Seerate Muhammad pbuh Par Aetraz K Jawab – Jihad Par Aiteraz




Seerate Muhammad pbuh Par Aetraz K Jawab – Jihad Par Aiteraz

Rahe Huda | 19th Dec 2020 | Qadian

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ناظرین کرام السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آ حیرت ہے اس سے ناواقف ہیں ان کے لئے ہم یہ بھی پیش کر رہے ہیں جس میں ہم کوشش کریں گے کہ عام طور پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں اور غلط فہمیاں لوگوں کے دلوں میں پائی جاتی ہیں اس کو دور کرنے کے حوالے سے اہم تاریخی حقائق بھی آپ کے سامنے پیش کریں اور جو مختلف رحمت ہیں اور جو باتیں ہوئی رہتی ہیں جن کو عام طور پر جو انسان کے سامنے پیش نہیں کی جاتی ہیں ان کے حوالے سے تفصیل پیش کرتے ہوئے ظلم کی خوبصورت ہے اور آپ کا جو حسین ہے اس کو ہم پروگرام راہداری کی موجودہ سیاسی نظریات سے پیش کرنے کی کوشش کریں گےج 19 دسمبر دوہزار بیس ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے ہیں اور ناظرین یہ وقت ہے پروگرام رہے خدا کا قادیانیوں سے پروگرام خدا کی اس کے ساتھ اس کی خدمت میں حاضر ہے ایک لائٹ ڈیکوریشن پروگرام ہے جس میں ہم سٹوڈیو میں گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ جو مجاہدین ہمارے اس پروگرام کو دیکھ رہے ہیں ان کے سوالات بھی سنتے ہیں اور اصلاحی پروگرام کے ذریعے ان کے سوالات کے جوابات بھی ہم ان کے سامنے پیش کرتے ہیں تو ایک ایک موضوع پر ہم بات کریں گے اور ہمارے صوبے کی گفتگو کے ساتھ ساتھ ہمارے مشاہدے کو بھی ہم اپنے ساتھ اس پروگرام میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے اگر ہمارے مشاہدے ہمارے ساتھ اس پروگرام میں جاننا چاہتے ہیں تو ٹیکسٹ میسج کا انتظام حفیظ کا انتظام ہے اس کے علاوہ ٹیلیفون لائن کے ذریعے آپ براہ راست ہمارے سٹوڈیو میں کرکٹ ہو سکتے ہیں اور اپنے سوالات ہمارے علماء کرام کے بارے میں پیش کریں نا آج کے دور میں اگر آپ ہمارے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کی تفصیل میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت آپ پر ملاحظہ فرما رہے ہوں گے اذان قادیان دارالامان سے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم چار ایپیسوڈ پر مشتمل ایک سیریز آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتے ہیں آج ہماری سیریز کا یہ پہلا ایپیسوڈ ہے اس مکمل سیریز میں ہم کوشش کریں گے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سیرت پر مختلف اعتراضات اور مستشرقین کی طرف سے اور معاندین اسلام کی طرف سے کئے جاتے ہیں ان حضرات کا ان کے جوابات ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں تاکہ جو سادہ لوح انسان ہوتے ہیں وہ بھی مختلف فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں تو انکی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ہم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سیرت کو آپ کے سامنے بیان کرنے کے حوالے سے ہماری سیریز کے ذریعے سے کوشش کریں گے آج ہم بات کریں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مختلف ایجنگ اللہ تعالیٰ کے اذن سے لڑی ہیں ان جنگوں کی کیا حکمت ہے اور اس کا کیا ہے اور ان دفاع جنگوں کے موقع پر حضور صلی علیہ وسلم کا کیا اس وقت تھا اور کس طرح آپ صلی اللہ وسلم نے ہمیشہ صلح کو مقدم رکھا ہے ان تمام امور کے حوالے سے ہم آپ کی خدمت میں آج کے پیش کرنے کی کوشش کریں گے گے جو علمائے کرام ہمارے ساتھ شامل ہوں گے جو اس وقت ہمارے ساتھ قادیانی یوسف کے ہیں ان کا تعارف کروا دیتا ہوں محترم مولانا محمد کوثر صاحب ہیں اور ان کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں مگر محترم مولانا عطاءالمجیب و انصاف دونوں حضرات کو گمراہ والدہ کی قادیان سیریز کھیلے ہیں میں آپ دونوں حضرات کا پروگرام میں فون کرتا ہوں ناظرین ہم دیکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سیرت پر وقتاً فوقتاً مستشرقین کی طرف سے بھی اور جو معنی دین اسلام ہی ان کی طرف سے اعتراضات ہوتے رہتے ہیں جیسا کہ چند سال قبل ڈینمارک میں ایک مسئلہ پیدا ہوا تھا اور چند ماہ قبل فرانس میں بھی اس حوالے سے بعض جو امن کو معاشرے کے امن کو تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے حوالے سے بعض بانیاں کی گئی جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں بھی پوری دنیا میں ہی فتنہ و فساد کا علم برپا ہوگیا تھا دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی طرف سے بھی احتجاج ہوا اور مختلف قومی نقصان ہوا لوگوں کی املاک کا نقصان ہوا جانی نقصان بھی ہوئے مادہ منویہ کا ایسے موقع پر کیا رد عمل ہونا اس بارے میں جماعت احمدیہ کے روحانی خلیفہ ہمارے پیارے آقا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے باقاعدہ میں ہدایات دی ہیں اور عطا فرمائے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ بھی اس عزیز نے فرمایا کہ جب بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے توہین آمیز باتیں سننے کو ملتی ہیں تو سب سے بڑا ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اس السلام پر درود و سلام بھیجیں نے ہمیں یہ نصیحت کی کہ اس موقع پر ہمیں کوشش کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے اس کا عملی طور پر ہم دنیا کے سامنے پیش کریں کہ ایک مسلمان عملی طور پر اپنی حرکتوں کے ذریعہ سے اپنے اعمال کے ذریعہ سے اپنے دوسروں کے ساتھ جو معاملات ہیں اس کے ذریعہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو حسین نمونہ ہے اس کو دنیا کے سامنے پیش کرے اللہ تعالی پیر نصیر الدین نے ہمیں یہ بھی نصیحت فرمائی ہے کہ حضور صل وسلم کی سیرت کو بیان کیا خاص طور پر جو لوگ احمد وسلم کے سیرت سے واقف نہیں ہیں اور اسے متعارف نہیں ہیں ان کو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے تعلق سے بتائیں ان کی پاک سیرت کے حوالے سے بتائیں اور ان کے ذہنوں میں جو مختلف غلط فہمیاں مستشرقین کی طرف سے پیدا کی جاتی ہیں ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے حوالے سے کوشش کریں قضیہ کا رد عمل دراصل پرامن تحریک پر ہوتا ہے حضور صل وسلم کی سیرت کو ہم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اپنے اقوال کے ذریعہ سے بھی اور اپنے اعمال کے ذریعہ سے بھی ہم کوشش کرتے ہیں کہ حضور صل وسلم کی سیرت کو دنیا کے سامنے پیش کی جائے پروگرام پر ادا کی کیا حضور صل وسلم کی پاک سیرت کو ہم دنیا کے سامنے پیش کریں اور جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مختلف غلط فہمیاں اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور بے بنیاد الزامات اور اعتراضات ماہرین کی طرف سے حضور صل وسلم پر لگائے جاتے ہیں اس کو حقیقت مان کر پروگرام میں داخل ہونے سے پہلے میں اپنے مجاہدین کو یاد دلانا چاہوں گا کیا حضور صل وسلم نے جو دفاعی جنگ لڑیں ہیں اس کی کیا حکمت ہے اس کا کیا پس منظر ہے اور ان جنگوں کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا اس والا ہے اس حوالے سے آج ہمارے پاس ورڈ میں گفتگو ہو گی اگر اس میں سوالات ہیں تو ہماری فلائٹ صاحب کے لئے ٹیوٹر ہیں آگے جب بھی چاہتے ہیں ہمیں ٹیلی فون کرکے اپنے سوال ہمارے اس ویڈیو میں پیش کر سکتے ہیں سر سے تمہید کے بعد پروگرام کا آغاز میں مولانا محمد عمیر کو سب سے کرنا چاہوں گا کہ عام طور پر جب ان وسلم کے تعلق سے کوئی اعتراض کیا جاتا ہے تو بنیادی طور پر نعوذ باللہ آپ کو ایک جو انسان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن جب ہم آپ صلی وسلم کی سیرت کا جائزہ لیتے ہیں کے بعد 13 سال زندگی آپ نے مکہ میں گزاری ہے جس میں مختلف تعزیتی آپ کو برداشت کرنی پڑی اور انتہائی صبرو تحمل کا نمونہ دکھاتے ہوئے آپ نے وہاں پر زندگی گزاری ہے تو یہ اس کا پس منظر ہمارے ناظرین کو بتائیں تاکہ یہ صورتحال نہ سکے ناظرین کرام اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ایک بنیادی بات انسان کی تخلیق کی بتائی ہے ما خلقت الجن و الانس الا اللہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم نے جن و انس کو ایک مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ کیا ہے یہ کہ وہ اللہ تعالی کی عبادت کرے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے ذریعہ کی تاریخ بتائیں گی کہ جب بھی اللہ تعالی کی طرف سے کوئی مسلم امور نبی آیا اور اس نے کہا کہ اے لوگو ایک اللہ کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت کے لیے تمہاری تخلیق ہوئی ہے تمہاری پیدائش اسی کے لئے ہوئی ہے تو بہت کم لوگ تھے ابتدا میں جو اس کے اوپر ایمان لائے اکثر نے اس کی مخالفت کی ان انبیاء میں سے سب سے بڑھ کر جو مخالفت ہوئی وہ ہمارے سید و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے حماد دیکھتے ہیں کہ آپ پر 20 اگست سے سو دس ایک اندازے کے مطابق جو وحی کا آغاز ہے وہ چوبیس لاکھ تک یعنی رمضان کا مہینہ تھا اور وحی کا نزول شروع ہوا 622 میں آپ بھی سو 22 تک آپ مکہ میں رہے اس کے بعد آپ مدینہ ہجرت کر کے چلے گئے 13 سالہ وابتدا ہے جس کے اندر اسلام مقام شروع ہوا پہنچا اور لوگوں کے سامنے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر والوں سے کیا کہ آیا لوگوں کو عام مخالفت تو اس وقت مکہ والے تھے لیکن اس سے مراد پوری دنیا تھی آپ نے فرمایا کل یاعیوھل علیکم جمیع کے مجھے اللہ تعالی نے آپ سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور رسول بھی کہ صاحب وما ارسلناکا الا رحمت اللعالمین اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو رحمت بنا کر بھیجا ہے کل عالم کے لئے کل عالمین کے لئے ہم نے آپ کو رحمت بنا کر بھیجا ہے آپ کے آپ نے جو اعلان کیا ہے وہ یہ کہ کل ہو اللہ ہو احد کے اللہ ایک ہے تم اس کی عبادت کرو جیو حالانکہ تھا جس نے کے مقالوں کو ایک چند ابتدائی لوگ تھے جو مکہ والے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اکثریت نے اس سے انکار کیا تعجب کی بات ہے اس تاریخ سے پہلے اس نزول وحی سے پہلے جو کہ میں نے ابھی آپ کو بتایا 20 ہزار 610 سے پہلے پہلے مکہ والے بھائی جب زبان یہ کہتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم صادق ہی نیک ہیں یہ ہمارے لئے قابل نمونہ ہے ہمارے لئے فخر ہے وحی آنے کے بعد اور کس اعلان کہ اللہ ایک ہے کل ھو اللہ احد اس کے بعد کئی ایک انقلاب آیا کہ ایک دن آپ کے یہ لوگ مخالف ہوگئے 90فیصد ابتدا میں بلکہ اس سے بھی زیادہ مخالف ہوگئے اور آپ کی مخالفت کرنے لگ پڑے لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بالمقابل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا نام تھا صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ ابھی میں نے عرض کیا رحمت تھے آپ نے اپنی تبلیغ اور اخلاق کا سلسلہ رحمت کے بارے میں شروع کیا 77 اللہ تعالی نے آپ کی ایک اور صفاتی نام قرآن مجید میں بیان فی کہ ہم نے آسمان و زمین اور پہاڑوں کے سامنے ہم نے یہ امانت پیش کی سب نے اس کو اٹھانے سے انکار کر دیا جس نے اٹھایا حمل انسانوں ایک انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھایا اور ان کی جو صفات بیان کی گئی انہوں کہا سلو منجولا کہ وہ اپنے نفس پر بہت زیادہ ظلم کرنے والا برداشت کرنے والا اور چاول اور اس ظلم کو وہ بھول جانے والا فراموش کرنے والا ہے بہت سی خاصیتیں ہیں لیکن مختصر یہ کہ رسول کے انسان نے مکہ میں تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا اور رحمت کے بارے میں وہ اپنے نفس کے اوپر ظلم کرتے ہوئے اور پھر ان کے بھول جانا یہ حضور اے خاصہ تھا جو ہمارے آج کل کے اعتراضات کرنے والے ہیں ان کو خاص طور پر مت کی دعوت پر غور کرنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون کون سی مصیبت نہیں اٹھائی ہو آپ نہیں اس بالکل مقابلہ کوئی ایک ایسا قدم نہیں اٹھایا کہ جو ان لوگوں کے تباہی کا موجب ہو ایک مثال میں پیش کرتا ہوں کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بمقام پہلے تبلیغ کرتے رہے پھر آپ تشریف لے گئے وہاں تبلیغ کرنے کے لئے ماں پر آپ پر پتھراؤ کیا گیا وہاں عبدیالیل جو ہا کر رہا تھا اس نے آگے پیچھے کچھ اوباش لگا دیے لگانے کے بعد انہوں نے اتنا پتھراؤ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا جسم لہو لہان ہو گیا اور لوہان ہوتے ہوتے روایات میں آتا ہے کہ اتنا خون بہا کہ آپ کے نیچے پاؤں تک وہ فون آگیا اور اس کے بعد آپ تھک ٹوٹکے آکے ایک جگہ پر آرام کرنے کے لئے بیٹھ گئے ملک الجبال دلوں کا بادشاہ تھا پہاڑوں کا فرشتہ تھا وہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ کے ساتھ ان لوگوں نے یہ سلوک کیا ہے آپ اجازت دیں تو میں یہ جو دو پہاڑ ہے کو پیس کر ان کو ختم کر دو صحیح رسول اللہ کے بعد سنی آپ نے فرمایا لا لا ایسا کبھی نہیں کرنا اللہ کی ذات سے امید ہے اللہ تعالی انکی نفلوں میں ایسے لوگ پیدا کرے گا جو کہ اللہ تعالیٰ نام لینے والے ہوں گے یہ خدا کی عبادت کرنے والے ہوں گے ایک اللہ کی عبادت کرنے والے ہوں گے اللہ کے مقرب بندے مانگے ہیں ان کی قیمت وہاں رہتا تھا بعد میں یہ لوگ بہت سے ان میں سے مسلمان ہوئے لیکن اب دیکھیں جو لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر اعتراض کرتے ہیں ان کو یہ دیکھنا چاہئے اگر آپ ظالم ہوتے اگر آپ جہاں پر ہوتے اگر آپ انتقام کے جذبے کے ساتھ ہوتے تو آپ کبھی اس وقت یہ نہ کہتے کہ نہیں ان کو پیسوں نہیں بلکہ آپ نے ہمیشہ رحم کی دعا کی نعت کے جسم کہ میں آپ کی مخالفت حد سے زیادہ بڑھ گئی کچھ تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کے پاس جاتے تھے ایک موقع پر مختلف باتیں ہوتی تھیں ہوتی رہی ایک بات اگر انہوں نے لئے کی کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کے سامنے کچھ پیش کش رکھتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر آپ کو مال چاہیے ہم اتنا مال آپ کو جمع کر دیتے ہیں کہ آپ دنیا میں سب سے زیادہ امیر ہو جائے آپ کو شادی کرنا چاہتے ہو وہ بھی ہم کروا دیتے ہیں آپ بادشاہ بننا چاہتے ہیں ہمارے وہ بھی ہم آپ کو بنا دیتے ملک نہ کا ہم تجھے اس سے اپنا بادشاہ تسلیم کرتے صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اللہ کیا تم پر کوئی حکومت نہیں چاہتا اگر آپ حکومت کر کے سگنل نہیں کرنا چاہتے اور جبر اور استبداد ہی ہوتا بڑی خوشی سے غفلت بادشاہ بن سکتے تھے اگر نہیں آپ ایک مقصد کے لیے آئے تھے یہ کہ دنیا کو اللہ تعالی کی عبادت کی طرف بلانا سچے ایک خدا پر ایمان لانے کی طرف بلانا اللہ احد کی طرف بلانا لا الہ الا اللہ محمد اور رسول اللہ کی طرف بلانا اور ان کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کریں ایک اللہ کی طرف آئیں ایک اللہ سے مانگے اور جتنی برائیاں اور گناہ میں پائے جاتے ہیں اس کو چھوڑے آپ کی یہ ساری تبلیغ آپ کی یہ تفسیر یہ رحمت کے دائرے میں تھی یہ ظلوما جہولا کے دائرے میں تھی یہ آپ کے طرف اور شفقت کے بارے میں تھی اس سے آپ کبھی باہر نہیں نکلے آپ نے خود اپنے پرس ہاں آپ نے برداشت کیا لیکن آپ نے اس کے بالمقابل کسی کے اوپر حملہ نہیں کیا ایک بہت بڑی بات وہ یہ کہ رسول اکرم صاحب نے جو وہاں پر 13 سال مکہ میں گزار ہے آپ نے برداشت کیا ہیں کیا لیکن جو لوگ آپ کے اوپر ایمان لائیں انہوں نے بھی اتنا ظلم برداشت کیا تلاش کرتے کرتے سامنے سو انہوں نے کوئی مقابلہ نہیں کیا الکتاب پر حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالی حضرت بلال ہے خواب ہی ابو فقیہ ہیں عورتوں میں سب نعرہ ہیں سمیع ہیں یہ وہ لوگ تھے جو غلام تھے پسماندہ طبقہ مارا جاتا تھا ان لوگوں کے اوپر کونسی تلوار اور طاقت میں حاصل کیا ان کے جو مالک تھے ان کے ظلم کرتے تھے ان کو گھسیٹتے تھے جو ظلم کی اس وقت آخری حدود ہو سکتی تھی جو طریقہ اور وسائل سے وہ سب انہوں نے اپلائی ان کی زبان پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اللہ سے کھا لیا واحد واحد اور اللہ اللہ ہی ان کی زبانوں سے نکلتا تھا اور یہی وہ پیغام تھا جو اس وقت رہتے تو خلاصہ کلام یہ کہ پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جو تبلیغ تھا تقصیر کا پیغام پہنچانے کا جو طریقہ تھا اور جو مقصد حیات انسان کا ہے یہاں وہ دون اللہ کی صحیح عزت کرنا ایک اللہ کے اوپر ایمان لانا سچا اب دور بنا رسول اکرم صل وسلم نے مکہ والوں کو اور دنیا والوں کو یہ سکھایا اور کبھی کے بعد ظلم سے طاقت سے ہو نہیں سکتی یہ پیار اور محبت اور رحمت کے دائرے سے ہو سکتی ہے ہم اور آپ کے صحابہ پر جتنے بھی ظلم ہوئے جتنے بھی سختی ہوئی بڑے ہیں یعنی آپ پر ہو موقع بھی لگایا کہ شعبہ ابی طالب میں آپ کو تین سال تک محصور کر دیا گیا مگر آپ نے اہل نہیں کی آپ نے ظلم سہے جو آپ کے ساتھی تھے اس کے بالمقابل آپ نے کسی کو کبھی پتھر بھی نہیں مارا اور بعض دفعہ ایک روایت میں آتا ہے آپ ایک دفعہ ایک راستے سے گزرا کرتے تھے یعنی مخالفت میں اندھی دنیا تھی ایک وہاں عورت تھی وہ آپ کے اوپر وہ خاک وغیرہ ڈالتی تھی جو بھی کرتی تھی کچھ دن ہوگئے آپ نے اس کو دیکھا نہیں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضور اس کے گھر گئے اور پوچھا کیا ان سے میں نے آپ کو دیکھا نہیں آپ کہاں ہیں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے اب آپ یہ دیکھیں کہ جو آدمی آپ کے اوپر خاک ڈالنے والے آپ کا برا چاہنے والے ہیں ان کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں سورہ کوثر میں اللہ تعالی نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تجھے عطا کیا ہے یا ظلم کا خوف سے انتقام یہ تھا ہمارے آقا محمد صلی علیہ وسلم کا نمونہ یہاں سوا لوگ ایسے ہیں جس کو ہمارے اردو زبان میں کہتے ہیں تھوکتے ہیں یا چاند پہ ہوتے ہیں اور دھوپ تو واپس آکر خود ان پر پڑتا ہے یہ جو ہم پروگرام پیش کرتے ہیں خاص طور پر ہمارے علاقے میں بھی اسلام کی باتیں کی جاتی ہیں یہ بات درست ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی اکثریت وہ نمونہ نہیں پیش کر رہی ہیں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو سکھایا تھا اور یہ وجہ بنتے ہیں اسلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوبدنام کرنے کے لئے ان کے دلوں میں جو حضرات ہیں سیمسنگ کے اس گاؤں کا مطالعہ کریں آپ کا مکی دور تھا ظلم سہہ کر بھی آپ نے اب محبت کا پیغام دیا ہمدردی کا پیغام دیا اور دنیا کو اپنے مقصد کی طرف بلایا میں اپنے مقصد حیات کی طرف واپس آؤ گناہوں کو چھوڑو بس دیو کو چھوڑو سچ ہے اب اور اب دونوں اسی میں تمہاری خیر ہے یہ تھا رسول یاسر کا پیغام جو آپ نے ابتدائی 13 سال میں مکہ میں والوں کو دیا بظاہر تو وہ مکہ والوں کے لئے تھا لیکن وہ کل عالم کے لئے پیغام تھا جو آج تک پہنچایا جاتا ہے یہ تھا اختصار کے ساتھ استغفراللہ مزا اب ہم اپنے مشاہدے کی طرف بھی جاتے ہیں اور کل فون کالز کو بھی موقع دیتے ہیں ان کو بھی اپنے ساتھ اس پروگرام میں شامل کرتے ہیں سب سے پہلے ہم بات کریں گے یوکے سے عبدالرشید صاحب اس وقت ہمارے سلف آن لائن پر موجود ہیں ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم رحمت اللہ صاحب ہے اور ایک خاتون نے کیا کر رہا ہے اس کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں میرا کو موبائل پرائس محترم طالب صاحب لوگوں سے درخواست ہے جواب کوثر اور آیت خاتم النبیین کے تعلق کے تعلق سے سوال پوچھا ہے سورۃ کوثر تو مختصر سی سورت ہے سب سے چھوٹی سورت قرآن مجید کی ہے اس میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے اس میں اللہ الرحمٰن الرحیم انا اعطیناک الکوثر فصل لربک اب تک سورہ کوثر کا پس منظر جو ہے شان نزول جو ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ کسی نرینہ اولاد کے باپ نہیں تھے اس وجہ سے جو کفار مکہ تھے جو مخالفین تھے وہ آپ پر نعوذ باللہ الزام لگاتے تھے عرض کرتے تھے مسلم ابتر پیدا ہوئے سر اس کو کہا جاتا تھا اگر کوئی بیٹا نہ ہو کوئی نہ اولاد نہ ہو چپ کر مہر اور قربانی کر دنیا کا ہوا لگتا ہے تیرا تیرا دشمن جو ہے وہ بہتر ہے تو آپ پر نہیں پھر آیت خاتم النبیین جو ہے اس کے الفاظ یہ ہیں اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے سورہ حجرات کی آیت ہے ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین اس آیت میں اللہ تعالی نے اس بات کا ذکر فرمایا اس بات کا اعتراف فرمایا کہ ما کانا محمد ابا احد من رجالکم کے نہیں ہیں محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ ولٰکن رسول اللہ اللہ کے رسول ہیں نبیوں کے باپ ہیں نبیوں کے خاتم ایک طرف اللہ تعالی نے اس بات کا ذکر کیا اس آیت کریمہ میں کہاں یہ بات درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہے لیکن اس کی وجہ سے نعوذباللہ ابتر نہیں ہے کیونکہ آپ کو اللہ تعالی نے کوثر یعنی خیر کثیر عطاکیا تحریر کیا ہے وہ خیر کثیر درس قرآن مجید کی جو آیت خاتم النبیین ہے اس میں بھی دراصل اللہ تعالی نے اس کا مختصر ذکر فرمایا کہ اللہ تعالی نے وہ خیر کثیر اس طرح آپ کو عطا کیا کہ آپ کو اپنا رسول بنا کر مبعوث کیا اور تمام نبیوں کے دن بھی آپ سے پہلے نبی مبعوث ہوئے دنیا نیوز کی اللہ نے ان تمام نبیوں کا آپ کو ان سب سے اولیٰ و افضل قرار دیا تمام خیر جو انبیاء کے ذریعے دنیا کو ملتا رہا وہ تمام کا تمام خیریت جائز صورت میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دنیا کو عطا کیا گیا اور یہ وہ خیر کثیر ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے سورہ کوثر میں بیان کیا تھا گویا جو دشمنوں کا یہ اعتراض دشمنوں کا نام میں آپ کے ہاں اولاد نہیں ہے اس کا جواب اس آیت خاتم النبیین میں اللہ تعالی نے بیان فرمایا کہ بے شک آپ نبیوں کے کسی مرد کے باپ نہیں ہے لیکن آپ سے بڑھ کر روحانی طور پر اللہ تعالی نے آپ کو تمام نبیوں کا باپ بنا دیا جتنے بھی نبی ہیں وہ سب آپ کے بیٹوں کی حیثیت رکھتے ہیں روحانی لحاظ سے ان کے آپ کا کام سب سے اعلی سب سے افضل اور سب سے اوپر ہے اس لحاظ سے کہ آپ کو اللہ تعالی نے خیر پر سورہ کوثر اللہ تعالی اس میں زندہ اور ٹیلیفون کالز اس وقت ہمارے ساتھ انڈیا سے ہی مکرم امتیاز احمد صاحب ہیں ان کو اپنے پروگرام میں شامل کرتے ہوئے ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمتہ اللہ صاحب وعلیکم السلام رحمۃ اللہ برکاتہ میں گرمی سے اتحاد کر آمین یا کریم کیا جاتا ہے کیا کہتی تھی مسلمانوں کا تجارتی قافلے پر حملہ تھا تو میری رانی اللہ کا شکر یہ محترم مولانا ہمیں کو صرف ہے یہ ہے کہ قافلے پر حملہ بظاہر یہ بات بڑی دل کو لگنے والی بات ہے اعتراض والی بات بنتی ہے پہلے کا سارا پس منظر یہ ہے تنگ کرتے ہیں یا ان کو پتہ نہیں ہے مجھے اس کا علم نہیں کہ ان کو پتہ ہے کہ نہیں آپ کا کلام ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تمام امیدوں پر مرتے ہوئے ہجرت کرکے مدینہ پہنچ گئے ان کو اس کے اوپر بہت غصہ آیا جو کفار قریش تھے ان کو بہت غصہ آیا میں اس کے لئے ایک منصوبہ بندی کی پلاننگ کی تھی کہ ہم ایک خطرناک جنگ کریں گے اور مدینہ کے اوپر جا کے حملہ کریں گے اور مسلمانوں کو تباہ و برباد کرے اس کے لیے انہوں نے ایک تجارتی قافلہ تیار کیا ابو سفیان کی سرکردگی میں کہ یہ شام کی طرف جائے گا موقع سے مال لے کے اور وہاں سے تجارت کر کے آئے گا اور جتنا بھی تجارت کا منافع ہوگا اور جو بھی تجارت میں سے حاصل ہوگا وہ سارے کا سارا جھنگ کے اوپر خرچ ہوگا یہ خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی یہ بات ذہن میں رکھیے کہ جنگ کی تیاری کے لیے یہ قافلہ تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس کو روکا وہ صرف اس منصوبے کو پایا تکمیل تک نہ پہنچ سکے اس وجہ سے آپ اس کو روکنا چاہتے تھے اس قافلے کو لیکن اس کے باوجود قافلہ وہاں سے نکل گیا اور نکلنے کی بات جو کفار قریش تھے وہ وہاں سے مکہ سے چل کے ہاں اس بیچ میں ابوسفیان نے یہ علامت شاید ارادہ کر رہے ہیں قافلے کو روک کے ہم پر حملہ کرے لیکن جب ان کو اطلاع ملی وہاں سے وہ ابو جہل ایک بہت بڑا لشکر لے کے ایک ہزار کا وہ یہاں تک پہنچا ابھی کتاب خیریت مکہ کی طرف روانہ ہو گیا ہے اب وہ خطرے سے باہر ہیں چاہئے تاکہ واپس چلے جاتے مگر انہوں نے کیا کیا کہا نہیں وہ آج جشن منائیں گے وہاں مسلمانوں کا مقابلہ کریں گے دیکھنے والی بات ہے انصاف بھی دنیا میں کوئی چیز ہوتی ہے رسول کریم صل وسلم نے بقاء کو خیر باد کہا ان کے مخالف آ جاؤ تمہیں خوش رہو میں چھوڑ کے جا رہا ہوں اور بڑی درد بھری نگاہوں سے مکہ کی طرف دیکھا مکہ سے آپ مدینہ آ گئے وہاں آپ نے رہائش اختیار کرلی مسلمان آگئے تو کیا صورت تھی مسلمانوں پے حملہ کریں گے اور جب حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے اس وقت اللہ تعالی نے وہ سورہ حج میں اجازت دی سے نہ روکا تو نہ ملا ہم اجازت دیتے ہیں ان لوگوں کو جو عروض ڈالے گئے اب ہم ان کو قتال کی اجازت دیتے ہیں اجازت نہیں تھی وفا سانحہ کربلا کے میدان میں ان کا مقابلہ ہوا اس کی تفصیل میں نہ جاتے ہوئے لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کہیں 313 اور ایک ہزار کا بھی مقابلہ ہوا ہے ان کے پاس بندہ بھی پورے نہیں تلوار تو ہر کسی کے پاس تھی سوال یہ بھی پوری نہیں تھی لیکن اللہ تعالی کی طرف سے ایک مدت ہوئی تھی اللہ تعالی نے یہ کہا کہ محمد کروں گا جس کی طرف سے مدد مل رہی ہو اس کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تو خلاصہ کلام یہ کہ یہ ایک دھوکہ ہے جو یہ کہا جاتا ہے کہ تجارتی قافلہ کو روکنا یہ حملہ تھا یہ نہیں تھا بلکہ مقصد دوستی دینہ میں اس منصوبے کو ناکام کرنے کے لیے حضور صاحب اس قافلے کو روکنا چاہتے تھے لیکن وہ نکل گیا اللہ کی تقدیر نے براہ راست جنگ کا مقابلہ کرکے حق کو دنیا کے اوپر صاحب کر دیں جزاک اللہ تعالیٰ اسی بات کو پھر آگے بڑھاتے ہوئے محترم طالب سب لوگوں سے میرا یہ سوال ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو دفاعی جنگ کرنے کی اجازت دی گئی خاص طور پر جب کفار مکہ نے دیکھا کہ حضور صلی وسلم جن کو قتل کرنے کا منصوبہ کیا جارہا تھا وہ اللہ تعالی کی مشیت کے تحت مکہ سے بچ کر مدینہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو مدینہ میں بھی مسلمانوں کا تعاقب کرتے ہوئے اسلام کو ختم کرنے کی ایک سازش کے ساتھ وفادار پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے تھے جیسا کہ آپ اسلام نے اللہ تعالی نے مسلمانوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اس لئے میں آپ سے مزید تفصیل جاننا چاہوں گا جیسے کہ ابھی محترم مولانا محمد امیر بخش صاحب نے تیرہ سال کا مختصر خاکہ ناظرین کے سامنے کی جا کہ کس طرح کے ماننے والوں کو کفار مکہ نے تم کیا اور ظلم کی اور ہر قسم کے ظلم کی جو انسان کی سوچ اور سمجھ میں آ سکتے ہیں اور بالآخر جیسا کہ پہلے ذکر کیا یہاں تک نوبت پہنچ گئی ملک کے منصوبے بنائے گئے جس میں ان کو اللہ تعالی کی مشیت سے ناکامی ہوئی اور آخرت صلی اللہ علیہ وسلم بخیروخوبی اپنے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور بخیریت مدینہ پہنچے تو اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میں ہار کے سامنے لایا تھا اور زبان کے نزدیک کو مرتد ہوگئے تھے پرانے دن سے تو اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ملک کو انہوں نے چھوڑ کے بادل نخواستہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تھے تو ان کو آرام سے سکون سے امن سے بیٹھنا چاہیے تھا کہ ابھی ہمیں ہمارے لوگوں کو ہمیں زیادہ پریشان نہیں کرے گا کیونکہ اسے چلے گئے اس کے بعد بھی یہ کفار مکہ کے قریب کہ جو تھے وہ اپنے عزائم جو خطرناک عزائم ان کے تھے وہ اس سے باز نہیں آئے بلکہ اس کے بعد بھی انھوں نے شبیر احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو قتل کرنے کی سازشیں کیں اور ان سازشوں میں ہمیشہ لگے رہے اور پیش ہے میں ذکر کرنا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے مدینہ ہجرت کی تو چند ہی عرصہ کچھ عرصہ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ مشرکین مکہ نے مکہ نے مشرکین مدینہ کی طرف ایک خط بھیجا عبداللہ بن ابی سلول جذبات میں بظاہر مسلمان ہوا تھا لیکن منافقین کا سردار تھا لیکن ابھی نہیں ہوا تھا ابھی مجھے یقین نہیں تھا اس کو مخاطب کرتے ہوئے خط لکھا اس کے الفاظ میں پیش کرتا ہوں ناظرین کی خدمت میں جہاد کرتے ہوئے لکھا کہ ان کو معاویۃ مصاح بنانا دلہن ہو ہو تو خریدنا ہوں اور نصیر اللہ علیہم اجمعین ہ ابن سبیل صاحب کو بڑی خطرناک قسم کی دھمکی دی مشرکین مکہ کو انہوں نے اس خط میں کہ تم نے ہمارے آدمی کو پناہ دے رکھی ہوئی ہے اور ہم اللہ تعالی کی قسم کھا کے کہتے ہیں کہ تم یا تو اس کا اس کے ساتھ جنگ کرو اور سو قتل کرو یا پھر اس کو مدینہ سے نکال دو پرنا علیکم آج مہینہ ہم اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ تو ہمارے اوپر حملہ کریں گے اور تمہیں قتل کر دیں گے تمہارے مردوں کو اور تمہاری بیویوں کو اپنے لئے وہ اس خط میں ہمیں پتہ لگتا ہے کہ کس قسم کے ارادے اور قائم ابھی بھی تھے تمہاری ماں کے دن پھر تاریخ میں آتا ہے کہ یہ مشرکین المدینہ کو جب یہ خط ملا تو بہت آسانی سے تیار ہوگی جنگ کرنے کے لئے لیکن کہ تم آپس میں ایک دوسرے کے باپ بیٹوں کو قتل کرو گے اور اس سے غریب ہیں جن کا باعث بھی ان کے بارے میں ہوئی تھی اور میں نے بہت دکھ ہوا تھا اور آج بھی ہوئی تھی اور ان کو ان کے دلوں میں تھا چنانچہ بعض جائے اس پر عمل نہیں کیا دوران ایک اور واقعہ یوں ہوا کہ سعد ابن معاذ جو مدینہ کے دو قبائل اوس و خزرج میں سے اس کے سردار تھے وہ مکہ چلے گئے اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ مکہ جا کے کھانے کعبہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے واپس آئے ان کے ساتھ ان کے ان کی جان پہچان تھی اور امیہ بن خلف کو ہی کہا کہ میں دوپہر کے وقت کوئی نہیں ہوگا کرکے واپس مدینہ چلا جاؤں گا بخل کے ساتھ خانہ کعبہ کی طرف نکلے طواف کرنے کے لئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اسی اثنا میں ابوجہل وہاں سے سعد بن معاذ کو دے انہوں نے امیہ بن خلف سے پوچھا یہ کون ہے انہوں نے تعارف کرایا تو سعد بن  اپنی نصرت عطا کی اور اپنی تائید سے تمہیں ان مخالفوں سے بچایا تو یہ جو واقعات جو مختصر میں نے چلے باتوں کا ذکر کیا ہے یہ وہ شہر ہے جس میں اللہ تعالی نے پھر مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی سورۃ الحج کی آیت ہےمعاذ کو مخاطب کرتے ہوئے ابو جہل نے دھمکی دی تو کیا تم لوگ خیال کرتے ہو کہ تم اس وقت عزوجل الرسول اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو بھلا دو گے اور محفوظ رہو گے اور بڑی حفاظت سے خانہ کعبہ کا طواف کرو گے تم اس کی حفاظت کا تو اس طرح اور یہ بھی کہ اس رات میں کہ اگر تمہارے ساتھ اس وقت مغرب نہیں ہوں گے ہوتے تو میں بھی تمہیں مزہ چکھا تھا اور اسی کو قتل کر دیتا وہ بغض ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لئے ابھی بھی ان کے دلوں میں تھا انہی دنوں کا ایک واقعہ یوں بھی ہوا کہ ولید بن مغیرہ جو ایک رئیس تھا قریش کا اس کے موت کا وقت قریب آیا تو وہ نہیں لگا رونے کا سبب پوچھا گیا کہ کیا تم موت سے ڈرتے ہو تو اس نے کہا نہیں میں موت سے نہیں ڈرتا بات سے ڈرتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین کہیں مکہ میں بھی نہ پھیل جائے اور ہم بھی اس کے زیر اثر نہ آئے مجھے اس چیز کا ڈر ہے اس لیے میں رو رہا ہوں ابوسفیان اس وقت بیٹھے ہوئے تھے ساتھ ہیں جو ساتھ ہی اس وقت اس کے بعد پھر اس نے بس خیال بھی تھے تو پھر صوفیاء نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا ہم اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ ہم ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو کبھی بھی پنپنے نہیں دیں گے اور کبھی بھی اس کی نشوونما ہونے نہیں دیں گے اور اس کے رکھیں الن انھوں نے اس کے لیے کوششیں کیں جیسے کہ ابھی جنگ بدر کا مختصر ذکر ہوا اس کے علاوہ انہوں نے تمام عرب کے قبائل کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی میں آتا ہے کہ عرب کے قبائل کے تعلق کے نامہ اعمال عربوں ان کا واحد قانون سلسلہ کے تمام عرب ایک جان ہو کر ان کے خلاف کھڑا ہو گئے آپ نے بھی عرب کے قبائل تھے ان سب قبائل کو قریش مکہ نے کھانے ایکٹ کردیا مسلمانوں کے خلاف اور وہ سارے کے سارے یکجان ہو کر مسلمانوں کے خلاف کھڑے ہوئے اور ایسے حالات سے ان دنوں میں مدینہ کے جیسا کہ اس روایت میں آتا ہے کہ ایک بھی تو اللہ کی وہ رات بھی گزارتے تھے تو ہتھیار اپنے ساتھ رکھتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے ان مدینہ کے ابتدائی دنوں کے تعلق سے آتا ہے یہ وہ ابتدا میں جب وہاں مدینہ میں اپنے رات ہے عولاما قدم المدینۃ آیا سر میں نہ لائے کہ رات کو بیداری میں گزارا کرتے تھے اور خوف طاری رہتا تھا کہ کہیں مکہ کے لوگ حملہ کرکے نہ آئے اور اسی طرح حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو مسلمانوں کو بھی ہوشیار اور چوکنا رہنے کے لیے کہا کرتے تھے ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر رات تک بیدار ہے تو پھر آواز دی کہ کوئی پہرا دینے والا کوئی ہے کہ یہ اس وقت پہلے اور میں تھوڑا آرام سعد بن ابی وقاص ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ہتھیار لے کر آئے انہوں نے آواز دی کہ میں حاضر ہو گیا ہوں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد آرام آرام فرمانے لگے تو یہ حالات جو تھے اس وقت مدینہ کے اس کے تعلق سے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بھی ذکر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور ملی نغمہ ومن آیاتہ خلق الناس و عوا کم یاد کرو وہ صبح کو جب کہ تم بہت تھوڑے تھے اور کمزور تھے اور اس بات سے ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لے یعنی اتار تمہارے اوپر حملہ نہ کر دے اب آپ بتا دیں آج بھی اس سوال کے جواب کی مناسبت سے پیش کرنا چاہوں گا اللہ تعالی نے اس پٹیشن میں جنگ کی اجازت تلوار سے جنگ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مسلمانوں کے لیے یہ آیت نازل فرمائی کہ زین للذین یقاتلون ہاں اللہ حال القدیر الذین اخرجوا من دیارہم بغیر حق بحول اللہ و لا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض وہ بیان وصلوات ومساجد یذکر فیہا اسم اللہ کثیرا ولا ینظر اللہ انہوں جی جاتی ہے لڑنے کی مسلمانوں کو جن کے خلاف کفار نے تلوار اٹھائی ہے وہ یعنی مسلمان مظلوم ہے اور ضرور اللہ تعالی ان کی نصرت پر وہ ظلم کے ساتھ اپنے گھروں سے نکالے گئے صرف اس بنا پر انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اللہ تعالی نرو کے یعنی دفاعی جنگ کی اجازت دے کر نہ لوں کے ایک قوم کو دوسری قوم کے خلاف تو یقینا راہنماؤں کے سو میں اور عیسائیوں کے گرجے اور یہود کے مطابق اور مسلمانوں کی مسجد میں کثرت کے ساتھ خدا کا نام لیا جاتا ہے ایک دوسرے کے ہاتھوں تباہ و برباد کر دے اور اللہ تعالی ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے اور بے شک اللہ تعالی کوئی اور غالب خدا ہے یہ آیت ہے جو ابتدائی طور پر گنگو کی اجازت کے لئے اس پس منظر میں جو میں نے خلاصتان بھی ذکر کیا نازل ہوئی اور مسلمانوں کو اس کی اجازت دی گئی اس وجہ سے ان پر ظلم کیا جا رہا تھا آ گیا مدینہ میں بھی وہ ظلم فارم کا جو ہے تاکہ وہ کر کے آئے اور مدینہ میں بھی وہ ظلم کرنے کی انہوں نے کوشش کی تو اس پر اللہ تعالی نے مسلمانوں کو جنگ کرنے کی اجازت دی تلوار سے جنگ کرنے کی اجازت دی اور اس اجازت کے بعد پھر وہی رونما ہوئی جو تعریف کریں جزاک اللہ تعالیٰ کی طرف جاتے ہیں ہم ان کو بہی دعا دیتے ہوئے ان کا سوال سنتے ہی پاکستان سے اٹلی فون کررہی خادم احمد سعید صاحب ان کا سوال سنتے ہیں ان سے بات کرتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ محمد سعید صاحب اسلام علیکم ٹیلی فون پر موجود ہے آپ خرچہ اگر بلغم کی پیدائش کی کتاب آپ کے والد محترم کی وفات ہوئی جبکہ معروف تاریخ کو یہ ہے کہ آپ کی پیدائش سے پہلے بھی آپ کے والد محترم شھدادکوٹ تاریخی حوالے سے رہنمائی فرماتے ہیں اس کی ٹھیک ٹھاک اللہ آپ کو سوال ہمیں مل گیا ہے محترم مولانا محمد کاشف سب سے خاص ہے اس سوال کا جواب ہم سب سے چھوٹے تھے لیکن پھر میں بات کرتا ہوں رسول خان صاحب کی وفات کے تعلق سے مختلف روایات تھے یہ والد کے تعلق سے یا حالات کے تعلق سے بھی مختلف قسم کی روایات ہیں جو سوال کر رہے ہیں کہ حضرت حسین نے ایسا لکھا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیغام صلح میں یہ بات لکھی ہے لیکن آپ نے تاریخ لبیا کے حوالہ تو پروا نہیں ہے لیکن اس میں یہ روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ کی وفات ہوئی تھی بہرحال یہ روایات مختلف قسم کی آتی ہیں اور حضرت انسان نے اس کہہ دیا دنیا کے بہت سے ملکوں میں حوالے سے بات کی ہے اپنی جگہ پر درست ہے کوٹلی فون کال رہے ریاض سے اس وقت عثمان علی بیگ صاحب ان کو بھی پروگرام میں شامل کرتے ہوئے ان کا سانس نہیں السلام علیکم و رحمۃ اللہ علیہ صاحب جی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ہر ملاقات پہ محسوس ہوا تھا انہوں نے ایک واقعہ سنایا کا پر ایک عورت کوڑا پھینکتی تھی تو میں نے ایک اور ویڈیو کلپ دیکھا اس نے مولانا خادم رضوی صاحب فرما رہے تھے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنی تو نہیں ہوتی ہو اور وسلم کی اور صحابہ برداشت کرتے ہو یہ واقعہ اس طرح نہیں ہیں اس کی صحابہ کی توہین برداشت کرلیتے تھے یہ میں نے پوچھا کہ کیا یہ واقعی ممکن ہے کہ آج کی اس میں حدیث ہے مہربانی انتظار کرنا شکریہ وہ تو میں نے ایک بیان کیا حوالہ اگر کسی پروگرام میں یہ معین دے دیا جائے گا جو آپ بات کہہ رہے ہیں میں خاص طور پر اس کو اس لیے نہیں بیان کیا تھا اب میں تھوڑا سا تفصیل بتاتا ہوں بخاری میں ایک روایت آتی ہے کہ رسول اکرم صل وسلم مکہ میں نماز پڑھ رہے تھے خانہ کعبہ کے پاس اور آپ سجدے کی حالت میں تھے اور آپ پر بعض کہتے ہیں اوجری بعض کہتے ہیں بچہ دانی اونٹ کی وہ کسی نے لا کر رکھ دی تھیں آپ سجدے سے سر نہیں اٹھا سکتے تھے کسی نے جا کے حضرت فاطمہ کو خبر دی اور وہ تشریف لائیں اور وہ ہٹایا اور اس طرح سے وہ آپ سجدے سے اٹھے اور یہ سارا واقعہ بخاری میں موجود تھے کس قسم کے مولانا کی بات کر رہے ہیں تیرا سال میں رسول اکرم صلی وسلم کے نہ آپ نے نہ آپ کے کسی صحابہ نے ایک پتھر بھی کسی دوسرے کو نہیں بول رہا ایک پتھر بھی نہیں مارا تو آپ یہ جو آج کل کے مولانا سوائے قتل کے اور کوئی جانتا ہی نہیں ہے ابھی آپ کو بتایا کہ طائف میں رسول لاہور ہوگئے کیا صحابہ گئے وہاں قتل کرنے کے لئے آپ کے پاس دو فرشتے آئے ہوئے تھے ان کو میں تباہ و برباد کر دو مگر رسول انسان فرمایا لا ایسا نہیں کرنا ایسا نہیں کرنا عقل کا پھل مولویوں کو اللہ تعالی سے زیادہ غیرت ہے اور ریال بچہ جانے والی روایت جو میسر ہیں بخاری میں موجود ہے کیا صحابہ اس وقت قتل نہیں کر سکتے کل کیا انہوں نے کبھی نہیں کیا کیا باتیں ہیں یہ باتیں اسلام کوبدنام کرنے والی ہیں یہ جتنے والا ہے ان کو چاہئے کہ روایات کو دوبارہ پڑھیں اور اس آیت کو یاد رکھے وارث بلال میں میرا آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وہ قاتل بنا کے نہیں بھیجا گیا تھا وہ ظلوما جہولا تھا وہ اپنے نفس کے اوپر ظلم برداشت کرتا تھا اور یہ ورنہ پھر اس کو بھول جاتا تھا کہ میں نے سب کچھ ہوا بھی ایسے نہیں ہوا ہے وہ اس حد تک رہیں وہ کریم تھا اس کو دنیا میں پیش کیجئے آپ لوگوں نے آپ کے مولویوں نے آپ کو پتہ نہیں غیر مسلم کیا کہتے ہیں بس قتل قتل قتل کے علاوہ کچھ نے اس دین کا نام اسلام رکھا تھا نام کے معنی سلامتی کا دین اور نماز پڑھتے ہیں تو ہم کہتے ہیں السلام علیکم السلام علیکم دائیں طرف والے تم پر بھی سلامتی ہو میرے آقا محمد صلی علیہ وسلم کا نمونہ اور بتا دیتا ہوں محترم کہاں ہوئی ہے کے سہارے کھڑے ہوئے تو آپ انتظار کر رہے تھے کبھی حضور ہم کو ختم کروائیں گے کیوں نہیں ختم کروایا اور برما ان کی وجہ سے اور کیا توقع رکھتے ہو مکہ والے احسان مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر تم لوگوں نے ظلم کی ہے اب کیا توقع رکھتے ہو اور کیا کہا تھا ان تک قریب ارم خواستہ ہے کرم پر ہمیں توقع ہے تو ہمیں کچھ نہیں کہے گا حضور کا جواب کیا تھا اصحاب و من تو را میں تم کو آزاد کرتا ہوں یہ تھا میرا آقا رحمت معاون کی گردن نہیں اتار دی تھی میرے آقا کی خدمت کو دنیا کے سامنے پیش کرے ناصر باغ میں بھیج دیا کریں جو ساری دنیا پر آتا ہے اپنے کردار کو صحیح کریں اور یہی آج مسلمانوں کی تباہی کر دی جائے یہ پروگرام جو آج پیش کیا جاتا ہے یہ وہ صحیح پروگرام ہے جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود علیہ السلام نے کہا کہ ہم کل رسول اللہ کا مقام سکھایا ہے کہ صحیح مقام کیا ہے ساتھ ہی ایک بات اور میں اضافہ کردوں جا سکتا کہ میرے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کل خود بولے میں بھی اس کا ذکر کیا تھا ظالم کیا جارہا ہے ہم تو وہ لوگ ہیں جو کہ باقی دور میں سے گزر رہے ہیں اور گزرتے ہیں دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ہم کوئی مقابلہ کرنے والے نہیں ہاں وہ لوگ ایسے ہیں جو رسول اللہ نے انسان کی حرمت کو دنیا میں ظاہر کر رہے ہیں آپ لوگوں نے کہا ہے کہ جو یہ مخالفین میرے مخاطب ہے کہ جو مخالفین نہیں کیا انہوں نے مخالفین مکہ جیسے بننا ہے یا مسلمان تھا جیسے بننا ہے یہ ان کے ہاتھ میں ہے یہ فیصلے سب اللہ تعالی کے حضور ہوں گے آج تو دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے میرے بھائی جس نے اور جو میری بات سن رہے ہیں میرے آقا محمد صلی علیہ وسلم رحمت تھے ان کو اللہ نے سارے قرآن میں بار بار کہا وما ارسلناکا الا رحمت اللعالمین شادی کسی بھی رسول انسان کو قاتل کہا گیا ہو جاؤ پھر کہا گیا ہو کہ یہ نہیں کہا گیا کہ وہ بات کرتے ہیں جو اللہ تعالی نے نہیں کی اور پھر آپ میں یہ مخالفین اسلام جو باتیں کرتے ہیں لوگوں کے جذبات کو پڑھاتے ہیں ان کو بھی جہنم کی طرف لے کے جا رہے ہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا حساب اللہ تعالی دے گا اور اللہ تعالی کسی کو چھوڑتا نہیں ہے یہ رسول کے حسن کی دنیا میں نمایاں کریں اور دنیا کو بتائیں کیا اعجاز احمد کی طرف آؤ گے نہیں سکتے ہیں جزاک اللہ تعالیٰ ان جزاک اللہ محترم مولانا محمد کاشف صاحب سے یہ سوال ہے کہ عام طور پر یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کیا حضور صلی وسلم جب مکہ میں تھے اس وقت آپ کے پاس طاقت نہیں تھی آپ کمزور تھے اس وجہ سے آپ نے صبر سے کام لیا اور جنگیں لڑی ہے تو اس بارے میں بتائیں سالم کہتا تھا نا شروع کے سال ایسے تھے کہ آپ کے ساتھ میں نہیں تھے دس سال کے بعد جب ہم پوری تاریخ دیکھتے ہیں حضرت حمزہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے اب عمر داخل ہو چکے تھے حضرت عبدالرحمان بن عوف داخل ہو چکے تھے بڑے بڑے صحابہ داخل ہو چکے تھے ایک سوال پیدا ہوا تھا سیمسنگ ایک مجلس میں تھے حضرت عبدالرحمن بن عوف نے یہی تھا کہ عین ریا کا ہماری تلوار میں وہی دم ہے جو اسلام قبول کرنے سے پہلے تھا اسی طرح ہمارے میں طاقت ہے جس چیز سے ہم کو روکا وہ آپ کے حکمران ہوگا اجازت دیجئے کا مقابلہ کریں یہ بھائی جو کہہ رہے تھے کہ قتل کرنا یہ سوال اس وقت پیدا ہوا رسول اکرم صاحب میرے آقا جو رحمت بنا کے بھیجا گیا کیا کہا امی اب تو بالا کہ مجھے اللہ تعالی نے درگزر کا حکم دیا معاف کرنے کا حکم دیا ولا تقاتلو سے جنگ نہیں کرنا لوگوں کے لیے ہم نہیں آئے ہے میری بیسٹ جنگوں کے لیے نہیں ہے بیسٹ آف کے لئے ہے واصف خان کو سمجھنا چاہئے طاقتوں مکہ میں بھی تھی اور طاقت جو یہ طاقتوں کی بات کرتے ہیں اللہ کے اسم سے آتی ہیں مجید میں لکھا ہے کہ بہت سی چھوٹی چھوٹی راتیں ہوتی ہیں بے اذن الا اللہ کے حکم سے بڑی ہماری بات ہوئی ہے وہ تو اللہ کا ذکر ہوتا تو وہاں ہی اللہ طاقت دے سکتا تھا مگر اللہ تعالی نے لکھا ہوا تھا پھر اتنا ہی نہیں اللہ تعالی کے غضب ابھی کچھ دن پہلے ہیں جو یہ واقعہ 2 سال کی فیس بک اب فیل کا واقعہ ہو چکا ہوا تھا العشر ہو اس کے زخم کو کیسے تباہ کیا کہ ایک جھنڈ آیا اس نے چیچک کے جراثیم کے خارش کا تباہ و برباد ہو گیا وہ بھی انکار کر سکتا تھا مگر اس کے باوجود آپ نے صحابہ کو کوئی مقابلہ نہیں کرے گا اللہ کے حکم دے دیا ہوا ہے رحمۃ اللہ تعالی دکھانا چاہتا تھا کہ مسلمان اللہ تعالی کے فضل سے صابر ہیں شہر ہی صبر کرنے والے ہیں اس لیے حضور تاج الشریعہ نہیں دی مدینہ میں آکر بیرون کاتالان دفع کی اجازت دیتی یہ ہسپتال آخری سوال ہے کہ چار سے جواب دفاعی جنگوں کے لیے بھی حضور صل وسلم نے کچھ اصول بیان فرمائے اور کچھ شرائط رکھی تھی اور ہمیشہ صلح کو ترجیح دیتے تھے تو اس حوالے سے میں آپ سے صرف یہ جاننا چاہوں گا اس کا فیصلہ ابھی تھوڑا رہ گیا آپ کے ساتھ سورہ حج کی آیت جس میں جنگوں کی اجازت کا ذکر ہے اسی میں دراصل اللہ تعالی نے شرائط اور قواعد و اصول جنگوں کے بیان کئے ہیں بنیادی بات اس نے اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ قاتلوں نہ ان کو جنگ کی اجازت اس بنا پر دی جاتی ہے کیونکہ ان کے ساتھ لڑائی کی جاتی اگر یہ بیان فرمائی کہ ان لمحوں اجازت اس وجہ سے دی جا رہی ہے کیونکہ ان کے اوپر ظلم کیا گیا اور ظلم یہاں تک کہ انتہا پسندی ظلم کی ان کو اپنے گھروں سے نکال دیا گیا اور تیسری بات اللہ تعالی اس میں یہ بیان فرمائی کہ جنگوں کی اجازت جو ہے اس کا مقصد ہے تین چیزیں بیان فرمائی جن سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ جنگوں کے اصول اور ضوابط کیا ہے ایک بات یہ کہ اگر لڑا جائے تمہارے ساتھ تو لڑنا ہے دوسری بات یہ کہ لڑائی کی اجازت صرف اس لئے دی جارہی ہے کیونکہ ظلم کیا گیا اور تیسری بات یہ کہ لڑائی کا مقصد یہ ہے کہ جو مذہبی آزادی جو ہے دہر میں مذہبی آزادی کا قیام یہ جنگ کا مقصد ہے یہ بنیادی تیسرا اللہ تعالی نے اس نے بیان فرمایا اور دوسری بات جو بھی اپنے سوال بھی پوچھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ صلح کی طرف مائل ہوتے اور صلح کی تعلیم اللہ تعالی نے فرمایا انہوں نے اس سلسلے میں اگر وہ صلح کی طرف امن کی طرف آنا چاہتے ہیں تو بھی امن کی طرف انڈیا کا مشہور واقعہ ہے باوجود اس کے کی شرائط عائد کی گئی لیکن تب بھی صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی طرف مائل کر دے اور سولہویں باقاعدہ پھر جب جنگ ہوئی تھی تو اس بار باقاعدہ بعض اہم ہدایات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ابو کو نہیں ماننا بچوں کو نہیں مارنا عورتوں کو نہیں مارنا پھلدار درختوں کو نہیں کاٹنا تو کرائے وقت نہیں ہے ساری بیان کرنے کا خلاصہ یہ بیان کرتا ہوں کہ ایسی ایسی شرائط ہے جو واضح طور پر بتاتی ہیں کہ اسلامی جنگجو ہیں نہیں تھی صرف اور صرف قیام امن کے لیے اور مذہبی آزادی کے قیام کی غرض سے نکلا اس کے ساتھ آج کا ہمارا پروگرام ختم ہو جاتا ہے آخر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جس میں حضور فرماتے ہیں جس قدر مصائب اور تکالیف صحابہ کو ابتدائی اسلامی اٹھانی پڑی ان کی نظیر بھی کسی اور کو میں نہیں ملتی اس بہادر قوم کو برداشت کرنا گوارا کیا لیکن اسلام کو نہیں چھوڑا ان مصیبتوں کی انتہا آخر اس پر ہوئی کہ ان کو وطن چھوڑنا پڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کرنی پڑی اور جب خدا تعالیٰ کی نظر میں کفار کی شرارتیں حد سے تجاوز کرگئی اور وہ ٹھہر گئی تو خدا تعالیٰ نے انہیں تو خدا تعالیٰ نے انہیں صحابہ کو مامور کیا کہ اس سرکش قوم کو سزا دی چنانچہ اس قوم کو جو مسجدوں میں دن رات اپنے خدا کی عبادت کرتی تھی اور جس کی تعداد بہت ہی تھوڑی تھی جس کے پاس کوئی سامان جنگ نہ تھا مخالفوں کے حملوں کے روکنے کے واسطے میدان جنگ میں آنا اسلامی جنگیں دفاعی جنگ تھی حوالے سے ہم اپنی سہیلی سے آئندہ ایپیسوڈ میں بھی آپ کی خدمت میں پیش کریں گے اور مختلف ہمیں آپ کرنے کی کوشش کریں گے ہماری صدا 26 دسمبر 2020 ہفتہ کے دن انڈین ٹائم کے مطابق رات کے ساڑھے نو بجے اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے قادیان دارالامان سے ہم آپ کی خدمت لائیو پیش کریں گے تب تک کے لئے اجازت دیجیے گا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ نور خدا آپ آگے لہروں نے تار تثلیث کا بتایا ہے ہیلو کہ یہ نور خدا آپ کا بھائی آپ کی لاہور

 47 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: