Rahe Huda – Seerate Muhammad pbuh Par Aetraz K Jawab




Rahe Huda – Seerate Muhammad pbuh Par Aetraz K Jawab

Rahe Huda 9th January 2021 Saturday from Qadian

جی مٹی کے مطابق اس وقت سحر کے چار بجے ہیں اور ناظرین یہ وقت آپ راہ خدا کا ہنسی پروگرام ہے اللہ کی جو سیریز ہم اس وقت آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اس کا آج یہ 14 ایپیسوڈ ہے اپنے مشین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اور ہمارا یہ پروگرام انٹری بھی ہوگا یعنی ہم اپنے اسٹوڈیو کے کے ساتھ ساتھ اپنے دین کے فون کو بھی کریں گے ان کے سوالات کو سنیں گے اور جو علمائے کرام اس وقت ہمارے ساتھ پینل میں موجود ہیں وہ ہمارے مشاہدے کے سوالات کے جوابات بھی اسی پروگرام کے ذریعے ان کی خدمت میں پیش کریں گے ہم سے رابطہ کرنے کے لیے ٹیلی فون لائن سب کے لئے ایک ٹیلنٹ ہی ایسی مثالیں ہیں جس کے نتیجے میں اسلام نے اور قرآن مجید نے اور سبں اس کی نماز کی سہولت موجود ہے جس کے ذریعے ہمارے مشاہدے ہم تک اپنے سوالات کو پہنچا سکتے ہیں آج کے پروگرام میں آپ ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور اپنے بارے میں پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو میں امید کرتا ہوں اس وقت آپ اپنی ٹیلی ویژن سکرین پر ہم سے رابطہ کی تفصیل کو ملاحظہ فرما رہے ہوں گے یہ کے اور پروگرام راہدہ کیریوس کیا جانتے ہیں کہ پروگرام رہنے کی جگہ موجود سیریس ہے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلو آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس سیرت کے حوالے سے مختلف غلط فہمی میں موجود ہیں ان غلط فہمیوں کو بھی تاریخی حقائق کے ذریعے سے دور کرنے کے حوالے سے ہم کوشش کر رہے ہیں آج کے پروگرام میں بھی اسی حوالے سے بات ہوگی اور آج کے پروگرام میں خاص طور پر ہم مذہبی رواداری کے حوالے سے اور مذہبی رواداری کے موضوع پر بات کریں گے گے اس وقت ہمارے ساتھ قادیان میں تشریف رکھتے ہیں ان کا تعارف کروا دیتا ہوں مگر محترم مولانا محمد کریم سلطانی صاحب شاہد ہیں اور ان کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں مکرم و محترم مولانا منیراحمد خادم دونوں حضرات پروگرام راہداری قادیانی سیریز کرانے سے پہلے ہی پروگرم کرتا ناظرین کرام ایک ایسا مذہب ہے جس کی ہر تعلیم میں جب ہم غور سے دیکھتے ہیں تو وہ تعلیم جیسے کہ اس لفظ کا مطلب ہے منزل حاجتیں کو فروغ دینے والی اس کی تعلیمات ہیں جہاں تک مذہبی رواداری کا تعلق ہے  تجھے ہم دیکھتے ہیں کہ حضور صل وسلم نے مذہبی رواداری کی اعلی مثال قائم فرمائی ہےتو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام ہی وہ پہلا مذہب ہے جس نے دنیا میں مذہبی رواداری کی بنیاد رکھی ہے قرآن مجید کی جب تعلیمات پر ہم غور و تدبر کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید مذہبی رواداری کا علمبردار ہے اللہ نے قرآن مجید کے ذریعے یہ تعلیم دی ہے کہ تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم لوگ جو مختلف عقائد اور مختلف مذہب کے پیروکار ہیں وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں صلح اور امن اور آشتی کو فروغ دینے کے لیے اور بین المذاہب امن اتحاد و اتفاق قائم کرنے کے لئے قرآن مجید میں یہ عظیم الشان تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی ہے اور جب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں میں بھی ابھی رواداری کا جو پہلو ہے وہ بہت بھر کر لوگوں کے سامنے آتا ہے خاص طور پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو وہاں پر مختلف عقائد رکھنے والے موجود تھے جنہوں نے آپ کو بطور حاکم اور بطور بادشاہ قبول کیا تھا یہود کے بھی مختلف قبائل تھے بت پرست قوم بھی تھی لیکن سب نے طور پر کیا اور اپنے معاملات آپ کے خدمت میں لے کر حاضر ہوتے تھے اور آپ سے فیصلہ کرواتے تھے یہود اور مسلمان کے درمیان حضرت موسی علیہ السلام اور آپ صلی وسلم کے مقام و مرتبہ کے تعلق سے جھگڑا ہوا تو آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جو فضل الرحمان موسی کے موسی علیہ السلام پر کسی قسم کی فضیلت نہ دو نجران کے عیسائی جب آپ صلی اللہ وسلم کے ساتھ عملی گفتگو کے لئے تشریف لائے تو آپ نے مسجد کے دروازے ان کے لیے کھول دیے تاکہ وہ اپنے طریقے سے عبادت کے مطابق وہاں پر عبادت کا وقت ہوا تو عبادت بجا لا سکیں

عورت کب گرم ہوتی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہبی رواداری کا دنیا میں قیام فرمایا اور اس کو فروغ دیا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مستشرقین ہیں جو حضور صل وسلم کی سیرت پر اعتراض کرتے ہیں یا قرآن مجید کی ان آیات کو اعتراضات کا نشانہ بناتے ہیں جس کے سیاق و سباق کو علم نہیں ہوتا ہے آیتوں کے بعد مخصوص کو لے کر اس کے حوالے سے اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام جو مسلمان نہیں ہیں یا جو اسلام کے پیروکار نہیں ہیں ان کے ساتھ انصاف نہیں کرتا ہے مجید میں یہ واضح تعلق موجود ہے کہ بلائیں جرمنوں کو جن آنکھوں میں اللہ تعالیٰ کے کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف کے تقاضوں کو چھوڑ دو فرض اسلام وہ واحد مذہب ہے جو مذہبی رواداری کو فروغ دیتا ہے جب اس نے یہ اعلان کردیا کہ دین کے معاملات میں کسی قسم کا کوئی جبر نہیں ہے بدین آج کے سوٹ میں جیسا کہ میں نے آغاز میں بتایا تھا کہ مذہبی رواداری کے حوالے سے بات کریں گے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس حوالے سے جو عظیم الشان واقعہ ہے قرآن مجید کی مختلف آیات کے حوالے سے عمومی طور پر جو ہم دیکھتے ہیں سوشل میڈیا پر اعتراضات ہوتے ہیں ان حضرات کے جوابات دینے اور شکریہ سے پیش کرنے کی کوشش کریں گے جیسا کہ میں نے بتایا کہ اسلام اور مذہبی رواداری کے موضوع پر بات ہوگی اگر آپ کے ذہن میں اس موضوع سے متعلق سوالات ہیں تو میں ٹیلی فون کریں اور اپنے سوالات علماء کرام کے بارے میں پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کر سکتے ہیں امریکی فوج آئندہ کے لئے اس وقت سے ایکٹیویٹ ہیں اور ہم سے رابطے کی تفصیل بھی اس وقت آپ اپنی زندگی پر ملاحظہ فرما رہے ہیں آج کے اس سوٹ میں گفتگو کا آغاز کرنا چاہوں گا محترم مولانا محمد کریم الدین صاحب شاہد سے کہ جب ہم ارکان ایمان کو پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بنیادی بات جس پر ہر مسلمان کو ایمان لانے کی تاکید کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ گزشتہ جس قدر بھی انبیاء ہیں ان پر ایمان لانا اور ان کی عزت و تکریم کرنا ایمان میں شامل ہے مجید نے بھی یہی بات پیش کی ہے کہ لا نفرق بین احد من رسلہ ہیں کہ ہم آئے ہیں ان میں کسی قسم کا فرق نہیں کرتے ہیں تو اس موضوع پر اور اس آیت کی تفسیر میں مذہبی رواداری کے موضوع پر روشنی ڈالنے کے لئے آپ سے درخواست کرو بسم اللہ الرحمن الرحیم مجنوں سامعین کرام ساری دنیا میں جتنے بھی مذاہب پائے جاتے ہیں سب کی اگر بنیاد دیکھی جائے میری بات ہے کہ وہ اللہ تعالی کی ذات پر قائم ہے مذہب تو قائم ہوتا ہی ہے اللہ تعالی کی ذات کے کیونکہ آج کا جو ہمارا زمانہ ہے ہم تو کہتے ہیں کہ وقت میں پوری دنیا جو ہے وہ گلوبل ولیج کا درجہ رکھتی ہے ساری دنیا ایک شہر یا ایک گاؤں کی حیثیت رکھتی ہے لیکن پہلے زمانوں میں روابط ایسے نہیں تھے نہ رسل و رسائل کے ذرائع تھے بہت محدود بڑا تو ایک بڑی مصیبت کا باعث بن جاتا تھا تو اسے اللہ تعالی نے ایک موقع پر کی کیا انبیاء کو مختلف علاقوں میں بھی محسوس کیا ہے کہ اللہ تعالی نے خود قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت سورۃ النحل کی آیت ہے یہ کہ ہم نے تمام امتوں میں سے ہر امت میں سے اپنے نبی بھیجے ہیں اس واسطے کے اللہ تعالی ان کو صحت کی حفاظت کریں اور سرکشی کی باتوں سے یا نافرمانی کی جو باتیں ہیں یا شیطان ہے اس سے جو ہے وہ اعتراض کرے اب یہ واقعی دنیا میں جتنے بھی انبیاء آئے ہیں جتنے بھی مذاہب قائم ہوئے ہیں وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہیں قائم ہوئے ہیں قرآنی ہدایت کے سامان کیے ہیں وہ بالکل قومی اتحاد اللہ تعالی نے قرآن مجید میں یہ بھی فرمایا کہ ہر قوم کے لئے اللہ تعالی نے ہادی دینے والے مقرر کیے ہیں فرمایا من امۃ الا خلا فیھا نذیر عمر دنیا میں ایسی نہیں ہے جس میں اس کو ڈرانے والے نہ آئے ہو توبہ کے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اس زمانے تک جو ہے وہ منت ہے پھیلا ہوا ہے اب جبکہ ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں آج آپ کسی بھی مذہب سے پوچھ رہے ہیں وہ ہمارے ہندو بھائی ہو یا سکھ ہو یا عیسائی ہو یا یا خود کو کوئی بھی ہو تحریک نے اللہ تعالی کی ایک ایمان لانے کا دعویٰ کیا ہوا ہے تاکہ ہمارا کوئی خدا نہیں ہے سوائے اس کے کوئی دہریہ ہوں اور اس کے نتیجے میں وہ غم دنیا کو یہ سمجھتا ہے کہ کوئی خدا نہیں یہ خود بخود پیدا ہو گی اس کے لیے دوبارہ مختصر بات یہ ہے کہ تمام انبیاء جب اللہ تعالی کی طرف سے آئے ہوئے ہیں تو کس تو اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا اور خاص طور پر محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی کی بعثت کا آچکا تھا اور تمام دنیا جو ہے کہ شہر کی حیثیت رکھنے والی تھی تو اللہ تعالی نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تعلیم دی ہے کہ دیکھو آپس میں رواداری رکھنے کے لیے محبت پیدا کرنے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالی کے انبیاء کا ماننا ضروری ہے ضروری نہیں ہے کہ ہر کوئی شخص کہے کہ پرانے زمانے میں پھیلانا بھی آئے تھے تو انہوں نے جو احکام دیے میں اس پر یہ لوگ آ باقی جو انبیاء آئے ہیں ان کی ہمیں ضرورت نہیں ہے یہ بات نہیں ہے بلکہ دنیا میں بھی ہے ہوتی ہے اور جو یہ بات ہوئی ہے انسان نے اپنے دماغ کو بھی واضح کیا ہے کہ جو پرانی باتیں ہیں آج ہم لے کے نہیں بیٹھے ہوئے بلکہ پرانی باتوں کو آہستہ آہستہ میں چھوڑ دیا اب نئے ٹیکنیکل اعتبار سے سائنسی اعتبار سے جو باتیں زمانے میں رائج ہو رہی ہیں ان کو تسلیم کرتے ہیں مطلب ہے کہ جب اللہ تعالی نے السلام کو فرمایا کہ زمانہ آ رہا ہے کہ تمام منگائی اکٹھے ہو جائیں گے مذاہب کی ایک منڈی لگنے والی ہے تو یہ نہ سمجھنا لوگ یہ ہندوؤں کے رسم نہیں ہے یہ یہودیوں کے رسول تھے یہ عیسائیوں کے رسول تھے یہ بات نہیں بلکہ لانفرق بین احد من ہو سے کسی کے درمیان میں بھی ہم کوئی تفریق نہیں کرتے جس خدا نے پہلے عالم اسلام یا اسی طرح اس نے دیگر شیونیا تاروں کو بھی بھیجا اسی طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنی بھی انبیاء جن مذاہب میں بھی آئے ہیں سب کو خدا نے بھیجا ہے اور اس زمانے کے تعلیمات زمانے کے مطابق جو تعلیمات ضروری تھی ان کو اللہ تعالی نے سکھائی ہمیں حضرت محمد مصطفی کامل شریعت دے کر اللہ تعالی نے بھیجا کے رواداری کے لیے آپس میں محبت پیدا کرنے کے لیے ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم اب تک آنے والے جتنے بھی شامل ہیں ان سب کے مقدر قیمت کریں اور اسی بنا پر ہم کو بھی اللہ کے برگزیدہ سمجھتے ہیں حضرت جی کا بھی خدا تعالیٰ کا برگزیدہ نبی تسلیم کرتے ہیں اسی طرح سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور دوسرے انبیاء جتنے بھی آئے ہیں چنانچہ بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تعلق سے خاص طور پر ہمیں یہ تعلیم دی ہے توفیق آسٹریلیا کا حوالہ کئی دفعہ پڑھ چکے ہیں بتاؤ آپ فرماتے ہیں یہ اصول نہایت پیار اور امن بخش اور صلہ کاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کو مدد دینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے گا آخر میں ظاہر ہوئے یا فارس میں ایران میں یا چین میں یا کسی اور ملک میں خدا نے کروڑوں دلوں میں ان کی عزت اور عظمت بٹھا دیں اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی نے والی بات ہے کہ حضور نے فرمایا جن مذاہب کی جڑ سے غائب ہوچکی ہے ان سب کا احترام کرنا ضروری ہے فرمایا اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلایا یہی اصول قرآن نے ہمیں بلایا اس اصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کے سوا نے اس تعریف کے نیچے آ گئی ہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشوا ہو یا فارسیوں کے مذہب کے پی کے کا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے پروفیسر تو یہ وہ تعلیم ہے کہ جس کے نتیجے میں اتحاد پیدا ہوتا ہے باہر میں محبت پیدا ہوتی ہے اب دیکھئے کہ کوئی شخص بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے باپ کو کوئی گالی دے اسلام نے تو ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ گالی دینا دوسروں کو بڑی بات ہے اور قابل احترام جو نبی آئے ہیں رشتے رسیو نہیں ہوتا رہے ہیں ان کو برا بھلا کہنا تو دور کی بات ہے اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ لا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم تیری لوگوں کو یہ لوگ محبت کر کے پوچھتے ہیں چاہے وہ بت ہے یا اور کوئی شخصیت ان کو بھی تو برا بھلا نہ کہو کیوں اس واسطے کہ ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور اس کے نتیجے میں محبت نہیں پیدا ہوں گی الفت پیدا ہو گئی تھی نہیں پیدا ہوں گی بلکہ کیا ہوگا اور تمہارے بزرگوں کو گالیاں دیں گے تو یہ اصول مقرر کر دیا اللہ تعالی نے کہا کہ چاہے

ہو یا کسی بھی مذہب کے بڑے بزرگ و ان کا بھی احترام کرنا ضروری ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ہمیں تعلیم دی ہے ہے کہ جو لوگ قوم کے بڑے لیڈر ہوتے ہیں تو ان کی بھی عزت اور تکریم کرنا ہمارا فرض بنتا ہے اس فاصلے کے مقابلے میں ہے نبیوں کا ذکر کیا تو بہت بلند ہے تو ہم اللہ تعالی کے فضل سے خصوصی مسلمان اور ہم احمدی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہر قوم میں اللہ تعالی نے اپنے نبی بھیجے ہیں اور ان کا احترام کرنا عزت اور تکریم کرنا بہت لازمی ہے اگر کوئی کہتا ہے کہ میں حضرت عیسی کو مانتا ہوں یا میں صرف موسی کو مانتا اور دوسروں کو نہیں مانتا تو ہمیں زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو نے قرآن میں فرمایا اگر ہاں مذہب کے بارے میں کسی قسم کا کوئی جبر جائز نہیں ہے دل کی یہ آواز ہے جس کو جو مذہب پسند ہے وہ اس کو اس نے قبول کیا ہوا ہے ہمارا حق نہیں پہنچتا کہ ہم اس کو برا بھلا کہیں بلکہ ہمیں اس کو اس کا احترام کرنا چاہیے کہ ہمیں یہ تمہارے بزرگ ہے اور آگے بھی گزر کر رہے ہیں ان کو بھی چاہیے کہ جب ہم مانتے ہیں کہ خدا نے سب کو بھیجا ہے تو آگے بھی اس کو بھیجا ہے ان کا احترام کرنا لازمی ہے مساوات مختلف جگہوں پر کبھی موقع ملا ہے اور خاص طور پر یہی تعلیم جواب پیش کرتے ہیں میں تو خاص طور پر بتایا کہ دیکھئے ہم زبانی طور پر اسٹیجوں پہ آکر تو یہ بات کرتے ہیں آج کل کام جو ہے وہ اپنے اس پر یہی کہتے ہیں کہ حاجی عظمت محمد صاحب بڑے بزرگ تھے اور اسی طرح عباس علیہ السلام کے بڑے بزرگ تھے اور کسی بزرگ تھے تو میں نے ان کو بتایا کہ ہم یہاں اسٹیج پر آئے تو یہ باتیں ضرور بیان کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم اپنے گھروں میں جا کے بھی تو یہ تلقین کرے اپنے بیوی بچوں کو سمجھائیں کہ بھائی یہ بات کرنا ہے خاندانوں کو نہیں سمجھ آئے گی تو وہ لوگ پھر ویسے کے ویسے ہی رہیں گے وہ کہیں گے کہ یہ ہمارا نبی ہے یا ہماری ہے اور یہ مسلمانوں کا ہے یہ عیسائیوں کا ہے یہودیوں کا ہے نہیں یہ سارے کے سارے ساتھی ہوتے ہیں خدا کی طرف سے آنے والے جتنے بھی اور نہ ہی وہ سب کے سب

کسی بھی ویب سائٹ کے سے تعلق رکھتے ہوں جیسا کہ میں نے حوالہ پیش کیا بات ہے جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا خاص طور پر اس زمانے میں تمام مذاہب کو بھرتی کرنے کے لیے یہ تھا کہ قرآن مجید نے کہا کہ یا اہل الکتاب تعالوا الی کلمہ سواء کہ اے اہل کتاب جو سمجھتے ہو کہ تمہیں اللہ تعالی کی طرف سے کوئی نہ کوئی کتاب دی گئی ہے ان کو مخاطب کرکے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تعالیٰ ایک بات کی طرف تو آجاؤ کہ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے جو اقدار مشترک ہیں کام نویس ہیں ان میں تو وہ ٹھیک ہو جائے کم از کم کیا ہے یہ اللہ تعالی کا کسی کے ساتھ کسی کو شریک خدائے واحد پر ایمان لانے والے ہیں ہر مذہب ہی کہتا ہے کہ خدا ہے اعتبار سے ہم کم از کم اس پر تو بتائیں ہو جائے کہ وہ خدائے واحد کے خدائے واحد حلقوں کی طرف رسول اور روشنی اور بھیجے ہیں ان کا احترام کرنا لازمی ہے اور اس زمانے میں خاص طور پر تمام مذاہب کو ایک اسٹیج پر لانے اور ان کے اندر ہمدردی اور ہم ان کے ساتھ تعلقات پیدا کرنے کے لیے زور دینا بڑا ضروری ہے کے اپنے پڑوسی کا بھی یہ قائم کرنا ہے کیوں اس واسطے کہ چاہے وہ پڑوسی مسلمان ہے یا ہندو ہے اسے ایسا ہی ہے کوئی بھی ہے پڑوسی پڑوسی ہے اس کا خیال رکھنا اتنی تاکید کی ہے کہ حضرت جبریل کے بارے میں فرمایا اس کے بارے میں کی ہے مجھے خیال ہوا کہ کہیں اور اس پر بھی اس کا حقدار نہ قرار دے دیں وہ ہمارا پڑوسی ہے اور اسی طرح سے کم ممالک ہیں ان کے اندر بھی اتحاد پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے لیکن بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ مختلف ذاتی مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ پچھلے اب دیکھئے مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں یہ حکومت دوسری کو میسر نہیں ہے ابھی مختلف جو ہے وہ حکومتوں کے جو ہے وہ اسی طرح سے تختے پر رہے ہیں باجوہ دوسری ایک دوسرے کی مخالفت کر کیوں یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے وہ راستہ چھوڑ دیا جو خزانہ نے دکھایا تھا دوبارہ کے ساتھ مختصر یہ کہ تمام انبیاء اور رسول اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے ہیں قابل احترام ہیں ہر ایک نے اللہ تعالی کی وحدانیت کی تعلیم دیں اللہ تعالی کی حفاظت کی تعلیم دی اور آپس میں محبت اور پیار سے رہنے کی تعلیم دی ہے اس کو اپنا نام موجودہ زمانے میں حاضری ہے اسے بھی اعتبار سے بھی اور ماحول کے اعتبار سے بھی تمام مذاہب کو اور اہل مذاہب کو اکٹھا جزاک اللہ تعالیٰ سنجیدہ اب ہم میں کچھ کی فون کالز کی طرف جاتے ہیں اور سب سے پہلے ہم اپنے ساتھ پروگرام میں شامل کرتے ہیں عارف زمان صاحب کو جو کہ بنگلہ دیش سے اس وقت ہمارے ساتھ آن لائن موجود ہیں اسلام علیکم رحمت اللہ الرحمٰن صاحب اپنا سوال پوچھئیے میرا تو ہر مشکل وقت میں کیا پرائز ہے ان کے اسلام قبول کرنے کا کیا کام دیتا ہے جناب جزاک اللہ شکریہ محترم مولانامنیراحمد عضو خاص ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم انہوں نے پوچھا ہے کہ مشرک اور منافق میں کیا فرق ہے تو مشرک جو ہے کہتے شرک کرنے والے کو اللہ تعالی کی عبادت میں اور کو شریک قرار دینا کسی انسان کوئی کسی جانور کو یا کسی درخت وہ یہ کسی بھی چیز کو کسی کو شریک قرار دینا عبادت میں شریک قرار دینے والا اللہ تعالی کی وہ قرار پائے گا مشرق اب اس کے مشرق کے حوالہ سے اور بھی بڑی تفصیلات ہے کوئی شخص کسی کی عزت کریں یہ اللہ تعالی کی عزت کرنی چاہئے یا اللہ تعالی کی بزرگی کرنی چاہیے یہاں تک کہ باریک مانے بھی بہت سے اس کے لیکن مجھے فلاں دوائی نے آرام دے دیا تھا ڈاکٹر نام دے دیا آپ تو آپ لوگ ایسے باتیں کرتے ہیں یہ باریک شرک ہے شرک کہتے ہیں یہ بھی شرک نہیں ہونا چاہیے اگر ہمارے ججوں نے سوال کیا اور جو باقی اور دوست بھی ہیں سیدنا حضرت اقدس المصلح الموعود رضی اللہ تعالی عنہ کی کتاب ہے ہستی باری تعالی منظور نے شرک کی دس قسمیں بیان کی ہیں کون کون سی ایسی باتیں ہیں جس سے انسان شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر وہ کیسے بچ سکتا ہے مقصد یہ ہے کہ شرک کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہمارا مالک ہے اللہ کے اللہ ہے ہمارا معبود ہے ہم لوگ جو ہے اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو جو ہے وہ اس کی جگہ دے دیں قرآن مجید میں ایک جگہ یہ بھی فرمایا گیا کہ بڑی سخت الفاظ استعمال کیے گئے یہاں سے آزاد میں ہوا کہ جیسے اس کو ہم زمین کا لفظ قرآن مجید میں آیا ہے کہ کسی کے باپ اس کا کوئی اور ہے اور کسی اور باپ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے اسی طرح ہیں کہ مشرک ہوتا تھا تو اس کا علا وہ بجائے اس کے کہ وہ دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کر دیتا ہے تو بارہ اسلام نے اس طریقہ سے اس کی تردید کی ہے اس کا یہ دنیا کے کسی مذہب کہ اس کی نظیر نہیں ملتی یہی وجہ ہے کہ مختلف مذاہب میں آپ دیکھ لیں عیسائیت میں بھی حضرت عیسی علیہ السلام کو وہ مقام دے دیا گیا جو اللہ کا مقام ہے بلکہ یہاں تک کہ جو اللہ کا کوئی مقام حاصل ہو ایسی کوئی مقام حاصل ہے جو ہے باپ بیٹا رول کو دوست ایک ہی باقی مذاہب میں کسی میں لو تو نجات مل جائے گی انگلش کی پوجا کر لو تو اس قدر شرک ہے اور بتوں کا تو اس کے علاوہ ہے اسلام نہ صرف ان ظاہری باتوں کی تردید کی اس نے کی ہے بلکہ جو مخفی طور پر بھی اللہ کے علاوہ کوئی دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی شخص مجھے دے سکتا ہے وہ آ کر سکتا ہے

سب باتیں جو اللہ تعالی نے اس سے منع کیا تو بارہ میں ایک گزارش کرتا ہوں کہ ہستی باری تعالیٰ میں جو دلیلیں ہیں غور سے پڑھیں دوسری باتوں نے بیان فرمایا کہ منافق کو منافق کہ موٹاپے پر معنی یہ ہیں کہ دل میں کچھ اور ہو اور زبان پر کچھ اور ہو جس کو ہو کر اسی کہتے ہیں انگلش میں اس کے لیے قرآن مجید نے منافقین کا بھی جو ہے نا درجہ سب سے نیچے گرا دیا وہ تو آ کے سب سے نیچے کی طرف سے ان کو اٹھایا گیا کیا جو کافر ہیں وہ واضح کر رہے ہیں کہ ہم جو ہیں تمہارے میں شامل ہی نہیں ہے اور مسلمان بھی اپنے آپ کو واضح کرتے رہے ہیں کہ ہم جو ہے وہ مسلم ہیں لیکن ایک ایسی قوم کے جو اپنے آپ کو منہ سے تو کہتی ہے مسلمان ہیں لیکن دل میں کچھ اور تھی آپ نے کہتی ہے ایسی قوم کے بارے اس لئے کہ قرآن مجید و سلامتی کا مذہب ہے اسلام تو سلامتی کا مذہب ہے میں قرآن مجید فرماتا ہے بڑے یہ خطرناک ہوتے ہیں اور جب بھی اللہ تعالی کی طرف سے کچھ سلسلہ شروع ہوتا ہے تو جو ایک ایمان لانے والے اور دوسرے نکاح کر دینے والے اور تیسری منافق میں شامل ہوتے ہیں لوگوں سے بہت بچنے کا حکم ہے کراچی آپ ہوا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے احمدیوں کو یہ تاکید فرمائی ہے کہ جو سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ہیں کافر اور مشرک ہے منافقین کا ذکر ان کو اچھی طرح یاد کریں خدا طرف ودیعت کرے بلکہ اپنے بچوں کی یاد کروائیں اور یہ وہ چیز ہے جو قوموں کے کو مصیبت سے نکالنے والی اور پریشانیوں سے بچانے والی ہے اگر ہم اس بات کو سمجھ لے کہ منافقت کیا چیز ہے تو بہت سے آئندہ آنے والی قومیں مصیبتوں سے چھٹکارا مل سکتا ہے 12 ربیع فصل ہے جزاک اللہ تعالی سبزہ اب ہم پروگرام کو ہی آگے بڑھاتے ہیں اور مولانا منیر میں سب خادم سے ہی میرا یہ سوال ہے کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی یہ بات بتائی تھی کہ آج کل سوشل میڈیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے خلاف مختلف اعتراضات اور خاص طور پر قرآن مجید کی مختلف آیات کو صحیح طرح نہ سمجھنا میں اور سیاق و سباق کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں بعض اعتراضات کیے جاتے ہیں جس کے ذریعے اسلام کو نعوذباللہ مذہب کے طور پر پیش کرنے کی جو ہے وہ ناکام کوشش بھی کی جاتی ہے تو اسی زمین میں ایک آیت کا اکثر سوشل میڈیا میں دیکھتے ہی ہوتا ہے جس میں قرآن مجید میں آتا ہے مجھے تم ہو کہ مشرکین جہاں پر بھی تمہیں ملے تو ان کو جو ہے وہ قتل کر دوں تو اس کی کیا وضاحت ہے اور اس کے کیا جو ہے وہ معنی ہیں یہ ہمارے نظریات کو سمجھانے کی کوشش کروں گا آپ تو یہ بیان فرما رہے ہیں کہ نہ سمجھنے کے نتیجے میں آج کل کے دور میں یہ بات ہوگئی ہے یا جان بوجھ کر صبح سے نکال کے آیات کو لکھا جاتا ہے اور آگے کی اور پیچھے کی جو ملک کا جو مضمون ہے جو مفہوم سمجھا دیا جاتا ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو اسلام سے جو ہے وہ بد اسلام کی تعلیمات جو ہے وہ ان کو صحیح اور غلط کرکے پیش کیا جائے کہتے ہیں وقت المشرکین حیث وجدتموہم ہو جہاں کہیں تم بتاؤ قتل کر دو تو یہ ایسا قرآن مجید کی کسی آیت میں ابھی اس کا سیاہ صبح بات کریں گے ٹھیک ہے

مسلم کہتے ہیں جو سلام پیش کرنے والا اسلام کے معنی سلامتی کے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کون ہے مسلم وہ ہے کہ دوسرے لوگ اس کی زبان سے اور اس کے ہاتھ سے سلامت میں رہیں محفوظ رہیں اور پھر قتل کرنا کیسے تھا جب اسلام شروع ہوا ہے تو ساری دنیا جانتی ہے کہ اس کی حالت کیا تھی آیت مظلومیت کی حالت تھی چند لوگ مسلمان ہوئے جو مسلمان ہوئے زیادہ تر ان میں سے غلام بھی تھے اور ان کو مارنا پیٹنا تکلیف میں پہنچانا ہے جو ظلم و ستم کرنا ان کے اوپر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایسے مظالم ڈھائے گئے تیرہ سال تک جو مسلمان جو ہے وہ ان مظالم کا شکار رہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ کہا جائے کہ قتل کر دو آؤ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے کی کمزور پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کرکے چلے گئے تو مدینہ میں نے تو دشمن وہاں پیچھا کر کے آگے اور تلواریں اور بھالے اور بڑی تعداد کو لے کر جائے وہ حملہ کر دیا کہا گیا کہ ملک بلکہ بچتے رہے ہیں اور قرآن مجید میں آتا ہے کہ مسلمان اتنے کمزور تھے کہ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ترک تعلق پر کیا تو یہ ان کو پسند نہیں ہے کتب علیکم القتال اس کو پسند نہیں کرتے ظاہر سی بات ہے کہ اسے پسند کریں گے جب ان کی تعداد کا میچ جب تھا نہ یہی تو لوگ بھی بات ہے کہ اس کو پسند نہیں کریں گے اللہ تعالی نے ان کو فرمایا کہ نہیں آج تم اس بات کو پسند نہیں کر رہے میں تمہارے ساتھ میں تمہاری مدد کروں گا لیڈیز انشاء 2003 کو مار رہے ہیں اور تمام نقصان پہنچا رہے ہیں تم کو تکلیف نہیں دے رہے ہیں اب تو ہمارا فرض ہے کہ تم لوگ بھی آگے نکلے سورت کے اندر جو ہے وہ تعلیم دی گئی ہے لیکن آگے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشرکین کے ساتھ قتال کرو لیکن الفاظ ہیولا تا دو باتیں نہیں کرنی ان اللہ لا یحب المعتدین اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اب دیکھ لیں اسلام نے جنگوں کے موقع پر جو ضابطہ اخلاق قائم کیا ہے دنیا کی کوئی سی بھی مذہبی کتاب یا معاشرتی کتاب قانون کی کتاب اٹھا کر پڑھ لیں اس کے اندر ایسا نہیں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جب جنگوں کے زمانے کی ہم پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا کسی کا پانی نہیں تم نے روکنا کسی کے جانوروں کو نقصان یہ ہے کہ اپنے گھر کے اپنے طرف لے آؤ اور جو بیچارے عبادت خانہ میں بیٹھے ہوئے کو نقصان پہنچانا پھر اور اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں بہت ہی آباد ہے ان کو اپنے نقصان پہنچانا کوئی سوال یہ ہے کہ فتح اور باغ اور یہ سب چیزیں اگر ہم دشمن کو چھوڑ دیں گے تو دو تین دن پہلے لیکن اتنا اعلی معیار اس وقت بھی جنگ کے زمانے میں اخلاقیات کا قائم کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی لیکن اگر آپ بائبل کو پڑھ لیں بائبل کے جو پانچویں کتاب جس کو استثنی کہتے ہیں اس کے ساتھ میں پتھر کو آپ پڑھیں اس میں لکھا ہے کہ جب تم کسی قوم پر خدا تم کو غلبہ دے اور تم وہاں پر جاؤ تو تم جو ہے وہ کسی ذی روح کو دیکھنا چھوڑ دو اور ان کے عورتوں کو قید کر لو ان کے مردوں کو وہ قتل کر ڈالو یہاں تک کہ بچوں کو ختم کر دیا گیا اور ان کے بعد کاٹ دو ان کتوں کو جلا دو ان کے مجموعہ اورادو اس قسم کی تعلیم دی یہ وہی لوگ ہیں جو اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرتے یہی آپ دیکھ لیں آپ منوسمرتی پڑھ لیں اور دوسری مرتی ان کو پڑھ لیں انہیں صاف لکھا ہوا ہے جو ہے وہ کسی قوم پر غلبہ ہو تو ان میں سے کسی کو چھوڑنا نہیں ہے اور ہر طرح سے نقصان پہنچانا ہے آپ کو لیکن قرآن مجید تو کے قتل کرنے کی بات یہ لوگ کر رہے ہیں جو جنگ کرنے کے لیے سامنے آ جائے اس کے لیے بھی اسے الاخلاق پیش کرتا ہے کہ انسانی عقل حیران ہوتی ہے کہ یہ جو اعتراض کرنے والے کہتے ہیں فقط المشرکین حیث وجدتموہم مشرکین کو یا زبان کو قتل کردو یہ چھوٹا سا ٹکڑا نکالتے یعنی زبردستی کے آگے لکھا ہوا ہے زیادتی نہیں کرنی جنگ میں بھی اور جنگ جو ہے وہ کر اور میں آپ کو بتاتا ہوں قرآن مجید کی آیت ہے آگے فرمایا دیکھو تم جنگ کرنے گئے ہو انجانا حول سال میں فجر اعلیٰ صلح پر آمادہ ہوجائے تو تم نے کر لینی ہے وہ توکل اللہ پر بھروسہ رکھو یہ نہیں کہ وہاں پر آمادہ ہوئی اور تم کو اللہ پر بھروسہ رکھو اللہ تم کو سب کچھ عطا کرے گا تو آگے اس قسم کے اور لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو فار کو مارنے کی اور ان سے دوستی نہ کرنے کی تعلیم دی گئی ہے جو یہ آیت میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں اللہ تعالی سورۃالممتحنہ میں فرماتا ہے کہ لا ینہاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم اللہ تعالی تم کو ان لوگوں سے جو تم سے جنگ نہیں کرتے لڑ نہیں کرتے کرتے تم سے اچھا سلوک نہ کرو تم اچھا سلوک کرو ایل حاکم اللہ الرحمن الرحیم قاتلوکم سے دین ہے جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں گرفتار نہیں کیا انہیں منع کرتا کہ تم مجھ سے اچھا سلوک نہ کرو اور ہے کہ تم ان سے اچھا سلوک کرو ان کو انصاف کے ساتھ پیش ہوں ان اللہ یحب المقسطین اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا نعت خوان معین حاکم اللہ اناللہ زینہ کا تعلوق آف دینے اللہ تعالی تم کو ان لوگوں سے دوستی کرنے سے یا اچھا سلوک کرنے سے منع کرتا ہے کہ جو دین کے معاملہ میں تم سے جھگڑا کرتے ہیں عام دوسرا معاملہ کو چھوڑ دیا کہ معاشرتی معاملات زمین کا معاملہ نے قرآن مجید صرف کا تعلق دین واخرجوکم من دیارکم جنھوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نکال دیا در بدر کر دیا باہر والا اخراجات کم تمہارے نکالنے پر دوسروں کی کو مدد دی اللہ فرماتا ہے جو سے تو جواب دو اسلوب یا ان کے ساتھ حسن سلوک اگر کرو گے تم کو نقصان پہنچے گا اس سے منع ہے تو آگے کا سیاق و سباق میں نکال کر پڑھتے ہیں تو کہیں زیادتی کرنے کی تعلیم نہیں بے انصافی کرنے کی تعلیم نہیں بلکہ قتل و غارت کرے تو قرآن مجید سورۃ المائدہ میں لکھا ایک انسان کو قتل کرو گے تم نے ساری انسانیت کو قتل کردیا اس کے باوجود کہتے ہیں کہ کے مشن کو قتل کردوں گا تو ان کو پاؤ تمہاری درخواست یہ ہے بہت پیار سے بہت محبت سے اس کے قرآن مجید کو شروع سے لے کر آخر تک پڑھا جائے صاف کی نظر سے پڑھا جائے کدھر سے پڑھا گیا تب جا کے سلام کے جو آج حسین چہرہ سامنے آئے گا ورنہ دوسروں کو بھی دھوکے میں رکھیں گے خود بھی دھوکے میں رہیں گے تو اس کا نقصان پہنچانے والا نہیں ہے ان لوگوں کو نقصان پہنچے گا اللہ تعالی سب کو توفیق عطا فرمائے تو وہ اسلام کے حسین چہرے کو پرکھیں اور سمجھ سکے لاسنزا پروگرام کو ہی آگے بڑھاتے ہوئے محترم مولانا احمد کریم30 سے ہمارا سوال ہے کہ جیسا کہ مشرکین ہیں ان کو دوست بنانے کے حوالے سے جو بھی بات ہوئی تھی کہ صرف اس شرط کے ساتھ ہے کہ اگر وہ دین کے معاملے میں تمہارے ساتھ جو ہیں وہ جھگڑتے ہو تو ان کو دوست نہ بنایا جائے تو قرآن مجید کی ایک اور آیت بھی ہے جس کے تعلق سے اندازہ ہوتا ہے اکثر سوشل میڈیا اور ہم دیکھتے ہیں یہ ہے کہ یا ایھالذین امنو لا تتخذو اولیاء من دون المؤمنین کے اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ صرف جو مومنین ہے انہیں کو دوست بنانے کا جو ہے وہ قرآن نے حکم دیا ہے اور جو دوسرے فرقے کے لوگ ہیں ان سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے جو ہے وہ قرآن نے منع کیا ہے تو ایسے اسلام پر جو ہے وہ الزامات لگائے جاتے ہیں تمہیں اس آیت کی تفسیر کے حساب سے جانا چاہوں گا یہ ہے کہ المیہ کی ایک آیت دوسری آیت کی تشریح کرتی ہے جیسے کہ ابھی منیر صاحب نے ذکر کیا ایک کپڑا لے لینا اور دوسری آیات کو چھوڑ دینا یہ اعتراض کا موجب بنا سکتا ہے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہے کہ عاجز زبان میں قرآن مجید کا نزول ہو رہا تھا اس زمانے میں پہل کس نے کی ہے ظلم اور زیادتی کرنے پر مسلمان نہیں تھے یا مشرکین کہ لیا کافرین کہتے جو انکار کرنے والے تھے سونے اسلام کو قبول کرنے والے جتنے بھی لوگ تھے ان کی مفتی مارا پیٹا قتل و غارت کی ہر طرح سے ستائیں یہ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس شہر سے ان کو بھی اور آپ کے صحابہ کو بھی ہجرت کرنی پڑی عرصہ حیات ان پر اتنا تنگ کیا گیا کہ وہاں رہنا ان کا مشکل ہو گیا تھا مذہبی اعتبار سے بلکہ معاشرتی اعتبار سے بھی ان کو بات کرنے کی ہر طرف سے کوشش کی آپ نے یہ بات حد جیسا کہ ابھی آپ نے سورۃ النساء کی آیت کا حوالہ دیا کہلاتا ہے کل اولیاء من دون المؤمنین فلم کو اپنا دوست مت بناؤ مومنین کو چھوڑ کر انیسہ میں اپنے سننے اور دیکھنے والوں سے یہ گزارش کروں گا کہ جب کوئی ایسی بات سامنے آئے یاد رکھیں کہ قرآن مجید میں جہاں کافر یا مشرک کا لفظ آتا ہے وہاں پر اس کی دو اقسام ہیں ایک کافر اور مشرک وہ ہے جو کہ اسلام کو خوب وہ نہیں کیا اس کو مٹانے کی کوشش کی قتل وغارت شروع کر دیا اور اتنا مارا پیٹا کے وہاں سے لوگ ہجرت کر گئے اس کے بعد جنگیں بھی ہوئیں ماما اسلامی اصطلاح میں اس کو کہتے ہیں ہر بیٹا فری اہل بھی پوچھ رہے ہیں جہاں کی اطاعت المشرکین اس وقت تو وہ تو جہاں کے مشرک دیکھو اس کو مار تو وہ ہر بھی مشرک ہے وہ مشرک ہے جو کہ اسلام کو مٹانے کے درپے ہے جو اسلام سے لڑائی ہے کرتا ہے پوری کرتا ہے اور ان کو گھروں سے نکال کر بے گھر کر دینے کا باعث بنتا ہے قسم تو یہ ہوئی کہ ایک مشرک اور کافر وہ ہے جو کہ بر سر پیکار ہے جو جنگی ہے یا جس کو ہم کہتے حربی کافر وہ کافر ہے جو کہ اسلام کو اگر سے دیکھتا ہے قبول تو نہیں کرتا لیکن یہ کہ اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے ان سے حسن سلوک بھی کرتا ہے حربی کافر نہیں ہے بلکہ عام جو نہ مانے والے لوگ ہیں جس کو ہم غیرمسلم کہتے ہیں یہ دو فرق کرنا بہت ضروری ہے تو جہاں کہیں ایسی ہوتی ہیں کہ مشرکین کو ختم کرو یا یہ کہ کافروں کو دوست نہ بناؤ یہ ان کے بارے میں ہے جو جنگیں کافر ہیں یا جنگ مشرق ہے اسلام کو مٹانے کے درپے ہیں جنہوں نے اسلام کے خلاف جنگ چھڑی ہوئی ہے تو یہ ان کو ہم کہتے ہیں یہ بھی کافر فرمایا کہ دیکھی ہے دونوں ملکوں میں آپ سب بھائی جان ہوتی ہے اور اگر ہم اپنے دلی دوست بنائے گا وہ فوج کے لوگوں کو جو ہمارے مخالف ہمارے لوگوں کے اوپر حملہ کرنے والے ہیں تو لازمی بات ہے ہمارا امن تباہ ہوگا اور ہمارا ملک تباہ ہوگا اس صورت میں بھی یہی بات ہے کہ جو لوگ لڑایا کرتے ہیں اسلام کو پٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے اوپر ظلم اور زیادتی کرتے ہیں ایسے لوگوں کو کوئی بھی دوست بنانا پسند نہیں کرتا کی یہ اسلام اور دوسری باتیں چھوڑ دے انسانیت کے ناطے ہم دیکھتے ہیں شمس ہمارے بھائی کو یہ ہمارے باپ کو یہ ہماری ماں کو کسی طرح ستانے کی کوشش کرتا ہے دکھ دینے کی کوشش کرتا ہے تو کیا ہمارے دل میں اس کی محبت پیدا ہوگئی ہرگز نہیں یا میں اگر کسی کے دوسرے شخص سے کسی کے باپ کو گالی دیتا ہوں یا اس کو سناتا ہوں یا اس کا حق غصب کرتا ہوں یا اسی طرح سے برا بھلا کہتا ہوں اس کی دشمنی اختیار کرتا ہوں تو کیا اس شخص کے دل میں محبت پیدا ہوگی ہرگز نہیں پیدا ہوگی ٹھیک ہے تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ جو لوگ اسلام کو مٹانے کے درپے ہیں جنہوں نے جنگ چھڑی ہوئی ہے اور جو لوگ مسلمانوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں ایسے لوگوں سے اپنا ایسا تعلق رکھو کہ دلی دوست بناؤ جس کے نتیجے میں کوئی شخص کو پسند نہیں کرتا ہاں اس بات کی تعلیم ضرور دیتا ہے اگر کوئی دشمن بھی ہے تمہارا تو اس کے ساتھ حسن سلوک اس طرح سے کرو کہ اس کے نتیجے میں اس کا دل بدل جائے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اس بات کا بھی ذکر فرمایا ہے آپ کی باتیں ایسے رکھو کہ جو شخص سامنے تمہارے دشمن ہے وہ تمہارا دوست بن جائے دوست کیسے بنتا ہے جب ہم اپنی دلی ہمدردی کا اظہار کریں گے ہم اس کے ساتھ محبت کا ساری کا سلوک کریں گے تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ وہ شرک کیا وہ کافر جو کہ تمہیں بتانے کے در پہ ہے ان کے ساتھ دلی دوستی کا تعلق مت رکھو اور کوئی انسان بھی چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہوں کسی بھی ملک سے تعلق رکھتا ہوں کبھی برداشت نہیں کرتا کہ وہ اپنے دشمن ملک کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں بلکہ اس کے اندر نفرت پیدا ہوگئی تو اسلام تو نفرت نہیں کرتا ہر ایک کے دل میں محبت پیدا کرنا اب دیکھیں نے ہمیں یہ تو ابھی میں نے اس کا ذکر کیا گلری میں دوری لاہور کے ان کے پتوں کو بھی گالی مت دو اس کتے کے جاہلانہ طور پر لوگ تمہارے خدا کو گالیاں دینا شروع کر دیں گے تو یہ بات رواداری کی تعلیم دی ہے اسی طرح سے اللہ تعالی نے یہ بھی تعلیم دی ہے کہ نعت حسن سلوک سے پیش آؤ کراچی منہ میں نظر آتا ہے ایک دفعہ ابوسفیان جو کہ آپ کے لحاظ سے بھی لگتا تھا خدا بھی تھا اور ہمیشہ کفار مکہ کو لے کر مدینہ پر حملہ آور ہونے میں پیش پیش رہا کرتا تھا بچے میں ایک دفعہ اتنا قحط پڑا کہ آخر وہ لوگ کھانے کے لئے مجبور ہو گیا مردار کھانے کے لئے تو نے یہی کہا کہ ایک وفد چلا جائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ضرورت نہیں ہے لیکن ابو سفیان نمائندہ بن کر آتا ہے والوں کا گھوم رہی ہے بارش نہیں ہو رہی ہے ایک تو خدا سے دعا کرو اور خوش انداز کرتے ہو تو کرو وسلم نے باوجود اس کے کہ وہ صرف دشمن ان کے پاس مدد کرنے کے لئے آیا تھا آپ نے مسلمانوں کو تحریک کی کسی نے غلہ دے دیا کسی نے کچھ نقدی دے دی کسی کو سنا دے دیا کسی نے چاندی کی بھرپور مدد بھی کی اور حضور نے فرمایا اسے اٹھا کے دعا کی اللہ تعالی سے کہا جاتا ہے تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس کے بعد ان دشمنوں کے حق میں دعا کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالی نے اتنی بارش برسائیں کہ پھر مکہ میں پہلے جیسا ہوگیا پچھلے بڑھنے لگی اور وہ سالی دور ہوگی تو یہ جذبہ تھا مسلمان ہوگا ام ان کے جوہر بھی کافر تھے ان کے لئے بھی عقل کے اندر یہ جذبہ پایا جاتا تھا مولوی صاحب نے ذکر کیا میں نے بھی نوٹ کی گئی ہے کہ سورۃ ممتحنہ میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ایک تولہ تعالی فرماتا ہے کہ کافرین کو دوست مت بناؤ کیسے کافی نوکری بنانا آپ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے لا ینہاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ان تبروہم وتقسطوا نہیں ہوں اے اے مومنوں اللہ تعالی تم کو ان لوگوں سے نہ سرو کرنے اور انصاف کا سلوک کرنے سے نہیں روکتا جنھوں نے تم سے لڑائیاں دین کے تعلق سے لڑائیاں نہیں کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم دی ہے کہ وہ کافر جو لڑائی کرتا ہے اس کے ساتھ تو دوست نہ بناؤ لیکن جو لڑائی نہیں کرتا تمہارے ساتھ محبت کے ساتھ پیش آنا چاہتا ہے یا پیش آتا ہے اس کا سلوک کے بارے ساتھ اچھا ہونا چاہیے تاریخ میں بہت ساری مثالیں ایسی بھی ہوتی ہے حضور صل وسلم کی زندگی اور پھر آپ کے ساتھ ہیں زندگی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ غیر مسلم جو کہ آپ کے پاس بطور مہمان کر دیا تو فتنہ کی حدیث میں بڑا مشہور واقعہ ہے کہ یہودی بندر آیا آپ نے اس کی بڑی خاطرمدارات کی اور رات میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود سے کھانا زیادہ کھا لیا اس نے تو بستر میں غلطی کل بھی صبح صبح نئے من کل کے جو ہے وہ چلا گیا بڑی شرمندگی ہوئی اس کو اتفاق ایسا ہوا کہ وہ اپنی تلوار جو اسلحہ اس کا تھا وہ بھول گیا آیا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ چادر جس پر اس سے غلاظت بکھری ہوئی تھی اس کی وہ اندر وسلم خود لے کر رہے ہیں بس اب نگاہ ندا میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس کے خلاف کرو کتا اور جب وہ شخص اپنی تلوار لینے کے لئے واپس آیا دیکھا یہ اس کا ہے آپ کا اس کا دل کھل گیا کے وہ حرکت کر رہا تھا وہ جو میرا ہمدرد ہے مہمان نوازی بھی کی اجلاس میں بھی سو رہا ہے اس کے دل میں میرے لئے کوئی نفرت کا جذبہ نہیں ہے مسلمان نہیں تھا وہ آپ کا مہمان تھا آکے ایک بکری کا دودھ آیا وہ پی گیا دوسری کال الصادق اردو میں ہے تو اس نے دیکھا کہ یہ مہمان نوازی اس کی فردِ نکل گیا اس کا اسلام قبول کرلیا صبح جو اس کے لیے ناشتے کا یا کھانے کا انتظام کیا گیا تو دودھ لایا گیا اس نے ایک بکری کا دودھ پی کے قریب سے گزر گیا

ہنستے ہوئے فرمایا کہ کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے مومن ایک آنت سے کھاتا ہے غلط لکھے گئے غیر مسلم کے ساتھ بے انتہا پسندی کا سلوک کرنے کے نمونے ملتے ہیں صحابہ کے بھی بولتے میں بات نہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جو تشریح کی ہے حضور فرماتے ہیں وغیرہ سے جو خدا نے محبت کرنے سے ممانعت فرمائی اور اس سے یہ نہ سمجھو کہ وہ نیکی اور احسان اور ہمدردی کرنے سے تمہیں منع کرتا ہے بولیں آپ نے کردیا کہ غیر مسلموں سے ہمدردی کرنے سے وہ رابطہ نہیں ہے نہیں بلکہ جن لوگوں نے تمہارے قتل کرنے کے لیے لڑائیاں نہیں کی اور تمہارے وطنوں سے نہیں نکالا وہ اگر چاہیں ہو یا یہودی ہو یا غیر مسلم عشق ان پر احسان کرو ان سے ہمدردی کرو انصاف کرو کہ خدا ایسے لوگوں سے پیار کرتا ہے نور قرآن نمبر2 ہے اسی طرح سے آپ فرماتے ہیں الحکم سے یہ حوالہ meaning فرمایا قرآن شریف نے وہی اس عمل کی بڑی وضاحت کردی ہے کہ جنہوں نے مقابلہ کیا ان کا مقابلہ تلوارسے کیا جاوے اور جو لوگ الگ رہتے ہیں اور انہوں نے ایسی جنگ میں کوئی حصہ نہیں لیا اسے تم بھی تنگ مت کرو بلکہ ان سے بے شک احسان کرو اور ان کے معاملات میں عدل کرو دوبارہ مختصر بات یہی ہے کہ ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں دوستی سے منع کیا ہے وہ ایسے لوگوں سے جو لڑائی کرتے ہیں جن کے کرتے ہیں گھروں سے بے گھر کرنے کے درپے ہوتے ہیں لیکن جن لوگوں نے لڑائی نہیں کی ہے آپ اس میں ان کے ساتھ رہتے ہیں ان کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو اور محبت کا سلوک کرو اور تاریخ میں بہت ساری مثالیں ایسی آتی ہیں ایک مثال بیان کرکے میں اپنے کرنا چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ حضرت سلیم بازار میں تشریف فرما تھے ایک جنازہ میں سے گزر رہا تھا فرعون کھڑے ہو گئے صحابہ نے عرض کیا کہ حضور نے یہودی کا جنازہ یا کھڑے ہو گئے حضور نے فرمایا و آخر انسان تھا اندر جان ہوتی ہے جب جان نکلتی ہے تو تکلیف ہوتی ہے تو اس اعتبار سے اس کا احترام کرنا ضروری ہے تو ہلکے یہودی بسا اوقات کئی دفعہ دشمنی کرتے تھے لیکن پھر بھی آپ کے دل میں ان کے لئے بھی ہمدردی تھی کہ نفرت کرتے ہیں انسان ہونے کے ناطے جان نکلتی ہے تو تکلیف ہوتی ہے تو یہ احترام کا سلیم دیکھتے ہے دوبارہ اللہ تعالی نے دونوں طرف سے بیلنس کیا ہے کہ جو لوگ لڑنے والے ہیں ان سے دوستی نہ رکھو جو تم سے لڑتے نہیں ہے اور تمہیں تکلیف نہیں پہنچاتے ہیں ان کے ساتھ لڑنا نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ انسانیت کے ناتے اچھا سلوک کرنا ہے نیکی کا سلوک کرنا ہے احسان کا سلوک کرنا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ دیکھیں اور اس کے رسول کے ساتھ عدل اور انصاف کو قائم کرنا ہے جیسے تم اپنے بیوی بچوں کا خیال رکھتے ہو جیسے تم اپنے بھائی بہنوں کا خیال رکھتے ہو جیسے تم اپنے ہم مذہب لوگوں کے خیال رکھتے ہوئے ہیں ان کا بھی تم ذخلا سجدہ آخر مولانامنیراحمد خادم سے ہمارا یہ سوال ہے کہ جیسے کہ حضور صل وسلم کی سیرت کے مختلف واقعات بھی ہم نے سنے ہیں اسی طرح دیگر مذاہب کے بانیان کی مرضی کی عزت و تکریم کرنے کی ان کی حفاظت کے حوالے سے ان اسلم کا کیا اصول رہا ہے اور انسانوں کی کیا تعلیمات رہی ہیں اس کے بارے میں آپ سے تفصیل جاننا چاہوں گا دیگر مذاہب کے عبادت خانے ہیں ان کی اسلام نے کیا عزت و تکریم سکھائی ہے تو اس سلسلے میں یاد رکھنا چاہیے کہ جو اسلامی جہاد ہے اس کی شروعات اس بات سے ہوئی ہے کہ دیگر مذاہب کے عبادت خانوں کی حفاظت کرنی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کو جہاد کی افتعال کی صرف اسی لئے اجازت دی ہے کہ دیگر مذاہب کے جو عبادت خانے ہیں ان کی حفاظت کا ہائے آگے اس میں آیت کو پڑھ کے سنا تو اس کا ترجمہ کرتا ہوں اللہ فرماتا ہے اے اللہ اللہ ظالموں وہ لوگ جن کے خلاف جنگ کی گئی ظلم کیا گیا وہ ان کو جنگ کی اجازت دی جاتی ہے اللہ تعالی ان کی مدد پر قادر ہے مزہ دی جاتی ہے اس لئے ان لوگوں کو اجازت دی جا رہی ہے اللہ زین اخرجوا من دیارہم جو اپنے گھروں سے نکالے گئے بغیر اللہ یقول الرب اللہ وہ صرف یہی کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے بلاول دفع اللہ الناس شہبازاحمد باذن اللہ تعالی ان میں سے بعض کو بعض سے نہ آتا تو لاہور سوامی ڈھا دیا جاتے گرا دیے جاتے عبادت خانے گرجے اور یہودیوں کے معبد اور مساجد آخر میں رکھا مساجد کا نام میں مذاہب کے عبادت خانوں کا ذکر فرمایا کہ اگر ہم ان مسلمانوں کو جہاد کی اجازت نہ دیتے تو یہ سارے بعد خان گرادیا جاتے جن میں اللہ تعالی کا ذکر کیا جاتا ہے اللہ فرماتا کہ دیکھو اے مسلمانوں تم کمزور ہو طاقت نہیں ہے لیکن اگر تم جب یہ جہاد کی میں تم کو تعلیم دے رہا ہوں سب دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں کو بچانے کے لئے دوسرے لوگوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے فرماتا ہے اللہ تعالی مدد کرتا ہے اس کی جو اس کی مدد کر اللہ تعالی کے احکامات کی پیروی کرتا ہے اللہ تعالی نے جو ہے وہ بھی غرض ہے تعلق میں سیدہ دس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمام عبادت خانوں کا میں ہوں اور اسلام کا فرض ہے کہ اگر مثلا کسی عیسائی ملک پر قبضہ کرے تو ان کے عبادت خانوں سے کچھ آرزو نہ کرے اور منع کر دے کہ ان کے گرجے مسمار نہ کیے جائیں اور یہی ہدایت احادیث نبویہ سے مفہوم ہوتی ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کیوں کوئی جب کوئی اسلامی سپاسالار کسی قوم کے مقابلہ کے لیے مامور ہوتا ہے ہوتا تھا تو اس کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے عبادت خانوں اور وقار کے ساتھ نہ کرے کہ اسلام کس قدر تعصب کے طریقوں سے دور ہے کہ وہ عیسائیوں کے گھر جاؤ اور یہ یہودیوں کے معبودوں کا ایسا یہاں میں ہے جیسا کہ مساجد کا حامی ہے آپ دیکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جلدی منہ ہے بالوں میں یہ ہے کہ ایک مرتبہ جب یہود عیسائی جو ہے وہ نجران کے آئے یہاں تک کہ اجازت دے دی کہ اگر تم چاہو تو یہ مسجد نبوی جو عبادت خانہ خدا کا یہ اور بات کرو تو صرف یہ نہیں کہ زبانی طور پر اسلام نے یہ تعلیم پیش کی ہو بلکہ یہاں تک فرمایا کہ ہم لوگ حاضر ہیں ہماری عبادت خانے حاضر ہے پھر ایسے مذہب کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ جو ہے وہ ظلم کی تعلیم دیتا ہے مقاتل کی تعلیم ایک دورے میں حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی عالمی بحران اور امن کی راہ جو کتاب ہے اسے پڑھ کے سنا حضور نے امن کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا یہ حضور کا جواب تباہی ہے حضور کا انگلینڈ میں 2013 میں ایک پینتیس کانفرنس میں حضور نے فرمایا کیا فرماتے ہیں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری حیات طیبہ دنیا میں فروخت کے لیے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علی نصب العین تھا یقیناً وہ دن آئے گا جب بنی نو انسان کو یہ احساس ہو گا اور وہ سمجھ جائیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہاپسندی کی کوئی تعلیم انسان کو یہ احساس بھی ہو جائے گا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم امن محبت اور ہمدردی کا پیغام لائے ہیں مزید یہ کہ اگر اس عظیم نبی کے پیروکار بنے اگر اس عظیم نبی کے پیروکار ہیں تو زیادتی اور مزاروں کا اس طرح پیار کے انداز سے میں جواب دیتے رہے تو بلاشبہ ایک دن آئے گا اسلام کے سالہ تعلیم پر اعتراض اٹھانے والے اس تعلیم کے صداقت اور اس کے حسن کے قائل ہو جائیں گے جماعت احمدیہ مسلمہ اپنی تعلیم انہیں تعلیمات پر کاربند ہے زندگی بسر کر رہی ہے یہی وہ مان گئی ہے رواداری اور ہمدردی کی تعلیم ہے جس سے دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے مصروف عمل ہیں عالمی بحران اور امن کی راہ بس ایک سو اٹھائیس اللہ تعالی سزا ناظرین کرام کے ساتھ آج کا ایپیسوڈ ختم ہونا چاہتا ہے آخر میں بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام کا اقتباس آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جس میں حضور فرماتے ہیں میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے ہزار ہزار درود اور سلام اس پر اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اس کی تاثیر کسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں افسوس کے جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا وہ توحید جو دنیا سے گرم ہو چکی تھی وہی ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا اس نے خدا سے انتہاء درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع انسان کو ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اس لیے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں یہ پروگرام راہ داں کے 4 ایپیسوڈ پر مشتمل سیریز لے کر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے آج اس کا یہ آخری ایپیسوڈ تھا اس کے ساتھ ہماری یہ سزا ختم ہوتی ہے انشاء اللہ جنوری 2021 کو ہفتے والے دن لندن سے پروگرام رہا ہے آج کی براہ راست نشریات کا آغاز ہوگا پھر ایک مرتبہ 4 ایپیسوڈ پر مشتمل ایک نہیں سیریز کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی امید کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ لوگو کہ یہیں نور خدا آباد گے لہذا تمہیں تار تسلی

 بتایا ہے ہیلو لوگو کہ یہیں نور پاپا کی لاہور تمہیں طارق سلیس کمرہ بتایا ہے لعنت محیتار تسلی بھی بتایا ہے

 49 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: