𝐀𝐥𝐥𝐞𝐠𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧: 𝐊𝐢𝐫𝐦-𝐞-𝐊𝐡𝐚𝐤𝐢 (𝐄𝐚𝐫𝐭𝐡 𝐖𝐨𝐫𝐦) (کرمِ خاکی و بشر کی جائے نفرت مقامِ استہزا یا سنت الانبیاء)




𝐀𝐥𝐥𝐞𝐠𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧: 𝐊𝐢𝐫𝐦-𝐞-𝐊𝐡𝐚𝐤𝐢 (𝐄𝐚𝐫𝐭𝐡 𝐖𝐨𝐫𝐦) (کرمِ خاکی و بشر کی جائے نفرت مقامِ استہزا یا سنت الانبیاء)

May 14, 2021

شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جواب لے کر حاضر ہیں خاکسار عبدالرب کے ساتھ محترم مولانا حالی چوہدری صاحب شامل ہو ہوں گے جو انشاللہ ان اعتراضات کے جواب دیں گے حاجی صاحب کا اظہار بھی براہین احمدیہ سے ہے ایک شعر ہے حضرت مسیح علیہ اسلام کا نظام ہے اس میں حضور نے شعر لکھا شعر پہ مخالفین اور وقاص اور علماء بدزبانی کی جاتی ہے تم سفر کیا جاتا ہے ایک قسم کا اپنا دھونا نکال کے وہ دکھا رہے ہوتے ہیں پھر یہ ہے ہمت ہی کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار اس کے بارے میں کچھ بتائیں یہ تو ابھی پتہ چل جائے گا کہ یہ اعتراض کرنے والے یہ جس قسم کا اعتراض کرتے ہیں یا گندے الفاظ استعمال کرتے ہیں یا تحقیر کرتے ہیں ان کا اپنا مقام کیا بنتا ہے جس وجود نے یہ کلام کیا کیا ہے انبیاء جو ہے وہ عجز و انکسار میں دوسروں سے اور اس کا اعلیٰ نمونہ ہوتے ہیں لے لو سٹوری دوسری طرف وہ اللہ تعالی کی صفت جلال کے بھی مظہر ہوتے ہیں تو ایک ہی وجود میں یہ دونوں بڑی شان و شوکت کے ساتھ جو ہیں جلوہ گر ہوتی ہیں اور ہر مسیح علیہ السلام نے یہ شعر ارشاد فرمایا لیکن دوسری جگہ انسان کو بھی تعلیم دی کہ ان مہینہ المھیمن لائیو تکبرانہ حلقہ زحفا حدود فلاحی انسان کا کیڑا ہے نہ ہونے والا دودھ اپنے والا کیڑا ہے تو خدائے محمد جو ہے وہ اپنی مخلوق میں تکبر پسند نہیں کرتا غور وہ کونسی مخلوق ہے جو کمزور ہے اور ایک فنا ہونے والا کیڑا ہے اور اپنے بارے میں بھی حضرت سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام وما نحن اللہ کل فتیلی منزل تھا بائیو نہیں بلند ہوا کرو اپنے مخالفوں کی آنکھوں میں تو ہم ایک کھجور کی گٹھلی کے درمیان ایک لکیر ہوتی ہے اس سے بھی ہم زیادہ نہیں تو بلکہ اس سے بھی زیادہ حقیر ہے تو تعلیم کیا ہے تعلیم یہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ مسلم کتاب البر والصلہ کی حدیث ہے وفات حضرت آواز الحمداللہ ہے رفعہ اللہ جتنا آپ نیچے ہوں گے جتنا اور انکار کریں گے آپ کو رفع کرے گا اٹھا لے گا جس میں کہتے ہیں نہ صرف تو یہ عام وسلم میں اضافہ فرمائے اللہ تعالی آپ کو اٹھائے گا رفتہ عطا کرے گا اللہ تعالی یہ پسند کرتا ہے اپنے بندوں میں اور یہودیوں کی کتاب صحافی میں بھی موجود ہیں مثال کے ایک تحریر میں پیش کرنا چاہتا ہوں جس میں یہ تحقیر کے معنوں کو اذن سفر ہونے کو ہے اور انشاء اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پڑھانے کے لئے میں آیا ہے وہ عالم کیا صوفی و محیای و مماتی اور آخر میں وانا اول المسلمین سورۃ الانعام 163 ہے اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان نادان معاہدوں کا درد ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر کھلی ثابت نہیں کہ بستر میں ایک عبارت میں حضرت سلام اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو نکھار کر بیان فرماتے تو اور ضعیف حدیثوں کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مجھ کو یونس بن متی سے بھی زیادہ فضیلت دی جائے مجھے نہیں لگتا تو یہ نیا لا موسی من قال انا خیر منہ تھا کہ دے جھوٹ بولا فرمائیں یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اگر وہ حدیث صحیح بھی ہو ابھی وہ بطور انکسار اور تسلسل ہے یہ اسلم کی ایک عظیم کی ساری تھی کہ کسی سے اپنے آپ کو بہتر قرار نہیں دیا جو ہمیشہ ہمارے سید و سید صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی ہر ایک بات کا ایک موقع ہوتا ہے سالے اپنے خط میں واقعہ کربلا بعد اللہ کروا بعد لکھے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ شخص درحقیقت تمام دنیا کے بت پرستوں اور تمام فاصلوں سے بہتر ہے اور خود اقرار کرتا ہے کہ وہ آخری بادل ہیں اس قدر نادانی اور شرارت گریہ کرنے والے یہ شرارتی نفس اور نادانی سے یہ کرتے ہیں ان کو ٹھیک تو کرتا ہوں ان کے ساتھ تو آیا نہ قبر میں فرشتے اب یہ جو ایک طرف شان انکساری ہوتی ہے اور دوسری طرف خدا کے جلال کے جو مظہر ہوتے ہیں اب ان اللہ علیہ وسلم کی مثال دی کہ حضرت یونس بن حضرت یونس بن متی سے بھی اپنے آپ کو فضیلت اور دوسری طرف انا سید ولد آدم ولا فخر میں اس پوری خادم کا میں بادشاہوں کا کردار اس میں پھر وہی تو زندہ رہے گا اور یہ دیکھنے کے شہنشاہ کس طرح نے آدمی بھیجے ہیں ان کو گرفتار کرکے انسانوں کی طرح میں کل ملوں گا اور اگلے دن جا کے ان سے کہا کہ تو مجھے گرفتار کیا کروگے میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار دیا جس کے کہنے پر آئے شرافت ہو چکا یہی مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام دی تعریف فرماتے ہیں نثار سے کہہ کر میں خاک ایک مجسٹریٹ نے آپ کو گرفتار کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا کہ وہ مجھے کیا گرفتار خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال کر لیں گے تو ہم تو بستے ہیں فلک پر اس میں کو کیا کریں ملازم حسین محمد علیہ الصلاۃ والسلام کے اور فرماتے ہیں آتا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں یہ خدا کے جلال کے مزار ہے سب سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھے ہے نہیں یار میرے بد خواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ ہوا ایک فارسی شعر میں فرماتے ہیں کہ سوئے من بد ویدیو صابر یہ خبر لے کر میری طرف جو آرہا ہے اس باغ بابر طرز کے منشا کے موسم اللہ سے ڈر غسل دینے والی یہ دونوں پہلو ہوتے ہیں اب آگے چلتے ہیں یہ عوارف المعارف کتاب ہے جو علامہ شیخ سہروردی کی ہے مجھے ان کا بڑا بلند مقام ہے شیخ کا یہ کہتے ہیں صوفیاء میں انہوں نے جو بات لکھی ہے یہ قرض کرنے والوں کے اندرونی کمینے پن کو ظاہر کر دی کس طرح یہ بزرگوں پر گاؤں تو اسلام کی تعلیم کو ملاتے دوسری طرف ان لوگوں کو جو خدا ہیں لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفات کے منظر ہو کر آتے ہیں دنیا میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صل وسلم نے فرمایا کمال ایمان المراہقین الحساء زندہ ہوں کل عبائر کسی شخص کا ایمان مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ دوسرے لوگوں کو اونٹ کی منگنی نہ سمجھیں دوسرے لوگوں کو سمجھدار دیوانوں سے اپنے آپ کو دیکھا جا رہا ہے کو دیکھے کہ یہ تو اس میں تو اس سے بھی ہوتی ہے یہ وارثی مارک یہ اس حدیث سے یہ روایت جو انہوں نے کی ہے پیش کی ہے علامہ سرور دین ابومنصور دینے اس کے سامنے ان لوگوں کی کیا حیثیت ہوتی ہے یہ تو ایمان نوکیا مکمل ایمان میں داخل ہے نظر نہیں آتا اب یہ کتاب ہے تکیہ تو امام حضرت سید محمد اسماعیل دہلوی یہ صدر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے بارے میں پوچھتے ہیں بلند مقام ہے صوفیا میں بھی تھے اور علماء میں بھی تھے ربانی علماء میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ ہر مخلوق چھوٹا ہو یا بڑا ہو اللہ کے آگے جمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے یہ تقویۃ الایمان کا ارادہ ہے اس کے بعد دیکھیں گے تفسیر رازی ہمیں کیا کہتی ہے تفسیر رازی میں حضرت ایوب علیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں سورۃ انبیاء کے ایوب اذ نادا ربہ ہو اس کیا لکھتے ہیں کہ انہوں نے دعا کی یا اللہ یا نا عبدالجلیل ہو عن عبداللہ بن ابی حازم کے معنی وہ نہیں ہے جو اردو اور پنجابی میں ہوتے ہیں لیکن دلیل کا مطلب لال والا کس آرمی بہت ہیں چاہے وہ اپنے آپ کو دکھاتے اور یہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا بھی بار بار آتی ہے جواہر الاسرار کتاب ہیں علامہ مفتی نقی علی خان بریلوی انہوں نے یہ ایک بات لکھی ہے حضرت موسی علیہ السلام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے موسیٰ کاظم کے موجب تو مجھے یاد کریں اس سال میں یاد کر کے تو اپنے آزاد توڑتا ہوں اور میری یاد کے وقت خوشی و ساکن ہو جا اور جب مجھے یاد کرے اپنی زبان کو دل کے پیچھے کر اور جب میرے روبرو کھڑا ہو ذلیل کی طرح ہو یہاں اب یہ اردو والے لفظ سے اس کے بعد آپ آئیں حضرت داؤد علیہ السلام کا دیکھتے ہیں یہ کتاب مقدس ہے پرانا اور نیا عہد نامہ اس میں زبور کی کتاب میں باب 22 مئی آیت نمبر زبور لکھتے ہیں یا مصرعے ہیں جو بھی ہے نجم شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ادھر کی جائے نفرت اور انسانوں کی حالت حضرت داؤد علیہ السلام فرماتے ہیں پر میں تو کیڑا ہوں پر میں تو کیڑا ہوں انسان نہیں آدمیوں میں انگشت نما ہوں مبشر کی جائے نفرت اور لوگوں میں حقیر اور سب جو مجھے دیکھتے ہی میرا مذاق اڑاتے ہیں کوئی ترجمہ پورا قرآن کا ترجمہ ہے پر میں تو تیرا ہوں انسان نہیں پھر میں خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں کہاں ہوں انسان نہیں یاسر دوسری یہ تبصرے یہی بدزبانی یہی حرزا سرائی مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات پر اس شعر کو لے کر کرتے ہیں اس پر کہ حضرت داؤد علیہ السلام پر کے دیکھتے ہیں اللہ کریم ان کو وہ بتاتا ہے بتاتا ہے خدا کا سچا نبی تھا اتصال اور انکسار کا یہ حال ہے حضرت موسی علیہ السلام کو نہیں مانتے مگر وہ بات نہ کرے جس کے دوسرے انبیاء پر پڑھتی ابھی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی میں تو بڑی باربار یہ دوائی ہے ترجمہ کنگ جیمز واٹسن جو ہے اس میں بھی بالکل ٹھیک اور ترجمہ کیا ہے اب شیعہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایام درست ادراک کی حدیث ہے آپ نے فرمایا کہ ضعیف ہوں مجھے تکیہ تھا فرما میں ذلیل ہوں اور مجھے اللہ عنہ الفاظ معنی میں زمین ہو اس میں ضمیر کے معنی وہ نہیں ہیں جو اردو پنجابی کے یہ وہ مہینہ ہے جس میں غزل ہے یعنی انکساری ہے یہ کی دفعہ یہ حدیث آئی ہے مصنف ابن ابی شیبہ میں بھی ہے اور دوسری ایک اور کتاب ہے حذیفہ قوانین ذلیل القاعدہ نے اس کی کتابوں میں اس کا ذکر آیا ہے تو بات یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو انکسار دکھایا ہے وہ انبیاء کی سنت کے مطابق ہیں اور بینی حضرت داؤد علیہ السلام کے الفاظ ہیں اور حضرت موسیٰ میں یہ بات پہلے کہہ دی تھی کہ مجھ پر کوئی حقیقت راز نہیں ہوتا سب ویسے اعتراض ہے جو دوست گرمیاں پر بھی آتا ہے میرے ساتھ منہاج نبوت پر آکر بات کرو اپنے خیالات کے مطابق نہیں بنائے ہوئے معیاروں پر نہیں ان پر نہیں منہاج منھاج یہاں پر آ کر بات کروں اس سے فرماتے ہیں انبیاء کے طور پر ہوئی اور تمام مجھ سے جو ہم ملے ہیں ان میں سب نبی ہیں سردار اس وقت جو کہیں سے وہ سب پر آتا ہے چھوڑ دیں گے کیا وہ سب کو کفر کے اختیار اس کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے وآخرالدعوانہ اللھم لا سھل الا اسلامی نام آپ نے سنا کہ یہ جو اعتراض تھا کرم خاکی ہوں میرے ہمزاد ہو یہ اللہ تعالی کے سامنے آئیں اظہار تھاجو اپنی طرز کے بارے میں غیر مسلموں کے ساتھ اسلام میں کیا اور جو مولوی کو رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں اس کا جواب آپ نے سنا ہے اللہ تعالی ان سب کو ہدایت دے ان شاء اللہ اگلے پروگرام میں ایک طرف قسمت میں حاضر ہو گئے تب تک کے لئے اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ صرف دشمن کو کیا ہم نے بہت جدید ہے کام قلم سے

#Islam#Ahmadiya#TrueIslamCA#Answer#Allegations#Truth 𝐎𝐑𝐈𝐆𝐈𝐍𝐀𝐋 𝐋𝐈𝐍𝐊𝐒 𝐑𝐄𝐅𝐄𝐑𝐄𝐍𝐂𝐄𝐒: https://bit.ly/3bsMVuK (Scanned References with Original book links) 1:00 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑸𝒖𝒆𝒔𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒂𝒃𝒐𝒖𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝑽𝒆𝒓𝒔𝒆 (شعر): 𝑲𝒊𝒓𝒎 𝑲𝒉𝒂𝒌𝒊 𝒉𝒖𝒎 𝒎𝒆𝒓𝒂𝒚 𝒑𝒚𝒂𝒓𝒆, 𝒏𝒂 𝒂𝒅𝒂𝒎 𝒛𝒂𝒅 𝒉𝒖𝒏 2:15 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑻𝒆𝒂𝒄𝒉𝒊𝒏𝒈 𝒐𝒇 𝑯𝒖𝒎𝒊𝒍𝒊𝒕𝒚 𝒃𝒚 𝒕𝒉𝒆 𝑷𝒓𝒐𝒎𝒊𝒔𝒆𝒅 𝑴𝒆𝒔𝒔𝒊𝒂𝒉 (𝒂𝒔) 2:45 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑩𝒓𝒂𝒉𝒊𝒏 𝑨𝒉𝒎𝒂𝒅𝒊𝒚𝒚𝒂 𝑽𝒐𝒍 5 𝒘𝒉𝒆𝒓𝒆 𝑯𝒆 𝒉𝒆 𝒄𝒂𝒍𝒍𝒔 𝒉𝒊𝒎𝒔𝒆𝒍𝒇 𝒘𝒊𝒕𝒉 𝒆𝒙𝒕𝒓𝒆𝒎𝒆 𝒉𝒖𝒎𝒊𝒍𝒊𝒕𝒚 𝒂𝒔 𝒐𝒕𝒉𝒆𝒓 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕𝒔 𝒅𝒊𝒅. 3:15 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑯𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝒐𝒏𝒆 𝒔𝒉𝒐𝒖𝒍𝒅 𝒂𝒄𝒕 𝒂𝒔 𝒉𝒖𝒎𝒃𝒍𝒆 𝒂𝒔 𝒑𝒐𝒔𝒔𝒊𝒃𝒍𝒆, 𝒉𝒖𝒎𝒊𝒍𝒊𝒕𝒚 𝒓𝒂𝒊𝒔𝒆𝒔 𝒐𝒏𝒆𝒔 𝒔𝒕𝒂𝒕𝒖𝒓𝒆. 4:00 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑪𝒉𝒂𝒑𝒕𝒆𝒓 𝑨𝒍-𝑨𝒏𝒂𝒂𝒎 𝑽𝒆𝒓𝒔𝒆 𝒂𝒏𝒅 𝒓𝒆𝒂𝒍 𝒎𝒆𝒂𝒏𝒊𝒏𝒈 𝒅𝒆𝒔𝒄𝒓𝒊𝒃𝒆𝒅 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝒆𝒙𝒕𝒓𝒆𝒎𝒆 𝒉𝒖𝒎𝒊𝒍𝒊𝒕𝒚 𝒎𝒆𝒂𝒏𝒔 𝒕𝒐 𝒅𝒆𝒗𝒐𝒕𝒆 𝒆𝒗𝒆𝒓𝒚 𝒇𝒂𝒄𝒖𝒍𝒕𝒚 𝒕𝒐 𝑨𝒍𝒍𝒂𝒉 𝒕𝒉𝒆 𝒆𝒙𝒂𝒍𝒕𝒆𝒅. 4:18 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝘼𝙮𝙚𝙣𝙖 𝙆𝙖𝙢𝙖𝙡𝙖𝙩 𝙄𝙨𝙡𝙖𝙢 – 𝙡𝙤𝙫𝙚 𝙤𝙛 𝙩𝙝𝙚 𝙋𝙧𝙤𝙢𝙞𝙨𝙚𝙙 𝙈𝙚𝙨𝙨𝙞𝙖𝙝 (𝙖𝙨) 𝙛𝙤𝙧 𝙩𝙝𝙚 𝙃𝙤𝙡𝙮 𝙋𝙧𝙤𝙥𝙝𝙚𝙩 𝙈𝙪𝙝𝙖𝙢𝙢𝙙 (ﷺ) 6:10 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑯𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉 𝒊𝒔 𝒑𝒓𝒆𝒔𝒆𝒏𝒕𝒆𝒅 𝒂𝒔 𝒑𝒓𝒐𝒐𝒇 6:25 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑪𝒉𝒂𝒑𝒕𝒆𝒓 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝒉𝒊𝒔𝒕𝒐𝒓𝒚: 𝑲𝒂𝒔𝒓𝒂 – 𝑰𝒓𝒂𝒏𝒊𝒂𝒏 𝑲𝒊𝒏𝒈’𝒔 𝒊𝒏𝒄𝒊𝒅𝒆𝒏𝒕 6:55 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑪𝒉𝒂𝒑𝒕𝒆𝒓 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝒉𝒊𝒔𝒕𝒐𝒓𝒚: 𝑷𝒓𝒐𝒎𝒊𝒔𝒆𝒅 𝑴𝒆𝒔𝒔𝒊𝒂𝒉 (𝒂𝒔) 𝒕𝒓𝒖𝒔𝒕 𝒊𝒏 𝑨𝒍𝒍𝒂𝒉 𝒕𝒉𝒆 𝒆𝒙𝒂𝒍𝒕𝒆𝒅. 8:00 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑨𝒘𝒂𝒓𝒊𝒇𝒖𝒍 𝑴𝒂’𝒂𝒓𝒊𝒇 (عوارف المعارف) 𝑯𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉 𝒂𝒃𝒐𝒖𝒕 𝑯𝒖𝒎𝒊𝒍𝒊𝒕𝒚 9:30 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑰𝒔𝒎𝒂𝒆𝒍 𝑺𝒉𝒂𝒉𝒆𝒆𝒅’𝒔 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝑻𝒂𝒒𝒘𝒊𝒚𝒚𝒂 𝒕𝒖𝒍 𝑬𝒎𝒂𝒂𝒏 (تقویۃ الیمان) 9:40: 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑻𝒂𝒇𝒔𝒊𝒓 𝑹𝒂𝒛𝒊 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒇𝒐𝒓 𝒕𝒉𝒆 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕 𝑨𝒚𝒖𝒃 (𝒂𝒔) 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝒉𝒆 𝒄𝒂𝒍𝒍𝒆𝒅 𝒉𝒊𝒎𝒔𝒆𝒍𝒇 𝒉𝒖𝒎𝒊𝒍𝒊𝒂𝒕𝒆𝒅 (انا عبد ذلیل )𝒘𝒉𝒊𝒍𝒆 𝒑𝒓𝒂𝒚𝒊𝒏𝒈 10:15𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑱𝒂𝒘𝒂𝒉𝒊𝒓𝒖𝒍 𝑨𝒔𝒓𝒂𝒓 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝑷𝒓𝒐𝒗𝒊𝒅𝒆𝒅 11:05 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕 𝑫𝒂𝒗𝒊𝒅’𝒔 𝑷𝒓𝒂𝒚𝒆𝒓 𝒖𝒔𝒊𝒏𝒈 𝒕𝒉𝒆 𝑺𝑨𝑴𝑬 𝑾𝑶𝑹𝑫𝑰𝑵𝑮𝑺 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝑶𝒍𝒅 𝑻𝒆𝒔𝒕𝒂𝒎𝒆𝒏𝒕 12:40 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞: 𝑯𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝒉𝒐𝒍𝒚 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕 (ﷺ): انی ذلیل ; 𝒕𝒉𝒆 𝒖𝒔𝒆 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒊𝒔 𝒘𝒐𝒓𝒅 𝒊𝒏 𝒆𝒙𝒕𝒓𝒆𝒎𝒆 𝒉𝒖𝒎𝒊𝒍𝒊𝒕𝒚 14:02 𝑪𝒐𝒏𝒄𝒍𝒖𝒔𝒊𝒐𝒏: 𝑻𝑯𝑰𝑺 𝑨𝑳𝑳𝑬𝑮𝑨𝑻𝑰𝑶𝑵 𝑰𝑺 𝑵𝑶𝑻 𝑱𝑼𝑺𝑻 𝑶𝑵 𝑻𝑯𝑬 𝑷𝑹𝑶𝑴𝑰𝑺𝑬𝑫 𝑴𝑬𝑺𝑺𝑰𝑨𝑯 (𝒂𝒔) 𝑩𝑼𝑻 𝑶𝑵 𝑨𝑳𝑳 𝑻𝑯𝑬 𝑷𝑹𝑶𝑷𝑯𝑬𝑻𝑺 𝑰𝑵𝑪𝑳𝑼𝑫𝑰𝑵𝑮 𝑻𝑯𝑬 𝑯𝑶𝑳𝒀 𝑷𝑹𝑶𝑷𝑯𝑬𝑻 (ﷺ)SHOW LESS

 53 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: