𝐑𝐞𝐯𝐞𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧:𝐎 𝐀𝐡𝐦𝐚𝐝! 𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐧𝐚𝐦𝐞 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐛𝐞 𝐝𝐨𝐧𝐞 𝐛𝐮𝐭 𝐧𝐨𝐭 𝐌𝐢𝐧𝐞 (الہام: اے احمد تیرا نام پورا کیا جائے گا )




𝐑𝐞𝐯𝐞𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧:𝐎 𝐀𝐡𝐦𝐚𝐝! 𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐧𝐚𝐦𝐞 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐛𝐞 𝐝𝐨𝐧𝐞 𝐛𝐮𝐭 𝐧𝐨𝐭 𝐌𝐢𝐧𝐞 (الہام: اے احمد تیرا نام پورا کیا جائے گا )

Jul 23, 2021

پھول من شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم میں نے کہا اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ تحریرات سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام پر مخالفین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جوابات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہیں میں خاکسار عبدالوہاب کے ساتھ محترم مولانا حاجی علی چودھری صاحب شامل گو ہوں گے جو ان اعتراضات کے جواب دیں گے حاجی صاحب اگلا جو حضرات ہے جو محسوس کرتے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام پر ہے جی اور یہاں کیا گیا ہے ہم کچھ یوں ہی عربی کا ہے جو فرماتے ہیں یا جو حرام ہو اس کی تحریر یہ ہے یا احمد ویتیما اس مقام ولایت یا اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ ہم تیرا نام پورا کیا جائے گا یعنی اللہ کا نام پورا نہ ہوگا مجھے انسان پر اس دن میں تلاش کیا جاتا ہے کہ نعوذباللہ دیکھیے مرزا صاحب نے خدا تعالی پر فوقیت کا دعویٰ کردیا ہے اس میں یہ تو ایک تو یہ بتائیں کہ الہام کا سیاق و سباق کیا ہے دوسرا کہ یہ اسلام کی جو صحیح تشریح ہے وہ پھر کیا بنے گی جو چال چلے تیری جو بات کہی اور ٹی ایم اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت کہاں سے آتی ہے یہ دیکھنے والی بات ہے تو شروع کرتے ہیں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی عبدالمسیح مود یہ جو براہین احمدیہ سفاح ثانی جلد اول صفحہ 227 پر حاشیہ میں تفصیلی الہام ہے بہت سارے الزامات ہیں جو اکٹھے عزم اسلام ہوئے میں یہ آتا ہے یا ہمہ دو یتیموں اسموک آج موسم کا ولایت طرابلس میں کہ تیرا نام جو ہے وہ تمام ہو جائے گا میرا نام تمام نہیں ہوگا اللہ تعالی فرما رہا ہے مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسلام کا یہ بیان فرمودا نہیں ہے الہام ہے اور اللہ مخاطب کر رہے ہیں یا ہم دو احمد تیرا نام ختم ہو جائے گا یا مکمل ہو جائے گا تو کیسے ہو سکتا ہے کلام اللہ تعالی کیا وہ حضرت علی علیہ السلام کو بیان کر رہا ہے بتا رہا ہے تیرا اور اس میں واضح طور پر توحید کا ذکر ہے کہ اللہ کا نام رہتا ہے اللہ کے نام رہتا ہے اور قول و من علیہا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام یہ جو قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہر شخص جو ہے دنیا کی ہر چیز جو ہے اچھا وہ فنا ہونے والی ہے کل من علیہا فان ہر چیز وجب کا وجہ ربک ذوالجلال والاکرام اللہ تعالی کی ذات رہ جائے گی جلال والاکرام تو اس میں اس کا پورا احساس کی تشریح ہے یہ نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ و السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ آپ کا نام رہ جائے گا اللہ تعالی یہ اس میں آئے نہیں جو چال چلے ہیں جو بات کہی ہوگی تو حضرت مسیح موعود اور یہ دیکھیں دیانتداری کا پہلو یہ ہے کا ان کا حالات یہ ہیں کہ اسی جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی طرف سے اس کی تشریح کی ہے اسی الہام کے ساتھی ہمیں فرماتے ہیں متفاعلن دکھاتے ہو تحمید ہوگا یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ تو فنا ہونے والا ہے اور تیری جو تعریف ہے وہ ختم ہو جائے گی ایان تہیم حامداللہ اور اللہ تعالی کے جو محمد ہیں وہ ان کی انتہا کوئی نہیں ہے وہ ختم نہیں ہوں گے فائن حالات والا توسع اللہ تعالی کے جو محمد ہیں ان کو نہ تو گنہ جاسکتا ہے اور نہ ان کو توڑا جا سکتا ہے یا نہیں آج اس کے دونوں کے معنی ہیں کیا جاسکتا اس قدر وحشت ہے اللہ تعالی کے محمد میں کے اور اللہ تعالی کی صفات جو ہیں وہ سب تصویر ہے انسان کی عقل یا اس کی سوچ اس کے جتنے بھی علم ہو ان کے مطابق وہ ایک حد تک کہ اللہ تعالی کی صفات کو دیکھ سکتا ہے یا جان سکتا ہے اور اور اظہار فرما رہا ہے کہ میرا نام تو تمام نہیں ہوگا لکھے جو پڑھے سکے یا حیرت کی بات ہے یہ اسی جملے لکھیں بالکل نہیں ہے یہ دیکھنا نظر آئے ہیں جی وہ اگلے اقدامات کا تسلسل کاٹ کے پہلے اس کو حل کیا حضرت موسی علیہ السلام نے اس کا تمام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے جو حمد و ثنا ہے وہ تو قائم رہنے والی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے تھوڑا سا کوئی سوچے سمجھے یہ بڑا گلے کا اعتراض بڑی دیر سے ہم سنتے ہی یہ کرتے چلے جاتے ہیں خطبہ الہامیہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ نام تمام ہونا ہے اس کی تشریح کیا فرماتے ہیں ایک بندہ جو اللہ تعالی کا کرم ہے وہ اس کا لطیفہ سنائیں ہم کو سو حاضر عبدالہادی تین چار ماہ سے ذاتی طور پر یہ بندہ زمین میں ایک مدت تک جو اس کے رب کے ارادے میں ہے تو قبول کرتا ہے یا نہیں کرتا ہے نیل الخلقہ بے نور الہدٰی تاکہ مخلوق کو نور ہدایت کے ساتھ نور کریں اور جو اللہ تعالی کا سلسلہ ہے مقدس لوگ ہوتے ہیں ہر زمانے میں ان کا ذکر ہو رہا ہے حلقہ نور خدا یہ تاکہ مخلوق نور ہدایت کے ساتھ منور کرے واضح ان اللہ سب نوں رب ہیں اور جب اب کے نور کے ساتھ روشن کر چکا او بلال عمرہ بے قدری کفایا یا عمر تبلیغ کو بقدر کفایت پورا کردیا این اے دنیا بھی موسم ہو اس وقت اس کا نام پورا ہو جاتا ہے یادوں ہو اور اللہ اس کو اپنی طرف بلا لیتا ہے وہ یورپ اور وہ ہو اور اس کے روحانی ترفع کرتا ہے اٹھا لیتا ہے یہ نقطہ نفسی اپنے منہ سے نکلتے سر محمدالکردی بالکل واضح ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذہن میں بالکل صاف و شفاف اس کی تشریح تھی اس الہام کا مطلب آپ کے ذہن میں بالکل صاف تھا اور آپ نے اس کی تشریح اور حوالہ میں بھی بیان فرمائی ہے ایک اور میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں شاہ محدث عبدالحق محدث دہلوی ہیں امت میں ان کا بڑا درجہ ہے ان کی کتاب ہے ماں ثابت بن نعمان ثابت ہوتا ہے یہ ان کی کتاب ہے اور یہ اس کا کبھی آپ کو مل جائے گا اب یہ جو نام تمام ہوتا ہے دیکھیں

لکھتے ہیں وہ لمحات کہ ان الحکم توفیق عباس ہیں صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تعلق میں مکارم الاخلاق حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض یہ تھی اس میں کہ وہ مخلوق کو ہدایت کا سامان مہیا کر جائیں مکارم اخلاق کے تمام کر جائے یہ وہ تمام کرنا کہتے ہیں وہ تکمیل علم والدین اور دین کے جو جو بنیادی اصول سے بنیادی تھی ان کو قائم کر دے دینا حاصل حرا وتم حاضر مقصود جب یہ ہو گیا اور یہ کام مکمل ہو گیا تم میں یہاں بھی تو ہی ہے تو یہ جب مکمل ہو گیا رفعہ اللہ الیہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا یہ تمام ہونا ہے وہ طوفاں اللہ والا سروس تین حصے تو آپ پچھلے سال کے تھے جب اللہ تعالی نے آپ کا رخ کر لیا تو یہ اندر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت میں جو حکمت تھی جب وہ پوری ہوگئی تو اللہ تعالی نے اپنی طرف اٹھا لیا اس میں اب غلط بات کیا ہے اللہ نے والا ہے وہی اپنے رسول بھیجتا ہے اور وہ مقرب بندے بھیجتا ہے مقدس بندے بھیجتا ہے جو دنیا کے لیے ہدایت کرتے ہیں ان کی ہدایت و رہنمائی کے کام کرتے ہیں جب وہ اپنا کام پورا کر لیتے ہیں تو ان کا نام پورا ہوگیا ان کا کام پورا ہوگیا ان کے آنے کی غرض پوری ہوگی حضرت عبدالحق محدث دہلوی نے یہ ہمارے سامنے بیان کر دیا تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام پر کسی قسم کا یہ اعتراض نہیں اٹھتا جنت اللہ کا کلام ہے اللہ تعالی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا رہا ہے تو اللہ تعالی سے آپ نے تقدیم نہیں کی ہم انصاری عبارتوں کا ہر مسلم کے بعد میں ہیں یا ما ثبت بالسنۃ فی حاضرہ کتاب کا حوالہ ہے ہمیں یہ صاف پتہ چلتا ہے جب یہ کام مکمل ہو جاتا ہوں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم 63سال آپ کی عمر تھی آپ نے کام پورا کیا اللہ تعالی کے حضور حاضر ہوں ان کی عمر 75 سال کے قریب آپ کے سپورٹ جو کام تھا میں نے پورا کیا اللہ تعالی کے حضور حاضر ہو گئے ولایتی موسمی حالات اب میرا کام میرا نام رہے گا اور تمہارا ستم تو اس کا اظہار اسلام میں ہے حضرت مسیح علیہ سلام پر اعتراض نہیں پڑتا وآخرالدعوانہ الحمدللہ رب العالمین حسن ظاہری صاحب کے نام پروگرام میں کتنے اعتراض کے جواب کے ساتھ آپ کی خدمت لیے اسلام علیکم ورحمتہ اللہ صفدر یا بہت سے تیرے پاس نہ بول کا نام علم سے دکھایا احمدیہ مسلم جماعت نشاط ثانیہ کی حال ہیں

#Islam#Ahmadiyya#TrueIslamCa 𝗢𝗥𝗜𝗚𝗜𝗡𝗔𝗟 𝗦𝗖𝗔𝗡𝗡𝗘𝗗 𝗥𝗘𝗙𝗘𝗥𝗘𝗡𝗖𝗘𝗦 𝗟𝗜𝗡𝗞: https://bit.ly/3hRKjtY 𝐕𝐈𝐃𝐄𝐎 𝐇𝐈𝐆𝐇𝐋𝐈𝐆𝐇𝐓𝐒 (𝐌𝐈𝐍𝐔𝐓𝐄 𝐂𝐀𝐒𝐓): 00:30 : 𝑸𝒖𝒆𝒔𝒕𝒊𝒐𝒏: 𝑹𝒆𝒗𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒕𝒉𝒂𝒕 “𝑶 𝑨𝒉𝒎𝒂𝒅, 𝒚𝒐𝒖𝒓 𝒏𝒂𝒎𝒆 𝒘𝒊𝒍𝒍 𝒃𝒆 𝒅𝒐𝒏𝒆 𝒃𝒖𝒕 𝒏𝒐𝒕 𝑴𝒊𝒏𝒆” 𝒕𝒉𝒊𝒔 𝒊𝒔, 𝑮𝒐𝒅 𝒇𝒐𝒓𝒃𝒊𝒅, 𝒄𝒐𝒏𝒕𝒆𝒎𝒑𝒕 𝒐𝒇 𝑮𝒐𝒅 02:00 : 𝐑𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐞: 𝐖𝐫𝐨𝐧𝐠 𝐓𝐫𝐚𝐧𝐬𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐢𝐬 𝐚 𝐝𝐞𝐥𝐢𝐛𝐞𝐫𝐚𝐭𝐞 𝐚𝐭𝐭𝐞𝐦𝐩𝐭 𝐭𝐨 𝐰𝐫𝐨𝐧𝐠 𝐭𝐡𝐞 𝐚𝐜𝐭𝐮𝐚𝐥 𝐦𝐞𝐚𝐧𝐢𝐧𝐠. 04: 00 : 𝐑𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐞 𝟎𝟐: 𝐓𝐡𝐞 𝐄𝐱𝐩𝐥𝐚𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐑𝐞𝐯𝐞𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐢𝐬 𝐩𝐫𝐨𝐯𝐢𝐝𝐞𝐝 𝐛𝐲 𝐇𝐚𝐳𝐫𝐚𝐭 𝐌𝐢𝐫𝐳𝐚 𝐒𝐚𝐡𝐢𝐛 (𝐚𝐬) 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐚𝐟𝐭𝐞𝐫 𝐭𝐡𝐞 𝐫𝐞𝐯𝐞𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐢𝐧 𝐡𝐢𝐬 𝐨𝐰𝐧 𝐰𝐨𝐫𝐝𝐬. 𝐓𝐡𝐢𝐬 𝐜𝐥𝐞𝐚𝐫𝐥𝐲 𝐬𝐭𝐚𝐭𝐞𝐬 𝐭𝐡𝐚𝐭 𝐨𝐧𝐥𝐲 𝐆𝐨𝐝’𝐬 𝐧𝐚𝐦𝐞 𝐢𝐬 𝐟𝐨𝐫𝐞𝐯𝐞𝐫, 𝐫𝐞𝐬𝐭 𝐚𝐥𝐥 𝐢𝐬 𝐟𝐢𝐧𝐢𝐭𝐞 𝐭𝐨 𝐛𝐞 𝐟𝐢𝐧𝐢𝐬𝐡𝐞𝐝! 05:40 : 𝐑𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐞 𝟎𝟑: 𝐀𝐧𝐨𝐭𝐡𝐞𝐫 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞 𝐟𝐫𝐨𝐦 “𝐊𝐡𝐮𝐭𝐛𝐚 𝐈𝐥𝐡𝐚𝐦𝐢𝐚” 𝐰𝐡𝐞𝐫𝐞 𝐇𝐚𝐳𝐫𝐚𝐭 𝐌𝐢𝐫𝐳𝐚 𝐒𝐚𝐡𝐢𝐛 (𝐚𝐬) 𝐧𝐚𝐫𝐫𝐚𝐭𝐞𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐬𝐚𝐦𝐞 𝐰𝐨𝐫𝐝𝐬 07: 25 : 𝐑𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐞 𝟎𝟒: 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐚 𝐠𝐫𝐞𝐚𝐭 𝐬𝐜𝐡𝐨𝐥𝐚𝐫 𝐇𝐚𝐳𝐫𝐚𝐭 𝐒𝐡𝐚𝐡 𝐌𝐮𝐡𝐚𝐝𝐝𝐢𝐬 𝐀𝐛𝐝𝐮𝐥 𝐇𝐚𝐪 𝐃𝐞𝐡𝐥𝐯𝐢 (𝐫𝐚) 𝐰𝐡𝐨 𝐜𝐥𝐚𝐫𝐢𝐟𝐢𝐞𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐦𝐞𝐚𝐧𝐢𝐧𝐠 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐰𝐨𝐫𝐝 تتمہ 𝐭𝐡𝐚𝐭 𝐢𝐬 𝐰𝐫𝐨𝐧𝐠𝐥𝐲 𝐭𝐫𝐚𝐧𝐬𝐥𝐚𝐭𝐞𝐝 𝐛𝐲 𝐨𝐩𝐩𝐨𝐧𝐞𝐧𝐭𝐬 𝐣𝐮𝐬𝐭 𝐭𝐨 𝐠𝐢𝐯𝐞 𝐭𝐡𝐞𝐢𝐫 𝐨𝐰𝐧 𝐟𝐚𝐥𝐬𝐞 𝐦𝐞𝐚𝐧𝐢𝐧𝐠𝐬 𝐭𝐨 𝐭𝐡𝐞 𝐫𝐞𝐯𝐞𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 09:00 : 𝑺𝒖𝒎𝒎𝒂𝒓𝒚: 𝑻𝒉𝒆𝒓𝒆 𝒊𝒔 𝒏𝒐𝒕𝒉𝒊𝒏𝒈 𝒘𝒓𝒐𝒏𝒈 𝒊𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝒓𝒆𝒗𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒂𝒔 𝒕𝒉𝒆 𝒐𝒑𝒑𝒐𝒏𝒆𝒏𝒕𝒔 𝒔𝒕𝒂𝒕𝒆. 𝑻𝒉𝒊𝒔, 𝒚𝒆𝒕 𝒂𝒈𝒂𝒊𝒏, 𝒂 𝒇𝒂𝒍𝒔𝒆 𝒂𝒄𝒄𝒖𝒔𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒇𝒂𝒃𝒓𝒊𝒄𝒂𝒕𝒆𝒅 𝒘𝒊𝒕𝒉 𝒆𝒗𝒊𝒍 𝒊𝒏𝒕𝒆𝒏𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 𝒔𝒐 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝒊𝒏𝒏𝒐𝒄𝒆𝒏𝒕 𝒑𝒆𝒐𝒑𝒍𝒆 𝒄𝒂𝒏𝒏𝒐𝒕 𝒇𝒊𝒏𝒅 𝒕𝒉𝒆 𝒕𝒓𝒖𝒕𝒉 𝒂𝒃𝒐𝒖𝒕 𝑰𝒎𝒂𝒎 𝑴𝒂𝒉𝒅𝒊 𝒘𝒉𝒐 𝒊𝒔 𝒊𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝒇𝒐𝒓𝒎 𝒐𝒇 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑴𝒊𝒓𝒛𝒂 𝑮𝒉𝒖𝒍𝒂𝒎 𝑨𝒉𝒎𝒂𝒅 (𝒂𝒔) 𝒐𝒇 𝑸𝒂𝒅𝒊𝒂𝒏.

 67 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: