Rahe Huda – Watan Se Muhabbat Islam aor Qanoon




Rahe Huda – Watan Se Muhabbat Islam aor Qanoon

Rah-e-Huda | 24th October 2020 – Qadian India

ہم تو رکھتے ہیں مُسلمانوں کا دیس دل سے ہے آیت خط عمل السلام علیکم دل سے ہے خدا میں مرسلی سخت عمل جنگلی اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ناظرین کرام اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آج 24 اکتوبر دوہزار بیس ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق اس وقت شہر کے چار بجے ہیں اور ناظرین وقت کا پروگرام بن رہا ہے خدا کا قادیانی دارالامان سے ایک مرتبہ پھر پروگرام ہے اللہ کی ایک سیریس لے کر اس وقت ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہے اک مرحلہ کے تعلق سے ہمارے مجاہدین یہ جانتے ہیں کہ یہ ایک لائیو پروگرام ہے اور انٹرویو بھی ہے اور اس کے رسول مشتمل ایک سیریز قادیان دارالامان سے بھی آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں یہ پروگرام لائیو اور ہم صرف اپنے مجاہدین کے لیے منعقد کرتے ہیں تاکہ ہمارے مشاہدے بھی ہمارے ساتھ اس پروگرام میں جوڑ سکتے ہیں اور اپنے پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کر سکیں دن آج کا ہمارا یہ پروگرام بھی لائیو ہے اور انٹرویو ہے اور ہم سے رابطہ کرنے کے لئے مختلف سہولیات ہمارے مشاہدے کے لیے اس وقت دستیاب ہیں جس میں ٹیلیفون لائن سے جس کے ذریعہ سے آپ ہمارے ساتھیوں کے ساتھ کنیکٹ ہو سکتے ہیں اور اپنا سوال ہمارے علماء کرام کے بارے میں پیش کر سکتے ہیں اسی طرح ٹیکسٹ میسج سٹریٹ میسجز اور ایم ایس کی سہولت موجود ہے جس کے ذریعہ سے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اپنے سوالات ہم تک پہنچ سکتے ہیں سوٹ میں آپ ہمارے ساتھ شریک گفتگو ہونا چاہتے ہیں اور ہمارے ساتھ اس پروگرام میں جاننا چاہتے ہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ ہم سے رابطہ کی تفصیل اس وقت آپ اپنی ٹیلی ویژن سکرین پر ملاحظہ فرما رہے ہیں یا دارالامان سے 4episode پر مشتمل سیریز اس وقت ہم آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوں کیا آج یہ پہلا ایپیسوڈ ہے جس وقت ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اس ایپیسوڈ میں ہم حب الوطنی کے تعلق سے بات کریں گے کہ اسلام وطن سے محبت کا کیا حکم دیتا ہے اور ایک مسلمان سے حب الوطنی کا کیا تقاضا کرتا ہے حکومتی قوانین کی پاسداری کے تعلق سے یہ حکمرانوں کے احترام اور ان کی اطاعت کرنے کے حوالے سے اسلام کی کیا تعلیمات ہیں یہ آج ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے کیونکہ حب الوطنی کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ ہم دنیا میں امن قائم کرسکتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے کا بھی یہ ایک اہم ذریعہ ہے ایپیسوڈ کی توحید کی طرف جانے سے پہلے آج کے اس پروگرام میں جو علمائے کرام ہمارے ساتھ شامل ہوں گے اور جو اس وقت ہمارے پینل میں موجود ہیں ان کا تعارف آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں مکرم و محترم مولانا محمد کریم الدین صاحب شاہد ہیں اور ان کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں مکرم و محترم مجاہدہ میں سب سے آخری دونوں حضرات آپ جانتے ہیں کہ قادیان کے پروگرام رہی ہیں اور ہم گفتگو آپ کے ساتھ کرتے ہیں اور آپ کے سوالات کے بھی تسلی بخش جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں آپ دونوں حضرات کا پروگرام ہے میں خرم کرتا ہوں ناظرین آج جب ہم دنیا کی حالت کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ دنیا بڑی تباہی کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ جا رہی ہے انسانیت کو ہلاکت کی طرف دھکیلنے والی مختلف وجوہات ہیں اور مختلف عوامل ہیں جس میں سے بنیادی طور پر یہی چیز ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی ہستی کو بھلا بیٹھا ہے اور چکا ہے اور امن سے دور اور تباہی کے قریب کر چکا ہے اور اسی طرح مختلف عوامل ہیں جیسے کہ ہم اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ سادی بحران ہے معاشی بحران ہے ایک طرف ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مختلف ممالک میں ان کے اپنے اندرونی حالات بھی بہت تشویشناک ہے کہیں پر ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف سیاسی مسائل ہیں کہیں پر ہم دیکھتے ہیں کہ فرقہ واریت ہے رنگ و نسل کے اختلافات ہیں کہیں پر مذہبی اختلافات ہیں جس کے نتیجے میں خانہ جنگی کی صورت بنی ہوئی ہوتی ہے اور عوام حکمرانوں کے خلاف لڑ رہی ہوتی ہے اور وہ حکمران بجائے اس کے عوام کے حقوق ادا کریں وہ ان پر ظلم کرنا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا میں ایک بد امنی کی کیفیت اس وقت پیدا ہوئی ہے میں جس قدر بھی مسائل اس وقت ہم دیکھتے ہیں ان تمام مسائل کا حل ہمارے عقیدے کے مطابق اسلامی تعلیمات میں موجود ہیں جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید بنیادی طور پر جو حکمران ہے جو حق میں وقت ہے ان کی اتحاد کی تعلیم دیتا ہے وفاداری کا ہمیں اصول سکھاتا ہے ملکی قوانین ہے اس کی پاسداری کا ہمیں حکم دیتا ہے یہ بلکہ وطن کے ساتھ مخلصانہ محبت کا اسلام ہم سے تقاضا کرتا ہے جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو مختلف انبیائے کرام کے ہجرت کے واقعات بھی اس میں مذکور ہیں تو وہاں پر ہمیں نظر آتا ہے کہ کس طرح انبیائے کرام کے اندر بھی اللہ تعالی نے اپنے وطن کے ساتھ جو محبت ہے وہ دید کر رکھی تھی جس کے نتیجے میں جب ان کی ہجرت ہوتی ہے تو وہ اپنے وطن سے مخلصانہ وفاداری اور اپنے وطن کے ساتھ محبت کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں جس کو قرآن مجید نے بھی رقم کیا ہوا ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بال و تن من الایمان وطن سے محبت انسان کا ایک ایمان تقاضہ ہے کہ جو حقیقی مسلمان ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تم سے محبت کرے اس محبت اور وطن سے محبت میں کسی قسم کا ٹکراؤ نہیں ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص کامل محبت کرتا ہے اور اس کے ساتھ وفاداری کرتا ہے اور اس کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اس کے احکام کی تعداد کرتا ہے تو یہ دراصل قرب الہی کے حصول کا ایک ذریعہ ہے اسلامی تعلیمات کو جب ہم پڑھتے ہیں تو مختلف مواقع پر اسلام نے ہمیں یہ باتیں سکھائی ہیں کہ کس طرح ہم نے ایک وطن میں رہتے ہوئے اس وطن کے جو حکومت نے اس کو ادا کرنا ہے اور کس طرح ہے کی پاسداری کرنی ہے اور کس طرح مذہبی احکامات پر عمل کرتے ہوئے وطن کی محبت کے تقاضے ہیں اس کو ہم نے پورا کرنا ہے اور کس طرح ایک بیلنس طریقے سے مذہب اور ملک دونوں کو لے کر ہم نے چلنا ہے جس کے نتیجے میں ہم دنیا میں امن قائم کرسکتے ہیں یہ ساری تعلیمات اسلام نے بہت ہی خوبصورت پیرائے میں ہمارے سامنے پیش کی ہیں اگر خلاصۃ ہم اس طور پر نافذ کرنا چاہئے کہ کس طرح ہم وطن کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور کس طرح وطن کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام حکمرانوں کے لئے عوام کے ساتھ انصاف کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اپنے حکمرانوں کی ہر حالت میں آزاد کرنے کا حکم دیتا ہے اور جب اس سنہرے اصول پر ہم عمل کرتے ہیں تو ہم اپنے اس ملک کو بھی امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں اور دنیا میں بھی امن کے قیام کے حوالے سے ہم اپنی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں اس مختصر سی تمہید کے بعد آج کے سوالات کی طرف میں جاتا ہوں اور ایک مرتبہ پھر اپنے مجاہدین کو یاد دلانا چاہوں گا کہ آج کے پی سوڈ میں ہم بات کر رہے ہیں وہ الوطنی کے تعلق سے کہ کس طرح کہیں اور کس طرح خوب الوطنی کے نتیجے میں ہم قرب الہی کو حاصل کر سکتے ہیں اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں اس کے حوالے سے اگر آپ کے ذہن میں سوالات ہیں تو ہمارے لیے فون لائن سب کے لئے ٹیوٹ ہیں آپ فون کر سکتے ہیں اور اپنے سوالات ہمارے علماء کرام کے بارے میں پیش کر کے جوابات حاصل کر سکتے ہیں ہیں میں گفتگو کا آغاز محترم مولانا محمد کریم الدین صاحب شاہد سے کرنا چاہتا ہوں سب سے پہلے میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ وطن سے محبت کے تعلق سے اسلام میں کیا حکم ہے قرآن مجید اور احادیث کا جب ہم پڑھتے ہیں تو اس میں کیا کیا احکامات ملتے ہیں اس کے بارے میں ہمارے ناظرین کو سب بتائیں رحمان رحیم ناظرین و سامعین کرام اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ان بالکل فطرت کے عین مطابق تعلیم دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا اللہ تعالی نے جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا ہے وہ حضرت علی کی وصیت کردہ فطرت اور یہ ایک اشرف المخلوقات انسان کے اندر تو یہ خوبی پائی جاتی ہے جس جگہ وہ پیدا ہوتا ہے پرورش پاتا ہے اس جگہ سے اس کو ایک گولی محبت ہو جاتی ہے جی لگا ہو جاتا ہے کیا تو خیر اشرف المخلوقات ہیں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نیلے پرندے اور دوسرے پرندوں میں سے بھی آپ دیکھیں گے کہ جہاں وہ حوصلہ بناتے ہیں دن میں وہ جہاں کہیں بھی غذا کی تلاش میں دانوں کی تلاش میں پھرتے ہیں لیکن شام کے وقت روح آ کر اپنی گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں تو اتنا ان کو احساس ہوتا ہے جائے کبھی کوئی کسی قسم کا بھی جانور ہو وہ جس جگہ پر رہتا ہے وہ اس کو اجر نہیں چاہتا کرنا چاہتا ہے اس کو زیادہ سے زیادہ آرام دے بنانا چاہتا ہے کہ جس سے اس کی زندگی کے سامان سے کٹ سکے تو یہ جانوروں میں بھی خوبی پائی جاتی ہے انسان تو بن اشرف المخلوقات میں بیان کیا اگر میں انسان پیدا ہوتا ہے وہاں پر کیا آپ کی ماں ہے سب سے پہلے ماں سے اس کا تعلق ہوتا ہے ماں سے بڑی محبت ہوتی ہے پھر اس کے بعد دیگر رشتہ دار ہے والدین بہن بھائی ہیں ان سب سے محبت کا سلوک بھی رکھتا ہے اس کے علاوہ ارد گرد جو اڑوس پڑوس کے لوگ ہوتے ہیں وہ شہر کے لوگ ہیں مل جل کر رہنا پسند کرتا ہے اور یہ بھی انسان کا یہ خاصہ ہے ہے کہ یہ فطرتی طور پر انسان جو ہے وہ معاشرہ پسند طبیعت ہے تمہارا کہنے کا مقصد یہ ہے وطن سے محبت جیسا کہ آپ نے بیان کیا مشہور حدیث ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ حب الوطن من الایمان انسان جس عقیدے میں بھی رہتا ہوں دل کے اندر اپنے وطن کی محبت باہر آجائیں گی ہوتی ہے اور کبھی اپنے وطن کو ملنا نہیں چاہتا اللہ تعالی نے یہ خاص طور پر فرمایا کی آپس میں رشتہ داری ہو یا حکومت کی پالیسیاں ہو یا معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کے کیا حقوق ہے آپ کے کیا حقوق ہے بہن بھائیوں کے کیا حقوق ہے پھر یہ کہ پڑوسیوں کے کیا حقوق ہے تو ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے امن و امان کبھی ہم قائم کر سکتے ہیں جب کہ ہم ان تمام کے حقوق وہاں سنت طریقہ ادا کر سکتے ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جیسا کہ آپ نے بھی شعر کا ذکر کیا ہے کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جو کام ہے وہ عدل و انصاف سے کام نہیں لیتے پنجاب کے ڈکٹیٹر شپ جہاں پر قائم ہے جب جمہوریت کا جو دور آچکا ہے دیکھنے کی بہت بڑی خرابیاں ہیں تو نمائندہ جو چلے جاتے ہیں وہ یہ دیکھ کر سمجھ جاتے کہ بھائی یہ ہمارے تمام سماجی صحیح طریقے سے اس کو سینڈ کر کے اس کی فلاح و بہبود کا کام کر سکتا ہے اس کے اندر ہے کہ اسرائیل کس کا ہے کہ نہیں بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون زیادہ جو ہے وہ ہمارا سپورٹ کرے گا یا یہ ہے کہ کون زیادہ ہمیں فائدہ پہنچا سکتا ہے لیاقت کی طرف دھیان نہیں دیا جاتا بلکہ پیسے کی طرف اور اس کے اسٹیٹس ہے اس کی طرف زیادہ دھیان دیا کسی اسلامی خاص طور پر مجید کی تعلیم نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ جیسا کہ آپ نے بھی شعر طنز کر کیا کہ الامر ہے ان کو یہ ہدایت ہے کہ عدل و انصاف سے کام لے ان اللہ یحب المقسطین دیکھیں اگر صحیح رنگ میں عدل و انصاف سے فیصلہ کریں گے اگر کے ساتھ فیصلے کرے تو بہت ساری خرابیاں دور ہوجاتی ہے انسان بعض دفعہ رشتہ داروں کی طرف جاتا ہے دوستوں کی طرف جاتا ہے پھر وہ انصاف قائم نہیں رہتا ہے بلکہ پر بدامنی پیدا ہو جاتی ہے دوسری طرف یا کوئی اور حکم ہے کہ اطیعواللہ و اطیعو الابراء من کو اللہ کی بھی اطاعت کرنی ہے جو اللہ نے حکم دیا اس کی پابندی کرو کبھی تو سامنے آ سکتے ہو واطیعو رسول اللہ کے جو نمائندے کے طور پر اللہ تعالی نے تمہاری اصلاح کے لئے نبی یا پیغمبر یار شرم نہیں جو ان کی ہدایت پر عمل کرو گے تو ہے کہ تم امن و امان میں رہو گے تمہارا معاشرہ اچھا رہے گا اور دنیا کے اندر بہتری پیدا ہوگی تو یہ کیا بات ہوئی اس کے ساتھ اللہ نے ایک اور پابندی لگا دی وہ نہ مرد کو جو بھی تمہارا حاکم ہے جو غلام ہے اس کی بھی اطاعت کرنا لازمی ہے اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور سے بھی دیکھیں گے حالانکہ اس وقت اکثریت وہاں کی بت پرست تھی بادشاہ بھی دونوں تھا وہ بھی انتہائی درجے کا مشرک قسم کا بادشاہ تھا بلکہ وہ مخالف تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہاں تک کہ اس نے آگ میں جلانے کی کوشش کی تو ایسے تمام حالات میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں کہ اس کی مخالفت کی ہو یا احکام میں جو اس کا مطلب ہے کہ جو احکام ہے یا بادشاہ کے جو احکام ہے اور جو قانون اس نے بنایا ہے اس کی پابندی نہ کی ہو اس کی پابندی انہوں نے کی ہے السلام کا ذکر دیکھیں کہ فرعون یہ بھی ایک ایسا بادشاہ تھا جو خود سر تھا لیکن جب اس کدھر گئے ہیں تو انہوں نے ان کی فرمانبرداری بھی اختیار کی باقی اپنا من چاہا تھا وہاں پر لیا اور اس کے بازاروں نے کام کیا ہے واحدہ اسی طرح سے ہم دیکھیں موسی علیہ السلام فرعون کے آگے مت میں یہ آئے ہیں کے احکام کی پابندی انہوں نے ضرور کی ہے لیکن یہ ہے کہ یہ مطالبہ بھی ان کے سامنے رکھا کہ بنی اسرائیل کو ہم لے جانا چاہتے ہیں آخر وہ نہیں مانا تو اللہ کے حکم سے ملنے جانا پڑا آخر یہ بھی ایک معاملہ ہے کہ جب انسان کی زندگی کی حکومت میں ملک میں دو بار ہو جائے تو پھر اس کو وہاں سے نکل جانا چاہئے ان شاء اللہ آگے بحث آئیں گی اس کی حضرت عیسی علیہ السلام ہے رومن حکومتیں میں ان کو بد نام کرنے کے لیے یہ کہا تھا کہ یہ رومن حکومت کا مخالف ہے سیدھے سوال کیا کہ ہم جو پیسے خرچ کرتے ہیں یا چلا دیتے ہیں یہ کس کو دے خدا کو دیں یا رومن امپائر کو دے نے یہ سوال تھا کہ خدا کو دو تو ہم کہیں گے کہ یہ بھی باغی ہے حکومت کا حضرت عیسی نے جواب دیا جو خدا کا ہے خدا کو دو اور جو شہنشاہ کا ہے وہ شخص جو کہ سرکاری آفیسر کو دے دو ہم دیکھتے ہیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ایم کے میں 13 سال تک موت کے بعد آپ رہے ہیں کرکے وہاں پر کوئی اسٹوری گورنمنٹ نہیں تھی قبائلی حکومت تھی جو کبھی رہتا تھا اس کے مطابق کام چلتا تھا ان کے احکام اپنے ہوا کرتے تھے لیکن پھر بھی ہم کے میں جو بھی کبھی لے کے حکومت تھی اس کی پابندی کی بلکہ آپ نے یہ بھی اس اے آر وائی آیت میں اس کا ذکر آتا ہے کہ نبوت سے پہلے بھی ۃنجلا ناسا اس نے دیکھا کہ لوگ مرتے مرتے ہیں آپ ہی سر پھٹول کرتے ہیں بدامنی پیدا ہو جاتی ہے اور دلوں کے اندر نفرتیں اور خوبصورتی پیدا ہو رہی ہے تو اس نے پھر ایک کی تنظیم بنائی جس کا نام رکھا جاتا ہے حلف الفضول کہا جاتا ہے کہ یہ فضلنا میں جو ہے اس کے اندر دو تین آدمی تھے اس کی وجہ سے اس کا نام ہے فضلو کا معاہدہ سمجھا جاتا ہے آپ نے آنحضرت صلی وسلم نے اس کو کچھ نہ کر سکیں ان کا معاملہ یہ تھا کہ ظالم کے ہاتھ کو ہم روپے گے اور امن وامان قائم کریں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے دور میں اپنے وقت کی جو حکومتیں اس وقت کی تھی اس کی پابندی کے باوجود اس کے کہ آپ نے بڑی تکلیف سے اٹھائی ہے پر حملے ہوئے ہیں کیا خون آپ کا بھائی آگیا لیکن تیرا ساتھ کمرے میں ان تمام تکالیف کے ملک کو نہیں چھوڑا بلکہ یہاں تک آتا ہے کہ جب آپ کو مجبورا مکہ کو چھوڑ کر ہجرت کر کے مدینہ جانا پڑا تو اس وقت کہتے ہیں کہ مدینہ سے باہر نکل کے کبوتر کے بڑے درد کے نا درد کے انداز میں آپ نے فرمایا کہ مکے کی سرزمین تو مجھے بہت پیاری ہے لیکن کیا کروں کے رہنے والے مجھے رہنے نہیں دیتے آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے تو یہ وطن کی محبت ہے جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی پھر سب سے بڑی بات کی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے علاوہ ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامانات اللہ علیہ نے بیان کیا کہ ایسے اہل شخص کو شروع تمہارے مشکلات کو حل کرنے والا ہوں تمہاری تکالیف کو دور کرنے والا امن و امان قائم کرنے والا ہو تو یہ سب ایسی باتیں بحث کو میں زیادہ علم ہونا کرتا ہوا اس سلسلے میں بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے چند اقتباسات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں اسلام ہمیں ہرگز یہ نہیں سکھاتا کہ ہم ایک غیر قوم اور غیرمذہب والے بادشاہ کی راہوں کر اور اس کے زیر سایہ ہر ایک دشمن سے امن میں رہ کر پھر اس کی نسبت بد اندیشی اور بغاوت کا خیال دل میں لائے بلکہ وہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ اگر تم اس بادشاہ کا شکر ادا نہ کرو جس کے سایہ دیر سے تمام نہیں رہے ہو تو تم خود اللہ کا شکر ادا فری کا حوالہ ہے 36 کا اسی طرح آپ نے فرمایا تبلیغ رسالت میں خدا تعالی نے جس گورنمنٹ کے ماتحت ہمیں کر دیا ہے اس کی فرمانبرداری کرنا ہمارا فرض ہے یہ امن و امان قائم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے اب دیکھیے تو اعتراض کرتے ہیں ٹائیگر کی تعریف کی ہے نعوذ باللہ من ذالک گورنمنٹ انگریزی کے اپڈیٹ تھے اب بتائیے کہ جس سے گورنمنٹ نے ایسی ظالم حکومتوں سے ہمیں نجات دی جو کہ ہمیں نماز پڑھنے دیتے تھے جو قرآن پڑھنے دیتے تھے اسلام کی تبلیغ نہیں کرنے دیتے تھے ایسے لوگوں سے نجات دے کے یہاں پر امن وامان قائم کیا اور مذہبی رواداری قائم کی اور اس کے ساتھ ہی مذہبی آزادی ہے ملی اس کا شکریہ ادا کرنا اور آپ نے وہ حق ادا کیا ہے یہ نہیں آپ گورنمنٹ نے کیا اسی طرح سے آج کی حکومتوں میں بھی ہم ہندوستانی کر لیتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہندوستان کی حکومت کے ہم پورے پاکستان رہے یہ موجودہ دور میں ایک کرونا کا بڑا کیڑا ہو بابری ایسی صورت میں ہم نے حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح سے رہنمائی چاہی تو حضور نے فرمایا کہ وہاں کی گورنمنٹ جو تمہیں جو تمہیں ہدایت دیتی ہے اس کی اور اس کی پابندی اللہ تعالی کے فضل سے زیادہ حکومت کی پابندی کر رہے ہیں تو 12 خلفائے احمدیت کے شادی کے بعد پیش کرتا ہوں کے دوسرے خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں ہمارا اصل یہ ہے کہ جو حکومت جس ملک میں قائم ہوگئی ہو ہمیں اس کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے اور اگر اس میں کچھ خرابی آ ہو تو اس کے ساتھ مل کر با امن عمل ذرائع سے ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے اپنے اصل کے ماتحت ہر ملک کے بسنے والوں کو کہیں گے کہ وہ اپنے ملک کی خیر خواہی کرے اگر ہمارا اصل دنیا میں قائم ہو جائے تو دنیا لڑا دنیا سے لڑائی بند ہوجائے تو امن وامان قائم کرنے کے لئے کی تابعداری بہت ضروری ہے ورنہ یہاں پر فسادات شروع ہوجائیں گے اور بات ہے کہ بعض لوگ جو حکومت کے مخالف بن جاتے ہیں اپنے علاج کی خاطر اس کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ بھی ہے کہ ان کی باتوں ایسی ہے جیسے ایک شخص سائیکل پر بیٹھا ہوا ہے اسی ڈال کو کاٹ رہا ہے تو خود بھی کرے گا اور دوسروں کو بھی اس سے تکلیف ہو جائے گا کیا فرماتے ہیں خلیفۃ المسیح الثانی یکم جنوری انیس سو بیان 22 کا حوالہ تھا حضور فرماتے وفات حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے لے کر آج تک ہمارا یہی اصول رہا ہے کہ جو احمدی جس حکومت کے ماتحت ہو تو اس کی فرمانبرداری کریں تاکہ وہ انگلستان کا احمدی ہوں کہ امریکہ کا احمدی ہوں ہر کسی کو احمدی ہوں ہندوستان کے رہنے والے احمدی انڈین یونین کی حکومت کی پوری پوری کتابیں اسی طرح سے ہمارے اصول کے ماتھے جو جرمنی میں ہماری جماعت کہیں وہ جرمن حکومت کے جو بھی اصول اور قواعد ہے اس کے پابند ہیں جو یوکے میں رہنے والے ہیں وہ یوکے کی حکومت کے پابند ہے اسی طرح سے ہر ملک میں جہاں جہاں بھی جماعت احمدیہ میں یہ قرآن مجید کی تعلیمات کے عین مطابق ہر حکومت کی پابندی کرتے ہیں ہر حکومت کی فرمانبرداری کرنا ان کا شیوہ ہے اور بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں جیسے کہ ہمارے ملک میں ہم پر یہ اعتراض لگایا جاتا ہے ملک کے دشمن ہیں حالانکہ احمدیوں سے بڑھ کر دنیا میں اپنے ملک کا وفادار اور کوئی شخص ہو نہیں سکتا باوجود اس کے مسلمان اس بات کو پڑھتے ہیں ورنہ آپ دیکھیں کہ اسلامی ممالک کا کیا حال بن گیا ہے اسی واسطے کہ حکومت وقت کی فرمابرداری نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ آپس میں پٹھان ہو رہے ہیں آپ آپ سے دست و گریبان ہو رہے ہیں کیوں اس واسطے کہ انہوں نے اسلامی اصولوں کو چھوڑ دیا ہے تو باہر اکثر مختصر یہ ہے کہ اسلام نے امن و امان قائم رکھنے رہنے کے لئے یہ ہمیں تعلیم دی ہے اپنے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرو ان کے آرام کا خیال رکھو امن وامان بحال کرو اگر یہ قرآن مجید یہ بھی کہتا ہے کہ من قتل نفسا بغیر نفس دنیا اگر ایک شخص کوئی نہ کسی کو قتل کرتا ہے تو یہ سمجھو کہ ایک آدمی کو اس وقت لکھی ہے بلکہ پوری انسانیت کا قتل ہے تعلیم اللہ تعالی نے ہمیں سے حالات کے ساتھ ہی دیکھیں گے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنی چاہیے کیوں اس واسطے کہ جب تمہارا پڑوسی امن میں ہے اور تم اس کے ساتھ رہتے ہو وہ تمہارے ساتھ امن میں رہتا ہے تبھی پورے معاشرے میں امن قائم ہوگا چنانچہ مجھے آپ کی ایک حدیث ہے اس میں آپ فرماتے ہیں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنی میں نے یہ سمجھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کے جو جائیداد ہے اس کے اندر جو حراست کا حق مانگنا شروع کر دے تو اتنی شدید تعلیم ہے یہاں تک کہ اندر السلام نے فرمایا کہ اگر تمہارا پڑوسی بھوکا ہے ایسی صورت میں تم کو اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ میرا پڑوسی پڑوسی بیمار تھا آیا کی تیمارداری نہیں کیا ان کے خلاف تو یہ اللہ تعالی اس سے پوچھے گا دکھائی گئی کہ اعتبار سے اسلام کی تعریف ہے اور دیگر مرثیہ دو اخلاص خیر خواہی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو ایک مسلمان جس نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کیا جس نے قرآن مجید کی تعلیم کو اپنے اوپر کیا اس کا یہ حق بنتا ہے کہ پوری دنیا میں امن و امان قائم کرنے کی ہر طرح سے کوشش کرے اور اگر کسی قسم کا کوئی رکھنا دیکھیں تو مناسب ریٹ میں ان کو جو حکماء ہیں ان کے سامنے پیش کر سکتا ہے لیکن قرآن مجید اس سے بھی منع کرتا ہے کہ نافرمانی نہ کریں کیوں کہ اس کے نتیجے میں یہ آپ دیکھئے کہ یہاں ہندوستان میں کیا ہے باہر بھی دیکھیں گے چوٹی باتوں کو لے کے مطالبات کو منظور کروانے کے لیے ایجوکیشن شروع ہو جاتے ہیں جاتی ہے حضرت سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں اس چیز کو بھی رد کیا کہ کوئی بھی احمدی کسی اسٹرایک پر کسی ایڈیشن میں شامل نہیں ہوگا اپنے حقوق منوانے ہیں تو اس نیرنگ میں جو حقوق تمہیں حکومت نے دیے ہیں ان کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کے سامنے اپنے مطالبات رکھو امن کے ساتھ رکھو لیکن یہ نہیں ہے کہ حضرت الکردی عوام کا نقصان ہوتا ہے اسے تو جماعت احمدیہ کو یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کے حکومت وقت کی وفاداری کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ ہم  اسٹرائک میں ایجوکیشن میں اس میں حصہ لیں کیونکہ اسے امن و امان بگڑ جاتا ہے اقتصادی لحاظ سے نقصانات ہوتے ہیں پھر مارکیٹ ہوتی ہے ابھی آپ دیکھیں گے کہ ہندوستان میں بھی بہت ساری جگہ پر آئی ڈی آئی جی آپریشن ہوتے ہیں ابھی حال میں آپ دیکھیں گے کہ ایک قانون جو حضرات کا ہے وہ مرکزی حکومت کے پاس کیا اور اس کے بالمقابل صوبائی حکومتیں جو ہڑتال کر رہی ہیں آڈیو پر بیٹھے ہوئے ہیں کئی دن ہو گئے ہیں بلکہ بیس پچیس دن سے جو ہے گاڑیاں بند ہے جس کا نقصان ہے یہ سارا ریلوے کا نقصان ہورہا ہے ہوائی جہازوں کا تو پھر بڑے لوگ جو ان کے پاس پیسہ ہے وہ سفر کر سکتے ہیں عوام کا کیا قصور ہے اس میں تو گاڑیاں بند ہونے کے نتیجے میں عوام کو پریشان یہ لوگ ہیں اور جو گورنمنٹ کی حامل ہوتی تھی ریل گاڑیوں سے وہ بھی آب زدہ ملک کا نقصان ہے تو ان تمام باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ امن و امان کے ساتھ رہوں حکومت وقت کی پابندی کرو اپنے الامر کی اطاعت کرو اور اس کے ساتھ ساتھ تمہارے اندر انسانی ہمدردی سب سے زیادہ ہونی چاہیے اور کوئی ایسا کام تمہارے ہاتھ سے یا منہ سے یا پھر سے نہیں ہونا چاہیے کہ جس کے نتیجے میں کسی قسم کا فرنچ ے یا حکومت کو نقصان پہنچے یا ہمیں نقصان پہنچے ہمارے پڑوسیوں کو نقصان پہنچے تو یہ وہ اعلی تعلیم ہے کہ جس کو اگر مدنظر رکھا جائے تو دنیا میں امن و امان قائم رہ سکتا ہے اور سب سے بڑی بات اس میں جیسا کہ ہمارے پیارے امام بھی ہر ملک میں جا کے امن و امان کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں اور احسان کو قائم کرنا ہے اور پھر یہ کہ گواہی کو چھپانا نہیں ہے جو سچی بات ہے وہ بیان کرو ورنہ جھوٹے گواہ پیش کر کے مقدمہ درج کر لیا تو اس کا کیا اثر ہوتا ہے پھر آپس میں دشمنی شروع ہو جاؤ اللہ تعالی نے فرمایا کہ عدل و انصاف کو قائم کرنا ہیں اور سچی گواہی کو قائم کرنا ہے تمہاری اپنے خلاف اپنے والدین کے خلاف گواہی دینی پڑے تب بھی کرتے ہیں تو ہم ایسے اصول ہیں جن کو مدنظر رکھیں ملک کی فلاح و بہبود کا کام ہو سکتا ہے اور ان کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں دنیا کے اندر ہوتا ہے بے چینی پیدا ہوتی ہے اور اس کے مال کا نقصان بھی ہوتا ہے جزاک اللہ تعالی سزا کچھ ٹیلی فون کال اس وقت ہمارے پاس ورڈ پر موجود ہے میں سرعام کی طرف جانا چاہوں گا سب سے پہلے بات کریں گے منصورہ میں نوجوان سے جو کہ انڈیا سے اس وقت ہمارے ساتھ فون پر موجودہ سلام علیکم ورحمۃ اللہ صاحب سب سے پہلے ان میں اور پورے عالم اسلام کی خدمت میں السلام علیکم کا ترجمہ یہ ہے کہ آج کل دنیا کے ہر کونے میں احتجاجی نظارے ہم ہو چکے ہیں حضرت مسلم نے اپنی نبوت کی تیرہ سالہ مکی زندگی جو نہایت تکلیف کا دور تھا بڑے صبر سے اپنے صحابہ کے ساتھ گزارے اللہ نے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الہی ہجرت کرنی پڑی منصور صاحب زرمت کے تعلق سے جواب کا سوال ہے وہ ہمارے پروگرام کا بھی حصہ ہے انشاء اللہ تعالیٰ پروگرام کے حصے میں جب اس سوال کی باری آئے گی تو اس موقع پر آپ کو اس کا تفصیلی جواب جو ہے وہ دے دیا جائے گا اور ٹیلیفون کالز اس وقت ہمارے ساتھ ہے ماسٹر شوکت علی صاحب پاکستان سے اس وقت داخل ہونا ہی پڑے ہیں ان کا سوال سنتے ہیں ماسٹر شوکت علی صاحب وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ یار میرا سوال ہے پھر جماعت اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قبر کی جگہ ہے وہ مختلف مواقع پر مختلف ہے یہ بات کرتے ہیں کہ آپ اور مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں نبی کے بعد میں آزاد ہوں جزاک اللہ شکریہ آپ کا سوال مل گیا ہے محترم مولانا محمد کریم خان صاحب سے درخواست کروں گا ہے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوئی تھی جہاں جہاں نشاندہی کی گئی مسیح موعود علیہ السلام نے ان جگہوں کا نام دیا مثال کے طور پر حضرت موسی علیہ السلام کو صلیب سے اتارا گیا اور زخموں سے اپنے راز تھے بے ہوشی کا عالم طاری تھا ایسے وقت میں ان کا علاج معالجہ کرنے کے لیے جیسا کہ انجیل سے بھی ثابت ہے غار نما کمرے میں رکھا گیا تھا اور اس کا نام بھی ایک بری مسیح کے طور پر یاد کیا کرتے ہیں جو یروشلم میں اس لحاظ سے قبل مسیح کا وہاں پر مسکراہٹ ہے پھر ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا کہ وہاں پر بھی مسیح علیہ السلام کی خبر ہونے کا ثبوت پیش کیا تھا تو اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نے ایک جگہ فرمایا جتنا سے لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ وہاں پر مسیح علیہ السلام کی خبر ہے اور آخر کار آپ کی تحقیق کا کے مسیح ہندوستان میں جو آپ کے کتاب لکھی ہے اس میں آپ نے فرمایا کہ آپ کی اصل محلہ خانیار میں موجود ہے اس واسطے قرآن مجید سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عید السلام کو اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ آپ اور آپ کی والدہ کو ہواوے کیا ایسی اونچی جگہ پر اللہ تعالی نے ان کو پناہ دی جو چشم والی تھی اور اونچی جگہ پر تھی تو اس سے جو ہے ایک قرینہ یہ بھی ملا کہ پٹھان افغانستان کے جو لوگ ہیں اور کشمیر کے جو قبائل ہیں یہ ان دس قبائل سے تعلق رکھتے ہیں جن کو قابو کر بادشاہ نے جلاوطن وہاں سے یہ لوگ سفر کرتے کرتے کچھ ہوا ہو گئے افغانستان میں اور کچھ آباد ہو گئے کشمیر میں آکے چنانچہ ان کا رہن سہن ان کا کھانا پینا ان کے بول چال وغیرہ سب کچھ تو ہے آپ دیکھیں گے یہ بہت حد تک جو ہے وہ بنی اسرائیل کے ان دس قبائل کے حالات سے ملتے جلتے ہیں چمچے اسی زمین میں عیسی علیہ السلام کے لیے بھی یہ حکم تھا کہ لوگوں نے سوال کیا کہ جو ہے وہ کیا ہے قرآن مجید اور رسول اللہ بنی اسرائیل تو انہوں نے کہا کہ میری اور بھی بڑے ہیں جن کا نہ میرے لئے ضروری ہے اور ان کا اشارہ اسی طرح تھا کہ جو دس قبائل بُک نظر بادشاہ نے یہاں سے جلاوطن کر دیے تھے ان کی طرف مجھے بھیجا گیا کیونکہ وہ بھی بنی اسرائیل اور شواہد یہ بتاتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی تمام علامات ان قوموں کے اندر پائی جاتی ہیں لہذا مسیح علیہ السلام یہاں پر بھی آئیں اور اس کے علاوہ بعض اعظم کی کتابوں میں اور دوسری کتابوں میں اس بات کا تذکرہ کہ ان کا عیسی علیہ السلام کا یہ آپ رانا ثابت ہوتا ہے اب ہم پروگرام کے دوسرے سوال کی طرف سے جاتے ہیں اور محترم مجاہد مثبت طریقے سے میرا یہ سوال ہے کہ جس طرح کہ وہ سب نے بھی تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ اسلام کی کیا تعلیمات ہیں تو میں آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ حکومتی قوانین کی پابندی اور اس کی پاسداری کے حوالے سے اسلام کی کیا تعلیمات ہیں قاسم علی رضا حنین قرآن پاک سب جانتے ہیں کہ قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ حیات ہے پاکستان کی قومی اور انفرادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے قیامت تک کے لیے تعلیمات پیش کی ہے آج کی سوال کے حوالے سے دو باتیں بہت اہم ہیں پہلی یہ کہ اسلامی نقطہ نظر سے حکومت کے کیا فرائض ہیں دوسری یہ کہ عوام کو حکومت کی پابندی کس رنگ میں کرنی چاہیے اور اس کے قوانین کو کس طرح پورا کرنا چاہیے پنجابی تفسیر کے ساتھ مولانا صاحب نے بتادیا اسلام کے نزدیک حکومت جو ایک امانت ہے کے سپرد یے امانت کی جاتی ہے ان کا ہے کہ وہ امانت کا حق ادا کردے مجھے جہاں قرآن مجید نے حکومت کا ذکر کیا اس کے ساتھ یہ بتا دیا کہ حاکموں کا اولین فرض یہ ہے کہ عدل و انصاف کے ساتھ کام کرے سورہ نسا آیت 59 میں اللہ تعالی نے تفسیر کے ساتھ بتا دیا ان اللہ یامرکم ان تودو الامانات الی اھلھا قسم تم بین الناس ان تحکموا بالعدل لوگوں کو یہ بتایا کہ جب تم کسی کو منتخب کرو حاکم کے طور پر تو یہ دیکھو کہ وہ آمین ہے کہ نہیں وہ امانت کے ساتھ اس کی کیا کوالٹی ہے نہ کے اس وقت کے ساتھ معاشرے میں اس کے کیا اثرات ہیں یا اپنی خواہشات کو مد نظر رکھو دوسرا بعد اگلی ہی آیت میں جو آج کا سوال ہے کہ حکومتی قوانین کی پاسداری کے حوالے سے بتا دیا کہ وہ لوگ جو مسلمان ہیں ان کو بتایا الذین اٰمنو دامن کو اس کے آج بھی تفسیر تفسیر کے ساتھ مولانا صاحب نے بتائیں کہ اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت کے ساتھ الامر منکم کی تعداد بھی ب بڑی عزت عطا کرتا ہے تو پھر خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہے کہہت ضروری ہے اور ایک اعزاز ہے کہ آپ نے اس کی جستجو میں تفصیل ہمارے سامنے بیان کی دیگر مسلمان اس کو نہیں کر سکے مسلمانوں میں سے ایک طبقہ ایسا ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ اولی الامر سے مراد اگر مسلمان حاکم ہو تو اس کی اطاعت کی جائے تم حاکم ہو تو وہ کہتے ہیں اس کی اقسام حالانکہ یہ عقیدہ ہے اپنی ذات میں غلط ہو جاتا ہے آپ کے جو دنیا کے حالات ہیں بہت سارے مسلم ممالک سے لوگ مسلمان یورپ اور امریکہ میں ہجرت کر رہے تو اگر وہ اس عقیدہ کو ماننے اور ان کی اس بات کو مانے تو کیا وہ ان ممالک میں جانے کے بعد وہاں کے حکومت کے قوانین کے پابند نہیں کریں گے بلکہ وہ جا کے تو وہ زیادہ پابند ہو جاتے ہیں راستوں کے جو حقوق ہیں حقوق یا جو کچھ بھی وہاں کے قوانین ہوتی ہے پس یہ جو بنائی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اولی الامر منکم سے مراد صرف مسلمان حاکم ہے غیر مسلم حاکم کی روایت ہے وہ نہیں یہ غلط ہے امام زمان سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وجہ سے میں نے عرض کیا وضاحت کے ساتھ تفسیر بیان کی ہے چنانچہ حضور کے الفاظ میں بیان فرماتے حضور اکرم پر بیان فرماتے ہیں قرآن میں حکم ہے اطیعواللہ و اطیعوالرسول و اولی الامر منکم امریکی اتحاد کا صاف حکم ہے اور اگر کوئی کہے کہ گورمنٹ میں داخل نہیں اس وقت چونکہ گورنمنٹ انگریزی تھی اس حوالے سے بھی ہے کہ غیر گورنمنٹ تو یہ اس کی صریح غلطی ہے گورنمنٹ جو بات شریعت کے موافق کرتی ہے وہ ملک میں داخل ہے ہم مخالفت نہیں کرتا وہ ہم میں داخل ہے اسی طرح فرمایا پھر اشارت النص کے طور پر قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہیے یعنی صاف طور پر ظاہر ہے قرآن کریم سے بڑا واضح ہے کہ اشارہ اس آیت میں ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہیے وہ بنیادی بات ہے جو قرآن مجید نے ایک مسلمان کے سامنے رکھی ہے اور اس کو بتایا ہے کہ اس کو اپنے اطاعت کے معیار کو اتنا بلند کرنا ہے اور اتنا موٹا کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنی حکومت کے قوانین کی پابندی کرنے والا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے ہے کہ آپ مکہ میں رہے باوجود اس کے مخالف نے طرح طرح سے اذیتیں دی پریشانیوں میں ڈالا اور ہر طرح کے ظلم کیے لیکن آپ نے اس وقت کے جو بھی قوانین تھے وہاں کے کبھی بھی اس میں مداخلت نہ کی کی کوشش کی یہاں تک کہ یہ بھی آپ نے ذرا تصور میں لائیں کہ تیرہ سال تک نماز ادا کرتے رہے خانہ کعبہ میں اور اسی خانہ کعبہ کے اندر وہ تو کی موجودگی تو اس وقت مجھے ہو بھی نہیں تھا آج لہذا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سلسلہ ہمارے سامنے ہے کہ آپ نے ہر رنگ میں یہ ہمیں بتایا کہ اطاعت کے قانون کی کرنی ہے اور کبھی بغاوت اور فساد کے راستے کو اختیار نہیں کر رہی ہیں تعلیم آج ہمارے پیارے امام حسین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بار بار ساری دنیا میں مسلمانوں کو سمجھا رہے ہیں کہ اگر اس نے تعلیم کو اختیار کر لے تو اس کے نتیجے میں ملک کے اندر جو آج مسلم ممالک میں فساد آپ دیکھ رہے ہیں کہ عوام اپنے حکومت کے خلاف راستے بند کیے جا رہے ہیں ملکی ملایا جا رہا ہے اس کا خاتمہ اسی وقت ہے کہ جب ہم اس بات کو سمجھیں کہ ان الامر کی اطاعت کرنی حضور کے الفاظ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں بےبی جو حاکم ہے اس کی دنیا بھی معاملات میں اتحاد ضروری ہے وطن اپنے معاملات چلانے کے لئے جو ملکی قانون بنائے ہوئے ہیں ان کی پابندی ضروری ہے آپ اس ملک میں رہ رہے ہیں یہاں کے قوانین کی پابندی ضروری ہے بشرطیکہ قوانین مذہب سے کھیلنے والے نہ ہوں اس سے براہ راست ٹکر لینے والے نہ ہو پھر اسی طرح آج یہ سنہری تعلیم جماعت احمدیہ کے علاوہ اور مسلمان ہیں وہ بھی اس کو چھوڑ چکے ہیں اور دیگر مذاہب کے بھی ہم جب دیکھتے ہیں تو وہ دیکھ ذرا سی کوئی بات ہو جائے حکومت کے خلاف کوئی بات ان کے اپنے منشا کے خلاف جو وہ سمجھتے ہیں خیال رہے کہ حکومت نے غلط کر دیا تو راستے بند کر نہ جا دل لوٹ لینا اور فساد پھیلانا ایک عام بات ہوگی امام زمان سے نہ دس ایک احمدی کے لئے جو شرائط بیعت مقرر فرمایا اس میں ایک اہم آپ نے شرط رکھی کہ جھوٹ اور بد نظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا بس ایک احمدی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ تباہ کامل صحیح اور سچا احمدی بنے گا اس پر عمل بھی کر رہا ہے بغاوت کے طریقوں سے بچتے ہوئے قوانین کی مکمل پابندی کر رہے ہو گا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا امن کے ساتھ رہو خطروں میں حصہ مت لو اسے فکر پریشانی آپ کی توفیق دے کہ جس ملک میں رہ رہے ہیں اسلامی تعلیم کے مطابق اس ملک کے قوانین کی پابندی کرنے والے جزاک اللہ تعالیٰ پروگرام کے اگلے سوال کی طرف جاتے ہیں اور محترم مولانا محمد کریم سب سے میرا یہ سوال ہے کہ جس طرح کے آپ نے بھی پہلے سوال کے جواب میں بتایا کہ اسلام وطن سے محبت کے حوالے سے مختلف تعلیم دیتا ہے اور ایک سچے مسلمان سے یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ وہ اپنے وطن کے ساتھ مخلصانہ محبت رکھے لیکن بعض دفعہ پھر سے پیدا ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں بعض شرائط کے ساتھ اسلام ہجرت کی بھی اجازت جو ہے وہ دیتا ہے اور انبیائے کرام کی مثالیں موجود ہیں کہ وہ بھی اپنے وطن چھوڑ کر دوسرے ہجرت کرکے گئے ہیں تو وہ کیا شرائط ہیں جس کے تحت اسلام ہجرت کی اجازت دیتا ہے گفتگو کے اجزائے بتایا جا رہا ہے تو میں مختصرا چند باتیں عرض کروں گا پہلی بات تو یہ ہے کہ جیسا کہ ابھی ذکر ہوتا رہا ہے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا دعویٰ فرمایا تیرہ سال تک مکہ میں رہے اور باوجود اس کے کہ سخت سے سخت تکالیف دی جاتی تھی آپ نے صبر سے حوصلے سے کام کیا اور کسی قسم کا کوئی مخالفانہ ردعمل نہیں دکھایا احادیث میں ذکر آتا ہے کہ حضرت خباب بن الارت علامہ ایک دفعہ آئے ان وسلم خانہ کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے تو انہوں نے آتے ہی سوال کیا یارسول اللہ پاکستان سے اللہ فلا تعتدوھا یا رسول اللہ ہی مصائب اور مشکلات ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں کہ آپ اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے ہمارے لئے کہ وہ ان مسائل مشکلات کو دور کر دے اور پھر یہ کہ اللہ تعالی سے دعا نہیں کرتے کہ یہ دور ہمارا ختم ہو جائے السلام جو ٹیک لگائے بیٹھے تھے اس کے سیدھے بیٹھ گئے اور بڑے جلال کے ساتھ فرمایا دیکھو تم لوگ جلدی کرتے ہو تم سے پہلے جو قومیں تھیں انہوں نے دین کو اختیار کرنے کے نتیجے میں ایسی تکالیف برداشت کیے کہ خود آ جاتا تھا اس کے اندر آدمی کو دیا جاتا اور اوپر سے جاتا تھا لیکن پھر بھی وہ اپنے دین سے کچھ ہوتا تھا پھر یہ تھا کہ لوہے کی کیل لائی جاتی تھی اور اس کا دین کو اختیار کرنے والے شخص کا گوشت اتنا نوازا جاتا ہے اس کی ہڈی اور اعصاب پر ظاہر ہوجاتے لیکن پھر بھی وہ دین سے نہیں رکھتے تھے لیکن تم لوگ تو جلدی کرتے ہو زمانہ آتا ہے اللہ اپنے وعدے ضرور پورا کرے گا کہ ایک اکیلا سوار اس کو سوائے خدا کے اور اپنی بھیڑ بکریوں میں بھیڑیے کے علاوہ اور کسی کا ڈر نہیں ہوا نہیں ہوگا پتا نہیں وہ بھی دکھایا تم مقصد یہ ہے کہ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ جب ظلم حد سے گزر جائے صورت میں پھر اللہ تعالی کی طرف سے عید تم اگر یہ گورنمنٹ رحمن سے نہیں رہ سکتے تو پھر تمہارے لئے بہتر یہ ہے کسی اور جگہ چلے جائیں جہاں ملے صحابہ کو حکم دیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ عرب کا اور حبشہ جسے ایسی بھی کہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں وہاں کا بادشاہ بڑا ہی ہے اور وہ ایک بڑا خیال رکھنے والا ہے تم لوگوں کو ہجرت کر جاؤ قافلے میں گیارہ مرد اور چار عورتیں تھیں اس کے بعد اٹھارہ لوگوں کا قافلہ گیا ہے تو اس کا نام تھا نجاشی کا اصل نام تو اس کا احساس تھا لیکن عام طور پر اس کا نام کیا تھا خدا کے امن و امان ہوا تو دوسری طرف جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا کہ اب تو ہجرت کر جاؤ تو اس وقت فرمایا کہ ہجرت کرنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ حضرت کریں جیسا کہ ابھی ہمارے بھائی کے سوال بھی کیا تھا کہ والذین ھاجرو فی اللہ من بعد ما لا تعلمون ہل الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون سورۃ النحل کی 41 میں آئے تھے تو ترجمہ اس کا یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالی کی خاطر ظلم کرنے کے بعد ہجرت اختیار کی ہے ان کو ہم نے دنیا میں بہترین جگہ عطا کریں تو یہ ایک بات تو یہ سامنے آگئی کہ جب جب ظلم حد سے گزر جائے ان کا رہنما پر مشکل ہوجائے تو ایسی صورت میں وہاں سے ہجرت کر جانا بہتر ہے بجائے یا یہ کہ حکومت کی مخالفت کریں بلکہ ہمارا یہ حق نہیں کہ ہمیں وہاں سے چلے جانا چاہیے دوسری آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا ان ربک الذی نہ ہو دادو الصبر عن ربک من بعدہا لغفور رحیم یہ صورتحال کیا رہے تھے مطلب یہ ہے کہ یقینا اس کے بعد پھر عرب مدینہ جن لوگوں نے ہجرت کی ہے میں بعد میں فوت ہو جبکہ ان کو خطرے میں ڈالا گیا تو یہ دوسری وجہ سے ہوئی ہمارا کوئٹہ گیا بد امنی میں ان کو مطلع کیا گیا تو بیا کہ لب پہ آتی اور ہر طرح کی تکلیف جو دی جاتی ہیں اس کے نتیجے میں پھر اگر تمہارا جینا وہاں پر مشکل ہو تو وہ اسے تو میں ہجرت کر جانا چاہیے لیکن پھر بھی یہ حکم نہیں دیا کہ تم اس کے خلاف ڈٹ گیا بلکہ ہمیشہ معاہدوں کی پاسداری کی ہے اور جو قبائل کے قانون ہوتے تھے ان کی پاسداری کی ہے بات ہوتی ہے کہ جب ظلم سے حد جب ظلم حد سے گزر جائے تو ایسی صورت میں جب تمہارا جینا ناممکن ہوجائے تو ایسی صورت میں تمہیں ہجرت کرکے کسی اور جگہ جانا چاہیے جان تمہیں نصیب ہو ایک اور جگہ اس کا سورۃ النساء میں بھی کہ جو لوگ ہجرت کر کے جاتے ہیں کسی صورت میں بھی حکومت وقت کی مخالفت نہیں کرنی ہے تابعداری کرنی ہے اگر تمہارا جینا مشکل ہو جائے تو وہاں سے یہ شرط ہے ہم طور پر عید کرنے کے جو آسان ہے یا یہ کہ ہجرت کرنے کی ضرورت ہے وہ یہی ہے کہ ظلم ہو جاتی ہوں پھر تو فساد مت ایسا جیسا کہ ہمارے پڑوسی ملک میں ایسا ہوا اور پھر وہاں سے بہت سارے احمدیوں نے کوئی جرم نہیں چلے گی اب کوئی آئے چلا گیا کوئی اور نہیں اور تمہارا یہ تعلیم ہماری قرآن مجید کے ذریعہ سے ہے کہ پھر بھی حکومت وقت کی تم نے فرمانبرداری کرنی ہے نہیں کر سکتے تمہارے لئے عبادت کرنا مشکل ہو گیا ہے تمہارے لئے اپنے عقائد کو بیان کرنا مشکل ہوگیا تبلیغ کرنا مشکل ہو گیا ہے ایسی صورت میں پھر کی تم نے مخالفت نہیں کرنی بلکہ وہاں سے ہجرت کر جا اللہ تعالی جزا اب چوتھے سوال کی طرف آتا ہوں میں محترم مجاہد مثبت سیاسی سے یہ پوچھنا چاہوں گا جیسے کہ ہم بات کر رہے ہیں کہ حکمران کی اطاعت ضروری ہے اور جو ملکی قوانین ہے اس کی پاسداری بھی ضروری ہے تو ایسی صورت میں اگر کسی کا کوئی انفرادی حقوق کا مطالبہ ہو یا اجتماعی طور پر کسی قوم کا یا کسی اور فرقے کے حقوق کا مطالبہ ہو تو وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کس رنگ میں حکومت کے سامنے پیش کر ایک مرکزی حکومت سے بتائیں جزاک اللہ آج ایک بہت مختصر ہے اس لیے بالکل اختصار کے ساتھ اپنی بات کو سامنے رکھوں گا سب سے پہلی بات تو اسلام نے یہ کہا ہے کہ انسان کا جو حق حقوق مانگنے کا مطالبہ ہے اس کو تسلیم کیا کبھی انسان اپنا حقوق جو ہے وہ مانگ سکتا ہے حکومت سے جو اس وقت مروجہ حقوق مانگنے کا طریقہ کار ہے یا علی معروف طریقے میں اگر اس کو کہا جائے کہ تشدد کا سہارا لیا جاتا ہے ملک کا نقصان ہو جاتا ہے ان طریقوں سے اسلام کا اختلاف ہے بنیادی چیز اسلام نے حق مانگنے کا جو حق ہے مطالبہ اس کو قبول کیا ہے ہاں جو طریقہ اختلاف کیا ہے پھر وہ کیا طریقہ کار ہے اسلام نے پیش کیا ہے امام زمان سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں جو ہمارے سامنے پیش کیا ہے وہ میں رکھنا چاہوں گا یہی موت الصلاۃ والسلام نے سورۃ النحل آیت 91 کی جو تفسیر بیان فرمائی ہے اسلامی اصول کی فلاسفی میں اس کے اندر اللہ تعالی کا کلام ہے کہ ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتاء یا نہا الفحشائ والمنکر والبغی اللہ تعالی نے عدل کا حکم دیا ہے کہ اس رنگ کا دل جیسا کہ آپ غریب رشتہ داروں سے کرتے ہو پھر بتایا کہ منع کیا ہے اللہ تعالیٰ بے حیائی کے ساتھ اور ناپسندیدہ باتوں سے اور بغاوت سے حضرت مسیح علیہ سلام روحانی خزائن اسلامی اصول کی فلاسفی میں یہ بیان فرماتے ہیں کہا جاتا ہے عربی زبان کا لفظ ہے مجھے اسلام کے الفاظ ہے حق کے واجب میں کمی رکھنے کو بغیر کہتے یا حق کے واجب سے افروز نی یعنی زیادتی کرنے کو بھی بغیر کہتے لفظ جو قرآن مجید نے استعمال کیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنے حق سے بڑھ جا رہے ہیں تو بغاوت ہے آپ کے حقوق ادا کرنے قاری ادرس میں کمی کر رہے ہیں تو بغاوت ہے آیت میں یہ بتا دیا کہ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عملی طور پر جو اس کے ذمہ امانت سپرد کی گئی ہے وہ اس کا حق کی ادائیگی کرے اگر وہ نہیں وہ بھی بغاوت میں شامل ہورہی ہے اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مطالبات کرنے کا اس کو حق ہے لیکن ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے حق تو مانگتے ہیں لیکن ان کے اوپر جو ان کے فرائض ہیں اس کی قربت ہو جو حکم دے رہے ہوتے حق واجب ہے اس میں نظر نہیں ہوتے اور یہ صرف تیل آن ہو رہا ہوتا ہے کہہ دو میرا حق دو میرے اس کی جمع حقوق ہے میرے حق میں دیا جائے پھر اس کو یہ رنگ میں اور بھی سمجھ لے حق ہم کہتے ہیں سچائی کو ماں نے جو بات ثابت شدہ وہ نہ اس میں کمی کی جائے نہ ہی اس میں کسی کی زیادتی کی جائے پس اگر ہم یہ مانتے ہیں کہ میرا حق مجھے دیا جائے تو پھر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں اپنے فرائض ادا کرنی پڑے گی ایک مثال دیتا کے بعد اور واضح ہوجائے اور منٹ کی طرف سے عائد ہوتی ہے کہ انکم ٹیکس دیا جائے ایک شخص انکم ٹیکس کی چوری کرتا ہے کو انکم ٹیکس کی چوری کر رہا ہے تو وہ دیگر لوگوں کے حقوق کہاں سے انکم ٹیکس کے پیسوں سے وہ دیگر لوگوں کے اوپر وہ فلاح و بہبود کے کام ہونے تھے لہذا اس نے جہاں اپنے حق میں ادائیگی میں کمی کر دی وہ اسے دو حصوں میں بھی جو قرآن مجید نے بیان فرمائی وہ یہ تھی کہ اس قسم کی مشہور حدیث ہے کہ کل کو عمران واللہ اعلم کیوں چھوڑتا ہوں کے تم میں سے ہر ایک شخص پر آئی ہے نگران ہے اور اس سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا جاتی ہے اور وہ خود صحیح ہوتا کہ اگر حاکموں کی طرف سے حقوق نہیں دیے جا رہے ہو تو پھر کیا کیا جائے گا آج السلام کا ارشاد مبارک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخاری کتاب الفتن کی حدیث کا ترجمہ ہے کہ تم میرے بعد دیکھو گے کہ تمہاری حق تلفی کر کے دوسروں کو ترجیح دی جارہی ہے نیز ایسی باتیں دیکھو گے جن کو تم برا سمجھو گے یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ پر ایسے وقت میں آپ کا کیا حکم ہے حاکموں کو ان کا حق ادا کرو اور تم اپنا حق اللہ سے مانگو یہی تمہاری ذمہ جو فرائض ہیں تو ان فرائض کو ادا کر دو اور تم اللہ تعالی سے اپنا حق مانگو اور یعنی تم اپنے فرائض پر توجہ دو گے تو اس کے نتیجے میں بنیادی طور پر انفرادی اور قومی حقوق مانگنے کا حکومت سے اسلام نے حکم دیا ہے اس حکم کو ماننے کے مروجہ طریقے ہے اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ تم نے اطاعت کے دائرے میں رہتے ہوئے خدا تعالی سے اس کا حق مانگنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں بہت کی چوتھی شرط میں خاص طور پر کہ جو شرائط بیعت کی چوتھی شرط ہے کہ یہ کہ عام خلق اللہ کو عموما اور مسلمانوں کو مخصوص اپنے نفسانی جو سے کسی نو کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا ان سے نہ ہاتھ سے نہ اور کسی طرح سے بس یہ جماعت احمدیہ کا ایک راز ہے کہ ماموں زبان کی تعلیم کو خلیفۃ المسیح کی رہنمائی میں یہ ساری دنیا میں پیش کر رہی ہے اور آج اگر حقیقی ہے کر سکتا ہے تو وہ یہی اسلامی تعلیم ہے جس پر مسلمانوں کو بھی تحریک پر اور صدق دل سے عمل پیرا جزاک اللہ تعالی اس مزاج کے پاس ورڈ کا آخری سوال ہے جو کہ محترم مولانا محمد امین صاحب سے کرنا چاہوں گا کہ جیسے کہ ابھی ہم نے بات کی کہ جب ظلم کی انتہا ہوتی ہے تو ہجرت بھی کر سکتے ہیں تو جب حاکم ظلم میں حد سے تجاوز کر جاتا ہے تو احادیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ انصر اخاک ظالما او مظلوما کبھی ذکر ملتا ہے جو شرعی طور پر کیا اجازت حاصل ہے کس طرح انسان جو ہے اپنے رد عمل کا اظہار کرسکتا ہے اس کے بارے میں ہمارے ناظرین کو کچھ تفصیل بتائیں واقعی مجھے بہت مختصر ہے صرف میں چند باتیں بطور پارٹی کے بیان کر دیتا ہوں لیے اسلامی نے فرمایا کہ اس واقعہ کا ظالم اور مظلوم ہے اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے اس پر ظلم ہو رہا ہو یا ظلم کرنے والا کوئی ظالم ہو یا مظلوم ہو دونوں کو جو حق کی مدد کرو کیا یارسول اللہ مظلوم کی تو ہم مدد کر سکتے ہیں لیکن ظالم کی مدد ہم کیسے کریں گے ظالم تو خود ظلم کر رہا ہے ظلم کے ہاتھ کو روک دو یہی جو ہے اس کی مدد ہے اس سلسلے میں اسلام کی تعلیم یہ قرآن مجید کی سورۃ الحجرات کی آیت 10 ہے جس میں اللہ تعالی نے واضح طور پر یہ بتایا ہے کہ وہ آیت ترجمہ میں کرتا ہوں کہ اگر مسلمانوں کے دو فریق آپس میں جھگڑا کرکے لڑائی کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے آمادہ جنگ ہو جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ فاصلے ہوئے دونوں کے درمیان صلح کرا دو غالب کی کو بھی سمجھا اور مظلوم کو بھی سمجھا آگے فرمایا صوفی ممتاز احمد ھالا ایک شخص ایک تو مانتا کہ اچھا جی ٹھیک ہے انشاءاللہ کرنے کو راضی انتظار کرتا ہے میں نہیں رضی اللہ تعالی فرماتا اگر کوئی نافرمانی کرتا ہے بغاوت اختیار کرتا ہے فقاتلوا التی تبغی نافرمانی کرکے صلح پر آمادہ نہیں ہے اس کے ساتھ سارے مل کے دوسرے مسلمان جنگ کریں گے اس کے خلاف خفیہ الحمدللہ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالی کے حکم کے طرف آجائے تو بیا کہ جب تک کہ وہ لڑائی سے رک نہ جائے تب تک تمام مسلمان معاشرے کو حکمران کے خلاف جنگ کرو یہ چیز ہے جو امن و امان قائم کرنے کے لیے ضروری ہے ظالم کو ظالم کے ہاتھ سے روکنا یہ بہت بڑی چیز ہے چنانچہ آپ دیکھیں گے دنیا کے اندر جو لڑائی ہو رہی ہیں اس میں ظالم کا ساتھ دیا جاتا ہے اور یہ دیوانوں بنی ہوئی ہے ہماری یا لیگ آف نیشنز تھی وہ بھی فیل ہوگئی ہے اسی وجہ سے بعض طاقتوں کے پاس ویٹو پاور ہیں گوگل ظالم اور مظلوم کو نہیں دیکھتے وہ دیکھتے کہ ہمارا ہیں کون ہے اس کی طرفداری کرکے اس کی حمایت کرنے کی کوشش کرتی ہیں جس کے نتیجے میں یہ سارا امن برباد ہوجاتا ہے تو سوال یہ ہے کہ جو آئی سی یو این او ہمارے ہونی چاہیے کہ ظالم کو اس کے ظلم سے روکنے والی ہو نہ یہ کہ اس کی طرفداری کرنے والی ہوں اس کا ظلم کا ہاتھ روکنا یہی اس کی مدد ہے اور یہی منشا ہے آپ کا اور یہی ایسا سوال ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے اندر غریب ہوں سب کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے اور اگر کسی کے اندر بغاوت کا مادہ پایا جاتا ہے تو اس کو روکنے کا حکم دے دیا ہے قرآن مجید نے دیا ہے اور یہ ہے کہ جس نے بھی بغاوت کا طریقہ کار کیا ہے فرمانے کا طریقہ کار کیا ہے اس کے خلاف سارے جتنے بھی معاشرے کے لوگ ہیں اس کے خلاف آجائے تو اس کو خدا یہ طریقہ ایسا صلح اور امن قائم کرنے کی سزا ناظرین کرام اس کے ساتھ آج کا ایپیسوڈ ختم ہو جاتا ہے آخر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک اقتباس آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جس میں حضور فرماتے ہیں میں سچ کہتا ہوں نے اس قوم کو حق کے لیے ایک گردی ہے بس میں اس جگہ پر مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان پر فرض ہے کہ وہ سچے دل سے گورنمنٹ کی امداد کریں یہ بخوبی یاد رکھو کہ جو شخص اپنے محسن انسان کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ خدا تعالیٰ کا شکر بھی نہیں کرسکتا تو ناظرین جو کہ میں امن کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر مشتمل ہماری یہ سیریس ہے اس کا گلابی سوٹ مورخہ31 اکتوبر 2019 ہفتہ کے دن انڈین ٹائم کے مطابق رات کے ساڑھے نو بجے اور جنت کے مطابق سہ پہر چار بجے ہم قادیان دارالامان صاحب کی خدمت میں پیش کریں گے تب تک کے لئے اجازت دیجیے گا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ بعد آؤں گے یار تو نے تار تثلیث قمر بتایا ہے بولو کہ یہیں نور خدا پاؤ بعد میں آؤں گی یادوں نے تار تسلی کب بتایا ہم نے

 37 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: