا پیدا ہوگیا خان آف جس کی روح کا نفس چھیانوے میں ظاہر کیا گیا تھا اس عرصے میں اس ابن مریم کہلایا کسی ایسی تمری میں ہے سب خدا کے نفس سے پیدا ہوئی کافی ہے نا وہ خدا کا خوف ہے ظاہری بات نہیں ہے دیکھو صفحہ 466 556 پرائم دیا اور اسی واقعہ کی صورت تحریر میں بطور پیش گوئی کمال تسلی سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسی بن مریم اس امت میں اس امت میں اس طرح فرد اس امت کا مریم بنایا جائے گا اور پھر بعد اس کے اس مریم میں ایسا کی روح پھونک دی جائے گی مری میت کی کے رحم میں ایک مدت تک پرورش پا کر میں تولد پائے گا سر وہ عیسیٰ بن مریم کہلائے گا یہ وہ خبر محمدی ابن مریم کے بارے میں ہے جو قرآن شریف یعنی سورۃ تحریم میں اس زمانہ سے تیرہ سو برس پہلے بیان کی گئی ہے انعام دیا میں سورۃ اتاریا تحریم کی آیات کی تفسیر فرمادیا قرآن شریف موجود ہیں ایک طرف قرآن شریف کو اور ایک سربراہ نے انڈیا کو انصاف اور عقل اور تقوی سے سوچو کہ وہ پیشگوئی جو سورۃ التحریم میں تھی یعنی یہ کہ اس امت میں بھی کوئی فرد مریم کہلائے گا اور پھر مریم سے ایسے بنایا جائے گا گویا اس میں سے اس میں سے پیدا کی سرنگ میں براہین احمدیہ کے الہامات سے پوری ہوئی کیا یہ انسان کی قدرت ہے کیا یہ میرے اختیار میں تھا اور کیا میں اس وقت موجود تھا جب کہ قرآن شریف نازل ہو رہا تھا تاہم یہ عرض کرتا کہ مجھے ابن مریم بنانے کے لیے کوئی اور اس پر اور اس اعتراض سے مجھے سب دوست کیا جائے مریم کہاں جائے کیا آج سے بیس بائیس برس پہلے بلکہ اس سے بھی زیادہ میری طرف سے صبح ہوسکتا تھا کہ میں اپنی طرف سے الہام تراش کر نام مریم رکھا اور پھر آگے چل کر اس طرح کے طور پر یہ امن آتا کہ پہلے زمانہ کی مریم کی طرح مجھ میں بھی ایسا کرو پھونکی گئی ہے اور پھر آخر کار صفحہ 55 براہین احمدیہ میں یہ لکھ دیں تاکہ میں مریم میں سے ایسی بن گیا ہوں اور کرو خدا سے ڈرو ہر گئی یہ انسان یہ باریک اور امی کا حکمت انسان کے فہم اور کیا سے بالاتر ہے دنیا کی تاریخ کے وقت جس پر ایک زمانہ گزر گیا مجھے اس منصوبے کا خیال ہوتا تو میں اسی براہین احمدیہ میں یہ کیوں لکھا تھا کہ یہ مسیح ابن مریم آسمان سے دوبارہ آئے گا وہ سادگی ہے اور جو بناوٹ کے بغیر خالص پن خدا جانتا تھا کہ اس نکتے پر پھر میں بھی ہو جائے گی اس لیے وہ اپنے براہین احمدیہ کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا پھر جیسا کہ برائے مہربانی اس سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیۃ میں میں نے پرورش پائی اور پردے میں نشونما پاتا اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ ابراہیم قصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے مریم کی طرح ایسی کرو مجھ میں نفاق کی گئی اور اس تیاری کے رنگ میں یہاں تک کہ پھر بار بار ضرور بیان کرتے ہیں کہ یہ ظاہر اور اس طرح کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے مجھے مریم سے حصہ بنایا گیا اس عرصے میں ابن مریم خیرا اور خدا نے براہین احمدیہ کے وقت میں کہ مجھے خبر نہ دی حالانکہ وہ سب خدا کی وحی کے وہ سب خدا کی وحی جو اثرات پر مشتمل تھی میرے پر نازل ہوئی اور براہین میں درج ہیں مگر مجھے اس کے معنی اور اس کی ترتیب پر اطلاع نہ دی گئی اسی واسطے میں نے مسلمانوں کا رس میں قید براہین احمدیہ لکھ دیا ایکسٹرا نامحرم سے محمد علیہ الصلاۃ والسلام مخالفین پڑھنا تو ادھر سے تازہ سنائیں کہہ کر اس کا جواب دیا ہوا ہے لیکن بات یہ ہے کہ جس نے مخالفت کرنی ہے اس سے چل رہا ہے تصوف کی کتابوں میں اور رسول کی کتابوں میں یہ بات موجود ہے یہ ولادت معنوی ہوتی ہے عارف المعارف یہ کتاب ہے میرے پاس علامہ اور وردی کی حضرت شہاب الدین سہروردی یہ ادارہ اسلامیات کریں جو ہے وہاں سے میں نے اردو کا ترجمہ کیا فائدہ اس میں ترجمہ بھی نہیں کیا ہوا ہے مگر اصل عبارت جو ہے یوسی اور مریدوں جوش ہے یہ جو اللہ سے مانگی ہے نا اس میں یہ ہوتا ہے کہ جو مریض ہے وہ اپنے شہر کا حصہ بن جاتا ہے آلو علاج والدہ الولادۃ جس طرح ایک ظاہری ولادت میں بچہ اپنے والد کا جو ہوتا ہے وحدت زیرو حاضری ولادت ولادت معنوی کما وادان عیسی علیہ السلام کہتے پھر یہ واقعہ ولادت جو ہے عالمی روحانی میں بھارت کے لاتی ہے جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام سے روایت ہے لایجعلنی جملہ قوت سماعت کا علاج للعمال حقوق سماواتی جو دو دفعہ پیدا نہیں ہوتا وہ آسمانی بادشاہت میں داخل نہیں ہوتا عبدالرشید عدت کیا ہے یہی ہے کہ شیخ اپنے مرشد پاک پر جب انسان روحانی ترقی کرتا ہے جو جعلی پیر ہیں یہ گدی نشین رضی اللہ تعالی کا بندہ ہے وہ پھر ملکوت السموات میں جاتا ہے مگر دوسری پیدائش ہوتی ہے کہتے ہیں بالولادۃ الہی ظہیر الطباعۃ الملک جاھل آدمی تو اس دنیا میں انسان آتا ہے بابہ آزاد تو یہ جو ملازمت معنوی ہے خطبات الملکوت عالم ملکوت میں جاتا ہے وہ پھر دوسرے پر ایسے اور اسی لئے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اللہ کا نور احمد کون امیرالمومنین ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو آسمان اور زمین کی ملکیت سے آگاہی دی تاکہ وہ یقین پائی تو یہ یقین کے مقام تک پہنچنے کے لیے دوسری پیدائش کا ہونا ضروری ہے اور جو دوسری پیدائش جس کی نہیں ہوئی وہ مریمی حالت کو بھی نہیں پہنچا یا نہیں خاصیت نہیں پائی جاتی اب یہ جو ہے حضرت علی مریم سے ایسا ہونا پہلے بھی عرض کیا پروگرام ہے اس کی جو بنیاد ہے وہ سورۃ النساء کی آیت میں تیل اور رسول والی میں بھی ہے کہ انسان مقام صدیقی سے مقام نبوت پر جاتا ہے مقام صدیق جو ہے اس کی ایک شناخت اللہ تعالی نے کوہ صدیق ہمیں دی ہے رجب ولادت آگے جاتی ہے جس کا اس نظام میں سورۃ تحریم کی آخری آیت میں ذکر کیا وہ پھر نبوت میں جاتا ہے اور اسی طرح جس طرح میں نے پہلے بھی عرض کی تھی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی کہا من نمیدانم گرمانی ثانی شدم اور دوسرے حضرت شاہ نیاز بریلوی سمری منم احمد ہاشمی منم جو کہتے ہیں یہ سمری میں ہو جس میں وہ اس مقام سے آگے جاتے ہیں ہوتا ہے کہ اگر وہ مقام نے ایسا ہونے کا دعویٰ کیا ہے نبی کیوں نہیں ہوئی تو نظام چلے ہیں امت میں گھر کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں مقام نبوت دیا جاتا ہے نہ میں نبی نہیں دیا جاتا عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ وہ گوجرانوالہ عثمان نبوت ہے صرف لقب دے دیا گیا ہے نہ میں نبی ہم سے روک لیا گیا ہے تو یہ اس مقام تک تو جاتے ہیں یہ نظام جاری ہے آج بھی جو اپنے مرشد ہیں زمانے کا مرشد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ کا بھیجا ہوا مامور جو ہے اس کے بعد میں داخل ہوکر ایک روحانی علم میں ترقی کرتا ہے تو یقیناً وہ بھی مقام پر پہنچتا ہے اب یہ جو مذاق کرتے ہیں جو بات پہلے آپ نے کی تھی کہ ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے اب دیکھیں یہ کتاب ہے میرے پاس عرفان حضرت قبلہ فقیر نور محمد سروری قادری آخری رحمتہ اللہ علیہ نے غالب جو بندی ہے ان ان کی تصنیف ہے افغانستان والا آئے گا ان کی بات سنیں یہ کتاب دو ہزار بارہ فروری میں شائع ہوئی اور کلاچی ضلع ڈیرہ میں یہ اور رائیونڈ ن رائیونڈ روڈ لاہور میں دربار فیض وغیرہ لکھا ہے اس میں موجود ہے بس میں کیا فرماتے ہیں دیکھیں غور سے سننے والی بات ہے وہ کہتے ہیں جس کی کیفیت یوں تھی یعنی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیات کا بیان کر رہے ہیں کہ جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو کیا کہتی ہیں جس کی کیفیت یوں تھی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود میں تو مذاق نے پھلنے پھولنے کا تقاضہ شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندر نزول وحی کے آثار محسوس کیے مریم کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے باطن میں کی بے واسطہ ثقالت کو معلوم کیا آپ سے مذاق کیا یہ ایک گستاخی ہے یہ قرآن کریم کی تعلیم اس کی آیات کی کھلی خلاف ورزی ہے الموت علیہ الصلوۃ والسلام نے اشتہاری کے رنگ میں کا تعلیم کے حوالے سے بات کی ہے اور اس کا حوالہ دیا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ وسلم پر آکر ہر شاخ پر بیٹھے اس کو کاٹتے ہیں اور جب کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ اس کی زد ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑتی ہے تجھے عرفان کتاب نام بھی عرفان رکھا ہے تو یہ فرانس نے وہ کہتے ہیں یعنی مریم کی طرح آپ نے اپنے باطن میں ہم ملے وہیں کے بیٹے کی بے واسطہ ثقالت کو معلوم کیا اور بمقتضائے فحملتہ فانتبذت بہ حملات ہو یعنی حضرت عیسی کو اپنے عمل میں لے کر ایک دور کے علاقے میں چلی گئی آپ صلی اللہ وسلم نے دشت و بیابان کا رخ کیا اور آبادی سے دور ایک پہاڑ کے غار میں جسے کہتے ہیں جاکر موت کے اور گوشہ نشین ہوگئے اور باطنی تخم کے سیکھنے اور پھوٹنے اور رانیاں کے وضع حمل اور تون ہونے کے انتظار میں بار بار وہاں جایا کرتے تھے اور کئی روز باتیں تو ہم کے سیکھنے اور پھوٹنے اور روحانی آثار کے وضع حمل اور تون ہونے کے انتظار میں بار بار وہاں جایا کرتے تھے فیروز والا پل ابیہا دے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سچ لکھا تھا کہ انہیں بھگا کا نمبر پاک بود لوگوں پر طعنہ زنی کرنا ان پر تالا نہیں ہوتا محبت کے الفاظ جملے ادا نہ کرنے والا خود اپنے آپ کو فائدہ ثابت کرتا ہے بس یہ روحانی علم کی باتیں ہیں قرآن کی باتیں ہیں حقائق و معارف اور کاکوروی جن کے بارے میں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ پہلے واضح کردیا تھا کہ ان کو نہ سمجھنے کی وجہ سے زمانے کے علماء اور ہماری ظواہر اس کو کتاب وسنت کے خلاف جان کر اس کا انکار کریں گے کا جو اعتراض کرتا ہے مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات قرآن کریم کی تعلیمات پر تحقیق کرتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ اللہ نے مریم بنایا سورہ تحریم کے مطابق سورۃ النساء کی آیت ومن یطع اللہ و الرسول کے مطابق آپ کو مقام نبوت پر فائز فرمائے اور اس کے پیچھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی بتا رہے آپ نے کی ہے اور اللہ تعالی نے آپ کو مسیح اور مہدی اور نبوت کے مقام پر کھڑا کیا مالک علیہ وسلم نبوت ہیں سراب ہی ہوتی الحمدللہ رب العالمین جزاک اللہ حاجی صاحب چھالا پروگرام میں ایک نئے انداز کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تب تک کے لئے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صرف دو بہوت

اس ویڈیو میں اُس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جس میں مخالفین بہت رعونت کے ساتھ حضرت مسیحِ موعودؑ کے اس روحانی ارتقا پرجرح کرتے ہیں جس میں آپ کو مریمؑ بنایا گیا، پھر روحانی طور پرآپ کی ابنِ مریم کی طرح پیدائش ہوئی۔ یہ ایک بہت لطیف نکتہ ہے جس کا قرآنِ کریم میں سورۃ تحریم میں ذکر ہے! آیات 11 تا 13 اللہ نے اُن لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کیا نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان کی ہے۔ وہ دونوں ہمارے دو صالح بندوں کے ماتحت تھیں۔ پس ان دونوں نے ان سے خیانت کی تو وہ اُن کو اللہ کی پکڑ سے ذرا بھی بچا نہ سکے اور کہا گیا کہ تم دونوں داخل ہونے والوں کے ساتھ آگ میں داخل ہو جاؤ۔ اوراللہ نے اُن لوگوں کے لئے جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی مثال دی ہے۔ جب اس نے کہا اے میرے ربّ! میرے لئے اپنے حضور جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات بخش۔ اور عمران کی بیٹی مریم کی (مثال دی ہے) جس نے اپنی عصمت کو اچھی طرح بچائے رکھا تو ہم نے اس (بچے) میں اپنی روح میں سے کچھ پھونکا اور اس (کی ماں) نے اپنے ربّ کے کلمات کی تصدیق کی اور اس کی کتابوں کی بھی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔ سورۃ تحریم کی آیات سے ثابت ہوا کہ جس طرح حضرت مریم صدیقہؑ اپنی پاکیزگی کے انتہائی مقام پر پہنچ کر حاملہ ہوئیں اوراس حمل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو خدا کے نبی تھے پیدا ہوئے۔ اسی طرح ایک مومن مرد بھی پہلے مریمی حالت میں ہوتا ہے اور پھر ایک روحانی اور مجازی حمل سے گذرتا ہوا مجازی ’’ابن مریم‘‘ کی ولادت کا باعث ہوتا ہے۔ وہ مومن مرد مجاز اور استعارہ کے رنگ میں ’’مریم‘‘ ہوتا ہے اور مجاز اور استعارہ ہی کے رنگ میں حمل سے گزرتا ہے۔ او رمجاز اور استعارہ ہی کے رنگ میں ’’ابن مریم‘‘ کی ولادت کا باعث ہوتا ہے ۔خد اتعالیٰ نے تمام کافروں اور مومنوں کو چار عورتوں ہی سے تشبیہ دی ہے۔ مرد عورتیں تو نہیں ہاں استعارہ اور مجاز کے رنگ میں ان کو عورتیں قرار دیا گیا ہے۔ یہی و جہ ہے کہ حضرت شیخ فرید الدین عطّار رحمۃ اﷲ علیہ نے حضرت عباسیہ طوسی رحمۃ اﷲ علیہ کا یہ قول نقل کیا ہے ۔ ’’قیامت کے دن جب آواز آئے گی کہ اے مردو! تو مردوں کی صف میں سے سب سے پہلے حضرت مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام کا قدم پڑے گا تذکرۃ الاولیاء ذکر حضرت رابعہ بصری نواں باب صفحہ۵۱شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز لاہور وظہیر الاصفیاء ترجمہ اردو تذکرۃ الاولیاء صفحہ۵ اسی بات کو حضرت حضرت مسیح موعودؑ نے کشتی نوح میں یوں بیان کیا گیا ہے: ’’یعنی وہ مریمی صفات سے عیسوی صفات کی طرف منتقل ہو جائے گا ۔‘‘ کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ۴۸ اس موقعہ پر ’’کشتی نوح‘‘ کی اصل عبارت سیاق وسباق کے ساتھ پڑھنی چاہیے ۔ ۱۴۔روحانی حمل روحانی حمل اور معنوی حمل کے لئے مندرجہ ذیل حوالے یاد رکھنے چاہئیں :۔ ۱۔ ’’اَلْخَوْفُ ذَکَرٌوَالرِّجَاءُ اُنْثٰی مِنْھُمَا یَتَوَلَّدُحَقَائِقُ الْاِیْمَانِ۔ ‘‘ التعرف لمذھب اھل التصوف قولھم فی التقویٰ صفحہ ۹۸ مشہور صوفی حضرت سہل رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ خوف مذکر اور امید مونث ہے اور ان دونوں کے ملنے سے حقائقِ ایمان پیدا ہوتے ہیں۔ ۲۔اسی طرح سے امام الطائفہ الشیخ سہروردی فرماتے ہیں:۔ ’’یَسِیْرُ الْمُرِیْدُ جُزْءَ الشَّیْخِ کَمَا اَنَّ الْوَلَدَ جُزْءُ الْوَالِدِ فِی الْوَلَادَۃِ الطَّبْعِیَّۃِ وَتَصِیْرُ ھٰذِہِ الْوَلاَدَۃُ اٰنِفًا وَّلَادَۃً مَعْنَوِیَّۃً۔ ‘‘عوارف المعارف جلدا صفحہ 96 ۳۔قرآن مجید میں ’’حمل‘‘ کا لفظ خداتعالیٰ کے متعلق بھی ہے۔ فرمایا :۔ (مریم: ۵۹) پھر مومنوں کے متعلق بھی آیا ہے۔ (البقرۃ: ۲۸۷) یہاں ’’حمل‘‘ اٹھانے کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ پس محض لفظ ’’حمل‘‘ پر مذاق اڑانا جائز نہیں ۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے صاف طور پر لکھ دیا ہے :۔ ’’استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا ۔‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۵۰) اور ’’حمل‘‘ کے لفظ سے حقیقی اور عام معنے مراد نہیں لئے گئے بلکہ ’’حاملِ صفتِ عیسوی‘‘ مراد لیا ہے فرمایا:۔ ’’مریمی صفات سے عیسوی صفات کی طرف منتقل ہو جائے گا۔‘‘ کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ۴۸ توپھر اس پر بے وجہ مذاق اڑانا شرافت سے بعید ہے ۔SHOW LESS

 54 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: