𝐏𝐞𝐫𝐬𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐫𝐞𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐭𝐨 𝐆𝐨𝐝 – 𝐂𝐨𝐧𝐭𝐞𝐦𝐩𝐭 𝐨𝐫 𝐁𝐥𝐞𝐬𝐬𝐢𝐧𝐠? (خدا سے تعلقِ نہانی۔ معرفت یا توہین؟)




𝐏𝐞𝐫𝐬𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐫𝐞𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐭𝐨 𝐆𝐨𝐝 – 𝐂𝐨𝐧𝐭𝐞𝐦𝐩𝐭 𝐨𝐫 𝐁𝐥𝐞𝐬𝐬𝐢𝐧𝐠? (خدا سے تعلقِ نہانی۔ معرفت یا توہین؟)

Jul 2, 2021

پھول شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اکرام اسلام علیکم ورحمۃ اللہ طب سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مخالفین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جواب دے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہیں یہ خاکسار عبدالوہاب کے ساتھ محترم مولانا حالی چودھری صاحب تشریف فرما ہیں جو ان اعتراضات کے جواب دیں گے حاجی صاحب اب جو میں آپ کے سامنے پیش کروں گا رکھوں گا وہ بھی براہین احمدیہ سے ہے یہ بھی ان اعتراضات میں سے ہے جن کی اصل بالکل بھی نہیں ہے اور کے لگائے جاتے ہیں لوگوں کو اشتعال دلانے کے لئے وہ مولوی جو کہتے ہیں وہ وہ نوعیت کا یا اسی نوعیت کا یہ اعتراض ہے کربلا کے اس کو پیش کرتے ہیں بنا کے پیش کیا جاتا ہے کیسی بات ہے جو کوئی بھی احمدی یا حضرت مسیح علیہ السلام کی تحریر پڑھنے والا گمان بھی نہیں کرسکتا کہ حضور اس قسم کی جو ہے ہے ان کے نزدیک تشریح ہے وہ لکھ سکتے ہیں اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے خدا کی توہین کی ہے اور تحریر میں پیش کرتے ہیں اور فرماتے ہیں براہین احمدیہ حصہ پنجم میں کہ مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو نہیں جی اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ دیکھیں یہ تو ایک غلط قسم کا پھولوں کو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے جو پیشگوئی کی تھی اس میں فہرست ممالک یہ ایسے لوگوں کے لئے ہم سے پھر یہ نکالا ہے تو دیکھتے ہیں اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم عبدالمسیح مود یہ جو عبارت ہے جس کا ایک ٹکڑا انہوں نے پیش کیا ہے یہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے جلد 21 سے پیپر 80 اور 81 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ایک الہام کیوں کہ قرآن کریم کی آیات پر مبنی ہے نیچے کالا انی جاعل فی الارض خلیفہ قالوا اتجعل فیہا من یفسد فیہا اونٹ فرمایا نہیں میری نسبت خدا نے میرے ہی ذریعے سے براہین احمدیہ میں خبر دی کہ میں آدم کے رنگ پر ایک خلیفہ تب اس خبر کو سن کر بعض مخالفوں نے میرے حالات کو کچھ اپنے عقائد کے برخلاف پا کر اپنے دلوں میں کہاں کی جائے الٰہی کیا تو ایسے انسان کو اپنا خلیفہ بنائے گا جو ایک مقصد آدمی ہے جولاہا قوم میں پھوٹ ڈال دیتا ہے اور علماء کے مسلمان سے باہر جاتا ہے جب خدا نے جواب دیا کہ جو مجھے معلوم ہے تمہیں معلوم نہیں یہ خدا کا کلام ہے جو مجھ پر نازل ہوا حقیقت میرے اور میرے خدا کے درمیان ایک بار یہ راز ہے ایسے باریک راز ہے اور میرے خدا کے درمیان ایسے باریک راز ہیں جن کو دنیا نہیں جانتی مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں زمانے کے لوگ اس سے بے خبر ہیں یہ اسلام کی اصل عبارت ہے اس میں اگر کوئی سفلہ آدمی اپنے سفلی خیالات اور گندی ذہنیت سے لالہ کے بارے میں ایسے تصورات رکھتا ہے ان کے اپنے کارنامے اپنے کرتوت سے اپنی آتے ہیں وہ تو اس کا اپنا نصیب ہے اسے اور کیا نکلے گا جو گندا آدمی ہو گا اس نے گاندھی دکھانا ہے ویسے اس پر نتائج نکالتے ہیں اس بات سے کہ ہم اس کو بیان نہیں کر سکتے سچی باتیں جہاں تک حقیقت حال کا تعلق ہے اگر اس نفس کو لیا جائے تو دیکھیں کہ غربت جس نے غصے میں بھی دیکھ لیں یہ میرے پاس لغات کشوری ہے بڑی اس کے ایمانی دیتی ہے بڑی جیت والی ڈکشنری ہے لوگ آتے کشمیری تو اس میں نہا کا معنیٰ ہے پوشیدہ چھپا ہوا اور نہیں عید ہوتی ہے اور یہ ہر ایک کو پتا ہے ہر ایک چیز کو بھی تجربہ ہوا ہو اور صوفیاء کی کتابیں تو اس سے بھری ہوئی ہے کہ کس طرح خدا سے راز و نیاز کرتے ہیں اور ایک تو کہانی حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے کی بھی روایت میں بیان ہوتی ہے یہ بھی صوفیاء کی کتابوں میں بھی ہے کے ایک غریب آدمی اور یعنی لا المعیقلی اولاد سے خدا تعالیٰ سے باتیں کر رہا تھا کہ آپ میں تجھے ڈالا تیری جو ہے نکالو کی کرو اس طرح کی باتیں ٹھیک ہوگیا تو روک دیا تو اللہ تعالی نے حضرت موسی اسلام کو سرزنش کی میرے سے بات کر رہا ہوں تو یہ جو خدا سے تعلق ہے یہ فرق نہیں پڑتا ہے سجدوں میں آپ گاجر میں جب آپ جانتے ہیں تو آپ جانیں آپ کے اندر جذبات یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی نہ دیکھے خدا کے آگے رازونیاز کر یا باتیں کریں اور گڑھے یا جیسے بھی ہے چھپا ہوا پوشیدہ تالا کا ہار جاتا ہے ہر نیک آدمی یہ لوگ اب جو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا اللہ تعالی سے تعلق تھا اس کو انہوں نے اس طرح بیان کیا ہے خدا تعالیٰ کی گستاخی کرتے الزام حضرت لگا دیتے ہیں لیکن جو جذبات ہیں جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں گستاخ یہ لوگ کرتے اور ایسے لوگوں کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا راستہ یہ علم تصنیف صلاح معاشرہ تھا تو میں نہیں کر مستانہ طے کروں ہوں میںتے تو پھر میں کیا کروں یہ وہ لوگ ہیں جو اس لحاظ سے اردو میں چاہیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بات کا ذکر کیا ہے وہ کیا تعلق تھا یہ آپ سنیں حضور رحمت ہیں اور وجہ بڑھ گیا شور و غوغا جب اس قسم کے لوگ جو سفلی باتیں کرتے ہیں اور ایسی باتیں جو شریف انسان اپنی زبان پر نہیں لا سکتا میں دودھ بڑھ گیا شور و غوغا میں نہاں ہو گئے یاروں نے ہمیں یہ لاہور سے تعلق ہے فرمایا سر سے میرے پاؤں تک ہے مجھ میں لا سر سے میرے پاؤں تک وہ یار ہے مجھ میں رہا ہے میرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ ہوا جی ہاں اب آگے فرماتے ہیں اور سنی غیر کیا جانے کے دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے کیا بات ہے وہ ہمارا ہوگیا اس کے ہوئے ہم جان دیکھتا ہوں اپنے دل کو ہر شے رب العالمین قربت نا بڑھ گیا جس سے ہوں اتنا مجھ میں یار یہ پوشیدہ تعلق غربت یہ دنیا کیا جانے کا غم نہ لکھا لیکن اس زمانے کے لوگوں نے جی وہی جو قریب اللہ تعالی کے ہوئے عرفان ہوں یہی سمجھ میں یہ باتیں بالکل اور یہ بات کرتے ہوئے بھی انسان کو حیا کرنی چاہیے رات کے بارہ میں انسان کے تعلق سے باتیں کر رہے ہیں میں اسلام کی شان دیکھیں اور زبان دیکھیں اور کے ساتھ جو دل سے پاکیزہ جذبات دوستی بھی ہے جب جسے ہو آخر دو ستی دوستی لفظ کی ترکیب کو کس طرح آپ نے الگ کر کے دوستی یاری دوست آئے ہوئے ہو ایک دوسرے سے ملنے کے لئے سوتے ہوئے لیے دوبارہ دوستی بھی ہے جب جس سے ہو آخر دوستی عملی الفت سے الفت ہو کے دو دل پر سوار کہانی تعلق زمانے میں کسی کا تھا وہ تو میں نے پہلے بھی ایک دفعہ کیا تھا کہ حضرت موسی علیہ السلام کے آنے سے جس نے آپ کو رد کیا اللہ تعالی نے اس سے ہم کلام ہونا چھوڑ جائے وہ کتنا مقرر تھا پہلے سب پر اللہ تعالی کے گھر کے دروازے بند ہوئے حضرت موسی علیہ السلام اور آپ کی جماعت سے کھولے ہیں متعلقہ ہمارا دیکھ لو میں لو محبت میں عجب تاثیر ہے اللہ تعالی کی اور اس کے ایک عاجز بندے کی مسیح کی جو میری محبت ہے میری محبت میں عجب تاثیر ہی ایک دل کرتا ہے جھک کر دوسرے دن کو شکار کیا خوبصورت کلام جب بلائیں کر سکتا ہوں اور اللہ سے عشق رکھنے والا اس میں جذبات نہیں کر سکتا ہیں عجب اک خاص یہ تیرے جمال حسن میں ایک چمکار سے مجھ کو کیا دیوانہ والا اے خدا تیرے لیے ہر ذرہ ہو میرا فا مجھ کو دکھلا دی بہار دیں کے میں حوشگوار اصل تڑپ دین محمدی کی کہ اس میں بہار آ جائیں جو اللہ تعالی سے محبت ہے اس کا یہی آج مل جائے کہ دین زندہ ہو جائے ان لوگوں کا بھی احسان ہے اسی حوالے سے پھر مخاطب بھی کیا ہے کہ مت کرو بک مت کرو بک بہت دلوں پر نظر ہے مت کرو بک کے دلوں پر ہی نظر دیکھتا ہے باقی دل کو نسوار پاک دل جو ہے اعجاز کی حاجت نے وہ جو گندے نیت والے گندے دل والے ہیں یہ باتیں کرتی ہیں آپ ہمارے بزرگ کہتے ہیں الصلاۃ والسلام کی بات پر اس طرح انہوں نے یہ ہرزہ سرائی کی ہے آپ نے ایسے گندے الفاظ استعمال کیے ہیں حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو وہ کہتے ہیں کہ ان الحق کا تعالی یعنی اللہ تعالی ان الحق کا تعالی یقدرون آفیسر اینا ہمارے نہ ادھر نہا حالات میں ہماری خلوتوں میں جون آفیسر ایمان کلام ہیں وہ کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معنی کلام ہی وکلا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں اللہ تعالی آپ ہمارے ساتھ خلوتوں میں سرائے نہ یہاں سے بھی زیادہ مضبوط لفظ ہے چھپ جانا اللہ تعالیٰ اپنے کلام اور رسول کے کلام کے معنی سمجھ آتا ہے یوسما ہاشم صاحب کو حاضر مقام اس کے ساتھ اللہ کو یہ خلوت نصیب ہوتی ہے مقعد میں کیا کہلاتا ہے میں نبی آئے وہ نبیوں میں سے ہے یہ جو علماء امتی کانبیاء وہ ان میں سے ہے الاولیائ ہو ہوئی ہیں جن کی نبوت کا مقصد یہ ہوتا ہے لتاریخ بی احکام شریعت تا کہ وہ احکام شریعت کو کھول کر بیان کریں تو یہ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس لسانی تعالیٰ کا ذکر کیا اور وضو کا ذکر کیا اس کے بعد دیکھیں گے کہ میں نے پہلے بھی اس کا حوالہ پیش کیا تھا عرفان کتاب ہے قبلہ حضرت قبلہ فقیر نور محمد سروری قادری کلاچی عصمت اللہ علیہ یہ دیوبندیوں کے ہیں بارہ میں یہ شائع ہوئی ہے کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان سے وہا صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور ان کیفیات کا ذکر کرتے ہیں جو ان خلوتوں کی بات ہے تو فرماتے اس کی کیفیت یوں تھی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود میں تو اسم اللہ ذات نے پھلنے پھولنے کا تقاضہ شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندر نزول وحی کے آثار محسوس کی ہے حضرت مریم کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے باطن میں ہم ملے وہیں کی بے واسطہ ثقالت کو معلوم کیا براہ راست جو اس کا بوجھ تھا ولی کے گوشت کا تھا اس کے وزن کو اس کے بارے کو محسوس کیا معلوم کیا اور بمقتضائے فحملتہ فانتبذت بہ مکانا قصیا نہ اس کو مریم کے اس عمل سے جس سے ایسا پیدا ہوئے علیہ السلام آیت سے مثال دی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دستیاب انکار کیا اور آبادی سے دور ایک پہاڑ کے غار میں جسے غار حرا کہتے ہیں جا کر موت کی خبر آ گئے اور بعد میں نے تو ہم کیسے چنے اور پھوٹنے اور روحانیات کے وضع حمل اور تولد ہونے کے انتظار میں بار بار وہاں جایا کرتے تھے اور تو یہ جس تعلقات کی یہ بات کرتے ہیں کے بارے میں پیزا اور وہی کے حساب سے حمل سے تشبیہ دی ہے انہوں نے اس سے بھارت کو کیا کریں گے تو یہ جو اللہ تعالی سے تعلق ہوتا ہے اس میں یہ ساری تمثیلات اس کی زبان میں یہ واقعات ظاہر کیے جاتے ہیں اور بیان کئے جاتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو آل رازونیاز کی باتوں اور کرتوتوں کا ذکر کیا جس کا ذکر سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے کیا ہے اور اگر سلام کے بارے میں تو بہت بڑھ چڑھ کر ہونے والوں نے بیان کر دیا حضرت داتا گنج بخش سید علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کی بات کی ہے اور وہاں کی کیفیات کا ذکر کیا کہ آپ اوپر تشریف لے گئے اور صفاتی روشنی میں گم ہوگئے اور فنائے صفات میں متحیر تھے پھر اس کی مزید تفصیل بیان کر کے جب واپسی کا ذکر کرتے ہیں وہ اسے معراج سے واپس آنے کا تو فرماتے ہیں اور فرمایا انہیں لذتوں کا حکم تمہارے جاز تم میں سے کسی جیسا نہیں ہوں انہیں ابھی تو اندر بی میں اپنے رب کے حضور رات بسر کرتا ہوں فائیو ون یو جس کی اور وہیں مجھے وہاں کھلاتا اور پلاتا ہے ترجمہ کیا میں تم لوگوں جیسا نہیں ہوں میں حضور حق میں شب گذاری کرتا ہوں اور وہ مجھے کھاتا کہلاتا ہے میری جان میری زندگی اور بقا اسی سے وابستہ ہے حضرت داتا گنج بخش کے الفاظ نیز فرمایا لی مع اللہ وقت اس لئے میں تو بعد میں پڑھ لی مع اللہ وقت لا یسعنی فیہ ملک مقرب ولا نبی مرسل مجھے حضور حق ایک ایسا وقت میسر آتا ہے اللہ کے حضور جان میں ہوتا ہوں تو ایک ایسا وقت میسر آتا ہے کہ وہ اس وقت کوئی مقرر فرشتہ یا نبی مرسل درمیان میں حائل نہیں ہوتا یہ ہے وہ روحانی تعلقات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاری ہوئے ہیں آپ کے فیض سے ہیں امت کے علماء اور اولیاء اور 16 آئمہ میں وجہ دین میں اولیاء اللہ جو خدا کے حضور شب گزاری کرتے ہیں ان میں نسب محمد صلی اللہ وسلم کا فیض ہے مگر ان لوگوں کی تاریخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اس طرح کے خلفاء سفلی جذبات والے انہوں نے اس کے علاوہ کیا باتیں کرنی ہے انہوں نے تو اپنے ہاتھ کو دیکھنا ہے تو یہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک بہت ہی پاکیزہ اور ایسا خدا تعالی سے نہا تعلق تھا کے اس زمانے میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور آپ نے فرمایا کہ اس زمانے کے لوگ اس سے بے خبر ہے یہ حالات ہر کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے یہ نبیوں کی آمد کی ایک علت غائی بھی ہوتی ہے ان کے آنے کی وجہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو خدا سے ملائے ملتا ہے مگر ایسے لوگ جو دنیا کے گندے لوگ ہیں دنیا پر پڑے ہوئے ہیں یہ نہیں کہتے روزنامہ اسلام ان کو بتا دیا مت کرو بات وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین جزاک اللہ احسن الجزاء ہادی صاحب نظر نکلے پروگرام میں ایک نئے طرز کے جواب کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  صرف دشمن کو کیا ہم نے بہت بہت کام علم سے دکھایا احمدیہ مسلم جماعت رشتہ ثانیہ کی الہی تحریک 

#Islam#Ahmadiyya#TrueIslamCa 𝗢𝗥𝗜𝗚𝗜𝗡𝗔𝗟 𝗦𝗖𝗔𝗡𝗡𝗘𝗗 𝗥𝗘𝗙𝗘𝗥𝗘𝗡𝗖𝗘𝗦 𝗟𝗜𝗡𝗞: https://bit.ly/3w8wv2d 𝐕𝐈𝐃𝐄𝐎 𝐇𝐈𝐆𝐇𝐋𝐈𝐆𝐇𝐓𝐒 (𝐌𝐈𝐍𝐔𝐓𝐄 𝐂𝐀𝐒𝐓): 00:50 : 𝑨𝒍𝒍𝒆𝒈𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏: 𝑾𝒉𝒆𝒏 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑴𝒊𝒓𝒛𝒂 𝑺𝒂𝒉𝒊𝒃 (𝒂𝒔) 𝒔𝒕𝒂𝒕𝒆𝒔 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝒉𝒆 𝒉𝒂𝒔 𝒂 𝒑𝒆𝒓𝒔𝒐𝒏𝒂𝒍 (𝒔𝒆𝒄𝒓𝒆𝒕𝒊𝒗𝒆) 𝒓𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒘𝒊𝒕𝒉 𝑨𝒍𝒍𝒂𝒉 𝒕𝒉𝒆 𝒆𝒙𝒂𝒍𝒕𝒆𝒅, 𝒉𝒆 𝒄𝒐𝒎𝒎𝒊𝒕𝒔 𝒄𝒐𝒏𝒕𝒆𝒎𝒑𝒕 𝒐𝒇 𝑮𝒐𝒅 𝒂𝒔 𝒔𝒆𝒄𝒓𝒆𝒕𝒊𝒗𝒆 𝒓𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒄𝒂𝒏 𝒐𝒏𝒍𝒚 𝒎𝒆𝒂𝒏 𝒂 𝒇𝒐𝒓𝒃𝒊𝒅𝒅𝒆𝒏 𝒐𝒓 𝒊𝒍𝒍𝒊𝒄𝒊𝒕 𝒓𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 (نعوذ باللہ) 02:25 : 𝑨𝒏𝒔𝒘𝒆𝒓: 𝑶𝒓𝒊𝒈𝒊𝒏𝒂𝒍 𝑻𝒆𝒙𝒕 𝒘𝒊𝒕𝒉 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒕𝒐 𝒕𝒉𝒆 𝒄𝒐𝒏𝒕𝒆𝒙𝒕. 04:35 : 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 01: 𝑴𝒆𝒂𝒏𝒊𝒏𝒈 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝒘𝒐𝒓𝒅 𝑯𝒊𝒅𝒅𝒆𝒏 (نہانی) 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝒅𝒊𝒄𝒕𝒊𝒐𝒏𝒂𝒓𝒚. (𝑪𝒉𝒆𝒄𝒌 𝒕𝒉𝒆 𝒍𝒊𝒏𝒌 𝒐𝒏 𝒕𝒐𝒑 𝒇𝒐𝒓 𝒂𝒍𝒍 𝒐𝒓𝒊𝒈𝒊𝒏𝒂𝒍 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆𝒔) 05:10 : 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 02: 𝑯𝒊𝒌𝒂𝒚𝒂𝒕 𝒆 𝑹𝒖𝒎𝒊 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆; 𝒔𝒕𝒐𝒓𝒚 𝒓𝒆𝒍𝒂𝒕𝒆𝒅 𝒕𝒐 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑴𝒖𝒔𝒂 (𝒂𝒔) 𝒂𝒏𝒅 𝒕𝒉𝒆 𝑺𝒉𝒆𝒑𝒉𝒆𝒓𝒅. 06:30 : 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 03: 𝑯𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝑯𝒐𝒍𝒚 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕 𝑴𝒖𝒉𝒂𝒎𝒎𝒂𝒅 (ﷺ) 𝒇𝒐𝒓 𝒔𝒖𝒄𝒉 𝒑𝒆𝒐𝒑𝒍𝒆 𝒘𝒉𝒐 𝒅𝒐 𝒏𝒐𝒕 𝒉𝒂𝒗𝒆 𝒎𝒐𝒅𝒆𝒔𝒕𝒚, 𝒑𝒖𝒅𝒆𝒏𝒄𝒚 𝒐𝒓 𝒄𝒉𝒂𝒔𝒕𝒊𝒕𝒚 𝒕𝒐 𝒅𝒐 𝒘𝒉𝒂𝒕𝒆𝒗𝒆𝒓 𝒕𝒉𝒆𝒚 𝒘𝒂𝒏𝒕 𝒕𝒐. 07:05 : 𝑹𝒆𝒔𝒑𝒐𝒏𝒔𝒆: 𝑬𝒙𝒄𝒆𝒓𝒑𝒕𝒔 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈𝒔 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝑷𝒓𝒐𝒎𝒊𝒔𝒆𝒅 𝑴𝒆𝒔𝒔𝒊𝒂𝒉 (𝒂𝒔) 𝒆𝒙𝒑𝒍𝒂𝒊𝒏𝒊𝒏𝒈 𝒉𝒊𝒔 𝒍𝒐𝒗𝒆 𝒂𝒏𝒅 𝒓𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒘𝒊𝒕𝒉 𝑮𝒐𝒅 𝒂𝒏𝒅 𝒇𝒖𝒓𝒕𝒉𝒆𝒓 𝒂𝒅𝒗𝒊𝒄𝒆 𝒕𝒐 𝒑𝒆𝒐𝒑𝒍𝒆 𝒘𝒉𝒐 𝒑𝒐𝒊𝒏𝒕 𝒇𝒊𝒏𝒈𝒆𝒓𝒔 𝒂𝒕 𝒕𝒉𝒊𝒔 𝒆𝒙𝒕𝒓𝒆𝒎𝒆 𝒍𝒐𝒗𝒆. 11:00 : 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 04: 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑺𝒚𝒆𝒅 𝑨𝒃𝒅𝒖𝒍 𝑸𝒂𝒅𝒊𝒓 𝑱𝒊𝒍𝒂𝒏𝒊 (𝑮𝒉𝒐𝒖𝒔 𝒂𝒍 𝑨𝒛𝒂𝒎) 𝒆𝒙𝒑𝒍𝒂𝒊𝒏𝒊𝒏𝒈 𝒓𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒕𝒐 𝑮𝒐𝒅! 𝑹𝒆𝒂𝒅 𝒕𝒉𝒆 𝒘𝒐𝒓𝒅𝒔 𝒂𝒏𝒅 𝒕𝒉𝒆 𝒂𝒄𝒄𝒖𝒔𝒆𝒓𝒔 𝒔𝒉𝒐𝒖𝒍𝒅 𝒕𝒉𝒆𝒏 𝒑𝒖𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝒄𝒉𝒂𝒓𝒈𝒆𝒔 𝒐𝒇 𝒃𝒍𝒂𝒔𝒑𝒉𝒆𝒎𝒚 𝒐𝒏 𝒉𝒊𝒎 (نعوذ باللہ). 12:45: 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 05: 𝑩𝒐𝒐𝒌 𝒏𝒂𝒎𝒆: 𝑰𝒓𝒇𝒂𝒏; 𝑨𝒖𝒕𝒉𝒐𝒓: 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑸𝒊𝒃𝒍𝒂 𝑵𝒐𝒐𝒓 𝑴𝒖𝒉𝒂𝒎𝒎𝒂𝒅 𝑺𝒂𝒓𝒘𝒂𝒓…. 𝒘𝒂𝒕𝒄𝒉 𝒕𝒉𝒆 𝒄𝒉𝒐𝒊𝒄𝒆 𝒐𝒇 𝒘𝒐𝒓𝒅𝒔 𝒖𝒔𝒆𝒅….𝑾𝒊𝒍𝒍 𝒕𝒉𝒆 𝒂𝒄𝒄𝒖𝒔𝒆𝒓𝒔 𝒏𝒐𝒘 𝒈𝒐 𝒂𝒏𝒅 𝒑𝒖𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝒔𝒂𝒎𝒆 𝒂𝒍𝒍𝒆𝒈𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 𝒐𝒏 𝒉𝒊𝒎? 𝑻𝒉𝒐𝒖𝒈𝒉𝒕 𝒕𝒉𝒆𝒔𝒆 𝒘𝒐𝒓𝒅𝒔 𝒉𝒂𝒗𝒆 𝒈𝒓𝒆𝒂𝒕 𝒂𝒏𝒅 𝒏𝒊𝒄𝒆 𝒎𝒆𝒂𝒏𝒊𝒏𝒈𝒔!! 15:00 : 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 06: 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑫𝒂𝒕𝒂 𝑮𝒖𝒏𝒋 𝑩𝒖𝒌𝒔𝒉 (حضرت داتا گنج بخشؓ) 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝑲𝒂𝒔𝒉𝒇𝒖𝒍 𝑴𝒂𝒉𝒋𝒐𝒐𝒃. 𝑻𝒉𝒊𝒔 𝒊𝒔 𝒓𝒆𝒈𝒂𝒓𝒅𝒊𝒏𝒈 𝒕𝒉𝒆 𝑯𝒐𝒍𝒚 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕 𝑴𝒖𝒉𝒂𝒎𝒎𝒂𝒅 (ﷺ).SHOW LESS

 68 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: