𝐖𝐡𝐚𝐭 𝐤𝐢𝐧𝐝 𝐨𝐟 𝐑𝐞𝐯𝐞𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐢𝐬 “𝐀𝐢𝐥𝐢 𝐀𝐚𝐰𝐚𝐬”? (ایلی آوس! ایک بے معنی الہام)




𝐖𝐡𝐚𝐭 𝐤𝐢𝐧𝐝 𝐨𝐟 𝐑𝐞𝐯𝐞𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐢𝐬 “𝐀𝐢𝐥𝐢 𝐀𝐚𝐰𝐚𝐬”? (ایلی آوس! ایک بے معنی الہام)

Jul 30, 2021

پھول اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ وبرکاتہ عراق سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے مخالفین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جوابات لے کر آپ کی خدمت میں ایک دفعہ پھر حاضر ہے سٹوڈیو میں ابصار عبدالوہاب کے ساتھ محترم مولانا حالی چودھری صاحب شامل گو ہوں گے جو ان اعتراضات کے جواب دیں گے حاجی صاحب ایک راجہ قمر الاسلام پر یہ کیا جاتا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ کو بعض ایسے الہام ہوئے انہوں کے معنی تھے یا ان کے الفاظ میں گھومتے ہیں اور جنہیں مرزا صاحب خود نہیں سمجھ سکے ضمن میں ایک الہام ہے جو براہین احمدیہ میں شامل ہے اس کی سہاروں میں صفحہ 618 بنتا ہے مجھے ایک الہام ہے اور اس کے الفاظ ہیں ایلیا ٹھیک علیہ السلام فرماتے ہیں کہ آخری فقرہ اسلام کا یا نیلی اوس سورۃ بروج مرتبہ رہا ہے اور نہ اس کے کچھ مان لے مجھے یہ ایک اعتراض ہے ایک عمومی نوعیت کا ہے لیکن اس کے اندر دراصل دو اعتراض جن کا جواب ضروری ہے ایک یہ کہ کیا یہ اموات بے معنی ہے اگر نہیں تو پھر اس کے معنی کیا بنے گے نمبر دو عمل ہم پر اعتراض وارد ہو سکتا ہے بابا اس صورت برود اس پہ وہ جو اس کی درخواست سمجھ نہ سکے ٹھیک ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم و علی عبدالمسیح مود جو الہام ہے آپ نے براہین احمدیہ صفا 612 اس میں انسان اس سے پہلے بھی یہی ہے نماز کتنی اور یہ عربی طرز پر حضرت عیسی علیہ السلام جس کا اصل تلفظ جو عبرانی میں ہے نمائش سے پاکستانی اس طرح کر کہتے ہیں لے لی اے میرے اللہ اے میرے اللہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اس کے بعد ہی لیا ہے اور جو ہے یہ پرانی کا لفظ ہے لیکن عربی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس اور عبرانی والے اس کو ذرا ہے تھوڑی ہے کی آواز ہے کل یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام عبرانی زبان نہیں جانتے کھانے کو اس کی سمجھ نہیں آئی اس وقت اور روانی ہوتی ہے خدا تعالیٰ کے کلام میں جب وہ اپنے بندوں سے کرتا ہے تو اس میں یہ بھی خطرہ تھا ایک وہ بھی شامل تھا وہ میں نے اس پر اظہار فرمایا اللھم انی اوزبیکا اس صورت میں رہا اور نہ اس سے کچھ مانگ لے نہیں تھا اس لئے وہ اس طرح گیا بات یہ ہے کہ یہ اعتراض کے یہ بے معنی ہے یہ تو اللہ تعالی پر اعتراض ہے کہ کلام اللہ کا ہے اللہ الہام نازل فرما رہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کیسے ہو گیا یا اعتراض اللہ تعالی پر غصہ آتا ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ جب اللہ تعالی کا کلام ہو تو اعتراض اللہ تعالی پر بھی نہیں ہوتا اللہ تعالی پر اعتراض کرتے جھوٹا ہوتا ہے اور دراصل یہ ترعظمت رہی ہے یہ سمجھا تو بے معنی قرار دے دیا جو طرز ہے اس میں دیکھیں گے ہمیشہ چلتے ہیں اگر نام بدلتے ہیں کردار وہی رہتے ہیں اب الہامات جو قرآن کریم کی وحی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تفصیل کے ساتھ نازل ہوا قرآن کریم نازل ہو ساری وہی ہے کا الہام ہے اللہ کا کلام ہے وہ زمانے کے لوگ سمجھتے تھے وہ زبان جاننے والے بھی نہیں سمجھتے تو اعتراض ہم پر آتا ہے جو نہ سمجھ رہے ہو قادر ہے جہاں تک کہ اس کے معنی ہیں تو عوام بائبل پڑھنے وہاں جگہ جگہ ایل او رائیلی اسماعیل اسرائیل جو لفظ خدا کے لئے بولا جاتا ہے اللہ تعالی کے لیے بولا جاتا ہے ایلی میرے خدا ہم عربی میں اللہ عنہ کہتے ہیں متبادل یہ عبرانی میں لی ہے اور آواز جو ہے اس کے معنی ہیں

انعام دیا معاوضہ دیا تو عربی میں اس کے غم میں آنسو آ لیتی ہے تو اس احسن ویاس نعت اویس رضا اس نے کچھ دیا اور معاوضہ دیا یہ معنی ہیں اور یہ الفرائد البھیہ لغت کی بڑی اعلی کتاب ہے اور اس طرح منظر جو بنیادی کتاب ہے لوگوں کی اس میں یہاں ہوں اعتراض کرنے والے ان کو پتہ چل جاتا ہے یہ ماں نے جو ہے یہ الہام جو ہے یہ معنی ہے اور اس میں بڑی حکومت پوشیدہ ہے اس میں یہ جو کیا مجھے معاوضہ دے یہ خدا سے اسے رحیمیۃ کے تحت اسے ماننا ہے کہ جتنا میں عمل کروں مجھے اس کا بدلہ دے اور رحم کر مجھ پر تو یہ جو آگے دعا ہے دین صراط المستقیم دراصل اس کی طرف عبرانی میں یہود کو توجہ دلائی گئی ہے لیکن کتاب کا توجہ دلائی گئی کہ یہ دعا مانگو کہ ہماری نیک چیزیں کاموں کا نیک اعمال کہا میں بدلہ دے اور ہمیں سیدھے راستے پر چلا تھا کہ اس ان کی مبارک ہو جو اللہ تعالی کے کی طرف سے وعدہ دیا جاتا ہے اور راستہ پر سیدھے راستے پر چلنے سے ملتا ہے وجود کے لئے ایک پیغام تھا اور اللہ تعالی نے وہ الزامات پر نازل فرمایا دوسرا یہ کہ کیا ملزم پر اعتراض وارد ہو سکتا ہے کہ 22 سورۃ ھود وہ اس کو نہ سمجھ سکے تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے مسکرانے قرآن پڑھتا ہے اور نبیوں کے حالات قرآن کریم میں پڑھتا ہے اس کو قرآن کریم میں بیان کسی اور کتاب میں نہیں میں بائبل انجیل کی بات نہیں کر رہا یا بہشتی زیور کتاب کی بات نہیں کر رہا الیکشن کی بات کر رہا ہوں کہ اس میں جو نبیوں کے حالات بیان کی ہیں اگر وہ پڑھی تو سمجھ آتا ہے کہ ہم بیاں صورتوں تو کیا کے پیغامات کو بھی بعض اوقات نہیں سمجھے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام سے خدا کی وحی کا قصہ شروع ہوتا ہے لا تقربا ہذہ الشجرہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس درخت کے پاس نہیں جا رہا ہے کہ نہیں پھر کیا ہوا حضرت آدم کی نہ کیا ہوا کہ الہام کو اس طرح نہیں سمجھے جس طرح خدا تعالیٰ کی منشاء اتنی نہیں تھی مچاتی تو یہ الہام کو خدا کے کلام کو نبی بازگشت نہیں سمجھ سکتے اور اپنی جو ایک بشری سوچ ہوتی ہے اس کے مطابق جب عمل کرتے ہیں تو وہ خدا کے منشا کے مطابق نہیں ہوتا نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے بارے میں غلط لکھ علی اللہ تعالی نے واضح طور پر پھر راحت فرمائیں کہ ایسا میں نہانے کا اہل میں سے نہیں ہے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو جو آپ کے گھر میں مانا ہے ان کے بارے میں پتہ نہیں چلا یہ کون ہے اور کس غلط جائے حضرت لوط علیہ الصلاۃ و السلام کا اپنی بیوی کے بارے میں پتا نہیں چلا انہوں نے خدا سے فریاد کی اس کو کیا تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ اس میں علاقہ یار میں نہیں اوہ پیچھے رہنے والوں میں سے اور پھر حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام بھی جان نہیں سمجھ سکے اور وہ اسے اپنے گاؤں سے نکل گیا اپنے وادی سے نکل گیا پھر واپس لایا ایک لمبا اس میں واقع ہے تو میں اب اس وقت نہیں سمجھ سکتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رویہ دیکھیں کیا آپ عمرہ کر رہے ہیں اور یہ میں سعودی عرب سے شائع شدہ ترجمہ شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس کا ہے اس میں وہ لکھتے ہیں اس میں حضرت نوح کا حضرت آدم علیہ السلام کے سارے واقعات ہیں اور جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح تھی عمرہ کرنے کی اس کے بارے میں میں نیچے لکھتے ہیں کہ واقعہ حدیبیہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کو خواب میں مسلمانوں کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوکر طواف عمرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا یہ آسمان پر ہوئی تھی شہر نبی کا خواب بھی بمنزلہ وہی ہوتا ہے ہاں یہ خدا کی وہی تھی جو خواب کے ذریعہ انسان کو دکھائیں گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سمجھے کہ اسی سال یہ ہونا ہے آپ چودہ سو صحابہ کرام کا چلے گی نہیں ہو سکا یعنی خدا کی منشا کے مطابق آپ نے نہیں سمجھا آپ کی سمجھ نہیں آئی اسی طرح اگر اسلام کو بتایا گیا حضرت کی مقام ہو جگہ دکھائی گئی جہاں جو بھی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کے انہار جمامہ اولیٰ و ہجر یا یہ ہجر کا علاقہ ہے یہ ماما کا علاقہ ہے ہجرت ہوئی تو مدینہ کتنا ہوگی تو یہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس پر وحی ہو وہ اللہ کے کلام کے معنی اس طرح متعین نہیں کر سکتا اور یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ بشر ہے اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالی کے پیغام کے پابند ہیں مگر جہاں وہ اپنی تشریح کرتے ہیں استاد کرتے ہیں اس میں بشر ہیں اس لیے وہ خدائی فیصلے نہیں ہوتے وہ بشر کے فیصلے ہوتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جب یہ الہام ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اگر اس کو نہیں سمجھا وہ گیا اس میں اعتراض کیا ہے یہ تو سارے نبیوں کی تاریخ قرآن کریم پڑھنے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کے ہمیں تو بہت بڑی تم بھی ہے رات کو حاضر ہے بڑا واضح فرمایا اور آگے جاکے اللہ تعالی فرماتا ہے واسا دمادم اربعہ گوا اس کا ترجمہ بھی یہ سعودی ترجمہ قرآن سنی آدم علیہ السلام نے رب کی نافرمانی کے پاس بیٹھ گیا اب یہ ترجمہ ذرا سا بھی ہو سکتا تھا نرم ہو سکتا تھا ابھی کے لیے تو پیغمبر نہیں سمجھا جاتا

کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہے مگر اسے موضوع الصلاۃ والسلام اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہیں اور انہوں نے پوری دیانت داری سے چائے کے ساتھ لے کے مجھے سمجھ نہیں جب انہیں سمجھایا ہمارے جیسا کوئی بھی سمجھ آ رہی ہے لوگ بتا رہی ہے اس کے کیا معنی ہے تو پیمانے بھی نہیں ہے اور سمجھ نہیں آتی اللہ کا پیغام یہود کے لئے اہل کتاب کے لئے تھا جو پرانی بولنے والے ہیں اللہ سے مانگو راستے کی تعلیم ہوتا کہ وہ اس کا معاوضہ تمہیں دے اور ہدایت دے اور تم بھی رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی امت میں داخل ہو کر راہ نجات پر چلنے والے دیوانہ الحمدللہ رب العالمین ناظرین کرام نے لائیو پروگرام میں اعتراض کے جواب کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تب تک کے لئے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صرف دشمن

#Islam#Ahmadiyya#TrueIslamCa@𝐓𝐫𝐮𝐞𝐈𝐬𝐥𝐚𝐦𝐂𝐀 𝗢𝗥𝗜𝗚𝗜𝗡𝗔𝗟 𝗦𝗖𝗔𝗡𝗡𝗘𝗗 𝗥𝗘𝗙𝗘𝗥𝗘𝗡𝗖𝗘𝗦 𝗟𝗜𝗡𝗞: https://bit.ly/3BXVr0n 𝐕𝐈𝐃𝐄𝐎 𝐇𝐈𝐆𝐇𝐋𝐈𝐆𝐇𝐓𝐒 (𝐌𝐈𝐍𝐔𝐓𝐄 𝐂𝐀𝐒𝐓): 00:30 : 𝑸𝒖𝒆𝒔𝒕𝒊𝒐𝒏: 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑴𝒊𝒓𝒛𝒂 𝑺𝒂𝒉𝒊𝒃 (𝒂𝒔) 𝒉𝒂𝒔 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒕𝒆𝒏 𝒊𝒏 𝑩𝒓𝒂𝒉𝒊𝒏 𝑨𝒉𝒎𝒂𝒅𝒊𝒚𝒚𝒂 𝒑𝒂𝒓𝒕 4 𝒂 𝒓𝒆𝒗𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝒆𝒏𝒅𝒔 𝒂𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝒘𝒐𝒓𝒅𝒔 (ایلی ایلی سبقتنی، ایلی آوس) 𝒂𝒏𝒅 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒆𝒔 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝒉𝒆 𝒄𝒐𝒖𝒍𝒅 𝒏𝒐𝒕 𝒇𝒊𝒈𝒖𝒓𝒆 𝒐𝒖𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝒎𝒆𝒂𝒏𝒊𝒏𝒈 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝒍𝒂𝒔𝒕 𝒘𝒐𝒓𝒅𝒔 (ایلی آوس). 𝑻𝒉𝒆 𝒐𝒑𝒑𝒐𝒏𝒆𝒏𝒕𝒔 𝒒𝒖𝒆𝒔𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 𝒕𝒉𝒆 𝒎𝒆𝒂𝒏𝒊𝒏𝒈𝒔 𝒂𝒏𝒅 𝒎𝒐𝒄𝒌 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝒔𝒖𝒄𝒉 𝒎𝒆𝒂𝒏𝒊𝒏𝒈𝒍𝒆𝒔𝒔 𝒓𝒆𝒗𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 𝒄𝒂𝒏𝒏𝒐𝒕 𝒕𝒂𝒌𝒆 𝒑𝒍𝒂𝒄𝒆? 𝐋𝐞𝐭’𝐬 𝐞𝐯𝐚𝐥𝐮𝐚𝐭𝐞 𝐚𝐧𝐝 𝐟𝐢𝐧𝐝 𝐨𝐮𝐭 𝐭𝐡𝐞 𝐦𝐞𝐚𝐧𝐢𝐧𝐠𝐬 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞𝐬𝐞 𝐰𝐨𝐫𝐝𝐬 𝐢𝐧 𝐭𝐡𝐢𝐬 𝐕𝐈𝐃𝐄𝐎!!! 02:02 : 𝑨𝑵𝑺𝑾𝑬𝑹: 𝑳𝒆𝒕’𝒔 𝒇𝒊𝒓𝒔𝒕 𝒓𝒆𝒂𝒅 𝒕𝒉𝒆 𝒂𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈 (𝑪𝒉𝒆𝒄𝒌 𝒕𝒉𝒆 𝒍𝒊𝒏𝒌 𝒊𝒏 𝒅𝒆𝒔𝒄𝒓𝒊𝒑𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒇𝒐𝒓 𝒐𝒓𝒊𝒈𝒊𝒏𝒂𝒍 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆𝒔) 03:40 : 𝑨𝑹𝑮𝑼𝑴𝑬𝑵𝑻: 𝑻𝒉𝒊𝒔 𝒊𝒔 𝒂 𝒓𝒆𝒗𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝑮𝒐𝒅, 𝒏𝒐𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝒘𝒐𝒓𝒅𝒔 𝒐𝒇 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑴𝒊𝒓𝒛𝒂 𝑺𝒂𝒉𝒊𝒃 (𝒂𝒔). 𝑯𝒆𝒏𝒄𝒆, 𝒊𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝒐𝒑𝒑𝒐𝒏𝒆𝒏𝒕𝒔 𝒎𝒐𝒄𝒌 𝒂𝒃𝒐𝒖𝒕 𝒊𝒕, 𝒕𝒉𝒆𝒚 𝒂𝒓𝒆, 𝒊𝒏 𝒇𝒂𝒄𝒕, 𝒎𝒐𝒄𝒌𝒊𝒏𝒈 𝒂𝒕 𝑮𝒐𝒅 (نعوذ باللہ) 04:44 : 𝑹𝑬𝑺𝑷𝑶𝑵𝑺𝑬 01 – 𝑴𝒆𝒂𝒏𝒊𝒏𝒈𝒔 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝒘𝒐𝒓𝒅 (ایلی) 𝒂𝒏𝒅 (آوس) 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝑫𝒊𝒄𝒕𝒊𝒐𝒏𝒂𝒓𝒚 𝒂𝒔 𝒕𝒉𝒆𝒔𝒆 𝒂𝒓𝒆 𝑯𝑬𝑩𝑹𝑬𝑾 𝒘𝒐𝒓𝒅𝒔 05:05 : 𝑷𝑹𝑶𝑶𝑭 01 – 𝑫𝒊𝒄𝒕𝒊𝒐𝒏𝒂𝒓𝒚 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝒘𝒐𝒓𝒅 (آوس). 𝑪𝒉𝒆𝒄𝒌 𝒕𝒉𝒆 𝒅𝒆𝒔𝒄𝒓𝒊𝒑𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒍𝒊𝒏𝒌 𝒇𝒐𝒓 𝒂𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒂𝒏𝒅 𝒍𝒊𝒏𝒌𝒔 06:30 𝑷𝑹𝑶𝑶𝑭 02 – 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕𝒔 (𝒂𝒔), 𝒊𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝒑𝒂𝒔𝒕, 𝒉𝒂𝒗𝒆 𝒎𝒊𝒔𝒖𝒏𝒅𝒆𝒓𝒔𝒕𝒐𝒐𝒅 𝒐𝒓 𝒏𝒐𝒕 𝒄𝒍𝒆𝒂𝒓𝒍𝒚 𝒖𝒏𝒅𝒆𝒓𝒔𝒕𝒂𝒏𝒅 𝒕𝒉𝒆 𝒎𝒆𝒂𝒏𝒊𝒏𝒈𝒔 𝒐𝒇 𝒓𝒆𝒗𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 𝒂𝒔 𝒑𝒓𝒆𝒔𝒄𝒓𝒊𝒃𝒆𝒅 𝒊𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝑯𝒐𝒍𝒚 𝑸𝒖𝒓𝒂𝒏. 𝑻𝒉𝒆𝒔𝒆 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕𝒔 𝒂𝒓𝒆: 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑨𝒅𝒂𝒎 (𝒂𝒔) 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑰𝒃𝒓𝒂𝒉𝒊𝒎 (𝒂𝒔) 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑵𝒖𝒉 (𝒂𝒔) 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑳𝒖𝒕 (𝒂𝒔) 𝑶𝒖𝒓 𝒃𝒆𝒍𝒐𝒗𝒆𝒅 𝑯𝒐𝒍𝒚 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕 (ﷺ) 𝑪𝒉𝒆𝒄𝒌 𝒂𝒍𝒍 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆𝒔 𝒊𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝒍𝒊𝒏𝒌 𝒑𝒓𝒐𝒗𝒊𝒅𝒆𝒅 𝒂𝒃𝒐𝒗𝒆!!!! 𝐅𝐨𝐥𝐥𝐨𝐰 𝐮𝐬 𝐨𝐧: 𝐓𝐰𝐢𝐭𝐭𝐞𝐫/ 𝐅𝐁/ 𝐈𝐧𝐬𝐭𝐚𝐠𝐫𝐚𝐦/ 𝐘𝐨𝐮𝐓𝐮𝐛𝐞: @𝐓𝐫𝐮𝐞𝐈𝐬𝐥𝐚𝐦𝐂𝐀

 61 total views,  4 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: