Rahe Huda – Wafato Hayate Maseeh Esa pubh – Dawa Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad pubh




Rahe Huda – Wafato Hayate Maseeh Esa pubh – Dawa Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad pubh

Rah-e-Huda – 4th January 2020 – London UK

نہ گھاٹ ایس جا شمس بسم اللہ الرحمن الرحیم علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام نے مارچ 1889 کو جماعت احمدیہ کا آغاز فرمایا اور اب جبکہ ایک سو تیس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جماعت احمدیہ ابتدا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور میں اور بعد ازاں خلفائے احمدیت کے دور میں صرف ایک ہی کام کر رہی ہے اور وہ کام یہ ہے کہ دنیا کے کونے کونے تک قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا جا رہا ہے جو راہ خدا کہلاتا ہے آ یہ وہی نویں فرماتے ہیں اور ساتھ ہی اس کے سادہ نشانہ ظہور میں آئےج کا پروگرام لندن سٹوڈیو سے براہ راست پیش کیا جارہا ہے اور اس پروگرام کا مقصد یہی ہے کہ اگر آپ کے ذہن میں جماعت احمدیہ مسلمہ کے بارے میں اسلام کے بارے میں کوئی بھی سوال ہو تو آپ ہم سے پوچھیں ہم کوشش کریں گے کہ آپ کے سوالات کے جواب اس پروگرام میں پیش کریں یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ الصلاۃ والسلام نے بہت سے ایسے نظریات اور ایسی باتیں دنیا کو بتائیں ہیں جن کو نہ جانتے ہوئے جن باتوں کے بارے میں غلط فہمی کی وجہ سے انسان گمراہی کی طرف جا رہا تھا ایک بنیادی بات کا موضوع ہے ایک طرف عیسائی اب آپ یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے تھے اللہ حضرت عیسی علیہ السلام سلیپر فوت ہوگئے وہ گویا یعنی یہ کہتے ہوئے ہمیں تکلیف ہوتی ہے کہ تین دنوں کے لئے ان کو سزا ملی اور اس کے بعد دوبارہ دنیا میں آئے اور اب آسمان پر موجود ہیں جبکہ دوسری طرف جو مسلمان کہلانے والے لوگ ہیں وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی صلیبی موت سے پہلے ہی آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں ہمارے پروگرام کا موضوع انشاء اللہ آئندہ پروگرام کا موضوع بھی وفات مسیح ہوگا لیکن گے یاد رہے پروگرام راہ خدا آپ کے لئے ہے اگر آپ احمدی ہیں اور آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے تو بھی اس پروگرام میں شامل ہو سکتے ہیں اور اگر آپ کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں ہے اور آپ اسلام احمدیت کے بارے میں کوئی بھی سوال پوچھنا چاہیں تو آپ ضرور اس پروگرام میں ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں پروگرام کے دوران شروع سے آخر تک ہم کوشش کریں گے کہ ہمارے رابطے کا نمبر ہے لائن نمبر اور واٹس ایپ نمبر دو آپ کو دکھاتے رہے یہ یاد رہے کہ واٹس ایپ پہ آپ اپنا تحریری یا وائس میسج کی صورت میں سوال نہیں سکتے ہیں جب کہ اگر آپ براہ راست پروگرام میں بات کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہمارا لین نمبر لے لیں اس کے پروگرام میں یہ اینڈ اسٹوڈیو میں خاکسار کے ساتھ موجود ہیں صاحب اور مولانا فضل الرحمن ناصر صاحب جب کہ ان شاءاللہ ٹیلیفون لائن کے ذریعے ہمارے ساتھ ہوں گے گانا سے مولانا عبدالسمیع خان صاحب سب سے پہلے تو آپ ناظرین اور سامعین کا شکریہ ادا کر دیتا ہوں جس پروگرام کو دیکھ اور سن رہے ہیں اور میں اپنی شرکاء کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور نصیر کم صاحب آپ کے ساتھ میں گفتگو کا آغاز کرنا چاہوں گا بہت بنیادی سوال ہے یوں کہنا چاہئے ایک طرف تو عیسائیت کی بنیاد بھی اسی طرح اور دوسری طرف جماعت احمدیہ کی بنیاد بھی اسی پر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب پر نہیں ہوئی بلکہ جس طرح کی سنت اللہ ہے انہوں نے صلیب سے معجزانہ طور پر نجات پائی اور بھرپور زندگی گزار کے اس دنیا سے رخصت ہوئے اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا بنیادی دعویٰ ہے آپ نے دعوت قبول فرمایا اور اس کی کیا تفصیل ہے ذاکر مولا یہ عکس مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے 1890 میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ فرمایا اور جیسا کہ آپ نے کہا یہ یقین اس کا اس بات سے بڑا گہرا تعلق ہے وہ مسیحِ ناصری جو دو ہزار سال پہلے تھا وہ آسمان پر زندہ موجود ہے میں اسی کو آنا چاہیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام میں قرآن مجید سے دلائل سے جیل سے دیگر تاریخی شواہد سے فرمایا عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں ابو نام زندہ آسمان پر اس بزنس کے ساتھ موجود ہیں اور نہ ہی وہ خود دوبارہ آئیں گے اور اس طریقے سے آپ نے اسد علی اسد رائے ہے کہ اس علیہ الصلاۃ والسلام نے کبھی وفات پائی اس بات کو ثابت کر کے ایک طرف مسلمانوں میں پائے جانے والی غلطی کا ازالہ فرمایا اور آپ نے عیسائیوں کے عقائد کی کو جو ہیں وہ 55 کردیا گیا اس لیے میں جو کل کتنے سلیم کا ایک بہت بڑا کام انجام دیا اس سلسلے میں اور مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے پہلی دفعہ 1890 میں کیا اسلام میں یہ لکھا کہ مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو خیال کرو اس کے بعد پھر آپ نے اس کے ساتھ ہی توضیح مرام اور الہام کی کتابیں تصنیف فرمائیں اور ان میں بڑی تفصیل کے ساتھ یہ دلیل مہیا فرمائیے کہ عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر نہیں گئے اور کتابیں زندگی گزار کر وفات پا چکے ہیں اور اس عقیدے کی جو اہمیت تھی تو آپ نے بڑی وضاحت کے ساتھ عورتوں میں بیان فرمایا ہے اور مؤثر کتب مثلا یہی تین وقت بہت اہم ہے فتح اسلام توضیح مرام اور روحانی خزائن کی جلد 3 میں اور وہ لوگ جو اس موضوع کو پوری تفصیل کے ساتھ سمجھنا چاہتے ہیں آجاؤں گا ان کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے اس کے علاوہ جنگ مقدس ہے شہادت القرآن وبیانہ اسلام نگر لاہور احمدیہ حصہ پنجم حقیقۃ الوحی ششم ہفتم البشری ہندوستان میں خطبہ علامہ ڈاکٹر نور احمد شاہتاز حقیقت متعدد منصوبوں پر روشنی ڈالی ہے اور مختلف پیرایوں میں روشنی ڈالی ہے اور بے شمار دلائل کا ایک انبار ہے جو آپ نے بیان فرمایا اس کے علاوہ انہوں نے اس موضوع پر 12 روشنی ڈالی اور جب سے آپ نے یہ نظریہ دنیا کے سامنے بڑی شدت کے ساتھ پیش فرمایا کہ قرآن و حدیث کے مطابق اور تاریخی شواہد سے یہ انجیل کے مطابق اس علیہ الصلاۃ و السلام کی صلیب پر وفات ثابت نہیں ہوتی بلکہ آپ بھی موت زار زندگی گزار کر اپنی وفات پائی ہے واپس آئیں اور تحقیقات ہوئی ہیں جیسے تحقیقات کی ہیں اور یہ ثابت ہوا ہے کہ غلط ہے نہیں ہوئے اس خاتون کو 55 کروڑ پر نظر اٹھا کر دیکھو کہ عیسائی مذہب دنیا میں کہاں ہے کیونکہ خدا تعالی بھی چاہتا ہے ہوا چلاوے اس لیے اس نے مجھے بھیجا ہے اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے رمضان المبارک کے موضوعات و سلم نے اپنے الہام کا ازالہ اوہام میں اس طرح ذکر فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھ پر یہ بذریعہ الہام اور کشف کیا کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ بہت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدے کے موافق تو آیا ہے وہ گانا باللہ ہم فورا تو یہ بہت اہم عقیدہ ہے جس کا عیسائیوں کا عقیدہ کہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ شریف فوت ہوئے اور پھر وہ جس طرح آپ نے کہا کہ انڈین تک وہ محروم رہ کر پھر وہ دوبارہ جی اٹھے اور ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو گیا مفتی مکرم بیان اور بہت ہی شان کو کم کرنے والے نظریات ہی لوگ اس طرف توجہ نہیں دیتے اور حیرت کی بات ہے کہ عیسائی جو ہے وہ اسی سلیم کو اپنے گلے میں لٹکائے پھرتے ہیں جس پر وہ خدا کا پاک اور راست باز بندہ لٹکایا گیا اور جو خود ان کی بائبل کے مطابق جو اس پر مرے وہ حیرت ہے کہ وہ کبھی سوچتے نہیں کہ ہم کس چیز کو اپنے گلے میں لٹکائے ہوئے ہیں تو اس زمانے میں مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایسے تعلقات پاک کرنے کے لیے بھیجا گیا اور یہاں موتیوں کا یہ فرض ہے کہ ان دلائل سے مسلح ہو اور مجھے اسلام کی طرف سے دلیل موجود ہے ان کو پڑھنے سمجھے اور پھر عیسائیوں کو شاید دوستوں کو سمجھائیں کہ یہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت نہیں جس کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ نو یہ ان کی توہین کے مترادف ہے تو اصل حقیقت ان کو سمجھائی جائے اس فسانے سے نکال کر مسیحیت کی حقیقتوں نے بتائی جائے تو یہ وہ چیز ہے جس کے نتیجے میں پھر توحین دنیا میں قائم ہوگی اور وہ علیہ الصلاۃ والسلام کو خدا یا خدا کا بیٹا بنانے والا معاملہ ہے اس کا ازالہ ہو کر اور خاص طور پر وہ اپنے کتب کی لسٹ کا یہاں ذکر کیا میں اپنے ناظرین کو بھی بتانا چاہوں گا کے فضل وکرم کے ساتھ کوئی نہیں ہے ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جو کچھ بھی آپ دیکھنا چاہیں پڑھنا چاہیں آپ یہاں سے استفادہ کر سکتے ہیں یہ جن کو کبھی محترم نصیر صاحب نے ذکر کیا وہاں موجود ہیں آپ خود جا کے دیکھیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے کیا دعوی فرمایا ہے آپ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو آگے بڑھانے والے ہیں نعوذ باللہ نعوذ باللہ اس میں کمی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا شکریہ اب ہم مولانا عبدالسمیع خان صاحب سے بات کریں گے جو خانہ سے اس وقت ہمارے ساتھ موجود ہیں اسلام علیکم عبدالسمیع خان صاحب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صاحب آپ تو میں آپ کو پروگرام میں خوش آمدید کہتا ہوں اور جیسا کہ آپ نے یہ ہنس گیا ہوگا ہمارے آج کے پروگرام کا موضوع ہے وفات مسیح ہے تو اس میں میں آپ کے سامنے یہ سوال رکھنا چاہتا ہوں کہ ذرا ہمارے ناظرین کے لیے بات واضح کریں کہ ایک عیسائی ہیں جن کا موقف ہے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات اور آمد ثانی کے بارے میں ایک ہمارے وہ مسلمان بھائی ہیں جن کا جماعت احمدیہ سے تو تعلق نہیں ہے لیکن وہ بھی ایک نکتہ نظر یہ اپنا نظریہ رکھتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات اور آمد ثانی کے بارے میں اور پھر جماعت احمدیہ کا اس کے بارے میں کیا موقف ہے یہ آج آپ ہمارے ناظرین و سامعین کو بتائیں فرحان صاحب آپ نے بہت بڑا ہے کیونکہ وہ کتاب پڑھتا ہے اور تم شیخ الاسلام سیرت کے ہم نے مسیح بن مریم انہوں نے خدا کے رسول ہونے کا ارادہ کیا تھا ایک خلیفہ لگتا ہے اور نوبل انعام سے چھوٹا سا دیکھ کر دیا اور برے رویوں کی فہرست میں بھی شامل ہوگیا لیکن انسانوں کے ترکش سے نکل گئے بھائیوں کا کھیرا ایک ایسا توحید کے ساتھ کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ سلام صلیب پر چڑھائے گئے شیخ الاسلام نے اپنی پر جان دے دیں وہ مارے گئے وہ دراصل خدا کے بیٹے تھے قالب میں زمین پر آئے انسانوں کے گناہوں کا کفارہ ہو کر تین دن وہ جہنم میں پڑھ رہے ہیں انسانوں کے گناہوں کے ساتھ وقت پر ہے اس کے بعد وہ آسمان پر اٹھائے گئے اور خدا کے بیٹھے ہوئے ہیں کریں گے حمزہ کو پھیلائیں گے مسلمانوں کا امام اور پرامن طور پر اس لئے کہہ رہا ہوں کہ بہت سے حکمران مسلمان بلکہ صحابہ مسلمان نہیں کرتے لیکن پہلے میں آج کے اور مسلمانوں کراچی کا بیان کر دوں نہ سلیقہ نہ کیے گئے بلکہ صلیب پر چڑھ آنے سے پہلے انہیں لے کر آسمان کی طرف پرواز کر گیا آسمان پر خدا کے اس دوسرے آسمان پر نبی علیہ السلام کے ساتھ موجود ہے اور اس وقت وہ آیا نہیں ان کی تقلید کریں گے اور امام مہدی کے ساتھ مل کر ساری دنیا میں اسلام کی نشرواشاعت کریں گے یہاں تک کہ پوری کی پوری دنیا مسلمان ہوجائے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے گی یہ عقیدہ کے بغیر کیا اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بھی خلاف ہے فاتحہ کے قائل تھے اور کلمات صاحب وہ رابطہ کریں گے تو پھر بعد میں ان کی جائے گی زبان میں اس لوگ موجود وفات مسیح کے قائل ہیں اور ان کے نزدیک مسیح کی آمد ثانی سے مراد سب کی آمد ہے جو مٹی کی خوشبو اور شفاعت اپنے اندر رکھنا ہوگا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے ساتھ کرے گا عقیدہ ہے اور اس میں اور صحابہ کے عقیدہ میں اور بعد کے بزرگ مسلمان مجھے دین اور مفسرین اور اللہ کے عقیدے میں کوئی اختلاف نہیں اسلام کے تمام نبیوں اور رسولوں کی تعداد ابھی پڑھائے گئے مگر اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں بچا لیا حالات پیدا کیے ایک یہودی اور عیسائی والوں کے لئے معاملہ مشکل ہوں گے السلام علیکم موطا امام مالک ٹرمپ کا صلیب پر لٹک جاتا تھا اور پھر بعد میں اس کے لیے پڑھے جاتے تھے پھر اس کے بعد اللہ تعالی نے ایک خاص دیکھنا کوثر حاکم کے ذریعے بے اس کی بیوی کے ذریعے بھی دوسرے مسالک کے ذریعے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خلیفہ زندہ بچا لیا اس کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک مناسب جس میں یہ کہا گیا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل کی طرف بھی جائیں گے جو فلسفیوں سے ہجرت کر کے افغانستان اور کشمیر میں جاب کرتے ہیں خدا کا پیغام پہنچائیں گے مسیح الاسلام میں وہاں سے خفیہ طور پر حضرت اللہ کے فضل سے صحت یاب ہوگئے ان کی ہمیشہ بنائے گئے جن کا ذکر آگے آئے گا کیا اور کشمیر تشریف لائے اور ایک سو بیس سال تک پہنچ کر لے گئے حق کرتے رہے اور اللہ تاللہ نے وجہ اطاعت کی اس نے اللہ تعالی فرماتا ہے جی ہم سے دنیا والا پورے کیے جو اللہ تعالی نے ان سے فرمایا کرتے تھے کے ہاتھوں سے تجھے والی موت سے ڈرتے ہو دشمن کے ارادوں سے بات کروں گا ماننے والے منکروں پر قیامت تک رہیں گے اعلی حضرت کے ساتھ پورا کر دیا اور وہ ایک سو بیس سال کی عمر میں آپ فکر نہ کر میں محلہ خانیار میں مدفون ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں اپنی کتاب میں ہندوستان میں سخی سرور تمام ثبوت نہیں کرنی اور وہ فوت ہوچکے تھے اور پیسے لے جا رہے ہیں آپ کی وفات اور کشمیر سے ہجرت کے بعد کس ملک اب اللہ کی حمد آل ثانی سے کیا مراد ہے بنی اسرائیل کے لئے چودھویں صدی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل اللہ کے لیے تشریف لائے تھے بہت کم رہ جائے گی ولھم فی کی صفات کے مطابق اس کے طبیعت اور روحانی خیالات سے مطابقت رکھنے والے آدمی کو مسیح کے نام پر چودھویں صدی میں محفوظ رہے گا اسلام آباد میں جماعت احمدیہ کا نام ہی ہے آپ ہے مسلمان اور عیسائی لوگ انتظار کر رہے ہیں اور آپ میں اس مقصد کو ثابت کرنے کے لئے بہت سی کتابیں لکھی ہیں سب سے مضبوط دیے انکار سے ایران نے بھی آتا رہے گا جماعت کے لٹریچر میں بھی موجود ہے سوال کے جواب کا خلاصہ یہ ہے بابا شکریہ سمیع خان صاحب بھی تو ہماری خواہش ہے اور یہ چاہیں گے کہ جو ہمارے دوست ہمارے احباب یہ پروگرام سن رہے ہیں وہ بھی ہم سے سوالات کریں تو ہم نے تو گفتگو کا آغاز کردیا ہے اب جیسے سوالات آتے جائیں گے تو آپ کی خدمت میں بھی محفوظ دودھ ہمارے پینل میں برا نہیں ان سے بھی کروں گا عرفان صاحب جس طرح نصیر قمر صاحب نے ایک بنیادی بات بتا دیں اور اس میں خان صاحب نے خاص طور پر یہودیوں عیسائیوں اور مسلمانوں کا جو نظریہ ہے اس کا ذکر کر دیا ہے میں یہ چاہوں گا کہ اب ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کی طرف براہ راست چلتے ہیں ناظرین کو یہ بتائیں کہ کیا خود حضرت مسیح علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی وفات اور آمدنی کے بارے میں بھی کچھ بتایا کہ نہیں لائیو الرحیم اسی موضوع اسلام نے جو اس زمانے میں بڑے بڑے اصول عطا کیے ہیں کہ کسی سچائی کو خاص طور پر مذہبی سچائی کو پہچانے کا کیا اصول ہے اس میں ایک بہت بڑی بات نہیں ہے جو عقیدہ رکھتا ہے اپنی کتاب میں سے بیان کریں کیسی معقول بات ہے کہ عیسائیوں کی طرح رکھتے ہیں وہ اس کو اپنی کتاب سے ثابت کریں یہودیوں کی طرح رہتے ہیں وہ ثابت کریں جو کدھر اپنی کتاب کریں اسی طرح یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں عیسائیوں اور یہودیوں کا یہ تو خیال ہے کہ یہودیوں کا تو ہم نے ان کو اللہ تعالی پر قتل کر دیا اور مسلمان ہیں کہ وہ آسمان پر زندہ چلے گئے لیکن عیسائیوں کی اپنی کتاب اس بارے میں کیا کہتی ہے کیا والے ہیں دفعہ کے سامنے رکھوں گا یا اللہ علیہ السلام نے اپنے جواب پر لوگ خاص طور پر یہود آپ سے بار بار کہتے تھے اگر تو خدا کا سچا نبی ہے تو ہمیں کوئی نشان دیکھا تو ان کو مخاطب کرکے حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا کیا کہ زمانہ کے برے اور زناکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یونان بی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا کیسے یو na 3 مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابن آدم 3 ان کے اندر رہے گا یہ متی باب 12 41 میں یہ نصیحت کی کہ اپنا کو لکھا ہوا ہے اور اس کی تائید باقی انجیل میں بھی اس طرح کی باتیں موجود ہیں کہ مسیح نے گویا اپنی سچائی کا انحصار اس بات پر قرار دیا حالانکہ لوگ مسئلہ سب سے بڑے بھائی بات منسوب کرتے ہیں وہ بند کر دیے ہاتھ لگا کر کے پوچھا کر دیا لیکن مسیح علیہ السلام فرماتے تھے کہ اس کے لوگوں کو ایک ہی بڑا نشان دیا جائے گا وہی ہیون عربی کا نشان ان کو دیا جائے گا اب ہم دیکھتے ہیں کہ یونان نے بیان کیا تھا یونان دی کا نشان یہ تھا کہ ایک میں اس کے پس منظر میں نہیں جاتا کہ مسئلہ ان کو نکال لیا اور وہ مچھلی کے پیٹ کے اندر زہر جیسی کتابوں میں لکھا ہوا کہ تین دن رات رہے اور وہ ان پر خوشی کی حالت نہیں اور پھر وہاں سے زندہ باہر آئے اور فیصلہ باہر آنے کے بعد پھر اپنی قوم کی طرف گئے اور ان کی قوم کو قبول کیا اور یونس علیہ السلام کو اللہ تعالی نے دوبارہ عطا فرمائے اس نشان کو عیسی علیہ السلام کی دوڑ کے دیکھیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ عیسی علیہ السلام پر بھی ایک ایسی کیفیت آئی کہ ان کو یہودیوں نے جو بھی ان کے ساتھ کیا اس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے اور ان پر نشے کی حالت طاری ہوئی اور ان کو زمین کے اندر ایک ایسی غارنما جو خبر تھی اس کے میں زمین کے اندر پیٹ کے اندر ہوگا جیسا کہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ کے اندر رہا اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا یونس نبی جو تھے وہ مچھلی کے پیٹ کے اندر زندہ رہے تھے زہرہ علیہ السلام السلام کامچھلی کے پیٹ کے اندر حنیف کی وجہ سے غشی کی حالت میں چلے گئے تھے اور بظاہر ایسے لگتا تھا کوئی ایسی صورت نظر نہیں آتی بچے کی لیکن اللہ تعالی نے معجزانہ طور پر ان کو وہاں سے بچایا اور وہ زندہ پھر باہر آئے اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام انتہائی تکلیف اٹھانے کے بعد خوشی کی حالت میں چلے گئے تھے ان کو زمین کے پیٹ کے اندر یعنی ایک انما قبر کے اندر رکھا گیا اور جیسا کہ میں نے کہا تھا اس میں سے پھر وہ باہر خود انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا تھا کہ میں تمہیں جھیل کی طرف جاتا ہوا دکھائی دوں گا السلام نے فرمایا رہے ہیں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو یونہی کا نشان دیا جائے گا تو عیسیٰ علیہ السلام زمین کے اندر زندہ حالت میں گئے کی حالت میں گرفتار ہوئی زندہ باد نکلے اور ہمارے عقیدے کے مطابق اگر اس نشان کو میں سمجھا جائے تو یہ سو سلام واپس اپنی قوم کی طرف گئے اور ان کو دوبارہ اپنی قوم میں اپنا نصیب ہوئی تو کسی بھی نبی کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ جس مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے اس کو پورا کرے تو عیسیٰ علیہ السلام کے حالات حاضرہ پر بیان کریں گے کہ ایسے بڑے واضح نشانات ملتے ہیں کہ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سلام قبر سے اس نکل کر باہر گئے اور جمیل کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیے جیسا کہ بیوی تین بجے بات لکھی ہوئی انھوں نے خود کہا تھا بعض عورتوں کو گا اور پھر دوسری جگہ یہ بات بھی ذکر کیا کہ جب ان کو اور ان کے حواری ملے وہاں پر تو انہوں نے ان کو کہا کہ انہوں نے سمجھا کہ یہ تو فوت ہوچکے ہیں یہ میرے زخم ہیں ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور جس طرح باقی حواری جو تھے اور زندگی گزار رہے تھے کچھ نہیں ان کے ساتھ گزارا یہ ساری باتیں بتاتی ہیں اور یہ اسلام زمین کے اندر جو بھی قبر تھی اس کے اندر اس حالت میں رکھے گئے تھے کہ ان پر ایک ایسی کیفیت ہے بے ہوشی کی کیفیت ہے اور قدرتی بات ہے یہ کا محاورہ زبان کا کہ جب کوئی بیمار بہت زیادہ بیماری کی حالت میں چلا جاتا ہے اور اس میں خوشی کی تہہ داری ہو جائے اور وہ دوبارہ اللہ تعالی اس کو صحت دے تو یہی کہا جاتا ہے کہ یہ موت کے منہ سے باہر آیا ہے ایسے لگتا ہے کہ یہ اسلام کے بارے میں لوگوں نے پہلے یہ سمجھا کہ وہ فوت ہوگئے ہیں لیکن بعد کے واقعات نے بتایا کہ فوت نہیں ہوئے تھے ایک اور حوالہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم یہ مان لیں مسیح جو تھا وہ صلیب پر لٹک کر کے ان کو مار دیا گیا تھا تو مسئلہ نہ انجیل میں بھی اور آخرت میں بھی یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ جو لکڑی پر لٹکایا گیا وہ ملا نہیں ہوتا ہے اب آپ کو کس نے یہ بات نہیں ہوئی ہے اب کیا مسئلہ ہے جس کے بارے میں انجیل بار بار یہ کہتی ہے اور خود کہتے ہیں کہ میں خدا کا پیارا بیٹا ہوں عروہ اور میرے ساتھ اللہ تعالی کا ایک بڑا گہرا پیار کا تعلق ہے ایک ایسے شخص کے بارے میں یہ سمجھنا کہ گویا اس پر گویا وہ لعنتی موت مرا عورت اور یہ بات بھی کیا لعنت کا ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے یہ لعنت والا کی تعداد کیا ہے انہوں نے لعنت کے مفہوم پر غور نہیں کیا لغت کی تمام کتابیں دیکھی جائے لسان العرب ہے جو کتابیں ان میں لعنت کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جو خدا کا دشمن ہوگیا جو شیطان کا جو درس شیطان بن گیا ہم ایک طرف بائبل یہ کہہ رہی ہے اور اس خود کہہ رہے ہیں کہ میں خدا کا پیارا ہو تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ عیسی علیہ السلام کی موت کی خبر نہیں ہوئی اور پھر جیسا کہ پہلے ذکر ہوا لگتا ہے کہ یہ سال کو اللہ تعالی نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ تو مجھ پر اس طرح کی کیفیت ایک جیسا ہونا کی تو اس لیے اس حوالے پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ عیسیٰ علیہ سلام سے اترنے کے بعد زندہ رہے اور اپنی قوم کے اندر ان کو ایک عزت کا مقام ملا ٹھیک ہے انشاء اللہ ہم کوشش کریں گے کہ اپنے ناظرین کے سامنے جگر حوالہ جات بھی پیش کریں جو حضرت عیسی علیہ السلام خود فرما رہے ہیں یا اناجیل میں ایسی شہادتیں ملتی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر نہیں ہے لیکن صاحب ایک ہمارے بھائی طاہر محمود صاحب ہیں جرمنی سے انہوں نے واٹس ایپ کے ذریعے ایک سوال بھیجا ہے وہ پہلے میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا کیونکہ میں ناظرین کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو وفات مسیح کا موضوع ہے اللہ تعالی کے فضل و کرم کے ساتھ ہم اس پروگرام میں بھی اور جماعت احمدیہ کو گزشتہ 31 سال سے متعدد جگہوں پر متعدد بار بار ممکنہ سوالات کے جوابات دیتے رہے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی دیتے رہیں گے کیونکہ قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے سورۃ المومنین نصیر صاحب طاہر محمود صاحب سے سوال یہ کہہ رہے ہیں کہ مرزا صاحب بیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا عقیدہ پہلے کچھ اور تھا اور بعد میں کچھ اور ہوا ہے نئی مثال دے رہے ہیں کہ خاص طور پر یہ وفات مسیح حیات مسیح کے بارے میں اور ختم نبوت کے بارے میں کہ گویا پہلے وہاں مسلمانوں کی طرح اسی طرح وفات مسیح کے قائل تھے حیات مسیح کے قائل تھے اور وفات مسیح کے منکر تھے تو اس بات کی وضاحت کرنی ہے ہمارے ناظم کے لیے کوئی بڑا کام لیں اور ایڈمنٹن ہے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی کا آپ تو کہتے تھے کہ اپنے پرانے ہندی میں یہ لکھا ہے کہ اس علیہ الصلاۃ والسلام زندہ آسمان پر موجود ہے اور اس بات پر زور دینا شروع کردیا یہ صلاۃ و السلام فوت ہو چکے ہیں جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا اور مسلم وسلم نے ان کا بھی ذکر ہوا کہ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالی نے یہ الہام نے یہ بتایا ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہوچکا ہے اور اسی کے رنگ میں وعدے کے موافق ہو کر تو آیا ہے اوپر بھی یہ سوال اٹھایا گیا کہ آپ نے پہلے تو یہ لکھا تھا اس میں یہ تنہا کون ہے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ ہیں میں پڑھتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ امید ہے کہ کافی جو اب ہوگا الصلاۃ والسلام نے حقیقت الوحی میں اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا ہے اور کلام میں یہ طاقت کیوں پیدا ہو گیا باتیں یہ قسم کا تعلق ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا میں لکھا کے آنے والا مسیح میں ہی ہوں حافظ کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالی نے براہین احمدیہ میں میرا نام ایسا رکھا فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی کے ایک گروہ سلمان و کا اس آیت پر جمع ہوا تھا اور میرا بھی یہی ہے کل تیس آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لیے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حملہ کرنا چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد ہوئی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا ہمیشہ کیا اس کے اس بارے میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہوگئے خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کرکے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانے میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں ورنہ میرا آقا تو وہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں دیکھ لیا تھا اور پھر میں نے بات نہ کر کے اس وحی کو قرآن شریف پر عرض کیا تو آیات فتیات ودلالۃ سے ثابت ہوا کہ درحقیقت مسیح بن مریم فوت ہوگیا ہے آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر اسی امت میں سے آئے گا اور جیسا کہ جب دن چڑھ جاتا ہے تو کوئی تاریکی باقی نہیں رہتی اسی طرح سادہ ان شانو معنی شہادتوں قرآن شریف تیتو دلالۃ آیات نصوص صریحہ دیسی آنے اس بات کے لئے مجبور کر دیا کہ میں اپنے ٹائم صحیح مان لو میرے لئے یہی کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہوں نے اس بات کی ہرگز تمنا نہ تھی میں پوشیدگی کے حجرے میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے اس نے گوشہ تنہائی سے مجھے چلا میں نے چاہا کے میں پوشیدہ رہا ہوں اور کوشش پوشیدہ مرحوم مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ چھوڑ دوں گا بس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا میرا اس میں کیا قصور ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ جو دعویٰ فرمایا اللہ تعالی کی کتاب فرمایا اور آپ فرماتے ہیں کہ پھر میری بیوی کی بات نہیں قرآن مجید پر اس بات کو پیش کیا اس کی روشنی میں مزید غور کیا تو بڑے واضح دلائل کے ساتھ ثابت ہوگیا تو سلامت ہو چکے ہیں جیسے کہ ممکن اگلے پروگرام کے دوران پھر بھی آئے اس سے بھی ثابت ہوا پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے سادہ اور نشان ہیں ایسے شواہد مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قبر مسیح کا بھی ذکر فرمایا ہے سری نگر محلہ خانیار میں ہے یوسف کی قبر کے متعلق کوئی اپنے تحقیقی وہ اپنی کتاب میں تعریف فرمائی ہے سارے لوگوں نے تحقیقات کی ہیں ہندوستان کے بھی اسکالرز ہیں انہوں نے بھی اس سے مضامین لکھے ہیں جس پر سرچ کر مغربی دنیا کے بہت سارے مصنفین ہیں انہوں نے بھی تحقیقات کر کے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس علیہ الصلاۃ والسلام-جدید پر فوت نہیں ہوئے تو جب اور نیو نعت بھی وفات پائی تو جب یہ ثابت ہوگیا کہ اس علیہ الصلاۃ والسلام نے کبھی وفات پائی قرآن مجید سے احادیث سے دلائل سے تو پھر مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس دعوے کو ایک مزید کمی واقع ہوئی کہ آپ ہی وہ مسیح موجود ہیں جو مسیح ناصری کے رنگ میں ہوں کروا دے کے وہ ہیں اور اس کے مسائل کے طور پر نشے میں تھا ایک دفعہ پھر اس کتاب کا حوالہ بتا دیں تاکہ یہ ہمارے ناظرین کے ذہن میں رہ جائے روحانی خزائن جلد 22 ہے حقیقت الوحی کتاب کا نام ہے اور روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 152 153 اس کا ذکر موجود ہے اسے میں نے الفاظ پڑھ کے بتاتا ہوں کسی اور کی ہے آپ نے ذکر کیا تھا یہ بالکل ایسی ہی بات ہے یہ تمام سوالات یا ان میں سے اکثر سوالات خود لوگوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں آپ کے سامنے بھی پیش کی ہے اور یہ کہ اس میں ظلم ختم نبوت کا ذکر تھا تو فوراً کتاب ہمارے ذہن میں آ جاتی ہے ایک غلطی کا ازالہ عزت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوری کتاب پڑھ لکھ دیں تو نہیں میں بار بار اس طرف جو آپ کو توجہ دلائی کیمپ کی بات ہے کہ جماعت یا جو بھی دعویٰ کررہی ہے جو بھی بات نہیں کر رہی ہیں یہ سب کے لیے موجود ہیں ہماری ویب سائٹ الاسلام ڈاٹ پل دیکھ سکتے ہیں چیک کر سکتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کے بات کرنا چاہتا ہوں اگر ہمارے خلاف بھی کوئی حوالہ پیش کیا جاتا ہے اگر آپ کے سامنے اس طرح کی بات پیش کی جاتی ہے کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں بیان مولانا اسدلا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی بات جماعت احمدیہ نے لکھی ہے تو آپ کو اختیار ہے آپ ویب سائٹ پر جائیں وہ حوالہ چیک کر لیں کیونکہ اکثر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالوں کو تباہ و برباد کر کے کاٹ کر چحری پ کرکے پیش کیا جاتا ہے جس میں دراصل تو بد نیتی ہوتی ہے لیکن حقائق کو چھپایا جاتا ہے میں چاہوں گا اس وقت موجود ہیں تو ہم ان سے بات کرلیں السلام علیکم موجود ہیں ہمارے سر اچھا ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ہم ضرور ان سے بات کریں گے جس سے کچھ کہنا چاہ رہے تھے اس کی بات کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے مثال دی ہے ایک غلطی کا ازالہ کی ان دونوں کی تو میں تھوڑا سا فرق ہے یعنی جو وفات مسیح کا عقیدہ ہے اس کے بارے میں تم سے بہت صاحب نے لکھا کہ یہ مسلمانوں کا رسیا تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا لیکن جہاں تک ختم نبوت کا معاملہ ہے اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ نصیب والے انسان کا پہلا پیار موقف تھا اور غلطی کا ازالہ کے نتیجے میں آپ نے اس میں تصریح فرمائی اس میں مسیحی علیہ السلام شروع سے لے کر آخر تک اپنے آپ کو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کے طور پر ایک غلام نبی کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرتے رہے ہیں یہ ایک لوگوں کو غلط فہمی پیدا ہوئیں ان میں سے بعض نے اس چیز کو نہیں سمجھا تو آپ نے عوام الناس کی یا بعض احمدیوں کی اس غلطی کی اصلاح کے لیے اپنے وہل غلطی کا ازالہ کتاب ختم نبوت کے حوالے سے ہی کا شروع سے لے کے آ گیا تھا علم خاتم النبیین ہیں آپ کامل اور شریعت والے نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نہیں آپ کی شریعت سے ہٹ کر بھی نہیں سکتا اور آپ کو براہین احمدیہ میں بھی نبی کرکے پکارا گیا اور آخر تک آپ کا یہ عقیدہ رہا کہ میاں متین کل بالکل ٹھیک ہے بہت بہت شکریہ آپ رابطہ کرنے کی کوشش تو کر رہے ہیں بس آپ سے لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا لیکن ہمارے ساتھ سامنے موجود ہے تو میں چاہوں گا کہ میں مولانا عبدالسمیع خان صاحب سے بات کرو اور ان کے سامنے یہ سوال پیش کرو اسلام علیکم عبدالسمیع خان صاحب رحمتہ اللہ علیہ یہاں ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے پاکستان سے ہم سے رابطہ کیا ہے کا مجھے بتایا جارہا ہے یہ بھی ایک وہی سوال کرنا چاہ رہے ہیں جو بار بار ہمارے سامنے کیا جاتا ہے وہ سوال نہیں کرنا چاہ رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ ان کا سوال ہے تمہیں اسی طرح پڑھا ہوں بارش میں حقیقت تو نہیں ہوں آپ انشاء اللہ بات کریں گے تو ان کا سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف سخت الفاظ استعمال کئے ہیں تو اس بات کی وضاحت چاہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہیں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جزاک اللہ میں اپنے بھائیوں سے عرض کرتا ہوں کہ یہ ایک معاہدہ ہے کیے ادب کی بات ہے ایک شخص جو کسی شخص کر رہا ہے کام مکمل ہو جائے گا کام ہو گیا اس کی توحید کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنی توہین کرنا رہا ہوں اگر آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ نبی علیہ السلام لے کر آیا ہوں اور مسیح موعود کے جس شخص کے قائمقام کیا مشین جس کے متحد ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں یہ ہے ہمارے مسلمان بھائیوں کو سمجھ نہیں پائیں گے ہمارے اسلام ٹائمز پیار کا جواب میں آپ شیعہ ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے تحاشا ہم لے کر رہے تھے وجود کے خلاف میں آتا ہے آج بھی ہمارے لئے مشکلات کے اہم خصوصیات تھے بنایا تاکہ وہ ان لڑکیوں کو پیش کرتے ہیں یا مسیحی اور عورتوں عرب کہ وہ بلا اس کو کیا ہے دل دکھاتی ہے یہ دکھاتی ہے وہ بات ہے آپ نے ان کی روشنی میں لکھیں قرآن اور پاکیزگی اور ان کی والدہ کی تقطیع حضرت موسی علیہ السلام کی توہین کرتی ہے اور ایسا ہی حشر کس طرح فی الاسلام پیش کرتا ہے حرام فی الاسلام السلام میں وہ دکھا کر اس کو شرمندہ کیا ہے کلمہ اسلام کی مجبوری تھی اور آج ہر مسلمان تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر سکتے ہیں یہ مسلمان ہونے اصل میں اترنے نیل پڑی نہیں ہے اور ان کو پتہ نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا کیا تصور پیش نام کا مطلب اسلام میں یہ ایک جنگی ہتھیار بنایا اور اس پر حملہ کیا جو حکومت تو ہے قرآن کا اور اس طرح لےکر ہوا کہ یہ کوئی سوال بھی نہیں ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہ سوال حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس وقت میں تو اس کا جانشین ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں میں وہ جو رکے تو کوہ گراں آیا ہوں اگر میں اس کے خلاف بولوں گا آپ نے کل آپ کو آپ نے فرمایا کے میں تو اس کو پیش کر رہا ہوں جو ایک اور پیش کرتا ہے ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے سب کے مدیر کو قرآن پیش کرتا ہے ہوسکتا ہے میں نے یہ عزت اور احترام کو مٹانے کے لیے کوشاں ہے اس میں کوئی بابر شکریہ عبدالولی خان صاحب آپ نے نہایت تفصیل کے ساتھ اس سوال کا جواب دے دیا ہے اور جس طرح ہم یہ ذکر کرتے رہیں انشاءاللہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے کہ سوال کرنا آپ کا حق ہے بیشک یہ سوالات اگر پہلے بھی ہو چکے ہیں آپ دوبارہ ہم سے کریں ہم آپ کے سوالات کے دوبارہ جوابات دیں گے ہماری کوشش یہ ہے کہ کسی طرح آپ تک ہماری بات پہنچ جائے فضل صاحب ایک اور سوال جو وٹس ایپ کے ذریعے ہمارے پاس موصول ہوا ہے اور میں ناظرین کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ جو وٹس ایپ کا عمدہ ذریعہ دیا ہے یہ بڑا مقبول ہے اور لوگ بڑی آسانی کے ساتھ اپنا سوال ٹیکسٹ کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کر دیتے ہیں تو اگر آپ بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تو ضرور فائدہ اٹھائیں اگر آپ بات نہیں کرنا چاہتے اور ٹیکس کی صورت میں اپنا سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو ضرور بھیجیں طاہر محمود صاحب ہمارے دوست انگلینڈ سے یہ سوال کر رہے ہیں یہ ذکر کر رہی ہے کچھ نہیں جا رہے ہیں کیا حضرت عیسی علیہ السلام کے علاوہ بھی کسی نبی کے آسمان پہ جانے کا اور دوبارہ زندہ ہونے کا ذکر ملتا ہے اس بارے میں وضاحت کر دیں عام طور پر عیسائیوں اور یہودیوں کا جو عقیدہ ہونا چاہئے ان کی کتاب کی رو سے وہ یہ ہے کہ دونوں نبی ان کے عقیدے کے مطابق آسمان پر گئے جن میں سے ایک تو یہ صاحب کے بارے میں ابھی تک عیسائیوں کا طریقہ کیا ہے اور یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ایلیاء نبی بھیجا ہے وہ بھی آسمان پر اٹھائے گئے اور ملاقات نبی کے صحیفے میں اور دور میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے تو ایلیاء نبی کے بارے میں یہ ذکر ملتا ہے کہ وہ بھی آسمان پر اٹھائے گئے اور ان کے بارے میں یہ بھی وضاحت ملتی ہے کہ گویا آنے والا جو مسئلہ ہے اس سے پہلے ایلیا کا آنا بہت ضروری ہے جب تک وہ علیہ نہ اس وقت کم ہی نہیں آ سکتا اب عیسی علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے تو لوگوں نے پوچھا کہ بھئی آپ تو آگے لیکن آپ سے پہلے تحائف کے مطابق تورات میں جو پیش ہوئی ہیں اس کے مطابق علی عربی گانا بہت ضروری ہے ہم نے اس کا جواب یہ دیا کہ حضرت وہ نہ آیا کہ یہاں لیا ہے جس کا جس کو ماننا ہو مان لیں کوئی ایسا اسلام نے یہاں یہ وضاحت فرمائیں کہ دراصل یہ جو کسی شخص کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان پر چلا گیا اور اس نے دوبارہ آنا ہے دنیا میں اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ اس ایمان پر چلا گیا اور وہ جسمانی طور پر آسمان سے اترے گا بلکہ جیسے ذکریہ کے گھر یوحنا پیدا ہوا اور یہ تو ان کے آنے سے پوری ہوگی کہ میرے آنے سے پہلے انڈیا نے آنا تھا انہوں نے آکر میرا راستہ گویا صاف کرنا اور میرے بارے میں لوگوں میں شادی کرنی تھی تو بلکہ یہ کیسی بات ہے جس سے حضرت یوسف علیہ السلام کی اس پیش گوئی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ دو نبی ہیں جن کے آسمان پر جانے اور اترنے کے بارے میں صاحب بات کرتی ہیں لیکن ایک کا مقدمہ کا فیصلہ تو ایسا ساز ہوں میں خود کر دیا کہ تم جو سمجھتے ہو کہ یہ ایریا آسمان پر گیا ہے اور میرے آنے سے پہلے آنا تھا اس سے مراد ہے زکریا کے گھر پیدا ہونے والا آیا ہے چاہے تم مانو نہ مانو کا یہی عقیدہ رہا ہوں یا کہیں اور علی عثمان صحیح نہیں بلکہ گھر میں پیدا ہوئے ان کے اندر بات ایسی تھی جو انڈیا سے ملتی تھی اور یہی دراصل ہم لوگوں کو سمجھایا کہ جب آپ کسی کو یہ کے بارے میں یہ پیش گوئی ہوں کہ اس نے آسمان سے آنا ہے اس کا نام لے کر یہ بات کی جائے اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ زندہ آسمان سے نیچے ہوتا ہے بلکہ انہیں صفات والا ایک شخص دنیا پیدا ہوتا ہے جو وہ کام کر کے دکھاتا ہے جو اس گیا تھا ہم کوشش کرتے ہیں ہمارے ساتھ کیا کالم موجود ہیں اس وقت اسلام علیکم عارف زمان صاحب بنگلہ دیش سے نے ٹھیک ہے اگر آپ سے رابطہ کر سکیں تو بہت اچھا ہے اسی سبب سے ہم نے جس طرح گفتگو کا آغاز کیا تھا اور فضل صاحب نے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کے کچھ حوالے پیش کیے تھے تو بلکل حوالے انجیل کے حوالے میں اسی موضوع کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں اور میں آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ یہ ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود عرق سلیم سے کس طرح بچایا اس کا ذکر فرمایا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی یقینا جیل میں بے شمار ایسے ثبوت ملتے ہیں جس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کی وفات ہرگز ہرگز سلیپر نہیں ہوئی تو میں جاؤں گا ہمارے ناظرین کو اس بارے میں آپ کو بتا دیں ایسے شعر اتنی ہے اور موسی علیہ الصلاۃ و السلام کی پیشگوئیاں بھی ہیں ہے آپ کو یقین تھا کہ آپ کا جو مشن ہے عمرہ کریں گے خطیب 15 آیت 24 میں ذکر ہے کہ مسیح ناصری علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا ان کے گھرانے کی کوئی بھی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس اب جس اور شام میں آپ موجود تھے وہاں پر تو جو بیٹری موجود تھے وہ تھے بیڑی کہاں تھی آپ کہتے ہیں کہ میں ان کی طرف بھیجا گیا ہوں اور وہ یقینا وہ دس قبائل بنی اسرائیل کے جو مختلف ہوا جس کے نتیجے میں یہاں سے ہجرت کرنا پڑی اور مشرقی علاقوں کی طرف نکل گئے تھے جن میں ایران افغانستان اور ہندوستان کے علاقے بھی شامل ہے کشمیر پہلا کا صرف وہ دس قبائل جو تھے بنی ہجرت کر گئے تھے اور اب یہ بہت ساری جدید تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ جو افغان ہیں اور کشمیر میں بھی بنی اسرائیل کہ جو دست باہر نکلے تھے وہی کیا بات ہے اپنی کتاب مسیح ہندوستان میں بھی اس بارے اس پہلو سے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور اس کے شروع میں یہ ذکر فرمایا کہ اس کو ثابت کریں گے وہاں پر بھی دلائل موجود ہیں اور اب اس کے علاوہ اور بہت آپ کی دیگر کتب بھی اس بارے میں بات موجود ہے پیشگوئی انہوں نے فرمائی تھی پتہ چلتا ہے کہ ان کی سلیپ وفات نہیں ہوگی پھر حضرت عیسی علیہ السلام تو یہ میں دیر میں ملتا ہے کہ آپ نے یہ پہلے سے بتایا گیا تھا کہ گناہگاروں کے سپرد کیا جائے گا اور اس کے اوپر ظلم و زیادتی کریں گے لیکن وہاں سے نجات پائے گا تو وہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا کا پیارا نبی اللہ سے علم پاک کی پیشگوئیاں فرما رہے اس کی پیش گوئیاں غلط ثابت ہو دعائیں بھی کیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالی آپ کی دعاؤں کو سنتا اور اللہ تعالی نے آپ کی دعاؤں کو سنا یا تک اس لیے کے اوپر بھی جب آپ نے یہ دعا کیے لیکن اس وقت معنی وہ تو ہمیشہ میری دعاؤں کو قبول کرتا تھا یہ کیا آپ مجھے سلیپ اللہ نے چھوڑا ان کو نہیں چھوڑا سلیپ زندہ اتروانا جیسے کہ پہلے فضل الرحمان صاحب نے ذکر کیا ہے کہ پھر آپ وہاں سے سفر کرکے نکلے ایک دن کی طرف نکلے پھر آگے اور وہاں پر جو ان کے حواری آئے تھے انھوں نے اس لیے کہ یہودی جو ہے مزید ان کا تعاون نہ کریں ان کے پیچھے جستجو نہ کریں یہ خبر پتہ چلے گئے ہیں کیونکہ ان کو کچھ تھوڑا سا وہ پرانا قصہ دن میں تھا کہ پتہ نہیں آسمان پر گئے ہیں اور وہی جیسا کہ ذکر ہوا تو وہ انہوں نے اس بات کو تھوڑا سا ان کے ذہنوں میں یہ بات سرایت کر گئی اور انہوں نے مزید آگے تک پہنچنے کی ایک تدبیر تھی اور پھر وہ لمبا سفر کے مختلف ملکوں سے ہوتے ہوتے کشمیر میں ہوں گے جیسا کہ اب تاریخی حقائق سے بھی ثابت ہوچکا ہے کہ وہاں کی انہوں نے وفات پائی اور ایک لمبی عمر پائی اور بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی بعثت ہوئی ہیں جن کا انجیل میں بھی ذکر ہے ہونے والے حوادث کا ذکر ہے کہ کیا تھا ان کے ساتھ کیا ہوگا ان کی موجودگی ان کے وہ جو خدا کی گرفت میں ہونا تھا اس وقت بھی انہوں نے کہا کہ میں بھی واپس آؤں گا میں زندہ ہو گا آپ کی زندگی میں بہت سارے ایسے سزا دینی ہوتی جو تھے ان کو سزا بھی ملی ہیں اللہ تعالی کی گرفت میں بھی وہ ہے تو یہ پیش گوئی بھی بتاتی ہیں اور بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو پھر انہوں نے پیغام پہنچایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کے افغانستان کے اس ملک کے سفر اختیار کیا اور ضروری تھا کہ سفر کو اختیار کرتے عدالت کی طرف سے یہ یاسین کی نبوت کی حالت ایسی تھی جیسے کہ انہوں نے کہا کہ میں اس کی خوشیوں کو سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا وہ جو کب آئے تھے آج رات کر کے ان علاقوں میں ان میں سے بعض نے اپنے باپ دادا کو مذہبی ترک کر دیا تھا اور حضرت سے ہنستے ہوئے اکثر ان میں سے لوگ دنیا میں داخل ہوگئے تھے اور بت پرستی تک نوبت پہنچی تھی سارے مغربی محققین نے بھی اس بات پے اب تحقیقات سے یہ باتیں سن اور آزمودہ الصلاۃ والسلام کے اس موقف کی تائید فرمائی ہے تو حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام نے آکے پھر یہاں پر وہ پیغام پہنچایا اور جیسا کہ انہوں نے ایک آنے والے مہاجرین یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شرم برسول یاتی من بعد اسمہ احمد والا کے مضمون ہیں اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیشگوئی آگاہ کیا اور یہی وجہ ہے کہ پھر جب اس نے قومی اسلام کا پیغام پہنچا تو ان لوگوں کو بڑی کثرت کے ساتھ کرنے کی توفیق ملی تو حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام اپنے مشن میں کامیاب ہوئے ہیں ناکام نہیں ہوئے اور جو ان کا مقصد تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے لوگوں کو تیار کریں وہ کام آپ نے پہنچایا اور پھر میں سے ایک بڑی تعداد کو اس بات کی توفیق ملی اپنا سب کچھ میں نے یہ سوال بھی واٹس ایپ کے ذریعے ہوا ہے اس پر بھی ایک نگاہ پڑی ہے لیکن اس کی کچھ وضاحت تو آپ کال ریسیو کر چکے ہیں لیکن میں اس کا ایک پہلو اس کی بھی آپ سے وضاحت کرنا چاہوں گا خالد محمود صاحب ہیں ڈاکٹر خالد محمود صاحب کینیڈا سے اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ کیا حضرت عیسی علیہ السلام کو پہلے اس بات کا علم تھا کہ بنی اسرائیل کے جو دیگر قبائل ہیں وہ یہاں اس علاقے میں موجود ہیں جہاں وہ تھے بلکہ وہ کشمیر کی طرف جا چکے ہیں وہ چار ہیں اس بارے میں بھی کچھ وضاحت کر دیں استعمال کیا انہوں نے نیو کا مجموعہ میں موجود تھے ان کو تو کوئی بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نہیں جو بندوں کو موجود تھے ان کو جانتے ہیں تو واسطہ پڑتا تھا کی مخالفتوں کا سامنا تھا ادھر سے ظلم و زیادتی ہو رہی تھی سب کچھ تھا پتا ہے کہ آپ کو علم تھا کہ آپ اتنے تاریخ سے نابلد نہیں تھے آپ جانتے تھے کہ یہ عید کے دن اور جس طرف اٹھ گئے ہیں جو آپ کا سفر ہے مسیح ہندوستان کو آپس میں سلام کی کتاب پڑھ لیجئے اس میں ہونے والی تحقیق سے یہ ثابت فرمایا ہے اور اس سلسلہ کے اور بھی بہت سارے بعد میں جو ہے مضامین اس موضوع پر آئے ہیں ان میں بھی یہ سوال دنیا میں یکجا کر دیئے گئے ڈرائیور سے خطاب وہاں روڈ بتا دیا گیا ہے اور اسی حالت میں ہی قومیں اور قبائل میں گئے ہیں جہاں وہ پہلے تھے ویسے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام وجود قبائل کی تاریخ کی تو وہ لوگ تو اس کو اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کی طرف گئے ہیں اور ان کو پیغام پہنچایا ہے اور ان کو واپس یعنی جو اصل پیغام تھا حاتم اسلام کی تعلیم تھی اور جو 35 علیہ الصلاۃ والسلام کو تعلیم پر زور دیا گیا وہ رونے کو پہنچایا ہے اور جیسا کہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی کا ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ بعد میں آنے والے کے لئے لوگوں کو تیار کریں یہ میثاق النبیین میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ جب بھی کوئی تمہارے پاس وہ خدا کی طرف سے رسول نبی آئے جو ان باتوں کی تصدیق کرتا ہوں تم سے بتائی گئی تھی تو مجھے ضرور مانگنا بائبل کی اور انجیل کی پیشگوئیوں کے مطابق اسلام کا پیغام لوگوں کو پہنچا ہے جن میں حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام نے قبائل میں کام کیا تھا تو آپ دیکھیں کہ افغانستان میں اور کشمیر میں کثرت کے ساتھ مسلمان تھے وہ ہوئے ہیں کہ انہوں نے مانا ہے کہ ایسی بات کا تو میں تعلیم دی گئی تھی اور یہ وہی رسول ہے جس کے علاقے میں بتائی گئی تھی اور اسلام کی تعریف تعلیم کے ذریعہ سے تو وہ مقصد میں اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے ٹھاک ہیں لمبے سفر کی ہیں مختلف علاقوں میں گئے ہیں اور جا کے جہاں پر بھی وہی قبائل تھے انہوں نے پیغمبر اکرم صاحب آپ نے بہت تفصیل کے ساتھ اس بات کی وضاحت کرنی ہے میں چاہوں گا کہ اگلا سوال ہمارے پینل کے ممبران نے ہمارے ساتھ ہیں مولانا عبدالسمیع خان صاحب اس کے ان کے سامنے پیش کروں مولانا عبدالسمیع خان صاحب سلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سمیع خان صاحب میں چاہوں گا پہلے جو ہمارے پاس ایک سوال آیا ہے واٹس ایپ کے ذریعے وہ آپ کے سامنے پیش کروں اور اس سوال کا ہمارے آج کے موضوع سے بہت گہرا اور براہ راست تعلق ہے تو سوال کرنے والے سوال کر رہے ہیں کہ جس طرح حضرت بانی جماعت احمدیہ اور جماعت احمدیہ جو ہے قرآن کریم کی تیس آیات سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کو ثابت کرتے ہیں تو وہ پوچھنا یہ ساری بھی دیکھے گا کل احمدیوں میں ایک طرف ہے ایک ایک لمحے کسی طرح پیغام لوگوں تک پہنچا دیا جائے تو ہمارے یہ سوال کرنے والے پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے غیر احمدی جواب ہیں وہ ان آیات کے بارے میں کیا کہتے ہیں ویسے تو یہ سوال ہمارے ان غیر مقلدین بھائیوں سے ہونا چاہئے لیکن بہرحال یہ ہمارے سامنے سوال پیش کیا گیا ہے میں اسی طرح سوال محترم خان صاحب کے سامنے پیش کر رہا ہوں تو سوال یہ ہے کہ جو تیس آیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ و میں پیش کی ہیں ان کے بارے میں غیر احمدی لوگ کیا کہتے ہیں اس کی کیا تفصیل کرتے ہیں اور اس کے بارے میں کیوں صحیح بات کی طرف نہیں آتے جزاکم اللہ خیرا یہ سعادت حاصل ہے کہ میں ضرور کروں گا اپنے کردار کو کام میں یہ ٹھیک ہے ہم نے بتایا کہ غلام فاطمہ کے آپ کے سامنے کریم کے تیس آیات اور تمہاری آواز میں موجود ہیں نظر آ رہی ہے جو قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے کہ ماہرین حالیہ آباد کے مخالفین میں پرانے یو کے مخالفین میں موسی کے مخالفین بھی ملتی ہے کیا ہمارے آباؤ اجداد تھے اپنے آبا و اجداد کے الیکٹرک کرلے اسلام نے اپنے والد سے کہا دوست نے کہا اور امی ابو کو خدا کے نبیوں کی بات پر ایمان لے آنا حقائق کو تسلیم کرنا ایک مشکل کام ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا بچہ نبی کو عدالت میں بطور آسمانی شریعت فرمائے لیکن وہ مجھے بتاتے ہے کہ جناب اس میں تین سو سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا زبردست عطا فرمائے ہیں کہ آدمی ابے جو ہر ایک بات کے المعتصم نئی قیمت سے لال کرتے ہیں تو پھر آپ صلعم نے قرآن کریم کی آیات سے ثابت فرمایا ہے قرآن کریم میں نیند کی کرینہ کے ساتھ سونے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جس میں انسان مر جاتا ہے اس دنیا میں میرا اس وقت تھا قرآن کریم کے بارے میں پتہ ہو میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں کے بعد پیدا ہوئے اور اپنے والدین اور بھائی ہمارے علاقے میں مسلح ہو کر آسمان پر رکھا ہوا ہے اس کے بعد اس میں تبدیلی کرنا یہ انسان باقی نہیں ہے اگر رفع کا لفظ اسی طرح وہ اپنے الفاظ ٹھیک ہے مت کرو میں آپ کے بارے میں دوسری بات کرو کے اگر توفیق کے معنی خدا فائل ہو یا خدا توفیق عطا کرے اور کوئی بھی روح کا ماحول ہو تو توفی کے معنی سوائے موت کے کوئی مسئلہ نہیں ہے اسلام نے 20 ہزار روپے کا چالان کہلاتا ہے اللہ ہم اور اس کتاب کو آپ ایک سو بیس سال گزر گئے ہیں لیکن ہمت نہیں ہوتی ثابت نہیں کر سکتے تم کوئی ایک حدیث بھی بتا دو الاسلام کے جس میں ہم فری سمیت آسمان پر جانے کا ذکر ہو آپ نے فرمایا کوئی الیاس بھائی کوئی جھوٹی اور وہی جن کو پامال ہے ضعیف اور جھوٹی حدیثیں قرار دیا انہوں نے پولیس میں شکایت تو نہ دارو کا نام لوں گا آج تک قبول نہیں کرتا ہم نے آپ کو پتہ چلا جاؤں گا اقبال اور کانوں کی دریافت کے ذریعے یہ قرآنی عقیدہ ان کے سامنے رکھتے دینے جا رہے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام کے آسمان پر ہونے کا قرآن سے ثبوت ہے ایک شخص کو تو پھر تم ہی بتاؤ اس کے علاوہ بیان کر دیے کتاب علم تجوید کی کتاب لیکن ہمارے نہ مرنے کا تعلق بھی ہمارے مسلمان بھائیوں سے ہے یا دوسرے مذاہب کے لوگ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ مسیح علیہ السلام کی ہجرت اور ان کے محلے میں گھر میں دفن ہونے کا اعتراف اور وہ ہم بھی وہی مہربانی کرکے کہ ہم اللہ تعالی لوگوں کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے والدین کا انشاء اللہ تعالی بہت شکریہ عبدالسمیع خان صاحب آپ نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس بات کو واضح کردیا ہے اب ایک اور سوال میرے سامنے موجود ہے میں اسی طرح پینل کے ممبران کے سامنے رکھ دیتا ہوں واٹس ایپ کے ذریعے واٹس ایپ کا نمبر لوگوں میں بہت میں نے دیکھا کہ آسانی کے ساتھ لوگ اپنا مال پیش کردیتے ہیں وہ لکھتے میں سوال اسی طرح پڑھو آپ کے سامنے میرا نام طاہر احمد ہے آپ سے عرض کر رہا ہوں وہ صارفین الصلاۃ والسلام نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام کی قبر کا ذکر مختلف مختلف جگہوں پر کیا ہے یہ کیوں ہے جزاکم اللہ نقیب ستائیس وقت میرے سامنے اتفاق سے مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کا ایک حوالہ موجود ہے حضور نے اس دن میں غیر مجلد حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود بھی ان کے جوابات اس میں حضور نے اس ضمن میں بخاری میں یہ حدیث ہے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لعن اللہ صلح الحدیبیۃ نثار تقاضوں کو پورا انبیائے ہیں یعنی یہود اور نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنا لیا سجدہ گاہ مقرر کر دیا اور ان کی پرستش شروع کی کرکے نثار بلکہ دوسرے نبیوں کی قبروں کی ہرگز پرستش نہیں کرتے تمام انبیاء کو گنہگار اور متکبر ارواح خیال کرتے ہیں بلاد شام میں حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوتی ہے غلمان کا مطلب یہ ہے کہ انتظامیہ آپ یہ لکھا ہے کہ فلاں دی شان میں اس طرح کی خبر کی پرستش ہوتی ہے لیکن شاید انہوں نے آگے نہیں پڑھا یہ کیا مراد ہے میں اور مقررہ تاریخوں پر ہزار ہا ایس ایس المثال استقبال پر جمع ہوتے ہیں وہ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ قبر حضرت عیسی علیہ السلام کی خبر ہے مجروح ہونے کی حالت میں و رکھے گئے تھے اس کا پہلے کروا کے جب سلیم سے اتارا گیا رکھا گیا وہاں پر اس طرح کی نہیں ہوتی جیسے قبر ہو گیا وہ کہاں گیا مرا وہ کیا ہوا تھا جس کے آگے بڑا سا پتھر بھی رکھا گیا تھا کہ آج آر کی کاپی زیادہ تھی تایا کو وہاں پر رکھا گیا تھا عیسائی جاتے ہیں حکومت کرتے ہیں اور وہ سجدہ تعظیم کے طور پر سجدہ بھی کرتے ہیں اس کی پرستش بھی کرتے ہیں کہ یہاں پر ان کے مشن کو مجروح ہونے والے مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا جواب یہ ہے نیا فرمان ہے کہ وہاں پر بھی ہے اور بدلنا غلط ہے یا وہ صحیح ہے آپ یہ فرما رہے ہیں کہ درحقیقت وہ قبر حضرت صالح علیہ السلام ہی کب ہے جس میں مجروح ہونے کی حالت میں و رکھے گئے تھے اس خبر کو حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر سے کچھ تعلق نہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول صادق نہیں کرے گا کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ایسی مصنوعی خبر کو قبر نبی قرار دیں جو اس جعلسازی کے طور پر بنائی گئی ہو اسلام کی شان سے بعید ہے کہ جھوٹ کو واقعات صحیح کے مال پر استعمال کریں میں نثار کی قبر پرستی کے ذکر کی طرف اشارہ نہیں مہک شیخ بٹالوی جرمن موسیقار بھی تھے اور دوسرے مخالف مولوی اور ایسے نبی کی قبر کہاں نشاندہی جس کی اصطلاحی پرستش کرتے ہو یا کبھی کسی زمانے میں کی ہے اور باطل نہیں ہوسکتا چاہیے کہ اس کو سبسے طور پر نہ ڈال دیں اور دی کی چیز کی قدر نہ پھینک دیں کہ یہ سخت جانی ہے بلکہ دو باتوں سے ایک بات اختیار کریں یا تو اس میں جو کسی اور نبی کی قبر ہے اور اس کی اس کی پرستش کرتے ہیں آپ کو قبول کریں کہ بلادِ شام میں اس کی نسبت حسن فرماتے ہیں کہ سلطنت انگریزی کی طرف سے پچھلے دنوں میں خریداری کی بھی تجویز ہوئی تھی جس پر ہر ساز بادشاہ جو عیسائیوں کا ہوتا ہے اور سجدے کیے جاتے ہیں وہ در حقیقت وہی ہے جس میں ہے پس اگر یہ وہی خبر ہے تو خود سوچنے کہ اس کے مقابلے پر وہ عقیدہ کے مسئلے پر نہیں چڑھائے اور چھت کی رات سے آسمان پر گرج پہنچائیں گے اور خلاف عقیدہ رکھے گا ایک طرف یہ اعتراض کر رہے ہیں تو یہ عمل اپنے اس سے دوسرے کی نفی کر رہے ہیں بالکل ٹھیک کیا جو حدیث کی رو سے ثابت ہوتا ہے یعنی یہ کہ ضرور حضرت عیسی کی قبر میں داخل کئے گئے یہ اس قصے کو جو مرے میں ہماری نسبت مل چکی ہیں نہایت قوت دیتا ہے کیونکہ اس سے اس بات کے لئے یہودیوں کے ہاتھوں ایک جسمانی صدمہ پہنچا تھا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے پر مر گئے تھے کیونکہ تورات سے ثابت ہے کہ جو مصروف ہو وہ لعنتی ہے اور مصروف وہی ہوتے ہیں جو سنیپر مر جاوے وجہ یہ ہے کہ صلیب کی علت غائی ختم کرنا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس ابو کا مطلب ہے تم کو سولی پر چڑھایا گیا حالانکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صلیب پہ آنے کا مقصد ہے یہ صلیب پر موت چلو یقین ہے کے اس بات کی دوبارہ وضاحت فرمائیں کہ سلیم کا جب ہم کہتے ہیں قاتلوں کو ہم اس علاوہ اور پھر آگے اس کی تردید کی کہ قتل کے جو صلیب کا مقصد کس نے مارا جائے اس میں وہ کامیاب نہیں ہوتے تو ضرور فرماتے ہیں نئے حسن پر مر گئے ہو کیوں کہ ایک نبی مقرب اللہ لعنتی نہیں ہو سکتا پاکستانی آپ بھی فرما دیا کہ میں قبر میں ایسا ہی داخل ہوگا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا تھا یہ ان کے کلام کا ما حاصل ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ قبر میں زندہ داخل ہوئے اور اسے قبر سے مراد وہ کمرہ جس میں آپ کو زخمی حالت کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے جو شام والی قبر کا ذکر فرمایا اس کی وضاحت خود اسی موستفا دی ہے آپ فرماتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ قبر میں زندہ داخل ہوئے اور نہ ہی نکلے جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ ہوں اور نکلا کیونکہ نبی کی مثال غیر مطابق نہیں ہو سکتی تو بلاشبہ قبر میں زندہ ہیں داخل کئے گئے اور یہ مکراللہ تھا تھا یہودیوں کو خدا سمجھنے اور اس طرح ان کے ہاتھ سے نجات پائیں مشابہ ہے اور وہ غار بھی قبر کی طرح ہے جو اب تک موجود ہے اور میں توقف کرنا بھی تین دن ہی لکھا ہے جیسا کہ مسیح کی قبر میں رہنے کی مدت تین بیان کی گئی ہے تو یہ الصلاۃ والسلام نے اس موضوع پر ایک نوالہ کیا آپ نے اصل تحریر پڑھی ہے تو یہ سارے معاملے کی بہت وزاہت کر دیتا ہے پاکستان جلد سمی صفحہ 310 پر موجود ہے 703 کتاب کا نام ہے دیکھ سکتا ہے صاحب ہماری بہن ہے بریرہ صاحبہ برطانیہ سے انہوں نے بھی واٹس ایپ کے ذریعے سوال پوچھا ہے سوال بالکل جنرل نوعیت کا ہے لیکن باہر ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ہر سوال کو جس حد تک ممکن ہو سکے اس پروگرام میں اس کو ایڈریس روح کریں اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ رہنمائی ضرور کریں وہ کہتی ہیں کہ چند تصویر بتاں کانفرنس یہ کہاں سے تصور آیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام زندہ ہیں بات تو یہ ہے کہ جہاں تک اس تصور کا تعلق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہے اور آسمان پر چلے گئے یہ تو عیسائیوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بارہ میں ایک بڑا اہم نکتہ بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی بعض صحابہ کا یہ خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہے بلکہ بعض نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے بارے میں آتا ہے کہ جس طرح اسلام کو کچھ عرصہ کے لیے گئے تھے واپس آ جانا اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی کچھ عرصہ کے بعد واپس آجائیں گے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ایک آیت کی تلاوت کی کہ ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس سے پہلے تمام رسول وفات پا چکے ہیں ابو موسی علیہ السلام کا حضرت محمد حضرت عیسی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے حوالہ دیا لیکن کسی ایک صحابی نے بھی اس علیہ السلام کا وہ آپ سے ذکر نہیں کیا اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ صحابہ میں سے کسی کا بھی یہی عقیدہ نہیں تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام جو ہے وہ آسمان پر زندہ موجود ہے کیا تھا کہ صحابہ اس وقت جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو ان کے دل مانی نہیں رہے تھے دل تو پاگل انہوں نے یہ آیت پڑھی تو صحابہ کے ایسے لگا کہ میں پہلی دفعہ یہ ہے سننے کو ملیں اور روایات میں آتا ہے کہ صحابہ جو صرف مدینہ کی گلیوں میں ہے پڑھتے جاتے ہیں روتے جاتے تھے حالانکہ اگر یہ تصور ہوتا کہ کوئی نبی زندہ ہیں تو صحابہ میں سے کسی کو سب سے پہلے کھڑے ہونا چاہیے تھا کہ بھائی یہ کیا بات ہو رہی ہے بالکل بلکہ ایسا لگتا ہے صحابہ میں جب بھی کسی کو ایسی بات نہیں آتے تھے قرآن کے خلاف ہے تو فوراً قبول کرتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے جب آتی اسی ٹائم اس بات کا خدا نظر آسکتا ہے یا مردوں سے کلام ہو سکتا ہے تو فوراً جواب دے دیا کریں کہ یہ تصورات قرآن کے خلاف ہے اور پھر مسلمان یہ اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ نعت پیش کی جائے اور صحابہ خاموش رہے تو وہ بھی ایک ایک عناصر مسلم آباد ہے کہ اب اس کو تسلیم کرتے ہیں اور سے کی جو ہے وہ مسائل جو ہیں محسوس ہوتا ہے اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ صحابہ میں تو باہر گئے ایک ادا نہیں تھا آگے جب چلتے ہیں تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جب ایران کی فتوحات ہوئیں پھر میرا فتح ہوا ایسے روم کو یہ جو بڑی اسلامی فتوحات ہوئیں اور بہت سے عیسائیوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے اندر کے پہلے یہ تصور موجود تھا مسلمانوں نے اپنی غلط فہمی سے کیا لے اپنی سادگی سے اپنی تفسیر میں لکھتے کے شوق میں بہت ساری باتیں صرف آسمان پر جانے کا عقیدہ نہیں بلکہ اور بھی بے شمار باتیں یہودیوں اور عیسائیوں سے پوچھ کے اپنی تصویروں کو مزین کیا اور بڑی تفصیل سے لکھیں کہ بھی ہوا آسمان جگہ پر اساتذہ کو رکھا گیا تھا اس کمرے میں اس کے ساتھ ہیں اور جن کا کسی جگہ پر انہوں نے اسے کوئی تصور نہیں پایا جاتا اپنی اور بھی بعض انبیاء کے بارے میں اس طرح کے تصورات تفسیر میں پائے جاتے ہیں جن کا نام قرآن تائید کرتا ہے نہ دی سعید کرتی ہے اور اس زمانے میں مسیحی مذہب اسلام نے آکر ان چیزوں کی اصلاح کی ہے تو ممکنہ اس دور میں جب کہ کثرت سے عیسائی مسلمان ہوئے ہیں چونکہ انسان کی محبت پہلے سے دل میں موجود تھی تو آہستہ آہستہ یہ بات اور چونکہ اور پھر یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے اندر یہ تصور موجود تھا کہ ایک مسیح نے آنا ہے جیسے ایک مسلم کے لیے اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح کو چار دفعہ نبی اللہ حی علی رضی اللہ عنہ رضی اللہ تعالیٰ اس کو نہلانے والے کا ذکر کیا اور پھر کیف انتم اذا نزل ابن مریم میری باتیں بتاتی ہیں کہ مسلمانوں میں تصور موجود تھا ایک مسیحی گھرانے کا اور مسیح کا لفظ بھی بڑا درجہ ہے مسلمان کی لوگوں پر یہ تو بہت ہی جیسے کہتے ہیں کہ تم مسیحا بن خدا کے لئے اور اسی طرح اور بازو کام آتے ہیں خوبصورت لوگوں کے لئے مستقل استعمال ہوجاتا تھا تو لگتا ہے کہ بعد کے زمانے میں یہ تصور مسلمانوں میں شامل ہو گیا ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پلیز کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا شکریہ حافظ صاحب جس طرح آپ نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس بات کا ذکر کردیا ہے کہ آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے صحابہ تو اس قسم کے کسی تصور کو نہیں رکھتے تھے اور وہی سب سے پہلے لوگ تھے جو قرآن کریم کو سمجھتے تھے اس کو جانتے تھے اور اس پر کامل عبور رکھتے تھے تو بعد کے زمانے میں یہ تصور لگتا ہے کہ شامل ہوا ہے اگلا سوال جو ہے محترم عبدالسمیع خان صاحب کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں اسلام علیکم خان صاحب اللہ عیسیٰ خان صاحب ہماری بہن ہیں ہم تو رہیں صاحبہ وہ برطانیہ سے انہوں نے وٹس ایپ کے ذریعے سوال بھیجا ہے یہ بھی بنیادی نوعیت کا سوال ہے میں آپ کے سامنے اسی طرح پیش کر دیتا ہوں وہ کہتی ہیں کہ غیر احمدی یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم یہ جو ٹائٹل دیا گیا ہے اس سے مراد ظاہری طور پر مریم کا بیٹا ہے ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام عیسی ابن مریم کیسے ہو سکتے ہیں تو میں چاہوں گا کہ آپ ہماری بہن کی اس بارے میں کچھ رہنمائی کردیں بڑا ہے کرتا ہے میں یہاں اور عام دنیا میں بھی کوئی بات نہیں کوئی ٹائٹل کسی کو دیا جائے اور اس سے مراد یہ ہو کہ اس نے عصر کوئی آئے گا یا یہ کہ وہ خود آیا اپنے مخالف سے میں مر گیا ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی کوئی بات نہیں مریم نے صبح بات کریں گے وہ مریم کا بیٹا تو نہیں ہوگا مریم کے نام کا مطلب یہودیوں کو یہ تعلیم کے مسئلہ سے پہلے کے لئے آسمان سے اترتے ہیں اس کو قبول کرنا اسلام آباد فرمایا کہ میں مصطفی ہوں تو یہی ہے یہ وہی لیا ہے جس نے آسمان پر لیا تھا آپ نے اس کا علاج روحانی برکات تھے ان کے ساتھ نازل ہوئے تھے اور ان کو منع بھی دنیا میں انڈیا کے نام سے یاد کیا جاتا حضرت موسی علیہ السلام آپ کی بہن نہیں ہے میری ماں کا نام ہے آپ کا ہے حضرت موسی علیہ السلام کے بعد پہلی صدی میں میری الفت اس کی وجہ سے مجھے یہ حق بھی ہے گیا اور میں ایک بہت بہادر ہو تو اسے رستم کیا جاتا ہے جب کوئی بات سچی ہو تو پاکستان میں جو پھر میں اعلی تعلیم کردی جاتی ہے بلا کا حافظہ ہے یاد بھی پاکستان کے محاوروں میں استعمال ہوتا اندھیر ہے یہ کیا بات ہوئی ہے یا آپ کی بات کا نام تھا اپنے آپ کو حسین کیا کر رہے ہوتے ہیں ہے اور اس کی ماں کا نام فاطمہ ہے لیکن وہ اپنے آپ کو الشکرہ شہر میں ہے اور ہمارے مخالفین جو ہے یہی گزارش ہے کہ پاکستان نے متحدہ قومی موومنٹ کربلا کرتے ہیں یہ محاورے کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ اس وقت ملک میں رہ رہے ہیں مغربی دنیا میں بھی ہوتے ہیں اور جب مولا علی کے ہاتھ میں استرا آپ کیا کر رہے ہیں آپ نے اپنی کتاب و سنت کی روشنی میں کیا ہے آپ نے کرائے تھے اور ان کی بیویوں سے مشابہ نہ ہو اپنے اندر وہ صفات اور محبت کے بس کی بات نہیں ہے مثال کے طور پر ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نویں صدی کے آخر پر پیدا ہوا ہو اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام موسی علیہ السلام کے بعد مسلمان اس بات پر حکومت کی طرح وہ بھی سر پہ رکھے کے مطابق کی تیاریوں کے سلسلے میں جو انہوں نے اسی طرح حضرت عمر کی حکومت ختم وہ شخص یہ ساری باتیں اپنے اوپر واپس اور خوش رکھے رات ہے اور یہ کوئی بات نہیں نام نہیں ہے اور محاورات اور ان کو اصل شکل میں بتائے حدیث رسول سیڈ اور تاریخ اور جب تک فوت شدہ شخص کے نام کسی کو دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گیا موسمیات اور کبھی نہیں آئی ہسپتال اسلام آباد کیا بات ہے واقعات سے متاثر ہوکر فرمایا ایک الاسلام آپ ہوا کام آ گئی سابقہ میرے والد کے بعد کے آنے والے کیا جائے تو اس سے مراد اس کی تفصیل ہوتی ہے یا پھر پاکستان کے علاقوں میں اس کو کسی کو شخص کیا دیتے ہیں اور ایک کسی کو اس بات پر قائل کیا دیتے ہیں کسی کو کہتے ہیں وہ شاید کوئی بھی اس سے ملحق ہے موجود ہے یہ بھی ایک کے محاورات کا استعمال کریں بہت تفصیل کے ساتھ اور بڑی وضاحت کے ساتھ آپ نے ہماری بہن کے سوال کا جواب دے دیا ہے نظر کے مطابق ہمارے بہت سارے لوگ ہیں سیدہ مبشر شکیل صاحب ہیں عارف زمان صاحب ہیں خان مروت خان صاحب نے اپنے سوالات بھیجے ہوئے وقت بہت کم ہے ایک سوال ابو جان صاحب کا ہے میں چاہوں گا مختصر آپ جواب دینے وہ کہتے ہیں کہ وفات مسیح کے متعلق سورۃ آل عمران کی آیت 145 پیش کی جاتی ہے غیر احمدی احباب کہتے ہیں کہ یہاں ارسال کے معنی بہت رسول ہے ترجمہ کرتے ہیں تمام رسول وہ حل کردی کہا یا ایہا الرسل کا ترجمہ بہت رسول ہوگا بہت رسول ہوگا یا پھر تمام رسول بھٹی یہ تو وہی بتایا ہے کہ وہ کس پیش کرتے ہیں کہ بہت رسول یا کو بہت لفظ استعمال نہیں کیا گیا الف لام کا استعمال ہے اور یہ وہ تمام وجود جن پر رسول کا لفظ وہ سب اس سے مراد ہے لیکن اس کا عجیب بات ہے کہ چونکہ یہ پرانی کتاب ہے موجود ہوتے ہیں ایک موقع کی جگہ پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مل مسیح ابن مسیح ابن مریم الا رسول قد خلت فلم ایک رسول تھا الوصل فوت ہوچکے ہیں کریں گے کہ اس سے پہلے بہت رسول فوت ہوچکے ہیں اس کا مطلب کچھ باقی تھے جو فوت نہیں ہوئے نہیں کرتے ہم تو وہاں پہ بھی وہی ترجمہ کرتے ہیں کہ مسیح بن مریم کو رسول تھا اس سے پہلے تمام رسول فوت ہوچکے ہیں اس کے بعد یہ آیت پڑھی کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا وہاں پر ذکر نہیں تھا ان کے فوت ہونے کا اس کے بعد یہ آیت پڑھی ہے جس میں لکھا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہیں اور آپ سے پہلے سب رسول فوت ہوچکے ہیں آپ کا انتظار رہ گیا تھا تو کہا جائے کہ قرآن تو کسی طرف نہیں چھوڑے گا آپ کو حق کو ثابت کرتا ہے اور جہاں سے بھی شیطان یا کوئی غلط بس انداز کوشش کرتا ہے کہ اس کے غلط معنی پہنائے قرآن کریم خود اس کو ہزاروں خوشیاں نصیب کرے عمر صاحب مولانا فضل الرحمان صاحب مولانا نصیر کا مسکن صاحب اور مولانا عبدالسمیع خان صاحب ناظرین کرام ہمارا یہ جو رہا تھا کہ پروگرام کا سلسلہ ہے انشاءاللہ آئندہ تین ہفتے بھی یہی لندن اسٹوڈیو سے جاری رہے گا موضوعات وفات مسیح ہے لیکن جس طرح کے اس پروگرام کا طریقہ کار ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے بارے میں آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو تو آپ ضرور اس پروگرام میں پیش کریں ہمارا واٹس ایپ نمبر نوٹ کر لیں ہفتے کے دوران بھی آپ ہمیں سوال بھیج سکتے ہیں اور اگر آپ ہم سے براہ راست بات کرنا چاہیں تو بھی ہفتے کے روز قیمتی وقت کے مطابق شام چار بجے آپ اس پروگرام میں ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں امید ہے کہ اگلے پروگرام میں مزید لوگ اپنے سوالات کے ساتھ اس پروگرام میں ضرور شامل ہوں گے آپ اس پروگرام کو دیکھنے اور سننے والوں کا بھی بہت بہت شکریہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب واضح کر دیا ہے کہ جس مسیح نے آنا تھا وہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام یہی اب دنیا کا یہ فرض بنتا ہے کہ آپ کے پیغام کو دیکھیں تو سنیں اور اس کے معنے اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اگلے پروگرام تک لے جانے دیجئے اللہ حافظ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دور رکھتے 9 قدیم سے ہی خدا ہوں میں ی

 36 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: