𝐌𝐚𝐡𝐝𝐢 𝐚𝐮𝐫 𝐌𝐚𝐬𝐢𝐡 𝐚𝐢𝐤 𝐰𝐚𝐣𝐨𝐨𝐝 – مسیح اور مہدی ایک وجود۔ حدیث سے ثبوت




𝐌𝐚𝐡𝐝𝐢 𝐚𝐮𝐫 𝐌𝐚𝐬𝐢𝐡 𝐚𝐢𝐤 𝐰𝐚𝐣𝐨𝐨𝐝 – مسیح اور مہدی ایک وجود۔ حدیث سے ثبوت

Mar 23, 2021

پھول اعوذ باللہ من شیطان رجیم اللہ رحمان الرحیم اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرا نام سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کتابوں پر مخالفین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جواب لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہیں حاجی صاحب ہم براہین احمدیہ کی بات کر رہے ہیں اور یہ اب جو میرا سوال ہے وہ بھی براہین احمدیہ سے ہی ہے حضرت مسیح موعود اسلام میں براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ایک حدیث فرمائی ہے اللہ ییسر مہدی اور عیسی ایک ہی وجود ہی میرا وجود کے دو نام ہے یہ کہہ کر اس میں حضور نے فرمایا کہ یہ نہیں ہے مجھے کال فین یہ کہتے ہیں کہ محدثین کی اصطلاح ہے اور یہ کہتے ہی عبدالمقصود ہم اس میں انہوں نے مصنف نے جو بحث کی ہےں کہ یہ حدیث باعتبار صحت درست نہیں اس کے بارے میں کچھ بتائیں جو بات بار صحت ہی درست ہیں ان کو مانتے ہیں ان کو مال کی آزمائش استعمالی مالش کرنا یا رسول اللہ کو میری ماں کا منہ اس کو ماننا ہے مجھے ایک ایسی ہے اور انکار کرنے کے لیے کوئی راستہ نکالنا ہے یہ جو شروع کرتے ہیں اس کا جواب بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم و علی عبدالمسیح مود یہ جو انہوں نے بات کی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ صحیح حدیث اور باقی سب پر جانا ہے وہ اصل میں پڑھتا ہوں مہندی حسن پنجم صفحہ 356 ہے حضور محمد میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمہ تھا رہتی وغیرہ ہے دعوت مسیح موعود ہونے کا ہے اس کے لئے کسی محدث کا قول نہیں کہ وہ بنی فاطمہ وغیرہ میں سے ہوگا ہاں اس ساتھ اس کے جیسا کہ تمام محدثین کہتے ہیں کہو کہ مہدی معہود کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں اور ایک بھی ان میں سے صحیح نہیں اور جس قدر ان حدیثوں میں ہوا ہے کسی اور حدیث میں ایسا نہیں ہوا بڑی واضح بات ہے اور آگے وجہ بیان فرماتے ہیں کہ خلفای عباسی وغیرہ کے عہد میں خلیفوں کو اس بات کا بہت شوق تھا کہ آپ نے ای مہدی موعود قرار دی اس وجہ سے بعض حدیثوں میں بنی عباس میں سے قرار دیا اور بعد میں بنی فاطمہ میں سے اور بازو میں یہ بھی ہے کہ راجعون نعمتیں آدمی میری امت میں سے ہوگا مگر دراصل تمام حدیث کسی اعتبار کے لائق نہیں یہ صرف میرا ہی کال نہیں بلکہ بڑے بڑے علماء اہل سنت یہی کہتے چلے آئے ہیں حدیثوں کے مقابلے پر یہ حدیث بہت صحیح ہے ابن ماجہ نے لکھی ہے اور وہ یہ ہے مہدی الا عیسیٰ یعنی کوئی مادی نہیں صرف ایسا ہی مہدی ہے جو آنے والا ہے براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 356 اب یہ جو کہتے ہیں کہ یہ اس پر بھی ذرا ہے مخالفین المحدثین جلد کی اس پر بھی جا رہا ہے اور یہ کہتے ہیں یہ بات بار اسے درست نہیں لیکن جہاں تک کہ اس کے اوپر جگہ کا تعلق ہے بعض راویوں پر بحث کرتے ہیں مگر انہیں راویوں کے بارے میں نے یہ مقدمہ ابن خلدون میں تفصیل بھی درج ہے پیر راویوں میں محمد بن خالد الجندی معتبر ہے کیونکہ اس سے امام شافعی جیسے نقاد نے روایت لی ہے تو ایک راوی جو ہے وہ معتبر ہے اس روایت میں اور پھر ابن معین بھی ہے اور اس کے بارے میں لکھا ہے کہ یحییٰ بن معین کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ ہو امام الجرح و تعدیل حدیثوں پر جمع کرنے اور ان کو جانچنے پڑتا نہیں کے حساب سے امام ہے کہا گیا ہے کہ کل وہ دیسی لا یعرف ہو تو مہینے دو مہینے یعنی صحابہ حدیث کہ جس حدیث کو ابن معین نہیں جانتا وہ حدیث ہی نہیں ایسا شخص جس سے راوی کو ثقہ قرار دے اس کی روایت میں کس طرح شروع ہو سکتا ہے سے بی اس میں جو شک کی گنجائش ہے وہ بھی دور ہو جاتی ہے ایک اور بات ہے جو اس کو بہت تکلیف دیتی ہے اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مہدی ہی ایسا ہے یعنی ایک وجود کے دو نام ہے مسند احمد بن حنبل نے امام احمد بن حنبل نے بھی روایت کیا ہے لیکن دوسری سند کے ساتھ اور دوسرے الفاظ کے ساتھ انہوں نے لکھا ہے کہ حدثنا محمد بن جعفر قال حدثنا ہشام بن حسان ابن محمد عن ابی ھریرہ بڑی پسند ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کالا یوشک کو منا شہادت کو 22 نمبر یا امام الموحدین حکم المعادن فی کثیر صلیب اور ڈاکٹر نذیر اعجاز فریدی آتا زہر بازار ہہ کیا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میں سے تم میں حضرت عیسی علیہ السلام ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے جو زندہ رہے گا وہاں سے ملے گا وہ صلیب توڑیں گے اور قتل کریں گے تمام مسیح کو ملیں گے ایسی حالت میں کہ وہ امام مہدی ہوں گے تو یہ جو روایت ہے یہ اپنی سند کے اعتبار سے بالکل صحیح روایت ہے اور عیسیٰ بن مریم کو امام مہدی قرار دیا گیا ہے واضح الفاظ میں اینجل کا عیسی بن مریم امام مہدی ع یہ وہی المہدی الٰہی سا ہے ایسی ہی ایسا ہی ہے جس کے دو نام ہیں اور وہی ایک وجود کے دو نہ تو جب ایک روایت کو دوسری روایت غلطی ہو تو اس کے رد کی کوئی گنجائش نہیں رہتی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس وجہ سے جو فرمایا ہے کہ یہ حدیث بہت سے ہی ہے یہ نسخہ کے بعد بہت سے ہے نہیں ہو سکتا لیکن اس سے آگے بھی چلتے ہیں اس دیس کو بہت سارے لوگوں نے یعنی مصنفین نے یا ائمہ حدیث نے لیا ہے مستدرک حاکم میں بھی امام محمد بن عبداللہ حاکم نے بھی لیا ہے حلیۃ الاولیاء میں حسن ولد فی الفتن میں بھی ہے اسی طرح شعر فی معرفۃ علوم الحدیث یہ گیارہ کتابیں ہیں جس میں اس کی ہے اور جس پر وہ احادیث جن میں مسیح اور مہدی قرار دیا گیا ہے تفسیر مجاہد احمد بن حنبل میں وہ روایت میں نے بھی پڑھی ہے اسی طرح نعیم بن حماد کی کتاب کتاب الفتن مسندالبزار معجم الاوسط کامل فی ضعفاء الرجال و معرفۃ السنن والآثار یہ کتابیں جنہوں نے اس دیس کو مسیح اور مہدی کو اکٹھا کیا ہے اس لحاظ سے یہ حدیث اپنے مضمون اسے اپنے اپنے استناد کے لحاظ سے حدیث ہے اسے انکار کرنا مقصود نہیں یہ انہوں نے امام قرطبی کا جو قول درج کیا ہے بہت اعلی بحث ہے وہ بھی پڑھ دیتا ہوں تاکہ پتہ چلے کہ اس کو اتنا آسان نہیں کہ اس کو رد کیا جائے بلکہ ممکن نہیں کہ اس کو رد کیا جائے یہ بہت اعلی حدیث اور جہاں مطلب سمجھے کالر قرطبیہ میں لو یہ کون کون ہوں علیہ السلام علامہ دیا اللہ عیسی بن مریم علیہ السلام مہدیہ کا محل ان معصوم الحسن بن مریم تو بھی کہتے ہیں کہ اس قول کا عمل المہدی اللہ ایسی یہ جو روایت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس علم کے قول کا کہ جو عیسی بن مریم ہے وہ ایک امام مہدی ہوگا اسکول ایک دوسرے معنے آگے ہے اور بھی ہوں گے ایسا بھی ہو رہا ہوں گے مگر جو اصل لیث ابن مریم جو رسول اللہ صلی وسلم کی پیشگوئی کا مصداق ہے اصل کامل مہدی ہوگا مجھے بالکل ایک نیا مانا اور نیا عرفان ہے جو انہوں نے دیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنی کتاب میں اس کا ذکر فرمایا دعاء الحاجۃ میں الحدیث و جفا کار اور اس وجہ سے یہ حدیث ہر قسم کا تعارض جاتا ہے اس میں جو بحث ہوتی ہے کہ یہ ٹھیک ہے یا نہیں وہ اٹھ جاتا ہے وقال ابن کثیر ی1 کہتے علامہ ابن کثیر جن کی جنہوں نے تاریخ بھی لکھی اور تفسیر بھی ہزاروں بار دل بار بار دہرائے مخالف الاحادیث الواردہ فی اثبات المھدی علیہ السلام وادی نظر میں یا بعد رائے میں یہ جو نظر آتا ہے کہ یہ دوسری احادیث کے مخالف ہے غیرہ ایس نمبر ون وے جانی مہدی جو ہے وہ عیسیٰ بن مریم کے علاوہ ہے وہ ان دا ملا کے ذرا غور کریں تو یہ اس کے منافی نہیں ولی کون اور مراد علی کا اس سے مراد یہ ہے المھدیہ وہ مرد نہیں جو اصل مہدی ہے ایسا ویسا ولا یحض علی کا ایک وغیرہ غیر احمدی نژاد اور یہ اس بات کی نفی نہیں کہ ان کے علاوہ بھی مادی ہو سکتے ہیں یہ جو مہدی ہونا ہے ایسا نے یا ایس ایم ایس اس سے مراد یہ نہیں کہ ماضی میں ایسا ہونا ہے یہ جو روایت ہے یہ اپنی جگہ ایک صحیح روایت ہے صحیح حدیث ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالی نے ایک ہی وجود میں یہ دونوں صفات عطا کی ہیں دونوں نام عطا کیے ہیں حقہ اس پر ایک طرح سے علماء کا اجماع ہے جو ہم نے ابھی آپ کو بتایا بہت سارے نے اس حدیث کو درج اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی نظم میں بھی فرمایا کہ مجھے ان منصوبوں کی کوئی فکر کوئی ضرورت نہیں لیکن اللہ تعالی نے دیے ہیں تو یہ رسول اللہ صلی وسلم کی صداقت کے نشان ہے مگر اگر تم کہتے ہو تو خود بن مہدی خود بنو ماضی با کمی کرے گا تم بن کے دکھا دو کون ہے یہ جان سکتا ہے باتیں تو ہر کوئی کر سکتا ہے تو یہ اعتراض بالکل اعتراض ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس حدیث کو صحیح حدیث قرار دیا آپ کا مقام انہی روایات میں بھی ہے اپنے حکم کے طور پر اسے درست کر یہ روایت ہے اس پر کوئی حرف نہیں ہو سکتا مولانا منیر احمد اللہ جزاکم اللہ احسن الجزاء حاجی صاحب ناظرین کرام آپ نے ایک دفعہ پھر دیکھا کہ مخالفین کی طرف سے جو اعتراض اٹھائے جاتے ہیں میں اکثر ان کے کہنا چاہیے کہ سارے ہی نہایت کمزور اور علم و عرفان سے عاری ہوتے ہیں آپ کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تب تک کے لئے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صرف دشمن بہت دکھا احمدیہ مسلم جماعت فرشتہ ثانیہ کی ایک الہی تحریک

#TrueIslam #Ahmadiyya #Messiah #Answers Twitter: @TrueIslamCA Facebook: @TrueIslamCA یہ وڈیو جماعتِ احمدیہ کے مخالفین کے اس اعتراض پر جواب دیتی ہے جس میں وہ سیدنا حضرت ‘مسیح موعودؑ کی براہینِ احمدیہ حصہ پنجم میں پیش کردہ اس حدیث، ’لا مہدی الا عیسیٰؑ کی صحت پر بحث کرتے ہیں اور اس حدیث کی تکذیب کرتے ہیں۔ اس وڈیو میں حوالہ جات کے ذریعہ راویوں کا ثقہ ہونا ثابت کیا گییا ہے، نیز دیگر حوالوں کے ساتھ مسند احمد بن حنبل اوردیگر ۱۰ کتابوں سمیت ۸ اور احادیث کے حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ سنن ابن ماجہ میں مذکورہ یہ حدیث معیار کے حوالہ سے صحیح ہے۔ وڈیو میں پیش کردہ حوالہ جات کے لئے وزٹ کریں: https://www.alislam.org/urdu/rk/Ruhan… یُوْشَکُ مَنْ عَاشَ مِنْکُمْ اَنْ یَّلْقٰی عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اِمَامًا مَھْدِیًّا وَ حَکَمًا عَدَلًا(مسند امام احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۴۱۱الطبعۃ الثانی ۱۹۷۸ء مکتبہ اسلامی بیروت) کہ عیسیٰ بن مریم جو امت کے موعود ہیں وہ امام مہدی بھی ہوں گے اور حَکم اور عادل بھی ہوں گے۔ ۔حديث ‘‘لَا الْمَھْدِي اِلَّا عِيْسٰي ’’ کونسي کتب ميں موجود ہے ؟ يہ حديث سنن ابن ماجہ سميت 11؍ ابتدائي کتب ميں انہي کي سند سے موجود ہے ۔يہ سند بنيادي طورپر مشترک ہے اس ميں فقہ کے مشہور امام حضرت امام شافعي بھي ہيں اکثر ميں حضرت انسؓ کے واسطہ سے روايت رسول اللہ ﷺتک پہنچتي ہے اوربعض ميں حضرت حسنؓ سے روايت ہے ۔ان سب کتب کي فہرست مصنفين کے زمانہ کي ترتيب سے درج ہے ۔ 1 ۔سنن ابن ماجہ۔ محمد بن يزيد القزويني۔ متوفيٰ 273ھ۔ کتاب الفتن باب شدة الزمان حديث نمبر4039 2۔مستدرک حاکم ۔محمد بن عبداللہ الحاکم۔متوفيٰ 405ھ۔ کتاب الفتن باب لا يزداد الامر الا شدة ۔حديث نمبر 8363 ۔جلد 4صفحہ 488۔ 3۔ حلية الاوليا٫۔ابو نعيم احمد بن عبداللہ۔متوفيٰ 430ھ۔ حالات امام شافعي ۔جلد 19صفحہ 161۔دار الکتاب العربي بيروت 1409ھ۔ 4۔ السنن الواردةفي الفتن۔عثمان بن سعيد الداني ۔متوفي 444ھ۔ باب في الازمنہ حديث نمبر 217۔ جلد نمبر 3صفحہ 521۔ نيز جلد نمبر 5صفحہ 1075 باب من قال ان المہدي عيسٰي۔حديث نمبر589۔دار العاصمہ الرياضسعودي عرب طبع اوّل 1416ھ۔ 5۔ الارشاد في معرفة علما٫الحديث۔ابويعلي الخليلي متوفيٰ 446ھ ۔باب ابو موسيٰ ۔جلد 1صفحہ 425مکتبة الرشد الرياض ۔طبع اول 1409ھ۔ 6۔ مسند الشہاب ۔محمد بن سلامة القضاعي۔ متوفيٰ 454ھ۔جلد 2صفحہ 468۔باب لا يزداد الامر الا شدة حديث نمبر 898۔ موسسة الرسالة بيروت ،طبع دوم 1407ھ 7۔معرفةالسنن والآثار۔احمد بن حسين البيہقي۔ متوفيٰ 458ھ ۔جلد 14صفحہ476۔باب احاديث الشافعي حديث نمبر 20827 ۔جامعہ دراسات الاسلاميہ کراچي۔ طبع اوّل 1412ھ۔ 8۔البعث والنشور۔ احمد بن بن حسين البيہقي ۔متوفيٰ 458ھ۔جلد1صفحہ135۔ باب خروج المہدي۔ مکتبہ دار الحجاز سعودي عرب ۔طبع اوّل 1436ھ۔ 9۔جامع البيان وفضلہ۔ابن عبدالبر القرطبي۔ متوفيٰ463ھ۔جلد1صفحہ604۔ باب قبض العلم۔ دار ابن الجوزي سعودي عرب۔طبع اوّل 1414ھ۔ 10۔الطيوريات ۔ابو الحسن الطيوري۔ متوفيٰ 500ھ جلد 2صفحہ 340۔ مکتبہ اضوا٫السلف رياض۔ طبع اوّل 1425ھ۔ 11۔معجم الشيوخ۔علي بن حسن ابن عساکر۔ متوفيٰ571ھ۔جلد1صفحہ435۔باب صخر ۔دار البشائر دمشق ۔طبع اوّل 1421ھ۔ 2 ۔احاديث جن ميں مسيح کو امام مہدي قراردياگياہے (8) درج ذيل احاديث ميں وضاحت کے ساتھ مسيح کو مہدي اور مہدي کومسيح قراردياگياہے۔ اور عام طور پر يہ الفاظ استعمال ہوئے ہيں يَنْزِلُ عِيْسٰي ابْنُ مَرْيَمَ اِمَامًا مَہْدِيًّا يعني عيسيٰ بن مريم امام مہدي ہو نے کي حالت ميں نازل ہوں گے يہ8کتب ہيں ۔اور احاديث متعدد صحابہ ؓاورتابعين سے منقول ہيں ۔ان کے مصنفين نے اپني سند سے روايت کي ہے اور ان کي سند کو ثقہ کہا گيا ہے ۔يہ احاديث بعد کي متعدد کتب ميں پائي جاتي ہيں۔ ان کي فہرست مصنفين کے زمانہ کي ترتيب کے ساتھ پيش ہے ۔ 1۔تفسير مجاہد۔ مجاہد بن جبير التابعي المالکي۔متوفيٰ 104ھ۔جلد 1صفحہ 604۔سورة محمد۔ دار الفکر الاسلامي مصر۔طبع اوّل 1410ھ۔ 2۔ کتاب الفتن ۔نعيم بن حماد۔متوفيٰ228ھ۔ جلد 2صفحہ569۔باب نزول عيسي۔مکتبة التوحيد قاہرہ۔ طبع اوّل 1412ھ۔ 3۔مسند احمد ۔امام احمد بن حنبل۔متوفيٰ 241ھ۔جلد 15صفحہ187۔مسند ابي ھريرة۔حديث نمبر9323۔ مؤسسة الرسالة۔طبع اوّل 1421ھ۔ 4۔مسند البزار۔احمد بن عمرو البزار۔متوفيٰ 292ھ۔ جلد 17صفحہ 299۔حديث نمبر 10034۔ مکتبة العلوم المدينة ۔طبع اوّل 2009ء۔ 5۔معجم الاوسط۔ابوالقاسم الطبراني۔متوفيٰ 360ھ۔ جلد 5صفحہ27۔حديث نمبر 4580۔دار الحرمين قاہرہ۔ 6۔ الکامل في ضعفا٫ الرجال۔ ابن عدي الجرجاني۔ متوفيٰ 365ھ۔ جلد4۔ صفحہ247۔ حديث نمبر 740۔ باب سليمان بن ابي کريم۔الکتب العلميہ بيروت ۔طبع اوّل 1418ھ۔ 7۔بحر العلوم۔نصر بن محمد السمر قندي۔ متوفيٰ373ھ۔سورت النسا٫آيت 159۔اس ميں لکھا ہے نَبِيًّااِمَامًامَہْدِيًّا۔ وہ نبي ہو گا اور امام مہدي ہو گا۔ 8۔معرفة السنن ولآثار۔احمد بن حسين البيہقي۔ متوفيٰ 458ھ۔ جلد9صفحہ244حديث نمبر13013۔ باب ما يفعل بالرجال ا لبالغين۔طبع اوّل۔1418ھ This video responds to the allegation on the Hadith ” لا المہدی الا عیسٰی” the Mahdi is none but the Messiah that this Hadith is not Authentic. The Promised Messiah (as) has quoted the above Hadith in the 5th Volume of his famous book Brahin Ahmadiyya on page 356. https://www.alislam.org/urdu/rk/Ruhan… The opponents alleged that the Hadith is weak and not authentic. This program proves the authenticity of the Hadith by giving reference of the Narrators, through 11 books and referencing 8 books that have this Hadith including Sunan Ibn Maja. #Islam #Ahmadiyya #TrueIslam #AhmadiAnswers #Allegations #Messiah #Urdu

 60 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: